Ayahs 79:1–5وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ ( اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکالتے ہیں اور جو بندکھول دیتے ہیں) ۔ وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۔ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ( اور جو تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔ پھر تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں)
روح کو جسم کے بعید اطراف سے کھینچیں گے :
قراءت : یہاں تک کوئی وقف نہیں اور یہاں وقف لازم ہے۔ کیونکہ اگر ملائیں گے تو یومؔ المدبرات کا ظرف بن جائے گا۔ حالانکہ اس دن تو ملائکہ کے ذمہ جو کام لگے وہ ختم ہوچکے ہونگے۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ان مختلف گروہوں کی قسم اٹھائی ہے جو اجساد سے ارواح کو ڈوب کر یعنی نزع میں ڈبو کر مطلب یہ ہے کہ روح کو جسم کے بعید اطراف مثلاً پورے اور ناخن کے مقامات سے کھینچنا شروع کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ اور ان گروہوں کی قسم اٹھائی جو تعمیل حکم میں تیزی کرنے والے پھر تعمیل حکم میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والے ہیں اور وہ بندوں کے معاملات میں سے ایسے کاموں کی تدبیر کرنے والے ہیں جس میں ان کے دین و دنیا کی مصلحت ہے۔ اور جیسا ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔
گھوڑوں یا ستاروں کی قسم ہے :
نمبر 2 : اس میں غازیوں کے ان گھوڑوں کی قسم اٹھائی جو اپنی لگاموں میں خوب کھنچتے ہیں۔ اور ان کی لگا میں ان کی گردنوں کی درازی کی وجہ سے اسی میں ڈوب جاتی ہیں۔ کیونکہ وہ عمدہ عربی گھوڑے ہیں۔ اور وہ گھوڑے جو دارالاسلام سے دارالحرب کی طرف نکلتے ہیں۔ عرب کے ہاں ثور ناشط کہتے ہیں۔ جبکہ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف نکل جائے اور وہ گھوڑے جو رفتار کی تیزی میں گویا تیرتے ہیں۔ پھر وہ اپنی غایت کی طرف جلدی سے بڑھتے اور غلبے اور کامیابی کے معاملے کی تدبیر کرتے ہیں شہسواروں کی بجائے تدبیر کی اضافت خود گھوڑوں کی طرف سبب ہونے کی وجہ سے ہے۔
نمبر 3۔ ان ستاروں کی قسم کھائی گئی ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف بغیر طبعی میلان کے جاتے ہیں۔ اور اس کھنچنے میں وہ تمام مدار کو طے کرتے ہوئے انتہائے مغرب میں ڈوب جاتے ہیں۔ اور وہ ستارے جو ایک برج سے دوسرے برج کی طرف نکل کر جاتے ہیں۔ اور جو مدار میں تیرنے والے سیارے ہیں پھر آگے بڑھنے والے اور علم حساب کے معاملے کا انتظام کرنے والے ہیں۔
نحو : جو اب قسم محذوف ہے اور وہ لتبعثن ہے اس لئے کہ مابعد قیامت کا تذکرہ اسپردلالت کررہا ہے۔
Ayah 79:6نفخہ اولیٰ :
6 : یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ (جس روز ہلا ڈالنے والی چیز ہلا ڈالے گی) ترجفؔ حرکت کرنے کے معنی میں ہے۔ الراجفہؔ شدید حرکت۔ راجفہ سے مراد اولیٰ ہے۔ اور ایسی چیز سے اس کا تذکرہ کیا جس کے پیش آنے سے وہ پیش آجائے۔ کیونکہ اس نفخہ سے زمین کپکپا جائے گی یہاں تک کہ ہر چیز جو اس کے اوپر ہے وہ مرجائے گی۔
Ayah 79:77 : تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ (جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آئے گی) یہ الراجفہ سے حال ہے۔ اور الراد فہؔ سے ٔ ثانیہ مراد ہے۔ کیونکہ وہ پہلے کے بعد پیش آئے گا۔ ان کے مابین چالیس سال کا فاصلہ ہوگا۔ پہلے سے مخلوق مرجائے گی اور دوسرے سے ان کو زندہ کیا جائے گا۔
