78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں ؟

(1) عم یتسآء لون…: اس سورت میں قیامت کے حق ہونے کے دلائل اور اس کے کچھ احوال بیان کئے گئے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے توحید و رسالت پر ایمان لانے کی دعوت کے ساتھ ساتھ یہ بتایا کہ ایک دن تمہیں زندہ ہو کر اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے اور تمہیں تمام نیک و بد اعمال کی جزا ملنی ہے تو سننے والوں نے آپ سے میں سوال شروع کردیئے کہ کیا واقعی قیامت ہوگی ؟ آیا یہ ممکن بھی ہے ؟ پھر وہ قیامت کس طرح ہوگی ؟ وغیرہ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayahs 78:2–3

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

(کیا) اس بڑی خبر کے بارے میں ؟

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرنے والے ہیں۔

(2) ”عن النبا العظیم“ سے مرادقیامت ہے۔ اس میں اختلاف یہ ہے کہ کوئی تو مانتا ہی نہیں کہ قیامت ہوگی، کوئی مانتا ہے مگر اسے یقین نہیں، کوئی کہتا ہے مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوسکتے ہیں ؟ یہ تو عقل ہی کے خلاف ہے اور کوئی کہتا ہے کہ جسم زندہ نہیں ہوں گے بلکہ سب خوشی اور غم روح ہی پر گزرے گا، وغیرہ وغیرہ۔
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔

(1) کلا سیعلمون …:”کلا“ کا لفظ عربی میں عموماً اپنے سے پہلے والے کلام کو غلط اور بعد والے کلام کو صحیح قرار دینے کیلئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے متعلق اختلاف ڈالنا، انکار کرنا یا شک کرنا بالکل غلط ہے اور اس کا آنا بالکل یقینی ہے۔ (2) سیعلمون :”عنقریب وہ جان لیں گے“ یعنی اگر ان کی عقل قیامت کو نہیں مانتی اور اس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں تو مرنے سے تو نہ یہ انکار کرسکتے ہیں، نہ شک کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کسی کا اختلاف ہے، تو بس مرنے کی دیر ہے، اس کے ساتھ ہی قیامت اور دوسری تمام حقیقتیں جنہیں یہ لوگ خلاف عقل قرار دے رہے ہیں، سب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں۔ تاکید کے لئے دوبارہ ”ثم کلا سیعلمون“ فرمایا ہے۔
Ayah 78:6

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔

(1) الم نجعل الارض مھداً :: اللہ تعالیٰ نے قیامت کا یقین دلانے کے لئے اور ان کی عقلوں کو جھنجھوڑنے کے لئے اپنی قدرت کے چند عجائب پیش فرمائے ہیں کہ عقل وچھو کہ اتنے بڑے بڑے کام کرنے والے کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ اور وہ عجائب بھی خود تمہارے گرد و پیش اور تمہاری ذات میں موجود ہیں۔ (2) فرمایا جہاں رہتے ہو اسی کو دیکھ لو، کیا عقل میں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی زمین کو ہم نے کس طرح پیدا کیا اور اس کی طرح بچھونے کی طرح بچھا دیا ہے ؟
Ayah 78:7

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخیں۔

7 والجبال اوتاداً : اور زمین کا توازن قائم رکھنے اور اسے مسلسل زلزلے کی کیفیت سے بچانے کے لئے اس میں پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ ”اوتاداً“”وتد“ کی جمع ہے، میخیں۔
Ayah 78:8

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا۔

وخلقنکم ازواجاً : خود اپنے آپ کو دیکھ لو، ہم نے تمہیں نر اور مادہ پیدا کیا، مختلف رنگوں، بیشمار شکلوں اور صورتوں میں پیدا کیا۔ پہلی دفعہ پیدا کرنے پر تمہاری عقل کو تعجب نہیں ہوا تو دوبارہ پیدا کرنے پر کیوں ہوتا ہے ؟”ازواجاً ”زوج“ کی جمع ہے۔
Ayahs 78:9–11

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری نیند کو (باعث) آرام بنایا۔

