79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 79:1–2

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر سختی سے (جان) کھینچ لینے والے ہیں !

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور جو بند کھولنے والے ہیں ! آسانی سے کھولنا۔

2(والنزعت غرقاً…:”النزعت“ اور ”الشطت“ سے مراد سختی اور آسانی کے ساتھ جان نکالنے والے فرشتے ہیں۔ اگرچہ ان الفاظ کی تفسیریں اور بھی کی گئی ہیں، مگر تفسیر طبری میں حسن سندوں کے ساتھ ابن عباس اور ابن مسعود ؓ سے یہی تفسیر مروی ہے اور صحیح احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ مسند احمد میں براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(وان العبد المومن اذا کان فی انقطاع من الدنیا…ثم یحیء ملک الموت ؑ حتی یجلس عند راسہ فیقول ایتھا النفس الطیبہ ! اخرجی الی مغفرۃ من اللہ و رضوان قال فتخرج تسیل کما تسیل القطرۃ من فی السفاء …و ان العبد الکافر اذا کان فی انقطاع من الدنیا…ثم یحییٰ ملک الموت حتی یجلس عند راسہ فیقول ایتھا النفس الخمیثۃ ! اخرجی الی سخط من اللہ و غضب قال فتفرق فی حسدہ فینتزعھا کما ینتزع السفود من الصوف المبول) (مسند احمد : 3/288، 288، ح : 18561)”اور مومن آدمی جب دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے … تو ملک الموت ؑ اس کے سپر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے :”اے پاکیزہ جان ! اللہ کی مغفرت اور رضا کی طرف نکل آ۔“ تو وہ اس طرح نکل آتی ہے ، جس طرح مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے…اور کافر جب دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے۔ … تو ملک الموت اس کے سر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے :”اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضی اور غصے کی طرف نکل آ۔“ تو وہ جس میں بکھر جاتی ہے تو وہ اسے اس طرح سختی سے کھینچ کر نکالتا ہے جس طرح بھیگی ہوئی اون سے گرم سلاخ کھینچ کر نکالی جاتی ہے۔“ مشکوۃ میں شیخ البانی ؒ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ ”النزعت“ سختی سے کھینچ کر نکالنے والے۔“ ”غرقاً“ ”ڈوب کر۔“ یعنی ان فرشوتں کی قسم جو کفار کی جان ڈوب کر یعنی ان کے بدن کے ہر حصے میں پہنچ کر سختی سے کھینچ کر نکالتے ہیں، جب کہ وہ نکلنا نہیں چاتہی۔”النشطت“”نشط العقال“ (ن) رسی کی گرہ کھولنا۔ فرشتے مسلمان کی روح گرہ کھول کر ناکلتے ہیں اور وہ خوشی سے اللہ کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑتی ہے۔ کافر اور ممون کا یہ فرق روح کی حالت میں ہے، بدن کی تکلفی الگ ہے، اس میں مسلمان اور کافر برابر ہیں۔ (خلاصہ موضح)
Ayahs 79:3–4

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور جو تیرنے والے ہیں ! تیزی سے تیرنا۔

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر جو آگے نکلنے والے ہیں ! آگے بڑھ کر۔

والسبحت سبحاً …:”سبح یسبح سبحاً“ (ف) تیرنا۔ ”السبحت“ تیرنے والے ”سبحاً“ مصدر تاکید کیلئے ہے، ترجمہ میں یہ مفہوم ”خوب تیزی سے“ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو احکام الٰہی کی تعمیل کے لئے تیزی سے آسمان میں تیرتے ہوئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔
Ayah 79:5

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر جو کسی کام کی تدبیر کرنے والے ہیں !

(فالمدبرت امراً : پھر دین و دنیا کے جس کام کا انہیں حکم دیا ہوتا ہے اس کی تدبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں جن چیزں کی قسم کھائی گئی ہے یا تو ان کی ندرت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے یا انہیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی شہادت کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں جواب قسم صاف لفظوں میں مذکور نہیں مگر قیامت کے احوال ذکر کرنے سے خود بخود سمجھ آرہا ہے کہ یہ قسمیں اس بات کا یقین دلانے کے لئے کھائی گئی ہیں کہ قیامت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل عرب فرشتوں کا اللہ کی طرف سے قبض ارواح اور دوسرے معاملات کی تدبیر پر مامور ہونا مانتے تھے۔ فرشتوں کے یہ اوصاف ذکر کر کے ان کی قسم اس بنا پر کھائی گی ہے کہ فرشتے جس اللہ کے حکم سے روح قبض کرسکتے ہیں، نہایت تیزی سے کائنات میں نقل و حرکت کرسکتے ہیں اور کائنات کے معاملات کی تدبیر کرس کتے ہیں، اسی اللہ کے حکم سے صور میں پھونک کر اس کائنات کو فنا بھی کرسکتے ہیں اور دوبارہ پھونک کر از سر نو زندہ بھی کرسکتے ہیں۔
Ayahs 79:6–7

