Ayahs 78:1–8ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یہ قریشی آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں ؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ لوگ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے ہیں ؟ (عن النبا العظیم) (شئی مسئولہ کا) عطف بیان ہے، اور استفہام اسی شئی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے ہے اور وہ قرآن ہے جس کو نبی ﷺ لائے جو کہ بعث وغیرہ پر مشتمل ہے، (بایں طور) کہ مومنین اس کو ثابت کرتے ہیں اور کافر اس کا انکار کرتے ہیں، خبردار ! ان کو عنقریب وہ چیز معلوم ہوجائے گی جو ان کے اوپر اس کے انکار کی وجہ سے نازل ہوگی (کلا) حرف توبیخ ہے، پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا، یہ تاکید ہے، اس میں ثم اس بات کو بتانے کے لئے لایا گیا ہے کہ دوسری وعید پہلی سے شدید تر ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے قدرت علی البعث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (الم نجعل الخ) کیا یہ واقعہ نہیں کہ ہم نے زمین کو گہوارہ کے مانند بچھونا بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کے مانند گاڑ دیا، زمین کو پہاڑوں کے ذریعہ ساکن (غیر مضطرب) کردیا جس طرح خیموں کو میخوں کے ذریعہ قائم کردیا جاتا ہے، اور استفہام تقریر کے لئے ہے، اور ہم نے تم کو مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا اور تمہاری نیند کو ہم نے تمہارے جسموں کے لئے (باعث) راحت بنایا اور ہم نے رات کو اس کی ظلمت کی وجہ سے ساتر بنایا اور دن کو معاش یعنی معاش کا وقت بنایا، اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کئے شدادا، شدیدۃ کی جمع ہے یعنی ایسے قوی اور مضبوط کہ ان میں مرور زمان بھی اثر نہ کرسکے، اور ایک نہایت ہی روشن دہکتا ہوا چراغ یعنی سورج بنایا اور ہم نے پانی بھرے بادلوں سے یعنی ان بادلوں سے جو برسنے کے قریب ہوگئے ہوں مثل اس عورت کے کہ جو قریب البلوغ ہو اور جس کے حیض کا زمانہ قریب آگیا ہو، بہتا ہوا پانی برسایا، تاکہ ہم اس (پانی) کے ذریعہ غلہ مثل گندم اور گھاس مثل بھوسہ کے پیدا کریں اور گھنے گتھے ہوئے باغات اگائیں (الفاف) لفیف کی جمع ہے جیسا کہ اشراف، شریف کی جمع ہے، بلاشبہ مخلوق کے درمیان فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے (یعنی) ثواب و عقاب کا وقت ہے، جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی صور بمعنی قرن، (یوم ینفخ) یوم الفصل سے بدل ہے یا اس کا عطف بیان ہے، اور صور پھونکنے والے (حضرت) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں تو تم اپنی قبروں سے محشر کی جانب مختلف جماعتوں کی شکل میں چلے آئو گے، اور آسمان کھول دیا جائے گا (فتحت) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے یعنی (آسمان کو) نزول ملائکہ کے لئے پھاڑ دیا جائے گا، تو وہ دروازے یہ دروازے ہوجائے گا یعنی دروازوں والا ہوجائے گا، اور پہاڑ چلائے جائیں گے یعنی ان کو ان کی جگہ سے اکھاڑ دیا جائے گا، تو وہ چمکتے ہوئے ریت ہوجائیں گے (یعنی) اڑنے میں اور ہلکے پن میں مثل غبار (ہو جائیں گے) بلاشبہ جہنم کافروں کے گھات میں ہے کہ اس سے بچ کر نہیں جاسکتے یا (کافروں کے لئے) تیار کی گئی ہے کہ وہ ان کا ٹھکانہ ہے جس میں وہ داخل ہو گے، اور وہ اس میں قرنہا قرن رہیں گے (لابثین) حال مقدرہ ہے یعنی ان کے لئے اس