79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 79:1–26

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

ان (فرشتوں) کی قسم ہے جو رگ رگ میں ڈوب کر (روح کو) کھینچ لیتے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور ان کی جو (مومن کے) بند آسانی سے کھول دیتے ہیں

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان کی جو (فضا میں) تیرتے پھرتے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر تیزی سے بڑھتے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر (جب حکم ہوتا ہے) دنیا کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس دن کانپنے والی (زمین) کو بھونچال آئے گا

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اس کے پیچھے پھر اور (بھونچال) آئے گا

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن دل خائف ہو رہے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

(اور) ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

کہتے ہیں بھلا ہم پھر واپس زندگی کی طرف لوٹیں گے

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے ؟

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں یہ لوٹنا تو بہت خسارے کا کام ہے

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک بار ڈانٹ کر بلایا جائے گا

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

تو اسی وقت سب کے سب میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کی حکایت پہنچی ہے ؟

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب ان کے رب نے ان کو پاک میدان طویٰ میں آواز دی

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ فرعون کے پاس جائیں یقینا وہ سرکش ہورہا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

سو کہیے کیا تو پاک ہونا چاہتا ہے ؟

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ بتاؤں سو تجھے خوف پیدا ہو ؟

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

غرض انہوں نے اسے بہت بڑا معجزہ دکھایا

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

پھر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر پلٹ کر تدبیر کرنے لگا

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

پس (لوگوں کو) اکٹھا کیا پھر اعلان کیا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

