Ayahs 79:1–5ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔
دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض تیز ہیں اور بعض سست۔ لہٰذا ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور دست قدرت نے ازروئے فطرت ان کو جو احکامات دیئے ہیں وہ سر انجام دیتے ہیں ، اور زمین اور اس کے باشندوں کو متاثر کرتے ہیں ، یوں وہ اس زمین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔
بعض تفاسیر کے مطابق نازعات ، ناشطات ، سابحات اور سابقات سے مراد ستارے ہیں اور مدبرات فرشتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نازعات ، ناشطات اور سابحات سے مراد ستارے ہیں اور سابقات اور مدبرات سے مراد ملائکہ ہیں۔
ان آیات وکلمات کا مفہوم جو بھی ہو ، لیکن قرآنی فضا میں زندگی بسر کرتے ہوئے میرا احساس یہ ہے کہ اس پیرائے میں گفتگو اور ان الفاظ کے لانے سے مراد انسانی احساس کو بیدار کرنا ، انسانی شعور کے اندر تجسس اور آنے والے پرخطر اور ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں خبردار اور بیدار کرنا ہے۔ یہ الفاظ اور یہ مفہوم ہمیں اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ آگے جو بات آرہی ہے وہ ایک عظیم واقعہ ہے ، جسے الطامتہ الکبریٰ راجفہ اور رادفہ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان الفاظ کے تفصیلی معانی میں نہ الجھیں کہ ان سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ تو اس طرح ہم قرآن کریم کے فطری انداز پر اکتفا کرکے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا حقیقی ہدیف یہ ہے کہ وہ دلوں کو ہلائے اور گرمائے اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم موثر سے موثر اسلوب اختیار کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ حضرت عمر ؓ کا انداز مطالعہ بھی ہے۔ آس سورة عبس وتولیٰ پڑھ رہے تھے جب
وفاکھة وابا (31:80) ” تک پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ ” فاکھہ “ تو ہمیں معلوم ہے لیکن “ ابا “ کیا ہے۔ اور اس کے بعد کہا ، اے عمر تیری جان کی قسم ، یہ محض تکلف ہوگا۔ اگر تم اللہ کی کتاب کے مفہوم میں سے کسی بات کو نہ سمجھو تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم ” اب “ کا مفہوم نہ جانیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے اس عصا کو توڑ دیا جو ان کے ہاتھ میں تھا ، اور ھپر کہا عمر یہ تو محض تکلف ہے عمر کی ماں کے بیٹے کیا ہوجائے گا اگر تو ” اب “ کے مفہوم کو نہ جانے۔ ” لوگو ! قرآن میں سے جو تم جانتے ہو ، اس پر عمل کرو اور جو نہیں جانتے اسے چھوڑ دو “۔ یہ ایسی بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کریم کے سامنے کس قدر سہمے رہتے تھے اور کس قدر احترام کرتے تھے۔ جس طرح ایک بندہ اپنے مالک کے احکام کا احترام کرتا ہے اور فوراً تعملیل کرتا ہے۔ قرآن کریم کے کچھ کلمات اگر منعلق اور غامض ہوں تو بھی ان کا ایک مقصد ہوتا ہے۔
مطلع میں جن باتوں پر قسم اٹھائی گئی ہے اس کا جواب درج ذیل آیات ہے یعنی جو اب قسم کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے۔
Ayahs 79:6–9پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔
یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں تمام مخلوق زندہ ہوکر زمین سے اگ پڑے گی اور میدان حشر برپا ہوجائے گا جس طرح سورة زمر آیت 68 میں آیا ہے۔
بہرحال جو مفہوم بھی ہو ، انسانی شعور کے پردہ پر ایک زلزلہ برپا ہوتا ہے اور انسان پر اس تصویر کشی سے ایک خوف اور اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ اور مارے خوف کے انسان تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔ یوں انسانی شعور اس دن کے خوف وہراس کو سمجھنے کے قریب ہوجاتا ہے کہ اس دن اس قدر خوف اور اضطراب ہوگا کہ مضبوط سے مضبوط شخص کے قدم اکھڑ جائیں گے اور وہ بےقرار ہوجائے گا۔ انسان اس بات کو پالیتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔
قلوب ................ خاشعة (9:79) ” کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی “۔ کیونکہ یہ دل شدید اضطراب میں مبتلا ہوں گے ، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ خوف ، دہشت اور ٹوٹ پھوٹ کے آثار ان پر نمایاں ہوں گے۔ زلزلہ ہوگا اور تباہی کا سماں ہر طرف نمایاں ہوگا۔ اور ایسا ہی ٹوٹ پھوٹ اس دن زمین اور آسمان کے نظام میں ہوگا۔
یوم .................................... الرادفة (7:79) اور یہی سماں اور یہی منظر ان الفاظ کلمات سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن کے ساتھ قسم کھائی گئی۔
والنزعت ............................ امرا (1:79 تا 5) ” یہ تمام مناظر (دل کی دنیا کے ، اس زمین و آسمان کے اور ان قسمیہ کلمات کے) سب کی فضا ، اور اثرات ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں۔ غرض یہ پوری سورست ایک ہنگامہ عظیم کے انداز میں ہے۔
اب اس منظر کے بارے میں خود ان کے تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں کہ جب دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد یہ ناگہاں اٹھیں گے اور سخت حیراں ہوجائیں گے۔