میں داخل ہونا مقدر ہوچکا ہے نہ ان کو وہاں نیند میسر ہوگی اور نہ لذت کے ساتھ پینے کے قابل کوئی چیز اور اگر کچھ ملے گا تو بس نہایت گرم پانی اور بہتی پیپ (غساقا) تخفیف اور تشدید کے ساتھ یعنی وہ چیز جو دوزخیوں کے زخموں سے نکلے گی، بس وہ اسی کو چکھیں گے، اور اسی کے ذریعہ ان کو ان کے اعمال کے مطابق بھرپور بدلہ دیا جائے گا، یہ لوگ ان کے بعث سے منکر ہونے کی وجہ سے حساب کا اندیشہ نہ رکھتے تھے اور انہوں نے ہماری آیتوں قرآن کو بالکل جھٹلا دیا تھا، حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے ہر عمل کو گن کر ضبط کرلیا تھا یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا تاکہ ہم اس کا بدل دیں اور ان ہی (اعمال) میں سے ان کا قرآن کو جھٹلانا بھی ہے، اب چکھو مزہ یعنی ان پر عذاب واقع کرتے وقت ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے (اعمال) کا بدلہ چکھو، اب ہم تمہارے لئے عذاب پر عذاب ہی کا اضافہ کرتے جائیں گے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : عم، عم دو حرفوں عن، اور ما سے مرکب ہے، اصل میں عما تھا، ما استفہامیہ ہے اس پر حرف جرداخل ہے قاعدہ معروفہ کی وجہ سے ما سے الف حذف ہوگیا، قاعدہ معروفہ یہ ہے کہ جب ما استفہامیہ پر حرف جرداخل ہو تو الف کو حذف کردیا جاتا ہے، البتہ ضرورت شعری وغیرہ کے لئے باقی بھی رکھا جاسکتا ہے، ما استفہامیہ یہاں تفخیم و عظمت کیلئے ہے، اس لئے کہ یہاں استفہام کے حقیقی معنی ممکن نہیں کیوں کہ استفہام کے لئے مستفہم کا ناواقف ہونا ضروری ہے اور یہ خدا کے لئے محال ہے۔
قولہ : النبا، نباء عظیم الشان اور بڑی خبر کو کہتے ہیں، یہاں عظیم الشان خبر سے مراد قیامت ہے، کلا یہ حرف زجر و توبیخ ہے اس میں وعید و تہدید کے معنی ہیں۔
قولہ : ما یحل بھم یہ یعلمون کا مفعول بہ ہے۔
قولہ : وجی بثم للایذان الخ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے۔
اعتراض : اعتراض یہ ہے کہ جو مفہوم معطوف علیہ کا ہے وہی بعینہ معطوف کا ہے اور یہ عطف الشیء علی نفسہ ہے جو کہ جائز نہیں ہے ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ ثم کے ذریعہ عطف کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ دوسری تاکید پہلی کی بہ نسبت شدید ہے، پس دونوں میں تغائر موجود ہے لہٰذا عطف الشیء علی نفسہ کا اعتراض دفع ہوگیا۔
قولہ : الم نجعل الارض مھادا، الارض مفعول بہ اول ہے اور مھادا مفعول بہ ثانی جب کہ جعل بمعنی صیر ہو اور اگر بمعنی خلق ہو تو مھادا، الارض سے حال ہوگا۔
قولہ : سباتا، سبات، سبت سے مشتق ہے اس کے معنی مونڈنے اور قطع کرنے کے ہیں، نیند چونکہ ہموم و غمم کو قطع کردیتی ہے جس کی وجہ سے جسم کو راحت اور دماغ کو سکون نصیب ہوتا ہے، اسی وجہ سے بعض حضرات نے سبات کے معنی راحت کے لئے ہیں، انہیں میں سے مفسر علام بھی ہیں، یوم السبت کو سبت اس لئے کہتے ہیں کہ یوم السبت میں بقول یہد کے اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے فارغ ہونے کے بعد آرام فرمایا تھا۔
قولہ : وقتا للمعایش اس میں اشارہ کردیا کہ معاش مصدر میمی بمعنی ظرف زمان ہے۔
قولہ : الجاریۃ یہاں مطلق انثی مراد ہے۔
قولہ : ان یوم الفصل یہ کلام مستانف ہے جو کہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ وہ وقت کونسا ہے جو ادلہ متقدمہ سے ثابت کیا گیا ہے ؟ اس کا جواب ان یوم الفصل سے دیا گیا ہے کہ وہ مخلوق کے درمیان فیصلے کا دن ہے اس دن کے آنے میں چونکہ کفار کو تردد تھا اس لئے کلام کو ان کے ذریعہ مؤکد لایا گیا ہے۔