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس دن ہلا ڈالے گا سخت ہلانے والا (زلزلہ)۔

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اس کے بعد ساتھ ہی پیچھے آنے والا (زلزلہ) آئے گا۔

یوم ترجف الراجفتہ …: قاموس میں ہے :”رجف حرک و تجرک واضطرب شدیداً“ یعنی ”رجف“ کا معنی سخت حرکت کرنا اور حرکت دینا دونوں آتے ہیں۔ یہاں حرکت دینا زیادہ مناسب ہے۔ ”الراجقہ“ سے مراد پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ ”الرادفۃ“ سے مراد دوسرے نفخہ سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے تمام لوگ زندہ ہو کر از سر نو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سورة زمر (68) میں بھی انہی دونوں نفخوں کا ذکر ہے۔
Ayahs 79:8–9

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

کئی دل اس دن دھڑکنے والے ہوں گے۔

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔

قلوب یومئذ واجفۃ…: کئی دس اس دن دھڑک رہے ہوں گے ، یعنی سخت خوف زدہ ہوں گے۔”کئی دل“ اس لئے فرمایا کہ صالح مومن اس دن کی گھبراٹہ سے محفوظ رہیں گے۔ جیسا کہ فرمایا :(لایحزنھم الفزع الاکبر) (النبیائ : 103)”(اس دن) سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہیں رکے گی۔“ دلوں اور آنکھوں کا حال بیان کرنے سے اس دن کفار کی ظاہری اور باطنی پریشانی کی مکمل تصویر سامنے آگئی۔
Ayahs 79:10–11

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کیا بیشک ہم یقینا پہلی حالت میں لوٹائے جانے والے ہیں ؟

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔

یقولون انا لمردودون فی …:”کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو دوبارہ پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے ؟“ یہ کہنا رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے منکرین قیامت کا تھا، آج کے مادہ پرست بھی یہی کہتے ہیں، ان کے خیال میں ہڈیاں بوسیدہ ہونے کے بعد انسان کا دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔
Ayah 79:12

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

انھوں نے کہا یہ تو اس وقت خسارے والا لوٹنا ہوگا۔

قالوا تلک اذاکرۃ خاسرۃ : ان کا یہ کہنا بطور مذاق ہے، یعنی اگر نبی ﷺ کے کہنے کے مطابق ہم دوبارہ پہلی حالت میں آئے تو ان کے مطابق تو ہمارے لئے یہ بہت خسارے کا اٹھنا ہوگا۔
Ayahs 79:13–14

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

پس وہ تو صرف ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

پس یک لخت وہ زمین کے اوپر موجود ہوں گے۔

فانماھی زجرۃ واحدۃ…: یعنی تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا تمہیں کتنا ہی ناممن دکھائی دے، اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ اس کی طرف سے ایک ڈانٹ یعنی صور میں ایک پھونک پڑنے کی دیر ہے کہ سب زندہ ہو کر قبروں سے نکل کر سطح زمین پر موجود ہوں گے۔”سھر“ (س) جاگنا اور ”الساھرۃ“ زمین کا اوپر کا حصہ، کیونکہ اسی پر انسانوں کا جاگنا اور سونا ہے۔ چٹیل میدان اور صحرا کو ”الساھرۃ“ اس لئے کہتے ہیں کہ وہاں خوف کی وجہ سے انسان بیدار رہتا ہے۔ (فتح القدیر)
Ayah 79:15

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے ؟

ھل اتک حدیث موسیٰ :”کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے ؟“ قیامت اور اس کا انکار کرنے والوں کے ذکر کے ساتھ ہی موسیٰ ؑ اور فرعون کا ذکر فرمایا۔ اس سے ایک تو منکرین کو ڈرانا مقصود ہے کہ قح کا انکار کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے، دوسرا نبی ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ ان کافروں کے جھٹلانے پر رنجیدہ نہ ہوں، آپ سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تو ان کا یہ انجام ہوا۔
Ayah 79:16

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب اس کے رب نے اسے مقدس وادی طویٰ میں پکارا۔

اذ نادہ ربہ بالواد المقدس طویً :”طوی“ طور سینا کے دامن میں واقع ایک وادی کا نام ہے۔ موسیٰ ؑ پر مدین سے واپسی پر پہلی وحی یہیں اتری۔ دیکھیے سورة طہ (12)۔
Ayahs 79:17–19

