Ayah 79:1ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان فرشتوں کی جو کفار کی روح کو ڈوب کر سختی سے کھینچنے والے ہیں، قسم ہے ان فرشتوں کی جو نرمی سے مسلمانوں کی (روح) کو نکالنے والے ہیں یعنی روح کو آسانی کے ساتھ نکالنے والے ہیں، قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمان میں تیزی سے تیرنے والے ہیں یعنی نازل ہوتے ہیں، پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو مومنین کی روحوں کو لے کر جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں، پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو دنیاوی معاملات کی تدبیر کرتے ہیں یعنی اس کی تدبیر کو لے کر نازل ہوتے ہیں، ان قسموں کا جواب محذوف ہے اور وہ لتبعثن یا کفار مکۃ ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور اٹھایا جائے گا) اور یہی یوم ترجف الراجفۃ میں عامل ہے، جس دن ہلا ڈالے گا ہلا ڈالنے والی (یعنی نفخہ اولیٰ ، اس کی وجہ سے ہر چیز کانپنے لگے گی، یعنی ہر شیء متزلزل ہوجائے گی (قیامت کو) اسی صفت سے متصف کیا گیا ہے جو اس سے پیدا ہوگی، اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا یعنی دوسرا نفخہ، اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا، اور جملہ راجفۃ سے حال ہے، (روز قیامت میں) دونوں نفخوں و غیرہما کی گنجائش ہوگی، لہٰذا روز قیامت کا اس بعث کے لئے ظرف بننا صحیح ہے جو نفخہ ٔ ثانیہ کے بعد واقع ہوگا، بہت سے دل ہوں گے جو اس دن خوف کی وجہ سے کانپ رہے ہوں گے یعنی اضطراب کی وجہ سے خوف زدہ ہوں گے ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اس ہولناکی کی وجہ سے جس کو وہ دیکھ رہی ہوں گی، پست ہوں گی، یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی حالت میں واپس لائے جائیں گے یعنی یہ قلب و نظر والے (کفار مکہ) استہزاء اور انکار بعث کے طور پر کہتے ہیں (کیا ہم پہلی حالت میں واپس لائے جائیں گے) یعنی کیا ہم مرنے کے بعد لوٹائے جائیں گے اور حافرہ اول امر کا نام ہے، اسی سے رجع فلان فی حافرتہ ہے (یعنی فلاں شخص اپنے سابقہ حال پر آگیا) یہ اس وقت بولتے ہیں جب اسی طرف لوٹ جائے جہاں سے آیا تھا، کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اور ایک قرأت میں ناخرۃ ہے بمعنی بوسیدہ، ریزہ ریزہ، زندہ کئے جائیں گے کہتے ہیں پھر تو یہ ہمارا حیات کی طرف لوٹنا بڑے گھاٹے کا ہوگا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا پس یہ یعنی نفخہ ٔ ثانیہ ایک آواز ہوگی جس کے بعد بعث ہوگی جب وہ پھونک دی جائے گی تو اچانک پوری مخلوق زندہ ہو کر سطح زمین پر آجائے گی حالانکہ وہ مردے تھے زمین کے نیچے، کیا آپ ﷺ کو اے محمد ﷺ ! موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے (حدیث) اذناداہ میں عامل ہے (نہ کہ اتک) جب کہ ان کو ان کے رب نے مقدس، میدان طویٰ میں پکارا (طوی) ایک وادی کا نام ہے، تنوین کے ساتھ اور بغیر تنوین کے، تو فرمایا کہ تم فرعون کے پاس جائو کہ اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے یعنی کفر میں حد سے تجاوز کر گیا ہے، اس سے کہو کہ کیا تیری چاہت ہے کہ میں تجھ کو ایسی چیز کی دعوت دوں جس سے تو پاک ہوجائے ؟ ایک قرأت میں (تزکی) میں زا کی تشدید کے ساتھ ہے، تزکی کی تاء ثانیہ کو اصل میں زاء میں ادغام کر کے، یعنی شرک سے پاک ہوجائے، اس طریقہ سے کہ تو لا الہ الا اللہ کی شہادت دے اور یہ کہ میں تجھے تیری رب کی راہ دکھائوں کہ تو اس سے ڈرنے لگے، یعنی دلیل کے ساتھ اس کی معرفت کی طرف تیری رہنمائی کروں پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو نو نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی دکھائی اور وہ ید بیضاء یا عصاء کی نشانی ہے، مگر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی پھر (اس نے) ایمان سے روگردانی کی اور فساد فی الارض کے لئے دوڑ دھوپ کرنے لگا، پھر اس نے جادوگروں اور اپنے لشکر کو جمع کیا اور پکار کر کہا میں تمہارا بڑا رب ہوں مجھ سے بڑا کوئی رب نہیں ہے، پھر اللہ نے اس کو غرق آب کے ذریعہ ہلاک کر کے آخری کلمہ اور پہلے کلمے کے عذاب میں پکڑ لیا یعنی آخری کلمہ سے پہلے کلمے کے عذاب میں (اور وہ پہلا کلمہ) ” ما علمت لکم من الہ غیری “ ہے اور ان دونوں کلموں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ تھا بیشک اس (مذکور) میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : النازعات (ض) نزع سے اسم فاعل جمع مونث، کھینچ کر نکالنے والیاں، یہاں طائفۃ کے معنی میں ملائکہ مراد ہیں۔
قولہ : غرقا یہ حذف زوائد کے ساتھ مصدر ہے ای اغراقا اپنے عامل النازعات کے معنی میں ہونے کی وجہ سے مفعول مطلق ہے جیسے قمت وقوفا، یا قعدت جلوسا، یا حال ہے ای ذوات اغراق، اغرق فی الشیء اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی معاملہ میں انتہائی حد کو پہنچ جائے۔
قولہ : الناشطات (ض) نشطا سے اسم فعل جمع مؤنث، کھولنے والیاں، سہولت کرنے والیاں، نشط فی العمل اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی چیز میں سہولت اور جلدی کرتے ہیں، نشطا اور اس کے ما بعد سب اپنے عوامل کی تاکید کرنے والے مصادر ہیں۔
قولہ : ای تنزل بتدبیرہ اس اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ تدبیر کی نسبت ملائکہ کی جانب اسناد مجازی کے طور پر ہے، اصل مدبر اللہ تعالیٰ ہیں، اسی کے حکم سے ملائکہ تدبیر کرتے ہیں۔
قولہ : لتبعثن یا کفار مکۃ یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے، کفار مکہ کی تخصیص صرف اس لئے ہے کہ وہ بعث کے منکر ہیں ورنہ بعث مومن و کافر سب کے لئے ہے۔
قولہ : فالیوم واسع للنفختین یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ یوم ترجف الرجفۃ سے نفخہ ٔ اولی مراد ہے، جو کہ موت کا سبب ہوگا تو پھر وہ لتبعثن مقدر کا ظرف کس طرح ہوسکتا ہے، اس لئے کہ بعث تو نفخہ ٔ ثانیہ کے وقت ہوگا۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ وہ دن اتنا بڑا ہوگا کہ اس میں دونوں نفخوں کی گنجائش ہوگی اگرچہ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا، چالیس سال کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی دن چالیس سال کے برابر ہوگا، فصح ظرفیتہ للبعث یعنی یوم کا بعث مقدر کے لئے ظرف واقع ہونا صحیح ہے۔