قولہ : جو زوا بذلک اس عبارت کے اضافہ سے اشارہ کر دا کہ جزاء وفاقا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے، ای جو زوا جزاء وفاقا۔
قولہ : موافقا لعملھم اس سے اشارہ کردیا کہ وفاقا مصدر بمعنی اسم فاعل ہے اور جزاء کی صفت ہے، ای جزاء موافقا لعملھم۔
قولہ : وکل شیء یہ اشتغال کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہے احصینا کل شیء احصینہ اور بعض حضرات نے کل کو ابتداء کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے اور اس کا مابعد اس کی خبر ہے، اور یہ جملہ سبب اور مسبب کے درمیان معترضہ ہے۔
قولہ : کتابا، کتابا مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے اس لئے کہ احصینا بمعنی کتبنا ہے ای کتبناہ کتابا۔
قولہ : فذوقوا فلن نزید کم الا عذابا یہ جملہ ان کے کفر و تکذیب کا مسبب ہے۔
تفسیر و تشریح
جب رسول اللہ ﷺ کو خلعت نبوت سے نوازا گیا، اور آپ ﷺ نے توحید، قیامت وغیرہ کو بیان فرمایا، تو کفار آپس میں پوچھ تاچھ کرتے کہ کیا واقعی قیامت برپا ہوسکتی ہے ؟ اور یہ قرآن جس کو یہ شخص اللہ کا کلام کہتا ہے کیا واقعی اللہ کا کلام ہے ؟
حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا تو کفار مکہ اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر اس کے متعلق رائے زنی اور چہ میگوئیاں کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے خود ہی سوال کر کے ان امور کی حیثیت و اہمیت کو واضح فرمایا اور پھر خود ہی جواب دے کر فیصلہ فرما دیا اور کلا کے ذریعہ ڈانٹ ڈپٹ کر کے فرمایا کہ یہ چیزیں بحث و مباحثہ اور تنقید و تبصرہ سے سمجھ میں آنے والی نہیں ہیں، جب اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھو گے تو سب کچھ خود ہی معلوم ہوجائے گا اور یہ عنقریب ہونے والا ہے۔
Ayahs 78:9–13نیند بہت بڑی نعمت ہے :
اللہ تعالیٰ نے عورت و مرد کے جوڑے کا ذکر کرنے کے بعد جو کہ اسباب راحت میں ایک ہے، نیند کا ذکر فرمایا، اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نیند ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کی ساری راحتوں کا مدار اسی پر ہے اور اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لئے ایسا عام فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل، بادشاہ و فقیر سب کو یہ دولت یکساں اور مفت عطا ہوتی ہے، اگر دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے ویسی وہ مالداروں اور بڑے بڑے سرداروں اور بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوتی، ان کے پاس راحت کے سامان تو ہیں مگر راحت نہیں ہے، راحت کا مکان ہے، نیز سردی گرمی کے اعتدال کا انتظام ہے گرم تکیے، گدے سب کچھ ہی جو غریبوں کو بہت کم نصیب ہوتے ہیں، مگر نیند کی نعمت ان گدں، تکیوں یا کوٹھی، بنگلوں کی فضا کے تابع نہیں وہ تو حق تعالیٰ کی نعمت ہے بعض اوقات مفلس بےسامان کو یہ نعمت بغیر کسی بستر اور تکئے کے کھلی زمین پر فراوانی سے دے دی جاتی ہے اور بعض اوقات ساز و سامان والوں کو نہیں دی جاتی حتیٰ کہ ان کو خواب آور گولیاں کھا کر بھی یہ نعمت حاصل نہیں ہوتی۔
رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگوں کو آرام و راحت نصیب ہو اور دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لئے جدوجہد کریں، اور زیادہ سے زیادہ سہولت کے ساتھ انسان اپنی معاش کی جستجو کرسکے۔
