79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 79:1–2

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے (ف 1) فرشتوں کی ان جماعتوں کی جو (کافروں کی ) جان سختی سے نکالتے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور جو (مسلمانوں کی ) نرمی سے بندکھولتے (یعنی آسانی سے جان نکالتے) ہیں

سختی اور آسانی سے جان نکالنے کا ذکر۔ (ف 1) سورة نازعات مکیہ ہے اس میں دورکوع چھیالیس آیتیں ایک سوستانوے کلمے، سات سوترپین حروف ہیں۔
Ayahs 79:3–4

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور (ف 1) ان کی جو (روحیں لے کر) تیرتے ہوئے چلتے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

ان کی جو سبقت کرتے ہیں

(ف 1) امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان لفظوں کی تفسیر سختی اور صانی سے جان کھینچے والے فرشتوں کی جو قرار دی ہے یہی تفسیر صحیح حدیثوں کے مضمون کے موافق ہے اور ابوداؤد کی روایتوں میں جو النازعات اور الناشطات کی پوری تفسیر ہے ۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا فرمانبردار لوگوں کی قبض روح کے وقت اچھی شکل کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے نیک روح اللہ کی رضامندی اور مغفرت کی ہم تجھ کو خبر دیتے ہیں جلدی سے جسم کو چھوڑ دے، یہ خوش خبری سن کر وہ نیک روح جسم کو چھوڑ کر اس طرح آسانی سے نکل جاتی ہے جس طرح مشک کا دہانہ کھول دینے سے مشک کا پانی نکل جاتا ہے اسی طرح نافرمان لوگوں کی قبض روح کے وقت خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں اے بدروح جسم سے نکل خدا کے غضب سے تیرا سامنا پڑنے والا ہے ، یہ خوفناک خبر سن کر وہ آدمی کے جسم میں جگہ جگہ چھپتی پھرتی ہے اور فرشتے اس کو کھینچتے ہیں آخر بڑی دشواری سے جسم کو چھوڑتی ہے یعنی جو فرشتے روحوں کو لے کر زمین سے آسمان کی طرف اس سرعت و سہولت سے چلتے ہیں گویا بےروک ٹوک پانی پر تیر رہے ہیں پھر ان ارواح کے باب میں جو خدا کا حکم ہوتا ہے اس کے امتثال کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑکرآگے بڑھتے ہیں۔
Ayah 79:5

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر (ف 2) ان کی جو ہر کام کی تدبیر کرتے ہیں جو کچھ کہا جاتا ہے ہونے والا ہے

(ف 2) یعنی اس کے بعد ان ارواح کے متعلق ثواب کا حکم ہو یا عذاب کا، دونوں امروں میں سے ہر امر کی تدبیر وانتظام کرتے ہیں یامطلقا وہ فرشتے مراد ہوں جو عالم تکوین کی تدبیر وانتظام پر مسلط ہیں۔
Ayahs 79:6–9

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس دن (ف 3) ہلا دینے والی چیز ہلاڈالے گی (یعنی نفخہ اولی)

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (یعنی نفخہ ثانیہ)

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی

حشر کا ذکر۔ (ف 3) اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقینی ہوتی ہے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ ہوگا کہ زمین اور پہاڑ جنبش میں آئیں گے پہلاصور جب پھونکاجائے گا اس وقت روحیں بدن سے جدا ہوجائیں گی اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، پھر اس کے بعد دوسرا صور پھونکاجائے گا اس وقت پھر ارواحیں قالب میں آئیں گی اور نئے سرے سے عالم ایک ارعالم میں ظاہر ہوگا، بہت دل اس دن خوف زدہ ہوں گے اور نظریں مارے دہشت کے جھک رہی ہوں گی غرض یہ کہ عاقل ہر وقت خوف زدہ رہے کہ ایسا نہ ہوا کہ میں بھی اس دن مصیبت میں آجاؤں، اور تکلیف کی شدت سے متحیر ہوجاؤں۔
Ayahs 79:10–12

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

کافر کہتے ہیں (ف 1) کہ کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے ؟

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب ہم گلی ہوئی ہڈیاں ہوجائیں گے پھر زندہ ہوں گے

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

وہ بولے ہمارا اس وقت لوٹنا نقصان دینے والا ہوگا

(ف 1) یعنی کافر کہتے ہیں کہ کیا مر کر پھر ہم الٹے زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ گلی ہوئی ہدیوں میں دوبارہ جان پڑجائے گی ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لیے بڑے ٹوٹے اور نقصان دینے والی ہوگی، کیونکہ ہم نے اس زندگی ک لیے کوئی سامان نہیں کیا، یہ تمسخر سے کہتے تھے یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں نقصان اور خسارہ کا ذکر
Ayahs 79:13–14