Ayah 79:8کافروں کے احوال :
8 : قُلُوْبٌ یَّوْمَپذٍ وَّاجِفَۃٌ (بہت سے دل اس روز دھڑک رہے ہونگے) قلوب سے بعث کے منکرین کے دل مراد ہیں۔ واجفۃ یہ الو جیف سے ماخوذ ہے۔ جو الوجیب یعنی مضطرب ہونے اور دھڑکنے کے معنی میں ہے۔
نحو : قلوب، مبتدأ واجفۃ اس کی صفت ہے۔ ابصار ھا خاشعہ اس کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ یوم ترجف کا نصب اس فعل مضمر کی وجہ سے ہے جس پر قلوب یومئذ واجفۃ دلالت کر رہا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے یوم ترجف وجفت القلوب۔
Ayah 79:99 : اَبْصَارُھَا خَاشِعَۃٌ (ان کی آنکھیں جھک رہی ہونگی) ایسے دل والوں کی آنکھیں ہولناکی کی وجہ سے جھکنے والی ہونگیں۔
Ayah 79:1010 : یَقُوْلُوْنَ (کہتے ہیں) یعنی منکرین بعث دنیا میں استہزاء کرتے ہوئے اور بعث کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ (کیا ہم پہلی حالت میں پھر واپس ہونگے) یہ استفہام انکاری ہے یعنی کیا ہم موت کے بعد اول حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے پھر ہم پہلے کی طرح زندہ ہوجائیں گے ؟ الحافرہؔ پہلی حالت۔ جو شخص کسی کام میں مصروف ہو پھر اس سے فارغ ہوجائے پھر کچھ وقت بعد دوبارہ اسی کام کی طرف لوٹ جائے تو عرب کہتے ہیں رجع الی حافر تہٖ ای الی حالتہ الا ولٰی اور عرب کہتے ہیں النقد عند الحافرۃ یعنی پہلی حالت میں اور وہ صفقہ ہے۔ اولاً کفار نے بعث کا انکار کیا پھر استبعاد میں اور ترقی کر کے کہنے لگے۔
Ayah 79:111 1 : ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً (کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے ہم پھر واپس ہونگے) نخرہؔ بوسیدہ۔
قراءت : حفص کے علاوہ کوفی قراء نے ناخرہ پڑھا ہے۔ معنی یہ ہے کیا ہم دوبارہ زندہ ہونگے اس کے بعد کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں بن گئے ؟
نحو : اذاؔ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور وہ نبعثؔ ہے۔
Ayah 79:1212 : قَالُوْا (کہنے لگے) بعث کے منکرین تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ (اس صورت میں یہ واپسی بڑی خسارے کی ہوگی) تلک کا مشارٌ الیہ یعنی ہمارا واپس لوٹنا خسارہ والی واپسی ہے کرۃ رجعۃ کے معنی میں ہے۔ نمبر 2۔ ایسی واپسی کہ جس واپسی والے خسارہ میں ہونگے مطلب یہ ہے اگر یہ واپس لوٹنا صحیح ہے تو پھر ہم اپنی تکذیب کی وجہ سے نقصان اٹھانے والے ہیں اور یہ بات انہوں نے بطور استہزاء کہی ( ہم نقصان میں ہو نہیں سکتے اس لئے بعث نہیں)
Ayah 79:13موسیٰ ( علیہ السلام) کا نبوت ملنا :
13 : فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ (تو وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی) یہ محذوف کے متعلق ہے ای لا تحسبوا تلک الکرۃ صعبۃ علی اللہ عزوجل۔ اس واپسی کو اللہ تعالیٰ کیلئے مشکل مت خیال کرو۔ وہ اس کی قدرت کے سامنے آسان اور معمولی ہے پس وہ تو ایک سخت آواز ہے اور بس۔ زجرۃؔ سے ثا نیہ مراد ہے۔ یہ زجر البعیر سے لیا گیا ہے جب اونٹ کو ڈانٹا جائے۔
Ayah 79:1414 : فَاِذَا ھُمْ بِالسَّاھِرَۃِ (جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے) اسی وقت وہ سطح زمین پر زندہ ہوجائیں گے۔ حالانکہ وہ زمین کے پیٹ میں مردہ تھے۔ ایک قول یہ ہے الساہرہؔ سے شام سے بیت المقدس کی جانب زمین کا حصہ مراد ہے۔ نمبر 2۔ بیت المقدس نمبر 3۔ ارض مکہ نمبر 4۔ جہنم۔
