فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ۟ۘفَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ
پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And those who arrange [each] matter,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ۟ۘفَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ
پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And those who arrange [each] matter,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
پھر (احکام الٰہی کے مطابق) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں
پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!
پھر جو حکم ملتا ہے اس (کو پورا کرنے) کا انتظام کرتے ہیں۔
پھر کام کی تدبیر کریں
پھر ان (فرشتوں) کی قَسم جو مختلف اُمور کی تدبیر کرتے ہیں۔ (یا:- پھر توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو باہمی تعامل سے کائناتی نظام کی بقا کے لئے توازن و تدبیر قائم رکھتی ہیں)،
پھر جو کسی کام کی تدبیر کرنے والے ہیں !
پھر ان کی جو کسی حکم کی تدبیر کرنے والے ہیں
اور خدا کے حکم نازل کرنے والے (کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ شدنی ہے)
پھر انکی جو تدبیر کرتے ہیں (اپنے رب کے) حکم سے (قیامت نے ضرور بالضرور قائم ہونا ہے)
(کہ قیامت آکر رہے گی)
پھر (حسب حکم) معاملات کی تدبیر کرتے ہیں۔
پھر دنیا کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں
and then manage the affairs of the Universe (according to their Lord's commands).
then manage (to do) everything (they are ordered to do,)
then manage (to do) everything (they are ordered to do,)
And by those who arrange affairs.
And those who govern the event,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And those who arrange [each] matter,
and by the angels who regulate the affairs, (you will certainly be resurrected).
Then those who regulate the affair.
And then they manage the affair,
Then arrange to do (the Commands of their Lord),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة النّٰزِعٰت 1 یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن بعد کا مضمون اس امر پر خود دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کی قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان ضرور از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں، لیکن صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد نے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، مسروق، سعید بن حبیر، ابو صالح، ابوالضحیٰ اور سدی ؓ کہتے ہیں کہ ڈوب کر کھینچنے والوں اور آہستگی سے نکال لے جانے والے سے مراد وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ۵ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں بادنیٰ تغیر الفاظ وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا ۵ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ میں اور سورۂ مرسلات میں ’فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ۵ فَالْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًا‘ کے لفظوں میں فرمائی گئی ہے۔ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ بادلوں سے لدی ہوئی ان ہواؤں کی صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس سرزمین کی طرف چلتی ہیں جس کے لیے حکم ہوتا ہے اور پھر وہاں وہ امر الٰہی کی تقسیم کرتی ہیں یعنی جن کے لیے حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتی ہیں۔ کسی علاقے پر…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ جو کام سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: قرآن کریم میں اصل لفظ صرف اتنا ہے کہ ”قسم ان کی جو سختی سے کھینچتے ہیں“ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد روح قبض کرنے والے فرشتے ہیں جو کسی کی (اور عام طور سے کافروں کی) روح کو سختی سے کھینچتے ہیں، اور کسی کی (اور عام طور سے مومنوں کی) روح کو آسانی سے اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے کوئی گرہ کھول دی ہو۔ پھر وہ ان روحوں کو لے کر تیرتے ہوئے جاتے ہیں، اور جلدی جلدی ان کی منزل پر پہنچا کر ان احکام کے مطابق ان کا انتظام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ پہلی چار آیتوں کا یہی مطلب ہے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض…
