79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 79:1–5

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں

(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں، اور قسم ہے ان فرشتوں کہ جو کہ کافروں کی جانوں پر سختیاں کرتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ جو مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ صالحین کی روحوں کو نکالتے ہیں، اور پھر ان کے آرام کے مقام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ مومنین کی ارواح کو جنت کی طرف اور کفار کی روحوں کو دوزخ کی طرف تیزی کے ساتھ لے جاتے ہیں، یا یہ کہ اس سے مراد مسلمانوں کی روحیں ہیں جو خودبخود تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتی ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ بندوں کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہیں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت۔ اور کہا گیا ہے کہ فالمدبرات امرا سے فرشتے مراد ہیں اور ان کے علاوہ جن چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ ان سے ستارے مراد ہیں اور روایت کیا گیا ہے کہ والنّٰزِعٰتِ غَرْقًا سے مراد غازیوں کی تیر کمانیں ہیں اور وّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا سے مراد ان کے تیر کے نشانے ہیں اور وّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا سے مراد غازیوں کی کشتیاں ہیں اور فالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا سے مراد غازیوں کے گھوڑے ہیں اور فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا اس سے مراد غازیوں کے سپہ سالار ہیں یا یہ کہ وّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا سے مراد چاند، سورج اور دن رات ہیں۔ شان نزول : قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ (الخ) سعید بن منصور نے محمد بن کعب سے روایت ہے کہ جس وقت ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِي الْحَافِرَةِ یہ آیت نازل ہوئی تو کفار قریش بولے کہ اگر ہم مرنے کے بعد پھر زندہ کیے گئے تو ہم تو بڑے خسارہ میں رہیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ۔
Ayahs 79:6–10

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

اور آنکھیں جھکی ہوئی

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹیں گے ؟

(6۔ 10) ان تمام چیزوں کی قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دونوں مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ چناچہ فرما رہے ہیں کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہر ایک چیز کو ہلا دے گی یعنی نفخہ اولی ہوگا اور پھر اس کے بعد نفخہ ثانیہ ہوگا۔ قیامت کے دن دل خوف زدہ ہوں گے اور ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی مگر یہ مکہ کے کافر کہتے ہیں کیا ہم دنیاوی حالت کی طرف پھر واپس ہوں گے۔
Ayahs 79:11–13

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے (تو پھر زندہ کیے جائیں گے)

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی

(11۔ 13) کیا ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر کیسے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، حضور نے اس پر فرمایا ہاں، ضرور زندہ کیے جاؤ گے تو وہ بولے یہ بڑے نقصان والی واپسی ہوگی۔
Ayah 79:14

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بس وہ ایک ہی آواز ہوگی جس سے سب روئے زمین پر یا یہ کہ میدان حشر میں آموجود ہوں گے۔
Ayahs 79:15–16

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب ان کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طوی میں پکارا

(15۔ 16) کیا آپ کو حضرت موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے جبکہ ان کو ان کے پروردگار نے ایک پاک میدان یعنی وادی طوی میں پکارا، انبیاء کا گزر اس وادی پر بکثرت ہوا اس واسطے اس کا یہ نام پڑگیا۔
Ayahs 79:17–20

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور (اس سے) کہو کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا راستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔

(17۔ 20) کہ تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑا تکبر اور کفر اختیار کیا ہے اور اس سے کہو کہ اے فرعون کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ تو درست ہوجائے اور توحید خداوندی کا قائل ہوجائے اور میں تجھ کو تیرے پروردگار کی طرف بلاؤں تو تو اس سے ڈرنے لگے اور اسلام قبول کرے، پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی یعنی عصا اور ید بیضا دکھایا تو اس نے اس کے اللہ کی جانب سے ہونے کو جھٹلایا اور اسے قبول نہیں کیا۔
Ayahs 79:21–26

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اور (لوگوں) کو اکھٹا کیا اور پکارا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کیلئے اس (قصے) میں عبرت ہے

(21۔ 26) پھر ایمان سے یا کہ موسیٰ سے اعراض کر کے ان کے خلاف کوشش کرنے لگایا، یا یہ کہ اپنے متعلقین کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور اپنے لوگوں کو جمع کرے کے بلند آواز سے ان کے سامنے تقریر کی اور کہنے لگا کہ میں تمہارا رب ہوں، اور تمہارے بڑے بتوں کا بھی رب ہوں، سو تم ان کی عبادت کو مت چھوڑو، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا و آخرت کے عذاب میں پکڑا، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی پہلی اور دوسری بات پر سزا دی اور دونوں باتوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا، پہلی بات تو اس کی یہ تھی ما علمت من الہ غیری اور دوسری بات یہ ہے انا ربکم الاعلی، اس واقعہ میں ڈرنے والے کے لیے بہت بڑی عبرت ہے۔
Ayahs 79:27–33

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

بھلا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا ؟ اسی نے اس کو بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی چھت کو اونچا کیا پھر اسے برابر کردیا

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدے کیلیے (کیا)

(27۔ 33) اے مکہ والو ! بھلا تمہار دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا بنانا، اللہ نے اس کی چھت کو بلند کیا۔ اور زمین پر درست کیا اور اس کی رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور اس کے دن اور اس کے سورج کو روشن بنایا اور اس کے ساتھ زمین کو پانی پر بچھایا، یا یہ کہ اس کے دو ہزار سال بعد بچھایا اور زمین سے اس کا جاری اور غیر جاری پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں بنایا، اور یہ پانی اور گھاس تمہارے اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔
Ayahs 79:34–35

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

تو جب بڑی آفت آئے گی

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا

(34۔ 35) سو جس وقت قیامت قائم ہوگی اور اس کا ہنگامہ ہر ایک چیز کو گھیرے گا اس روز کافر یعنی نضر بن حارث اپنے اعمال کفریہ کا یاد کریں گے اور ان کو جان لیں گے۔
Ayahs 79:36–39

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی۔

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

تو جس نے سرکشی کی

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

اس کا ٹھکانا دوزخ ہے

(36۔ 39) اور دوزخ داخل ہونے والوں کے سامنے دوزخ ظاہر کی جائے گی، سو جس شخص نے کفر وتکبر اور سرکشی اختیار کی اور دنیا کو آخرت پر اور کفر کو ایمان پر ترجیح دی مثلا نضر بن حارث سو دوزخ ایسے لوگوں کی جگہ ہوگی۔