Ayah 78:11 : عَمَّ یَتَسَآ ئَ لُوْنَ (یہ لوگ کس چیزکا حال دریافت کرتے ہیں) عم ؔ کی اصل عن، ماتھی اور اس طرح بھی پڑ ھا گیا ہے پھر نون کو میم میں ادغام کردیا تو عَمَّا ہوگیا اور اس طرح بھی پڑھا گیا پھر الف بطور تخفیف حذف کردیا گیا۔ اور حذف کی وجہ استفہام میں کثرت سے استعمال ہے اور زیادہ استعمال اسی کا ہے یہ استفہام اس چیز کی تفخیم اور ہولناکی کو ظاہر کرنے کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں ہے۔ یَتَسَآ ئَ لُوْنَ (وہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں) ۔ نمبر 2۔ وہ دوسروں سے پوچھتے ہیں۔ اہل مکہ ایمان والوں سے استہزاء ًپوچھتے اور آپس میں بھی اس کے متعلق بات کرتے رہتے تھے۔
Ayah 78:22 : عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ (وہ بڑی خبر کے متعلق ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں) اس میں قیامت کی عظمت کی وضاحت ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے عم یتساء لون، یتساء لون عن النبأ العظیم وہ کس چیز کے متعلق پوچھتے ہیں ایک عظیم الشان خبر کے متعلق باہمی گفت و شنید کرتے ہیں۔
Ayah 78:3مومن مشیت کے لئے اور کافر استہزاء کے لئے :
3 : الَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ (جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں) پس بعض ان میں سے قطعی انکار کرنے والے تھے۔ جبکہ بعض دوسرے شک کرتے تھے۔ ایک اور قول ہے کہ ھمؔ کی ضمیر مسلمانوں اور کفار دونوں کی طرف راجع ہے۔ اور تمام ہی قیامت کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ مسلمان تو اس لئے پوچھتے تاکہ خشیت میں اضافہ ہو اور کافر اس لئے پوچھتے تاکہ استہزاء کرسکیں۔
Ayah 78:44 : کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ (ہر گزایسا نہیں ان کو بھی معلوم ہوا جاتا ہے) کلاؔ یہ اختلاف پر ردع کیلئے ہے۔ نمبر 2۔ استہزاء کے طور پر سوال قیامت پر ردع ہے۔ سَیَعْلَمُوْنَ اس میں کفار کیلئے وعید ہے کہ عنقریب ان کو آنکھوں دیکھ کر حال معلوم ہوجائے گا کہ جس کے متعلق وہ مذاق اڑانے کیلئے سوال کرتے تھے وہ برحق ہے (گویا یہ وعید قبر ہے کہ ان کو قبر میں معلوم ہوجائے گا)
Ayah 78:55 : ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ (پھر ہرگز ایسا نہیں ان کو بھی معلوم ہوا جاتا ہے) اس میں ان کو دوبارہ دھمکی دی گئی۔ ثُمَّ بتارہا ہے۔ کہ دوسری وعید پہلی سے بلیغ تر ہے اور پہلی وعید سے زیادہ سخت ہے ( قبر سے قیامت سخت تر ہے)
Ayah 78:6ایجاداتِ باری تعالیٰ :
6 : اَلَمْ نجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا (کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا) (یہ استفہام انکاری ہے) جب کفار نے بعث کا انکار کیا تو ان کو مخاطب کر کے فرمایا کیا بعث کی نسبت جس کی طرف کی جارہی ہے اس نے یہ عجیب مخلوقات پیدا نہیں فرمائیں ؟ جب جواب ہاں میں ہے تو تم اس کی بعث بعد الموت پر قدرت کو کیوں نہیں مانتے حالانکہ وہ ایجاد بھی ان ایجادات سے چنداں مختلف نہیں) یا ان کو اس طرح کہا جارہا ہے کہ تم بتلائو اس نے یہ ساری اشیاء کیوں بنائیں ؟ حکیم کوئی فعل فضول کرتا ہی نہیں بعث کا انکار کرنے سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ کہ اس نے جو کچھ کیا وہ بلامقصد کیا ؟ مِھٰدًا (فرش) جس کو ہم نے بچھا دیا یہاں تک کہ تم اس پر رہائش پذیر ہو۔
