78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

” یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں ؟

آغاز کلام ہی ان نام نہاد سوال کرنے والوں کے سوالات پر سرزنش سے ہوتا ہے۔ تعجب اس پر کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس قدر ظاہروباہر بات کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے سوالات دراصل قیام قیامت کے بارے میں تھے اور یہی موضوع تھا جس کے بارے میں وہ نہایت ہی شک اور خلجان میں مبتلا تھے اور سخت مجادلہ اور مباحثہ کرتے تھے۔ ان لوگوں کے تصور میں یہ بات نہ آتی تھی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ، حالانکہ ایسا لازمی ہونا چاہئے اور قیام قیامت بالکل ایک منطقی امر ہے۔ عم یتساءلون (1:78) ” یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں “۔ اور کس چیز کے بارے میں یہ مباحثے کررہے ہیں اور اس کے بعد خود اس کا جواب دے دیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سوال برائے استفہام نہ تھا۔ نہ کچھ معلومات مطلوب تھیں۔ سوال محض ان کے حال پر تعجب کرنے کے لئے کیا گیا ہے اور متصلایہ تھا کہ ان لوگوں کی حالت قابل تعجب ہے کیونکہ ان کے سوالات ایک نہایت ہی عظیم معاملے کے بارے میں ہیں ، جس کے بارے میں یہ شک میں ہیں اور اس کی حقیقت یہ ہے۔
Ayahs 78:2–3

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

کیا اس بڑی خبر کے سارے میں

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں ؟

عن النبا ............................ مختلفون (3:78) ” کیا اس بڑی خبر کے سارے میں جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں “۔ یہاں اس عظیم حقیقت کا نام نہیں لیا گیا ، صرف اسے نباء عظیم کہا گیا ، جو اس کی صفت ہے ۔ اس لئے کہ تعجب اور مبالغے کے انداز کو جاری رکھا جائے۔ اس دن کے بارے میں ، اختلافات اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان تھے۔ ان لوگوں کے درمیان جو اس پر ایمان لائے تھے اور ایسے لوگوں کے درمیان جو اس کا انکار کرتے تھے ، سوالات دراصل انکار کرنے والوں ہی کی طرف سے تھے۔ پھر اس سوال اور قیل وقال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے اور نہ اس بات کی تصریح کی جاتی ہے کہ یہ سوال و جواب کس امر کے بارے میں ہے۔ یہاں صرف اس امر عظیم کی صفت عظیم کا ذکر دیا جاتا ہے اور ایک ملفوف اور بالواسطہ دھمکی دینے پر ہی اکتفاء کردیا جاتا ہے اور یہ بالواسطہ دھمکی ڈائریکٹ جواب سے زیادہ موثر ہے۔ اور زیادہ خوفزدہ کردینے والی ہے۔
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ،

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

ہاں ، ہرگز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔

کلا سیعلمون .................... سیعلمون (5:78) ” ہرگز نہیں ! عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ، ہاں ، ہرگز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ لفظ کلازجر آمیز اور سخت توبیخ کے ساتھ انکار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں جس قسم کی فضا پیدا کرنا مطلوب ہے ، اس کے لئے یہ لفظ نہایت موزوں ہے۔ لفظ کلا کے تکرار اور لفظ سیعلمون دونوں کے تکرار میں سخت تہدید اور ڈراوا ہے۔ اب بظاہر نظر آتا ہے کہ روئے سخن اس عظیم خبر سے پھر کر کسی دوسرے موضوع کی طرف منقل ہوگیا ہے تاکہ تھوڑے وقفے کے بعد اسے براہ راست لیا جائے ، روئے سخن دراصل ہمارے پیش پا افتادہ کائنات کے اندر موجود بعض حقائق ، مظاہر ، مناظر اور شواہد کی طرف پھرجاتا ہے۔ جن کو اگر چشم بینا سے دیکھا جائے اور ان پر غور کیا جائے تو وہ انسانی فکرونظر میں ایک بھونچال پیدا کردیتے ہیں اور فکر انگیز ہیں۔
Ayahs 78:6–7

