79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة النازعات سورة نمبر 79 کل رکوع 2 آیات 46 الفاظ و کلمات 181 حروف 1791 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : وہ لوگ جو مر کر دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کے واقع ہونے کو عقل سے دور کی بات سمجھتے تھے ان کو اللہ نے اپنے ان فرشتوں کی قسم کھا کر جو کائنات میں مختلف امور پر مقرر ہیں فرمایا کہ اللہ جو ہر طرح کی قدرت و طاقت رکھتا ہے جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے وہ عاجز اور بےبس نہیں ہے کہ انسان کو اور دنیا کو دوبارہ پیدا نہ کرسکے۔ فرمایا : ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر (سختی سے کافروں کی) جان نکالتے ہیں اور ان فرشتوں کی قسم جو بند کھول دیتے ہیں (یعنی مومنوں کی جان نہایت آہستگی سے نکالتے ہیں) ان فرشتوں کی قسم جو ( اس قدر تیز عمل کرتے ہیں جیسے) وہ تری رہے ہیں۔ ان فرشتوں کی قسم جو ( اللہ کے حکم کے مطابق کائنات میں) معاملات کا انتظام کرنے کے لئے تیزی سے دوڑتے ہیں کہ جس دن زلزے کے جھٹکے بار بار آتے چلے جائیں گے اس دن کچھ دل کانپتے اور دھڑکتے ہوں گے اور ان لوگوں کی نگاہیں سہمی ہوئی ہوں گی جو یہ سوچتے تھے کہ جب ہماری کھوکھلی ہڈیاں گل سڑ چکی ہوں گی کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور پہلی والی حالت پر لوٹائے جاسکیں گے ؟ اگر ایسا ہو اتو ہم بڑے گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے۔ حالانکہ اس واقعہ میں دیرنہ لگے گی بلکہ ایک زبردست اور سخت آواز (صور پھونکنے کے بعد ) ہوگی اور یکا یک سب لوگ ایک کھلے میدان میں حاضر ہوجائیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موسیٰ کے واقعہ کی خبر پہنچی۔ جب ان کے رب نے انہیں ایک مقدس وادی میں پکار کر کہا تھا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اس فرعون کے پاس جائو جو نافرمانی اور سرکشی میں حد سے گزر گیا ہے اور اس سے کہو کہ اے فرعون ! کیا تو چاہتا ہے کہ میں تجھے سیدھا راستہ دکھا کر پاکیزگی کی طرف رہنمائی کروں، تجھے تیرے رب کی طرف لوٹا دوں تاکہ تیرے اندر اس کا خوف پیدا ہو ؟ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے سامنے (عصا کا) بڑا معجزہ پیش کیا مگر اس نے حقارت سے ٹھکرا کر ماننے سے انکار کردیا۔ پھر اس نے (مکرو فریب کا جال پھیلانے کے لئے) سب لوگوں کو جمع کیا اور پکار کر کہا کہ میں ہی تمہارا رب اعلیٰ ہوں۔ آخر کار اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذاب میں پکڑ لیا ( غرق کردیا) اور اس واقعہ میں ہر اس شخص کے لئے عبرت کا سامان موجود ہے جو اللہ کا خوف رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیا تم لوگوں کا پیدا کرنا بڑی بات ہے یا آسمانوں کا پیدا کرنا ؟ جسے اللہ نے ہی بنایا ہے۔ اس کی چھت کو خوب اونچا کیا۔ پھر اس میں توازن قائم کیا۔ اسی نے رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا۔ اسی نے زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا۔ جس سے پانی اور چارے کو نکالا۔ اس زمین میں تو ازن کے لئے پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اسی نے تمہاری زندگی گزارنے کے اسباب اور تمہارے مویشیوں کے لئے رزق کو پیدا کیا۔ پھر جب قیامت کو ہولناک اور بڑا ہنگامہ خیز دن ہوگا تو انسان کو اپنے کیے ہوئے اعمال یاد آجائیں گے۔ ہر گناہ گار کے سامنے جہنم کو کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ جس نے سرکشی کی ہوگی اور اس نے دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہوگا جہنم اس کا ٹھکانا ہوگی۔ اور جس نے اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے خوف کیا ہوگا اور اپنے نفس کی خواہشوں سے دور رہا ہوگا اس کا ٹھکانا جنت ہوگی۔ نبی کریمو کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کافر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس سے تعلق بھی نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قیامت کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام صرف لوگوں کو ان کے برے اعمال سے خبردار کرنا اور اس سے خوف دلانا ہے۔ فرمایا کہ جس دن یہ قیامت کو دیکھیں گے تو ان کو یہ محسوس ہوگا کہ وہ (دنیا میں یا قبر میں) صرف ایک صبح یا ایک شام سے زیادہ نہیں رہے ہیں۔

