80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 80:1

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

وہ (پیغمبر) ترش رو 1 ہوئے اور بےرخی کی

1 ایک دفعہ رسول اللہ کی خدمت میں چند قریشی سردار بیٹھے تھے اور آپ انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ روایات میں ان کے نام عتبہ، شیبہ، ابو جہل، امیہ بن خلف اور ابی بن خلف ملتے ہیں۔ یہ لوگ بعد میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بدترین دشمن ثابت ہوئے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ جب قریشی سردار اسلام دشمنی کی حد تک نہیں پہنچے تھے۔ اسی دوران سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم آپ کے پاس تشریف لائے۔ یہ عبداللہ بن ام مکتوم نابینا تھے۔ سیدہ خدیجہ ؓ کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے آتے ہی رسول اللہ سے کسی آیت کا مطلب پوچھا۔ اور جو لوگ اس وقت رسول اللہ کی مجلس میں بیٹھے تھے انہیں آپ دیکھ نہیں سکتے تھے۔ رسول اللہ کو ناگوار محسوس ہوا۔ اور اس ناگواری کے اثرات آپ کے چہرہ پر بھی نمودار ہوگئے۔ آپ نے سیدنا عبداللہ کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور انہیں خاموش کرا دیا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ آپ سیدنا عبداللہ کی طرف سے مطمئن تھے کہ وہ خالص مومن ہیں انہیں بعد میں سمجھا لینگے سردست اگر ان سرداروں میں سے کوئی ایک بھی اسلام کے قریب آگیا تو اس سے اسلام کو خاصی تقویت پہنچ سکتی ہے اسی وجہ سے آپ قریشی سرداروں سے ہی محو گفتگو رہے۔ اس وقت یہ سورت نازل ہوئی جسے امام ترمذی نے مختصراً یوں ذکر کیا ہے : عبداللہ بن ام مکتوم اور راہ ہدایت کی جستجو طلب صادق :۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس سورت کی ابتدائی آیات عبداللہ بن ام مکتوم کے بارے میں نازل ہوئیں۔ وہ آپ کے پاس آئے اور یہ کہتے رہے کہ یارسول اللہ مجھے دین کی راہ بتائیے۔ اس وقت آپ کے پاس مشرکوں میں سے کوئی بڑا آدمی بیٹھا تھا۔ اور آپ پہلے (یعنی عبداللہ) سے اعراض کرتے تھے اور دوسرے (مشرک) کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اور عبداللہ ؓ کہتے تھے کیا میری بات میں کوئی برائی ہے اور آپ کہتے تھے۔ نہیں۔ اس بارے میں یہ سورت نازل ہوئی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) اس سورت کے انداز خطاب سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عتاب کا رخ رسول اللہ کی طرف ہے حالانکہ اس عتاب کے بیشتر حصہ کا روئے سخن قریشی سرداروں کی طرف ہے۔ پھر آپ پر جو کچھ عتاب نازل ہوا اس کا انداز بھی عجیب ہے۔ پہلی آیت میں صیغہ واحد مذکر غائب استعمال کیا گیا ہے۔ پھر تیسری آیت میں آپ کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے جس سے ایک تو کلام میں حسن پیدا ہوگیا اور دوسرے عتاب کے انداز کو انتہائی نرم کردیا گیا ہے۔ اس عتاب میں آپ کے دعوت حق کی تبلیغ کے طریق کار پر تنقید کی گئی ہے کہ اصولاً اس دعوت کے لیے توجہ کا اولین مستحق وہ ہوتا ہے۔ جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو۔ اس واقعہ کے بعد آپ سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم سے بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرمایا کرتے مَرحَبَا بِمَنْ عَاتَبَنِی فِیْہِ رَبِّی (خوش آمدید اس شخص کو جس کے بارے میں اللہ نے مجھ پر عتاب فرمایا) نیز آپ نے مدنی زندگی میں کئی بار آپ کو مدینہ میں اپنا نائب اور حاکم بنایا جب آپ جہاد وغیرہ کے سلسلہ میں مدینہ سے باہر جاتے تھے۔ آپ نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں عملاً حصہ لیا کرتے تھے۔ آپ دور فاروقی میں جنگ قادسیہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
Ayahs 80:2–3