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا ،

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔

یہ سفر اس عظیم اور طویل و عریض کائنات کے اطراف و جوانب میں ہے ، اس سفر میں ہم بیشمار مناظر دیکھتے ہیں ، اور مشاہدے کرتے ہیں۔ یہ طویل مناظر اور بیشمار تخیلاتی تصاویر ہمارے سامنے نہایت ہی محدود اور مختصر الفاظ کے ذریعہ پیش کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت ہی محدود وقت میں ، محدود الفاظ کے ذریعہ جب یہ مناظر پردہ تخیل پر گزرتے ہیں تو فکر ونظر پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ عقل وخرد کی تاروں پر مضراب اپنا کام نہایت تیزی اور تسلسل کے ساتھ کررہا ہے۔ یہ سب تصورات ایک اثباتی استفہام کے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ایک طاقتور ہاتھ ، نہایت ہی غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگارہا ہے۔ جو ان کے قلب ونظر کو اللہ کی اس گوناگوں مخلوقات کے مشاہدے کی طرف متوجہ کررہا ہے۔ اور یہ دعوت دے رہا ہے کہ اس نظام کے پیچھے کام کرنے والی قوت مدبرہ پر ذرا غور کرو کہ کس طرح ہر چیز کو اس نے ایک مقدار کے مطابق رکھا ہوا ہے۔ کس طرح یہ کائنات پیدا کی گئی ہے ، پیدا ہورہی ہے۔ کیا کوئی عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ یہ مخلوقات یونہی چھوڑ دی جائے گی اور کوئی حساب و کتاب نہ ہوگا بلکہ حساب و کتاب ہوگا اور یہ جب واقعہ ہوگا تو یہ وقت کی عظیم خبر ہوگی اور اس کی شہ سرخی لگے گی۔ مگر افسوس کہ اس عظیم حقیقت کے بارے میں بہ لوگ اختلاف رائے رکھتے ہیں ۔ اس سفر کے کئی مراحل ہیں ، پہلا مرحلہ اس زمین کے مطالعے کا ہے۔ الم نجعل .................... اوتادا (7:78) ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا ، اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا “۔ مہاد کے معنی ہیں سیروسیاحت کے لئے تیار کردہ۔ نیز گہوارے کی طرح نرم۔ دونوں مفہوم لفظ مہاد سے نکلتے ہیں اور باہم قریب ہیں۔ انسان علم ومعرفت کے جس مقام پر بھی ہو اور تہذیب و تمدن کے جس مرحلے میں بھی ہو ، وہ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ زمین اس کے لئے گہوارہ ہے بطور حقیقت واقعہ اس چیز کو سمجھنے کے لئے کسی بڑی مقدار علم کی ضرورت نہیں۔ پہاڑوں کا میخ کی طرح مضبوطی سے جما ہوا ہونا بھی انسان کو ہمیشہ نظر آتا ہے۔ اگرچہ وہ پتھر کے دور میں ہو یا زمانہ حال کی علمی ترقی کے دور کا ہو ، یہ حقائق محسوسات ہیں۔ معمولی توجہ سے دریافت ہوسکتے ہیں۔ البتہ جس حقیقت کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ پتھر کے دور کے انسان کے ابتدائی احساسات سے ذرا گہری ہے۔ انسان نے جوں جوں علم ومعرفت میں ترقی کی ، وہ اس کائنات کے حقائق کی گہرائیوں تک جاپہنچا۔ اور یہ حقائق انسان کی نفسیات پرچھاتے رہے۔ اور انسان نے اس بات کا ادراک کرلیا کہ اس کائنات کی پشت پر ایک گہری حکمت اور تدبیر کام کررہی ہے۔ اور اس کے اندر ایک پیچیدہ ٹیکنالوجی رکھ دی گئی ہے اور تمام مخلوقات اور موجودات باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اور ایک دوسرے کی ضروریات پوری کررہے ہیں۔ اور یہ کہ اس زمین کو خصوصاً انسانی زندگی کے لئے ممدومعاون اور گہوارہ بنایا گیا ہے۔ اور یہ انسان اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اس کے اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان ایک قسم کی مفاہمت ہے۔ زمین کو خصوصیت کے ساتھ انسانی حیات کے لئے گہوارہ بنایا گیا ہے ، اور یہ ایک ایسا ثبوت ہے جس کی حقانیت میں شک نہیں کیا جاسکتا ہے ، بشرطیکہ دیکھنے والا عقل وخرد سے بےبہرہ نہ ہو اور وہ اس ظاہری کائنات کی پشت پر بھی جھانک کر دیکھ سکتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اس زمین میں جو قوتیں پیدا کی ہیں ، اگر ان کی نسبت ترکیب کے اندر معمولی ردوبدل بھی کردیا جائے ، اور زمین کے ظروف واحوال وہ نہ رہیں جو ہیں ، یا اگر زمین کی تخلیق کے اندر ملحوظ عناصر کے درمیان میں سے کسی ایک عنصر ہی کو غائب کرکے اس مرکب کی نسبتوں کے اندر ذرا سا بھی اختلال واقع ہوجائے تو زمین جس کو انسان کے لئے گہوارہ بنایا گیا ہے ، انسان کے لئے موت کا کنواں بن جائے اور اس کے اندر سے وہ صفت مفقود ہوجائے جس کی طرف قرآن یہاں اشارہ کررہا ہے۔ قرآن نے تو اس بات کی طرف یہاں مجمل اشارہ فرمایا ہے۔ تفصیلات انسان پر چھوڑ دی ہیں تاکہ انسان اپنی عقل وخرد اور علم و تجربہ کے مطابق تفصیلات کا مطالعہ کرے۔ اور اللہ نے پہاڑوں کو زمین کے اندر میخوں کی طرح گاڑدیا۔ ہر انسان ایک سرسری نظر سے اس بات کو ظاہراً پاتا ہے کہ پہاڑ زمین کے اندر میخوں کی طرح گاڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح جس طرح خیمے کی میخیں ہوتی ہیں ، اور پہاڑ خیموں کی طرح نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت کیا ہے ، تو قرآن سے ہم یہ پاتے ہیں اور اس بات کا ادراک کرتے ہیں کہ یہ زمین کو مضبوط کرنے اور اس کا توازن قائم کرنے اور اسے قائم رکھنے کے لئے ازحد ضروری ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پہاڑ اس لئے قائم کیے گئے ہوں تاکہ زمین پر سمندروں کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی بلندیوں کی وجہ سے ایک توازن قائم ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی وجہ سے زمین کے اندرونی سکیڑ اور سطحی سکیڑ کے درمیان توازن قائم کیا گیا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان پہاڑوں کی وجہ سے زمین کے بعض حساس مقامات پر زلزلوں اور آتش فشانیوں کو روکا گیا ہو ، اور ان وجوہات کے علاوہ بعض دوسری نامعلوم وجوہات کے ناطے پہاڑوں کو میخیں کہا گیا ہو۔ جن کا ابھی تک انسان کو علم ہی نہ ہوا ہو ، کیونکہ قرآن نے کئی نامعلوم حقائق کی طرف اشارات اور واضح اشارات کیے تھے اور انسانوں نے ان کا ایک نہایت ہی محدود حصہ صدیوں بعد معلوم کیا ہے۔ دوسرا سفر دراصل انسانی نفسیات کی وادیوں میں ہے۔ نفس انسانی کے بعض پہلوﺅں کو لیا گیا ہے۔
Ayah 78:8

