79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsانوار البیان

Ayah 79:1

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

(79:1) والنزعت غرقا : واؤ قسمیہ ہے : النزعت مقسم بہا ہے۔ غرقا اسم ہے لیکن بجائے مصدر کے مستعمل ہے یعنی مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے جیسے قعدت جلوسا میں جلوسا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے جواب قسم محذوف ہے۔ النزعت اسم فاعل جمع مؤنث النازعۃ واحد۔ نزع (باب ضرب) مصدر سے۔ کھینچنے والیاں۔ کھینچ کر نکلانے والیاں۔ نزع کھینچنا، نکالنا، جان نکالنا۔ منازعۃ (مفاعلۃ) باہم کشیدگی ۔ خصومت۔ تنازع (تفاعل) باہم خصومت کرنا۔ غرقا۔ ڈوبنا، گہرائی سے شدت کے ساتھ کھینچنا۔ ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے گہرائی میں جاکر شدت کے ساتھ کھینچنے والیوں کی۔
Ayah 79:2

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

(79:2) والنشطت نشطا واؤ عاطفہ ہے۔ واؤ تسمیہ مقدرہ ہے النشطت مقسم بہا ہے۔ نشطا مفعول مطلق تاکید کے لئے ہے جواب قسم محذوف ہے۔ النشطت اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ الناشطۃ واحد۔ بند کھولنے والیاں یہ لفظ نشط الدلو۔ ڈول کو آسانی کے ساتھ بغیر تکلیف کے نکال لیا۔ کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یا نشط الحبل سے ماخوذ ہے یعنی رسی کو اتنا ڈھیلا چھوڑ دیا کہ وہ کھل گئی۔ اور قسم ہے آسانی کے ساتھ گرہ کھولنے والیوں کی۔ (آسانی سے روح قبض کرنے والیوں کی)
Ayah 79:3

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

(79:3) والسبحت سبحا واؤ عاطفہ، (واؤ قسمیہ مقدرہ ہے) السبحت مقسم بہا۔ سبحا مفعول مطلق۔ سبح (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ تیرنے والیاں۔ اور قسم ہے تیرنے والیوں کی۔
Ayah 79:4

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں

(79:4) فالسبقت سبقا :عاطفہ، واؤ قسمیہ مقدرہ السبقت مقسم بہا۔ سبقا مفعول مطلق سبق (باب ضرب، نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے پھر ان کی قسم جو دوکر آگے بڑھنے والیاں ہیں ۔
Ayah 79:5

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں

(79:5) فالمدبرات امرا :عاطفہ (واؤ قسمیہ مقدرہ ہے) المدبرات مقسم بہا ہے۔ امرا مفعول بہٖ ہے۔ المدبرات تدبیر (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل جمع مؤنث ہے کسی کام کی تدبیر کرنے والیاں۔ پھر ان کی قسم جو (تفویض کئے گئے) امور میں تدبیر و تعظیم کرتی پھرتی ہیں۔ بغوی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے نزدیک وہ ملائکہ مراد ہیں جن کے سپرد کچھ کام بحکم خدا کئے گئے ہیں اور ان کو انجام دینے کے طریقے اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم فرما دئیے ہیں۔ فائدہ : آیات 1 -5 میں مقسم بہا کا ان کے نام کے بجائے ان کے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) جمہور کے نزدیک ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نازعات، ناشطات، سابحات، سابقات، مدبرات، سب صیغے مؤنث کے ہیں۔ حالانکہ فرشتے مؤنث نہیں ہیں۔ بلکہ خدائے پاک نے کفار کو فرشتوں کو مؤنث کہنے میں الزام دیا ہے۔ تنبیہ فرمائی ہے جیسا کہ ارشاد ہے :۔ وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عباد الرحمن انثا ۔۔ الخ (43:19) اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی اللہ کے بندے ہیں (خدا کی ) بیٹیاں مقرر کیا ہے ۔۔ اس کے متعلق علامہ حقانی فرماتے ہیں :۔ ” اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کی زبان میں جمع اور جماعات کو بصیغہ مؤنث تعبیر کرتے ہیں اور ملائکہ سے اشخاص مراد نہیں بلکہ جماعات مراد ہیں “۔ ان فرشتوں میں سے نازعات سے وہ فرشتے مراد ہیں جو جان نکالتے ہیں۔ اور کھینچ کر، (جان) نکالنے والے وہ ہیں جو کفار کی جان کنی پر مامور ہیں۔ کفار کی روح عالم آخرت کے مصائب سے ڈر کر ان کے بدن میں ادھر ادھر تمام اطراف و جوانب میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس لئے وہ ملائکہ بھی ان کے اجسام میں گھس کر ان کی روح کو نکالتے ہیں۔ اسی طرح ناشطات ، سابحات، سابقت، مدبرات سے مراد بھی ملائکہ ہیں جن کو باعتبار ان کی صفات اور حالات کے مختلف صفات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (2) امام حسن بصری (رح) نے ان سے مراد ستارے لئے ہیں۔ (3) بعض کے نزدیک ان پانچوں کلمات سے مراد ارواح ہیں۔ (4) بعض کہتے ہیں کہ ان پانچویں سے مراد غازیوں کے گھوڑے ہیں۔ (5) ابو مسلم اصفہانی کہتے ہیں کہ ان پانچوں کلمات سے مراد غازی ہیں۔ (تفسیر حقانی) فائدہ : یہ پانچ قسمیں کھائی گئی ہیں لیکن جواب قسم محذوف ہے یعنی لتبعثن۔ کہ تمہیں ضرور دو بارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔
Ayah 79:6

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

(79:6) یوم ترجف الراجفۃ : یوم منصوب ہے ظرف زمان ہے اور قسم کے جواب محذوف سے متعلق ہے۔ ترجف مضارع واحد مؤنث غائب رجف (باب نصر) مصدر سے بمعنی وہ لرزے گی۔ وہ کانپے گی۔ الراجفۃ رجف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ جب تھر تھرانے والی تھرتھرائے گی۔ علامہ آلوسی (رح) روح المعانی میں لکھتے ہیں :۔ راجفۃ سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں جو ساکن ہیں۔ اور وہ اس وقت زور زور سے کانپنے اور لرزنے لگیں گی۔ جیسے زمین، پہاڑ، وغیرہ۔ یعنی نفخہ اولیٰ ہوگا اور نظام کائنات کے درہم برہم ہونے کا حکم صادر ہوگا۔ تو یوں محسوس ہوگا کہ زبردست زلزلہ کے جھٹکوں سے زمین۔ پہاڑ، قلعے۔ مکان اور درخت سب کے سب لرزنے لگیں گے۔
Ayah 79:7