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

کہ ان کے پاس ایک اندھا 2 آیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور آپ کو کیا معلوم شاید وہ سنور جاتا

2 یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بجبیں ہو کر منہ پھیرلیا۔ حالانکہ آپ کو اندھے کی معذوری، شکستہ حالی اور طلب صادق کا زیادہ لحاظ رکھنا چاہیے تھا۔
Ayahs 80:4–6

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

اور نصیحت قبول کرتا تو نصیحت اسے فائدہ دیتی 3

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

مگر جو شخص بےپروائی کرتا ہے

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

تو آپ (اس کی ہدایت کے لیے) اس کے پیچھے پڑے ہیں

3 یعنی یہ عین ممکن تھا کہ وہ نابینا آپ کی توجہ سے بہت زیادہ مستفید ہوجاتا کیونکہ وہ طلب صادق لے کر آیا تھا۔ پھر آپ کی نصیحت پر عمل کرکے وہ اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لیتا۔
Ayahs 80:7–8

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہیں سنورتا تو آپ 4 پر کوئی ذمہ داری نہیں

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

مگر جو شخص کوشش کرکے آپ کے پاس آیا ہے

4 یعنی اس نابینا کو نظر انداز کرکے جن لوگوں سے ہدایت کا طمع رکھتے ہیں۔ وہ ایسے ہیں کہ آپ کی بات بھی یوں سنتے ہیں جیسے آپ پر بہت بڑا احسان کر رہے ہیں۔ اس بات کو قبول کرنا تو دور کی بات ہے۔ ایسے لوگوں کو راہ راست پر لانا آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ آپ ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں۔
Ayahs 80:9–10

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ ڈرتا 5 ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

تو آپ اس سے غفلت برتتے ہیں

5 یعنی اندھا ہونے کے باوجود کوشش کرکے محض اسلام کی باتیں سمجھنے کے لیے آپ تک پہنچا ہے۔ اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا بھی نہیں تھا۔ اسے یہ بھی اندیشہ تھا کہ کہیں کسی گڑھے میں نہ گرجائے یا کسی چیز سے ٹکرا کر گرپڑے۔ یا راہ میں اسلام دشمن لوگ اسے ستائیں تو وہ کیا کرے گا محض وہ طلب حق کی خاطر اور اللہ سے ڈرتے ہوئے آپ تک پہنچا ہے تو آپ کو اس کی اس محنت اور طلب صادق کی قدر کرنا چاہیے تھی اور اس کی طرف پہلے متوجہ ہونا چاہیے تھا۔
Ayah 80:11

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں چاہیے 6 ۔ یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے

6 یعنی قرآن کی عزت و وقعت کا انحصار ایسے مغرور اور سر پھروں کے ماننے پر نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ قرآن کی نصیحت پر عمل نہیں کرتے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔ قرآن کو ان کی کیا پروا ہوسکتی ہے اور نہ ہی آپ کو ایسے لوگوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت ہے۔
Ayahs 80:12–13

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

جو چاہے اسے یاد رکھے 7

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

وہ قابل احترام صحیفوں میں درج ہے

7 ذَکَرَہ، کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے اور یہ بھی کہ جو شخص چاہے قرآن کی نصیحت کی باتوں کا بار بار تذکرہ کرتا رہے اور یہ بھی کہ قرآن کو زبانی یاد کرلے۔ غرض قرآن کو پڑھنا، اس کی نصیحت پر عمل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا سب بڑے اجر وثواب کے کام ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ ہے وہ (قیامت کے دن) لکھنے والے معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جو قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور پڑھنا اسے مشکل ہوتا ہے اس کے لیے دہرا اجر ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 80:14

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بلند مقام پر رکھے ہیں 8 اور پاکیزہ ہیں