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تمہیں جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ،

وخلقنکم ازواجا (8:78) ” اور ہم نے تمہیں مرد اور عورت کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا “۔ یہ بھی اس دنیا کی ایک نہایت کھلی حقیقت ہے ، جسے انسان نہایت ہی سادگی کے ساتھ پاتا ہے کہ انسانوں کو مرد اور عورت کی شکل میں پیدا کیا گیا ہے ۔ پھر ان کو جوڑا بنایا گیا اور ان کے ملاپ سے سلسلہ حیات کو جاری رکھا گیا۔ ہر انسان اس حقیقت اور اس نظارے کو دیکھتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ اس نظام کے اندر کس قدر لطف ، مزہ ، خوشی اور آرام رکھا گیا ہے اور ان امور کو سمجھنے کے لئے کسی وسیع علم کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اللہ نے انسانوں کے سامنے یہ حقیقت رکھی ، ہر تہذیب و تمدن کا بیٹا بھی اسے سمجھتا ہے اور ہر بدوی اور پہاڑی بھی اس کو محسوس کرکے اس کو برتتا ہے اور اس کے مطابق زندگی کو منظم کرتا ہے۔ اس گہری حقیقت کے اس اجمالی شعور سے آگے کچھ مزید قابل غور باتیں بھی ہیں ، ان تک صرف ان لوگوں کو رسائی حاصل ہوتی ہے جو علم ومعرفت میں ذرا گہرائی تک چلے جاتے ہیں ، مثلاً انسانی جرثومے اور نطفے سے مذکر اور مونث بنا دینا حالانکہ اس جرثومے کے اندر مذکر ومونث کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جو کسی نطفے کو تذکیر کی طرف لے جاتا ہے اور کسی نطفے کو تانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ صرف دست قدرت کے کارنامے ہیں۔ اللہ کی تخلیق اور اللہ کی ہدایت جس نطفے میں جو خصائص چاہے ڈال دے تاکہ انسان ایک جوڑے کی شکل میں پیدا ہوں اور زندگی کی گاڑی آگے بڑھے۔
Ayahs 78:9–11

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ،

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو پردہ پوش

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو معاش کا وقت بنایا

وجعلنا ........................ معاشا (9:78 تا 11) ” اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا “۔ اللہ کی مہربانیوں پر ذرا غور کریں کہ اس نے انسانوں کو سکون اور تازگی عطا کرنے کے لئے نیند کی تخلیق کی۔ یہ نیند جب انسان پر طاری ہوتی ہے تو ایک وقت کے لئے اس کی قوت مدرکہ اور قوت عمل کو موقوف کردیتی ہے۔ اس وقفے میں انسان ایک ایسی حالت میں چلا جاتا ہے کہ جسے نہ حالت موت کہا جاسکتا ہے اور نہ حالت حیات۔ اس حالت میں جانے سے انسانی جسم اور اعصاب کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور وہ تازہ دم ہوکر اور از سرنو پیدا ہوکر زندگی کی جدوجہد اور مشغولیات اپنا لیتا ہے۔ حالت نوم کس طرح طاری ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک انسان کس طرح تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کام میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ نہ انسان اس بات کو جانتا ہے کہ یہ تازگی اس کے جسم میں کس طرح سرایت کرجاتی ہے۔ کیونکہ جب وہ جاگ اٹھتا ہے تو وہ نیند کی حالت کا تصور نہیں کرسکتا۔ اور نیند کی حالت میں بھی اس کی قوت مدرکہ معطل ہوتی ہے۔ یہ ہے ہر زندہ چیز سے متعلق ایک کھلے راز کی بات جسے صرف وہ ذات جانتی ہے جس نے ان زندہ مخلوقات کو پیدا کیا اور انسانی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو سونے اور نیند پر موقوف کیا۔ کیونکہ ہر زندہ مخلوق ایک محدود وقت تک ہی نیند کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے ، اور اگر اسے مجبوراً دیر تک مصنوعی طریقے سے بیدار رکھا جائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن نیند میں جسمانی اور اعصابی ضروریات کے علاوہ بھی کچھ راز ہیں۔ یہ روح کے لئے بھی سکون کا ذریعہ ہے۔ روح کو بھی زندگی کی سخت کشمکش سے ہٹا کر اس کے لئے سکون کا ذریعہ ہے۔ یوں جس طرح ایک فوجی اسلحہ اتار کر قدرے سستاتا ہے اور امن و سکون کی حالت میں چلا جاتا ہے لیکن نیند کی حالت میں اسے جانا پڑتا ہے۔ وہ چاہے یا نہ چاہے کیونکہ نیند انسان کی ایک ایسی ضرورت ہے جس طرح کھانا پینا ، اس کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات نیند کے نتیجے میں ایسی تبدیلی آتی ہے جو معجزات سے کم نہیں ہوتی۔ انسان روحانی تھکاوٹ میں مبتلا ہوتا ہے ، اعصاب چور چور ہوتے ہیں ، روح متزلزل ہوتی ہے ، اور دل پریشانی سے بھرا ہوتا ہے۔ اچانک ایک اونگھ سی طاری ہوتی ہے ، اور بعض اوقات یہ اونگھ چند لمحات سے زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن ایک فرد کے جسم اور روح پر تازگی طاری ہوجاتی ہے اور اس کی حالت میں ایک انقلاب آجاتا ہے اور چند لمحات کے اندر انسان اپنے آپ کو تروتازہ بلکہ ایک نیا انسان محسوس کرتا ہے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں تھکے ہارے مسلمانوں پر اللہ نے ایسی ہی اونگھ طاری کردی تھی جسے نعاس امنہ کہا گیا۔ اذ یغشیکم ............ امنة (11:8) ” اس وقت کو یاد کرو جب تمہیں ایک ایسی اونگھ نے ڈھانپ لیا ، سکون طاری کرنے کے لئے صرف اللہ کی طرف سے “۔ اور سورة آل عمران میں۔ ثم انزل ................................ منکم (154:3) ” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے “۔ اور بعض اوقات بعض دوسرے لوگوں پر بھی ایسے حالات طاری کردیئے جاتے ہیں۔ یہ ” سبات “ یعنی زندگی کی سرگرمیوں اور عقل وروح کی تمام سرگرمیوں سے رک جانا ، ہر زندہ مخلوق کی ضرورت ہے ، اور دست قدرت اور خالق کائنات کے رازوں میں سے ایک راز ہے ، اور ایک ایسی نعمت ہے جو خالص اللہ کی داد دہش اور عطا اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کریم انسان کے عقل وادراک کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ اے انسان ذرا اپنی ذاتی خواص پر بھی غور کرو ، اور جس دست قدرت نے یہ خواص رکھے ہیں اس پر بھی قدرے تامل اور تدبر کرو اور اس کی معرفت حاصل کرو۔ اور ذات باری کی قدرتوں میں سے ایک اہم قدرت اور تدبیر یہ ہے کہ اس نے اس کائنات کی حرکت کو بھی مخلوق کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ جس طرح انسان کے اندر نیند رکھ کر اسے سکون دیا گیا ہے کہ زندگی کی کشمکش کے بعد وہ قدرے سکون میں رے۔ تو کائنات کے اندر اللہ نے رات کا ماحول پیدا کرکے انسان کے لئے نیند اور سکون کا سازگار ماحول پیدا کردیا ہے۔ یوں اللہ کی مخلوق کے اندر باہم سازگار ماحول پیدا ہوا۔ اور یہ پوری دنیا زندہ مخلوقات کا ایک خاندان بن گئی۔ زندہ اشیاء کی یہ فیملی ان خصائص کے مطالبات پر لبیک کہتی ہے ، جو اس کائنات کے اندر رکھ دیئے گئے ہیں ، اور ان زندہ مخلوقات کی تمام اقسام کے اندر ایسی حرکت اور ایسی ضروریات رکھ دی گئی ہیں جو بعینہ اس پوری کائنات کے اندر رکھی گئی ہیں ، اور یہ تمام امور دست قدرت نے سرانجام دیئے ہیں اور یوں اس کائنات اور اس پوری زندہ مخلوق کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور موافقت پیدا کردی گئی ہے۔ اور ان آیات میں تیسرا رنگ یہ دکھایا گیا ہے ، دور کے آسمانوں اور بلندیوں کا قریب کی زمین کے ساتھ رابطہ ہے۔
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے

