Ayah 79:1مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی قسمیں یہ جو اللہ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں اس میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں اس لیے فرمایا (وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا) ان کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔
Ayah 79:2(وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا) اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔ اس سے بھی فرشتے مراد ہیں جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کے معنی یہ ہیں کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔
Ayah 79:3(وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا) یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم۔
Ayah 79:4(فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا) دوسروں پر سبقت لے جانے والے سبقت لے جانا۔ پس فرشتے اللہ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی الٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔
Ayah 79:5(فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا) یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلا بارشوں، نباتات، ہواوں، سمندروں، ماؤں کے پیٹوں میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔
Ayah 79:6(يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ) جس دن زمین پر بھونچال آئے گا اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے۔
Ayah 79:7(تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ) یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا۔
Ayah 79:8(قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ) اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے۔
Ayah 79:9(اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ) نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی ان کے دلوں پر خوف طاری ہوگا گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کردے گی ان پر تاسف کا غلبہ ہوگا اور حسرت ان پر قبضہ کرلے گی۔
Ayah 79:10منکرین قیامت، دنیا کے اندر، استہزا کے طور پر حیات بعد الموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں (ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِي الْحَافِرَةِ ) یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا ؟ یہ استفہام انکاری ہے جوا نتہائی تعجب اور اس کو محال سمجنے پر مبنی ہے انہوں نے حیات بعد الموت کا انکار کیا پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے پھر اسی پر جم گئے وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں۔
Ayah 79:11(ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ) یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا۔
Ayahs 79:12–14(قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ) کہتے ہیں یہ لوٹنا خسارہ ہے۔ یعنی انہوں نے اللہ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر دے گا جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انہیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی۔ اللہ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فانماھی زجرۃ واحدہ) وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔ یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق (بالساھرہ) روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کی جزاوسزا دے گا۔
Ayah 79:15اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی محمد مصطفیٰ سے فرماتا ہے۔ (هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى) یہ ایک عظیم معاملے کے بارے میں استفہام ہے جس کا وقوع متحقق ہوچکا ہے یعنی کیا آپ کے پاس حضرت موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے ؟
Ayah 79:16(اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى) جب ان کے رب نے انہیں پاک میدان طوی میں پکارا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا انہیں رسالت سے سرفراز فرمایا انہیں وحی کے ساتھ مبعوث کیا اور انہیں اپنے لیے چن لیا۔
Ayah 79:17(اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى) فرعون کے پاس جاؤ، وہ سرکش ہو رہا ہے۔ اسے نہایت نرم بات اور پر لطف خطاب کے ذریعے سے اس کی سرکشی، شرک اور نافرمانی سے روکو شاید کہ وہ (یتذکر او یخشی۔ طہ 44) نصیحت پکڑے یا ڈرے۔
Ayah 79:18( فَقُلْ ) اس سے کہہ دیجئے (هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى) کیا تو کوئی خصلت حمیدہ اور اچھی تعریف چاہتا ہے جس میں خرد مند لوگ ایک دوسرے سے مقابلے کی رغبت رکھتے ہیں اور وہ یہ کہ تو اپنے نفس کو پاک کرے اور کفر و طغیان سے اپنی تطہیر کرکے ایمان اور عمل صالح کی طرف آئے ؟
Ayah 79:19(وَاَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ ) یعنی میں اس کی طرف تیری رہنمائی کروں اور اس کی ناراضی کے مواقع میں سے اس کی رضا کے مواقع واضح کروں ( فَتَخْشٰى) پس جب تجھے صراط مستقیم معلوم ہوجائے تو اللہ سے ڈرجائے۔ جس چیز کی طرف حضرت موسیٰ نے فرعون کو دعوت دی تھی، فرعون نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
Ayah 79:20(فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى) پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی بڑی نشانی کی جنس اور یہ ان نشانیوں کے تعدد کے منافی نہیں ہے جیسے اللہ کا فرمان ہے۔ (فالقٰی عصاہ فاذاھی ثعبان مبین۔ ونزع یداہ فاذاھی بیضاء للناظرین۔ الاعراف، 107، 108) موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ یکایک صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ سب دیکھنے والوں کے لیے روشن چمکتا ہوا ہوگیا۔
Ayah 79:21( فَكَذَّبَ وَعَصٰى) پس اس نے حق کو جھٹلایا اور حکم کی نافرمانی کی۔
Ayah 79:22( ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى) پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا۔ یعنی حق کا مقابلہ اور اس کے خلاف جنگ میں جدوجہد کرنے لگا۔
Ayahs 79:23–24( فَحَشَرَ ) پس اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا (فَنَادٰى، فَقَالَ ) اور پکارا اور ان سے کہا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ پس جب اس نے ان کو کمزور پایا تو انہوں نے اس کے سامنے سراطاعت خم کردیا اور اس کے باطل کا اقرار کرلیا۔
Ayah 79:25( فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى) پس اللہ نے اس کو دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑ لیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے لیے دلیل، تنبیہ اور اس کو بیان کرنے والی بنایا۔
Ayah 79:26(اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى) بیشک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، لہذا جب وہ فرعون کی سزا پر غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوجائے گی جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلی کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا وآخرت میں سزا ملتی ہے جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہوجاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آجائے وہ ایمان نہیں لاتا۔
Ayah 79:27اللہ تبارک وتعالی، آخرت کو اور اجساد کے دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ) اے انسانو ! کیا تمہیں بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا ؟ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے۔ (بَنٰىهَا) اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔
Ayah 79:28(رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا) یعنی اس نے اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا پھر اسے برابر کردیا۔ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کردیتا ہے۔
Ayah 79:29(وَاَغْطَشَ لَيْلَهَا) یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہے تو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کردیتی ہے۔ (وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا) یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔
Ayah 79:30(وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا) یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو اس نے بچھا دیا۔ یعنی اس کے اندر اس کے منافع ودیعت کردیے۔
Ayahs 79:31–33پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی (اَخْرَجَ مِنْهَا مَاۗءَهَا وَمَرْعٰىهَا۔ وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا) اسی نے اس میں اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ یعنی انہیں زمین پر مضبوطی سے جمایا، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمینکو پھیلایا اور ہموار کیا جیسے کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خودزمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعایل نے فرمایا (قل ائنکم لتکفرون۔۔۔ تا۔۔۔۔ فی یومین۔ حم السجدہ۔ 9 تا 12) کہہ دیجئے کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو، جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤں کو مقدر کردیا تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں دار تھا پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا دونوں آؤ خوش دلی سے یا بادل نخواستہ، انہوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنادیے۔ پس جس نے بڑے بڑے آسمان ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کردیں وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا وسزا دے گا پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس کو ملامت کرے بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا وسزا کا ذکر کیا۔
Ayahs 79:34–35یعنی جب قیامت کبری اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے، آئے گی اس وقت باپ اپنے بیٹے سے دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہوجائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہوگی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہوجائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔
Ayah 79:36(وَبُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى) یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کردیا جائے گا اسے جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہوگا۔
Ayah 79:37(فَاَمَّا مَنْ طَغٰى) یعنی جس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں۔
Ayah 79:38(وَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا) اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ وشہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کردیا۔
Ayah 79:39(فَاِنَّ الْجَــحِيْمَ ھِيَ الْمَاْوٰى) یعنی جس کا یہ حال ہے جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔
Ayah 79:40(وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ ) یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈرنے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہوگئیں جو رسول لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