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

فرعون کے پاس جا، یقینا وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

پس کہہ کیا تجھے اس بات کی کوئی رغبت ہے کہ تو پاک ہوجائے ؟

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہ نمائی کروں، پس تو ڈر جائے۔

19(1) اذھب الی فرعون…: فرعون کے پاس جانے کا حکم دینے کے ساتھ اسے دی جانے والی دعوت بھی سکھلائی، دعوت کے الفاظ میں اختصار کے باوجود نرمی اور ترغیب و ترہیب واضح طور پر نمایاں ہیں۔ سورة طہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہ اورن ؑ کو فرمایا تھا :(فقولا لہ قولاً لیناً لعلہ یتذکراویخشی) (طہ : 33)”فرعون سے نرم بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔“ (2) انہ طغی :”یقیناً وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔“ فرعون کا حد سے بڑھنا ایک تو بندگی کی حد سے بڑھ کر یہ کہنا تھا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں، دوسرا خلق خدا پر اس کی طغیانی یہ تھی کہ اس نے قوم کو طبقوں میں تقسیم کر کے اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے بیٹے ذبح کرتا اور عورتیں زندہ رکھتا تھا۔ (3) فقل ھل لک …”تزکی“ پاک ہوجائے، یعنی شرک و کفر کی گندگی سے پاک ہوجائے۔ ”فتخشی“ پس تو ڈر جائے، یعنی اپنے رب کا راستہ معلوم ہوجانے کے بعد تو ڈر جائے کہ پروردگار اپنی دی ہوئی حکوتم چھین کر نعمتوں کی جگہ اپنی گرفت ہی میں نہ لے لے، چناچہ تو اس ڈر سے اس کا شریک بننے اور بندوں پر ظلم کرنے سے بچ جائے، کیونکہ دل میں ڈر علم ہی سے پیدا ہوتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(انما یخشی اللہ من عبادہ العلمٓوا) (فاطر : 28)”اللہ سے صرف اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔“
Ayahs 79:20–24

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

چناچہ اس نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

تو اس نے جھٹلا دیا اور نافرمانی کی۔

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر واپس پلٹا، دوڑ بھاگ کرتا تھا۔

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

پھر اس نے اکٹھا کیا، پس پکارا۔

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

پس اس نے کہا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں۔

فارہ الایۃ الکبریٰ : بڑی نشانی سے مراد لاٹھی کا سانپ بن جانا ہے۔ ”الایۃ“ کو واحد کے بجائے جنس مان لیں تو عصائے موسیٰ اور ید بیضا دونوں مراد ہوسکتے ہیں، بلکہ موسیٰ ؑ کو عطا کئے جانے والے ”تسع آیات بینات“ (9 معجزے) بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101)۔
Ayahs 79:25–26

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

تو اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔

فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ و الاولی : یعنی آخرت کو آگ میں جلے گا اور دنیا میں غرق ہوا۔
Ayahs 79:27–29

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اس کی رات کو تاریک کردیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کردیا۔

ء انتم اشد خلقاً …: شرع سورت میں قیامت حق ہونے کی دلیل کے طور پر فرشتوں کا اور ان چند امور کا ذکر فرمایا جو وہ سر انجام دیتے ہیں، یعنی ان فرشتوں کے رب کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کون سا مشکل کام ہے ؟ یہاں سے پھر قیامت کے دلائل کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ چناچہ آیت (27) سے (33) تک اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی عظیم الشان مخلوقات کا ذکر فرمایا کہ اتنی قدرتوں والے پروردگار کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے ؟
Ayahs 79:30–33

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور زمین، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اس سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا۔