Ayah 78:77 : وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا (اور پہاڑوں کو میخیں) زمین کیلئے تاکہ زمین میں ارتعاشی جنبش نہ ہو۔ لِئَلَّا تَمِیْدَ بِکُمْ ۔
Ayah 78:88 : وَّ خَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا (اور ہم نے ہی تم کو جوڑا بنایا) یعنی مذکر و مؤنث (نر، مادہ)
Ayah 78:99 : وَّ جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا (اور ہم ہی نے تمہارے سونے کو راحت کی چیز بنایا) سباتاؔ تمہارے اعمال کو قطع کردینے والی اور تمہارے ابدان کیلئے راحت بنایا۔ السبتؔ قطع کرنا۔
Ayah 78:1010 : وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا (اور ہم ہی نے رات کو پردہ کی چیز بنایا) ایسا پردہ جو تمہیں لوگوں کی آنکھوں سے اس وقت چھپا لیتا ہے جب تم لوگوں کو اطلاع دیئے بغیر کوئی کام کرنا چاہتے ہو۔
Ayah 78:1111 : وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا (اور ہم ہی نے دن کو معاش کا وقت بنایا) تم اپنی ضروریات اور کاروبار میں دن کے دوران آتے جاتے ہو۔
Ayah 78:1212 : وَّ بَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا (ہم ہی نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے) سبع یعنی سات آسمان، شدادًا جمع شدیدۃؔ کی ہے۔ مضبوط و طاقتور جس میں مرورزمانہ کا اثر نہیں۔ نمبر 2۔ موٹے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔
Ayah 78:1313 : وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّا جًا (اور ہم ہی نے ایک روشن چراغ بنا یا) روشن بھڑکنے والا یعنی سورج روشنی اور حرارت ہر دو کا جامع ہے۔
Ayah 78:14وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ (اور ہم ہی نے بھرے بادلوں سے برسایا) السحائب اذا اعصرت یعنی بادل اس کے لئے تیار ہوں کہ ہوائیں ان کو نچوڑکر بارش برسائیں اور اسی سے اہل عرب کہتے ہیں اعصرت الجاریۃ جبکہ وہ حیض کی عمر کے قریب ہوجائے۔ نمبر 2۔ ہوائیں مراد ہیں وہ بادلوں کو بناتی اور ان سے بارش نکالتی ہیں جیسے اونٹنی کا دودھ دوہا جاتا ہے۔ پس یہ درست ہے کہ ان کو بارش اتارنے کا مبدأ قرار دیا جائے اور یہ وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوائوں کو اٹھاتے ہیں۔ پھر وہ آسمان پانی اٹھا کر بادلوں میں منتقل کرتی ہیں۔ مَآ ئً ثَجَّاجًا (کثرت سے پانی) ثجاجًا کثرت سے بہنے والا۔
Ayahs 78:15–1615۔ 16 : لِّنُخْرِجَ بِہٖ (تاکہ ہم پیدا کریں اس سے) یعنی پانی کے ذریعہ سے حَبًّا (غلہ) گندم، جو، وَّنَبَاتًا (اور سبزی) یعنی سبزہ گھاس۔ وَجَنّٰتٍ (اور باغات) اَلْفَافًا (گنجان) یعنی جن کے درخت باہمی لپٹے ہوئے ہیں۔ اس کا واحد لِفٌ ہے۔ جیسا جذع واجذ اع یا لفیفٌ جیسا شَرِیْفٌ واشراف یا اس کا کوئی واحد نہیں جیسا اوزاع نمبر 4۔ یہ جمع الجمع ہے یہ جمع لُفٌ ولُفَّ جمع لَفَّائُ گنجان درخت، لپٹا ہوا درخت
قراءت : الم نجعلؔ سے الفافاً تک وقف نہیں ہے اور اوتادًا پر اور معاشا پر وقف ضروری ہے۔
Ayah 78:17ثواب و عقاب کے لئے میعاد :
17 : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ (بیشک فیصلے کا دن) یعنی محسن، مسیئی اور باطل پرست اور حق پرست کے مابین۔ کَانَ مِیْقَاتًا (ایک معین وقت ہے) مقررہ میعاد ہے۔ اور جزاء ملنے کیلئے طے شدہ انتہاء ہے۔ نمبر 2۔ ثواب و عقاب کے لئے میعاد ہے۔
Ayah 78:18صور پھونکنا اور کائنات کا حال :
