Ayahs 78:1–5قیامت کے بارے میں عقلی دلائل اور قدرت کے انمول عجائبات و احسانات۔
(ف 1) اگرچہ مجاہد کا قول یہ ہے کہ مجاہد کا قول ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے ، آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے اس لیے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے، اس واسطے حافظ ابن کثیر نے اس قول کو ترجیح دی ہے حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ نبی ﷺ وصحابہ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے گی پھر اس خاک کا پتلا کیونکر بن جائے گا کبھی کہتے تھے کہ آگ میں زقوم کاپیڑ کیونکر ہوگا کبھی کچھ کہتے تھے کبھی کچھ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ ان کے بڑے بوڑھے ان کی آنکھوں کے روبرو دنیا سے اٹھ گئے اس لیے یہ تو ان کو معلوم ہے کہ ایک دن یہ بھی مرجائیں گے کیونکہ دنیا ہمیشہ نہیں رہنے والی اور دنیا کے فنا ہونے کے بعد آخرت کی یہ سب باتیں ان منکروں کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گی اور اس وقت ان کو ان باتوں کا یقین آئے گا، اس وقت کا یقین ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا، رہی یہ بات کہ آخرت کی باتیں ان کی عقل میں نہیں آتیں، ایک بوند پانی سے انسان کا پیدا ہوجانا اور دنیا کے ہزارعجائبات کیا یہ سب انسان کی عقل میں آنے کی باتیں ہیں پھر جس نے دنیا میں آنکھوں کے سامنے کے خلاف عقل عجائبات کو پیدا کرکے دکھادیا اور وہ آخرت میں بھی خلاف عقل عجائبات پیدا کرنے پر قادر ہے اور دنیا کے عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے اور تجربہ کرلینے کے بعد اس کی اس قدرت کا انکار کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے، کسی بات کی تاکید منظور ہوتی ہے تو اس کو دودفعہ کہا جاتا ہے ، جیسے مثلا سانپ نکلنے کے وقت سانپ سانپ دوفعہ کہتے ہیں، اس واسطے کلا سیعلمون کو دودفعہ فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے جن باتوں کو خلاف عقل سمجھ کر یہ لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں قریب ہے کہ مرتے ہی ان باتوں کو ضرو ریہ لوگ خوب اچھی طرح جان لیں گے۔
Ayahs 78:6–11(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا کہ اگر ان کو ہماری قدرت میں انکار ہے تو ہمارے کارخانہ کو ذراغور کی نظر سے دیکھیں دیکھو کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا نہیں بنایا تمہارا مرنا جینا کاروبار سب اسی کے ـذریعہ سے ہے اسی طرح دیکھو کہ کیا ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی مانند گڑا ہوا نہیں بنایا اور ان کفار سے ہم کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارے نرومادہ کو جو ہم نے جوڑا بنایا ہے کیا یہ ہماری قدرت کی دلیل نہیں ہے اور تمہاری راحت کا سامان نیند کو بنایا کہ سونے کے بعد سب محنت ومشقت جاتی رہتی ہے اور رات کو تمہارے حق میں پردہ پوش بنایا جو عبادت کرنے والے ہیں ان کے حق میں رات بےریا عبادت حاصل ہونے کا سبب ہے جو عشاق جانباز ہیں ان کے راز ونیاز کی خلوت گاہ ہے۔ اور ان کو تمہارے لیے طلب معیشت کا وقت بنایا کوئی تجارت کرتا ہے کوئی زراعت کوئی پیشہ وری کرتا ہے کوئی نوکری وغیرہ وغیرہ کرتا ہے۔
