Ayah 79:41فان ................ الماوی (41:79) ” جنت اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ نفس کے ساتھ جہاد ، جہاد اکبر ہے اور اس کی قیمت یہ ہے کہ یہ نفس سیدھا ہوکر بلند مقام و مرتبہ تک پہنچ جائے۔
انسان ، انسان تب ہوگا کہ وہ اس نہی پر عمل کرے۔ نفس کے خلاف جہاد کرے اور اس طرح گری ہوئی سطح سے اپنے آپ کو بلند کرے۔ انسان اس طرح انسان نہیں بن جاتا کہ وہ اپنے نفس کو خواہشات نفسانیہ کے حوالے کردے اور جہاں تک ممکن ہوسکے خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرے ، اور دلیل یہ دے کہ اللہ نے اس کی فطرت میں یہ خواہشات رکھ دی ہیں ، کیونکہ جس ذات نے نفس انسانی کے اندر خواہشات نفسانیہ کا وبال رکھا ہے ، اسی نے انسان کو یہ قوت بھی دی ہے کہ وہ را ہوار نفس کو لگام دے۔ اور حکم بھی دیا کہ نفس کی تمام خواہشات کی پیروی نہ کرو ، اس کے دائرہ جاذبیت اور دائرہ کشش سے اپنے آپ کو نکالو۔ اور اس کا صلہ بھی دینے کا اعلان کیا کہ تمہارا مستقل ٹھکانا جنت میں ہوگا ، اگر تم نفس کے خلاف جہاد کرکے فاتح ہوگئے اور بلندی اختیار کی تو جنت میں جاﺅ گے۔
ایک تو ہے انسانی آزادی جس کے ذریعہ اللہ نے اس انسان کو معزز بنایا ہے ، یہ ہے آزادی اس بات کی کہ انسان اپنے نفس پر فتح حاصل کرے۔ اور خواہشات نفس کی غلامی سے آزادی حاصل کرے۔ اور نفس کے ساتھایسا متوازن رویہ رکھے جو انسانی آزادی ، اختیار اور تقدیر کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ لیکن آج کل جس چیز کو انسانی آزادی کہا جاتا ہے وہ دراصل حیوانی آزادی ہے۔ اس میں ایک انسان اپنے نفس کی خواہشات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے ، غلام بن جاتا ہے۔ اور اس کی زمام اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے نفس کی خواہشات کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ایسی آزادیوں کی بات وہی لوگ کرتے ہیں جو شکست خوردہ ہوتے ہیں ، غلام ہوتے ہیں ، ہاں انہوں نے غلامی کے لباس پر آزادی کا عنوان درج کرلیا ہے اور جنوں کا نام خرد رکھ دیا ہے۔
پہلی آزادی سے متصف انسان ہی دراصل بلند ، ترقی یافتہ اور آزاد وبلند زندگی کا اہل ہوتا ہے ، جس کا مقام جنت الماویٰ میں ہے۔ دوسری آزادی سے متصف شخص دراصل گرا ہوا ہے ، خواہشات نفسانیہ کا غلام ہے اور ان کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے۔ اور اس کا اصل مقام جہنم کی تہہ ہے جہاں انسانیت ختم ہوجاتی ہے اور یہ شخص درختوں اور پتھروں کی طرح جہنم کا ایندھن ہوگا۔ یہ پتھر ہے ، انسان نہیں ہے۔
اس دین میں گراؤٹ اور پسماندگی اور بلند ہونے اور ترقی یافتہ ہونے کا یہ معیار ہے جہاں چیزوں اور افعال کو حقیقی وزن دیا جاتا ہے۔
Ayah 79:42اب اس سورت میں عقل وخرد کی تاروں پر ایک شدید چوٹ لگائی جاتی ہے جس سے ایک طویل نغمہ بلند ہوتا ہے۔
یسئلونک ................................ اوضحھا
ہٹ دھرمی میں ڈوبے ہوئے مشرکین جب حضور اکرم ﷺ کی زبانی روز قیامت کی یہ ہولناکیاں سنتے اور قرآن میں قیامت کے برپا ہونے کے عظیم واقعات اور افراتفری اور ہنگامہ عظیم کی بات سنتے کہ وہ اں حساب و کتاب ہوگا اور جزاء وسزا ہوگی تو وہ فوراً سوال کردیتے۔
ایان مرسھا (42:79) ” آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی ؟ “۔ یہ تو تھا ان کا سوال۔
Ayah 79:43جواب یہ ہے۔