18 : یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ (یعنی اس دن صورپھونکا جائے گا)
نحو : یہ یوم الفصل کا بدل ہے۔ نمبر 2۔ عطف بیان ہے۔ فی الصورؔ یعنی قرن میں۔
فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا (پھر تم لوگ گروہ گروہ ہو کر آئو گے )
نحو : افواجًا یہ حال ہے یعنی مختلف جماعتوں میں یا امتوں میں تقسیم ہو کر آئو گے ہر امت اپنے رسول کے ساتھ ہوگی۔
Ayah 78:1919 : وَّفُتِحَتِ السَّمَآئُ (اور آسمان کھل جائے گا)
قراءت : کوفی قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان فرشتوں کے اترنے کیلئے پھٹ جائے گا۔
فَکَانَتْ اَبْوَابًا (پھر اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے) پس وہ دروازوں، راستوں اور پھٹے ہوئے مقامات پر مشتمل ہوگا جبکہ آج اس میں کوئی پھٹا ہوا مقام نہیں۔
Ayah 78:2020 : وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ (اور پہاڑ ہٹا دیے جائیں گے) یعنی سطح زمین سے، فَکَانَتْ سَرَابًا (پس وہ ریت کی طرح ہوجائیں گے)
Ayah 78:21جہنم مومن کی راہ گزر کفار کا مستقر :
21 : اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا (بیشک دوزخ ایک گھات کی جگہ ہے) مرصادًاؔ ایسا راستہ جس پر مخلوق کا گزر ہوگا۔ پس مومن اس پر چلے گا اور کافر اس میں داخل ہوگا۔
ایک قول یہ ہے المرصاد۔ وہ سر حد جس پر چوکی قائم کی جاتی ہے۔ یعنی وہ سرکشوں کی ایسی سرحد ہے جس پر وہ عذاب کے منتظر ہونگے۔ اور وہ ان کا ٹھکانہ بنے گی۔ نمبر 2۔ وہ اہل جنت کیلئے سرحد ہے جس پر فرشتے کھڑے ہو کر مؤمنوں کا استقبال کریں گے کیونکہ انہوں نے اس پر سے گزر کر جانا ہے۔
Ayah 78:2222 : لِّلطّٰغِیْنَ مَاٰبًا (سرکشوں کا ٹھکانہ ہے) یعنی وہ کافروں کیلئے لوٹنے کی جگہ اور ٹھکانہ ہے۔
Ayah 78:2323 : لّٰبِثِیْنَ فِیْہَآ اَحْقَابًا (جس میں وہ بےانتہاء زمانوں تک رہیں گے) لٰبثینؔ کا معنی ٹھہرنے والے ہونگے۔ : طاغین کی ضمیر سے لٰبثین حال ہے۔
قراءت : حمزہ نے لَبِثِیْن پڑھا ہے۔ اللبِثؔ زیادہ قوی ہے کیونکہ لابث اسی شخص کو کہتے ہیں جس سے ٹھہرنا پایا جائے خواہ اقل قلیل کیوں نہ ہو۔ اور اللّبث اس کو کہتے ہیں جس کی شان یہ ہو کہ وہ مکان میں ٹھہرے اور قیام کرے۔ فیھاؔ سے جہنم میں ٹھہرنا مراد ہے۔ احقابا یہ جمع حقب کی ہے اور اس کا معنی ہے ص زمانہ۔ اس سے کوئی عدد خاص مراد نہیں بلکہ ہمیشگی مراد ہے۔ جب ایک حقب گزرجائے گا تو اس کے پیچھے دوسرا حقب غیر منتہی زمانے کیلئے شروع ہوگا۔ الحقبؔ اور الحقبۃؔ کا استعمال کلام عرب میں پے درپے اور متواتر زمانوں کیلئے کیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ الحقب اسّی سال کا ہوتا ہے۔ بعض علماء سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے بیس سال کے بعد جواب دیا لٰبثین فیھا احقابا (کہ وہ اس میں زمانہ دراز تک رہیں گے) ۔
Ayah 78:24احوالِ جہنم :
24 : لَایَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَّ لَاشَرَابًا (اس میں وہ نہ کسی ٹھنڈک کا مزا چکھیں گے اور نہ پینے کی چیز کا) یعنی وہ چکھنے والے نہ ہونگے۔
نحو : یہ لابثین کی ضمیر سے حال ہے۔
پس جب یہ احقاب ختم ہوجائیں گے جس میں ان کو ٹھنڈک اور مشروب سے روک دیا گیا۔ تو اور احقاب بدل دئیے جائیں گے جن میں دوسرا عذاب ہوگا۔ وہ ایسے احقاب ہیں کہ ان کے بعد ختم نہ ہونے والے احقاب ہونگے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ اس محاورہ سے ماخوذ ہے حقب عامنا جبکہ بارش اور خیرو برکت کم ہوجائے اور حقبؔ فلان جبکہ رزق اس سے خطاء کرجائے وہ حقب ہے اور اس کی جمع احقاب ہے۔