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور ہم نے رات کو لباس بنایا۔

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور ہم نے دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا۔

وجعلنا نومکم سباتاً…”سباتاً“ اور ”سبت“ باب ”نصر“ اور ”ضرب“ سے مصدر ہیں، راحت و سکون، قطع کرنا۔ اپنی نید کو دیکھ لو جو موت کی طرح تمہاری تمام حرکات قطع کر کے تمہیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے۔ ہر روز مرنے اور جی اٹھنے کا یہ منظر دیکھ کر بھی تمہیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے ؟ علاوہ ازیں تمہارے جسم کی ٹوٹ پھوٹ اور تھکن دور کرنے کے لئے نیند کو راحت و سکون کا ذریعہ بنادیا۔ روشنی راحت میں خلل اندازہو سکتی تھی، اس لئے ہم نے رات کو تاریک بنادیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ پھر ہماری مہربانی دیکھو کہ مسلسل رات نہیں رکھی، بلکہ روزی کی تلاش کے لے دن بنادیا۔ اگر رات ہی رہتی تو تم روزی کس طرح تلاش کرتے ؟
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے۔

(وبنینا فوقکم سبعاً شداداً…: آدمی کے نیچے اور گرد و پیش کے عجائب کے بعد اوپر کے عجائب کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسان بنائے جن میں نہ شگاف ہے نہ کوئی کمزوری نہ گرتے ہیں نہ وہاں کسی شیطان کا دخل ہے۔ ”شدیدۃ“ کی جمع ہے، محکم ، مضبوط۔
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بہت روشن گرم چراغ بنایا۔

وجعلنا سراجاً وھاجاً :”وھاجاً :”وھاجاً ”وھج“ سے مبالغہ ہے جس میں حرارت اور روشنی دونوں جمع ہوتی ہیں، بہت روشن اور گرم چراغ۔ مراد سورج ہے۔ ایسا دہکتا ہوا چراغ کہ کروڑوں میل دور ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص اسے تھوڑی دیر مسلسل دیکھنے کی حماقت کر بیٹھے تو نظر ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Ayahs 78:14–16

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور ہم نے بدلیوں سے کثرت سے برسنے والا پانی اتارا۔

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم اس کے ساتھ غلہ اور پودے اگائیں۔

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے باغات۔

وازلنا من المعصرت مآء تجاجاً …:”المعصرت“ وہ بادل جو پانی سے بھرے ہوئے ہوں۔”نج“ شدت اور کثرت سے بہنایا بہانا۔ یہ لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے۔”تجاجاً“ کثرت سے برسنے والا۔”الفافاً“ ابوبعیدہ نے فرمایا :”یہ ”لفیف“ کی جمع ہے جیسا کہ ”شریف“ کی جمع ”اشراف“ ہے۔“ (المراغی) اس کا معنی ہے گھنے، ایک دوسرے سے لیٹے ہئے، جن میں کوئی فاصلہ نہیں۔
Ayah 78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

یقینا فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔

ان یوم الفصل کان میقاتاً : یعنی ہم نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنانے سے لے کر اخر آیات تک مذکور جو کچھ بنایا ہے، اگر دنیا کی پیدائش سے لے کر اس کے ختم ہونے تک اس میں جو نیکی یا بدی کی گئی ہے اس کی جزا و سزا کسی وقت بھی نہ ہو، نہ ظالم سے باز پرس ہو اور نہ مظلوم کی داد رسی ہو تو یہ سب کچھ تو بےنتیجہ رہا۔ اس لئے یقین رکھو کہ دنیا میں کئے گئے تمام اعمال کے فیصلے کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے :(وخلق اللہ السموت والارض بالحق و لتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون) (الجاثیہ : 22)”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور تاکہ ہر جانکو اس کی کمائی کا بدلا دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
Ayah 78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن صور میں پھونکا جائے گا، تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔

یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجاً : یہاں صور میں دوسری دفعہ پھونکے جانے کا ذکر ہے، جس سے تمام لوگ قبروں سے نکل کر گروہ درگروہ میدان محشر میں آجائیں گے۔
Ayah 78:19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہوجائے گا۔