فیم انت من ذکرھا (43:79) ” تمہارا کیا کام ہے کہ اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ ایسا جواب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی عظیم بات ہوگی اور ایک عظیم حادثہ ہوگا اور ان لوگوں کا اس طرح سوال کرنا حماقت اور گھٹیا پن ہے۔ یہ بچگانہ سوال ہے اور اپنے حدود اور مقام سے آگے کی بات ہے۔ تو ان کو جواب دینے کے بجائے رسول اللہ کو جواب دیا جاتا ہے کہ ” تمہارا کیا کام کہ تم اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ تو اس سے بڑی چیز ہے کہ تم اس کے بارے میں پوچھو یا تم سے پوچھا جائے۔ اس کا وقت بتانا یا اس کا برپا کرنا میرے رب کا کام ہے ، میرا کام نہیں ہے۔
Ayah 79:44الی ربک منتھھا (44:79) ” اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے “۔ اس کا معاملہ اللہ پر آکر رک جاتا ہے اسی کو اس کے برپا ہونے کے وقت کا علم ہے۔ اور وہی اس کا مجاز ہے۔
Ayah 79:45انما ................ یخشھا (45:79) ” تم صرف خبردار کرنے والے ہو۔ ہر اس شخص کو جو اس کا خوف کرے “۔ تمہارا فریضہ بس یہی ہے۔ تمہارے حدود بھی یہاں تک ہیں کہ جو شخص قیامت سے ڈرتا ہے اس کو ڈرائیں ۔ یعنی ایسے لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن ہم نے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہ دن ضرور آتا ہے اور اس کے وقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔
ہاں وقت بتانے کے بجائے اس کی ہولناکیوں اور ہنگامہ خیزیاں بتادی جاتی ہیں۔ اور جب وہ برپا ہوگی تو اس وقت انسان کا شعور کیا ہوگا اور احساسات کیسے ہوں گے۔ اس کی عظمت کا اندازہ اسی سے لگا لو کہ اس وقت تم اس پوری دنیاوی زندگی کے بارے میں ان تاثرات کا اظہار کرو گے۔
Ayah 79:46کانھم .................... ضحھا (46:79) ” جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (دنیا میں یا حالت موت میں) یہ بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں “۔
اس کے بارے میں تمہارے تاثرات یوں ہوں گے کہ اس کی عظمت کو دیکھ کر تم پوری دنیا کو اور اپنی پوری عمروں کو اور اپنے سازوسامان کو یوں سمجھو گے کہ شاید صبح وشام کا ایک مختصر وقت تھا جو ہم نے دنیا میں بسر کیا۔
یہ دنیا جس کے لئے لوگ باہم لڑتے اور جھگڑتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ انہوں نے ہمہ گیر کشمکش برپا کی ہے۔ اس دنیا کے لوگ مرتے ہیں اور آخرت کی لازوال اور بےپناہ انعامات کو اس کی خاطر ترک کرتے ہیں اور اس مختصر مدت کے لئے عظیم جرائم اور مظالم کا ارتکاب کرتے ہیں ، نافرمانی کرتے ہیں ، سرکشیاں کرتے ہیں ، اور رات اور دن اس کی طلب میں غرق ہیں۔ یہ دنیا ان دنیاداروں کی نظروں میں اس قدر سمٹ اور سکڑ جائے گی کہ وہ کہیں گے کہ ہم تو صرف اتنا عرصہ رہے ہیں جس طرح صبح کے وقت کا ایک مختصر حصہ یا شام کا ایک حصہ۔
یہ ہے دنیا ، مختصر ، جلدی سے فنا ہونے والی ، حقیر وناپائیدار ، کم قیمت اور گھٹیا۔ کیا لوگ اس دنیا کے ایک مختصر وقت کے لئے جس کے بارے میں خود ان کا تاثر یہ ہگا کہ یہ ایک پورے دن کے برابر بھی نہیں ہے۔ بلکہ صبح وشام کے ایک پہر کے برابر ہے۔ ابدی زندگی اور اس کی نعمتوں کو ترک کررہے ہیں حالانکہ اس دنیا کی خواہشات بھی زائل ہونے والی خواہشات ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک عظیم حماقت میں مبتلا ہے۔ کوئی ذی عقل اور چشم بینارکھنے والا انسان تو یہ فعل نہیں کرسکتا۔