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا

(79:7) تتبعھا الرادفۃ : تتبع مضارع واحد مؤنث غائب تبع (باب سمع) مصدر سے۔ بمعنی پیچھے چلنا۔ پیچھے پیچھے آنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الراجفۃ ہے۔ الرادفۃ؛ ردف (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث پیچھے سوار ہونے والی۔ پیچھے جانے والی۔ ترادف ایک دوسرے کے پیچھے آنا۔ یا سوار ہونا۔ لفظوں کا ہم معنی ہونا۔ مترادف ہم معنی۔ اس کے پیچھے آئے گی ایک اور لرزاہٹ، بھونچال ، زلزلہ۔ فائدہ : بعض کے نزدیک ردف سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جو پہلے نفخہ کے بعد ہوگا۔ جس کے بعد سب مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں :۔ یوم ترجف الراجفۃ۔ اس روز کہ لرزنے والی چیزیں لرزیں یعنی زمین اور پہاڑ ہلیں ۔ اور تتبعہا الرادفۃ پے در پے لرزے آنے سے یہ تمام دنیا نیست و نابود ہوجائے گی۔ اس کے بعد بار دیگر ہر ایک انسان زندہ ہوگا۔ ابتدائے نفخ صور اول سے لے کر نفخ ثانی تک ایک متصل زمانہ ہے اس لئے اس میں زندہ ہونا صحیح ہوسکتا ہے ورنہ تو صرف نفخ اول صور میں تو کوئی زندہ نہ ہوگا بلکہ زندہ لوگ بھی مرجائیں گے۔ گویا آیت نمبر 6 اور آیات نمبر 7 دونوں نفخ صور اول کی کیفیات ہیں ۔ نفخ ثانی بعد میں ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :۔ یوم ترجف الراجفۃ سے مراد وہ ہیبت ناک آواز ہے جو نفخہ اولیٰ کے وقت ہوگی۔ جس سے زمین و آسمان، وحوش و طیور، حیوان و انسان نیست و نابود ہوجائیں گے اور تتبعھا الرادفۃ سے مراد نفخہ ثانیہ ہے (یعنی بار دیگر صور پھونکنا) جس سے تمام حیوان و انسان بار دیگر زندہ ہوں گے ۔ اور ان دونوں نفخ صور میں بمقدار چالیس برس کا زمانہ ہوگا۔ (تفسیر حقانی، مظہری، خازن)
Ayah 79:8

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

(79:8) قلوب یومئذ واجفۃ۔ قلوب مبتداء یومئذ اسم ظرف زمان ہے اور تتبعھا الرادفۃ سے متعلق ہے۔ واجفۃ، قلوب کی صفت ہے اور مبتداء کی خبر۔ (کتنے ہی) دل اس روز ترساں و لرزاں ہوں گے۔ واجفۃ۔ وجف (باب ضرب) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ وجف : وجیف (باب ضرب) کے معنی تیز رفتاری کے ہیں۔ اور او جفت البعیر کے معنی ہیں میں نے اونٹ کو تیز دوڑایا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے :۔ فما او جفتم علیہ من خیل ولا رکاب (59:6) کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔ مثل مشہور ہے اوجف فاعجف : گھوڑے کو تیز دوڑا کر دبلا کردیا۔ وجف الشیء کسی چیز کا مضطرب ہونا۔ قلب واجف : مضطرب دل۔
Ayah 79:9

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

اور آنکھیں جھکی ہوئی

(79:9) ابصارھا خاشعۃ : ابصارھا مبتداء خاشعۃ خبر۔ ابصارھا ای ابصار اصحب القلوب (ان کانپتے دل والوں کی آنکھیں) ھا ضمیر کا مرجع قلوب ہے۔ خاشعۃ : خشوع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے بمعنی ذلیل ہونے والی۔ خوار ہونے والی۔ نیچی ہونے والی۔ ان دل والوں کی آنکھیں ڈر اور ذلت و خواری سے نیچی ہو رہی ہوں گی۔ فائدہ : آیات 8 و 9 میں مذکور حال کفار و منافقین کا ہوگا۔ اللہ کے نیک بندے اس روز حزن و غم سے محفوظ ہوں گے۔ ان کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ لایخرنھم الفزع الاکبر وتتلقھم الملئکۃ ھذا یومکم ھذا یومکم الذی کنتم توعدون ۔ (21:103) ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ فائدہ : حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق یوم ترجف الراجفۃ (آیت 6) میں نفخہ اولیٰ مراد ہے اور تتبعھا الرادفۃ (آیت 7) میں الردفۃ سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ اور آیات 8 - 9 میں مذکور مضامین نفخہ ثانیہ سے متعلق ہیں۔
Ayah 79:10

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹیں گے ؟

(79:10) یقولون : (یعنی کافر آیات بالا متعلقہ وقوع آخرت و مناظر آخرت سن کر استہزائ) کہتے ہیں۔ ء انا المردودون فی الحافرۃ : یہ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ بھلا پھر ہم لوٹائے جائیں گے پہلی حالت کی طرف۔ ء ہمزہ استفہامیہ ہے انا حرف مشبہ بالفعل ہے یہ ان حرف تحقیق اور حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ لمردودون میں لام تاکید کا ہے۔ مردودون : رد (باب نصر) مصدر سے ۔ اسم مفعول جمع مذکر ہے۔ واپس پھیرے گئے ۔ لوٹائے گئے۔ جب کوئی شخص اسی راستے سے پلٹ جائے جس پر وہ چل کر آیا تھا تو عرب کہتے ہیں رجع فلان فی حافرتہ ای طریقۃ التی جاء فحفر۔ یعنی جس راستہ کو وہ پہلے اپنے قدموں سے کھود آیا ہے اور اپنے نقوش پاثبت کر آیا ہے اسی پردہ لوٹ گیا۔ الحافرۃ پہلی حالت۔ الٹے پاؤں۔ زمین۔ حفر سے جس کے معنی زمین کھودنے کے ہیں۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ عرب میں ” حافرۃ “ الٹے پاؤں لوٹنے اور پہلی حالت پر پلٹنے کے لئے ضرب المثل ہوگیا ہے۔ امام بغوی (رح) لکھتے ہیں : اور بعض کا قول ہے کہ ” حافرۃ “ کے معنی روئے زمین کے ہیں جس میں ان کی قبریں کھدتی ہیں
Ayah 79:11