نحو : اور یہ بطور حال منصوب ہے۔ ای لا بثین فیھا حقبین۔
وَلَایَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَّ لَاشَرَابًا : وہ اس میں ٹھہرنے والے ہونگے اس حال میں کہ وہ رزق سے محروم ہونگے یعنی وہ اس میں ٹھنڈک اور مشروب چکھ تک نہیں سکیں گے یہ لا یذوقون اس کی تفسیر ہے۔ اور
Ayah 78:2525 : اِلَّا حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا (سوائے گرم پانی اور پیپ کے) یہ استثناء منقطع ہے تقدیر کلام یہ ہے لایذوقون فی جہنم یا فی احقاب بردًا یعنی ایسی راحت جو ان سے آگ کی حرارت کو دور کردے یا نیند اور اسی سے محاورہ ہے منع البردُ البردٰ ۔ سردی نے نیند کو روک دیا۔ ولا شرابًا اور نہ ایسا مشروب جو ان کی پیاس کو مٹا دے۔ لیکن وہ اس میں چکھیں گے گرم پانی جو اس قدر گرم ہوگا کہ جدھر سے گزرے گا جلا ڈالے گا۔ اور غسَّاقًا یعنی جہنمیوں کے زخموں کی پیپ۔ ان کو پینے کیلئے دی جائیگی۔ قراءت : غسَّاقا کوفی قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے سوائے ابوبکر کے۔
Ayah 78:2626 : جَزَآ ئً وِّ فَاقًا (یہ پورا بدلہ ملے گا) اے جو زوا جزاء وفاقًا یعنی ان کو بدلہ دیا جائے گا جو ان کے اعمال کے عین مناسب ہوگا۔ جزائً مصدر ہے اور صفت کے معنی میں مستعمل ہے۔ نمبر 2۔ ذاوفاقٍ موافقت والا۔ پھر جملہ مستانفہ بطور تعلیل لائے فرمایا۔
Ayah 78:2727 : اِنَّھُمْ کَانُوْا لَایَرْجُوْنَ حِسَابًا (وہ لوگ حساب کا اندیشہ نہ رکھتے تھے) یعنی اپنے متعلق ان کو اللہ تعالیٰ کے محاسبہ کا ڈر نہ تھا۔ نمبر 2۔ ان کا بعث پر ایمان ہی نہ تھا کہ وہ حساب کی امید رکھتے۔
Ayah 78:2828 : وَّکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا (اور ہماری آیتوں کو خوب جھٹلاتے تھے) کذاباؔ تکذیب کے معنی میں ہے اور فعال کا وزن تفعیل میں پایاجانا ظاہر ہے۔
Ayah 78:2929 : وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ کِتٰبًا (اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کررکھا ہے)
نحو : کل شیٔ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر احصینا کررہا ہے۔ کتابؔ یہاں مکتوبا کے معنی میں ہے یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہے۔ یا یہ مصدر ہے جو احصائً کے معنی میں ہے۔ نمبر 2۔ یا احصینا یہ کتبنا کے معنی میں ہے۔ کیونکہ احصاء عموماً کتابت کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ آیت جملہ معترضہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد فذوقوا حساب کے متعلق ان کے کفر اور آیات کی تکذیب کا مسبب ہے۔
Ayah 78:3030 : فَذُوْقُوْا (پس تم مزہ چکھو) یعنی تم اپنی سز اچکھو ! اور طریق التفات یہ شدت غضب کیلئے شاہد ہے۔ فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا (پس تم مزہ چکھو کہ ہم تمہاری سزا ہی بڑھاتے چلے جائیں گے) حدیث میں وارد ہے اہل نار پر سب سے زیادہ سخت آیت قرآن مجید میں یہ آیت ہے۔ (رواہ ابن ابی حاتم، بحوالہ حاشیہ کشاف)
Ayah 78:31متقین کی کامیابی :
31 : اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا (اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کیلئے بیشک کامیابی ہے) مفازؔ یہ الفوزؔ سے مَفْعَلٌ کا وزن ہے مصدر بھی بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہر ناپسند سے نجات پانا اور ہر محبوب و پسند کو پالینا ہے اور مفازًا ؔ ظرف مکان بن سکتا ہے۔ اس وقت مکان کامیابی یعنی جنت مراد ہے۔ پھر اس کا بدل البعض اگلی آیت میں لائے۔