8 یعنی قرآن کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ اس کی آیات لوح محفوظ میں سات آسمانوں کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے صحیفوں میں مندرج ہیں اور زمین پر مخلص اور ایماندار لوگ اس کے اوراق کو نہایت عزت و احترام اور تقدیس و تطہیر کے ساتھ اونچی جگہ پر رکھتے ہیں۔
Ayahs 80:15–16

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

ان کاتبوں 9 کے ہاتھوں میں رہتے ہیں

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو بڑے بزرگ اور نیکو کار ہیں

9 سَفَرَۃٍ : سافِر کی جمع ہے اور السِّفر اس کتاب کو کہتے ہیں جو حقائق کو بےنقاب کرتی ہو اور اسفار بمعنی تورات کی شرح و تفاسیر اور سافر وہ شخص ہے جو ایسی تحریر کرتا یا لکھتا ہو اور اس لفظ کا اطلاق الہامی تحریر لکھنے والے فرشتوں اور انسانوں پر ہوتا ہے۔ نیز نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں پر بھی۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کو لکھنے والے نہایت معزز اور بزرگ فرشتے ہیں۔ اسی کے موافق وحی نازل ہوتی ہے اور یہاں بھی اوراق میں لکھنے اور جمع کرنے والے دنیا کے بزرگ ترین، پاکباز، نیکو کار اور فرشتہ سیرت انسان ہیں۔ جنہوں نے اس قرآن کو ہر قسم کی کمی بیشی یا تحریف و تبدیل سے پاک رکھا ہے۔ گویا قرآن جیسی عظیم الشان کتاب اس بات سے بدرجہا بلند ہے کہ اسے متکبر کافروں کے سامنے پیش کرکے ان سے یہ خواہش کی جائے کہ اسے شرف قبولیت عطاکرو کیونکہ قرآن ان کا محتاج نہیں وہ اس کے محتاج ہیں۔
Ayahs 80:17–18

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

لعنت ہو انسان 10 پر وہ کیسا منکر حق 11 ہے ؟

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ؟

10 اس آیت میں اگرچہ مخاطب تمام نوع انسان کو کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے مراد انسانوں کی اکثریت یا قرآن کو جھٹلانے والے کافر ہیں۔ اور یہ قرآن کا مخصوص اور مہذبانہ انداز خطاب ہے۔ تاکہ منکرین حق ضد میں آکر مزید چڑ نہ جائیں بلکہ اصل حقائق پر غور و فکر کریں۔ 11 اس کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ سے واضح ہے یعنی وہ کس قدر زیادہ حق کا انکار کرنے والا واقع ہوا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس نے اسے کفر پر آمادہ کیا ؟ آخر وہ کس بل بوتے پر اللہ کی آیات سے انکار کرتا اور اس کی ناشکری کرتا ہے ؟
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفہ سے، اللہ نے اسے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقرر 12 کی

12 وہ اگر یہ سوچتا کہ وہ کس چیز سے پیدا ہوا۔ کس جگہ وہ پرورش پاکر نطفہ سے بچہ بنا پھر کس بےبسی کی حالت میں ماں کے پیٹ سے باہر نکلا تو اسے ہرگز یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ اپنے خالق کے منہ کو آئے اور اس کا کلام سن کر اس کا انکار کردے ؟ پھر جب وہ ماں کے پیٹ میں نشوونما پا رہا تھا تو اس کی تقدیر طے کردی گئی۔ اس کی عمر کتنی ہوگی ؟ وہ کہاں مرے گا اور کہاں دفن ہوگا ؟ وہ تنگدست رہے گا یا خوشحال ہوگا۔ اسے ایمان میسر آئے گا یا نہیں ؟ وہ کفر کی حالت میں مرے گا یا ایمان کی حالت میں۔ یہ سب تفصیلات تو رحم مادر میں ہی طے کردی تھیں اور اس مقررہ تقدیر کے آگے وہ بالکل بےبس ہے لیکن ان باتوں کے باوجود وہ اللہ کے مقابلہ میں اکڑتا اور کفر کرتا ہے۔
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لئے راستہ آسان 13 کردیا

