79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 79:1–5

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں

1۔ 5۔ صحیح حدیثوں میں اللہ کے فرمانبردار لوگوں کی جان آسانی سے نکلنے کا اور نافرمان لوگوں کی جان سختی سے نکلنے کا ذکر آیا ہے اور آگے کی آیتوں میں نافرمان اور فرمانبردار لوگوں کا تذکرہ بھی ہے اس واسطے اگرچہ بعض مفسروں نے والنازعاث و الناشطات کی تفسیر میں اور اور کچھ بھی لکھا ہے مگر امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور حضرت علی نے ان لفظوں کی تفسیر سختی اور آسان سے جان کھینچنے والے فرشتوں کی جو قرار دی ہے یہی تفسیر صحیح حدیثوں کے مضمون کے موافق ہے۔ ان حدیثوں میں ایک حدیث براء بن عازب کی سند معتبر سے مسند امام احمد اور ابو داؤود 2 ؎ کی روایتوں میں ہے جو نازعات اور ناشطات کی پوری تفسیر ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرمانبردار لوگوں کی قبض روح کے وقت اچھی شکل کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں اے نیک روح اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور مغفرت کی ہم تجھ کو خبر دیتے ہیں جلدی سے جسم چھوڑ دے۔ یہ خوشخبری سن کر وہ نیک روح جسم کو چھوڑ کر اس طرح آسانی سے نکل آتی ہے جس طرح مشک کا دھانہ کھول دینے سے مشک کا پانی نکل آتا ہے اسی طرح نافرمان لوگوں کی قبض روح کے وقت خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں اے بد روح جسم سے نکل ‘ خدا کے غضب سے تیرا سامنا پڑنے والا ہے۔ یہ خوفناک خبر سن کر وہ روح آدمی کے جسم میں جگہ جگہ چھپتی پھرتی ہے اور فرشتے اس کو گھسیٹتے ہیں آخر بڑی دشواری سے جسم کو چھوڑتی ہے۔ سابحات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ہر طرح کا حکم بجا لانے کے لئے آسمان سے زمین پر اس طرح جلدی سے اترتے ہیں جیسے کوئی پانی میں تیرتا ہے۔ سابقات سے وحی کے انبیاء تک پہنچانے میں سبقت اور چستی کرنے والے فرشتے اور مدبرات سے وہ فرشتے مراد ہیں جو آسمان سے ہر ایک کام کی تدبیر اور انتظام کے لئے زمین پر اترتے ہیں۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 310 ج 6۔ ) (2 ؎ ابو داؤود باب فی السالۃ فی القبر و عذاب القبر۔ کتاب السنۃ ص ج 2۔ )
Ayahs 79:6–14

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

اور آنکھیں جھکی ہوئی

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹیں گے ؟

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے (تو پھر زندہ کیے جائیں گے)

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے۔

6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک ایک چیز کے ہزاروں مدعی بنیں گے۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے یہ سب باتیں ان کی مسخرا پن کے طور پر تھیں اس لئے جھڑکی دے کر اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کے جواب میں فرمایا کہ جب دوبارہ جینے کا وقت آئے گا تو دوسرے صور کی ایک ہی آواز سے یہ سب قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں آن کھڑے ہوں گے۔ زجرۃ واحدۃ سے مراد دوسرے صور کی آواز ہے زجر کے معنی جھڑکنے کے ہیں منکرین حشر کی مسخرا پن کی باتوں کے جواب میں اس جھڑکی کے لفظ کو دوسرے صور کی آواز کے معنوں میں استعمال فرمایا ہے۔ ساھرہ کے معنی میدان کے ہیں یہ میدان اس نئی زمین کا ہے جس پر حشر برپا ہوگا اس میں کوئی پہاڑ یا ٹیلہ نہ ہوگا صرف میدان ہی ہوگا اس نئی زمین کا صحیح 1 ؎ حدیثوں میں ذکر آیا ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری باب یقیض اللہ الارض ص 965 ج 2۔
Ayahs 79:15–26

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب ان کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طوی میں پکارا

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور (اس سے) کہو کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا راستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اور (لوگوں) کو اکھٹا کیا اور پکارا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کیلئے اس (قصے) میں عبرت ہے

15۔ 26۔ اوپر قیامت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ یاد دلا کر اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ عذاب الٰہی کچھ قیامت پر ہی منحصر نہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کے جھٹلانے پر اپنی عادت کے موافق اڑے رہے تو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ جس طرح رسول وقت کی نافرمانی سے فرعون پر دنیا میں آفت آگئی اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی آفت آجائے چناچہ اس تنبیہ کی غرض سے اس قصہ کے ذکر کے بعد فرمایا کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہے اس کو اس قصہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے اسی طرح کی تنبیہ کے مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة الم سجدہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ولنذیقنھم من العذاب الا دنیٰ دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس مکی سورة کے وعدہ کے موافق ہجرت کے بعد اہل مکہ پر بدر کی لڑائی میں بڑی آفت آئی جس میں ان کے ستر آدمی قتل اور ستر قید ہوگئے۔
Ayahs 79:27–33

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

بھلا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا ؟ اسی نے اس کو بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی چھت کو اونچا کیا پھر اسے برابر کردیا

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدے کیلیے (کیا)

27۔ 33۔ سورة عم یتساء لون میں جس طرح حشر کے منکر لوگوں کے قائل کرنے کو ان کی آنکھوں کے سامنے کی چند چیزوں کا ذکر فرمایا تھا حشر کے ذکر کے بعد یہاں بھی چند عجائبات کا ذکر اسی غرض سے فرمایا ہے کہ ان عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت سے انکار کرے کہ ایک دفعہ ان سب عجائبات کو پیدا کرکے دوسری دفعہ ان میں سے جو کچھ وہ چاہے اس کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید ہے۔ ان آیتوں کو سورة حم السجدہ کی آیتوں سے ملا کر پڑھنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلے زمین کو بنایا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر زمین پھیلائی اور پر آسمان کو یکساں اور برابر کیا۔ سمک کے معنی بلندی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ آسمان کو زمین سے پانسو برس کے راستہ کی بلندی پر بغیر کسی سہارے کے کسی حکمت سے بنایا۔ پھر جس طرح سے اول آسمان زمن کی چھت ہے۔ اسی طرح اسی فاصلہ پر ہر ایک آسمان دوسرے آسمان کی چھت ہے حاصل یہ کہ جو ایسی عظیم الشان انسان کی سمجھ سے باہر چیزوں کے بنانے کی قدرت رکھتا ہے ایک دفعہ پیدا کرکے پھر دوبارہ انسان کو پیدا کرنا اس کی قدرت کے آگے کیا مشکل ہے۔ دن اور رات کا تعلق آسمان سے یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں آسمان کی حرکت کے سبب سے پیدا ہوتی ہیں۔ زمین کا پانی نکالنے سے مطلب دریا اور ندیاں اور چشمے ہیں۔ مرعیٰ کے معنی جانوروں کے چارے کے ہیں۔ پہاڑوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