Ayah 78:32حالاتِ جنت :
32 : حَدَآ ئِقَ وَاَعْنَابًا (یعنی باغ اور انگور) ایسے باغات جس میں ہر قسم کے پھلدار درخت ہونگے۔ حدائق جمع حدیقۃ کی ہے۔ اعنابؔ انگور کی بیلیں۔
نحو : اس کا عطف حدائق پر ہے۔ اور وہ مفازا کا بدل البعض ہے۔
Ayah 78:3333 : وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا (اور نوخاستہ ہم عمر عورتیں) کو اعبؔ ابھرے پستان والی۔ اتراباؔ ہم عمر۔
Ayah 78:3434 : وَّکَاْ سًا دِھَاقًا (اور لبالب بھرے جام شراب) دھاقاً بھرے ہوئے۔
Ayah 78:3535 : لَایَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّ لَا کِذّٰبًا (وہاں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ) یعنی وہ جنت میں نہ سنیں گے۔ کوئی باطل بات اور نہ تکذیب۔
نحو : لایسمعون یہ اِنَّ کی خبر کی ضمیر سے حال ہے۔ لغوؔ : باطل بات۔ قراءت : کذاباؔ کسائی نے خفیف کے ساتھ پڑھا۔ اور بمعنی مکاذبہٗہے یعنی وہ ایک دوسرے سے جھوٹ نہ بولیں گے۔ نمبر 2۔ اور وہ اس کو نہ جھٹلائے گا۔
Ayah 78:3636 : جَزَآ ئً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآ ئً حِسَابًا (یہ بدلہ ملے گا جو کہ کافی انعام ہوگا۔ آپ کے رب کی طرف سے )
نحو : جزائً یہ مصدر ہے تقدیر کلام یہ ہے جزاھم جزائً ۔ وہ ان کو جزاء دے گا جزاء دینا۔
عطاء ً یہ مصدر ہے نمبر 2۔ جزاء کا بدل ہے۔ حساباًؔ یہ صفت ہے اس کا معنی کافی یا ان کے اعمال کے حساب سے۔
Ayah 78:3737 : رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا الرَّحْمٰنِ (جو مالک ہے آسمان کا اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے درمیان ہیں۔ رحمان ہے)
نحو : ابن عامر، عاصم نے ربِؔ‘ الرحمانؔ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا اور من ربک ؔ کا بدل قرار دیا۔ نمبر 2۔ جنہوں نے رفع دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رَبُّ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ ب۔ یہ مبتدأ اور اس کی خبر الرحمان ہے۔ ج۔ الرحمان اس کی صفت ہے۔ لَایَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا (کسی کو اس کی طرف سے اختیار نہ ہوگا کہ عرض معروض کرسکے) یعنی اللہ تعالیٰ سے لا یملکون یہ خبر ہے۔ نمبر 2۔ یا یہ دونوں خبریں ہیں اور لایملکون کی ضمیر اہل السمٰوٰت والارض سب کی طرف راجع ہے اور مِنہؔ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے تقدیر کلام یہ ہے۔ لا یملکون الشفاعۃ من عذابہ تعالیٰ الا باذنہٖ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے شفاعت کا ان کو اختیار نہ ہوگا۔ مگر اس کی اجازت سے۔ نمبر 2۔ لا یقدراحد ان یخاطبہ تعالیٰ خوفًا اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس سے کسی کو بات کی مجال نہ ہوگی۔
Ayah 78:38منظر محشر :
38 : یَوْمَ یَقُوْمُ (جس دن کھڑے ہونگے)
نحو : نمبر 1۔ اگر اس کو لایملکون کا ظرف بنائیں۔ تو خطاباً پر وقف نہ ہوگا۔ نمبر 2۔ اگر لا یتکلمون کا ظرف بنائو تو پھر وقف خطابًا پر کریں گے۔ الرُّوْحُ (تمام ذی ارواح) جمہور کے نزدیک روحؔ سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ ایک قول یہ ہے یہ ایک بہت بڑا فرشتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش کے بعد اس سے بڑی مخلوق کوئی نہیں بنائی۔ وَالْمَلٰٓپکَۃُ صَفًّا (اور فرشتے صف بستہ)
