78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsبیان القرآن

Ayahs 78:1–4

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ کس چیز کا حال دریافت کرتے ہیں۔ (ف 5)

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

اس بڑے واقعہ کا حال دریافت کرتے ہیں۔

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں یہ لوگ (اہل حق کے ساتھ اختلاف کر رہے ہیں۔

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے۔

ف 5۔ مراد قیامت ہے اور دریافت کرنے سے مراد بطور انکار کے دریافت کرنا ہے اور مقصود اس سوال و جواب سے اذہان کا ادھر متوجہ کرنا اور تفسیر بعد الابہام سے اس کا اہتمام شان ظاہر کرنا ہے۔
Ayahs 78:5–12

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے۔ (ف 6)

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

(زمین کی) میخیں نہیں بنایا۔

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور اس کے علاوہ ہم نے اور بھی قدرت ظاہر فرمائی چناچہ ہم ہی نے تم کو جوڑا یعنی مرد عورت بنایا۔

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے سونے کو راحت کو چیز بنایا۔

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور ہم ہی نے رات کو پردہ کی چیز بنایا۔

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور ہم ہی نے دن کو معاش کا وقت بنایا۔

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے۔

ف 6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)
Ayahs 78:13–16

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم ہی نے (آسمان میں) ایک روشن چراغ بنایا (مراد آفتاب ہے) ۔ (ف 1)

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور ہم ہی نے پانی بھرے بادلوں سے کثرت سے پانی برسایا۔

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم اس (پانی) کے ذریعہ سے غلہ۔

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور سبزی اور گنجان باغ پیدا کریں۔

ف 1۔ مراد آفتاب ہے کقولہ تعالیٰ وجعل الشمس سراجا۔
Ayahs 78:17–19

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلوں کا دن (ف 2) ایک معین وقت ہے۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

یعنی جس دن صور پھونکا جاوے گا پھر تم لوگ گروہ گروہ ہو کر آؤ گے۔

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھل جاوے گا پھر اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے۔

ف 2۔ اور ان سب سے ہمارا کمال قدرت ظاہر ہے، پھر قیامت پر ہمارے قادر ہونے کا کیوں انکار کیا جاتا ہے۔
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹا دیے (ف 3) جاویں گے سو وہ ریت کی طرح ہوجاویں گے۔

ف 3۔ یعنی آسمان اس قدر بہت سا کھل جائے گا جیسے بہت سے دروازے ملا کر بہت سی جگہ کھلی ہوتی ہے، پس کلام مبنی ہے تشبیہ پر اب یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ آسمان میں دروازے تو اب بھی ہیں، پھر اس دن دروازے ہونے کے کیا معنی ؟ اور یہ کھلنا نزول ملائکہ کے لئے ہوگا، جیسا سورة فرقان میں تشقق السماء سے تعبیر فرمایا ہے۔
Ayahs 78:21–38

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

آگے اس یوم الفصل میں جو فیصلہ ہوگا (ف 4) اس کا بیان ہے۔

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

(یعنی) بیشک دوزخ ایک گھات کی جگہ ہے سرکشوں کا ٹھکانہ ہے۔

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جس میں وہ بےانتہا زمانوں (پڑے) رہیں گے۔

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

(اور) اس میں نہ تو کسی ٹھنڈک (یعنی راحت) کا مزہ چکھیں گے اور نہ پینے کی چیز کا (جو کہ مسکن عطش ہو) ۔

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

بجز گرم پانی اور پیپ کے۔

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

اور (ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا (اور وہ اعمال جن کا بدلہ یہ ہے کہ) ۔

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

وہ لوگ حساب (قیامت) کا اندیشہ رکھتے تھے۔

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیتوں کو خوب جھٹلاتے تھے۔

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے (انکے اعمال میں) لکھ کر ضبط کر رکھا ہے۔

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

سو مزہ چکھو کہ ہم تم کو سزا ہی بڑھاتے جاویں گے۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

خدا سے ڈرنے والوں کے لیے بیشک کامیابی ہے (یعنی کھانے اور سیر کو) ۔

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ (جن میں طرح طرح کے میوے ہوں گے) ۔

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور انگور اور (دل بہلانے کو) نو خواستہ ہم عمر عورتیں۔

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

(اور پینے کو) لبا لب بھرے ہوئے جام شراب۔

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

(اور) وہاں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ (کیوں کہ یہ باتیں وہاں محض معدوم ہیں) ۔

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

یہ (ان کی ان نیکیوں کا) بدلہ ملے گا جو کہ کافی انعام ہوگا۔

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

آپ کے رب کی طرف سے جو مالک ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو دونوں کے درمیان ہیں (اور جو رحمٰن ہے (اور) کسی کو اس کی طرف سے (مستقل) اختیار نہ ہوگا کہ (اس کے سامنے) عرض و معروض کرسکے۔

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس روز تمام ذی ارواح اور فرشتے (ف 5)5۔ یہاں کئی صفتیں ارشاد ہیں۔ رب السموات، جو دال ہے مالک تصرفات واقعہ یوم قیامت پر، اور رحمان جو جزائے مومنین کے مناسب ہے اور لا یملکون جو تخویف کا فرین کے مناسب ہے۔ (خدا کے روبرو) صف بستہ (خشوع و خضوع کے ساتھ) کھڑے ہوں گے (اس روز) کوئی نہ بول سکے گا بجز اس کے جس کو رحمٰن (بولنے کی) اجازت دے دے اور وہ شخص بات بھی ٹھیک کہے۔

ف 4۔ اور یہ واقعات نفخہ ثانیہ کے وقت ہوں گے، البتہ پہاڑ چلائے جانے میں اس سورة بھی اور دوسری جگہ بھی جہاں جہاں واقع ہوا ہے دونوں احتمال ہیں یا تو نفخہ ثانیہ کے بعد کہ اس سے سب عالم بہیئتہ عود کر آئے گا۔ جب حساب کا وقت آئے گا تو پہاڑوں کو زمین کے برابر کردیا جائے گا تاکہ زمین پر کوئی آڑ پہاڑ نہ رہے سب ایک ہی میدان میں نظر آئیں اور یا یہ نفخہ ثانیہ تک کا مجموعہ ایک یوم قرار دے لیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہ دن (جس کا اوپر ذکر ہوا) ہے (ف 6) یقینی دن ہے سو جس کا جی چاہے (اس کے حالات سن کر اپنے رب کے پاس (اپنا) ٹھکانہ بنا رکھے۔

ف 6۔ ٹھیک بات سے وہ بات مراد ہے جس کی اجازت دی گئی ہو یعنی بولنا بھی محدود و مقید ہوگا یہ نہیں کہ جو چاہے بولنے لگے۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تم کو ایک نزدیک آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے (جو کہ ایسے دن میں واقع ہونے والا ہے جس دن ہر شخص ان اعمال کو (اپنے سامنے حاضر) دیکھ لے گا جو اس نے اپنے ہاتھوں کیے ہوں گے اور کافر (حسرت سے) کہے گا کاش میں مٹی ہوجاتا (تاکہ عقاب سے بچتا) ۔ (ف 1)

ف 1۔ اور یہ اس وقت کہے گا جب بہائم مٹی کردیئے جائیں گے۔ رواہ فی الدر عن ابی ہریرہ یا وہ معنی مراد ہوں جو سورة نساء لو تسوی بھم الارض میں گزرے ہیں۔