Ayahs 78:14–30وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا، معصرات، معصرۃ کی جمع ہے، ایسے بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو، اور برسنے کے قریب ہوگیا ہو، المرأۃ المعصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری کا وقت قریب آگیا ہو، ثجاجا کثرت سے بہنے والا پانی، جزاء وفاقا پورا بدلہ، یعنی جو سزا ان کو جہنم میں دی جائے گی وہ ان کے عقائد باطلہ اور اعمال سیئہ کے مطابق ہوگی، ازروئے عدل و انصاف اس میں کوئی زیادتی نہ ہوگی۔
Ayahs 78:31–35ترجمہ : یقینا پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے (یعنی) جنت میں کامیابی کا مقام ہے، باغات ہیں (حدائق) مفازا سے بدل ہے یا اس کا عطف بیان ہے اور انگور ہیں مفازا پر عطف ہے اور ہم عمر ابھری ہوئی پستانوں والی نو خیز لڑکیاں ہیں کو اعب، کا عبۃ کی جمع ہے وہ لڑکیاں جو نوجوان ہوں اور ان کی پستانیں ابھری ہوئی ہوں، (اتراب) ترب کی جمع ہے ہم عمر کو کہتے ہیں اور چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں (یعنی) ایسی شراب ہے جو جاموں کو بھرنے والی ہے اور سورة قتال میں ہے، اور سورة قتال میں ہے، اور شراب کی نہریں ہیں، وہاں یعنی جنت میں کسی بھی وقت نہ تو شراب پینے کے وقت اور نہ اس کے علاوہ نہ تو بیہودہ کلام ہوگا یعنی باطل قول اور نہ جھوٹی باتیں سنیں گے (کذابا) تخفیف کے ساتھ بمعنی کذب اور تشدید کے ساتھ بمعنی تکذیب ہے یعنی کسی سے کسی کی تکذیب نہ سنیں گے، بخلاف اس کے جو دنیا میں شراب پینے کے وقت ہوتا ہے (یعنی دنیا میں جو شراب پی کر مستی کی حالت میں گالی گلوچ اور بکواس کرتے ہیں یہ کیفیت جنت کی شراب میں نہ ہوگی) یہ تیرے رب کی جانب سے بدلہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ جزاء عطا فرمائی جو کثیر انعام ہوگا (عطاء) جزاء سے بدل ہے اور یہ عرب کے قول ” اعطائی فاحسبنی “ سے مشتق ہے یعنی میرے اوپر اس کثرت سے انعامات کی (بارش کی) کہ میں نے بس بس کہہ دیا (یہ بدلہ) اس رب کی طرف سے ہوگا جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کا مالک ہے (والارض) جر اور رفع کے ساتھ ہے (اور جو) رحمن ہے اس میں بھی دونوں اعراب ہیں، کسی مخلوق کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہوگا یعنی خوف کی وجہ سے اس سے بات کرنے پر کوئی قادر نہ ہوگا رب پر کسرہ کے ساتھ، رحمن پر رفع بھی درست ہے، جس دن روح یعنی جبرائیل (علیہ السلام) یا اللہ کا لشکر اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے (صفا) حال ہے بمعنی مصطفین تو کوئی مخلوق بات نہ کرسکے گی سوائے ان کے جن کو رحمن کلام کی اجازت دے گا اور مومنین اور فرشتوں میں سے ٹھیک بات کہے گا بایں طور کہ اس کی سفارش کریں، جس کے لئے خدا نے رضا مندی ظاہر کردی، یہ دن حق ہے یعنی اس کا وقوع ثابت ہے اور وہ قیامت کا دن ہے اب جو چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانہ بنائے یعنی اس کی اطاعت کر کے اس کی طرف رجوع کرے، تاکہ وہ اس ٹھکانہ میں عذاب سے محفوظ رہے اے کفار مکہ ! ہم نے تم کو عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا یعنی قیامت کے دن آنے والے عذاب سے، اور ہر آنے والی، قریب ہے، جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی خیر و شر کو دیکھ لے گا (یوم) عذابا کا مع اس کی