وبنینا فوقکم ........................ الفافا (12:78 تا 16) ” اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا ، اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی تاکہ اس کے ذریعے سے غلہ سبزی اور گھنے باغ اگائیں “۔ اور وہ وسیع شداد جو انسان کے اوپر کھڑے کیے گئے وہ سات آسمان ہیں اور دوسری جگہ ان کو سات راستے کہا گیا ہے۔ ان سے حقیقی طور پر مقصود کیا ہے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ سات کہکشانی ہے بھی ہوسکتے ہیں ، یہ کہکشانی مجموعے اس قدر بڑے ہیں کہ ان میں سے ایک ہی کہکشانی گروپ میں ستاروں کی تعداد ایک سو ملین کے لگ بھگ ہے۔ اور ان سات مجموعوں کا ہماری زمین اور ہمارے مجموعہ شمسی سے تعلق ہے اور ان ” وسیع شدا “ کا کوئی اور مفہوم بھی ہوسکتا ہے۔ اور اس بات کو للہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ اس کائنات کے بارے میں ہمارا موجودہ علم بہت زیادہ دکھائی دینے کے باوجود بہت ہی قلیل ہے۔ اس آیت میں جو کچھ بتایا گیا وہ یہ ہے کہ یہ سات آسمان نہایت مضبوط ہیں۔ ان کی عمارت نہایت پختہ ہے۔ اور اس قدر مضبوطی کے ساتھ باہم وگرپیوست کردیئے گئے ہیں کہ ان کے سنچے میں کسی جگہ ٹوٹ پھوٹ اور انفکاک ممکن نہیں ہے۔ اور یہ وہی ہیں جن کو ہم اس فضائے کائناتی میں مشاہدہ کرتے ہیں اور جن پر آسمانوں کا لفظ بولا جاتا ہے اور لوگ سمجھ لیتے ہیں اور دوسری چیز یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ سات مضبوط آسمان زمین سے بھی مربوط ہیں اور انسان اور تمام دوسری زندہ مخلوقات سے بھی مربوط ہیں۔ اس لئے ان سات مضبوط چیزوں کا ذکر انسان کی زندگی اور اس کے قیام وانصرام کی تدابیر کے ضمن میں کیا گیا۔
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا ،

وجعلنا .................... وھاجا (13:78) ” اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ بنالیا “۔ اور یہ روشن اور گرم چراغ سورج ہے جس کی روشنی تیز ہے اور اس کے اندر بےپناہ گرمی ہے۔ جس کی وجہ سے زمین اور اس کے اوپر زندگی ممکن ہوتی ہے جو سمندر کے پانیوں کو گرم کرکے ان سے اس وسیع زمین پر آبپاشی کا بندوبست کرتا ہے۔ وہ بادلوں کو اٹھاتا ہے۔ ان کی بلندی کی اعلیٰ سطح تک لے جاتا ہے اور پھر ان بادلوں کو نچوڑ کر بارش برسائی جاتی ہے۔
Ayahs 78:14–16

