79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsبیان القرآن

Ayahs 79:1–9

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے ان فرشتوں کی جو (کافروں کی) جان سختی سے نکالتے ہیں۔ (ف 2)

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور جو (مسلمانوں کی) آسانی سے نکالتے ہیں گویا ان کا بند کھول دیتے ہیں۔

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور جو تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں (ان سب کی قسمیں کھا کر ہم کہتے ہیں کہ) ۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

قیامت ضرور آوے گی جس دن ہلا دینے والی چیز ہلا ڈالے گی (مراد نفخہ والی ہے) ۔

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آوے گی (مراد نفخہ ثانیہ ہے) ۔

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

بہت سے دل اس دن دھڑک رہے ہوں گے۔

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں (مارے ندامت کے) جھک رہی ہوں گی۔

ف 2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔
Ayahs 79:10–11

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

کہتے کہ کیا ہم پہلی حالت میں پھر واپس ہوں گے (پہلی حالت سے مراد حیات قبل از موت ہے۔ (ف 3)

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجاویں گے (پھر حیات کی طرف واپس ہوں گے۔

ف 3۔ یعنی کیا بعد الموت پھر حیات ثانیہ ہوگی ؟ مقصود استبعاد ہے۔
Ayahs 79:12–24

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

(اگر ایسا ہے تو) اس صورت میں یہ واپسی (ہمارے لیے) بڑے خسارے کی ہوگی۔ (ف 4)

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

تو (یہ سمجھ رکھیں کہ ہم کو کچھ مشکل نہیں بلکہ) بس وہ ایک ہی سخت آواز ہوگی۔

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پہنچا ہے۔

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب ان کو ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان طویٰ میں (یہ اس کا نام ہے) پکارا۔

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی شرارت اختیار کی ہے۔

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

سو اس سے (جا کر) کہو کہ کیا تجھ کو اس بات کی خواہش ہے کہ تو درست ہوجاوے۔

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور (تیری درستی کی غرض سے) تجھ کو تیرے رب کی طرف (ذات صفات کی) رہنمائی کروں۔

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

تو تو یہ سن کر اس سے ڈرنے لگے پھر جب اس نے دلیل نبوت طلب کی تو اس کو بڑی نشانی (نبوت کی) دکھلائی۔

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

تو اس (فرعون) نے (ان کو جھٹلایا اور ان کا کہنا مانا۔

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر (موسیٰ (علیہ السلام) سے) جدا ہو کر (ان کی خلاف) کوشش کرنے لگا۔

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اور (لوگوں کو) جمع کیا پھر (ان کے سامنے) با آواز بلند تقریر کی۔

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

اور کہا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں۔

ف 4۔ کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کچھ سامان کیا نہیں، مقصود اس سے تمسخر تھا اہل حق کے اس عقیدہ کے ساتھ یعنی مسلمانوں کے عقیدہ پر تو ہم بڑے خسارہ میں ہوں گے جیسے کوئی شخص کسی کو خیر خواہی سے ڈرائے کہ اس راہ مت جانا، شری ملے گا اور مخاطب تکذیب کے طور پر کسی سے کہے کہ بھائی ادھر مت جانا شیر کھا جائے گا۔ مطلب یہ کہ قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔
Ayahs 79:25–26

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

سو اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں پکڑا۔ (ف 5)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک اس (واقعہ) میں ایسے شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو (الله تعالیٰ سے) ڈرے۔

ف 5۔ دنیوی عذاب تو غرق ہے اور اخروی عذاب حرق یعنی آگ میں جلنا ہے۔
Ayahs 79:27–28

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

بھلا تمہارا (دوسری بار) پیدا کرنا (فی نفسہ) زیادہ سخت ہے یا آسمان کا (ف 6) اللہ نے اس کو بنایا۔

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

(اس طرح سے کہ) اس کی سقف کو بلند کیا اور اس کو درست بنایا۔

ف 6۔ ظاہر ہے کہ تمہارے دوسری بار پیدا کرنے سے آسمان کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے، پھر جب اس کو پیدا کردیا تو تمہارا مکرر پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔
Ayahs 79:29–39

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

(کہ کہیں اس میں فطورو شقوق نہیں) اور اس کی رات کو تاریک بنادیا اور اس کے دن کو ظاہر کیا۔ (ف 7)

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

(اور بچھا کر) اس سے اس کا پانی اور چارہ نکالا۔

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو (اس پر) قائم کردیا۔

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

تمہارے اور تمہارے مویسشیوں کے فائدہ پہنچانے کے لیے۔

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

سو جب وہ بڑا ہنگامہ آوے گا۔

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

یعنی جس دن انسان اپنے کیے کو یاد کرے گا۔

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور دیکھنے والوں کے سامنے دوزخ ظاہر کی جاوے گی۔

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

(تو اس روز یہ حالت ہوگی کہ) جس شخص نے (حق سے) سرکشی کی ہوگی۔

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور (آخرت کا منکر ہو کر) دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی۔

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

سو دوزخ (اس کا) ٹھکانا ہوگا۔

ف 7۔ رات اور دن کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا کہ رات اور دن آفتاب کے طلوع اور غروب سے ہوتے ہیں اور آفتاب آسمان میں ہے۔