Ayahs 78:12–16(ف 2) زمین کی عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے کہ دیکھو ہم نے تمہارے سروں پر سات درجے کی ایک مضبوط چھت بنائی ، اس کی مضبوطی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہارے کھڑی ہیں اور اس میں سات ستارے ایسے ہیں کہ ہر مومن کافر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے واسطے ایک روشن چراغ بنایا یعنی آفتاب کہ ہر شخص اس کی روشنی اور گرمی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دیکھو ہم نے تمہارے لیے بادلوں سے بہت مینہ اتارا، یہ کام ہم نے اس لیے کہ تمہارے لیے اناج پیدا کریں، اور نباتات جس میں سے بعض ساگ وغیرہ تمہارے کام ہیں اور بعض چارہ وغیرہ تمہارے جانوروں کا اور اس پانی سے ہم نے گنجان درختوں کے باغ لگائے تاکہ تم میوہ کھاؤ اور لذت اٹھا، یہ سب قدرت کی عظیم الشان نشانیا ؓ بیان فرما کر بتلا دیا کہ جو خدا ایسی قدرت و حکمت والا ہے کیا اسے تمہارا دوسری مرتبہ پیدا کرنا اور حساب کتاب کے لیے اٹھانا کچھ مشکل ہوگا اور کیا یہ بات اس کی حکمت کے منافی نہ ہوگی، کہ اتنے بڑے کارخانہ کو یوں ہی خلط ملط بےنتیجہ پڑاچھوڑ دیاجائے یقینا دنیا کے اس طویل سلسلہ کو کوئی صاف نتیجہ اور انجام ہونا چاہیے اسی کو ہم آخرت کہتے ہیں ، جس طرح نیند کے بعد بیداری اور رات کے بعد دن آتا ہے ایسے ہی سمجھ لو کہ دنیا کے خاتمہ پر آخرت کا آنا یقینی ہے ۔
Ayah 78:17(ف 1) جس طرح مینہ سے چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ بسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونک کر ان جسموں میں روحیں پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گی ، صحیح بخاری ومسلم میں روایت ہیں ان میں اس حشر سے پہلے مینہ برسنے کا ذکر ہے اگرچہ نیکی وبدی کا فیصلہ دوسرے صور کے اور اس صورت سے لوگوں کے قبروں سے اٹھنے کے بعد ہوگا لیکن دنیا کا پیدا کیا جانا، مرنے کے بعد پھر زندہ کیا جانا، یہ سب کچھ نیک وبد کی جانچ اور اس کے فیصلے لیے لیے ہے اس لیے اس فیصلہ کا اہتمام زیادہ فرما کر اس کا ذکر صور سے پہلے فرمایا اور یہ تو سورة زمر میں گذرچکا ہے۔ کہ پہلے صور کے پھونکنے سے تمام دنیا اجڑ جائے گی اور دوسرے صور کے پھونکنے سے سب جی اٹھیں گے ان آیتوں میں منکرین حشر کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس لیے مختصر طور پر فقط دوسرے ہی صور کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ جو کچھ دوسرے صورت کے وقت ہوگا منکرین حشر اس کے ہی منکر تھے اور اس یوم الفصل کا تعین اللہ کے علم میں ٹھہرایا ہوا ہے۔
Ayah 78:18قیامت کا ذکر اور امت مصطفیٰ کی کثرت۔
(ف 1) صحیح مسلم میں حضرت انس سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی نبی کے پیرو اس قدرکثرت سے نہ ہوں گے جس قدر کثرت سے میرے پیروہوں گے اور مستدرک حاکم و طبرانی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی معتبر سند سے جو روایتیں ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ کسی نبی کے پیرو نہیں بلکہ اغوائے شیطانی سے کوئی گروہ بتوں کی اور کوئی سورج اور چاند وغیرہ کی پوجا کرتا ہے ان لوگوں کے گروہ قیامت کے دن الگ الگ بن جائیں گے غرض ان حدیثوں کے موافق گروہ کرے گروہ اللہ کے روبروجانے کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑے یا بہت جس قدر لوگ نبی کے پیرو ہوں گے توہ اپنے اپنے نبی کے ساتھ ہوں گے اور باقی لوگوں کی جماعتیں الگ الگ ہوں گی۔
Ayah 78:19(ف 2) آسمان کے کھل جانے اور اس میں دروازے ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ محشر کے میدان میں طرح طرح کے انتظام کے لیے بہت سے فرشتے آسمان سے اتریں گے جن کے اترنے کے لیے بہت سے دروازوں کی طرح کے راستے آسمان میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے بن جائیں گے۔