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ اس کے ذریعے سے غلہ سبزی

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے باغ اگائیں “۔

وانزلنا .................... ثجاجا (14:78) ” اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی “۔ یعنی قوانین قدرت سے ان بادلوں کو نچوڑتے ہیں اور ان کا پانی زمین پر گرتا ہے۔ یہ پانی کس طرح نچوڑا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہواﺅں کے ذریعہ بادلوں سے پانی نچوڑا جاتا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بادلوں کے باہم ٹکرانے سے بجلی کی پیدائش کے عمل سے پانی نکل آتا ہو ، لیکن ان تمام اسباب کے پیچھے کوئی تو مسبب الاسباب ہے جو ان تمام اسباب اور اثرات ڈالنے والی چیزوں کا خالق ہے۔ اس سورج کو چراغ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی ہوتی ہے اور یہی کام سورج کے اندر ہورہا ہے کہ اس میں جلنے کا عمل اور روشنی بکھیرنے کا عمل ہورہا ہے۔ لہٰذا سورج اور چراغ پوری طرح ایک ہی عمل کررہے ہیں۔ اللہ کے روشن چراغ سے ہم پر گرم شعاعوں اور روشنی کی بارش ہوتی ہے اور بادلوں سے لگاتار بارش نچوڑی جاتی ہے۔ اور یہ بجلی کی کڑک کے عمل سے بار بار برستی ہے اور اس بارش اور اس گرمی ہی سے اس کرہ ارض پر ہر قسم کے نباتات پیدا ہوتے ہیں اور ان نباتات سے وہ تمام نباتات پیدا ہوتے جن کو انسان استعمال کرتے ہیں اور وہ تمام گھنے باغات پیدا ہوتے ہیں۔ الفاف سے مراد وہ گھنے درخت جو ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے ہوں اور ایک درخت کی ٹہنی دوسرے میں گھسی ہوئی ہو۔ اس کائنات کی تخلیق میں یہ اہم آہنگی ، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک حکیمانہ ہاتھ کام کررہا ہے۔ نہایت حکمت کے ساتھ اس کی ہر چیز اندازے کے ساتھ بنائی گئی ہے۔ اور یہی ارادہ اس کو چلارہا ہے اور اس حقیقت کو ہر انسان پاتا ہے ، اگر وہ اپنی عقل اور اپنے شعور کو اس طرف متوجہ کرے ، لیکن دور جدید میں جب انسان نے علم ومعرفت میں ترقی کرلی ، تو اس نے معلوم کیا کہ اس کائنات کی تخلیق میں کیا کیا تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور اس کی ہر ہر چیز کس طرح ایک فارمولے کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ فارمولے اس قدر عجیب اور حیران کن ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل چکرانے لگتی ہے۔ اور علم ومعرفت رکھنے والا جدید انسان اور سائنس دان اس بات کو احمقانہ تصور کرتا ہے کہ یہ کائنات یونہی بخت واتفاق سے پیدا ہوگئی ہے اور جو لوگ اس کائنات کے کسی مدبر اور خالق کو تسلیم کرنے سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ وہ لوگ دراصل محض ہٹ دھرمی اور ضد میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے اس رویے کو اب احترام کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اور اس کائنات کے پیچھے ایک قوت مدبرہ کام کررہی ہے جس نے ہر چیز کو نہایت ہی حساس سکیل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کائنات کی تمام قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوست ہیں۔ اور قرآن کریم نے اس آیت میں اسی تنظیم ، ہم آہنگی اور تقدیر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور پہاڑوں کو میخوں کی شکل دی ہے اور لوگوں کو جوڑے جوڑے بنایا ، نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو سب کے لئے چھپنے اور آرام کرنے کا ذریعہ بنایا ، اور سورج کے ذریعہ گرمی اور روشنی کا انتظام کیا۔ اور ہواﺅں اور بادلوں کے ذریعہ بارشوں کا انتظام کیا ، جن کے نتیجے میں سبزیاں ، حیوانات اور پھل نکالے گئے۔ یہ تمام حقائق جس انداز سے بیان کیے گئے ہیں۔ سائنسی زاویہ سے بھی یہ باہم متوافق اور ہم آہنگ ہیں اور ان کے اندر گہرا تعلق سبب اور مسبب کا ہے۔ اور یہ تعلق ہی بتاتا ہے کہ اس کائنات کا ایک ایسا خالق ہے جو اس کے نظام کو نہایت ہی خوبصورتی اور حکمت سے ملارہا ہے اور وہ حکیم وقدیر ہے۔ ان سائنسی اور مشاہداتی حقائق کو اگر کھلی آنکھوں سے پڑھاجائے تو اس سے انسان کو حکمت و دانش کا ایک بہت بڑا پیغام ملتا ہے اور اس کے بعد پھر وہ ایک عظیم پیغام پاتا ہے اور اس کی یہ شہ سرخی لگتی ہے کہ ایک فیصلے کا دن آنے والا ہے۔ یہ تمام مخلوقات یہاں تمہارے استفادے کے لئے ہیں ، کھاﺅ اور پیو اور عیش کرو ، مگر ایک دن بھی آنے والا ہے ، یہ دن یوم الفصل ہے ، یہ دن فیصلوں کا دن ہے۔
Ayah 78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

” بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے

لوگ عبث پیدا نہیں کیے گئے اور نہ ہی وہ شتر بےمہار ہیں۔ ان کی زندگی کے اندازے اور نظام ، جس کا ذکر آیات ماقبل میں کیا گیا ہے ، اور پھر اس کائنات کا نظام جس میں وہ رہ رہے ہیں ، دونوں نظام پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، ان پر اچھی طرح غور کرنے کے بعد ہر دانش مند آدمی اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ انسان مہمل اور غیر ذمہ دار نہیں ہیں کہ زمین پر اچھے کام کریں یا برے کام کریں اور پھر مرکر مٹی ہوجائیں۔ راہ ہدایت پر ہوں یا راہ ضلالت پر ہوں ، ان سے پوچھنے والا کوئی نہ ہو ، زمین پر عدل کرلیا ، یا ظلم ، کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ بہرحال ایک دن فیصلے کا ضرور ہے ، جس دن تمام گزرے ہوئے معاملات کے فیصلے ہوں گے۔ یہ طے شدہ ، متعین دن ہے ، جس کے رسم اور قواعد طے شدہ ہیں اور اس کا وقت بھی اللہ کے ہاں طے شادہ ہے ۔ اور مقرر و متعین ہے۔ ان یوم .................... میقاتا (17:78) ” بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے “۔ اس دن اس کائنات کا نظام بدل جائے گا اور اس نظام کی بندش کھل جائے گی۔
Ayah 78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی ، تم فوج در فوج نکل آﺅ گے۔

یوم ینفخ ................................ سرابا (18:78 تا 20) ” جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی ، تم فوج در فوج نکل آﺅ گے۔ اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ صور سے مراد بگل ہے۔ ہم صرف اس کے نام سے واقف ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ اس میں پھونک ماری جائے گی۔ اس کی کیفیت کیا ہوگی تو اس میں ہمیں نہیں پڑنا چاہئے۔ اگر ہم اس کی تفصیلی کیفیت معلوم بھی کرلیں تو اس سے ہمارے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اللہ نے ہماری قوت فہم وادراک کو ایسے لاحاصل موضوعات پر کھپانے سے بچایا ہے اور جس قدر علم کی ضرورت تھی وہ ہمیں بتادیا ہے۔ پس ہم یہی سوچتے ہیں کہ ایک آواز ہوگی اور اس کے نتیجے میں سب انسان قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ہمارے ذہنوں میں یہ منظر آتا ہے کہ انسانی نسلیں فوج در فوج چلی آرہی ہوں گی۔ حالانکہ دنیا میں اللہ نے ایسا نظام قائم کیا تھا کہ اگلی نسلیں جاتی رہتی تھیں اور نئی نسلیں ان کی جگہ لیتی تھیں تاکہ یہ نہ ہو کہ زمین پر لوگوں کے رہنے کی جگہ ہی نہ رہے ، بہرحال ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ فوج درفوج ہر نشیب و فراز سے چلے آرہے ہوں گے۔ ایک ہی میدان میں ہوں گے۔ یہ چیونٹیوں کی طرح قبروں سے نکل رہے ہوں گے اور یہ اس قدر لوگ ہوں گے کہ نہ ان کا پہلا سرا معلوم ہوگا اور نہ آخری۔ اور یہ عظیم اجتماع دلوں کے اندر ایک خوف پیدا کررہا ہوگا کیونکہ کسی نے کبھی اس قدر عظیم اجتماع نہ دیکھا ہوگا اور نہ سوچا ہوگا اس لئے کہ یہ اجتماع قیامت کے دن ہی ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اس کا ہمیں علم ہیں ہے۔ کیونکہ کائنات کا یہ نظام تو تباہ کردیا جائے گا۔ عظیم حادثات اور انقلابات ہوچکے ہوں گے۔
Ayahs 78:19–20

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔

وفتحت .................... سرابا (20:78) ” اور آسمان کھول دیا جائے گا ، حتیٰ کے دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ یہ مضبوط آسمان کھول دیا جائے گا۔ یہ دروازے ہی دروازے ہوگا یعنی پھٹ کر اس میں دراڑیں پڑجائیں گی جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہوگی جس کا ہم پوری طرح تصور نہیں کرسکتے۔ بڑے بڑے پہاڑ چل پڑیں گے اور سراب بن جائیں گے۔ یعنی باہم فکر اگر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور ہوا میں بکھر جائیں گے۔ اور یوں نظر آئے گا جس طرح سراب۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ جس طرح سراب کا وجود نہیں ہوگا۔ اسی طرح پہاڑ غبار بن کر معدوم ہوجائیں گے اور یہ ذرات اس طرح روشنی کو منعکس کریں گے جس طرح سراب میں روشنی منعکس ہوتی ہے اور پانی نظرآتا ہے۔ غرض اس کائنات میں ہولناک تبدیلیاں ہوں گی۔ اور یہ انقلاب نفخ صور کے بعد ہوگا۔ یہ ہے فیصلے کا دن ، یہ مقدر ہے اور اللہ کی حکمت وتدبیر سے اس میں سب واقعات ہوں گے۔ اب نفخ صور کے متصلا رونما ہونے والے واقعات سے قدرے بعد میں آنے والے کچھ واقعات نیکوکاروں اور بدکاروں کے فیصلے کی ایک جھلک۔ لیکن پہلے ان لوگوں کا فیصلہ سنایا جاتا ہے جو بدکار ہیں۔
Ayahs 78:21–23

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

” درحقیقت جہنم ایک گھات ہے ،

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا ٹھکانا ،

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔

جہنم کو پیدا کردیا گیا ہے ، یہ موجود اور تیار ہے اور ایک انسان کی طرح گھات میں بیٹھی انتظار کررہی ہے اور یہ لوگ آتے ہیں اور اس میں گرتے ہیں اور وہ برابر ان کا استقبال کررہی ہے ، گویا زمین پر ان کی زندگی ایک سفر ہے اور یہ لوگ لوٹ رہے ہیں ، اپنی اصلی جائے رہائش کی طرف ، اور اس مرجع اور ماویٰ میں انہوں نے اب ابدالاباد تک رہنا ہے۔ یہ ایک طویل زندگی ہوگی اور زمانوں پر زمانے گزرتے چلے جائیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی۔
Ayah 78:24