13 اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ماں کے پیٹ سے باہر آنا اس کے لیے آسان بنادیا۔ جب رحم مادر میں بچے کی نشوونما پوری ہوچکتی ہے تو ماں اس کو اپنے پیٹ سے باہر نکالنے کے لیے بےقرار ہوجاتی ہے اور جب تک اسے جن نہ لے اسے قرار نہیں آتا۔ راستہ تنگ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ وضع حمل کے وقت اس راستہ میں اتنی لچک پیدا کردیتا ہے کہ ماں کے لئے اس کا جننا آسان ہوجاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمام ایسی قوتیں عطا کردیں اور استعداد مہیا کردی کہ وہ دنیا میں موجود وسائل و اسباب سے کام لے کر اپنی زندگی گزار سکے اور تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کے دونوں راستے سمجھا دیے۔ اس کی فطرت میں یہ تمیز رکھ دی۔ پھر انبیاء و رسل اور کتابوں کے ذریعے بھی سب کچھ سمجھا دیا، اور اسے اختیار دے دیا کہ جونسی راہ وہ چاہے اختیار کرلے۔ پھر جو راہ بھی اختیار کرے اللہ تعالیٰ اسی راستے کو اس کے لئے آسان بنا دیتا ہے اور اس کی توفیق عطا فرماتا جاتا ہے۔
Ayah 80:21

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اسے موت دی پھر اسے 14 قبر میں رکھا

14 انسان کو موت دینا اور قبر مہیا کرنا بھی اللہ کا احسان ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا انسان کو موت دینا بھی اس کا احسان ہے اور اسے قبر مہیا کرنا بھی۔ موت کے احسان ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایک بیمار بستر مرگ پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا ہے۔ تکلیف سے سخت بےتاب ہوتا ہے مگر اسے موت نہیں آتی۔ گھر والے اس کی مرض کی طوالت کی وجہ سے الگ پریشان ہوتے ہیں۔ بیماری پر بےبہا مصارف اٹھتے ہیں اور وہ کوئی دوسرا کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ اس وقت دل سے بھی دعا مانگتے ہیں کہ مرنے والے کو موت آجائے تاکہ اسے بھی تکلیف سے نجات حاصل ہو اور اس کے گھر والے بھی پریشانیوں سے نجات پاجائیں۔ نیز اگر انسان کو موت نہ آتی تو یہ زمین بنی نوع انسان کے لیے تنگ ہوجاتی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا انسان کو قبر مہیا کرنا یا روئے زمین سے اس کے وجود کو غائب کردینا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ورنہ جہاں یہ بات میت کے لواحقین کے لیے ناقابل فراموش صدمہ ہوتا وہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں ہونے والے تغیرات کو دیکھنا برداشت نہ کرسکتے۔ زندوں کے سامنے لاش کی بےحرمتی ان کے لیے مزید صدمہ جانکاہ بن جاتا۔ واضح رہے قبر سے مراد صرف زمینی گڑھا ہی نہیں بلکہ سمندر کی گہرائی، آگ کا الاؤ، درندوں کا پیٹ سب قبر کے حکم میں داخل ہیں۔
Ayah 80:22

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا دوبارہ 15 اٹھا کھڑا کرے گا

15 یعنی جس طرح انسان اپنے پیدا ہونے اور مرنے کے معاملہ میں بےبس تھا اسی طرح وہ دوبارہ پیدائش کے معاملہ میں بھی اللہ کے حکم کے سامنے بےبس ہوگا اسے نہ پیدا ہونے کے وقت یہ پوچھا گیا تھا اگر تم پیدا ہونا چاہتے ہو تو تمہیں پیدا کردیں ورنہ نہ کریں۔ اور نہ موت کے وقت پوچھا گیا تھا کہ اگر تم چاہو تو تمہیں موت دے دیں ورنہ زندہ رہنے دیں۔ اسی طرح دوبارہ پیدا کرنے کے وقت بھی اس سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ اللہ جب چاہے گا اسے زندہ کرکے کھڑا کر دے گا۔
Ayahs 80:23–25