Ayahs 79:1–46

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے سختی سے جان کھینچنے والے (فرشتوں کی)

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور نرمی سے جان نکالنے والے (فرشتوں کی)

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان (فرشتوں) کی قسم ( جو ہوا میں ) تیرتے ہیں۔

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر (ان فرشتوں کی قسم) جو دوڑ کر آگے نکلتے ہیں ( ہر حکم کو پورا کرتے ہیں)

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر ان (فرشتوں ) کی قسم جو ہر کام کی تدبیر کرتے ہیں۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جب وہ لرزا دینے والی (قیامت) آئے گی

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

جس کے پیچھے آنے والی چیز ( نفخہ ثانیہ) آئے گی۔

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن دل دھڑکتے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی نظریں نیچی ہوں گی۔

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

وہ (منکرین قیامت) کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ؟

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا پھر (ہماری) واپسی ہوگی۔

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

(وہ کہیں گے اگر ایسا ہوا) یہ واپسی تو بڑے خسارے کی واپسی ہوگی۔

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

پھر وہ واقعہ تو ایک سخت (بھیانک) آواز ہوگی۔

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اور اچانک وہ میدان ( حشر) میں ہوں گے۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا آپ تک موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ پہنچا

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب انہوں نے طویٰ نامی مقدس وادی میں اپنے رب کو پکارا تھا

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

تو (ان سے کہا گیا تھا کہ) تم فرعون کی طرف جائو کیونکہ وہ حد سے نکل گیا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

پھر اس سے کہو کیا تو چاہتا ہے کہ تجھے پاک کردیا جائے۔

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہ ہدایت دکھائوں تا کہ تو اس کا خوف اختیار کرے۔

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو بڑی نشانی ( معجزہ) دکھائی۔

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

اس نے ان کو جھٹلایا اور ان کی نافرمانی کی۔

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر اس نے پیٹھ پھیری اور اس نے (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذلیل کرنے کی ) کوشش کی۔

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اس نے لوگوں کو جمع کیا اور پھر ایک ہانک لگاتے ہوئے کہا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

(لوگو) میں تمہارا رب اعلیٰ (بڑا پروردگار) ہوں۔

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

پھر اللہ نے اس کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ (ذلت و خواری کے ساتھ عذاب میں) پکڑا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک اس میں ہر اس شخص کے لئے سامان عبرت ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا تمہارا بنانا (پیدا کرنا) مشکل تھا یا اس آسمان کا جس کو اس نے بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کو خوب اونچا کیا اور اس کو درست بنایا۔

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اس نے رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اس نے زمین (کے) فرش کو بچھایا۔

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اس نے اس زمین سے اس کا پانی اور (جانوروں کا) چارہ

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اس کے پہاڑوں کو قائم کردیا۔

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

پھر تمہارے لیے اس میں (زندگی گزارنے کا) سامان ہے اور تمہارے مویشیوں کے لیے بھی۔

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

پھر جب وہ ہنگامہ خیز دن آئے گا

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

آدمی اپنے کئے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا۔

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور دیکھنے والوں کے لیے جہنم کو کھول کر رکھ دیا جائے گا۔

