An-Naazi'aat 79:6

An-Naazi'aat · from ayah 6

79:6

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ۟ۙيَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ

(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

On the Day the blast [of the Horn] will convulse [creation],

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:6

جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن کانپنے والی کانپے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ جس دن بھونچال (ہر چیز کو) ہلا ڈالے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جب انہیں اس نظامِ کائنات کے درہم برہم کردینے کا حکم ہوگا تو) اس دن (کائنات کی) ہر متحرک چیز شدید حرکت میں آجائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن ہلا ڈالے گا سخت ہلانے والا (زلزلہ)۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن کانپنے والی (زمین) کانپنے لگے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن سے ڈرو جس دن کپکپی پڑے گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس روز ہلا مارے گا وہ (انتہائی ہولناک) جھٹکا

— مولانا اسحاق مدنی

جس دن ہلا ڈالنے والی چیز ہلا ڈالے گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن کانپے گی کانپنے والی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ وہ دن آکر رہے گا جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

The Day when the quaking will cause a violent convulsion,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(you will be resurrected) on the Day when the shocking event (i.e. the first blowing of the trumpet) will shock (everything) ,

— Muhammad Taqi Usmani

(you will be resurrected) on the Day when the shocking event (i.e. the first blowing of the trumpet) will shock (everything) ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On the Day the Rajifah shakes,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when the first trump resoundeth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

On the Day the blast [of the Horn] will convulse [creation],

— Saheeh International

On the day when the first trumpet sound blasts

— Muhammad Sarwar

The day on which the quaking one shall quake,

— Muhammad Habib Shakir

A Day shall come whereon the quaking will quake,

— Abdul Majid Daryabadi

One Day everything that can be in commotion will be in violent commotion,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 79:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة النّٰزِعٰت 2 پہلے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جو زمین اور اس کی ہر چیز کو تباہ کر دے گا اور دوسرے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جس کے بعد تمام مردے زندہ ہو کر زمین سے نکل آئیں گے۔ اسی کیفیت کو سورة زمر میں یوں بیان کیا گیا ہے " اور صور پھونکا جائے گا تو زمین اور آسمان میں جو بھی ہیں وہ سب مر کر گر جائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ (زندہ رکھنا) چاہے۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے "۔ (آیت 68)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

یہ مقسم علیہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن اس عذاب سے سابقہ پیش آئے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک اس عذاب سے جس سے قیامت کے دن دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسرے اس عذاب سے جس سے اسی دنیا میں قوم کو سابقہ پیش آتا ہے اگر وہ اپنے رسول کی تکذیب کر دیتی ہے۔ قیامت کے دن کی یاددہانی: پہلے آیات ۶-۱۴ میں عذاب قیامت کی تصویر ہے اس کے بعد آیات ۱۶-۱۷ میں اس عذاب کی تاریخی شہادت پیش کی گئی ہے جو تکذیب رسول کے نتیجہ میں اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ عذاب قیامت کا ذکر یہاں اس لیے مقدم کر دیا ہے کہ اصل عذاب وہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یہ نفخئہ اولیٰ ہے جسے نفخئہ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: اس سے مراد پہلا صور ہے۔ جب وہ پھونکا جائے گا تو ہر جان دار کو موت آجائے گی، اور پوری کائنات زیر و زبر ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–9

پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔ یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 { یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ۔ } ”جس دن کانپے گی کانپنے والی۔“ یعنی قیامت کے دن شدید زلزلے کی وجہ سے پوری زمین لرز اٹھے گی۔ قیامت کے زلزلے اور اس دن کی ہولناک کیفیات کا ذکر قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ سورة الحج کی ابتدائی آیات کا یہ انداز بہت عبرت آموز ہے : { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ - یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰـکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔ } ”اے لوگو ! تقویٰ اختیار کروا پنے رب کا ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 مذکورہ بالا پانچ قسم کے فرشتوں اور ان کے کارناموں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ پر روز آخرت کے قیام پر حجت قائم فرمائی کہ جو فرشتے تمہاری رگ رگ سے روح نکال کر تمہیں موت سے دوچار کرتے ہیں اور تمہاری روح کو اپنے قبضہ میں لے لیتے ہیں وہ کسی وقت یہی روح تمہارے جسم میں داخل بھی کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کفار مکہ فرشتوں کی ہستی اور ان کے کارناموں کے قائل تھے۔ ان کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ فلہٰذا انہیں بھی تدبیر امور کائنات میں اللہ کا شریک سمجھتے تھے۔ اگرچہ مختار کل اللہ ہی کو سمجھتے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے فرشتے نہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نہ اللہ کے شریک،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–7