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے (تو پھر زندہ کیے جائیں گے)

(79:11) ء اذا کنا عظاما نخرۃ : یہ جملہ بھی استفہام انکاری ہے انکار کے بعد انکار مزید تاکید کے لئے ہے۔ ء ہمزہ استفہامیہ ہے اذا ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ واذا رأوا تجارۃ او لہوا ن انفضوا الیہا (62:11) جب انہوں نے سودا بکتا دیکھا یا تماشہ ہوتا دیکھا تو جھٹک کر اسی طرف چل دئیے۔ اور اگر قسم کے بعد واقع ہو تو زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے۔ کنا ماضی جمع متکلم (بمعنی مضارع۔ ہم ہوں گے) ۔ عظاما نخرۃ : موصوف و صفت مل کر کان کی خبر۔ عظاما ۔ عظم کی جمع ہڈیاں۔ جیسے سھام سھم کی جمع ہے۔ نخرۃ عظاما کی صفت ہے۔ نخر (باب سمع) مصدر سے صفت کا صیغہ واحد مؤنث ۔ بوسیدہ۔ نخرۃ : من نخر العظم ای بلی وصار الجوف تمر بہ الریح فیسمع لہ نخیر ای صوت (روح المعانی) ۔ جب ہڈی بوسیدہ ہوجائے اس کے اندر کا گودا گل جائے اور وہ خالی ہوجائے اور اس میں سے ہوا گزرنے لگے جس سے نخیر پیدا ہو ایسی ہڈیوں کو عظاما نخرۃ کہتے ہیں۔
Ayah 79:12

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے

(79:12) قالوا۔ اس کا عطف یقولون پر ہے (اور) وہ کہتے ہیں :۔ تلک اذا کرۃ خاسرۃ : تلک (اسم اشارہ واحد مؤنث) بمعنی وہ۔ مبتداء ہے۔ اذا حرف جزا ہے۔ تب، اس وقت۔ کرۃ خاسرۃ موصوف صفت مل کر مبتداء کی خبر۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر تو یہ (زندگی کی واپسی) بڑی گھاٹے کی ہوگی (یہ وہ استہزاء کہتے ہیں) ۔ خاسرۃ وخسر و خسران (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے گھاٹے والی۔ مندرجہ ذیل وہ مقولے ہیں جو کہ کافر لوگ قیامت کی وقوع پذیری اور منکرین حژر کی حالت زاری کی آیات سن کر ٹھٹھے کے طور پر کہتے ہیں۔:۔ (1) ء انا لمردودون فی الحافرۃ ۔ (2) ء اذا کنا عظاما نخرۃ۔ (3) تلک اذا کرۃ خاسرۃ۔
Ayah 79:13

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی

(79:13) فانما ہی زجرۃ واحدۃ۔ کفار کے استہزائیہ مقولوں کے جواب میں ارشاد الٰہی ہوتا ہے۔ فانما ہی زجرۃ واحدۃ۔ ای لا تحسبوا تلک الکرۃ صعبۃ علی اللہ عزوجل فانھا سہلۃ ھینۃ فی قدرتہ فما ہی الا صحیۃ واحدۃ (فانما ہی زجرۃ واحدۃ) یرید النفخۃ الثانیۃ (مدارک) یعنی زندگی کی واپسی کو خدائے عزوجل کے لئے مشکل خیال نہ کرو۔ کیونکہ اس کی قدرت کاملہ کے لئے یہ بہت ہی سہل اور آسان ہے وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہے۔ مراد اس سے نفخۃ الثانیہ ہے۔ انما : بیشک ، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ وہ تو صرف (یہ) ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ اور زجرۃ واحدۃ خبر ان ہے۔ زجرۃ : زجر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی ڈانٹنا۔ جھڑکنا۔ زجر کرنا ہے بمعنی ڈانٹ ، جھڑک، زجر۔
Ayah 79:14

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے۔

(79:14) فاذا ہم بالساھرۃ : فاء عطف کے لئے ہے اور اذا مفاجاتیہ ہے۔ (اچانک اور ناگہاں کے معنی میں) ہے۔ اذا کے آنے سے ہم بالساھرۃ جو جملہ اسمیہ تھا جملہ فعلیہ کی قوت میں ہوگیا۔ اسی لئے اس کا عطف جملہ فعلیہ پر صحیح ہوگیا۔ مطلب یہ ہوگا کہ :۔ دنیا میں یہ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں مگر جب یہ زمین کے اوپر ایک میدان میں ہوں گے تو ناگہاں وہ وقت آہی جائے گا۔ اس صورت میں فانما ہی زجرۃ واحدۃ جملہ معترضہ ہوگا۔ جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ جس لرزہ کے یہ منکر ہیں اس کو لانا اللہ کے نزدیک آسان ہے کچھ دشوار نہیں ہے۔ (تفسیر مظہری) الساھرۃ : سھر (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی نیند اڑجانے کے ہیں۔ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ مفسرین کے اس کے متعلق کئی اقوال ہیں :۔ (1) ساھرہ سفید ہموار زمین کو کہتے ہیں۔ اس کے موسوم ہونے کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس پر چلنے والا خوف سے سوتا نہیں۔ دوم یہ کہ اس میں سراب رواں ہوتا ہے یہ عرب کے محاورہ عین ساھرۃ سے ماخوذ ہے۔ تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ زمین کا نام ساہرہ اس لئے پڑا کہ شدت خود کے باعث اس میں انسان کی نیند اڑ جاتی ہے تو وہ زمین کہ جس کے اندر قیامت کے موقع پر کافر جمع ہوں گے نہایت ہی خوف میں ہوں گے لہٰذا اس زمین کا نام ساھرۃ اس بناء پر ہوا۔ (تفسیر کبیر امام رازی (رح)) (2) اس سے مراد روئے زمین ہے۔ سب لوگ زمین پر جمع ہوجائیں گے جو سفید ہوگی اور بالکل صاف اور خالی ہوگی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے اور جگہ ہے یوم تبدل الارض غیر الارض ۔۔ الخ (14:48) جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہوجائے گی۔ اور آسمان بھی بدل جائیں گے اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد قہار کے روبرو پیش ہوگی۔ (تفسیر ابن کثیر) (3) اس کے معنی ہیں کہ لوگ قیامت کے دن موت کی نیند سے فورا جاگ اٹھیں گے یہ معنی زیادہ مناسب بھی ہیں کیونکہ موت کو خراب سے زیادہ مشابہت ہے اور سھر بیداری کو کہتے ہیں۔ حیات اخروی بیداری اور موت خواب سے بہت مشابہ ہے۔ (تفسیر حقانی) سورة یس میں ہے :۔ قالوا یویلنا من بعثنا من مرقدنا (36:52) کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے (جگا) اٹھایا۔ (4) ثوری کہتے ہیں مراد اس سے شام کی زمین ہے۔ (ب) عثمان بن ابو العالیہ کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔ (ج) وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ اس سمراد بیت المقدس کی ایک طرف کا پہاڑ ہے۔ (د) قتادہ کہتے ہیں کہ جہنم کو بھی ساھرہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ اقوال سب کے سب غریب ہیں۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 79:15