Ayahs 79:10–11یقولون ............................ نخرة (11:79 ) ” یہ لوگ کہیں گے ” کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے گئے ہیں ؟ جب کہ ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے تھے ؟ “۔ یہ گفتگو وہ اس وقت کررہے ہوگے ، جب پہلے پہل حشر کے میدان میں اٹھیں گے۔ کہا جاتا ہے۔
رجع فی حافرنہ ” یعنی اس راستے سے گیا جس سے آیا تھا “۔ یہ گفتگو وہ مدہوسی اور حیرانی میں کریں گے کہ آیا وہ دوبارہ اسی زندگی میں آگئے ہیں۔ وہ حیران ہوں گے کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہونے کے باوجود کس طرح اندہ انسان بن گئے۔
نخرة (11:79) ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو اندر سے خالی ہوگئی ہوں اور ان کے اندر جب ہوا چلتی ہے تو سرسر کی آواز آرہی ہو۔ لیکن جب وہ ذرا ہوش میں آئیں گے اور ان کے حواس بحال ہوں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ وہ تو فی الواقعہ زندہ کردیئے گئے ہیں لیکن یہ تو اخروی زندگی ہے۔ اب ان کو اپنے خسارے اور نقصان کا اندازہ ہوجائے گا۔ اب ان کا تبصرہ یہ ہوگا۔
Ayah 79:12قالوا .................... خاسرة (12:79) ” کہیں گے ” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہے “۔ یہ ایک ایسی زندگی ہے جس کو انہوں نے کوئی اہمیت نہ دی۔ اس کے لئے کوئی توشہ انہوں نے جمع کرکے نہ بھیجا اور اب تو کمائی کی جگہ نہیں ہے لہٰذا خسارہ ہی خسارہ ان کا مقدر ہے۔
ایسے حالات میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ قیام قیامت کا یہ ہنگامہ عظیم بسہولت برپا کردیا جائے گا اور اس کی حقیقت تو بس اتنی ہی ہے۔
Ayahs 79:13–14فانما ........................ الساھرة (14:79) ” حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے “۔ الزجر کے معنی ہیں تیز آواز۔ یعنی الصیحة۔ لیکن یہاں الصیحة کی بجائے الزجرة کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ اس ورت کی فضا اور ماحول کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ یہاں ماحول شدت اور سختی کا ہے۔ ساھرہ سفید اور چمکدار زمین کو کہتے ہیں۔ مراد میدان حشر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ میدان کہاں ہوگا۔ اس کے بارے میں ہماری معلومات مخبر صادق کی فراہم کردہ معلومات تک محدود ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے کیونکہ مخبر صادق کے علاوہ کوئی بات وثوق اور محفوظ طریقے سے نہیں کہی جاسکتی۔
اس ڈانٹ سے مراد ، مطابق نصوص قرآن وسنت ، دوسرا نفح صور ہے ، جس کے ہوتے ہی تمام لوگ اپنی اپنی جگہ اور اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے ، جو الفاظ اس کے لئے چنے گئے ہیں ، ان سے اس عمل کی سرعت معلوم ہوتی ہے کہ یہ عمل نہایت تیزی سے ہوگا۔ اس پوری سورت کے بیان کردہ واقعات سرعت اور خوف کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی سرعت اور خوف کی وجہ سے دلوں پر کپکپی اور جسموں پر لرزہ طاری ہوگا۔ اس سورت کی ہر حرکت ، ہر لمحہ اور ہر منظر اور فضا میں ہم آہنگی کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
اب اگلے مرحلے میں تیزی ، حرکت اور خوف کی یہ فضا قدرے تھم جاتی ہے۔ کیونکہ اس میں قصہ موسیٰ وفرعون کی طرف مختصراً اشارات ہی۔ اس میں اس سرکشی کا انجام دکھایا گیا ہے ، اس لئے بیان میں قدرے سکون اور نرمی آجاتی ہے۔
Ayah 79:15حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے۔ اور اس کی بہت تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس سے قبل کی سورتوں میں اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ ہر جگہ اس قصے کا حصہ آیا ہے۔ مختلف انداز اور مختلف اسلوب بیان میں آیا ہے۔ ہر جگہ قصے کا وہ حصہ اور اس انداز میں آیا ہے ، جس کی ضرورت ہو اور جو موضوع ومحل کے مناسب ہو۔ اس قصے کے بیان میں قرآن کریم کا اسلوب بیان اپنے عروج پر ہوتا ہے اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے کہ وہ قصے کو نہایت برمحل اور مناسب انداز میں پیش کرتا ہے۔
یہاں یہ قصہ نہایت اختصار کے ساتھ آیا ہے ، اس کے مناظر جھلکیوں کی شکل میں بڑی تیزی سے گزرجاتے ہیں۔ کوہ طور کی وادی مقدس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا جاتا ہے۔ اور انہیں فرعون کی طرف تبلیغی مشن پر جانے کے احکامات دیئے جاتے ہیں اس کی سرکشی اور پھر دنیا وآخرت میں اس کے انجام بد اور اللہ کی گرفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں اس کا انجام اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے کیونکہ سورت کا بنیادی موضوع ہے حشرونشر اور حساب و کتاب ہے۔ چند مختصر آیات میں ، الف کے ساتھ طویل مد کے ترنم کے ساتھ اس قصے کی جھلکیاں بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتی ہیں۔ یوں اس کا انداز اور اس کا اثر اس سورت کے مزاج کے مطابق ہوجاتا ہے۔
ان مختصر آیات میں نہایت تیزی اور سرعت کے ساتھ اس قصے کے کئی پہلو دکھائے گئے ہیں۔
اس کا آغاز حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کرکے کیا جاتا ہے۔