وفتحت السمآء فکانت ابواباً : آسمان میں اب بھی دروازے موجود ہیں، جیسا کہ سورة اعراف (40) میں ہے اور حدیث معراج میں بھی اس کا ذکر ہے، مگر اس وقت آسمان اس طرح پھٹے گا جیسے وہ سارے کا سارا دروازوں کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ پھٹنا فرشتوں کے اتارے جانے کے لئے ہوگا ، جیسا کہ فرمایا :(ویوم تشق السمآء بالغمام و نزل المئکۃ تنزیلاً (الفرقان : 25)”جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے۔“
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔

(1) و سیرت الجبال فکانت سراباً :”سراباً“ جو دوپہر کے وقت دور سے دیکھنے والے کو پانی کی طرح نظر آتا ہے مگر حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح پہاڑ ریت بن جائیں گے جو دور سے پانی کی طرح نظر آتی ہے مگر حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ (2) قرآن میں قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے مختلف احوال بیان ہوئے ہیں، سب سے پہلے صور کی آواز کے ساتھ زمین اور پہاڑ ایک چوٹ سے توڑ دیئے جائیں گے، فرمایا :(وحملت الارض و الجبال قدکتا دکتہ واحدۃ) (الحافۃ : 13)”اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائیگا اور دونوں ایک ہی بار ٹکرا دیئے جائیں گے۔“ پھر بھربھری ریت ہوجائیں گے جو خود بخود گرتی جا رہی ہو، فرمایا :(وکانت الجبال کثیباً مھیلاً (المزمل : 13)”اور پہاڑ گرائی ہوئی ریت کے ٹیلے ہوجائیں گے۔“ پھر ڈھن کی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے، فرمایا :(وتکون الجبال کالعھن المنفوش) (القارعۃ : 5)”اورپ ہاڑ ڈھن کی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔“ پھر بکھرا ہوا غبار بن جائیں گے، فرمایا :(فکانت ھبآء منبتاً) (الواقعۃ : 6)”پس وہ پھیلا ہوا غبار بن جائیں گے۔“ پھر بادلوں کی طرح چلیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وھی تمر مر السحاب) (النمل : 88)”حلان کہ ہو بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔“ پھر سراب بن جائیں گے، جیسے یہاں فرمایا ہے، پھر ان میں سے کچھ بھی نہیں رہے گا، فقط چٹیل زمین رہ جائیگی جس میں کوئی بلندی یا پستی نہیں ہوگی، جیسا کہ فرمایا :(فیذرھا قاعاً صفصفاً ، لاتری فیھا عوجاً ولا امتاً (طہ : 106، 108)”پھر وہ اسے ایک چٹیل میدان بنا کر چھوڑے گا، جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا نہ کوئی ابھری ہوئی جگہ۔“
Ayahs 78:21–22

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

یقینا جہنم ہمیشہ سے ایک گھات کی جگہ ہے۔

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کے لیے ٹھکانا ہے۔

ان جھنم کانت مرصاداً …: یہاں سے جہنم اور اہل جہنم کا کچھ حال بیان ہوتا ہے۔“ مرصاداً“) (گھات) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی دشمن یا شکار پر قابو پانے کے لئے تاک لگائی جاتی ہے، تاکہ وہ بیخبر ی میں آکر پھنس جائے۔ یعنی سرکش لوگ اللہ سے بےخوف ہو کر دنیا میں فساد مچا رہے ہیں، مگر انہیں یاد نہیں کہ جہنم ان کے لئے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ اچانک پھنسیں گے اور پھر وہی ان کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانا ہوگی۔
Ayah 78:23