صفت کے ظرف ہے اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوجاتا، یا، حرف تنبیہ ہے، یعنی پھر مجھے عذاب نہ دیا جاتا، یہ اس وقت کہے گا جب اللہ تعالیٰ جانوروں سے بعض کا بعض سے بدلہ دلوانے کے بعد کہے گا ” تم مٹی ہوجائو “۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ان للمتقین یہ کلام مستانف ہے، اہل جنت کے احوال کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے، اس کے ماقبل اہل نار کے احوال بیان فرمائے، للمتقین، ان کی خبر مقدم اور مفازا اسم مؤخر ہے، ان للمتقین مفازا، ان للطاغین مآبا کے مقابلہ میں لایا گیا۔
قولہ : عطف علی مفازا مناسب یہ ہے کہ اعنابا کا عطف حدائق پر ہو اور یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہوگا۔
قولہ : ثدیھن یہ ثدی کی جمع ہے بمعنی پستان۔
قولہ : خمرا مالئۃ مفسر علام نے کا سا کی تفسیر خمرا سے کی ہے اور دھاقا کی تفسیر مالئۃ سے کی ہے، یعنی جام کو بھرنے والی شراب، گویا کہ ظرف بول کر مظروف مراد لیا ہے، زیادہ بہتر ہوتا کہ کا سا کو اپنے معنی ہی میں رہنے دیتے، اور مالئۃ بمعنی ممتلئۃ ہو مطلب اضح ہے، لبالب بھرا ہوا جام۔
قولہ : عند شرب الخمر و غیر ھا، ھا ضمیر شرب کی طرف راجع ہے یہاں سوال ہوگا کہ ھا ضمیر مؤنث ہے اور شرب مذکرہ لہٰذا شرب کی طرف ضمیر لوٹا نا درست نہیں ہے ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ شرب نے تانیث اپنے مضاف الیہ خمرا سے حاصل کرلی ہے اور یہ بات درست ہے کہ مضاف الیہ کی رعایت سے مؤنث کی ضمیر لائی جائے خمر مؤنث سماعی ہے، گو بعض اوقات مذکر بھی استعمال ہوتی ہے، اور بعض نسخوں میں غیرھا کے بجائے غیرہ ہے، اس صورت میں کوئی اشکال نہیں ہوگا۔
قولہ : حسابا یہ عطاء کی صفت ہے، حسابا اگرچہ مصدر ہے مگر قائم مقام صفت کے ہے، یا پھر بطور مبالغہ وصف ہے، یا پھر مضاف محذوف ہے، ای ذ کفایۃ اس صورت میں زید عدل کے قبیل سے ہوگا۔ (صاوی)
قولہ : کذلک و برفعہ مع جر رب یعنی رب کا جو اعراب ہے یعنی رفع اور جر ہے وہی اعراب الرحمن کا بھی ہے، ایک مزید اعراب رحمن میں یہ بھی ہے کہ رب کے جر کے باوجود رحمن پر رفع ہو، اس صورت میں رحمن، ھو مبتداء محذف کی خبر ہوگی، یا الرحمن مبتداء ہوگا اور لا یملکون اس کی خبر ہوگی۔
تفسیر و تشریح
ان للمتقین مفازا، کافروں کے احوال اور ان کی سزا کے بیان کرنے کے بعد یہاں سے مومنین کے حالات اور ان کے لئے تیار کردہ انعامات کا ذکر ہے۔
Ayah 78:36جزاء من ربک عطاء حسابا، یعنی اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے وہ مومنین کے اعمال صالحہ کی جزاء اور ان کے رب کی جانب سے عطا ہیں، یہاں نعمتوں کو اول جزاء اعمال بتایا پھر عطاء ربانی فرمایا، بظاہر دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے، اس لئے کہ جزاء عوض اور بدلے کو کہتے ہیں اور عطاء وہ انعام ہے جو بلا کسی بدلے کے ہو ؟ اس پر کہا جائے گا کہ مذکورہ دونوں لفظوں کو جمع کرنے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بظاہر تو جنت کے انعامات جزاء اعمال ہوں گے مگر حقیقت میں وہ عطاء ربانی اور انعامات یزدانی ہوں گے اس لئے کہ بندے کے لئے اعمال تو دنیوی انعامات کے مقابلہ میں بھی کم ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ دنوں لفظوں کو لا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ نیک بندے کو صلہ صرف استحقاق ہی کے مطابق نہیں ملے گا بلکہ اس سے کہیں زیادہ بطور عطاء، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عنایت فرمائیں گے۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ کوئی شخص محض اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ حق تعالیٰ کا فضل نہ ہو، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا، کیا آپ بھی یا رسول اللہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! میں بھی۔