ھل اتک ................ موسیٰ (15:79) ” کیا تمہیں موسیٰ کے قصے کی خبر پہنچی ہے ؟ “۔ یہ سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ مخاطب پوری توجہ سے قصے کو سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوجائے اور پوری طرح اخذ کرلے۔
اس کے بعد پھر واقعات کی تفصیلات آتی ہیں۔ اس قصے کو لفظ حدیث (بات) سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ قصہ دراصل ہے ہی موسیٰ اور رب کا مکالمہ۔ اس لئے لفظ حدیث لانا نہایت واقعیت پسندی ہے۔ چناچہ سوال و جواب اور رب کے ساتھ مناجات۔
Ayah 79:16اذنادہ ........................ طوی (16:79) ” جب اس کے رب نے اسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا “۔ راجح قول یہ ہے کہ طویٰ وادی کا نام ہے ، جو شخص شمالی حجاز میں مدین کی طرف سے آئے ، یہ وادی طور کے دائیں جانب پڑتی ہے۔
یہ وقت جس میں اللہ کی جانب سے پکار آئی ، یہ ایک عظیم اور خوف زدہ کرنے والے لمحات ہیں اور عجیب کیفیات کا وقت ہوگا کہ اللہ جل شانہ بذات خود اپنے ایک بندے کو پکار رہا ہوگا اور سوچا جائے تو یہ ایک عظیم بات ہے۔ ان لمحات کی خوفناکیوں کے بیان سے انسانی الفاظ قاصر ہیں۔ اللہ کی عظیم بادشاہت اور حکومت کا یہ ایک راز ہے۔ نیز نفس انسانی کے رازوں میں سے بھی یہ ایک سربستہ رز ہے کہ اللہ نے انسانی نفس میں یہ قوت ودیعت کی اور اسے اس قابل بنایا کہ وہ ندائے جلیل کو سن سکے اور اس سے مفہوم اخذ کرسکے۔ یہ وہ آخری بات ہے جو اس مقام کی نسبت سے ہم کہہ سکتے ہیں۔ ورنہ مکالمہ الٰہی کے اس مقام اور اس کی کیفیت اور ماہیت کو سمجھنا انسان کے لئے نہایت ہی مشکل ہے۔ انسان کے لئے مناسب ہے کہ اس مقام کے کنارے پر ہی کھڑا رہے۔ اس وقت جب خود باری تعالیٰ انسان کو یہ قوت نہیں دے دیتا کہ وہ اس مقام کی کیفیات و تجلیات اور سوال و جواب کو سمجھ سکے اور اس کا شعور اور اس کی قوت مدرکہ اسے چکھ سکے۔
دوسرے مقامات پر اللہ اور کلیم اللہ کے درمیان ، اس مقام پر ہونے والے مکالموں کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ، لیکن اس سورت میں چونکہ موضوع کے ارد گرد مختصر باتیں رکھنی مقصود ہیں اس لئے یہاں زور دار باتیں نہایت موثر انداز میں اور ایک جھلک کی صورت میں کی گئی ہیں۔ اس لئے یہاں بس چند کلمات کے بعد ہی ذکر کردیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ عظیم مشن سپرد کردیا گیا۔ پس آواز آئی اور حکم دے دیا گیا۔
Ayahs 79:17–19اذھب .................... فتخشیٰ (19:79) ” فرعون کے پاس جاوہ سرکش ہوگیا ہے ، اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “۔
اذھب .................... طغی (17:79) ”’ فرعون کے پاس جاﺅوہ سرکش ہوگیا ہے “۔ سرکشی ایسا گناہ ہے کہ اسے واقع ہی نہیں ہونا چاہئے اور اگر یہ سرزد ہوجائے تو اسے باقی نہیں رہنا چاہئے۔ یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ اللہ سرکشی کو پسند نہیں کرتا ، سرکشی کے نتیجے میں بیشمار مکروہات جنم لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بلند ترین انبیاء میں سے ایک ممتاز نبی کو صرف اس لئے بھیجا کہ فرعون کی سرکشی کو مٹادے اور یہ ڈیوٹی اللہ نے ان کے ساتھ خود ہمکلام ہوکر لگائی۔ براہ راست یہ حکم دیا گیا اور یہ مشن ان کے سپرد کیا گیا تاکہ یہ ممتاز نمائندہ اس شر کو ختم کرے۔ اور دنیا سے اس فساد کو دور کرے ، یہ ایک نہایت ہی کریہہ فعل ہے کہ حکمرانوں میں سے کوئی سرکش اور ظالم ہو۔ اسی لئے اللہ نے بذات خود براہ راست یہ مشن اپنے ایک بندے کے سپرد کیا۔ اور حکم دیا کہ اس شخص کو اس حالت سے نکال کر انصاف کی راہوں پر لے آﺅ، اگر وہ نہ آئے تو اس پر دنیا وآخرت کی سزا اور عذاب نازل کرنے کا جواز پیدا ہو۔
اذھب ........................ طغی (17:79) ” فرعون کے پاس جاﺅ کہ وہ ظالم و سرکش ہوگیا ہے “۔ اس کے بعد اللہ اپنے بندے کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ اس سرکش اور ظالم کے دربار میں انہوں نے اپنا پیغام اور دعوت کس اسلوب میں پیش کرنی ہے۔ نہایت نرم ، پرکشش اور محبت بھرے انداز میں۔ شاید کہ وہ باز آجائے اور اس کے دل میں بات اترجائے۔ اور اللہ کے غضب اور عذاب سے بچ نکلے۔
فقل ھل .................... تزکی (18:79) ” کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے “۔ کیا تو اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ اس سرکشی اور ظلم کی گندگی سے نکل آئے۔ اور اللہ کی نافرمانیوں کو ترک کردے۔ کیا تو نماز ، دعا اور برکت کی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔
واھدیک ................ فتخشی (19:79) ” اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “ کیا تیرے اندر یہ خواہش ہے کہ تو اپنے رب کے راستے کے نشیب و فراز سے واقفیت حاصل کرے۔ اگر تو رب کی راہوں پر چلے گا تو تیرے دل میں رب کا خوف پیدا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ظالم اور سرکش تب ہی بنتا ہے جب اپنے رب سے دور چلا جائے۔ راہ حق بھلا دے اور سنگدل ہوکر فساد اختیار کرے۔ اس طرح وہ آخر کار سرکشی اور ظلم کو اپناوطیرہ بنالیتا ہے۔
