79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 79:1–2

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے جان سختی سے نکالنے والوں کی

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور بندآسانی سے کھول دینے والوں کی،1۔

1۔ مراد دونوں لفظوں سے فرشتے ہیں، جو کافروں کی جان انتہائی سختی کے ساتھ ان کے پور پور میں گھس کر، اور رگ رگ میں ڈوب کر نکالتے ہیں۔ اور مومنوں کی اس آسمانی کے ساتھ کہ گویا بند کھول دیا ہے۔ قسم کی حقیقت کے لئے ملاحظہ ہو، پ 14، سورة الحجر کا ضمیمہ۔
Ayahs 79:3–4

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور پیرتے ہوئے چلنے والوں کی

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر تیزی سے دوڑنے والوں کی، پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والوں کی،2۔

2۔ ان تینوں لفظوں میں سے بھی اشارہ فرشتوں ہی کی جانب ہے۔ جو روحوں کو لیکر آسمان کی طرف تیز گویا ہوا میں پیرتے جاتے ہیں، اور ہر حکم کی تعمیل کے لئے تیزی سے دوڑتے رہتے ہیں۔ ، گویا کہ ایک دوسرے کے آگے نکل جائیں گے اور ثواب و عقاب ہر امر انتظامی وتکوینی کی تدبیر کرتے رہتے ہیں، ملائکہ کا یہ سارا نظم ونظام بجائے خود اسکا گواہ اور اس کی دلیل ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی۔
Ayahs 79:5–7

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

(کہ قیامت آکر رہے گی)

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس دن ہلا ڈالنے والی چیز ہلا ڈالے گی

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آجائے گی،3۔

3۔ یعنی صور کا نفخہ ثانی جو ہر مردہ چیز کو از سرنو زندہ کھڑا کردے گا۔ (آیت) ” یوم ترجف الراجفۃ “۔ یعنی صور کا نفخہ اولی جو چھوٹی بڑی زندہ مخلوق کو فناء کردے گا۔
Ayahs 79:8–12

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

دل اس روز دھڑک رہے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں کہ بھلا کی اہم بھی واپس ہوں گے، پہلی حالت کی طرف ، ؟

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کہا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے (تو پھر واپس ہوں گے)

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے کہ کہ اس صورت میں واپسی بڑے خسارہ کی ہوگی،4۔

4۔ (آیت) ” یقولون۔ قالوا “۔ یہ کہنے والے وہی رسول اللہ ﷺ کے معاصر منکرین حشر تھے۔ اور یہ فقرے انکار استیعاد کے لہجہ میں طنزوتعریض کی راہ سے کہتے تھے۔ ترجمانی اس میں آج کے بھی ” روشن خیال “۔ مادیین کی آگئی۔ (آیت) ” ء اذا ..... نخرہ “۔ مادہ پرست اور روحانیت سے ناآشنا قوموں نے انسان کے فناء وبقاء کو تمامتر اس کے جسم ظاہری کے فناوبقاء کا مرادف سمجھا ہے۔ (آیت) ” قلوب ..... خاشعۃ “۔ آیت میں (آیت) ” قلوب وابصار “۔ دونوں کی کیفیت بیان کرکے اہل کفر کے اضطراب باطنی وظاہری دونوں کی پوری تصویر سامنے کردی۔ (آیت) ” ابصارھا “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ ابصار اصحابھا۔ معناہ ابصار اصحابھا (کشاف) اے ابصاراھلھا (روح)
Ayahs 79:13–14

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

تو وہ تو بس ایک ہی للکار ہوگی

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

جس سے لوگ فورا میدان میں آموجود ہوں گے،5۔

5۔ یعنی قادر مطلق کے لئے قیامت کے برپا کرنے میں دشواری ہی کیا ہے۔ اور اسے کوئی خاص اہتمام کرنا ہی کیا ہے ؟ اس کے حکم سے تو بس ادھر ایک دفعہ زور کی للکار پڑی، اور ادھر سب کچھ ہو ہوا گیا ! ھی۔ ضمیر صور کے نفخہ ثانی کی جانب ہے۔ وھی النفخۃ الثانیۃ (روح)
Ayah 79:15

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی قصہ پہنچا ہے ؟ ،6۔

6۔ (جن کا سابقہ فرعون اور فرعونیوں سے ہوا تھا) قصہ کے یاد دلانے سے مقصود وہی۔ ایک مکذبین کی تخویف، دوسرے رسول اللہ ﷺ کی تسلی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ متعدد مقامات پر پہلے گزر چکا ہے۔ مثلا سورة الاعراف (پ 8) میں سورة طہ (پ 16) میں وغیرہا۔
Ayahs 79:16–17