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے

(797:15) ہل اتک حدیث موسیٰ : (قیامت کا ذکر ہو رہا تھا کہ اچانک روئے سخن فرعون کی طرف چلا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار مکہ انکار قیامت پر سختی سے ڈٹے ہوئے تھے کسی دلیل سے وہ متاثر نہیں ہو رہے تھے اس لئے ان کے سامنے ایک ایسے شخص کا دردناک انجام پیش کیا جا رہا ہے جو کہ وہ بھی قیامت کا منکر تھا اور اسی وجہ سے وہ سرکشی اور طغیان میں اتنا دور نکل گیا تھا کہ خدائی دعوی کیا کرتا تھا۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اے میرے رسول کے ساتھ ٹکر لینے والو اور اس کی باتوں کا انکار کرنے والو ! تم سے پہلے فرعون جیسے مطلق العنان حکمران نے میرے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اسی طرح ٹکر لی تھی وہ بھی ان کی تکذیب کرتا اور قیامت کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ اس کا جو انجام ہوا وہ تم نے بار ہا سنا ہے کیا تم اپنے لئے اسی طرح کا انجام پسند کرتے ہو۔ (تفسیر ضیاء القرآن) ہل استفہامیہ ہے اتی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اتیان (باب ضرب) مصدر سے بمعنی آنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاض۔ کا مرجع حضرت محمد ﷺ ہیں۔ تیرے پاس۔ حدیث موسیٰ مضاف مضاف الیہ۔ حدیث ہر وہ بات جو انسان تک پہنچے سماع یا وحی کے ذریعہ اسے حدیث کہا جاتا ہے۔ بات ۔ احادیث جمع ۔ حدیث موسی۔ موسیٰ کی بات۔ موسیٰ کی خبر۔ ہل اتک حدیث موسیٰ استفہام تقریری ہے۔ یعنی آپ کے موسیٰ والی خبر آچکی ہے۔ آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی اطلاع آچکی ہے۔
Ayah 79:16

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب ان کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طوی میں پکارا

(79:16) اذ نادہ ربہ بالواد المقدس طوی : اذ ظرف زمان ہے دونوں میں اختلاف کے مدنظر اس کا تعلق حدیث سے ہے نہ کہ اتک سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع موسیٰ ہے۔ نادی : نداء سے (باب افعال) مصدر سے ماضٰ کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ ب ظرفیت کے لئے ہے۔ الواد المقدس : موصوف صفت۔ مقدس وادی۔ طوی اس کا نام ہے جو الواد کا عطف بیان ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ آپ کے پاس موسیٰ سے تعلق رکھنے والی اس وقت کی بات تو آہی چکی ہوگی جب اللہ نے ان کو وادی مقدس (یعنی) طوی میں پکارا تھا۔
Ayahs 79:17–18

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور (اس سے) کہو کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے

(79:17) اذھب الی فرعون انہ طغی : یہ جملہ نداء کی تفسیر ہے یا اس سے قبل وقال محذوف ہے۔ اور (اس سے) کہا کہ فرعون کی طرف جاؤ ۔۔ الخ۔ طغی : طغیان (باب فتح) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے جب نگاہ اپنی حد سے نکل جاتی ہے تو بہکنے لگتی ہے اور اسی طرح پانی جب اپنی حد سے متجاوز ہوتا ہے تو طغیانی آجاتی ہے۔ طغی کا استعمال ان دونوں معنوں میں اسی اعتبار سے ہے۔ انہ طغی : ای تجاوز الحد فی الکفر والفساد۔ کفر اور فساد میں حد سے نکل گیا ہے۔ طغیان مصدر سے جب فعل وادی ہوتا ہے تو باب نصر سے آتا ہے طغی یطغوا طغیان۔ اور جب فعل یائی ہوتا ہے تو فتح اور سمع دونوں سے آتا ہے ۔ طغی یطغی طغیان وطغی یطغی طغیان۔ قرآن مجید میں باب فتح سے آیا ہے۔ انہ طغی علت ہے جملہ سابقہ کی۔ آپ فرعون کے پاس جائیں کیونکہ وہ کفر و فساد میں حد سے بڑھ گیا ہے۔
Ayah 79:19

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا راستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

(79:19) واھدیک الی ربک فتخشی : جملہ معطوف ہے واؤ عاطفہ ہے۔ اھدیک کا عطف تزکی پر ہے۔سببیہ ہے۔ اھدیک : اھدی مضارع کا صیغہ واحد متکلم منصوب بوجہ عمل ان جملہ سابقہ ھدایۃ (باب ضرب) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھ کو راہ بتاؤں ۔ میں تجھ کو راہ دکھاؤں۔ تخشی : خشیۃ (باب سمع) مصدر سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ توڑ دے ۔ مطلب یہ ہے :۔ اور کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ میں تجھے اللہ کی معرفت، عبادت اور توحید کا راستہ دکھاؤں اور نتیجہ میں تو اس کے عذاب سے ڈرنے لگے۔
Ayah 79:20

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔

(79:20) فارہ الایۃ الکبری : فارہکا عطف محذوف پر ہے ای فذھب وبلغ فارہ الایۃ الکبری۔ (بیضاوی) حضرت موسیٰ گئے اور فرعون کے پاس پہنچے اور اس کو بڑی نشانی دکھائی ۔ اری، اراء ۃ (افعال) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کو دکھلایا۔ الایۃ الکبری صفت موصوف مل کر مفعول ثانی اری کا۔ بڑی نشانی وہی قلب العصاء حیۃ فانہ کان المقدم والاصل (بیضاوی) اور یہ عصا کا سانپ کی شکل میں تبدیل ہوجانا ہے اور یہ ہی پہلا اور اصل معجزہ تھا۔ یا الایۃ الکبری سے مراد ہیں معجزات۔ لیکن تمام معجزات چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت ظاہر کرنے میں ایک ہی معجزہ کی طرح تھے۔ اس لئے بصیغہ واحد ذکر کیا گیا ہے۔ (تفسیر مظہری، بیضاوی)
Ayah 79:21