قولہ : تتبعھا الرادفۃ، رادفۃ کے معنی ہیں متصلاً بعد میں آنے والا، نفخہ ٔ ثانیہ چونکہ اولیٰ کے بعد واقع ہوگا ان کے درمیان اور کوئی شئی حائل نہ ہوگی اسی وجہ سے نفخہ ٔ ثانیہ کو رادفہ کہا گیا ہے۔
قولہ : قلوب یومئذ و اجفۃ، قلوب مبتداء ہے اور ابصارھا اس کی خبر ہے۔
سوال : قلوب نکرہ ہے اس کا مبتداء بننا صحیح نہیں ہے ؟
جواب : واجفۃ، قلوب کی صفت مخصصہ ہے جس کی وجہ سے نکرہ کا مبتدا بننا صحیح ہے، یعنی واجفۃ، یومئذ اپنے ظرف سے مل کر قلوب کی صفت ہے ابصارھا میں ھا ضمیرقلوب کی طرف راجع ہے اور قلوب کا مضاف محذوف ہے، ای ابصار اصحاب القلوب خاشعۃ۔
ترکیب : قلوب موصوف یومئذ، واجفۃ کا ظرف مقدم، واجفۃ اپنے ظرف مقدم سے مل کر قلوب کی صفت، موصوف صفت سے مل کر مبتداء، ابصارھا مبتدا ثانی، خاشعۃ اس کی خبر، مبتداء خبر سے مل کر جملہ ہو کر مبتداء اول کی خبر ہے۔
قولہ : فی الحافرۃ ای الی الحافرۃ، فی بمعنی الی اور حافرہ بمعنی حیات۔
قولہ : ء اذا کنا عظاما نخرۃ، اذا کا عامل محذف ہے جس پر مردودون دلالت کر رہا ہے، ایء اذا کنا عظامابالیۃ نرد و نبعث۔
قولہ : نخرۃ یہ نخر العظم سے ماخوذ ہے بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈی کو کہتے ہیں۔
قولہ : قالوا تلک، تلک مبتداء ہے اور اس کا مشار الیہ رجعۃ ہے، کرۃ بمعنی رجعۃ موصوف ہے، خاسرۃ صفت، موصوف صفت سے مل کر مبتداء کی خبر ہے۔
قولہ : خاسرۃ اس کی تفسیر ذات خسران سے کر کے ایک سوال مقدر کے جواب کی طرف اشارہ کردیا۔
سوال : خاسرۃ کا حمل کرۃ پر درست نہیں ہے ؟
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ خاسرۃ، ذات خسران کے معنی میں ہے، یا خاسرۃ سے اصحاب خسران مراد ہیں، اور اسناد مجازی ہے جیسا کہ ربحت تجارتھم میں اسناد مجازی ہے۔
قولہ : فاذا نفخت اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ فاذا ھم بالساھرۃ شرط محذوف کی جزاء ہے۔
قولہ : فقال، ای فقال تعالیٰ ۔
قولہ : بالتنوین و ترکہ، یعنی طوی اگر مکان کے معنی میں ہو تو منصرف ہونے کی وجہ سے منون ہوگا اور اگر بقعۃ کے معنی میں ہو تو غیر منصرف ہونے کی وجہ سے غیر منون ہوگا۔
قولہ : نکال الآخرۃ، آخرۃ سے مراد بعد والا کلمہ ہے جو کہ ” انا ربکم الاعلیٰ “ ہے اور اولیٰ سے مراد پہلا کلمہ ہے اور وہ ” ما علمت لکم من الہ غیر “ ہے اور بعض حضرات نے اولیٰ سے عذاب غرق اور آخرۃ سے عذاب حرق مراد لیا ہے۔ (واللہ اعلم) ۔
تفسیر و تشریح
والنازعات غرقا، نازعات، نزع سے مشتق ہے اس کے معنی کسی چیز کو کھینچ کر نکالنے کے ہیں، اور غرقا اس کی تاکید ہے اس لئے کہ غرق اور اغراق کے معنی پوری طاقت صرف کرنے کے ہیں ” اغرق النازع “ اس وقت بولتے ہیں جب کمان کھینچنے والا کمان کھینچے کھینچنے میں پورا زور لگا دے، یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے، فرشتے کافروں کی جان نہایت سختی سے نکالتے ہیں، اور اس سختی کا تعلق روح سے ہوتا ہے اگر کسی کافر یا مجرم کی جان بظاہر آسانی سے نکلتی معلوم ہو تو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی روح کو سختی سے نہیں نکالا گیا۔
Ayah 79:2والناشطات نشطا، نشط گرہ کھولنے کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس طرح گرہ کھولنے کے بعد چیز آسانی سے نکل جاتی ہے، اسی طرح مومن کی روح بھی فرشتے آسانی سے نکالتے ہیں۔