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

وہ مدتوں اسی میں رہنے والے ہیں۔

لبثین فیھا احقاباً :”احقاباً“ ”احقاباً“ ”حقب“ (حاء کے مضمہ اور قاف کے سکون کے ساتھ۔) کی جمع ہے، اسی (80) سال یا اس سے زیادہ مدت، زمانہ، سال۔ (قاموس) یعنی مدتوں، کئی زمانے، سالہا سال اس میں پڑے رہیں گے، ایک مدت ختم ہونے پر دوسری مدت شروع ہوجائے گی، ایسی مدتیں جن کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔ یہ مطلب نہیں کہ کچھ مدتوں کے بعد عذاب کم یا ختم ہوجائے گا، کیونکہ اسی سلسلہ کلام میں آگے چل کر فرمایا :(فذوقوا فلن نزیدکم الا عذاباً) (النبا : 30)”پس چکھو کہ ہم تمہیں عذبا کے سوا ہرگز کسی چیز میں زیادہ نہیں کریں گے۔
Ayahs 78:24–26

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

نہ اس میں کوئی ٹھنڈ چکھیں گے اور نہ کوئی پینے کی چیز۔

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

پورا پورا بدلہ دینے کے لیے۔

لایذوقون فیھا برداً …:”حمیماً“ اور ”غساقاً“ کی تشریح کے لئے دیکھیے سورة ص (57) کی تفسیر۔ ”بردا“ سے مراد خوش گوار ٹھنڈک ہے۔ جہنم میں ایک طبقہ زمہر یر بھی ہے جہاں بےانتہا سردی ہے، اسیم زے کی ٹھنڈک نہیں کہہ سکتے۔ (وحیدی)
Ayahs 78:27–29

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

بلاشبہ وہ کسی حساب کی امید نہیں رکھتے تھے۔

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، بری طرح جھٹلانا۔

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہر چیز، ہم نے اسے لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے۔

انھم کانوا لایرجون…: ان کے جہنم میں جانے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ انہیں اعمال کے حساب کی امیدن ہ تھی ، ورنہ وہ اپنے اعمال کو درست کرلیتے اور دوسری یہ کہ انہوں نے ہماری آیات کو بری طرح جھٹلا دیا۔ ”کذاباً“ مصدر ہے ”کذبوا“ کا، اس کے ساتھ ”کذبوا“ کی تاکید فرمائی ہے۔ ترجمے میں اس تاکید کو ”بری طرح“ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔
Ayah 78:30

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

پس چکھو کہ ہم تمہیں عذاب کے سوا ہرگز کسی چیز میں زیادہ نہیں کریں گے۔

فذوقوا فلن نزیدکم الا عذاباً : یعنی جس طرح تم کفر و تکذیب میں برابر بڑھتے چلے گئے اسی طرح ہم بھی تمہارا عذاب برابر بڑھاتے رہیں گے اور اسی لمحہ اس میں تخفیف نہیں کریں گے۔ دیکھیے سورة نسائ (56) اور سورة بنی اسرائیل (97)۔
Ayah 78:31

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

یقینا پرہیزگاروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

ان للمتقین مفازاً : جہنم اور جہنمیوں کے بعد جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے۔ یہاں متقین کا ذکر ان لوگوں کے مقابلے میں آیا ہے جنہیں کسی حساب کی توقع نہ تھی اور جنہوں نے اللہ کی آیات کو بالکل جھٹلا دیا تھا، یعنی اعمال کے حساب سے ڈرنے والوں اور کفر و تکذیب سے ڈرنے والوں کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔ ”مفازاً“ مصدر ہو تو معنی ہے ”کامیابی“ اور ظرف ہو تو معنی ہے ”کامیابی کا مقام۔“”مفازاً“ میں تنوین ”ایک بڑی“ کا مفہوم ادا کر رہی ہے۔
Ayahs 78:32–34

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغات اور انگور۔

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور ابھری چھاتیوں والی ہم عمر لڑکیاں۔