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ نہ چکھیں گے ،

لا یذوقون ................ شرابا (24:78) ” اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ نہ چکھیں گے “۔ ہاں پینے کے لئے انہیں کچھ ملے گا ضرور۔ وہ کیا ہوگا ؟ بہت ہی تلخ اور مکروہ۔
Ayah 78:25

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوﺅن ،

الا حمیما وغساقا (25:78) ” کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوﺅن “۔ سخت گرم پانی جس سے ان کے حلق اور پیٹ جل بھن جائیں گے۔ یہ ان کے لئے ” ٹھنڈک “ ہے اور غساق وہ پانی جو جلے ہوئے لوگوں کے زخموں سے بہتا ہے یہ ہے ان کا مشروب۔
Ayah 78:26

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

(ان کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ۔

جزآء وفاقا (26:78) ” بھرپور بدلہ “۔ انہوں نے جو کچھ کمایا اور جو کچھ قیامت کے لئے ذخیرہ کرکے بھیجا اس کا پورا پورا بدلہ۔
Ayah 78:27

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے

انھم .................... حسابا (27:78) ” وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے “۔ اور نہ نیک وبد کے انجام کے واقع ہونے میں یقین رکھتے تھے۔
Ayah 78:28

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلادیا تھا ،

وکذبو .................... کذابا (28:78) ” اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلادیا تھا “۔ ان الفاظ کے ترنم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تکذیب میں شدید تھے اور تکذیب پر مصر تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا ریکارڈ تیار کررہا تھا۔ اور یہ اس قدر کامل و شامل ریکارڈ تھا کہ اس سے کوئی بڑی چھوٹی چیز چوک نہ سکتی تھی۔
Ayah 78:29

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور حال یہ تھا کہ ہم ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی۔

وکل .................... کتبا (29:78) ” اور حال یہ تھا کہ ہم ہر چیز گن گن کر لکھ رہے تھے “۔ اس لئے اب یہاں ان کو سخت ملامت کی جاتی ہے۔
Ayah 78:30

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

اب چکھو مزہ ، ہم تمہارے لئے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے “۔

فذوقوا .................... عذابا (30:78) ” اب چکھو مزہ ، ہم تمہارے لئے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے “۔ اب مقابل کا منظر پیش ہوتا ہے۔ یہ اہل تقویٰ اور ان نعمتوں کا منظر ہے جس میں وہ مزے سے رہ رہے ہیں۔ باغیوں اور نافرمانوں کے بعد یہ بھی ضروری تھا کہ ایک جھلک ان کی بھی دکھادی جائے۔
Ayah 78:31

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

” یقینا متقیوں کے لئے کامرانی کا ایک مقام ہے ،

پہلے منظر میں جہنم آراستہ و پیراستہ تھی۔ کفار کے ٹھکانے کے طور پر اور وہ یوں گھات میں تیار بیٹھی تھی جس طرح ایک شکاری گھات میں بیٹھتا ہے۔ اور ایک ایک شکار کرتا ہے۔ اسی طرح جہنم سے بھی کوئی بچ کر نہ نکل سکتا تھا۔ اس منظر میں یوں نظر آتا ہے کہ اہل جنت نجات اور کامیابی کے مقام پر فائز ہوچکے ہیں۔ اور یہ نجات اور کامیابی کی جگہ۔
Ayahs 78:32–33

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ اور انگور ،

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوخیز ہم سن لڑکیاں

حدآئق واعنابا (32:78) ” باغ اور انگور “۔ کی صورت میں ہے ۔ اور انگور کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے لیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ کو اعب کے معنی ہیں ایسی نوخیز نوجوان لڑکیاں جن کی پستان گول ہوں اور اتراب کے معنی حسن و جمال اور مادہ سال کے لحاظ سے ہم سن۔
Ayah 78:34

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور چھلکتے ہوئے جام۔

وکاسا دھاقا (34:78) ” اور جھلکتے ہوئے جام “ یعنی لبریز۔ ان انعامات کی ظاہری شکل و صورت حسی ہے اور ان کا ذکر جن چیزوں کا نام لے کر کیا گیا ہے وہ اس لئے تاکہ مفہوم لوگوں کے فہم کے قریب آجائے۔ رہی ان کی حقیقت تو اہل زمین کے لئے اس کا ادراک ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان کی فہم وادراک زمین کے تصورات کے اندر مقید ہے اور ان کے عمومی اور معنوی حالات اسلامی ذوق وضمیر کے مطابق ہوں گے۔ ایک مسلمان ان کا شعور رکھتا ہے کہ۔
Ayah 78:35

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے۔

لا یسمعون ................ کذبا (35:78) ” وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے “۔ یعنی دو ایسی زنگی بسر کررہے ہوں گے کہ اس میں کوئی لغو بات نہ ہوگی۔ اور اس میں کوئی جھوٹ نہ ہوگا کیونکہ جھوٹ پر بالعموم جنگ وجدال کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے وہاں حقائق کھلے ہوں گے اور کسی کو بحث ومباحثے کا موقعہ نہ ہوگا۔ نہ ایسی باتیں وہاں ہوں گی جو بےفائدہ ہوں اور ان میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ یہ صورت حالات اس جہان کے لئے مناسب ہے جو دارالخلد ہے۔
Ayah 78:36