3۔ یعنی صور کا نفخہ ثانی جو ہر مردہ چیز کو از سرنو زندہ کھڑا کردے گا۔ (آیت) ” یوم ترجف الراجفۃ “۔ یعنی صور کا نفخہ اولی جو چھوٹی بڑی زندہ مخلوق کو فناء کردے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–13

فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔ خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ نفس اور روح سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم ترجف الراجفۃ . یَوْمَ ظرف زمان ‘ قسم کے جواب محذوف سے متعلق ہے۔ یعنی تمہارا حشر و حساب اس روز ہوگا جس روز زمین و پہاڑ میں زلزلہ آئے گا۔ اس روز کی مقدار تو نفخۂ اولٰی کے وقت سے جنت و وزخ کے داخلہ کے وقت تک پچاس ہزار برس کی ہوگی مگر حشر و حساب اس دن کے کچھ حصہ میں ہوگا۔ انہی اجزاء وقتی کے لحاظ سے پورے دن کو یوم الحشر والحساب قرار دیا۔ بیہقی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ : یعنی زمین اور پہاڑوں میں لرزہ آئے گا۔ الراجفۃ : زلزلہ۔ اس کے بعد دوسرا زلزلہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–10

(6۔ 10) ان تمام چیزوں کی قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دونوں مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ چناچہ فرما رہے ہیں کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہر ایک چیز کو ہلا دے گی یعنی نفخہ اولی ہوگا اور پھر اس کے بعد نفخہ ثانیہ ہوگا۔ قیامت کے دن دل خوف زدہ ہوں گے اور ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی مگر یہ مکہ کے کافر کہتے ہیں کیا ہم دنیاوی حالت کی طرف پھر واپس ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–7

یوم ترجف الراجفتہ …: قاموس میں ہے :”رجف حرک و تجرک واضطرب شدیداً“ یعنی ”رجف“ کا معنی سخت حرکت کرنا اور حرکت دینا دونوں آتے ہیں۔ یہاں حرکت دینا زیادہ مناسب ہے۔ ”الراجقہ“ سے مراد پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ ”الرادفۃ“ سے مراد دوسرے نفخہ سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے تمام لوگ زندہ ہو کر از سر نو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سورة زمر (68) میں بھی انہی دونوں نفخوں کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–6

فالمدبرات امرا۔ قشیری نے کہا، علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں، ماوردی نے کہا، اس بارے میں دو قول ہیں، اس سے مراد ملائکہ ہیں یہ جمہور کا نقطہ نظر ہے، اس سے مراد سات ستارے ہیں، یہ خالد بن معدان نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت نقل کی ہے، ان کے امور کی تدبیر کی دو صورتیں۔ ان کے طلوع و غروب کی تدبیر کرنا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس میں جو احوال کے بدلنے کا فیصلہ کیا ہے وہ تدبیر ہے، قشیری نے بھی اپنی تفسیر میں یہی قول نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے عالم کے بہت سے امور کو نجوم کی حرکات کے ساتھ معلق کیا ہے پس تدبیر کو ان ستاروں کی طرف منسوب کردیا گیا ہے اگرچہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–7

19۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم ترجف الراجفہ جس دن کانپنے والی کانپے گی سے مراد ہے پہلی مرتبہ صور پھونکنا۔ آیت تتبعہا الرادفۃ اس کے پیچھے آنے والی پیچھے آئے گی سے مراد ہے دوسری مرتبہ صور پھونکنا آیت قلوب یومئذ واجفۃ کئی دل اس دن دھڑ رہے ہوں گے۔ یعنی خوف زدہ ہوں گے آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہم دوبارہ زندہ ہوں گے۔ 20۔ عبد بن حمید و بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ترجف الراجفۃ یعنی زمیان اور پہاڑ کانپیں گے اور وہ زلزلہ ہوگا آیت تتبعہا الرافۃ یعنی دونوں ریزہ ریزہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–6