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

(یاد کر وہ وقت) جب انہیں ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان (یعنی) طوی میں پکارا

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ آپ فرعون کے پاس جائیں، اس نے سرکشی اختیار کی ہے،7۔

7۔ (اور اس پر دین حق کی تبلیغ کریں) (آیت) ” الوادالمقدس طوی، فرعون “۔ ان سب پر حاشیے گزر چکے۔
Ayahs 79:18–19

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

سو اس سے کہیے کیا تو چاہتا ہے کہ تو درست ہوجائے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تیری رہنمائی تیرے پروردگار کی طرف کردوں جس سے تو خشیت اختیار کرلے،8۔

8۔ (اور پاک وصاف بن جائے) (آیت) ” ھل لک الی “۔ عربی محاورہ میں ھل ترغیب الیہ کے مرادف ہے۔ (آیت) ” ھل لک “۔ کی اصل ترکیب، ھل، میل لک بھی سمجھی گئی ہے اے حل لک میل الی ان تزکی (روح) (آیت) ” ھل .... تزکی “۔ شہنشاہ مصر، فرعون قاہروجابر کی اسرائیلی رعایا کے ایک فرد موسیٰ عمران کو حکم ملتا ہے کہ جاکر اپنے فرمانرواپر توحید کی تبلیغ کرو۔ لیکن حکمت وخوش اسلوبی کے کن دقائق کو ملحوظ رکھ کر، آپ (علیہ السلام) اس سے جاکرکہتے ہیں کہ دینی فلاح تو سب ہی کو عزیز ہوتی ہے، آپ کو بھی ہوگی، تو آپ ہی کی خیرخواہی میں صلاح و فلاح کی تدبیریں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ (آیت) ” واھدیک الی ربک “۔ یعنی میں آپ کے پروردگار کی ذات وصفات کا صحیح بیان کر کے اس کی معرفت آپ کو کرائے دیتا ہوں۔ (آیت) ” فتخشی “۔ اصلاح و فلاح کی ساری تعمیر اسی خشیت ہی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ (آیت) ” الی ان تزکی “۔ الی یہاں فی کے معنی میں لیا گیا ہے۔
Ayahs 79:20–22

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے بڑی نشانی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

لیکن اس نے جھٹلایا اور کہنا نہ مانا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر وہ جدا ہو کر کوشش کرنے لگا،9۔

9۔ (موسی (علیہ السلام) رسول اور آپ (علیہ السلام) کے لائے ہوئے پیام کی تردید وتکذیب کی) (آیت) ” الایۃ الکبری “۔ یہ نشانی یا نشانیاں ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق نبوت و رسالت کی تھیں۔ الایۃ کے صیغہ واحد سے یہاں عموما معجزہ عصا سے مراد لی گئی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” الایۃ “ کو اسم جنس قرار دے کر سارے معجزات موسوی اسکے تحت میں داخل سمجھے جائیں۔ وجوز ان مراد بھا مجموع معجزاتہ (علیہ السلام) (روح)
Ayahs 79:23–24

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اور (لوگوں کو) جمع کیا پھر بلند آواز سے تقریر کی

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

اور کہا کہ میں ہوں تمہارا رب اعلی،10۔

10۔ مصریوں کے عقیدہ میں سب سے بڑا دیوتا سورج تھا، اور جو بادشاہ وقت ہوتا وہ اسی معبود اعظم کا اوتار ہوتا، اور اسی طرح خود بھی معبود اعظم کا درجہ رکھتا تھا۔ یہی بادشاہ فرعون کہلاتا تھا۔ شاہ پرستی کا یہ مذہب بابل (کلدانیہ) میں بھی رہ چکا ہے، اور آج بھی (1944 ء ؁ میں) اس کانمونہ جاپان میں مل سکتا ہے۔ میکاڈوگویاترجمہ ہے فرعون کا ... ملاحظہ ہوں سورة الشعراء (پ 19) اور سورة القصص (پ 20) کے حاشیے۔ نیز حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayahs 79:25–26

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

اس پر اللہ نے اسے پکڑ لیا آخرت اور دنیا کے عذاب میں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک اس (واقعہ) میں بڑی عبرت ہے اس کے لئے جو خشیت رکھتا ہو،11۔

11۔ یعنی جن کے دل میں خشیت ہے، وہی اس واقعہ سے عبرت ونصیحت کا پورا سبق حاصل کریں گے، (آیت) ” نکال الاخرۃ۔ یعنی آگ میں حرق۔ (آیت) ” والاولی “۔ یعنی پانی میں غرق “۔
Ayah 79:27