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

(79:21) فکذب وعصی : ای فکذب فرعون موسیٰ وعصی اللہ بعد ظھور الایۃ (بیضاوی) معجزہ کے اظہار کے بعد بھی فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ اور خدا کی نافرمانی کی اس نے کہا نہ مانا۔ اس نے اطاعت نہ کی ۔
Ayah 79:22

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

(79:22) ثم اربع یسعی : ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ پھر۔ اس کے بعد ۔ ادبر ۔ ادبار (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ دبر سے جس کے معنی پیٹھ کے ہیں۔ یسعی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ سعی (باب فتح) مصدر سے ۔ وہ دوڑتا ہے۔ وہ دوڑے گا دوڑتا ہوا۔ تدبیریں کرتا ہوا یہاں ضمیر فاعل ادبر سے حال ہے پھر روگرداں ہوکر (فتنہ انگیزی میں) کوشاں ہوگیا۔ یا سانپ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر دوڑتا ہوا پیچھے مڑا۔
Ayah 79:23

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اور (لوگوں) کو اکھٹا کیا اور پکارا

(79:23) فحشر فنادی : ہر دو فاء عاطفہ بمعنی ثم ہیں۔ فحشر ای ثم حشر (جمع) قومہ و جنودہ والسحرۃ (مدارک، خازن) پھر اس نے اپنی قوم کو، افواج کو اور جادوگروں کو جمع کیا۔ حشر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب حشر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی اکٹھا کرنا۔ فنادی :عاطفہ نادی ماضی واحد مذکر غائب مناواۃ ونداء (مفاعلۃ) مصدر۔ (ن د ی حروف مادہ) بمعنی پکارنا۔ آواز دینا۔ پھر اس نے (ان کو مخاطب کرکے) پکارا۔
Ayah 79:24

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں

(79:24) فقال انا ربکم الاعلی :عاطفہ، انا ربکم الاعلیٰ ۔ نادی کا بیان ہے۔ (یعنی فرعون نے نداء میں یہ) کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا پروردگار ہوں۔ مجھ سے اوپر کوئی رب نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ تمہارے کام کے کرتا دھرتا ہیں میں ان سب سے بڑا ہوں۔ یا اس کلام سے مراد فرعون کی یہ تھی کہ یہ بت دیوتا ہیں اور میں ان کا بھی دیوتا ہوں۔ اور تمہارا بھی (المدارک، الخازن، المظہری)
Ayah 79:25

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا

(79:25) فاضذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی۔عاقبت کا ہے۔ بمعنی آخر کار۔ نکال بمعنی تنکیل فعل محذوف کا مفعول مطلق برائے تاکید ہے بمعنی عبرتناک سزا دینا۔ یعنی اللہ نے اس کو پکڑا اور اس کو سخت عبرت بنادیا۔ بان اغرقہ فی الدنیا ویدخلہ فی النار فی الاخرۃ (دنیا میں اس کو اللہ نے دریا میں غرق کردیا اور آخرت میں اس کو جہنم میں داخل کریگا۔ (الخازن) الاولی : اول کا مؤنث ہے۔ قرآن مجید میں جہاں آخرۃ کے مقابلہ میں اس کا استعمال ہوا ہے وہاں اس سے مراد عالم دنیا ہے کیونکہ وہ آخرت سے پہلے ہے۔
Ayah 79:26

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کیلئے اس (قصے) میں عبرت ہے

(79:26) ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی : فی زلک ای فیما ذکر من قصہ فرعون وما فعل بہ۔ یعنی جو قصہ فرعون (اوپر) مذکور ہوا ۔ جو اس نے کیا اور جو اس کے ساتھ کیا گیا (روح المعانی) لام مبالغہ کے لئے ہے۔ عبرۃ اسم ان۔ فی ذلک اس کی خبر۔ بیشک اس میں ہر ڈرنے والے کے لئے بڑی عبرت ہے۔
Ayah 79:27

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

بھلا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا ؟ اسی نے اس کو بنایا

(79:27) ء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا : (آیت میں کلام کا رخ بدل کر منکرین حشر سے خطاب ہے) ۔ ء استفہامیہ ہے انتم مبتداء ہے اشد اس کی خبر۔ خلقا تمیز۔ السماء مبتداء خبر محذوف کی۔ ای اشد (یعنی زیادہ مشکل) یعنی تخلیق کے اعتبار سے تم زیادہ سخت ہو یا آسمان زیادہ سخت ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی آسمان کی تخلیق زیادہ سخت ہے۔ آسمان سے مراد ہے آسمان مع ان تمام چیزوں کے جو اس کے اندر ہیں کیونکہ مقام تفصیل میں زمین اور پہاڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور اس کے موجودات کی تخلیق تمہاری تخلیق سے زیادہ سخت ہے۔ تم کائنات سماوی کا جزو ہو اور جزء کی تخلیق کل کی تخلیق سے بداہۃ آسان ہوتی ہے پھر دوبارہ تخلیق تو خلق اول سے سہل ہی ہے۔ (المظہری) بنھا۔ جملہ مستانفہ ہے۔ بنی ماضی واحد مذکر غائب۔ بناء (باب ضرب) مصدر سے۔ اس نے بنایا۔ اس نے تعمیر کیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب السماء کے لئے ہے۔ علامہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر میں اس کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :۔ ” اللہ نے آسمان کو بنایا ہے۔ یہ جملہ السماء کی صفت ہے (لیکن جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے اور السماء معرفہ ہے اور معرفہ کی صفت معرفہ ہونی چاہیے) اور السماء میں الف لام زائدہ ہے (فرد غیر معین کے لئے ہے) جیسے کہ ولقد امر علی اللئیم یسبنی جملہ ہونے کے باوجود اللئیم معرف باللام کی صفت ہے۔ کیونکہ اللئیم سے فرد غیر معین مراد ہے۔ یا التی موصول محذوف ہے۔ یعنی وہ آسمان جس کو خدا نے بنایا۔ یا دوسرے جملہ کا پہلے جملہ پر عطف ہے اور حرف عطف محذوف ہے دونوں جملوں کو ملانے سے پوری دلیل اس طرح بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان بنایا جس کی تخلیق تمہاری تخلیق سے زیادہ دشوار ہے اور جو اس کی تخلیق پر قدرت رکھتا ہے وہ ایسی چیز کو جو آسمان سے کمزور ہے۔ دوبارہ بنانے پر (بدرجہ اولیٰ ) قدرت رکھتا ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 79:28