Ayah 78:20(ف 3) یعنی چمکتی ریت پر دور سے پانی کا گمان ہوجاتا ہے ایسے ہی پہاڑوں کا گمان ہوگا حالانکہ وہ واقع میں پہاڑ نہیں ہوں گے محض ریت کے تو دے رہ جائیں گے۔
Ayahs 78:21–30دوزخ اور اہل دوزخ۔
(ف 4) دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے انتظار میں ہیں یا یہ کہ دوزخ سرکشوں کے لیے انتظار میں ہے اور دوزخ کافروں کے لیے مکین گاہ ہے اور سرکشوں کا وہ ٹھکانہ ہے اور وہ دوزخی دوزخ میں مدت رہیں گے جن کا کوئی شمار نہیں قرن پہ قرن گذرتے چلے جائیں گے اور ان کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا، نہ ان کو کچھ کس طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے اور گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس سے پیاس بجھاسکیں بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا وجزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی فہمائش کے اس انکار پر ان کو اصرار تھا اور وہ انکار اور اصرار سب کچھ دفتر الٰہی میں لکھاجاتا تھا اس لیے اس انکار اور اصرار کی سزا ان پر دن بدن عذاب بڑھتا اور بدلتا رہے گا، اسی کو جزاء وفاقا۔ فرمایا ہے کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ان کے اعمال ویسی ہی ان کی سزا۔
Ayahs 78:31–36جنت اور اہل جنت اور جنت صرف فضل خداوندی سے ملے گی۔
(ف 1) اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے جو شرک و فواحش سے بچتے ہیں ان کو دوزخ سے نجات ہے اور اللہ سے قرب اور باغات ہیں جن کے گرد احاطے بنے ہیں کھجور وغیرہ کے اور انگور کے باغات ہیں اور نوخاستہ عورتیں جن کی جوانی پورے ابھار پر ہوگی ، اور سب ایک ہی سن وسال کی ہوں گی اور ان کو وہاں جام پر از شراب ناب پے درپے ملیں گے اور وہاں کوئی لغو اور جھوٹ بات نہ سنیں گے یعنی دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی بلکہ یاد خدا اور زائد ہوگی، یہ ان کو اچھے کاموں کا بدلہ ملے گا، کہ تھوری سی عمر کے نیک عملوں کے بدلہ میں اللہ کی دنیا کی بےشمارنعمتوں کی شکرگزاری کو پروا کرکے جنت کی اسقدر بےحساب نعمتیں کون پاسکتا ۔
چنانچہ واثلہ بن الاسقع سے مستدرک حکم وغیرہ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں ایک عابد تھا جس نے مدتوں ایک پہاڑ پر بیٹھ کر عبادت کی تھی ، قیامت کے دن اللہ اس عابد سے فرمائے گا کہ میری رحمت کے سبب سے جا جنت میں چلا جاوہ عابد کہے گا یا اللہ میرے نیک عملوں کا بدلہ کہاں ہے، اللہ تعالیٰ اس فرشتوں سے فرمائے گا، اچھا اس کے نیک عملوں کا ان نعمتوں کے ساتھ تول کر اندازہ کیا جائے، جو نعمتیں اس کو دنیا میں دی گئی تھیں، اس اندازہ میں عابد کے سب نیک عمل فقط آنکھوں کی نعمت کے بدلے میں برابر ہوجائیں گے آخرقائل ہوکر وہ عابد اللہ کی رحمت سے جنت میں جانے کا اقرار کرے گا، حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ان ہی نعمتوں کا شکریہ آدمی کے ذمہ ہونے سے صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے کوئی شخص جنت میں نہیں جاسکتا، عطا کے ساتھ حساب کا لفظ جو فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حساب بھی ایک عطا ہے کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ کہرا ہونے کی جگہ دس سے لے کر سات سو تک کبھی اس سے بھی زیادہ کا حساب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ٹھہرایا ہے جس کا ذکر صحیح حدیثوں میں آیا ہے۔