﴿فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًاۘ005﴾ پھر وہ فرشتے حکم خداوندی کے مطابق تدبیر کرتے ہی یعنی جس روح کے متعلق جو حکم ہوتا ہے اس حکم کے مطابق عمل کرنے کی تدبیروں میں لگتے ہیں۔ ﴿يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ006﴾ یہ جواب قسم ہے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور آئے گی، اس کا وقوع کس دن ہوگا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہلا دے گی اس دن قیامت کا وقوع ہوگا۔ ہلا دینے والی چیز سے نفخہ اولیٰ یعنی پہلی بار کا صور پھونکنا مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

4:۔ ” یَوْمَ تَرْجُفُ “۔ یہ تخویف اخروی ہے اور ظرف جواب قسم مقدر کے ساتھ متعلق ہے۔ ” ترجف “ ہل جائے گی اور کانپ اٹھے گی۔ ” الراجفۃ “ سے مراد زمین ہے۔ جس دن کانپ اٹھے گی کانپنے والی یعنی نفخہ اولی کے وقت ایک زبردست زلزلہ آئے گا جس کی وجہ سے زمین کو اس قدر شدید جھٹکے لگیں گے کہ پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی آئے گی۔ مراد نفخہ ثانیہ ہے جس سے ساری مخلوق زندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ۝ 6 ۙ رجف الرَّجْفُ : الاضطراب الشدید، يقال : رَجَفَتِ الأرض ورَجَفَ البحر، وبحر رَجَّافٌ. قال تعالی: يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ [ النازعات/ 6] ، يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبالُ [ المزمل/ 14] ، فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ [ الأعراف/ 78] ، والإِرْجَافُ : إيقاع الرّجفة، إمّا بالفعل، وإمّا بالقول، قال تعالی: وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ ويقال : الْأَرَاجِيفُ ملاقیح الفتن . ( ر ج) الرجف ( ن ) اضطراب شدید کو کہتے ہیں اور رَجَفَتِ الأرض ورَجَفَ البحر کے معنی زمین یا سمندر میں زلزلہ آنا کے ہیں ۔ بحر رَجَّافٌ : متلاطم سمندر ۔ قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ تَرْجُفُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ ۔ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ ۔ (النازعات : 6، 7) (اس دن سے ڈرو جس دن ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا۔ اور اس کے پیچھے آئے گا ایک اور جھٹکا۔ ) وقوعِ قیامت کی تصویر اس میں وقوع قیامت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ پہلے جھٹکے سے مراد نفخہ اولیٰہے جو زمین اور اس کی ہر چیز کو تباہ کردے گا۔ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اور دوسرے جھٹکے سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ یعنی جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو سب اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور میدانِ حشر کی طرف چل پڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نفخہ اولیٰ : 6 : یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ (جس روز ہلا ڈالنے والی چیز ہلا ڈالے گی) ترجفؔ حرکت کرنے کے معنی میں ہے۔ الراجفہؔ شدید حرکت۔ راجفہ سے مراد اولیٰ ہے۔ اور ایسی چیز سے اس کا تذکرہ کیا جس کے پیش آنے سے وہ پیش آجائے۔ کیونکہ اس نفخہ سے زمین کپکپا جائے گی یہاں تک کہ ہر چیز جو اس کے اوپر ہے وہ مرجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” فالمدبرات امرا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ فرشتے ہیں جن کو کئی کام سپرد کیے گئے ہیں جن کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ان کو معرفت دی ہے۔ عبدالرحمن بن سابط فرماتے ہیں دنیا میں تدبیر امور چار فرشتے کرتے ہیں۔ جبرئیل، میکائیل، ملک الموت اور اسرافیل علیہم السلام۔ بہرحال جبرئیل (علیہ السلام) کو تو وحی، پکڑ اور لشکروں کو شکست دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور بہرحال میکائیل کو تو بارش، پودوں اور رزق کی ذمہ داری دی گئی ہے اور بہرحال اسرافیل تو صاحب صور ہیں اور امر عظیم کے لئے ہی اتریں گے اور ان قسموں کے جواب محذوف ہیں۔ اس کی تقدیر ” لتبعثن ولتاحسبن “ ہے اور کہا گیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ کا قول ”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–14

6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ) جس دن زمین پر بھونچال آئے گا اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