Ayah 79:3والسابحات سبحا، سبح کے لغوی معنی تیرنے کے ہیں، یہاں تیزی سے چلنا مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ روح قبض کرنے کے بعد فرشتے روح کو لے کر تیزی سے بلا روک ٹوک آسمانوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔
Ayah 79:4فالسبقت سبقا، یعنی ان فرشتوں کی قسم جو سبقت کرنے والے ہیں، کس چیز میں سبقت کرنے والے ہیں ؟ تو واضح رہے کہ یہاں روحوں کو ان کے ٹھکانے پر پہنچانے میں سبقت کرنا مراد ہے، ورنہ تو اس امر خاص میں سبقت اور عجلت کے علاوہ فرشتے ہر امر خداوندی کی بجا آوری میں سبقت کرتے ہیں۔
Ayahs 79:5–13فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔
خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔
نفس اور روح سے متعلق قاضی ثناء اللہ (رح) تعالیٰ کی تحقیق :
حضرت براء بن عازب ؓ کی ایک طویل حدیث مشکوٰۃ میں بحوالہ مسند احمد مذکور ہے، اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نفس انسان ایک لطیف جسم ہے جو اس کے جسم کثیف میں سمایا ہوا ہے اور وہ انہی مادی عناصر اربعہ سے بنا ہے، فلاسفہ اور اطباء اسی کو روح کہتے ہیں، مگر درحقیقت روح انسانی ایک جوہر مجرد اور لطیفہ ٔ ربانی ہے جو اس طبعی روح یعنی نفس کے ساتھ ایک خاص ربط وتعلق رکھتا ہے اور اس طبعی روح یعنی نفس کی حیات خود اس لطیفہ ٔ ربانی پر موقوف ہے، اس کو روح الروح بھی کہہ سکتے ہیں، کہ جسم کی زندگی نفس سے اور نفس کی زندگی روح سے ہے، اس لطیفہ ٔ ربانی کا تعلق اس جسم لطیف (نفس) کے ساتھ کس قسم کا ہے ؟ اس کی حقیقت کا علم ان کے پیدا کرنے والے کے علاوہ کسی کو نہیں، اور یہ جسم لطیف جس کا نام نفس ہے اس کو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک آئینہ کے مثل بنایا ہے جو آفتاب کے بالمقابل رکھ دیا گیا ہو تو آفتاب کی روشنی اس میں ایسی آجاتی ہے کہ یہ خود آفتاب کی طرح روشنی پھیلاتا ہے، نفس انسانی اگر تعلیم وحی کے مطابق ریاضت و محنت کرلیتا ہے تو وہ بھی منور ہوجاتا ہے یہی وہ جسم لطیف ہے جس کو فرشتے اوپر لے جاتے ہیں اور یہی جسم لطیف اعمال صالحہ سے منور اور خوشبو دار ہوجاتا ہے اور کفر و شرک سے تاریک و بدبو دار ہوجاتا ہے، روح مجرد کا تعلق بواسطہ جسم لطیف یعنی نفس کے واسطے سے ہوتا ہے، اس جسم لطیف پر موت طاری نہیں ہوتی قبر (برزخ) کا عذاب وثواب بھی اسی روح سے متعلق ہوتا ہے اس نفس کا تعلق قبر (برزخ) سے رہتا ہے اور روح مجرد اعلی علیین میں رہتی ہے، اور روح مجرد اس ثواب و عقاب سے بواسطہ نفس متاثر ہوتی ہے، اس طرح روح کا قبر میں ہونا بمعنی نفس کے صحیح ہے اور اس کا عالم ارواح میں ہونا بمعنی روح مجرد صحیح ہے، اس سے ان روایات مختلفہ میں تطبیق ہوجاتی ہے جن میں سے بعض کی رو سے روح کا قبر میں ہونا معلوم ہوتا ہے اور بعض سے اعلیٰ علیین میں ہونا۔
Ayahs 79:14–24فاذا ھم بالساھرۃ، ساھرۃ، سے مراد سطح زمین ہے، قیامت کے دن پوری زمین سطح اور چٹیل میدان ہوجائے گی، نہ کہیں نشیب و فراز ہوگا اور نہ آڑ پہاڑ، اس کے بعد کفار اور منکرین بعث کی ضد سے جو آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایذاء پہنچ جانا کچھ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی بڑی بڑی اذیتیں دی گئی تھیں انہوں نے صبر کیا آپ ﷺ بھی صبر کیجئے۔