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور چھلکتے ہوئے پیالے۔

حدآئق واعناباً…:”حدآئق“ ”حدیقہ“ کی جمع ہے، وہ باغ جس کے گرد چار دیواری ہو۔ ”اعناباً“ ”عنب“ کی جمع ہے۔ انگور کو پھلوں میں ایک خصوصیت حاصل ہے، اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا۔”اعناباً جمع لانے کا مطل ہے کہ انگور کی بہت سی اقسام ہوں گی۔ ”کو اعب“ ”کا عب“ کی جمع ہے، وہ نوجوان لڑکی جس کا سینہ ایسے ابھرا ہوا جیسے کعب یعنی ٹخنہ۔”اتراباً“ ”ترب“ (تاء کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، مٹی میں ساتھ کھیلنے والے ہم عمر۔ آپس میں ہم عمر ہوں گی یا اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں ی۔
Ayah 78:35

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہ اس میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ (ایک دوسرے کو) جھٹلانا۔

(لایسمعون فیھا لغوا ولا کذباً : جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کے کان واں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ یہ سنیں گے کہ کوئی کسی کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔ کوئی کسی سے جھگڑے گا ہی نہیں کہ اس کی بات کو جھٹلائے۔ گالی گلوچ اور دنگا فساد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس نعمت کی قدر وہی جانتا ہے جسے ان کاموں سے نفرت ہو پھر اس کا واسطہ بےہودہ بکنے والوں اور ایک دور سے کو جھٹلانے والے بدتمیزوں سے رہتا ہو۔
Ayahs 78:36–37

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

تیرے رب کی طرف سے بدلے میں ایسا عطیہ ہے جو کافی ہوگا۔

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

(اس رب کی طرف سے) جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، بےحد رحم والا، وہ اس سے کوئی بات کرنے کی قدرت نہیں رکھیں گے۔

36، 37(1) جزآء من ربک عطآء حساباً…: یہ سب کچھ ان کے رب کی طرف سے ان کے اعمال کا بدلا ہے۔ بدلا دینے والا رب تعالیٰ ہو تو بدلا کتنا عظیم ہوگا، پھر برابر بدلا ہی نہیں، دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی بڑھا کر لامحدود گنا عطیہ ملے گا۔ البتہ گناہ کا بدلا اتنا ہی ہوگا جتنا گناہ ہے۔ (2) عطآء حساباً : اس کے دو معنی ہیں، پہلا یہ کہ وہ عطیہ سحاب سے ہوگا، یعنی ان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ایسا نہ ہوگا جو حساب میں نہ آئے۔ دوسرا معنی ہے ”کافی عطیہ۔“ جیسے ”حسبی اللہ“ کا معنی ہے مجھے اللہ کافی ہے، یعنی اتنا بدلا ہوگا جس سے زیادہ کی خواہش نہیں ہوگی۔ (3) لایملکون منہ خطاباً : یہنی انتہائی لطف و رحمت کے باوجود قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا جلال اس قدر ہوگا کہ کوئی اس کے سامنے لب کشائی نہیں کرسکے گا۔ (اشرف الحواشی)
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے، وہ کلام نہیں کریں گے، مگر وہی جسے رحمان اجازت دے گا اور وہ درست بات کہے گا۔