یہ بات تو اس وقت کی گئی ہے جب اللہ کی جانب سے آواز آئی اور یہ عظیم مشن حضرت موسیٰ کے سپرد کیا گیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے۔ تو انہوں نے یہی بات دہرائی جو اللہ نے سکھائی کہ ایسا کہو ، لیکن تبلیغ کے وقت کی جو منظر کشی کی گئی اس میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ویسا ہی کہا ہوگا جس طرح اللہ نے فرمایا کہ یوں کہو۔ لہٰذا سپردگی مشن کے وقت جو بات کہی گئی اسے یہاں حذف کردیا اور بات مختصر کردی اب یہاں آکر یہ منظر نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور آخری بات کہی جاتی ہے۔
Ayahs 79:20–21فارہ ................ وعصی (21:79) ” پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ بات پہنچادی جو پہنچائی تھی۔ اور اسی انداز میں اور اسی اسلوب میں پہنچادی جس میں ان کے رب نے ان کو حکم دیا تھا لیکن اس قسی القلب اور سرکش آدمی کے ہاں یہ اسلوب ، کامیاب نہ ہوا کیونکہ مرد نادان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہوا کرتا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عظیم معجزات پیش کیے ، عصا پیش کیا اور یدبیضا پیش کیا ، جیسا کہ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں۔ تو اس نے ” جھٹلایا اور نہ مانا “ یوں اختصار کے ساتھ یہ منظر تکذیب اور معصیت پر ختم ہوتا ہے۔
اب اسی اختصار کے ساتھ ایک دوسرا منظرسامنے آتا ہے۔ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی جگہ ہی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ اور سحر اور سچائی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا کبروغرور یہ کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر آجائے اور حق کو قبول کرے۔
Ayahs 79:22–23ثم ادبر ........................ الاعلی (24:79) ” پھر چال بازیاں کرنے کے لئے پلٹا اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکار کر کہا ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں “۔ سیاق کلام میں یہاں اس سرکش کافر کی بات کو نہایت سرعت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور اس کی مساعی کی تفصیلات ، جادوگروں کا جمع کیا جانا ، اور مقابلہ آرائی کی تفصیلات کو یہاں حذف کردیا جاتا ہے۔ پس اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اپنی سعی اور تدبیریں کرتا رہا اور عوام کو بھی جمع کیا اور جادوگروں کو بھی جمع کرلایا۔ اور پس یہاں یہاں اس کی ایک ہی مکروہ اور گندی بات کو نقل کردی ، جو جہالت اور غزور اور سرکش سے اٹی پڑی ہے کہ ” میں ہوں تمہارا رب اعلیٰ “ نعوذ باللہ۔
یہ بات اس سرکش نے اس بل بوتے پر کہی کہ اسے یقین تھا کہ عوام تو جاہل ہیں اور انہوں نے اس بات پر لبیک کہنا ہے جو وہ کہہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو عوام کی جہالت ، عوام کی ذلت اور عوام کی غیر مشروط اطاعت سخت دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ حالانکہ ہر سرکش اور ڈکٹیٹر تو دراصل ایک شخص ہوتا ہے۔ اس کے پاس نہ قوت ہوتی ہے اور نہ دلیل۔ بلکہ اس کی قوت اور دلیل یہی ہوتی ہے کہ ذلیل اور جاہل عوام اس کے سامنے بچھ جاتے ہیں وہ اپنے کاندھوں کو اس کے سامنے جھکاتے ہیں اور وہ ان پر سوار ہوجاتا ہے اور ان کی گردنیں لمبی ہوتی جاتی ہیں اور وہ ان میں رسی ڈال کر مزید کھینچتا رہتا ہے۔ لوگ اس کے سامنے سرجھکاتے ہیں اور وہ مزید سر بلند کرتا ہے۔ لوگ اس کے مقابلے میں اپنے حقوق اور اپنی عزت سے دست بردار ہوتے ہیں اور وہ مزید سرکش ہوتا رہتا ہے۔
عوام الناس یہ کام کیوں کرتے ہیں ، ایک طرف سے وہ دھوکے میں ہوتے رہیں اور دوسری جانب سے وہ ڈرتے ہیں۔ رہا ان کا خوف تو وہ محض وہم یا گمان پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ہر ڈکٹیٹر اور سرکش تو ایک فرد ہوتا ہے ، وہ ہزاروں اور لاکھوں عوام کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر اپنی انسانیت ، اپنی کرامت ، عزت نفس ، اپنی آزادیوں کا احساس ہو تو پھر ان ہزاروں اور لاکھوں عوام میں سے ایک شخص اس ڈکٹیٹر کے مقابلے کے لئے کافی ہوتا ہے لیکن یہ ڈکٹیٹر اور سرکش ان کو دھوکہ دیتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ وہ اختیارات کا سرچشمہ ہے۔ حالانکہ کسی قوم میں سے ایک فرد اٹھ کر کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ اور ڈکٹیٹر اور سرکش ہوں۔ اگر قوم بیدار ہو اور اسے نیک وبد کا علم ہو تو اس میں سے کبھی بھی سرکش ڈکٹیٹر پیدا نہیں ہوسکتا ، پھر جو امت اپنے حقیقی رب اعلیٰ سے واقف ہو تو اس کے اندر کوئی اس قسم کا فرعونی ڈکٹیٹر سر نہیں اٹھا سکتا۔ نیز اگر کوئی قوم یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے صرف رب واحد کی بندگی کرنی ہے اور اس رب کے سوا کوئی نہیں ہے کہ اسے نفع دے سکے یا نقصان۔ تو ایسی قوم میں کوئی مطلق العنان سر نہیں اٹھاسکتا۔
فرعون کو معلوم تھا کہ اس کی قوم غافل اور ذلیل ہے۔ اور اس کی رعیت کے لوگوں کے دل ذوق ایمان سے خالی ہیں۔ اس لئے اسے اس قدر جرات ہوگئی کہ وہ کہے۔