Ayahs 79:25–26فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی، ” نکال “ ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت حاصل ہو، ” آخرۃ “ اور ” اولی “ کا مطلب مفسر علام نے جو لیا ہے وہ تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گزر چکا ہے، ملاحظہ فرما لیا جائے، بعض حضرات نے نکال الآخرۃ سے فرعون کے لئے عذاب آخرت مراد لیا ہے، اور نکال اولی سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کو غرق دریا ہوجانے سے پہنچا۔ (معارف)
Ayahs 79:27–28ترجمہ : اے بعث کے منکرو ! کیا تمہاری تخلیق زیادہ دشوار ہے یا آسمان کی ؟ (اانتم) دونوں ہمزوں کی تحقیق اور ثانی کو الف سے بدل کر اور ثانی کی تسہیل کے ساتھ اور مسہلہ اور دوسرے کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کے ساتھ، اللہ نے اس کو بنایا یہ آسمان کی تخلیق کی کیفیت کا بیان ہے، اس کو بلند وبالا بنایا یہ کیفیت بناء کا بیان ہے یعنی اس کی بلندی کو اونچا کیا، کہا گیا ہے کہ رفع سمکھا سے مراد رفع سقفھا ہے، یعنی اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی، پھر اس کو ٹھیک ٹھاک کیا (یعنی) اس کو بلا نقص کے سپاٹ بنایا، اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کا دن نکالا یعنی اس کے آفتاب کا نور ظاہر کیا، اور لیل کی اضافت آسمان کی جانب اس لئے کی کہ رات اس کا سایہ ہے اور شمس کی اضافت آسمان کی طرف کی گئی ہے اس لئے کہ شمس اس کا چراغ ہے، اور اس کے بعد زمین کو بچھایا وہ بغیر بچھائے اس کی تخلیق خلق سماء سے پہلے ہی ہوچکی تھی، اور اس سے اس کا پانی نکالا اس کے چشموں کو جاری کر کے (اخرج) قد کے اضمار کے ساتھ حال ہے مخرجا کے معنی ہیں، اور اس کے چارے کو نکالا یعنی وہ جس کو مویشی کھاتے ہیں خواہ درخت کے قبیل سے ہو یا گھاس کے، اور وہ چیز پیدا کی جس کو انسان کھاتے ہیں خواہ غلہ ہو یا پھل، اور انسانی خوراک پر مرعیٰ کا اطلاق بطور استعارہ (مجاز) کے ہے، اور پہاڑوں کو اس پر قائم کردیا یعنی زمین پر ثبت کردیا، تاکہ اس کا اضطراب ختم ہوجائے، یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کیلئے ہیں (متاعا) فعل مقدر کا مفعول لہٗ ہے ای فعل ذل متعۃ یا متاعا بمعنی تمتیعا مصدر ہے (اس کا بھی فعل متعنا مقدر ہوگا ای متعنا تمتیعا) انعام، نعم کی جمع ہے اور انعام اونٹ، گائے اور بکری کو کہتے ہیں، سو جب ہنگامہ ٔ عظیم آوے گا یعنی نفخہ ٔ ثانیہ، یعنی جس دن انسان دنیا میں اپنے کئے ہوئے خیر و شر کو یاد کرے گا (یوم) اذا سے بدل ہے اور ہر دیکھنے والے کے سامنے جہنم یعنی جلا دینے والی آگ ظاہر کی جائے گی اور اذا کا جواب فاما من طغی ہے تو جس شخص نے سرکشی یعنی کفر کیا اور خواہشات کی اتباع کی وجہ سے دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے، ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس امارہ کو شہوتوں کی اتباع کے ذریعہ ہلاک کرنے والی خاہشات سے روکا ہوگا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے، اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ نافرمان دوزخ میں ہوگا اور فرمانبردار جنت میں، کفار مکہ آپ ﷺ سے قیامت واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں یعنی یہ کہ اس کا وقوع اور قیام کب ہوگا ؟ اس کے بیان کرنے سے آپ ﷺ کا کیا تعلق، یعنی آپ ﷺ کے پاس اس کا علم نہیں ہے کہ آپ ﷺ اس کو بیان کریں، اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے (یعنی) وقوع قیامت کے علم کی انتہا (اسی کی طرف ہے) یعنی اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا، آپ ﷺ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آپ ﷺ کا ڈرانا صرف اس شخص کو فائدہ دے گا جو اس سے ڈرے گا، جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے، تو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ اپنی قبروں میں صرف دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر کی مقدار رہے ہیں یعنی ایک دن کی شام یا صبح کی مقدار اور ضحی کی اضافت عشیۃ کی جانب اس وجہ سے ہے کہ ان کے درمیان تعلق ہے، اس لئے کہ دونوں دن کے کنارے ہیں اور اضافت کو کلمہ ٔ فاصلہ (او) کے واقع ہونے نے حسین بنادیا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ا انتم یہ استفہام منکرین بعث کی توبیخ کے لئے ہے۔
قولہ : بتحقیق الھمزتین، ای مع ادخال الالف و ترکہ، پہلا ہمزہ ہمیشہ محقق ہی ہوتا ہے تسہیل و تحقیق صرف دوسرے میں ہوتی ہے، لہٰذا دونوں ہمزوں کے محقق ہونے کی صورت میں ادخال الف اور ترک ادخال، یہ قرأتیں ہوئیں اور دوسرے ہمزہ کے مسہلہ ہونے کی صورت میں بھی ادخال الف اور ترک ادخال، دو یہ ہوئیں، اور دوسرے ہمزہ کو الف سے بدل کر ایک قرأت یہ ہوئی، کل پانچ قرأتیں ہوگئیں۔
قولہ : اشد خلقا اس سے اشارہ کردیا ہے کہ ام السماء مبتدء ہے اور اشد خلقا اس کی خبر محذوف ہے۔
قولہ : والارض، الارض اشتغال کی وجہ سے منصوب ہے۔
قولہ : کانت مخلوقۃ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ سورة فصلت میں ہے کہ ابتداء تخلیق، ارض سے ہوئی اس کے بعد آسمان کی تخلیق ہوئی اور یہاں اس کا عکس ہے جو تعارض ہے ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ زمین کے مادہ کی تخلیق تو تخلیق آسمان سے مقدم ہی ہے مگر اس کا پھیلانا اور بچھانا بعد میں ہے لہٰذا کوئی تعارض نہیں۔
قولہ : واطلاق المرعی علیہ استعارۃ یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ انسان کی غذا پر چارے کا اطلاق کیا گیا ہے جو کہ مناسب نہیں ہے، اس لئے کہ چارا جانور کی خوراک کو کہا جاتا ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ اطلاق بطور مجاز کے ہے یعنی اس سے مطلقاً ماکول مراد ہے، جس میں انسانی اور حیوانی دونوں غذائیں شامل ہیں۔
قولہ : و جواب اذا فاما من طغی الخ یعنی اذا کا جواب فاما من طغی ہے، اس میں قدرے تسہل ہے، اس لئے کہ فاما من طغی یہ دنیا میں لوگوں کی حالت کا بیان ہے اور فاذا جاءت الطامۃ الکبری آخرت میں لوگوں کی حالت کا بیان ہے جس کی وجہ سے جزاء اور شرط دو الگ الگ مقاموں میں ہوں گی، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اذا کا جواب محذوف مانا جائے جیسا کہ دیگر مفسرین نے مانا ہے، اور وہ یہ ہے ” دخل اھل النار النار واھل الجنۃ الجنۃ “