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی چھت کو اونچا کیا پھر اسے برابر کردیا

(79:28) رفع سمکھا فسوھا : سمکھا مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب السماء کے لئے ہے۔عاطفہ ہے تراخی فی الوقت کے لئے ہے پھر ، اس کے بعد۔ السمک چھت کو کہتے ہیں اور سم کہ (باب نصر) کے معنی بلند کرنے کے ہیں۔ سوی ماضی واحد مذکر غائب تسویۃ (تفعیل) مصدر سے بمعنی اس نے پورا پورا بنایا۔ اس نے برابر کیا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اس نے اس کی (آسمان کی) چھت کو بلند کیا۔ پھر اس (آسمان) کو درست کیا۔ یعنی اس طرح راست کیا کہ اس میں کوئی شکن کوئی جھول ۔ کوئی شگاف نہ رہنے دیا ۔
Ayah 79:29

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

(79:29) واغطش لیلہا واخرج ضحھا : اغطش ماضی واحد مذکر غائب۔ اغطاش (افعال) مصدر سے جس کے معنی تاریک ہونا اور تاریک کرنا کے ہیں۔ ضحی کے معنی دھوپ کے پھیلنے اور دن کے چڑھنے کے ہیں۔ نیز وقت چاشت کو ضحی کہتے ہیں۔ وہ وقت جب دھوپ چڑھ جائے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اس نے تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر کیا اس کے دن کو۔ ھا ہر دو جگہ آسمان کے لئے ہے۔ رات کی سیاہی اور سن کے اجالے کو آسمان کی طرف منسوب کیا کیونکہ اس کا تعلق آدتاب کے طلوع اور غروب سے ہے جو اجران سماویہ میں سے ہے۔
Ayah 79:30

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

(79:30) والارض بعد ذلک دحھا : الارض (آیت ہذا میں) اور الجبال آیت 32 میں منسوب ہیں کیونکہ ان سے قبل ان کے مفعل محذوف ہیں۔ ای دحی الارض اور ارسی الجبال۔ دونوں اپنے فعل محذوف کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ فعل محذوف کی تفسیر (ہر دو جملہ میں) دحھا۔ الکشاف میں ہے :۔ ونصب الارض والجبال باضمار دحی وارسی وھو الاضمار علی شریطۃ التفسیر : الارض اور الجبال کا نصب دحی اور ارسی کے اضمار (محذوف ہونا) سے ہے۔ اور یہ اضمار شرائط تفسیر کے مطابق ہے۔ (الکشاف) بعد ذلک یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد اور اس کی چھت کو بلند و بالا کرنے اور اس کو راست کرنے کے بعد۔ دحھا : دحی یدحوا، دحو (باب نصر) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے ہموار کیا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث الارض کے لئے ہے یعنی زمین کو ہموار بنایا۔ پھیلایا۔ بچھایا۔ صاحب تفسیر ماجدی تحریر فرماتے ہیں :۔ دحی کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقر سے ہٹا دینے کے ہیں۔ دحمھا ای ازالہا عن مقرھا۔ اس کو اپنے اصلی مقر سے ہٹا دینا۔ اس سے گویا اشارہ اس طبیعیاتی حقیقت کی طرف ہوگیا کہ یہ کرہ ارض کسی اور بڑے سماوی جرم کا ٹکڑا ہے جو اس سے کٹ کر ایک مستقل وجود میں آگیا ہے۔ مطلب یہ کہ آسمان اور اس کے متعلقات کی تخلیق کے بعد اس نے کرہ ارض کو مناسب اطراف میں۔ مناسب مدارج سطح کے لحاظ سے مناسب حدود تک بچھایا یا پھیلایا۔ فائدہ : زمین اور آسمان کی تخلیق اور ان کی تکمیل میں وقت کی مدت کے لحاظ سے تعین میں علماء کے متعدد اقوال ہیں۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل آیات قرآنی کو ملاحظہ کریں :۔ (1) قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین و تجعلون لہ اندادا (41:9) اے نبی ! ان سے کہو کیا تم اس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں بنادیا۔ (2) وقدر فیہا اقواتھا فی اربعۃ ایام ۔۔ الخ (41:10) اور ٹھہرائیں اس میں خوارا کیں اس کی چار دن میں ۔۔ الخ۔ (3) ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ثم استوی الی السماء فسوھن سبع سموت ۔۔ (2:29) وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لئے پیدا کیں پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنادیا ۔۔ الخ۔ (4) ثم استوی الی السماء وہی دخان ۔۔ الخ (41:11) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا۔ فقضھن سبع سموت فی یومین ۔۔ الخ (41:12) تب اس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دئیے۔ (5) الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ۔۔ الخ (25:59) جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا ۔۔ الخ۔ (6) ء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا (79:27) بھلا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا ؟ اسی نے اس کو بنایا۔ والارض بعد ذلک دحھا (79:30) اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمین و آسمان میں سے کس کو پہلے بنایا اور کس کو بعد میں زمین و آسمان کے بنانے میں کل کتنے دن لگے۔ علماء نے اس کے متعدد جوابات دئیے ہیں :۔ (ا) علامہ پانی پتی (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا :۔ بغیر اس کے کہ آسمان کی تخلیق سے پہلے زمین پھیلائی جائے اللہ نے زمین کو پیدا کردیا پھر براہ راست آسمان کو بنانے کا ارادہ کیا اور دو روز میں سات آسمانوں کو ٹھیک ٹھیک بنادیا پھر دو روز میں زمین کو بچھا دیا۔ غرض زمین مع اپنی موجودات کے چار روز میں بنائی گئی۔ بعض نے کہا ہے کہ بعد ذلک کا معنی ہے مع ذلک یعنی اس کے ساتھ ہی اللہ نے زمین کو بچھا دیا۔ جیسے آیت میں آیا ہے عتل بعد ذلک زنیم (68:13) سخت خو اور اس کے علاوہ بد ذات ہے۔ بیضاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ لفظ بعد اس جگہ حقیقی معنی میں مستعمل ہے اور آیت ثم استوی الی السماء میں ثم (تراخی زمانی کے لئے نہیں ہے بلکہ ) بعد مرتبہ کے لئے ہے۔ آسمان و زمین کی تخلیق میں ایک عظیم الشان فرق ہے۔ جیسے آیت ثم کان من الذین امنوا (90ـ:17) (پھر وہ ان لوگوں میں بھی داخل ہوا جو ایمان لائے) میں ثم فرق مرتبہ (یعنی ادنی سے اعلیٰ کی طرف ترقی) کو ظاہر کر رہا ہے۔ ” تفسیر اول چونکہ سلف کے کلام سے ماخوذ ہے اس لئے اولیٰ ہے۔ (تفسیر مظہری) (ب) پیر محمد کرم شاہ صاحب اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :۔ لیکن اس کی جو تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے وہ اتنی واضح ہے کہ اس کے بعد کسی اور تاویل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ (ج) حضرت مولانا دریا بادی (رح) بعد ذلک کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :۔ خوب خیال رکھا جائے کہ اس خاص آیت میں ذکر زمین کی آفرنیش کا نہیں صرف اس کے بچھائے جانے کا ہے۔ (د) تفہیم القرآن میں لکھا ہے :۔ ” اس کے بعد زمین کو بچھانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آسمان کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی بلکہ یہ ایسا ہی طرز بیان ہے جیسے ہم ایک بات کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ :۔ ” پھر غور طلب بات یہ ہے “ اس سے مقصود ان دونوں باتوں کے درمیان واقعاتی ترتیب بیان کرنا مقصود نہیں ہوتا کہ پہلے یہ بات ہوئی اور اس کے بعد دوسری بات بلکہ مقصود ایک بات کے بعد دوسری بات کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے اگرچہ دونوں ایک ساتھ پائی جاتی ہوں۔ اس طرز بیان کی متعدد نظریں خود قرآن مجید میں موجود ہیں مثلاً سورة القلم میں فرمایا عتل بعد ذلک زنیم (68:13) جفا کار ہے ۔ اور اس کے بعد بد اصل۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے وہ جفا کار بنا اور اس کے بعد بداصل ہوا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جفاکار ہے اور اس پر مزید یہ کہ وہ بد اصل بھی ہے۔ اسی طرح سورة البلد میں ہے فک رقبۃ ۔۔ ثم کان من الذین امنوا (90:17) ” غلام آزاد کرے ۔۔ پھر ایمان لانے والوں میں ہوا “ اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ پہلے وہ نیک اعمال کرے پھر ایمان لائے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان نیک اعمال کے ساتھ ساتھ اس میں مومن ہونے کی صفت بھی ہو۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن میں کہیں زمین کی پیدائش کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور آسمان کی پیدائش کا ذکر بعد میں جیسے کہ سورة بقرہ آیت 29 میں ہے۔ اور کسی جگہ آسمان کی پیدائش کا ذکر پہلے ہے اور زمین کی پیدائش کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے جیسے کہ ان آیات میں ہم دیکھ رہے ہیں ۔ یہ دراصل تضاد نہیں ہے ان مقامات میں سے کسی جگہ بھی مقصود کلام یہ بتانا نہیں ہے کہ کسے پہلے بنایا گیا اور کسے بعد میں بلکہ جہاں موقع محل یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے کمالات کو نمایاں کیا جائے وہاں آسمانوں کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور زمین کا بعد می اور جہاں سلسلہ کلام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ لوگوں کو ان نعمتوں کا احساس دلایا جائے جو انہیں زمین پر حاصل ہو رہی ہیں وہاں زمین کے ذکر کو آسمانوں کے ذکر پر مقدم رکھا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن جلد ششم سورة النازعات حاشیہ نمبر 16) ۔
Ayah 79:31