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

تمہاری اور تمہارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لیے۔

والارض بعد ذلک دحھا…: یہاں ایک سوال ہے کہ اس جگہ آسمان بنانے کے بعد زمین بچھانے کا ذکر فرمایا ہے، جب کہ سورة بقرہ کی آیت (29) اور رحم سجدہ کی آیات (9 تا 12) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمین پیدا کی گئی پھر آسمان، ان دونوں کے درمیان تطبیق کیا ہوگی ؟ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات ذکر فرمائے ہیں :(1) بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ پہلے زمین بنی پھر آسمان، البتہ زمین کو بچھانے۔ اس کا پانی اور چارہ نکالنے اور اس میں پہاڑ گاڑنے کا کام بعد میں ہوا۔ گویا زمین کی خلق (پیدائش) آسمان سے پہلے، البتہ ”حو“ (چھانا) بعد میں ہے۔ طبری نے یہ تفسیر علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے اور اسے ترجیح دی ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں :(قولہ حیث ذکر خلق الارض قبل السماء ثم ذکر السماء قبل الارض، وذلک ان اللہ خلق الارض باقوا تھا من عیران یدحوھا قبل السماء ثم استوی الی السماء فسوھن سبع سموات ثم دحا الارض بعد ذلک فذلک قولہ قبل السماء ثم استوی الی السماء فسواھن سبع سموات ثم دحا الارض بعد ذلک ، فذلک قولہ قبل السمائ، ثم استوی الی السماء فسواھن سبع سموات ثم دحا الارض بعد ذلک، فذلک قولہ : (والارض بعد ذلک دحھا) (طبری : 23/92، ج : 36632)”یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس میں موجود روزیوں سمیت اسے بچھائے بغیر آسمان سے پہلے پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں درست کر کے سات آسمان بنادیا، پھر زمین کو اس کے بعد بچھا دیا، یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے :(والارض بعد ذلک دحھا) (النازعات : 30)”اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا۔“ ابن کثیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ”والارض بعد ذلک دحھا“ کی تفسیر بعد والی آیات :(اخرج منھا مآء ھا ومرعھا…“ کے ساتھ فرمائی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ زمین میں پہلے پیدا کردیا تھا، مگر انہیں آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد زمین سے نکالا۔ (2) بعض مفسرین نے سورة نازعات کی زیر تفسیر آیات اور حم سجدہ کی آیات (9 تا 12) کو ملا کر خلاصہ یوں نکالا ہے :”اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان پیدا کیا، اس حال میں کہ وہ دھوئیں کی مانند تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کپیدا کیا، پھر اس پر پہاڑوں کو رکھ دیا، پھر زمین میں سبزیاں درخت وغیرہ کی پیدائش کا اندازہ مقرر کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کو، جواب تک دھوئیں کی شکل میں تھا، سات آسمانوں میں تبدیل کیا اور آسمان کی چھت کو بلند کیا، پھر زمین کو بچھا دیا، اس میں سے پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو زمین میں مضبوطی سے گاڑ دیا۔“ (تفسیر قرآن عزیز، سورة النازعات) (3) تیسری تطبیق یہ ہے کہ یہاں سورة نازعات میں زمین و آسمان پیدا کرنے کی ترتیب زمانی بیان کرنا مقصود ہی نہیں ، وہ تو وہی ہے جو سورة بقرہ اور سورة حم سجدہ میں ہے، بلکہ یہاں اللہ تعالیٰ کے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر پہلے آسمان کو ذکر کیا گیا ہے پھر زمین کو۔ واضح رہے کہ بعد کا لفظ ہر جگہ زمانے کی ترتیب کے لئے نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ترتیب ذکری کے لئے ہوتا ہے، یعنی موقع کی مناسبت سے زیادہ اہم چیز پہلے ذکر ہوتی ہے اور دوسری بعد میں جیسا کہ فرمایا :(عتل بعد ذلک زنیم) (القلم : 13)”سخت مزاج اس کے بعد بدنام۔“ ایسے موقع پر زمانی ترتیب کچھ بھی ہو لفظ بعد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلی چیز کے بعد اس کی خبر دی جا رہی ہے، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر عموماً بعد کا معنی ”مع“ (ساتھ) ہوتا ہے، یعنی سخت مزاج ہونے کے ساتھ وہ وہ بدنام بھی ہے۔ اسی طرح سورة بلد کی آیات (11 تا 17) کی تفسیر بھی دیکھ لیں، جن میں ”فک رقبۃ…“ کے بعد فرمایا :(ثم کان من الذین امنوا…) یہاں بھی ”ثم“ ترتیب زمانی کے لئے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ گردن چھڑانے اور کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ یہ تطبیق تقریباً تمام مفسرین نے ذکر کی ہے اور سب سے بہتر ہے، کیونکہ پہلی دونوں تطبیقوں میں چھ دن میں زمین و آسمان کی پیدائش کی تفصیل اور ترتیب پوری طرح واضح نہیں ہوتی اور نہ اصل اشکال دور ہوتا ہے۔
Ayahs 79:34–35

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

پھر جب وہ ہر چیز پر چھاجانے والی سب سے بڑی مصیبت آجائے گی۔

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

جس دن انسان یاد کرے گا جو اس نے کوشش کی۔

(فاذا جآء ت الطآمۃ الکبری :”الطآمۃ“ اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چیز پر چھا جائے، مراد قیامت ہے۔ مزید ہولناکی بیان کرنے کے لئے فرمایا ”الکبری“ کہ جو سب سے بڑی (مصیبت) ہے۔