نحو : صفًا یہ حال ہے۔ اے مصطفّین لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ (کوئی بول نہ سکے گا) خوف کی وجہ سے اس جگہ مخلوق بول نہ سکے گی۔ اِلَّامَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ (بجز اس کے جس کو رحمان اجازت دے) یعنی کلام کرنے کی نمبر 2۔ شفاعت کی۔ وَقَالَ صَوَابًا (اور وہ شخص بات بھی ٹھیک کہے) صواباؔ حق بات اس طور پر کہ مشفوع لہ نے دنیا میں لا الٰہ الا اللہ کہا۔ نمبر 2۔ اس کو شفاعت کی اجازت دی جائے گی جو شفاعت کے سلسلہ میں درست بات کہے۔
Ayah 78:3939 : ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ (یہ یقینی دن ہے) اس کا وقوع ثابت ہے۔ فَمَنْ شَآ ئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا (پس جس کا جی چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانہ بنارکھے) ماٰباؔ اعمال صالحہ کے ساتھ لوٹنا۔
Ayah 78:4040 : اِنَّآ اَنْذَرْ نٰکُمْ (ہم نے تم کو ڈرایا ہے) اے کافرو ! عَذَابًا قَرِیْبًا (ایک نزدیک آنے والے عذاب سے) جو آخرت میں پیش آئے گا کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ (جس دن ہر شخص ان اعمال کو دیکھ لے گا) المرء سے کافر مراد ہے۔ جیسا کہ انا انذرناکم عذابا قریبا اس پر دلالت کررہا ہے۔ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ (جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کیے ہونگے) برائیاں۔ جیسا دوسرے مقام میں فرمایا۔ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ ] آل عمران : 181۔ 182[
وجہ تخصیص :
ایدیکو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر اعمال ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی احتمال ہے کہ بعض گناہوں میں ہاتھوں کا کوئی دخل بھی نہ ہو۔ وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ (اور کافر کہے گا) یہاں ضمیر کی بجائے کافر کا لفظ ظاہرلائے تاکہ اس کی خوب مذمت ہوجائے۔ نمبر 2۔ المرءؔ عام ہے اور اس میں سے کافر کو خاص کیا گیا۔ اور ماقدمت یداہ سے جوا عمال اس نے خیر و شر کیے وہ تمام مراد ہیں۔ نمبر 3۔ المرءؔ سے مراد مومن ہے کیونکہ کافر کا بعد میں ذکر آرہا ہے۔ اور ماقدمت یداہ سے وہ اعمال خیر مراد ہیں جو اس نے کیے۔
کافر کی تمنا :
نحو : مااستفہامیہ ہے قدمت کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ینظر ای شیٔ قدمت یداہٗ وہ دیکھے گا کہ اس نے کیا کما کر آگے بھیجا ہے۔ نمبر 2۔ ماؔ موصولہ ہے۔ اور ینظر کی وجہ سے منصوب ہے۔ عرب کہتے ہیں نظرتہ ای نظرت الیہ اور صلہ کی ضمیرکامرجع محذوف ہوگا۔ ای قَدَّمْتُہٗ ۔ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰبًا (کاش میں مٹی ہوجاتا) دنیا میں مٹی ہوتا نہ میں پیدا کیا جاتا اور نہ مکلف بنایا جاتا نمبر 2۔ کاش آج میں مٹی ہوجاتا اور اٹھایا نہ جاتا۔ ایک قول یہ ہے اللہ تعالیٰ حیوانات غیر مکلف کو اٹھائے گا یہاں تک کہ سینگ والی سے بےسینگ کا قصاص لیا جائے گا۔ پھر ان کو مٹی کردیا جائے گا پس اس وقت کافر ان جانوروں کے انجام کی تمنا کرے گا۔
ایک قول :
یہ ہے کافرؔ سے مراد ابلیس ہے وہ تمنا کرے گا۔ کہ وہ بھی آدم کی طرح مٹی سے بنا ہوتا۔ تاکہ اس کو اپنی اولاد مؤمنین کے ثواب میں حصہ مل جاتا۔