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا

(79:31) اخرج منھا مآء ھا ومرعھا : مرعھا مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے مرعی اسم ظرف مکان ہے۔ رعی ورعایۃ (باب فتح مصدر سے بمعنی چراگاہ جانوروں اور انسانوں کی خوراک یعنی گھاس۔ غلہ۔ پھل وغیرہ کو بھی مرعی کہتے ہیں۔ اصل میں رعی کا معنی ہے جاندار کی حفاظت اور اس کو باقی رکھنا۔ حفاظت کی تین صورتیں ہیں :۔ (1) خوراک کے ذریعہ سے۔ (2) دشمنوں سے حفاظت کرنا۔ (3) مناسب انتظام کرکے۔ اچھی سیاست کرکے۔ حق دار کو اس کا حق دے کر۔ ہر چیز کا اس کے مناسب لحاظ کرکے۔ انہی معانی کا لحاظ رکھتے ہوئے راعی چروا ہے کو بھی کہتے ہیں اور حاکم کو بھی اور ہر نگران کو بھی۔ یہاں آیت میں مراد زمین میں پیدا ہونے والی جانوروں اور انسانوں کی خوراک ہے۔ (سیوطی) مطلب یہ کہ :۔ اللہ تعالیٰ نے زمین سے چشموں وغیرہ کی صورت میں پینے اور آبپاشی کے لئے پانی نکالا اور خوراک کے لئے سبزہ گھاس وغیرہ اگایا۔
Ayahs 79:32–33

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدے کیلیے (کیا)

(79:32) والجبال ارسھا : ارسی ارساء (افعال) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ارسی کے معنی ٹھیرانے اور استوا کرنے کے ہیں۔ لنگر باندھنا، ثابت رکھنا۔ (کھونٹے کا زمین میں) گاڑنا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اس نے (زمین کو ٹھیرانے کے لئے اور استوار رکھنے کے لئے) پہاڑوں کو (اس میں ) گاڑ دیا۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کرکے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی ۔ (ابن کثیر) پہاڑوں کو معنی ثبات کے اعتبار سے اور جگہ قرآن مجید میں اوتادا فرمایا (یعنی میخیں سورة النباء آیت 6-7 میں ہے الم نجعل الارض مھدا والجبال اوتادا کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو بچھونا اور پہاڑوں کو میخیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث الجبال کیلئے ہے۔
Ayah 79:34