قولہ : ماواہ اس میں اشارہ ہے کہھی الماوی میں الف لام ضمیر کے عوض میں ہے جو کہ ” من طغی “ کی جانب لوٹ رہی ہے ” اذا “ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ عاصی دوزخ میں مطیع جنت میں ہوں گے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اذا کا جواب فاما من طغی کو قرار دینے کے بجئے محذوف مانا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا، جیسا کہ سابق میں اشارہ کیا گیا۔ (صاوی)
قولہ : فیم انت، فیم اصل میں فیما تھا قاعدہ معروفہ کی وجہ سے الف کو حذف کردیا گیا، اور فیم خبر مقدم ہے اور انت مبتداء مؤخر ہے۔
قولہ : وصح اضافۃ الضحیٰ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ رات کے لئے ضحٰی نہیں ہوتا ضحٰی تو دن کے لئے ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ضحٰی کی اضافت عشیۃ کی طرف لوٹنے والی ضمیر کی طرف کی گئی ہے ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ عشیۃ اور ضحیٰ دونوں یوم کے اطراف (کنارے) ہیں لہٰذا ان دونوں کے درمیان ربط وتعلق ہے، اسی وجہ سے ایک کی اضافت دوسرے کی طرف درست ہے۔
قولہ : وحسن الاضافۃ و قوع الکلمۃ فاصلۃ مطلب یہ ہے کہ اس ادنی مناسبت کی وجہ سے اضافت میں فواصل آیات کی رعایات نے حسن پیدا کردیا۔
تفسیر و تشریح
ا انتم اشد خلقا ام السماء بنھا، یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصد زجر و توبیخ ہے، مطلب یہ ہے کہ تم جو موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو بڑا ہی امر محال سمجھتے ہو اور بار بار کہتے ہو کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو ہمارے جسم کے پراگندہ اور منتشر اجزاء دوبارہ جمع کردیئے جائیں ؟ اور ان میں جان ڈال دی جائے ؟ کبھی تم اس بات پر بھی غور کرتے ہو کہ اس عظیم کائنات کا بنانا زیادہ مشکل کام ہے یا تمہارا دوبارہ پیدا کرنا ؟ جس خدا کے لئے اتنی بڑی اور عظیم کائنات کو پیدا کردینا کوئی مشکل کام نہیں، تو اس کے لئے آخر تمہارا دوبارہ پہلی شکل میں پیدا کردینا کیوں مشکل ہے ؟
Ayah 79:29واغطش لیلھا، اغطش بمعنی اظلم اور اخرج کا مطلب ہے ابرز، اور نھار کی جگہ ضحھا اس لئے کہا کہ چاشت کا وقت سب سے اچھا اور عمدہ ہے مطلب یہ ہے کہ دن کو سورج کے ذریعہ روشن کیا۔
Ayahs 79:30–36والارض بعد ذلک دحھا اس آیت میں زمین و پھیلانے اور ہموار کرنے کا ذکر ہے، خلق یعنی (پیدا کرنا) اور چیز ہے اور دحی (پھیلانا) اور چیز ہے، زمین کا مادہ تخلیق آسمان سے پہلے پیدا کیا البتہ زمین کو ہموار تخلیق آسمان کے بعد کیا اور پھیلانے کا مطلب صرف ہموار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ زمین کو رہائش کے قابل بنانا اور اس پر رہنے بسنے والوں کے لئے تمام ضروریات زندگی کے اسباب مہیا کرنا ہے۔
Ayahs 79:37–39فاما من طغی الخ، اول اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی تھیں اور وہ دو ہیں : اول طغیان، یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کرنا، اور دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دینا، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم بتایا ہے۔