(5) مدبرات امر سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر جو تدبیر کرتے ہیں اپنے رب کے حکم سے " یعنی آسمان سے زمین تک اپنے رب کے حکم و ارشاد کے مطابق، اور جو اور جیسا حکم ان کو اپنے رب کی طرف سے ملتا ہے یہ اس کی تعمیل و تکمیل کرتے ہیں۔ ان پانچ صفات کے موصوف ذکر نہیں فرمائے گئے۔ اس لیے جیسا کہ اوپر کے حواشے میں بھی اشارہ کیا گیا، حضرات مفسرین کرام کے اقوال اس میں مختلف ہیں، پہلا قول و احتمال جو ہم نے اوپر ذکر کیا وہ جمہور صحابہ وتابعین اور عام مفسرین کرام کا قول ہے، اور جس کو حضرت ابن عباس، اور ابن مسعود ؓ نے بھی اختیار فرمایا ہے۔ جبکہ کچھ حضرات اہل علم کے قول کے مطابق ان سے مراد ہوائیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–14

قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ؁ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی پہلی مرتبہ صورپھونکنا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” یعنی زمین کو بھونچال چلاجاوے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:6) یوم ترجف الراجفۃ : یوم منصوب ہے ظرف زمان ہے اور قسم کے جواب محذوف سے متعلق ہے۔ ترجف مضارع واحد مؤنث غائب رجف (باب نصر) مصدر سے بمعنی وہ لرزے گی۔ وہ کانپے گی۔ الراجفۃ رجف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ جب تھر تھرانے والی تھرتھرائے گی۔ علامہ آلوسی (رح) روح المعانی میں لکھتے ہیں :۔ راجفۃ سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں جو ساکن ہیں۔ اور وہ اس وقت زور زور سے کانپنے اور لرزنے لگیں گی۔ جیسے زمین، پہاڑ، وغیرہ۔ یعنی نفخہ اولیٰ ہوگا اور نظام کائنات کے درہم برہم ہونے کا حکم صادر ہوگا۔ تو یوں محسوس ہوگا کہ زبردست زلزلہ کے جھٹکوں سے زمین۔ پہاڑ، قلعے۔ مکان اور درخت سب کے سب لرزنے لگیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–9

حشر کا ذکر۔ (ف 3) اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقینی ہوتی ہے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ ہوگا کہ زمین اور پہاڑ جنبش میں آئیں گے پہلاصور جب پھونکاجائے گا اس وقت روحیں بدن سے جدا ہوجائیں گی اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، پھر اس کے بعد دوسرا صور پھونکاجائے گا اس وقت پھر ارواحیں قالب میں آئیں گی اور نئے سرے سے عالم ایک ارعالم میں ظاہر ہوگا، بہت دل اس دن خوف زدہ ہوں گے اور نظریں مارے دہشت کے جھک رہی ہوں گی غرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] یہ وہی مضمون ہے جو بادنیٰ تغیر الفاظ سورة ذاریات اور سورة مرسلات کی ابتدائی آیتوں میں بیان ہوا ہے۔ [2] یہ اثر ہوگا پہلی دفعہ صور کے پھونکے جانے کا (نفخہ اولیٰ ) جس سے تمام خلق مرجائے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) جس دن زور سے لرزنے لرزنے والی۔ یعنی زمین میں بھونچال آئے ، مراد پہلا نفخہ صور ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–9

ف 2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس دن لرزا دینے اولی لرزا دے گی ۔ 6 (ترجف) وہ لرزے گی۔ وہ کانپے گی۔ مادہ اس کا ر جہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مئونث غائب (الراجفہ) کانپنے والی یا کنپا دینے والی۔ رجف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث ۔ مراد اس سے قیامت ہے۔ سکون سے دنیا کا نظام قائم ہے اگر یہ زمین جس پر ہم بستے ہیں فقط پانچ منٹ کے لئے مسلسل کانپتی رہے تو شاید اس پر ایک ذی نفس بھی زندہ نہ رہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ساکن بنایا ہے اور اس کے سکون ہی کے باعث ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ بات واضح ہے کہ زمین متحرک ہے تو پھر اس کو ساکن ہم نے کیسے کہہ دیا ؟ آپ کی بات بالکل صحیح لیکن کبھی آپ ریل گاڑی میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

2 The first jolt implies the jolt which will destroy the earth and everything on it, and the second jolt at which all dead men will rise up from death and from their graves. This same state has been described in Surah Az-Zumar, thus: "And when the Trumpet shall be blown on that Day, all those who are in the heavens and the earth shall fall down dead except those whom Allah may allow (to live) . Then the Trumpet shall be blown again and they will all stand up, looking around." (v. 68)

Read the full tafseer →