Ayahs 78:1–51۔ 5۔ اگرچہ مجاہد 1 ؎ کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد قرآن شریف ہے لیکن قتادہ 2 ؎ اور اکثر سلف کا قول یہ ہے کہ بڑی خبر سے مراد حشر اور قیامت ہے۔ آگے کی آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے۔ اس لئے یہی قول قرآن شریف کے مطلب کے موافق معلوم ہوتا ہے۔ اس واسطے حافظ 3 ؎ ابن کثیر نے (اس قول کو ترجیح دی ہے۔
حشر اور قیامت کی بہت سی باتیں انسان کی عقل میں نہیں آتیں اس واسطے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ سے حشر اور قیامت کی باتوں میں طرح طرح سے جھگڑتے تھے کبھی کہتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے گی ‘ پھر اس خاک کا پتلا کیوں کر بن جائے گا کبھی کہتے تھے کہ آگ میں زقوم کا پیڑ کیوں کر ہوگا۔ کبھی کچھ کہتے تھے کبھی کچھ ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ ان کے بڑے بوڑھے ان کی آنکھوں کے رو برو دنیا سے اٹھ گئے۔ اس لء یہ تو ان کو معلوم ہے کہ ایک دن یہ بھی مرجائیں گے کیونکہ دنیا ہمیشہ نہیں رہنے والی۔ اور دنیا کے فنا ہونے کے بعد آخرت کی یہ سب باتیں ان منکروں کے سامنے آجائیں گی اور اس وقت ان کو ان باتوں کا یقین آجائے گا جس وقت کا یقین انہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ رہی یہ بات کہ آخرت کی باتیں ان کی عقل میں نہیں آتیں ‘ ایک بوند پانی سے انسان کا پیدا ہوجانا اور دنیا کے ہزارہا عجائبات ‘ کیا یہ سب انسان کی عقل میں آنے والی باتیں ہیں ؟ پھر جس نے دنیا میں آنکھوں کے سامنے کے عجائبات خلاف عقل کو پیدا کرکے دکھا دیا وہ آخرت میں بھی خلاف عقل عجائبات پیدا کرنے پر قادر ہے اور دنیا کے عجائبات کو آنکھوں سے دیکھنے اور تجربہ کرلینے کے بعد اس کی اس قدرت کا انکار کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ معتبر سند سے ترمذی 4 ؎ اور ابن ماجہ کی روایت سے حضرت شداد بن اوس کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا صاحب عقل وہی شخص ہے جو زندگی میں موت کے بعد کے لئے کچھ سامان کرلے۔ اور کم عقل وہ شخص ہے جو زندگی بھر شیطانی وسوسوں میں لگا رہے اور موت کے بعد اللہ سے راحت کی توقع رکھے یہ حدیث عبد اللہ بن عمر کی روایت سے بھی معتبر سند سے ابن 5 ؎ ماجہ طربانی وغیرہ میں آئی ہے اور یہ تو ایک ظاہر بات ہے کہ موت کے بعد کا کچھ سامان بغیر خالص نیک عمل کے نہیں ہوسکتا۔ اور خالص نیت کا نیک عمل بغیر آخرت کے پورے یقین کے نہیں ہوسکتا اور آخرت کی بہت سی باتیں محض عقل سے سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ اس واسطے بغیر اس کے انسان کی نجات کی صورت کوئی نہیں ہے کہ آخرت کی غیب کی باتیں جو بذریعہ وحی کے دنیا میں آئی ہیں۔ ان کو بغیرعقل کے دخل کے انسان تسلیم کرلے ‘ اس تسلیم کے بعد آخرت کا یقین دل میں پیدا ہوجائے گا جس یقین کے سبب سے خالص نیت کا نیک عمل ہونے لگے گا جو آخرت میں نجات کا باعث ہوگا اور جو شخص ان غیب کی باتوں میں عقل کو دخل دے گا عقل تو ان باتوں کے سمجھنے سے عاجز ہے۔ اس لئے اس طرح کا شخص طرح طرح کے شیطانی وسوسوں میں پڑ کر اپنی عاقبت کو ضرور خراب کرلے گا کسی بات کی تاکید منظور ہوتی ہے تو اس کو دو دفعہ کہا جاتا ہے جیسے مثلاً سانپ نکلنے کے وقت سانپ سانپ دو دفعہ کہتے ہیں اور اس واسطے کلاسیعلمون کو دو دفعہ فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کو خلاف عقل سمجھ کر یہ لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں قریب ہے مرتے ہی ان باتوں کو ضرور یہ لوگ خوب اچھی طرح سے جان لیں گے۔ کلا کا لفظ عربی میں کلا سے پہلے کے کلام کو غلط اور کلا کے بعد کے کلام کو صحیح قرار دینے کے لئے آتا ہے یہاں حاصل مطلب یہ ہے کہ قیامت کے آنے میں اختلاف ڈالنا غلط اور اس کا آنا ایسا صحیح ہے جو قریب میں آنکھوں سے دیکھ لیا جائے گا۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 462 ج 4۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 462 ج 4۔ )