Ayah 79:1515 : ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی ( کیا آپ کو موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے) یہ استفہام تقریری ہے۔ جو تنبیہ کو شامل ہے۔ کہ یہ ایسی چیز ہے جس سے بچنا چاہیے اور مخاطب کو مشرف باد کر کے صبردلانا مقصود ہے (یعنی آپ کو اطلاع پہنچ ہی چکی ہے)
Ayah 79:1616 : اِذْنَادٰہُ رَبُّہٗ (جبکہ ان کو ان کے پروردگار نے پکارا) جب ان کو آواز دی بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ (ایک پاک میدان میں) مبارک پاکیزہ طُوًی (یعنی طویٰ میں) یہ میدان کا نام ہے۔
Ayah 79:1717 : اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ (کہ تم فرعون کے پاس جائو) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو فرعون کے پاس جا۔ اِنَّہٗ طَغٰی (اس نے بڑی شرارت اختیار کی) وہ کفر و فساد میں حد سے تجاوز کرچکا ہے۔
Ayah 79:1818 : فَقُلْ ھَلْ لَّکَ اِلٰٓی اَنْ تَزَکّٰی (پس اس سے کہو کیا تجھ کو اس بات کی خواہش ہے کہ تو درست ہوجائے) ھل لک میل الی ان تتطھر من الشرک والعصیان بالطاعۃ والایمان ؟ کیا تو اس بات کی طرف میلان رکھتا ہے کہ تو شرک اور عصیان سے ایمان و اطاعت کے ذریعہ پاک ہوجائے۔
قراءت : حجازی نے تَزَّکّٰی میں زاءؔ کو تشدید سے پڑھا ہے۔
Ayah 79:1919 : وَاَھْدِیَکَ اِلٰی رَبَّکِ فَتَخْشٰی (اور میں تجھ کو تیرے رب کی طرف سے راہنمائی کروں تو تو ڈرنے لگے) اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے تذکرہ سے اس کی پہچان کی طرف تیری راہنمائی کرتا ہوں تاکہ تو اس کو پہچان لے پس تو ڈرنے لگے کیونکہ خشیت معرفت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ] فاطر : 28[ یعنی اس کی جان پہچان والے۔
قولِ حکماء :
اللہ تعالیٰ کو پہچانو ! جس نے اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا وہ ایک پلک جھپک کیلئے اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ پس خشیت تو اس کا مغز ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرا وہ بھلائیاں کرے گا اور جو بےخوف ہوا وہ ہر برائی کی طرف ہاتھ مارتا ہے۔ اس طرح کا مضمون حدیث میں وارد ہے من خاف ادلج ومن ادلج بلغ المنزل۔ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ وہ اندھیرے میں اس کی عبادت کرتا ہے جو اندھیرے میں اس کی عبادت کرتا ہے وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا ] رواہ الترمذی : 2647[
آیت میں بات ایسے استفہام کے انداز سے شروع کی جس کا معنی عرض ہے جیسا کہ کوئی اپنے مہمان کو کہے۔ ھل لک ان تنزل بنا ؟ گویا اپنے ہاں اترنے کی ترغیب ہے۔ پھر اس کے بعد نرم کلام لائے تاکہ وہ نرم قول سے اس کو دعوت دیں اور حسن سلوک سے اس کی سرکشی سے اس کو اتاریں۔ جیسا کہ اپنے دوسرے ارشاد میں فرمایا فقولا لہ قولا لینًا ] طہ : 44 [
Ayah 79:2020 : فَاَرٰہُ الْاٰیَۃَ الْکُبْرٰی (پھر اس کو بڑی نشانی دکھلائی) تقدیر کلام یہ ہے : فذھب فارٰی موسٰی فرعون الْعَصَا پس موسٰی (علیہ السلام) گئے اور فرعون کو عصا کی بڑی نشانی دکھائی۔ نمبر 2۔ عصا اور ید بیضاء کیونکہ یہ دونوں ایک نشانی کے حکم میں ہیں۔
Ayah 79:2121 : فَکَذَّبَ وَعَصٰی (تو اس نے جھٹلایا اور کہنا نہ مانا) کذبؔ فرعون بموسٰی۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اور آیت کبرٰی کو جھٹلا دیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ساحر اور معجزہ کو سحر کہا۔ وَعَصٰی۔ (اور فرعون نے اللہ کی نافرمانی کی)