38۔ (1) یوم یقوم الروح والملٓئکۃ صفاً…:”الروح“ سے مراد جبریل ؑ ہیں جیسا کہ فرمایا :(نزل بہ الروح الامین) (الشعرائ : 193)”اس (قرآن) کو امانت دار روح لے کر اترا ہے۔“ ان کا الگ ذکر ان کی شان کی عظمت کے اظہار کے لئے کیا گیا ہے، جیسا کہ سورة بقرہ میں ہے :(من کان عدواً للہ و ملٓئکتہ ورسلہ و جبرئیل ومیکل فان اللہ عدو للکفرین) (البقرۃ : 98)”جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکال کا دشمن ہو تو بیشک اللہ سب کافروں کا دشمن ہے۔“ دوسرا معنی جو لفظ سے ظاہر ہے بنو آدم کی ارواح ہیں۔ (2) صحیح احادیث کے مطابق یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نیک و بد کے فیصلے کے لئے آسمان سے زمین پر میدان محشر میں نزول فرمائے گا اور لوگ سورج کی گرمی اور پسینے سے گھبرا جائیں گے اور وہ آدم ؑ سے لے کر عیسیٰ ٰعلیہ السلام تک سب انبیاء کے پاس جائیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں کہ حساب کتاب شروع ہو، لیکن کسی نبی کی جرأت اور طاقت اللہ تعالیٰ سے بات کرنے کی نہ ہوگی۔ آخر کار خاتم النبین محمد رسول اللہ ﷺ کو بات کرنے کا حکم ہوگا اور آپ کی شفاعت سے سب لوگوں کا حساب شروع ہوگا۔ (احسن الفاسیر) دیکھیے صحیح بخاری (7440، 7510)۔ (2) لایتکلمون الامن…: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے بات (سفارش) کرنے والوں کے لئے دو شرطیں ہیں، پہلی یہ کہ رحمان اسے بات (سفارش) کرنے کی اجازت دے ، جیسا کہ فرمایا :(من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ) (البقرۃ : 255)”کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے ؟“ دوسری یہ کہ وہ درست کرے، سفارش کرنے میں غلطی نہ کرے۔ مثلاً غیر سمتحق کی سفارش نہ کر بیٹھے، جیسا کہ ابراہیم ؑ اپنے والد آزر کے لئے سفارش نہیں کرسکیں گے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے بات کی جائے اس کے لئے دو شرطیں ہیں، پہلی یہ کہ رحمان اس کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت دے، جیسا کہ فرمایا :(لایشفعون الا لمن ارتضیٰ) الانبیائ : 28)”وہ فرشتے صرف اسی کے لئے سفارش کرتے ہیں جسے رحمان پسند کرے۔“ دوسری یہ کہ ”قال صواباً“ یعنی دنیا میں اس نے درست بات کہی ہو، یعنی کلمہ توحید کہا ہو، مسلمان ہو۔ کافر و مشرک نے دنیا میں درست بات نہیں کہی ہوتی، اس لئے اس کے حق میں سفارش کی اجازت نہیں ملے گی۔ (جامع البیان)
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہی دن ہے جو حق ہے، پس جو چاہے اپنے رب کی طرف لوٹنے کی جگہ بنا لے۔

ذلک الیوم الحق…: یہ وہ دن ہے جو حق ہے، یعنی آکر رہے گا۔ تو جب اس دن کا آنا یقینی ہے تو آدمی کو چاہیے کہ اپنے مولا کو منہ دکھانے کے قابل بننے اور اس کے پاس ٹھکانا بنانے کے لئے ابھی تیاری کرلے، مرنے کے بعد اس کا موقع نہیں ملے گا۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب ہے، جس دن آدمی دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا اے کاش کہ میں مٹی ہوتا۔

(1) انا انذر نکم عذاباً قریباً…: آخرت کے عذاب کو قریب فرمایا، کیونکہ عمر خواہ کتنی بھی ہو ختم ہونے والی ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہی ہوتا ہے۔ قیامت کو جب اٹھیں گے تو انہیں دنیا میں قیامت اکا وقت ایسے معلوم ہوگا جیسے دن کا ایک پہر گزرا ہو۔ (دیکھیے نازعات : 46) بلکہ قیامت کے دن مجرم قسم اٹھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ دیکھیے سورة روم (55)۔ (2) یلیتنی کنت ترباً : اے کاش کہ میں مٹی ہوتا، یعنی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، نہ حساب ہوتا نہ کتاب۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کاش ! میں مر کر مٹی ہوجاتا تو نہ حساب ہوتا نہ عذاب۔ بعض مفسرین نے ایک عجیب معنی کیا ہے کہ ”الکفر“ سے مراد یہاں ابلیس ہے۔ جب آدم ؑ اور ان کی اولاد کو ان کے اعمال کا ثواب ملے گا تو ابلیس کہے گا کاش ! میں مٹی ہوتا ، آگ سے بنا ہوا نہ ہوتا، کیونکہ اس نے آگ سے بنا ہوا ہونے کی وجہ سے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ٹھکرا دیا تھا۔ (زاد المسیر لابن جوزی) پہلے معنوں کے ساتھ یہ بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