Ayah 79:24انا ربکم الاعلیٰ (24:79) ” میں ہی تمہارا رب اعلیٰ ہوں “۔ اگر اس کی قوم میں ایمان ہوتا ، عزت نفس ہوتی۔ وہ ایک آزاد قوم ہوتی اور ذی شعور قوم ہوتی تو اسے یہ بات کہنے کی جرات نہ ہوتی۔ کیونکہ وہ تو جانتا تھا کہ وہ تو دوسروں کی طرح ایک محتاج اور ضعیف بندہ ہے۔ وہ کوئی فوق الفطرت قوت نہیں رکھتا۔ اگر مکھی اور مچھر بھی اس سے کچھ لے بھاگے تو اس کی افواج اور وہ اسے نہیں پکڑ سکتے۔
Ayahs 79:25–26اس کفر ، سرکشی اور تکذیب اور گندی بات کے بعد اب اللہ کی عظیم قوتیں حرکت میں آتی ہیں۔
فاخذ ................ والاولی (25:79) ” آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں مبتلا کردیا “۔ یہاں آخرت کے عذاب کو دنیا کے عذاب پر مقدم کردیا گیا ، اس لئے کہ عذاب آخرت تو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔ نافرمانوں اور سرکشوں کے لئے حقیقی عذاب تو عذاب آخرت ہوگا اور آخرت میں ایسے لوگ بڑی سختی اور بےرحمی سے پکڑے جائیں گے۔ پھر سورت کا موضوع ہی آخرت ہے۔ اس لئے عذاب آخرت کو مقدم کرنا ضروری ہوا۔ نیز لفظی ترنم اور قافیہ کے اعتبار سے بھی ” آخرت “ کو پہلے اور ” اولیٰ “ کو بعد میں ہونا چاہئے تھا ، یوں لفظی اور معنوی اعتبار سے الاخرة والاولی (25:79) ہم آہنگ ہوگئے۔
اس دنیا میں فرعون جس عذاب سے دو چار ہوا ، وہ بھی بڑا سخت تھا۔ رہا آرت کا عذاب تو وہ بہت ہی شدید اور سخت ہوگا۔ فرعون بڑی قوت والا تھا ، اور خاندانی عزت اور وقار کا مالک تھا۔ اسے اگر اس قدر شدید عذاب سے دوچار کیا گیا تو دوسرے کم درجے کے مکذبین ڈکٹیٹر اور سرکش بہرحال شدید ترین عذاب سے دو چار ہوں گے اور رہے مشرکین مکہ تو عالمی قوتوں میں تو ان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔
ان فی ........................ یخشیٰ (26:79) ” در حقیقت اس میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص اللہ کی معرفت رکھتا ہے ، اللہ سے ڈرتا ہے ، وہی اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ فرعون کے واقعہ میں لوگوں کے لئے کیا کیا عبرتیں ہیں۔ رہا وہ شخص جس کے دل میں تقویٰ ، خوف اور خشیت ہی نہیں ہے۔ اس کے اور عبرت کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔ اس کے اور نصیحت حاصل کرنے کے درمیان ایک دبیز پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ آخر کار وہ انجام بد سے دوچار ہی نہیں ہوتا بلکہ انجام بد سے جاکر ٹکراتا ہے اور اللہ اس سے دنیا وآخرت میں انتقام لے لیتا ہے۔ پس ہر شخص کو اللہ ہی عبرت ، راہ راست اور اچھے انجام کے لئے وسائل فراہم کرتا ہے۔
ڈکٹیٹروں اور مادی وسیاسی قوت کے بل بوتے پر ظلم اور سرکشی کرنے والوں کے اس مطالعے اور نظارے کے بعد اب ذرا مشرکین مکہ کی طرف ، جن کو اپنی چھوٹی سی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا ، ان کے سامنے بعض عظیم کائناتی قوتیں پیش کی جاتی ہیں ، تاکہ وہ ذرا سمجھیں کہ ان ہولناکی کی کائناتی قوتوں کے سامنے ان کی قوت ہیچ ہے۔
Ayah 79:27یہ ایسا استفہام ہے جس کا جواب ایک ہی ہے اور ناقابل انکار اور ناقابل بحث و مباحثہ ہے۔
ءانتم ................ السمائ (27:79) ” تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی “۔ یقینا آسمانوں کی تخلیق بہت بڑا اور مشکل کام ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں ہے۔ نہ بحث کی گنجائش ہے۔ لہٰذا تمہیں جو اللہ نے مختصر قوت دی ہے ، اس پر تمہیں اس قدر ناز کیوں ہے حالانکہ آسمان اور کائنات کی دوسری قوتیں تم سے قوی تر ہیں۔ یہ تو ہے اس سوال کا ایک پہلو ، لیکن اس کی ایک جہت اور بھی ہے ، وہ یہ کہ تم اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو ایک مشکل کام تصور کرتے ہو ، جبکہ آسمانوں کی تخلیق تمہاری تخلیق سے مشکل ہے ، حالانکہ حشر میں تمہاری تخلیق ابتدائی تخلیق نہ ہوگی بلکہ محض اعادہ اور جس ذات بابرکات نے آسمانوں اور جہانوں کی تخلیق کی ہے ، اس کے لئے تمہارا اعادہ زیادہ آسان ہے۔
آسمانوں کی تخلیق بلاریب ایک عظیم کام ہے۔
بنھا (27:79) ” اس نے اسے بنایا “۔ ہر عمارت قوت اور باہم سہارا لے کر قیام کی مظہرہوتی ہے۔ آسمانوں کا وسیع نظام بھی ایک عمارت کی طرح باہم بندھا ہوا ہے۔ اس کے ستارے اور سیارے ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں۔ کوئی چیز بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلتی۔ نہ اپنے مدار سے نکلتی ہے ، نہ گرتی ہے اور ٹکراتی ہے۔ گویا یہ بالائی کائنات ایک وسیع عمارت ہے ، جس کے تمام اعضاء باہم متماسک ہیں۔
Ayah 79:28رفع ................ فسوھا (28:79) ” اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اس کا توازن قائم کیا “۔ سمک بلندی اور قدوقامت کو کہتے ہیں۔ آسمان بلند بھی ہے اور باہم جڑا ہوا بھی ہے اور اس کے اجزاء ایک دوسرے سے پیوست ہیں ۔ اسی کو