Ayah 79:2222 : ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی (پھر جدا ہو کر کوشش کرنے لگا) ادبرؔ موسیٰ (علیہ السلام) سے منہ موڑا۔ یسعٰیؔ اور اپنی تدبیر کے متعلق کوشش کرنے لگا۔ نمبر 2۔ جب اس نے سانپ کو دیکھا تو مرعوب ہوا۔ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا وہ جلدی جوش میں آنے والا ہلکا پھلکا تھا۔
Ayah 79:2323 : فَحَشَرَ فَنَادٰی ( اور جمع کیا پھر بآواز بلند تقریر کی) فحشرؔ اس نے اپنے لشکروں اور جادوگروں کو جمع کیا۔ پھر وہاں کھڑے ہو کر اجتماع میں اعلان کیا۔
Ayah 79:2424 : فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی ( اور کہا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں) مجھ سے اوپر کوئی رب نہیں۔ قبطیوں کے بہت سے معبود تھے جن کی وہ پوجا کیا کرتے تھے۔
Ayah 79:25فرعون کی پکڑ :
25 : فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی (پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں پکڑا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کی سزا دی۔ النکالؔ یہ تنکیل کے معنی میں السلام کی طرح ہے۔ جو التسلیم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے۔ کیونکہ اخذ یہ نکلؔ کے معنی میں ہے گویا اس طرح کہا نکل اللہ بہٖ نکال الاٰخرۃ ای الاحراق اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کی سز اجلنے کی صورت میں دی۔ والاوْلٰی سے مراد دنیا میں ڈبونا۔ نمبر 2۔ اس کی دونوں باتوں کی سزا اس کا پہلا کلمہ ماعلمتُ لکم من الٰہٍ غیری ( القصص۔ 38) اور دوسرا کلمہ انا ربکم الاعلٰی تھا۔ ان کے مابین چالیس سال کا یا تیس یا بیس سال کا فاصلہ تھا۔
Ayah 79:2626 : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) جس کا ذکر ہوا لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی (ایسے شخص کیلئے بڑی عبرت ہے جو ڈرے) اللہ تعالیٰ سے
Ayah 79:2727 : ئَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآ ئُ بَنٰھَا (کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا) ئَ انتم کیا تم ای منکرین بعث اشدخلقا تمہارا پیدا کرنا مشکل ہے۔
نحو : ام السماءؔ یہ مبتداء ہے اس کی خبر اشد خلقا محذوف ہے۔ پھر تخلیق کی کچھ کیفیت ذکر فرمائی فرمایا اس کو اللہ تعالیٰ نے بنایا۔ پھر بناء کی وضاحت اس طرح فرمائی۔
Ayah 79:28قدرت باری تعالیٰ :
28 : رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰھَا (اس کی چھت کو بلند کیا اور اس کو درست بنایا) اس کی چھت کو اونچا بنایا۔ ایک قول یہ ہے بلندی کی سمت کو پانچ سو سال کے سفر کے برابر اونچائی عنایت فرمائی۔ پھر اس کو درست کیا۔ اس کو ہموار بلاشقوق وفطور کے بنایا۔
Ayah 79:2929 : وَ اَغْطَشَ لَیْلَھَا وَاَخْرَجَ ضُحٰھَا (اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا) اغطش۔ اندھیرے والا بنایا اخراج ضحی کا معنی اس کے سورج کی روشنی کو ظاہر کردیا۔ آیت میں سورج اور لیل کی اضافت آسمان کی طرف کی گئی ہے کیونکہ رات آسمان کا سایہ اور سورج آسمان کا چراغ ہے۔
Ayah 79:3030 : وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰہَا (اور اس کے بعد زمین کو بچھایا) دحٰھاؔ پھیلایا۔ زمین پیدائش کے وقت پھیلی ہوئی نہ تھی۔ آسمان کی پیدائش کے دو ہزار سال بعد مکہ مکرمہ سے زمین کو پھیلا دیا۔ پھر پھیلانے کی تفسیر فرمائی۔