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

تو جب بڑی آفت آئے گی

(79:34) فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ سببیہ ہے یعنی جب اس کائنات کی ایجاد سے اللہ کا قادر ہونا ثابت ہوگیا اور قیامت کا امکان ہوگیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے خبر دینے سے حشر کا ثبوت بھی ہوچکا تو اب طامۃ الکبری کا لفظ بول کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آنے کا وقت اور اس کے احوال بتا دئیے۔ یہ لفظ اس لئے اختیار کیا کہ (تفصیل بیان کرنے سے پہلے) عنوان سے ہی قیامت کے کچھ احوال معلوم ہوجائیں لغت میں طم کے معنی ہیں غلبہ۔ سمندر کو طم اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے۔ عرب ناقابل برداشت مصیبت کو طامۃ کہتے ہیں ۔ قیامت کو طامۃ کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ حادثہ قیامت تمام حوادث و مصائب پر غالب ہے۔ (سب سے بڑی مصیبت ہے) ۔ الکبری، الطامۃ کی صفت تاکیدی ہے اور اذا ظرفیہ ہے (بمعنی جس وقت) لیکن معنی شرط کو متضمن ہے (بمعنی جب بھی) ۔
Ayah 79:35

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا

(79:35) یوم یتذکر الانسان ما سعی : یوم، اذا سے بدل ہے۔ یتذکر۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تذکر (تفعل) مصدر سے وہ نصیحت پکڑے گا، وہ یاد کرے گا۔ ما موصولہ سعی ماضی واحد مذکر غائب۔ سعی (باب فتح) مصدر۔ اس نے کوشش کی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جس دن کہ انسان اپنے کئے کو یاد کرے گا۔
Ayah 79:36

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی۔

(79:36) وبرزت الجحیم لمن یری۔ واؤ عاطفہ برزت کا عطف جاءت پر ہے۔ لمن میں لام حرف جر ہے (تملیک کے لئے آیا ہے) من موصولہ ہے ۔ یری۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ رای ورؤیۃ (باب فتح) مصدر سے بمعنی دیکھنا۔ برزت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب تبریز (تفعیل) مصدر۔ وہ ظاہر کردی گئی۔ یہاں بمعنی مستقبل ہے۔ یعنی وہ ظاہر کردی جائے گی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جب درزخ کو ہر دیکھنے والے کیلئے ظرہ کردیا جائے گا (یعنی جس جہنم کا وہ آج تک انکار کرتا رہا تھا وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ظاہر کردی جائے گی (ضیاء القرآن) مقاتل نے کہا :۔ کہ دوزخ کا سر پوش ہٹا دیا جائے گا اور کافر اس میں داخل ہوجائیں گے اور مومن اس کی پشت پر قائم شدہ ہل صراط سے گزر جائیں گے۔ اذا (شرطیہ) کا جواب محذوف ہے۔ یعنی جس دن قیامت کا دن بپا ہوگا اور انسان اپنے ان اعمال کو جن کے لئے اس نے دنیا میں کوشش کی تھی اور جنہیں وہ بھول چکا تھا اب جب کہ ان کو اپنے نامہ اعمال میں مندرج پائے گا۔ تو پھر کیا ہوگا ؟ یہ جواب محذوف ہے۔ تقدیر کلام کچھ یوں ہوگی ! دخل اہل النار النار واہل الجنۃ الجنۃ۔ جہنمی جہنم میں داخل ہوں گے اور جنتی جنت میں۔ لیکن صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ ظاہر ہے کہ محذوف ماننے کی ضرورت نہیں ہے آئندہ جو تفصیل احوال آرہی ہے (فاما من سے لے کر آیت 40 کے اخیر تک) وہی اذا کا جواب ہے۔ صاحب تفسیر حقانی رقم طراز ہیں :۔ اذا کا جواب فاما من طغی ۔۔ الخ ہے۔ المدارک میں ہے :۔ فاما جواب فاذا ای اذا جاءت الطامۃ الکبری فان الامر کذلک یعنی جب طامۃ الکبری وقوع پذیر ہوگی تو صورت الامر یوں ہوگی۔
Ayah 79:37

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

تو جس نے سرکشی کی

(79:37) فاما من طغیترتیب کا ہے۔ یعنی ان متذکرہ بالاحوال سے یہ امر مترتب ہوگا کہ :۔ اما شرطیہ ہے بمعنی پس۔ سو۔ من موصولہ۔ طغی ماضی واحد مذکر غائب طغیان (باب فتح) مصدر سے بمعنی وہ حد سے نکل گیا۔ اس نے سرکشی کی۔ اس نے نافرمانی کی۔ جاوز الحد فکفر (مدارک) ۔ جو معصیت میں حد سے بڑھ گیا یہاں تک کہ کافر ہوگیا (مظہری)
Ayah 79:38

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا

(79:38) واثر الحیوۃ الدنیا۔ واؤ عاطفہ اثر کا عطف طغی پر ہے اثر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ایثار (افعال) مصدر سے۔ اس نے ترجیح دی۔ اس نے بہتر سمجھا۔ اس نے پسند کیا۔ اس نے اختیار کیا۔ الحیوۃ الدنیا : موصوف صفت مل کر فعل اثر کا مفعول ۔ اور (جس نے) دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ ہر دو آیت 37، 38 میں جملے شرطیہ ہیں۔
Ayah 79:39

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

اس کا ٹھکانا دوزخ ہے

(79:39) فان الجحیم ہی الماوی۔ یہ متذکرہ بالا ہر دو شرطیہ جملوں کا جواب ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ ہی الماوی لہ تو بیشک دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگا۔ یا الماوی میں الف لام مضاف الیہ کے عوض میں آیا ہے۔ ای فان الجحیم ہی ماوہ۔
Ayah 79:40

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور دل کو خواہشوں سے روکتا رہا

(79:40) واما من خاف مقام ربہ واؤ عاطفہ ہے جملہ کا عطف کلام سابقہ پر ہے۔ یہ جملہ شرطیہ ہے۔ مقام مضاف ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ۔ مقام مصدر میمی واسم ظرف مکان ہے۔ کھڑا ہونا۔ کھڑے ہونے کی جگہ خاف ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ خوف (باب فتح) مصدر۔ اور (قیامت کے دن حساب کے لئے) اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا۔ ونھی النفس عن الھوی۔ اس جملہ کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ نہی ماضی واحد مذکر غائب نہی (باب فتح) مصدر سے۔ اس نے روکا۔ اس نے باز رکھا الھوی اسم مصدر۔ (باب سمع) ناجائز نفسانی خواہش ، ناجائز (رغبت) اور اس نے نفس کو ناجائز خواہشات سے روکے رکھا۔