فسوھا (28:79) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آسمانوں کے نظام پر ایک سرسری نظر ڈالنے اور ایک معمولی علم رکھنے والے کو بھی یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ آسمانوں کے نظام کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے۔ ان عظیم اجسام کو جو چیز باہم جوڑ کر رکھ رہی ہے اور ان کی حرکات واثرات کے درمیان جو چیزتنظیم پیدا کرتی ہے۔ اس کا اگر تفصیلی مطالعہ کیا جائے ، تو ان الفاظ کے معانی بہت گہرے اور وسیع ہوجاتے ہیں اور یہ نظام اس قدر محیرالعقول ہوجاتا ہے جس کے بارے میں انسان پہلے کچھ زیادہ نہ جانتے تھے۔ انسان ششدرہ رہ جاتا ہے اور مرعوب اور مبہوت ہوجاتا ہے اور سوائے اس کے کہ اس نظام کے پیچھے کام کرنے والی ایک عظیم قوت مدبرہ کو تسلیم کیا جائے۔ انسانوں کے لئے اس محیرالعقول عظیم اور وسیع و عریض نظام کی تشریح کے لئے کوئی اور راہ ہی نہیں ہے۔ بہرحال کسی نہ کسی مذہب اور دین کے مطابق الہہ العالمین کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
Ayah 79:29واغطش ............ ضحھا (29:79) ” اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا “۔ اس انداز تعبیر میں لفظاً اور معنی شدت اور ترنم ہے۔ اور یہ انداز تعبیر اس سورت کی شدت اور قوت کے عین مطابق ہے۔
واغطش لیلھا (29:79) ” کے معنی ہیں رات کو سیاہ اور تاریک بنادیا۔
اور اخرج ضحھا (29:79) ” کے معنی ہیں ، دن کو روشن کیا۔ تاریکی اور روشنی کے لئے یہاں قرآن نے جو الفاظ چنے ہیں وہ سیاق کلام کے لئے بہت موزوں ہیں۔ روشنی اور تاریکی کا پے درپے آنا اور جانا ، رات کی تاریکی اور چاشت کی روشنی ہر شخص کا دیکھا ہوا منظر ہے۔ ہر دل اس سے متاثر ہوتا ہے۔ انسان بعض اوقات زیادہ مانوس ہونے کی وجہ سے گردش لیل ونہار سے وہ تاثر نہیں لیتا جو قرآن یہاں بیان کرتا ہے ، لیکن قرآن مجید کا یہ کمال ہے کہ وہ انسانی احساسات کو تیز کرتا ہے اور انسان بھولے بسرے نغمے گانے لگتا ہے اور یہ سب کچھ انسان کو بالکل جدید لگتا ہے۔ گویا ہر دن ایک نیا دن طلوع ہوتا ہے۔ کل وہ شعور اور وہ تاثر نہ تھا جو آج قرآن کو پڑھ کر انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ ان حقائق کے حوالے سے قرآن انسانی احساسات کو بیدار کرتا ہے اور جوں جوں کائنات کے ان مناظر اور حقائق کے بارے میں انسانی علم وسیع ہوتا ہے ، انسان کے تاثرات ، اس کی حیرانگی اور اس کی دہشت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
Ayahs 79:30–32والارض ........................ ارسھا (32:79) ” اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے “۔
دحوالارض کے معنی ہیں زمین کو تیار کرنا اور اس کے چھلکے کو بچھانا ہے۔ اس طرح کہ انسان اس کے اوپر چل بھی سکیں۔ اس کے اوپر جمع ہونے والی مٹی نباتات اگانے کے قابل ہو۔ اور اس کے اوپر پہاڑوں کا جمانا ، یہ سب امور اسی طرح انجام پائے کہ اللہ سطح زمین کو اس اس طرح سکون وقرار عطا کیا اور اس کے اوپر درجہ حرارت اس مقدار میں پیدا کیا کہ یہاں حیوانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہوئی۔ اور اللہ نے زمین سے پانی نکالا ، چاہے اس سے مراد وہ پانی ہو جو چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا آسمانوں سے برستا ہے اور ندیوں کی صورت میں بہتا ہے۔ اور اللہ نے اس کے ذریعہ وہ تمام نباتات اگائے جس سے انسانی خوراک اور حیوانوں کی خوراک نکلی۔ بعض جانور براہ راست اس سے کھاتے ہیں اور بعض بالواسطہ۔
یہ سب انتظام اس وقت ہوا ، جب اللہ نے زمین و آسمان کا موجودہ نظام تعمیر کیا۔ رات اور دن کو پیدا کیا۔ زمین و آسمان کے بارے میں جدید نظریات اس آیت کے مفہوم کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ زمین پر کئی سال گزرے اور اسی طرح گردش لیل ونہار کا نظام جاری رہا اور بعد میں وہ جاکر انسانی زندگی اور زراعت کے قابل بنی اور اس کا چھلکا سخت ہوا اور سکڑ کر پہاڑ نمودار ہوئے۔
Ayah 79:33قرآن کریم اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ یہ سب نظام تمہاری خاطر کیا گیا۔
متاعا ................ لانعامکم (33:79) ” سامان زیست کے طور پر تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے “۔ اس سے دو باتوں کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ ایک یہ کہ اللہ نے اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے عظیم الشان تدابیر اختیار کی ہیں اور دوسرا یہ کہ اس نظام کے اندر ہر چیز ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق نہایت صحیح اندازے سے بنائی گئی ہے۔ آسمانوں کو موجودہ شکل دینا ، زمین کو اس شکل و صورت میں تیار کرنا ، اور موجودہ نظام اتفاقاً پیدا نہیں ہوگیا۔ بلکہ پہلے سے مقدر اور مرتب تھا۔ اور اس کی ایک ایک چیز کو ایک حساب اور ایک اندازے سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی مقصد کو سامنے رکھ کر پیدا کیا گیا ہے کہ اس زمین پر حضرت انسان نے آکر بسنا ہے۔ اس کا وجود ، اس کی نشوونما ، اور اس کی ترقی کے لئے یہاں بیشمار سازگار حالات پیدا کیے گئے ہیں اور ان کو اس نظام کے بنیادی ڈھانچے اور نقشے کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ پورا نظام شمسی اس طرح بنایا گیا ہے اور اس زمین کے اندر تہ یہ امور علی الخصوص ملحوظ ہیں۔
قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ اصل حقائق کی طرف ایک مجمل اشارات کرتا ہے ، جن میں اصل بات اور حقیقت بھی آجاتی ہے اور ایک عام سے عام آدمی بھی قرآنی مفہوم کو پالیتا ہے۔ یہاں قرآن کریم نے جن سہولیات اور سازگار چیزوں کی طرف اشارہ کیا وہ آسمانوں کی تخلیق وتعمیر ، رات کا چھانا اور پرسکون ماحول ، دن کا ظہور ، اور دوڑ دھوپ ، زمین کا بچھانا اور سازگار بنانا ، پانی کا بہانا اور نباتات کا اگانا اور پہاڑوں کا جمانا اور انسانوں اور حیوانوں کے لئے سامان زیست فراہم کرنا ، ان اشارات سے ایک طرف تو اللہ کی تدبیر کی حکمت اور تخلیق کا حکیمانہ نظام نظر آتا ہے اور یہ حقائق وہ مظاہر ہیں جن کو ہر شخص دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ہر سطح اور ہر معاشرے کا انسان ان کو سمجھتا ہے۔ اور ان کے سمجھنے کے لئے کسی بڑے درجہ علم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بس ایک انسان ہو ، جہاں بھی ہو ، جس زمانے میں ہو ، وہ ان اشارات کو سمجھتا ہے۔
لیکن اس عمومی سطح کے پس پشت اور گہرائی کے ساتھ اگر غور کیا جائے تو اس سطح کے نیچے عظیم حقائق ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ اس کائنات کی تخلیق کے منصوبے میں گہری منصوبہ بندی ہے ، اور اس کا نظام محض بخت واتفاق پر نہیں چل رہا ہے۔ اس کائنات کی حقیقت اس بات کی نفی کرتی ہے۔ کیونکہ محض اتفاقاً اس قدر حکیمانہ فارمولا بن جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ جو عجیب و غریب ہے اور جو نہایت حکیمانہ ہے۔
جس کہکشاں میں ہم رہتے ہیں جسے شمسی کہکشاں کہا جاتا ہے ، ہماری زمین اس کہکشاں کا ایک سیارہ ہے۔ اس کی تنظیم اور اس کا نظام گردش ایک عجیب نظام ہے جو اس جیسی کروڑوں کہکشانوں میں نہیں ہے۔ پھر یہزمین تو تمام سیاروں میں سے ایک منفرد انداز کا سیارہ ہے ، سورج سے اس کا فاصلہ ، اس کے فضائی حالات اور اس کی گردش ایسے ہیں کہ اسے انسانی زندگی کے اہل بناتے ہیں۔ آج تک انسان نے اس وسیع و عریض کائنات میں کوئی دوسرا سیارہ معلوم نہیں کیا جس میں ایسی ہی زندگی ہو ، اور جس کے اندر ہزاروں لاکھوں ایسے عوامل ہیں جو انسانی زندگی کے ممدود ومعاون ہوں۔
” اس لئے کہ اسباب حیات ایک ایسے سیارے میں فراہم ہوتے ہیں جس کا حجم مناسب ہو ، جو سورج سے ایک مناسب دوری پر ہو۔ اور اس کے عناصر کی ترکیب ایسی ہو جس کے اندر زندہ حرکت میں آسکے “۔
” سازگار حجم کا مناسب ہونا اس لئے ضروری ہے کیونکہ کسی سیارے کے اردگرد کی فضا کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ اس سیارے کا حجم کتنا ہے اور اس میں جاذبیت کی قوت کس قدر ہے “۔
” اور معتدل دوری اس لئے ضروری ہے کہ جو سیارے سورج کے زیادہ قریب ہیں۔ وہ اس قدر گرم ہوتے ہیں کہ ان میں اجسام کے اجزاء اپنی جگہ نہیں ٹھہر سکتے اور جو سیارے سورج سے بہت دور ہوتے ہیں وہ اس قدر سرد اور ٹھوس ہوتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی جسم پھل پھول نہیں سکتا “۔
” پھر کسی سیارے کی ترکیب ایسے عناصر سے ہونا ضروری ہے جس کے اندر زندگی ممکن ہو اور پھل پھول سکے ، کیونکہ نباتات کے لئے اور حیوانات کے لئے وہ عناصر ضروری ہیں جو اس زمین میں رکھے گئے ہیں “۔
” پھر زمین کو سورج سے اس قدر دور رکھا گیا ہے کہ اگر اس کا فاصلہ ذرا کم وبیش ہوجائے تو اس پر زندگی ممکن ہی نہ ہو۔ اور اس کی تفصیلات ہم اب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آج تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس زمین کے علاوہ اور بھی کوئی سیارہ کسی سورج کے گرد ایسا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے افکار ، استاد عقاد ، ص 32) ۔
یہ حقائق کہ یہ کائنات ایک خاص نظم ، تدبیر اور منصوبے کے مطابق بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان کی ایک مخصوص حیثیت ہے۔ انسان کو اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے آمادہ کرتے ہیں کہ قیام قیامت ایک حقیقت ہے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ انسان سے حساب و کتاب لیا جائے گا اور اس کے اعمال پر اسے جزاء وسزا دی جائے گی۔ اگر اس کائنات اور اس میں انسانی زندگی کی تخلیق ایک حکیمانہ انداز کے مطابق ہے تو پھر لازماً انسان اس نتیجے تک پہنچے گا کہ ایک دن اس زندگی کا خاتمہ ہوگا اور انسان اپنے اعمال کی جزاء وسزا سے دوچار ہوگا۔ یہ بات انتہائی غیر معقول ، اور غیر منصفانہ ہوگی اس زندگی کا خاتمہ ایسا ہی ہو کہ ظالم ، بدکار سزا پانے سے بچ جائیں اور مظلوم دنیا میں مشکلات جھیلنے کے بعد یونہی ختم کردیئے جائیں۔ اس قسم کے عقائد ونظریات اس حکمت ، اس منصوبہ بندی اور اس تدبیر کے خلاف ہیں جو اس کائنات کی تخلیق اور تعمیر میں عیاں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان حقائق کے بعد اب سورت کے مرکزی مضمون یعنی قیام قیامت کو لیا جاتا ہے یعنی وہ ہنگامہ عظیم جو برپا ہوگا اور پھر اس جہاں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس سے قبل ذہنوں کو اس عقیدے کے قبول کرنے کے لئے تیار کرلیا گیا تھا۔ ذہن قبولیت کے لئے تیار تھا۔ لہٰذا یہ ذکر نہایت ہی مناسب وقت میں ہوا۔