Ayah 79:3131 : اَخْرَجَ مِنْھَا مَآ ئَ ھَا وَمَرْعٰھَا (اور اس سے اس کا پانی اور چارہ نکالا) چشمے بہا کر پانی نکالا۔ مرعٰی : چارہ۔
نحو : اس لئے عاطف کو اخرج پر داخل نہیں فرمایا۔ نمبر 2۔ اخرج یہ قد کے اضمار کے ساتھ حال ہے۔
Ayah 79:3232 : وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا (اور پہاڑوں کو قائم کردیا) جما دیا۔
نحو : دحا اور ارسیٰ کو تفسیر کی شرط پر مضمرماننے کی وجہ سے الارض اور الجبال کو منصوب پڑھتے ہیں۔
Ayah 79:3333 : مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَ نْعَامِکُمْ (تمہارے اور تمہارے مواشی کے فائدہ پہنچانے کیلئے) یہ سب کچھ تمہیں اور تمہارے چوپایوں کو فائدہ دینے کیلئے کیا۔
Ayah 79:34قیامت بڑا ہنگامہ :
34 : فَاِذَا جَآ ئَ تِ الطَّآ مَّۃُ الْکُبْرٰی (پس جب وہ بڑاہنگامہ آوے گا) الطامۃ الکبرٰیؔ بڑی مصیبت جو تمام مصیبتوں سے
بڑھ جائے گی۔ اور ان پر غالب آجائے گی اس سے ثانیہ مراد ہے یا وہ وقت جس میں اہل جنت کو جنت اور اہل نار کو نار کی طرف لے جایا جائے گا۔
Ayah 79:3535 : یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَاسَعٰی (یعنی جس دن انسان اپنے کئے کو یاد کرے گا)
نحو : یوم یتذکر یہ اذا جاءت سے بدل ہے۔ یعنی جب انسان اپنے اعمال کو نامہ عمل میں مرتب پائے گا تو وہ اس کو یاد آجائیں گے جن کو پہلے بھول چکا تھا۔
نحو : ماسعیٰؔ ماؔ مصدریہ ہے ای سعیہ اس کی کار کردگی۔ نمبر 2۔ ماموصولہ ہے جو اس نے کیا کمایا۔
Ayah 79:3636 : وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی (اور دوزخ ظاہر کردی جائے گی) دیکھنے والوں کے سامنے۔ برزتؔ ظاہر کردی جائے گی۔ لمن یریٰؔ ہر دیکھنے والا مراد ہے۔ کیونکہ وہ کامل طور پر ظاہر کردی جائے گی۔
Ayah 79:37سرکشی کا انجام :
37 : فَاَمَّا مَنْ طَغٰی (تو جس شخص نے سرکشی کی ہوگی) یہ فاذا کا جواب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگیا اذا جاءت الطامۃ فان الامر کذٰلک من طغٰی ای جاوز الحد فکفر۔ یعنی جب بڑا ہنگامہ آجائے گا پس معاملہ اسی طرح ہوگا کہ جس شخص نے حد سے تجاوز کر کے کفر کیا ہوگا۔
Ayah 79:3838 : وَاٰثَرَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا (اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی) آخرت کے مقابلہ میں اس طرح کہ شہوات کا پیرو بنا۔
Ayah 79:3939 : فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَاْوٰی (پس دوزخ اس کا ٹھکانہ ہوگا)
نحو : الماویؔ کا الف لام عوض مضاف الیہ کے ہے ای ماوٰہٗ یعنی اس کا ٹھکانہ۔ یہ کو فیین کے نزدیک ہے مگر سیبویہ اور بصرینھی الماوٰی لہ خبر محذوف مانتے ہیں۔
Ayah 79:40فرمانبرداری کا نتیجہ :
40 : وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا ہوگا) یعنی اس کو معلوم ہوا کہ اس نے حساب کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی ( اور نفس کو خواہش سے روکا ہوگا) النفس سے نفس امارہ جو برائیوں کی طرف لے جانے والا ہے۔ الھویؔ پستی و ہلاکت کی جگہ یعنی اس نے شہوات کی اتباع سے نفس کو روک لیا۔ ھوٰی یعنی نفس کا شہوات کی طرف مائل ہونا۔ ایک قول یہ ہے کہ نہی نفس یہ ہے کہ آدمی معصیت کا خیال کرے پھر مقام حساب یاد آنے پر برائی کے میلان کو بھی چھوڑ دے۔