79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 79:1–5

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (کافروں کی روح) سختی سے کھینچتے ہیں۔ (1)

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور جو (مومنوں کی روح کی) گرہ نرمی سے کھول دیتے ہیں۔

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

پھر (فضا میں) تیرے ہوئے جاتے ہیں۔

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر تیزی سے لپکتے ہیں۔

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر جو حکم ملتا ہے اس (کو پورا کرنے) کا انتظام کرتے ہیں۔

1: قرآن کریم میں اصل لفظ صرف اتنا ہے کہ ”قسم ان کی جو سختی سے کھینچتے ہیں“ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد روح قبض کرنے والے فرشتے ہیں جو کسی کی (اور عام طور سے کافروں کی) روح کو سختی سے کھینچتے ہیں، اور کسی کی (اور عام طور سے مومنوں کی) روح کو آسانی سے اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے کوئی گرہ کھول دی ہو۔ پھر وہ ان روحوں کو لے کر تیرتے ہوئے جاتے ہیں، اور جلدی جلدی ان کی منزل پر پہنچا کر ان احکام کے مطابق ان کا انتظام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ پہلی چار آیتوں کا یہی مطلب ہے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے حالات بیان فرمائے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔ پیچھے گذر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن عربی بلاغت کے قاعدے سے بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں اور عام طور سے جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے، وہ اس دعوے پر گواہ ہوتی ہے جو بعد میں بیان ہورہا ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس بات کے گواہ ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے روح قبض فرماتا ہے، اسی طرح فرشتوں سے صور پھنکوا کر انہیں دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے۔
Ayah 79:6

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

کہ جس دن بھونچال (ہر چیز کو) ہلا ڈالے گا۔ (2)

2: اس سے مراد پہلا صور ہے۔ جب وہ پھونکا جائے گا تو ہر جان دار کو موت آجائے گی، اور پوری کائنات زیر و زبر ہوجائے گی۔
Ayahs 79:7–9

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک اور جھٹکا آئے گا۔ (3)

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔

3: اس سے مراد پہلا صور ہے۔ جب وہ پھونکا جائے گا تو ہر جان دار کو موت آجائے گی، اور پوری کائنات زیر و زبر ہوجائے گی۔
Ayahs 79:10–11

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

یہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کہ : کیا ہم پہلی والی حالت پر لوٹا دیئے جائیں گے ؟ (4)

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہوں گے ؟

4: یعنی کیا ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس لایا جائے گا۔
Ayahs 79:12–15

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ : اگر ایسا ہوا تو یہ بڑے گھاٹے کی واپسی ہوگی۔ (5)

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بس ایک زور کی آواز ہوگی۔

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

جس کے بعد وہ اچانک ایک کھلے میدان میں ہوں گے۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تمہیں موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟

5: مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں واقعی دوبارہ زندہ کیا گیا تو یہ ہمارے لیے گھاٹے کا سودا ہوگا، کیونکہ اس دوسری زندگی کے لیے ہم نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی ہے۔
Ayahs 79:16–19

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب ان کے پروردگار نے انہیں طوی کی مقدس وادی میں آواز دی تھی۔ (6)

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ : فرعون کے پاس چلے جاؤ، اس نے بہت سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور اس سے کہو کہ کیا تمہیں یہ خواہش ہے کہ تم سنور جاؤ ؟

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور یہ کہ میں تمہیں تمہارے پروردگار کا راستہ دکھاؤں تو تمہارے دل میں خوف پیدا ہوجائے ؟

6: اس سے مراد صحرائے سینا کی وہ وادی ہے جس میں پہلی بار حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنایا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة طہ : 9 تا 48 اور ان کے حواشی
Ayahs 79:20–24

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

چنانچہ موسیٰ نے اس کو بڑی زبردست نشانی دکھائی (7)

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

پھر بھی اس نے (انہیں) جھٹلایا، اور کہنا نہیں مانا۔

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر دوڑ دھوپ کرنے کے لیے پلٹا۔

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

پھر سب کو اکٹھا کیا اور آواز لگائی۔

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

اور کہا کہ : میں تمہارا اعلی درجے کا پروردگار ہوں۔

7: یعنی یہ معجزہ دکھایا کہ ان کی لاٹھی سانپ بن گئی اور ان کا ہاتھ چمکنے لگا (دیکھئے سورة طہ : 17 تا 22)
Ayahs 79:25–26

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔ (8)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔

8: دنیا کا عذاب یہ کہ اسے اور اس کے لشکر کو غرق کردیا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة شعراء : 61 تا 64 اور آخرت میں دوزخ کا عذاب ہوگا۔