Ayahs 78:37–40شفاعت کا ذکر اور وقوع قیامت کا عقلی تقاضا۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی ہے کہ زمین وآسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو چاہے عطا کے طور پردے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمناسامنا ہوگا، تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا، اور اس دن بنی آدم اور ملائکہ اللہ کے روبرو وصف باندھ کر کھڑے ہوں گے یہ ذکر اس وقت کا ہے، جب اللہ تعالیٰ نیک وبد کے فیصلہ کے لیے آسمان سے زمین پر میدان محشر میں نزول فرمائے گا، اور لوگ سورج کی گرمی اور پسینہ سے گھبرائیں گے اور حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک سب انبیاء کے پاس حساب کتاب شروع ہوجانے کے لیے جائیں گے اور کسی نبی پر جرات اور طاقت نہ ہوگی کہ اللہ سے بات کرے ، آخر خاتم النبین محمدرسول اللہ کو بات کرنے کا حکم ہوگا، اور آپ کی شفاعت سے سب لوگوں کا حساب کتاب شروع ہوجائے گا، پھر فرمایا جس دن کے حساب کتاب اور عذاب سے ان لوگوں کو ڈرایاجاتا ہے اس دن کا پیش آنا ایسا یقینی ہے کہ اور اس کی صداقت ایسی ایک حق بات ہے کہ جس کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا، کس لیے کہ جن آیات قرآنی میں قیامت کے آنے کا ذکر ہے ان آیتوں کو یہ قیامت کے منکر لوگ محض ہٹ دھرمی سے جھٹلا رہے ہیں اگر اس ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر اپنی آنکھوں کے سامنے کے انتظام دنیا پر بھی یہ لوگ ذراغور کریں تو ان کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آسکتی ہے کہ کود موجود انتظام اس کا مقتضی ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد قیامت جیسے ایک دن کی سخت ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں بہت سے نیک لوگ ایسے ہیں کہ عمر بھر دنیا کی اکثر راحتوں سے محروم رہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ دنیا کی ہر طرح کی راحت میں ان کی ساری زندگی بسر ہوئی ، اب دنیا کے چھوٹے چھوٹے حاکم وآقا تو اس بات کو بڑی ناانصافی کہتے ہیں کہ نیک وبد نوکر یا غلام کو ہمیشہ ایک حالت میں رکھاجائے اس حاکم، اس حاکم احکم الحاکمین کے انصاف پر یہ دھبہ کون لگاسکتا ہے۔ کہ اس کی بارگاہ میں نہ نیکی کا کچھ ثمرہ ، نہ بدی کی کچھ پرسش ، پھر فرمایا جب قیامت کا آنا یقین ہے تو آدمی کو چاہے کہ اس دن خدا کو اچھی طرح منہ دکھانے کے ارادہ سے جہاں تک ہوسکے نیکی کرے اور جس عذاب سے اس کو ڈرایا گیا ہے اس سے ڈر کر برے کاموں سے پرہیز کرے اور یہ خوب جان لو کہ یہ دنیا میں نیک وبد جو کچھ کرے گا، اس دن وہ سب اس کے سامنے آنے والا ہے، دورز نامچہ نویس خدا کی طرف سے ہر ایک شخص پر مقرر ہیں۔ رات دن انسان کے ہر قول فعل کو لکھ لینا یہی ان کا کام ہے۔
پھر فرمایا جو کوئی اس فہمائش کے بعد بھی عقبی کے انکار پر اڑے گا تو اس کو وہاں ایسا پچھتاوا ہوگا کہ وہ عذاب کی سختی کے خیال سے یہ آروز کرے گا کاش وہ خاک ہوجائے تو اچھا ہوتا۔ صحیح مسلم ترمذی، مسند امام احمد میں جو حضرت ابوہریرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن یہاں تک انصاف ہوگا، کہ اگر کوئی سینگ والاجانور بغیر سینگ والے جانور کو مار بیٹھے گا تو اس سے بدلہ لیاجائے گا۔ بہیقی تفسیر ابن جریر ابن ابی ھاتم کی روایتوں میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس بدلہ کے بعد سب جانوروں کو خاک ہوجانے کا حکم ہوگا، اور وہ خاک ہوجائیں گے جانوروں کی یہ حالت دیکھ کر حشر کے منکر لوگ یہ آرزو کریں گے کہ وہ بھی اسی طرح خاک ہوجاتے تو اللہ کے عذاب سے بچ جاتے۔