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

پس سوائے (ف 2) اس کے نہیں کہ وہ واقعہ ایک ہیبت ناک آواز ہے

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

پس ناگہاں وہ (زندہ ہوکر) کھلے میدان میں آموجود ہوں گے

(ف 2) یعنی یہ لوگ اسے بہت مشکل کام سمجھ رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں یہ سب کام دم بھر میں ہوجائیں گی جہاں ایک صورت پھونکا اسی وقت بلاتوقف سب اگلے پچھلے میدان حشر میں کھڑے دکھائی دیں گے۔
Ayahs 79:15–26

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا تمہیں (ف 3) موسیٰ کی خبر آئی

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جبکہ اسے اس کے رب نے ایک پاک میدان میں جس کا نام طوی ہے ندا فرمائی

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ تم فرعون کی طرف جاؤ کیونکہ وہ (کفر و فساد میں) حد سے گزر گیا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

پس اس سے کہو کہ کیا تجھ کو اس بات کی رغبت ہے ؟ کہ تو (کفر وشرک سے) ستھر اہوجائے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہ دکھاؤں کہ تو (اس عذاب سے) ڈرے

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی نبوت کی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

پس اس پر اس نے (موسی کو) جھٹلایا اور نافرمانی کی

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پس پیٹھ پھیری اس کے خلاف تدبیر کرتا ہوا

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

پھر لوگوں کو جمع کیا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

پھر (ان کے سامنے ) باآواز بلند تقریر کی پھر کہا میں تمہارا رب سب سے بڑا ہوں

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑ لیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک اس (واقعہ ) میں نصیحت ہے اس کے لیے جو ڈرے

(ف 3) اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر کفار کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرج سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہے یہ قصہ کئی جگہ مفصل گذرچکا ہے اور اسی طرح تنبیہ کے مطلب کو اللہ نے سورة الم سجدہ میں فرمایا ہے۔
Ayah 79:27

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا (ف 1) تمہارا (مرنے کے بعد دوسری مرتبہ ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا جس کو اللہ نے بنایا

عجائبات قدرت خداوندی۔ (ف 1) یعنی تمہارا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ کرچکنے کے بعد آسمان و زمین اور پہاڑوں کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل تو نہیں جب اتنی بڑی بڑی چیزوں کا خالق اس کو مانتے ہو پھر دوبارہ پیدائش میں کیوں تردد ہے۔
Ayah 79:28

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی (ف 2) چھت اونچی کی پھر اس کو درست کیا۔

(ف 2) یعنی آسمان کو خیال کرو کس قدر اونچا کتنا مضبوط کیسا صاف ہموار، اور کس درجہ مرتب ومنظم ہے کس قدر زبردست انتظام اور باقاعدگی کے ساتھ اس کے سورج کی رفتار سے رات دن کا سلسلہ قائم کیا ہے رات کی اندھیری میں اس کا سماں کچھ اور ہے اور دن کے اجالے مین ایک دوسری ہی شان نظر آتی ہے۔
Ayahs 79:29–30

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی (آفتاب کو ظاہر فرما کر) چمکائی (ف 1) ۔

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

آسمان کے پیدا کرنے کے بعد زمین کو ہموار کیا

(ف 1) ابن عباس سے منقول ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے فرمائی گئی تھی مگر یکساں اور ہموار نہ کی گئی تھی ۔
Ayah 79:31

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اس (ف 2) میں سے (چشمے جاری فرماکر) اس کا پانی اور چارہ نکالا (ف 3)

(ف 2) زمین کا پانی نکالنے سے مطلب یہ ہے کہ دریا اور ندیاں اور چشمے جاری کیے پھر پانی سے سبزہ پیدا کیا۔ (ف 3) یعنی اپنی جگہ سے جنبش نہیں کھاتے اور زمین کو بعض خاص قسم کے اضطرابات سے محفوظ رکھنے والے ہیں پہاڑوں کا ذکر مفصل اوپر کئی جگہ گذرچکا ہے۔
Ayahs 79:32–33

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو قائم کردیا (ف 4)

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے

(ف 4) یعنی یہ انتظام نہ ہو تو تمہارا اور تمہارے جانوروں کا کام کیسے چلے ان تمام اشیاء کا پیدا کرنا تمہاری حاجت روائی اور راحت رسائی کے لیے ہیے چاہیے کہ اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرتے رہو، اور سمجھو کہ جس قادر مطلق اور حکیم برحق نے ایسے زبردست انتظامات کیے ہیں کیا وہ تمہاری بوسیدہ ہڈیوں میں روح نہیں پھونک سکتا، لازم ہیے کہ آدمی اس کی قدرت کا اقرار کرے۔ اور اس کی نعمتوں کی شکر گزاری میں لگا رہے۔