Ayah 78:37لا یملکون منہ خطابا، یعنی میدان حشر میں دربار الٰہی کے رعب کا یہ عالم ہوگا کہ اہل زمین ہوں یا اہل آسمان کسی کو بھی یہ مجال نہ ہوگی کہ از خود بغیر اجازت خداوندی کے اللہ تعالیٰ کے حضور زبان کھول سکے، یا عدالت کے کام میں مداخلت کرے کہ فلاں کو اتنا زیادہ کیوں دیا ؟ اور فلاں کو اتنا کم کیوں دیا ؟
Ayahs 78:38–39یوم یقوم الروح و الملائکۃ صفا، روح سے مراد بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک جبرئیل (علیہ السلام) ہیں چونکہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا ملائکہ میں ایک خاص امتیازی مقام ہے اس وجہ سے عام ملائکہ سے الگ ان کا ذکر فرمایا، اور بعض روایات میں ہے کہ روح، اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان مخصوص لشکر ہے جو فرشتے نہیں ہیں، اس تفسیر کی رو سے دو صفیں ہوں گی ایک روح کی اور دوسری فرشتوں کی۔ (معارف ملخصًا)
لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا، یہاں کلام نہ کرنے سے مراد شفاعت نہ کرنا ہے، شفاعت کی اجازت دو شرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی، ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی صرف وہی شخص اسی کے حق میں شفاعت کرسکے گا، دوسری شرط یہ کہ شفاعت کرنے والا بجا اور درست بات کہے یعنی بےجا سفارش نہ کرے اور جس کے معاملہ میں وہ سفارش کر رہا ہو وہ دنیا میں کم از کم کلمہ ٔ حق کا قائل رہا ہو یعنی وہ گنہگار ہو، کافر مشرک نہ ہو۔
Ayah 78:40یوم ینظر المرء ما قدمت یداہ، ظاہر یہی ہے کہ اس دن سے مراد روز قیامت ہے اور محشر میں ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا، یا اعمال نامہ کی صورت میں کہ اس کا نامہ عمل اس کے ہاتھ میں آجائے گا جس میں وہ بچشم خود اپنے اعمال کی تفصیل دیکھ لے گا، یا اس طرح کہ اس کے اعمال متشکل ہو کر خود اس کے سامنے آجائیں گے جیسا کہ روایات حدیث سے ثابت ہے کہ وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہوگی وہ ایک زہریلے اژدھے کی شکل میں اس پر مسلط کردیا جائے گا، اور یوم سے موت کا دن بھی مراد ہوسکتا ہے اس وقت اعمال کو دیکھنے سے عالم برزخ میں دیکھنا مراد ہوگا۔ (مظھری)
ویقول الکفر یلیتنی کنت ترابا، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے روز پوری زمین ایک سطح مستوی ہوجائے گی، جس میں انسان و جنات اور وحشی و پالتو جانور سب جمع کردیئے جائیں گے، اور جانوروں میں سے اگر کسی نے دوسرے جانور پر دنیا میں ظلم کیا ہوگا تو اسے اس کا انتقام دلوایا جائے گا، حتیٰ کہ اگر سینگ والی بکری نے بےسینگ والی بکری کو مارا ہوگا تو آج اس کو یہ بدلہ دلوایا جائے گا، جب اس سے فراغت ہوگی تو تمام جانوروں کو حکم ہوگا کہ مٹی ہوجائو، وہ سب مٹی ہوجائیں گے، اس وقت کافر یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہم بھی جانور ہوتے اور اس وقت مٹی ہوجاتے اور حساب و کتاب اور جہنم کی سزا سے بچ جاتے۔ (معارف)
بحمدتم اللہ