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں، جس بات کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فرض اس نے قطعاً پورا 16 نہیں کیا

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

ہم نے ہی اوپر سے پانی برسایا

16 اسے حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے۔ یہ حکم اس کی فطرت میں بھی ودیعت کیا گیا تھا پھر اسے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم دیا تھا۔ اگر وہ اپنے مندرجہ بالا حالات پر غور کرتا تو اس کے لیے اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مگر اس نے ان تقاضوں کو مطلقاً پورا نہیں کیا۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو ایک الگ مستقل آیت سمجھنے کے بجائے سابقہ آیت سے مربوط کیا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ جب چاہے گا زندہ کرکے اٹھائے گا لیکن ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ابھی تک اس دنیا کی آبادی اور کائنات کی تکمیل سے متعلق اس کا جو طے شدہ حکم ہے وہ ابھی تک اس نے پورا نہیں کیا۔
Ayahs 80:26–31

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر عجیب طرح سے زمین کو پھاڑا 17

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

تو اس میں سے ہم نے اناج (بھی) اگایا

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاریاں

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجور

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغات

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور پھل اور چارہ (بھی) اگائے

17 بارش کا زمین پر اثر : یعنی انسان اگر اپنے کھانے کی چیزوں میں ہی غور کرلیتا تو اسے اپنے پروردگار کی ناشکری کی کبھی جرأت نہ ہوسکتی تھی۔ انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ زمین میں سطح زمین سے تھوڑا سا نیچے بیج اتار دے۔ بس اس کے بعد اس کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ خواہ انسان یہ کام زمین میں ہل چلا کر کرے یا کسی دوسرے ذریعہ سے کرے۔ زمین پر بارش برسانا اللہ کا کام ہے۔ یہی بارش کا پانی کبھی ندی نالوں، دریاؤں اور نہروں سے حاصل ہوتا ہے اور کبھی چشموں اور کنووں سے۔ بہرحال وہ بارش ہی کا جمع شدہ پانی ہوتا ہے۔ خ زمین میں بالیدگی :۔ پانی اور زمین کی اوپر کی سطح جب مل جاتے ہیں تو ایسی مٹی میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ بیج کو کھول دیتی ہے۔ اس مردہ اور بےجان بیج میں زندگی کی رمق پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کونپل کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ خ بیج میں درخت کی خصوصیات :۔ پھر اس نرم و نازک کونپل میں، جو ہوا کے ایک معمولی سے جھونکے کو بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے بالیدگی کی اتنی قوت بھر دی ہے کہ وہ کونپل دو تین دن بعد اوپر سے ملی ہوئی زمین کو پھاڑ کر زمین کے اندر سے یوں باہر نکل آتی ہے جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے باہر نکل آتا ہے۔ پھر یہی بیج آہستہ آہستہ مکمل پودا یا تناور درخت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ زمین میں بالیدگی کی استعداد نہ رکھتا یا بیج میں وہ تمام خصوصیات نہ رکھتا جو اس کے پودے یا درخت میں تھیں، یا بارش ہی نہ برساتا تو کیا انسان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہے جس سے وہ اپنی خوراک حاصل کرسکتا ؟
Ayah 80:32