Read the full tafseer →7 یعنی اس کے بعد ان ارواح کے متعلق ثواب کا حکم ہو یا عقاب کا دونوں امروں میں سے ہر امر کی تدبیر و انتظام کرتے ہیں یا مطلقاً وہ فرشتے مراد ہوں جو عالم تکون کی تدبیر و انًظام پر مسلط ہیں۔ والظاہر ھو الاول۔ " والنازعات "" والنشطت " وغیرہ کی تعیین میں بہت اقوال ہیں۔ ہم نے مترجم (رح) کے مذاق پر تقریر کردی۔
Read the full tafseer →آیت 5{ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا۔ } ”پھر حسب حکم معاملات کی تدبیر کرتے ہیں۔“ یعنی ہر مرنے والے کی روح کو فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سِجِّین یا عِلِّیّین میں لے جاتے ہیں۔ یہاں پر ان قسموں کا جواب یا مقسم علیہ چونکہ محذوف ہے ‘ اس لیے ان قسموں کا مقسم علیہ بھی وہی تصور ہوگا جو سورة الذاریات اور سورة المرسلات میں مذکور ہے۔ یعنی : { اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ - وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ } الذّٰرِیٰت ”جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی“۔ اور { اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَـوَاقِعٌ۔ } المرسلٰت ”جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقینا واقع…
Read the full tafseer →5 پھر ارواح کے متعلق فرشتوں کو جو حکم ملتا ہے خواہ وہ حکم ثواب کا ہو یا عذاب کا۔ اس پر فوراً عمل درآمد کی تدبیر کرتے ہیں۔ اور اگر الفاظ کی عمومیت کا لحاظ رکھا جائے تو ان سے مراد وہ تمام فرشتے ہیں جو تدبیر امور کائنات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3۔ یعنی صور کا نفخہ ثانی جو ہر مردہ چیز کو از سرنو زندہ کھڑا کردے گا۔ (آیت) ” یوم ترجف الراجفۃ “۔ یعنی صور کا نفخہ اولی جو چھوٹی بڑی زندہ مخلوق کو فناء کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔ خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ نفس اور روح سے…
Read the full tafseer →فالمدبرات امرا . اور امراکا انتظام کرنے والوں کی قسم ! ابن ابی الدنیا کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ المدبرات سے وہ ملائکہ مراد ہیں جو مردوں کی روحیں قبض کرنے کے وقت ملک الموت کے ساتھ آتے ہیں ‘ ان میں سے بعض تو روح کو چڑھا کرلے جاتے ہیں اور بعض (میت کے لیے کی جانے والی) دعا پر آمین کہتے ہیں اور بعض میت کے لیے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے ہیں کہ اس پر نماز پڑھ لی جائے اور اس کو قبر میں رکھ دیا جائے۔ بغوی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک وہ ملائکہ مراد ہیں جن کے سپرد کچھ کام بحکم خدا کردیئے گئے ہیں اور ان کو انجام دینے کا طریقہ اللہ نے ان کو بتادیا ہے۔ عبدالرحمن بن سابط نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافروں کی جان سختی سے نکالتے ہیں، اور قسم ہے ان فرشتوں کہ جو کہ کافروں کی جانوں پر سختیاں کرتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ جو مسلمانوں کی روح آسانی سے نکالتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ صالحین کی روحوں کو نکالتے ہیں، اور پھر ان کے آرام کے مقام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ مومنین کی ارواح کو جنت کی طرف اور کفار کی روحوں کو دوزخ کی طرف تیزی کے ساتھ لے جاتے ہیں، یا یہ کہ اس سے مراد مسلمانوں کی روحیں ہیں جو خودبخود تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتی ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ بندوں کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہیں یعنی جبریل،…
Read the full tafseer →(فالمدبرت امراً : پھر دین و دنیا کے جس کام کا انہیں حکم دیا ہوتا ہے اس کی تدبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں جن چیزں کی قسم کھائی گئی ہے یا تو ان کی ندرت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے یا انہیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی شہادت کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں جواب قسم صاف لفظوں میں مذکور نہیں مگر قیامت کے احوال ذکر کرنے سے خود بخود سمجھ آرہا ہے کہ یہ قسمیں اس بات کا یقین دلانے کے لئے کھائی گئی ہیں کہ قیامت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل عرب فرشتوں کا اللہ کی طرف سے قبض ارواح اور دوسرے معاملات کی تدبیر پر مامور ہونا مانتے تھے۔ فرشتوں کے یہ اوصاف ذکر کر کے ان کی قسم اس بنا پر کھائی گی ہے کہ فرشتے جس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فالمدبرات امرا۔ قشیری نے کہا، علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں، ماوردی نے کہا، اس بارے میں دو قول ہیں، اس سے مراد ملائکہ ہیں یہ جمہور کا نقطہ نظر ہے، اس سے مراد سات ستارے ہیں، یہ خالد بن معدان نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت نقل کی ہے، ان کے امور کی تدبیر کی دو صورتیں۔ ان کے طلوع و غروب کی تدبیر کرنا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس میں جو احوال کے بدلنے کا فیصلہ کیا ہے وہ تدبیر ہے، قشیری نے بھی اپنی تفسیر میں یہی قول نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے عالم کے بہت سے امور کو نجوم کی حرکات کے ساتھ معلق کیا ہے پس تدبیر کو ان ستاروں کی طرف منسوب کردیا گیا ہے اگرچہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
15۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسبحت سبحا سے سارے ستارے مراد ہیں۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ابن الکوا (رح) نے ان سے آیت فالمدبرات امرا کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ فرشتے ہیں جو رحمن کے ذکر اور اس کے امر کی تدبیر کرتے ہیں دنیا کی تدبیر چار فرشتوں کے ذمہ ہے 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں عبدالرحم بن سابط (رح) سے روای کیا کہ دنیا کے کام کی تبدیر چار فرشتے کرتے، جبیر میکائیل ملک الموت اور اسرائیل فیل (علیہ السلام) ۔ جبریل مقرر ہیں ہواؤں اور لشکروں پر اور میکائیل مقرر ہیں بارش اور سبزہ اگانے پر اور ملک الموت…
Read the full tafseer →[فَالْمُدَبِرٰتِ : پھر تدبیر کرنے والیوں کی ][ اَمْرًا : کسی (بھی) حکم کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
﴿فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًاۘ005﴾ پھر وہ فرشتے حکم خداوندی کے مطابق تدبیر کرتے ہی یعنی جس روح کے متعلق جو حکم ہوتا ہے اس حکم کے مطابق عمل کرنے کی تدبیروں میں لگتے ہیں۔ ﴿يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ006﴾ یہ جواب قسم ہے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور آئے گی، اس کا وقوع کس دن ہوگا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہلا دے گی اس دن قیامت کا وقوع ہوگا۔ ہلا دینے والی چیز سے نفخہ اولیٰ یعنی پہلی بار کا صور پھونکنا مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3:۔ ” وَالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا “ فضاء آسمانی میں تیرنے والے۔ سرعتِ سیر کو تیرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ” فَالسّٰبِقٰتِ “ اپنے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے والے۔ ” فَالْمُدَبِّرَاتِ “ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے تدبیریں سوچنے والے۔ التی تسیح فی مضیھا (ای تسرع فتسبق الی ما امروا بہ فتدبر امرا من امور العباد مما یصلحہم فی دینہم کما رسم لھم (مدارک) ۔ یہ قیامت کے حق ہونے پر قسمیں اور شواہد ہیں اور جواب قسم محذوف ہے۔ اقسم سبحانہ لہذہ الاشیاء التی ذکرھا علی ان القیامۃ حق (قرطبی ج 19 ص 188) ۔ و جواب القسم محذوف ای لتبعثن ولتحاسبن (مظہری ج 10 ص 185) ۔ یا لتسلطن علیکم الملائکۃ یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…
Read the full tafseer →فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا 5 ۘ دبر والتدبیرُ : التفکّر في دبر الأمور، قال تعالی: فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] ، يعني : ملائكة موكّلة بتدبیر أمور، ( د ب ر ) دبر ۔ التدبیر ( تفعیل ) کسی معاملہ کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے اس میں غور و فکر کرنا قرآن میں ہے :۔ فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] پھر دنیا کے ) کاموں کا انتظام کرتے ہیں ۔ یعنی وہ فرشتے جو امور دینوی کے انتظام کیلئے مقرر ہیں ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ وللقسم جارۃ النازعات مجرور مقسم بہا و الناشطات والسابحات عطف علیہ بالوا و فالسابقات فالمد برات عطف بالفاء لکونھا مسببتہ عن التی قبلھا کانہ قیل واللاتی سبجن فسبقن کما تقول قام فذھب فضرب وانتصاب۔ غرقا علی انہ مصدر محذوف الزوائد ای اغراقا او علی الحال ای ذوات اغراق یقال اغرق فی الشیء یغرق فیہ اذا اوغل فیہ وبلغ غایۃً وکذانشطا و سبحاوسبقا مصدر والنصب علی انھا مفعول مطلق وامرا مفعول بہ وقیل حال ای یدبرون ماموراتٍ و جواب القسم محذوف ھو عند الفراء لتبعثن وقال الاخفش والزجاج لنفخن فی الصور نفختین وقال الکسائی الجواب المحذوف ھوان القیامۃ واقعۃ والدلیل علی جمیع الاقوال مابعدھامن الآیات۔ وقیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالـنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْـقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰ تِ اَمْرًا۔ (النازعات : 1 تا 5) (قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو سختی سے جان نکالنے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو بند آسانی سے کھول دینے والے ہیں۔ اور قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو کائنات میں تیزی سے تیرنے والے ہیں۔ پھر تیزی سے دوڑنے والے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والے ہیں۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم ان آیات میں پانچ اوصاف رکھنے والی چیزوں یا ہستیوں کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان اوصاف کا موصوف کون ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں اہل تفسیر میں اختلاف ہوا۔ بعض اہل علم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة النّبا کے آخر میں ارشاد ہوا کہ قیامت کا قائم ہونا برحق ہے۔ النّازعات کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح انسان کا مرنا برحق ہے اسی طرح اس کا دوبارہ اٹھایا جانا بھی برحق ہے۔ صحابہ کرام ؓ اور ان کے شاگردان عظام کے حوالے سے مفسرین نے ان آیات کی یہ تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان ملائکہ کی قسمیں اٹھائی ہیں جو انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور جو انہیں حکم ملتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں۔ 1 ۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو مرنے والے کے جسم میں پوری طرح داخل ہو کر سختی کے ساتھ جان نکالتے ہیں۔ 2 ۔ قسم ہے ان کی جو مرنے والے کے جسم سے نرمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ ( اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکالتے ہیں اور جو بندکھول دیتے ہیں) ۔ وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ( اور جو تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔ پھر تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں) روح کو جسم کے بعید اطراف سے کھینچیں گے : قراءت : یہاں تک کوئی وقف نہیں اور یہاں وقف لازم ہے۔ کیونکہ اگر ملائیں گے تو یومؔ المدبرات کا ظرف بن جائے گا۔ حالانکہ اس دن تو ملائکہ کے ذمہ جو کام لگے وہ ختم ہوچکے ہونگے۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ان مختلف گروہوں کی قسم اٹھائی ہے جو اجساد سے ارواح کو ڈوب کر یعنی…
Read the full tafseer →4 ۔” فالسابقات سبقا “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتے ہیں جو ابن آدم سے خیر اور نیک عمل میں سبقت کر گئے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتے ہیں جو مومنین کی روح کو لے کر جنت کی طرف سبقت کریں گے اور ابن مسعود ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ وہ مومنین کے نفوس ہیں جو جلدی کرتے اور ان فرشتوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو ان کی روح قبض کرتے ہیں اللہ کی ملاقات اور اس کے اعزاز کے شوق ہیں۔ تحقیق انہوں نے سرور کا معائنہ کیا ہوتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ ستارے ہیں جو ایک دوسرے سے چلنے میں سبقت کرتے ہیں اور عطاء (رح) فرماتے ہیں وہ گھوڑے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ صحیح حدیثوں میں اللہ کے فرمانبردار لوگوں کی جان آسانی سے نکلنے کا اور نافرمان لوگوں کی جان سختی سے نکلنے کا ذکر آیا ہے اور آگے کی آیتوں میں نافرمان اور فرمانبردار لوگوں کا تذکرہ بھی ہے اس واسطے اگرچہ بعض مفسروں نے والنازعاث و الناشطات کی تفسیر میں اور اور کچھ بھی لکھا ہے مگر امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور حضرت علی نے ان لفظوں کی تفسیر سختی اور آسان سے جان کھینچنے والے فرشتوں کی جو قرار دی ہے یہی تفسیر صحیح حدیثوں کے مضمون کے موافق ہے۔ ان حدیثوں میں ایک حدیث براء بن عازب کی سند معتبر سے مسند امام احمد اور ابو داؤود 2 ؎ کی روایتوں میں ہے جو نازعات اور…
Read the full tafseer →(فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا) یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلا بارشوں، نباتات، ہواوں، سمندروں، ماؤں کے پیٹوں میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5) مدبرات امر سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر جو تدبیر کرتے ہیں اپنے رب کے حکم سے " یعنی آسمان سے زمین تک اپنے رب کے حکم و ارشاد کے مطابق، اور جو اور جیسا حکم ان کو اپنے رب کی طرف سے ملتا ہے یہ اس کی تعمیل و تکمیل کرتے ہیں۔ ان پانچ صفات کے موصوف ذکر نہیں فرمائے گئے۔ اس لیے جیسا کہ اوپر کے حواشے میں بھی اشارہ کیا گیا، حضرات مفسرین کرام کے اقوال اس میں مختلف ہیں، پہلا قول و احتمال جو ہم نے اوپر ذکر کیا وہ جمہور صحابہ وتابعین اور عام مفسرین کرام کا قول ہے، اور جس کو حضرت ابن عباس، اور ابن مسعود ؓ نے بھی اختیار فرمایا ہے۔ جبکہ کچھ حضرات اہل علم کے قول کے مطابق ان سے مراد ہوائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فرشتوں کی قسم تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ قسم کھا رہا ہے مگر جس کی قسم کھارہا ہے ان کی صفات سے صحابہ مفسرین اور تابعین کی بہت بڑی تعداد نے فرشتے ہی مراد لیے ہیں۔ جیسا کہ روایت ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ سے ' ڈوب کر کھینچنے اور آسانی سے کھول دینے والے سے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو انسانوں کی جان نکالتے ہیں۔ اسی طرح احکامات الٰہی کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ مثلاً اللہ کا پیغام رسولوں تک پہنچانا ' کائنات کے مختلف امور کو انجام دینا ''۔ فرشتوں کا وجود ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے کیونکہ انسان کی طرح یہ بھی مخلوق خدا ہیں۔ جو غیبی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پر ایمان لانا ہمارے اوپر یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کائنات کا نظام چلاتے ہیں۔ اس آیت میں ” مدتبرات “ سے فرشتے ہونے پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(79:5) فالمدبرات امرا :عاطفہ (واؤ قسمیہ مقدرہ ہے) المدبرات مقسم بہا ہے۔ امرا مفعول بہٖ ہے۔ المدبرات تدبیر (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل جمع مؤنث ہے کسی کام کی تدبیر کرنے والیاں۔ پھر ان کی قسم جو (تفویض کئے گئے) امور میں تدبیر و تعظیم کرتی پھرتی ہیں۔ بغوی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے نزدیک وہ ملائکہ مراد ہیں جن کے سپرد کچھ کام بحکم خدا کئے گئے ہیں اور ان کو انجام دینے کے طریقے اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم فرما دئیے ہیں۔ فائدہ : آیات 1 -5 میں مقسم بہا کا ان کے نام کے بجائے ان کے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) جمہور کے نزدیک ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اس صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی اس کے بعد ان ارواح کے متعلق ثواب کا حکم ہو یا عذاب کا، دونوں امروں میں سے ہر امر کی تدبیر وانتظام کرتے ہیں یامطلقا وہ فرشتے مراد ہوں جو عالم تکوین کی تدبیر وانتظام پر مسلط ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–25
ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(5) پھر ان فرشتوں کی جو ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں۔ اہل تفسیر کے ان آیتوں کے متعلق بھی کئی قول ہیں ہم نے مشہور اور راجح قول کو اختیار کرلیا ہے چناچہ نازعات سے وہ فرشتے مراد ہیں جو سختی اور زور کے ساتھ کافروں کی جان نکالتے ہیں۔ غرق انزع فی القوس فاغرق سے مشتق ہے یعنی کمان کو اس قدر زور سے کھینچا کہ گویا پیکان کمان کے اندر ڈوب گیا، مراد ہے سختی اور زور سے کھینچنا کافر مرتے وقت گھبراتا ہے اور اس کی روح چھپنے کی کوشش کرتی ہے اس لئے فرشتوں کو سختی سے کام لینا پڑتا ہے۔ دوسری قسم ان فرشتوں کی جو مومن کی جان نرمی اور آسانی سے کھینچتے ہیں۔ نزع اور نشط میں اتنا ہی فرق ہے کہ نزع سختی سے کھینچتا اور نشط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ف 2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔
Read the full tafseer →پھر ان کی جو ہر کام کا انتظام تدبر سے کرتے ہیں ۔ 5 (المدبرات) کا اصل مادہ د ب ر ہے اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں اعم بیان کئے گئے ہیں۔ (المدبرات) اسم فاعل جمع مئونث مجرور المدبرۃ واحد مئونث اور تدبیر مصدر ہے۔ باب تفعیل۔ تدبیر کے معنی ہیں انجام کو سوچنا ، انتظام کرنا ، ہرچیز کے دبر یعنی نتیجہ پر غور کرنا۔ اس جگہ بقول ابن عباس ؓ فرشتوں کی وہ جماعتیں مراد ہیں جو انتظامات کائنات پر اللہ تعالیٰ کی طرف مامور ہیں اور اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بادلوں کو اٹھا کر جس علاقہ کی طرف حکم ہوتا ہے اس کی طرف ہانک کرلے جاتی ہیں اور جہاں پہنچ کر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1 Here, the object for which an oath has been sworn by beings having five qualities has not been mentioned; but the theme that follows by itself leads to the conclusion that the oath has been sworn to affirm that the Resurrection is a certainty, which must come to pass, when all dead men shall be resurrected. Nor is there any mention as to what are the beings possessed of the qualities. However, a large number of the Companions and their immediate successors and most of the commentators have expressed the opinion that they are the angels. Hadrat `Abdullah bin Mas`ud, Hadrat `Abdullah bin…
Read the full tafseer →