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

بھلا تمہارا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا ؟ ،12۔ اسی نے اس کو بنایا ،

12۔ (خود اپنے ہی معیار سے جواب دو ) منکرین پر حجت قائم کی ہے کہ آسمان کا پیدا کرنے والا تو قادر مطلق کو تم خود تسلیم کرتے ہو، یہ بھی تمہیں تسلیم ہے کہ آسمان کی تخلیق انسان کی تخلیق سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے، پھر جب آسمان اس نے بنالیا، تو انسان کو دوبارہ پیدا کرتے اسے کیا دیر لگ سکتی ہے ؟
Ayahs 79:28–29

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی چھت کو بلند کیا اور اسے درست بنایا ،

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اس کی رات کو ڈھانپا اور اس کے دن کو ظاہر کیا،13۔

13۔ اس میں اوپر اشارہ آگیا کہ رات اور دن کا دارومدار آفتاب ہی کے طلوع و غروب پر ہے۔ اور آفتاب کا تعلق آسمان سے ہے۔ (آیت) ” فسوھا “۔ آسمان کا انتظام ایسا درست وکامل رکھا کہ اس کے نظام میں کہیں کوئی رخنہ نہ مل سکے گا۔
Ayahs 79:30–33

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور اس کے بعد زمین کو بچھایا

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

(اور) اس سے اس کا پانی اور اس کا چارہ نکالا

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو قائم کردیا

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

(یہ سب) تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے،14۔

14۔ یعنی یہ سارے انتظامات انسان ہی کے لئے نہیں بلکہ اس کے خدمت گزار چوپایوں کی خدمت و سہولت کیلئے بھی ہیں۔ (آیت) ” بعد ذلک “۔ خوب خیال رکھا جائے کہ اس خاص آیت میں ذکر زمین کی آفرینش کا نہیں، صر اس کے بچھائے جانے کا ہے۔ (آیت) ” دحھا “۔ وحی کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقر سے ہٹادینے کے ہیں۔ دحاھا اے ازالھا عن مقرھا (راغب) اس سے گویا اشارہ اس طبیعیاتی حقیقت کی طرف ہوگیا کہ کرۂ ارض کسی اور بڑے جرم سماوی کا ٹکڑا ہے جو اس سے کٹ کر ایک مستقل وجود میں آگیا ہے۔
Ayahs 79:34–36

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

سو جب وہ بڑا ہنگامہ آئے گا

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

(یعنی) جس دن انسان اپنے ہر کیے ہوئے کو یا دکرے گا

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور ہر دیکھنے والے پر دوزخ ظاہر کردی جائے گی،15۔

15۔ (اسی چشم ظاہری سے) دیدۂ بصیرت سے تو آج بھی غیب پر ہر ایمان رکھنے والا دوزخ کو دیکھ رہا ہے آخرت میں وہ مومن و کافر سب کے رویت ومشاہدہ میں انہیں ظاہری آنکھوں سے آجائے گی۔ (آیت) ” الطآمۃ الکبری “۔ طامۃ۔ وہ شے ہے جو دوسری چیزوں پر غالب آجائے۔ الطامۃ الداھیۃ التی تطم علی الدواھی اے تعلووتغلب (کشاف) قیامت چونکہ ہر چیز کی حالت بدل دے گی، اور سارے ممکنات وموجودات پر غالب آجائے گی، اس لئے قدرۃ اس کا لقب الطامۃ الکبر) قرار پایا۔ (آیت) ” ما سعی “۔ ما کے عموم سے یہ نکلا کہ دنیا کا کیا ہوا ہر عمل، اچھا ہو یا برا، بڑا ہو یا چھوٹا، اس وقت پیش نظر ہوجائے گا۔
Ayahs 79:37–39

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

تو جس کسی نے سرکشی کی ہوگی

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

سو ایسے کا ٹھکانابس دوزخ ہی ہوگا،16۔

16۔ مجرموں، کافروں کا ذکر ہورہا ہے۔ (آیت) ” واثرالحیوۃ الدنیا “۔ یعنی اخروی زندگی سے منکر ہو کر اسی ناسوتی زندگی کو سب کچھ سمجھ لیا، ذکر یہاں عاصی، خاطی کا نہیں، منکر و کافر کا ہے۔ دوزخ مستقل ٹھکانا صرف اسی کا ہوسکتا ہے۔ وھو الکافر الذی یکون عقابہ مخلدا وتخصیصہ بھذہ الحالۃ یدل علی ان الفاسق الذی کا یکون کذلک لا تکون الجحیم ماوی لہ (کبیر)