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان 18 حیات ہے

18 ہر طرح کی نباتات اور پھل :۔ پھر ہم نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ انسان کے لیے حیات بخش اشیاء اگا دیں بلکہ اس پر مزید احسان یہ کیا کہ ایسی اشیاء پیدا کیں جو حیات بخش ہونے کے ساتھ ساتھ خوشگوار لذیذ اور مزیدار بھی تھیں تاکہ انسان ایک ہی طرح کی خوراک سے اکتا نہ جائے۔ اس کے لیے طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں اگائیں۔ پھر ایسے پودے بھی اگائے جن سے انسان روغن حاصل کرسکے اور ایسے انواع و اقسام کے پھل بھی جن کے کھانے سے اسے لذت و سرور بھی حاصل ہو۔ پھر اس کے لیے مویشی پیدا کیے جن سے وہ گوشت، دودھ اور کئی دوسرے فوائد حاصل کرتا ہے۔ پھر ہر پودے اور درخت سے حاصل ہونے والی غذا کا بہترین حصہ تو انسان کی خوراک بنا اور جو حصہ اس کے حساب سے ناکارہ تھا وہ اس کے مویشیوں کی خوراک کے کام آیا۔ اب دیکھیے غلوں اور درختوں کے پھلوں کے پکنے میں زمین، سمندر، سورج، ہوائیں، چاند کی چاندنی اور کئی دوسری اشیاء اپنا اپنا فریضہ ادا کرتی ہیں تو تب جاکر انسان کو کھانے کو خوراک ملتی ہے۔ اور یہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کے حکم کے مطابق اپنے اپنے فرائض بجا لا رہی ہیں۔ پھر بھی انسان ایسا ناشکرا واقع ہوا ہے کہ اپنے پروردگار کے منہ کو آنے لگتا ہے اور انسان اس روزی کے سلسلے میں اللہ کا اس قدر محتاج ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ کے لیے بارش برسانا ہی روک لے تو انسان اور اس کے علاوہ زمین پر بسنے والی تمام جاندار مخلوق کا عرصہ حیات تنگ ہوجائے۔
Ayahs 80:33–35

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

پھر جب کانوں کو بہرا کردینے والی 19 آپہنچے گی

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

تو آدمی اس دن اپنے بھائی سے بھاگے گا

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

19 الصَّاخَّۃُ ، صخّ ایسی آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرہ کردے۔ ایسی سخت اور کرخت آواز جس سے کانوں کے پردے پھٹ جائیں اور الصاخہ سے مراد قیامت ہے اور یہ کیفیت پہلے نفخہ صور کے وقت ہوگی۔
Ayah 80:36

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے 20 (بھی بھاگے گا)

20 انسان کا اپنے عزیز واقارب سے بھاگنا :۔ اس دن انسان کے اپنے عزیزو اقارب سے بھاگنے کی دو وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر انسان سخت مصیبت میں مبتلا ہوگا وہ چاہے گا کہ اپنی امداد کے لیے اپنے عزیز و اقارب کو پکارے لیکن وہ بھی اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار ہوں گے۔ انہیں یہ خطرہ ہوگا کہ ہم تو خود مصیبت میں پڑے ہیں کہیں یہ بھی ہمیں مدد کے لیے بلا نہ لے اس لیے ہر ایک دوسرے سے دور بھاگنے کی کوشش کرے گا اور دوسری وجہ بالخصوص مجرموں سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ اپنے عزیز و اقارب سے اس لیے دور بھاگیں گے کہ دنیا میں تو وہ گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار بنے ہوئے تھے۔ آج ایک مجرم دوسرے کو یہ الزام نہ دینے لگے کہ میری گمراہی کا سبب تو تم ہی بنے تھے۔ اس لیے ہر قریبی اپنے دوسرے قریبی سے دور دور ہی رہنے کی کوشش کرے گا۔
Ayahs 80:37–40

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

اس دن ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بےپروا 21 بنادے گی

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

اس دن کچھ چہرے چمک دمک رہے ہوں گے

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

ہنستے ہوئے خوش و خرم

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور کچھ چہروں پر اس دن گرد پڑ رہی ہوگی

21 ننگے بدن حشر :۔ اس آیت کی بہترین تفسیر درج ذیل حدیث پیش کرتی ہے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : لوگ میدان حشر میں ننگے سر، ننگے بدن اور بےختنہ اکٹھے کیے جائیں گے۔ ایک عورت (سیدہ عائشہ ؓ نے پوچھا : کیا پھر وہ ایک دوسرے کے ستر نہ دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : اے فلاں (عورت) اس دن ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جو اسے (دوسروں سے) غافل کر دے گی۔ (ترمذی۔ کتاب التفسیر)