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

پھر جو شخص حد سے بڑھا ہوگا

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور اس نے دنیا کی زندگی کو ترجیح دی ہوگی

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

تو اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جو اپنے رب سے اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا ہوگا اور اس نے اپنے آپ کو (ناجائز) خواہشات سے روکا ہوگا

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

تو بیشک جنت اس کا ٹھکانا ہوگی۔

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی ؟

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

(لیکن) اس کو وقت بیان کرنے سے (آپ کو) کیا واسطہ ؟

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے۔

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

لہٰذا آپ تو صرف اس شخص کو خبردار کرنے والے ہیں جو اس کا خوف رکھتا ہے۔

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

جس دن وہ قیامت کو دیکھیں گے تو ان کو یہ محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں ایک رات یا ایک صبح سے کچھ دیر (اس دنیا میں) ٹھہرے تھے ( اور بس) ۔

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے نفس کو روکا۔ مرس۔ ٹھہرنا۔ کانھم۔ گویا کہ وہ۔ لم یلبثو۔ وہ نہ ٹھہریں گے۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسے بیشمار فرشتوں کو پیدا کیا ہے جو ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں جیسے ہی ان کو حکم دیا جاتا ہے وہ مکمل اطاعت و فرمان برداری کے ساتھ اس پر عمل شروع کردیتے ہیں۔ زندگی، موت، قیامت، آخرت، جنت، جہنم، بارش، رزق، دنیا کی آبادکاری یا تباہی، قوموں کا عروج اور زوال غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں فرشتے وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب قوموں کے اخلاق اور عقیدوں میں زبردست بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو اللہ کا یہ بڑا فضل و کرم ہے کہ وہ ان کے عقیدوں اور اخلاقی زندگی کو سنوارنے کے لیے اپنے پاکیزہ نفس پیغمبروں کو بھیجتا تاکہ وہ ان کی اصلاح کرکے اور دنیا پرستی سے بچا کر آخرت کے راستے پر ڈال دیں اور انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھا دی جائے کہ زندگی نہایت مختصر اور ایک حد پر ختم ہوجانے والی ہے اس میں کسی چیز کو قرار نہیں ہے لیکن آخرت کی زندگی اور اس کی راحتیں یا عذاب کبی نہ ختم ہونے والی حقیقتیں ہیں۔ سعادت مند لوگ ان پیغمبروں کی باتوں پر ایمان لاکر عمل صالح اختیار کرتے ہیں اور ابدی جنت کے مستحق بن جاتے ہیں لیکن بد نصیب لوگ زندگی بھر یہی کہتے رہ جاتے ہیں کہ یہ بات تو ہماری عقل میں نہیں آتی کہ جب ہم مرجائیں گے اور ہماری ہڈیوں تک کا پتہ نہیں ہوگا تو پھر دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟ اس طرح وہ پیغمبروں کی تعلیمات کو جھٹلانے اور ان سے ٹکرانے کی جسارت کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو اپنے ہاتھوں برباد کرلیتے ہیں۔ زیر مطالعہ آیات میں اللہ نے ان ہی باتوں کو فرشتوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ آخرت کی زندگی کو جھٹلاتے ہیں ان کا انجام نہایت عبرت ناک اور بھیانک ہوا کرتا ہے۔ اور جو لوگ قیامت اور موت کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں انہیں ہر طرح کی سعادتیں عطاکی جاتیں ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر گہرائیوں سے (کافروں کی) جان کھینچ نکالتے ہیں۔ یعنی جب اللہ کے مقرر فرشتے ان کافروں کی جان نکالنا چاہتے ہیں تو روح چھپنے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ زبردستی اس کی روح کو نکال لیتے ہیں تاکہ اس کو اس کے انجام تک پہنچا دیا جائے۔ (2) آہستگی اور نرمی سے (مومنوں کی جان کے ) بندھن کھول دینے والے فرشتوں کی قسم۔ یعنی اللہ کے فرشتے جب مومنوں کی جان نکالانا چاہتے ہیں تو اس قدرآہستگی اور نرمی سے نکالتے ہیں جیسے کسی بند چیز کے بندھن اور گرہ کو کھول دیا جاتا ہے اور اس طرح مومن کی روح کے بندھن کھولنے سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ انسان کی جانکو قبض کرنے کے بعد اس کو تیزی سے آسمانوں کی طرف لے جانے والے فرشتوں کی قسم۔ یعنی وہ اس قدرتیزی سے اس روح کو آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں جیسے وہ فضاؤں میں تیر رہے ہیں۔ (4) وہ فرشتے جو روح کو لے کر ( اچھے یابرے ٹھکانے پر) پہنچانے میں جلدی کرتے ہیں۔ ان فرشتوں کی قسم (5) اللہ کے احکامات کو (پوری کائنات پر) نافذ کرنے والے فرشتوں کی قسم۔ یعنی وہ فرشتے جو ہر وقت مستعد اور صفیں باندھے کھڑے رہتے ہیں تاکہ ادھر حکم ہوا اور ادھر وہ اس کی تعمیل کرنے کی سعادت حاصل کرلیں۔ ان پانچ فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ جیسے ہی صور میں پھونک ماری جائے گی جس کے لیے ایک فرشتہ اپنے منہ میں اس کو لیے کھڑا ہے کہ جیسے ہی حکم ہوگا اس صور میں پھونک ماردی جائے گی اس وقت وہ لرزا دینے والی قیامت واقع ہوجائے گی۔ قیامت کے اس ہولناک دن میں ان لوگوں کے دل دھڑک رہے ہوں گے اور ان کی نظریں شرمندگی سے نیچی ہوں گی جو زندگی بھر یہ کہتے رہے کہ جب ہماری ہڈیوں کو چورا ہوجائے گا تو ہم دوبارہ پہلی والی شکل و صورت کے ساتھ کیسے زندہ کئے جائیں گے ؟ اگر ایسا ہواتو ہم بڑے گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے آنے میں کوئی شک ل نہیں ہے۔ جب ایک زبردست دھماکا ہوگا تو ساری کائنات درہم برہم ہوجائے گی اور زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے سب آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پھر ان ہی سے ایک ایسی سپاٹ اور ہموار زمین تیار ہوجائے گی جسمیں اولین و آخرین سارے کے سارے اچانک اس میدنا حشر میں پہنچ جائیں گے اور انہیں زندگی میں کئے گئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ فرمایا کہ اس پوری کائنات کا ایک لمحے میں تباہ و برباد ہوجانا یہ اس کی قدرت سے بعید نہیں ہے کیونکہ وہ بڑی سے بڑی طاقت کو لمحوں میں نیست و نابود کردیتا ہے جس طرح فرعون جس کو اپنی طاقت و قوت، حکومت و سلطنت اور اپنی قوم کی طاقت پر بڑا ناز تھا وہ لوگوں سے اپنے آپ کو سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ معبود قرار دیتا تھا۔ اس کو اور اس کی طاقت و قوت کو اللہ نے چند لمحوں میں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ نے وادی مقدس (وادی طویٰ ) میں پہنچ کر اللہ کو پکارا تو اللہ نے ان کے سرپر تاج نبوت رکھ کر حکم دیا کہ وہ اس فرعون کے پاس جائیں جو اپنی حدوں کو پار کرچکا ہے۔ اسے اس بات کو دعوت دیں کہ اگر وہ توبہ کرکے اللہ کا خوف اختیار کرلے تو اس کے تمام گناہوں کو معاف کرکے پاس صاف کردے گا۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ نے فرمایا کہ میں اس کی تعلیم دینے اور تجھے ہدایت کے راستے پر لانے کے لیے اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور انہوں نے اپنے معجزات بھی دکھائے تو فرعون غرورو تکبر سے پیٹھ پھیر کر چل دیا پھر اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کی بات ماننے کی بجائے اپنے تمام لوگوں کو جمع کرکے ان سے کہا کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کی باتوں میں مت آنا۔ میں ہی تمہارا ” رب اعلیٰ “ ہوں۔ میرے علاوہ کوئی معبود اور رب اعلیٰ نہیں ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کی بات ماننے والے اپنے کفر وشرک پر اڑے رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ فرعون اور اس کے ماننے والوں کو سمجھاتے رہے لیکن فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں لگا رہا۔ آخر کرا للہ کا وہ فیصلہ آگیا جو اس نے نافرمانوں کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم کو پانی میں غرق کرکے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کی بات مان کر ان کی اطاعت اور اللہ پر ایمان کا اقرار کیا تھا ان کو نجات عطا کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے آخرت اور دوبارہ زندہ کئے جانے پر تعجب اور انکار کرنے والوں سے سوال کیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا مشکل اور ناممکن کام تھا یا زمین و آسمان جیسی عظیم الشان چیزوں کو پیدا کرنا ؟ یعنی اللہ نے زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، پہاڑ اور دریاجیسی چیزوں کو بنایا ہے جو اپنے وجود اور طاقت و قوت میں بہت بڑے ہیں۔ ان سب چیزوں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اسی نے آسمانوں کو بلند اور اونچا، راتوں کو تاریک اور دن کو روشن بنایا ہے۔ اسی نے اس زمین کو اس طرح بنایا ہے کہ جب اس پر بارش برستی ہے تو اس سے انسانوں کے لیے راحت و آرام کی چیزیں اور رزق پید اہوتا ہے اور اسی سے تمام جان داروں کی غذائیں اور چارہ پیدا کیا جاتا ہے۔ اسی نے پہاڑوں کو بنایا جس سے زمین میں ایک خاص تو ان قائم کیا گیا ۔ اگر یہ تو ازن نہ ہوتا تو انسان کا جینا محال ہوجاتا نہ اس سے غذائیں، ضروریات زندگی اور سیکڑوں چیزیں اور جانوروں کے لیے چارہ پیدا ہوتا نہ سہولتیں میسر آتیں۔ لیکن یہ تمام چیزیں اسی دنیا تک محدود ہیں اور اس وقت تک اپنی جگہ قائم ہیں جب تک وہ ہنگامہ خیز دن نہیں آجاتا جس میں اس دنیا کو ختم کردیاجائے گا اور پھر قیامت میں ہر شخص کو اپنے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ یہ دن وہ ہوگا جب جہنم سب کے سامنے ہوگی۔ ہر وہ شخص جس نے دنیا میں اپنی حدود کو پھلانک کر اسی دنیا کو سب کچھ سمجھ لیا تھا اور اس کو آخرت کی نہ فکر تھی نہ اس کے آنے کا یقین تھا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور جس کو اس بات کا یقین تھا کہ اسے ایک دن اللہ کے پاس پہنچنا ہے اور اس نے ہر ناجائز خواہش کو ٹھکرادیا ہوگا اس کا ٹھکانا جنت ہوگا۔ نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اگر ان تمام سچائیوں کے باوجود انہیں قیامت کے آنے پر یقین نہیں ہے اور وہ یہی پوچھتے ہیں کہ ” آخر وہ قیامت کب آئے گی “ تو آپ اس بات کا اعلان کردیجیے کہ مجھے اس بات کے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے میرا کام تو یہ ہے کہ میں ہر شخص تک اس پیغام کو پہنچادوں کہ جو لوگ اللہ کا خوف رکھنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اس کی جلدی مچار رہے ہیں ان کو یہ بات بتادوں کہ جب وہ قیامت میں پہنچیں گے تو انہیں ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ ایک رات یا ایک صبح کے وقت کچھ دیر اس دنیا میں ٹھہرے تھے اور بس۔ یعنی ان جلدی مچانے والوں کو ایسا لگے گا جیسے وہ عذاب بہت جلد آگیا اور دنیا کی زندگی بہت جلد گزر گئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے سورة النازعات کی تمام آیات کا ترجمہ اور مختصر تفسیر و تشریح ملاحظہ فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)