Ayahs 79:34–35دنیا کی یہ زندگی چند روزہ ہے اور اس کے لئے یہاں نہایت گہرائی اور حکمت سے نظام زندگی اور سامان حیات تیار کیا گیا ہے۔ اس کائنات کا نظام اور انسانی زندگی کے نظام کے درمیان گہراربط ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ چند روزہ متاع ہے اور ایک دن اسے ختم ہونا ہے۔ جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا تو اس زندگی کا نظام معطل ہوجائے گا۔ یہ چند روزہ زندگی ختم ہوگی۔ یہ عظیم کائنات ختم ہوگی۔ یہ بلندوبالا آسمان ، یہ بلند پہاڑ ، اور یہ وسیع و عریض زمین ، اور اس زمین کے اوپر برپا ہونے والی تمام کشمکش اور یہ سرگرمیاں سب کی سب ختم ہوجائیں گی کیونکہ یہ حادثہ بہت عظیم ہوگا اور بہت ہی عام ہوگا۔ یہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اب انسان کو یاد آئے گا کہ وہ کیا کچھ کرتا رہا ہے ، اب اسے اپنی تمام سرگرمیاں یاد آتی جائیں گی۔ زندگی کے واقعات یاد آتے جائیں گے۔ زندگی کی مصروفیات جنہوں نے انسان کو اس عظیم دن سے غافل کردیا تھا ، اب اسے سب کچھ یاد ہوگا ۔ لیکن اب اس کی یہ یادداشت اسے حسرت اور مایوسی کے سوا کچھ نے دے سکے گی۔ اب تو اس کے سامنے ایک دوسرا نقشہ ہوگا۔
Ayah 79:36وبرزت ................ یری (32:79) ” ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی “۔ اب یہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگی۔ ہر دیکھنے والا اسے دیکھ سکے گا۔ لفظ ” برزت “ میں لفظی تشدید اور معنوی تشدید دونوں ملحوظ ہیں ، اس لفظ کے ذریعہ ہر نظر کے سامنے منظر لایا گیا ہے اور پھر لفظ کا ترنم بھی۔
آج ہر کسی کا انجام مختلف ہوگا اور اللہ کا نظام کائنات اور نظام آزمائش اور پہلی زندگی کے مقاصد کھل کر سامنے آجائیں گے۔
Ayahs 79:37–39فاما ................................ الماوی (39:79) ” تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی ، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ طغیان اور سرکشی کا مفہوم وسیع تر ہے ، یہ ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جو حق اور ہدایت کی راہ سے متجاوز ہوتا ہے۔ اس کے حدود قوت اور جبر اور اقتدار اعلیٰ کے بل بوتے پر ظلم اور تجاوز کرنے والے سرکشوں سے زیادہ وسیع ہیں۔ ہر وہ شخص جو دنیا پرست ہے اور راہ ہدایت سے ادھر ادھر متجاوز ہوتا ہے۔ وہ باغی اور طاغی ہے جس کی بڑی صفت یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ آخرت کی جوابدہی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی فکر ہی انسان کے ضمیر اور اس کے عمل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی آخرت کو بھلا دے یا آخرت پر دنیا کو ترجیح دے تو اس کی قدروں اور پیمانوں کے درمیان خلل پڑجاتا ہے اور اس کے تمام پیمانے اور قدریں بدل جاتی ہیں۔ اس کا شعور اور طرز زندگی بدل جاتا ہے۔ چناچہ وہ باغی ، طاغی اور حدود سے تجاوز ہوکر ظلم کا ارتکاب کرتا ہے۔ چناچہ اس کا انجام یہ ہوتا ہے : ” دوزخ اس کا ٹھکانہ ہوتی ہے “۔ وہ دوزخ جو کھلی تھی اور حاضر تھی اور عظیم دن میں اس کو نمایاں کرکے رکھ دیا گیا تھا۔
Ayah 79:40واما من .................... الماوی (41:79) ” اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے بازرکھا تھا ، جنت اس کا ٹھکانہ ہوگی۔ “ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے ، وہ کبھی بھی کسی معصیت کا ارتکاب نہیں کرتا۔ اگر کبھی بشری کمزوری سے اس سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو یہ خوف اسے ندامت اور استغفار پر مجبور کردیتا ہے اور وہ توبہ کرتا ہے اور اس طرح وہ اطاعت کے دائرے میں دوبارہ داخل ہوجاتا ہے۔
نفس کو خواہشات سے باز رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ انسان دائرہ اطاعت سے باہر نہ نکلے ، کیونکہ خواہشات نفسانیہ ہی انسانوں کو نافرمانی ، طغیانی اور سرکشی پر آمادہ کرتی ہیں۔ آزمائش اور شرکا راستہ ہی خواہشات نفسانیہ ہیں۔ شیطان انسان پر اسی راستہ سے حملہ آور ہوتا ہے۔ جہالت کا علاج بہت آسان ہے۔ لیکن جانتے بوجھتے خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرنا بہت بڑی مصیبت اور آزمائش ہوتی ہے۔ اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
خواہشات نفسانیہ کے دباﺅ کا مقابلہ صرف خشیت الٰہیہ سے کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کے ڈر کے سوا کوئی ہتھیار اس دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ایک ہی آیت میں ان کو جمع کیا ہے۔ اور بات کون کررہا ہے ؟ وہ ذات جس نے نفس انسانی کو پیدا کیا ہے۔ بیماری بھی وہی بتاتا ہے اور علاج بھی۔ انسانی نفس کے نشیب و فراز سے اس کا خالق ہی باخبر ہے۔ اس ذات کو معلوم ہے کہ اس مخلوق میں کس جگہ کمزوریاں ہیں اور ان کا علاج کیا ہے ؟ ان خفیہ کمزوریوں کا تعاقب کس طرح کیا جاسکتا ہے اور اس کے کیا طریقے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا کہ اس کے نفس کے اندر خواہش ہی نہ ہو ، بلکہ اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ نفس کو روکے ، اس کو لگام دے ، اور خواہشات کو ذرا دبا کر رکھے۔ اور اس معاملے میں خدا خوفی سے استعانت حاصل کرکے کہ ایک دن اس نے رب جلیل کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اور اگر وہ نفس کی خواہشات پر کنٹرول کرے گا تو اس کا عوضانہ اسے جنت ملے گی اور یہ اس کا ٹھکانہ ہوگی۔