تو اس نے کہا میں تمہارا سب سے بڑا پالنہار ہوں

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

تو اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

جو شخص (اللہ سے) ڈر رکھتا ہو یقینا اس کے لئے اس میں عبرت ہے

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں جو حکم ہوتا ہے اس کی تکمیل کے لیے دوڑتے ہیں اور پھر ان سب امور کا انتظام کرتے ہیں۔ روح۔ مندرجہ بالا آیات کی مختلف تعبیرات کی گئی ہیں مگر یہ سب سے زیادہ مناسب ہے نیز روح کی بحث بھی ہے کہ عناصر اربع کے ملنے سے نفس پیدا ہوتا ہے جسے حکماء روح کہتے ہیں کہ مگر روح ایک لطیفہ ربانی ہے جس کی تجلی نفس کو منور کردیتی ہے جیسے شیشہ اگر سورج کے روبرو ہوتوخود سورج بن جاتا ہے اور بدن کی حیات نفس ہے خود نفس کی حیات روح ہے صاحب معارف القرآن بحوالہ تفسیر مظہری نقل فرماتے ہیں کہ اسی نفس کو بدن سے الگ کردینا موت ہے اور روح علیین میں چلی جاتی ہے جبکہ قبر میں یہی نفس ہوتا ہے عذاب وثواب اسی پر ہوتا ہے اور روح محسوس کرتی ہے۔ مگرفقیر کے نزدیک حق بات یہ ہے کہ روح سے نفس منور ضرور ہوتا ہے اس کے باوجود روح کا تعلق ہر ذرہ بدن سے بھی ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا اور موت پر جب اجزاء بدن بکھرجاتے ہیں تو یہ نفس بھی ختم ہوجاتا ہے اور روح کا تعلق ہر ذرہ بدن سے موجود رہتا ہے اس کا وہ رخ ختم کردیاجاتا ہے جو دنیا کی زندگی کا سبب تھا اور وہ ہر ذرہ بدن سے توڑا جاتا ہے کافر کا شدت سے مومن کا آرام سے قبر سے اصل روح کا تعلق رہتا ہے اور اپنے اخروی مقام سے بھی واللہ اعلم ثواب و عذاب اسی کے واسطے سے ہوتا ہے اس کا قرب باری سے محروم ہونابدن پر عذاب لاتا ہے اور معرفت باری میں غرق ہوناراحت وثواب نظام حیات پھر اس پابندی اور ضابطے کے مطابق موت یاقبض ارواح برزخ میں ان کا قیام اور حیثیت کا تعین اور اس کے مطابق وہاں برزک میں ان کے لیے اہتمام یہ سب بھی اس بات پر گواہ ہے کہ قیامت ضرور قائم ہوگی کہ جس روز پہلا نفخہ ہوگا جس سے ہر شے لرزاٹھے گی اور جاندار مرجائیں گے سمندر بھاپ بن جائیں گے پہاڑ غبار اور چاند سورج بےنور ہوکرجھڑ جائیں گے آسمان پھٹ جائیں گے اور پھر دوسرانفخہ ہوگا جسے ہر کوئی زندہ ہوجائے گا اور حشر قائم ہوگاتوکتنے دل اس روز ڈوب ڈوب رہے ہوں گے اور آنکھیں ندامت سے زمین میں گڑی ہوں گی اور کہہ رہے ہوں گے کہ یہ تو دوبارہ واپس آنا پڑگیا کہ اب تو ہڈیاں بھی خاک ہوچکی تھیں پھر سب کچھ کیسے ہوگا اور ہم کیا منہ لے کر حشر میں حاضر ہوں کہ یہ تو ہمارے لیے بہت مشکل گھڑی آگئی مگر ان کے بس میں تو نہ ہوگا بلکہ ایک جھڑکی پہ ہر شے میدان حشر میں موجود ہوگی انہیں اگر اس سب سے انکار ہی ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات پر غور کیجئے کہ جب انہیں وادی طوی کی پاکیزہ فضا میں اللہ سے شرف ہم کلامی نصیب ہوایہ واقع تب پیش آیا جب آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر واپس مصر جانے لگے اور اپنے بیوی بچے غلام کچھ بکریاں ہمراہ تھیں کہ راستے میں رات ہوگئی ٹھنڈ بھی تھی آپ نے روشنی دیکھ کر سبکوبٹھایا ک ہمیں آگ لے کر آتا ہوں۔ چنانچہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تجلی باری ہے وہاں اللہ سے شرف ہم کلامی نصیب ہو کر حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جائیے کہ وہ حد سے بڑھ چکا ہے لہذا اسے دعوت دیجئے کہ کیا تو شرک وکفر اور بدی برائی کی تمام نجاستوں سے اپنادامن پاک کرنے کا خواہش مند ہے تو آئیں تجھے وہ طریقہ عطاکروں جو تجھے تیرے رب کی رضامندی کی طرف لے جائے اور تیراتعلق اللہ سے اتنامضبوط اور قریبی ہوجائے کہ بات بات پہ تجھے یاد آتا رہے کہ کہیں اس کی پسند کے خلاف نہ کربیٹھوں۔ فیض اور برکات شیخ۔ نبی سے امتی کو یہی فیض نصیب ہوتا ہے کہ عقیدے کی درستی کے ساتھ عبادت اور کارگاہ حیات میں عمل جسے نظام کہا جاتا ہے کہ ہر کام میں ہر قدم پر حضور کی کیفیت رہتی ہے اور یہی نعمت شیخ سے ملنی چاہیے ورنہ امور دنیاتوسب لوگوں کے اللہ کے نظام کے تابع پورے ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ پھر انہوں نے اس کے سامنے اپنی نبوت کی صداقت کی دلیل کے طور پر معجزات پیش کیے لیکن اس نے ان کی بات نہ مانی اور بات نہ مان کر انہیں جھوٹا کہا اور الٹے پاؤں پھر اور مخالفت میں پوری طاقت لگادی لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا کہ میں تمہارا سب سے اعلی وارفع رب ہوں یعنی اگر کوئی اور رب ہے بھی تو مجھ سے کم ہوگا اس پر اللہ کی گرفت آئی تو دنیا وآخرت میں عذاب میں گرفتار ہوا کہ حکومت وسرداری وملک سب ضائع کرکے لشکر سمیت غرق ہوگیا اور ادھر پانی میں ڈوبے توبرزخ کی عذاب والی آگ میں جاپہنچے ، پھر حشر کو اصل عذاب جو شدید تر ہوگاجھیلیں گے لوگوں کو اگر دنیا کے مال واسباب اور طاقت نے گمراہی میں ڈال رکھا ہے تو اس واقع میں ان کے لیے عبرت کا سامان ہے ہاں یہ تب ہی مفید کہ عظمت الٰہی ان کی فکر میں آجائے۔