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

جزاء اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے “۔

جزآء ................ حسابا (32:78) ” جزاء اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے “۔ یہاں انداز تعبیر کی رعنائی اور پر ترنم آواز اور جزاء اور عطا کی تقسیم قابل ملاحظہ ہے۔ اور فواصل اور قوافی میں شدت اور صوتی ہم آہنگی اس پورے پارے میں ایک مخصوص انداز ہے اور بہت ہی خوبصورت۔ اس دن کے مناظر جس کے بارے میں سوال کرنے والے سوال کرتے ہیں جس کے بارے میں اختلاف کرنے والے اختلاف کرتے ہیں اب ختم ہوتے ہیں اور ان کے خاتمے پر لفظی اور معنوی اعتبار سے خوبصورت منظر ملاحظہ کیجئے ، جس میں جبرئیل (علیہ السلام) اور دوسرے فرشتے صف بستہ کھڑے ہیں۔ یہ سب رحمن کے سامنے کھڑے ہیں ، ان میں سے صرف وہی بات کرسکتا ہے جسے اجازت ہو۔ ایک ہیبت ناک اور خوفناک موقف ہے۔
Ayahs 78:37–38

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

” اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ، جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے “۔

یہ جزاء وسزا جو اہل تقویٰ اور اہل ضلالت کے لئے ، اس سے قبل مفصل طور پر بیان ہوئی ، یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ اور رب السموت ........................ الرحمن (37:78) ہے (اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے) اس آخری ٹچ اور اس عظیم حقیقت کے بیان کے لئے اب یہ مناسب وقت ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کی ربوبیت زمین و آسمانوں پر حاوی ہے ، اس کے اندر یہ دنیا بھی ہے اور آخرت بھی ہے۔ یہ اہل تقویٰ کو جزاء دیتی ہے اور اہل ضلالت اور بدکاروں کو سزا دیتی ہے اور دنیا وآخرت کے تمام فیصلے اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہی۔ پھر یہ ربوبیت نہایت رحیمانہ ہے۔ یہ جزاء بھی اس کی رحمت کا نتیجہ ہے اور سزا بھی اس کی رحمت کا تقاضا ہے۔ یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ سرکشوں کو جہنم میں جلایا جائے۔ کیونکہ یہ عین رحمت ہے کہ شر کو سزا ملے اور خیروشر برابر نہ ہوں ورنہ یہ تو ظلم ہوگا۔ پھر یہ رحمت اپنے اندر جلال لئے ہوئے ہے۔ اس خوفناک دن میں اس دربار رحمت میں کوئی بات نہ کرسکے گا۔ جبرائیل (علیہ السلام) اور دوسرے سربرآور دو فرشتے بھی صف بستہ خاموش کھڑے ہوں گے۔ صرف اجازت سے کچھ عرض کرنا ہوگا اور بات ہوگی۔ لیکن بات بھی درست ہوگی ورنہ رحمن تو دل کی بات جانتا ہے ، بری بات کہنے کی اجازت ہی نہ ہوگی۔ یہ منظر کہ بےگناہ لوگ اور سرکردہ فرشتے بھی اس بارگاہ میں خاموش کھڑے ہی ، کوئی شخص بات بھی نہیں کرتا ، سا ہواکھڑا ہے ، فضا پر رعب ، خوف ، جلالت اور وقار کے گہرے بادل پھیلا دیتا ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ خوف کے بادل چھائے ہوئے ہوں ، دنیا کے غافلوں اور بری راہوں پر سرپٹ بھاگنے والوڈ کو ایک بار پھر ڈرایا جاتا ہے ، ایک زبردست چیخ آتی ہے اور مدہوش لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

” وہ دن برحق ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے۔

یہ ایک شدید جھٹکا ہے ، ان لوگوں کو نہایت شدت سے جھنجھوڑا جاتا ہے جو اس حق دن کے بارے میں شک میں مبتلا تھے اور تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے تھے۔ ذلک الیوم الحق (39:78) ” وہ دن برحق ہے “۔ لہٰذا اس کے بارے میں شکی سوالات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لوگو ! ابھی فرصت کے اوقات موجود ہیں ، مہلت ملی ہوئی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاﺅ۔ فمن شآء اتخذالی ربہ مابا (39:78) ” جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے “۔ قبل اس کے کہ جہنم گھات لگا کر بیٹھے اور تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے۔ یہ سخت ڈراوا ہے ۔ اگر کوئی خواب خرگوش میں بھی ہو ، وہ بھی بیدار ہوسکتا ہے۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے۔ جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش وہ خاک ہوتا “۔

انا ................ قریبا (40:78) ” ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے “۔ وہ دور نہیں ہے۔ یہ جہنم کا عذاب ہے جو تمہارے انتظار میں ہے۔ جیسا کہ اس منظر میں تم نے دیکھ لیا۔ یہ دنیا تو ایک مختصر سفر ہے اور عمر کی کشتی ساحل پر لگنے ہی والی ہے۔ یہ اس قدر شدید عذاب ہوگا کہ کافر اپنے وجود ہی سے بیزار ہوگا اور اس بات کو پسند کرے گا کہ اے کاش اسے معدوم ہی کردیا جائے۔ یوم ینظر .................... ترابا (40:78) ” جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش وہ خاک ہوتا “۔ یہ وہ نہایت تنگ دل اور مایوسی کہے گا۔ اب فضا پر خوف اور ندامت کے بادل چھا جاتے ہیں کہ زندہ انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ معدوم ہوجائے اور خاک و غبار بن جائے۔ وہ اپنے معدوم ہونے ہی کی صورت میں اپنے آپ کو اس خوفناک عذاب سے بچا سکتا ہے۔ یہ ہوگا ان لوگوں کا موقف جو آج اس عظیم حقیقت اور شہ سرخیوں والی حقیقت کے بارے میں تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے ہیں اور شبہات اٹھاتے ہیں۔