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 462 ج 4۔ )
(4 ؎ جامع ترمذی ابوبا صفۃ القیامۃ ص 82 ج 2۔ )
(5 ؎ الترغیب والترہیب و الترغیب فی ذکر الموت الخ ص 440 ج 4۔ )
Ayahs 78:6–116۔ 11۔ اوپر ذکر تھا کہ حشر اور قیامت کی باتوں کو خلاف عقل خیال کرکے اسلام لانے سے پہلے مکہ کے لوگ ان باتوں میں آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کی حجتیں کرتے تھے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دنیا کے چند عجائبات کا ذکر فرمایا ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور جن کی حالت کے دیکھنے سے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل دنگ ہے کسی کی عقل میں نہیں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی سات زمینوں کو پانی پر بچھونے کی طرح کیونکر بچھایا ہے۔ اور ان کے ٹکنے اور جم جانے کے لئے اتنے اتنے بڑے پہاڑوں کی میخیں ان میں کو نکر ٹھونکی ہیں کہ جس طرح خیمہ کی میخیں ٹھونک دینے سے خیمہ خوب مضبوط اور چورس ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پہاڑوں کی میخوں سے زمین خوب چورس اور مضبوط ہوگئی ‘ ہلتی جلتی نہیں۔ انسان کو مرد اور عورت کی صورت میں کس طرح پیدا کیا کہ ایک سے دوسرے کی شباہت بالکل الگ ہے۔ ایک حضرت آدم اور حوا کے جسم میں افزائش نسل کا یہ مادہ کیونکر رکھا گیا جس سے قیامت تک کی نسل چلے گی۔ آدمی کے مرجانے اور مرجانے کے بعد جینے کی نشانی کے لئے سونے اور جاگنے کو کس طرح پیدا کیا ہے پھر ایسے صاحب قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ جس طرح اس نے سرے سے بغیر کسی نمونہ کے ایک دفعہ یہ سب کچھ پیدا کیا ہے وہ دوبارہ اسی نمونہ کے موافق جو کچھ چاہے پھر پیدا کر دے۔ کیونکہ جب ایک چیز کا نمونہ قرار پا کر پیدائش دنیا سے اس کے ختم ہوجانے تک ہزارہا برس تک وہ نمونہ چل چکا ہے تو پھر دوبارہ اسی چیز کا بنانا نہایت سہل ہے اسی لئے سورة روم میں فرمایا وھوالذی یبد و الخلق ثم یعیدہ وھوا ھون علیہ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے تجربہ کے موافق بھی اسی طرح دوبارہ ہر چیز کا بنانا سہل ہے ورنہ اللہ کی قدرت کے آگے تو سب کچھ سہل اور آسان ہے اور یہ دوبارہ پیدائش اسی واسطے ضرور ہے کہ دنیا کی پیدائش سے اس کے ختم تک جو کچھ نیکی بدی دنیا میں ہوئی ہے اس کی جزا و سزا ہوجائے اور دنیا کی پیدائش بلا نتیجہ نہ رہے چناچہ اسی مطلب کو سورة جاثیہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ وخلق اللہ السموت والارض بالحق ولتبزی کل نفس بماکسبت وھولا یظلمون جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد نیک و بد کا انصاف نہ ہوتا تو یہ ایک بےانصافی تھی کیونکہ نیکی کا ثمرہ بدی کی پرسش کچھ بھی نہ ہوتا۔ یہ خلاف انصاف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس ارادہ سے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد ایک دن نیک و بد کا انصاف ہو کر جزا و سزا ہوجائے اور دنیا کا پیدا کرنا ناانصافی کی بنیاد پر نہ رہے۔ سبات کہتے ہیں راحت اور سکون کو۔ نیند سے تھکان رفع ہو کر ایک طرح کی راحت حاصل ہوجاتی ہے ‘ اس لئے نیند کو سبات فرمایا رات کو لباس اس لئے فرمایا کہ جس طرح کپڑا بدن کو ڈھانک لیتا ہے اسی طرح رات کا اندھیرا ہر چیز پر چھا جاتا ہے اور دن کو روز گار کا موقع محل اس لئے فرمایا کہ اس میں چل پھر کر آدمی ہر طرح گزران کی صورت نکال سکتا ہے اگر رات کی طرح دن کو بھی اندھیرا رہتا تو آدمی دنیا کا کوئی کام دھندا نہ کرسکتا تھا۔ مسند امام احمد و ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے اور مسند بزار وغیرہ میں عباس اور ابوذر سے اور مستدرک حاکم میں عمرو بن بن العاص سے جو روایات ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اور اسی طرح ایک زمین سے دوسری زمین تک پانسو برس کی راہ ہے اور ہر آسمان کا فاصلہ بھی اسی قدر ہے۔ زمنیوں میں پانسو پانسو برس کے راستہ کے ٹکڑے کو حاکم نے صحیح کہا ہے اور باقی کے ٹکڑے کی چند روایتیں ہیں جن میں ایک سے دوسری روایت کو تقویت ہوجاتی ہے۔ اس حدیث سے ان اہل ہیئت کا قول بےاصل ٹھہرتا ہے جو کہتے ہیں کہ زمینوں کے مابین کچھ فاصلہ نہیں ہے۔ اسی طرح صحیح 2 ؎ بخاری وغیرہ میں صحابہ کی ایک جماعت سے روایات ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی کی دبا لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں کے اسی قدر ٹکڑے کا ایک طوق بنا کر ایسے شخص کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ آیت اللہ الذی خلق سمع سموت ومن الارض مثلھن اور ان حدیثوں سے ان متکلمین کا قول غلط قرار پاتا ہے جو زمین کے ایک ہونے کے قائل ہیں۔ ترمذی 3 ؎ وغیرہ میں جو حضرت انس ؓ سے روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب زمین پانی پر بچھائی گئی تو وہ ہلتی تھی اس واسطے اس کی مضبوطی کے لئے پہاڑ پیدا کرکے میخوں کی طرح اس میں ٹھونکے گئے۔ اگرچہ اس کیس ند میں ایک شخص سلیمان بن ابی سلیمان مجہول ہے۔ لیکن آیت والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم سے اور مسند 4 ؎ عبد الرازق میں جو بعض آثار ہیں ان سے اس روایت کی پوری تائید ہو کر سلیمان کی مجہولیت کسی قدر رفع ہوجاتی ہے سورة انبیاء میں گزر چکا کہ پہاڑوں کی میخیں زمین میں اس حکمت سے ٹھونکی گئی ہیں کہ پہاڑوں میں گھاٹیاں بھی رکھی گئی ہیں تاکہ پھرنے چلنے کا راستہ بند نہ ہو۔ صحیح بخاری 5 ؎ وغیرہ میں جو حضرت عائشہ سے روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اہل مکہ کی شرارتوں سے بہت تنگ آگئے تو اللہ تعالیٰ نے ملک الجبال کو آپ ﷺ کے پاس بھیجا۔ اس فرشتے نے آپ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ ﷺ فرمائیں تو مکہ کے ارد گرد کے دو پہاڑوں میں اہل مکہ کو بھینچ کر ان کا کام تمام کر دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں نہیں ‘ مجھ کو تو اللہ کی ذات سے یہ توقع ہے کہ ان لوگوں کی نسل میں وہ لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کو وحدہ لاشریک اور مجھے اس کا رسول جانیں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اور خدمتوں کی تعیناتی کی طرح پہاڑوں کے انتظام پر بھی فرشتوں کا ایک خاص گروہ تعینات ہے اور ملک الجبال اسی گروہ کے سردار کا لقب ہے۔
(1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الحدید ص 185 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب اثم من ظلم شیئا من الارض ص 331‘ 332 ج 1۔ )
(3 ؎ جامع ترمذی اواحر ابواب التیرار ص 198 ج 2۔ )
(4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 565 ج 2 و تفسیر ابن جریر ص 90 ج 14۔ )
(5 ؎ صحیح بخاری۔ باب بعد باب ذکر الملئکۃ ص 488 ج 1۔ )
Ayahs 78:12–1612۔ 16۔ زمین کے عجائبات کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں آسمانی عجائبات کا ذکر ہے سات چنائیوں سے سات آسمان مراد ہیں مضبوطی انکی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہزارہا برس سے بغیر کسی طرح کی مرمت کے بالکل بےسہاراکھڑے ہیں اور یہ تو اوپر گزرچکا ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کا راستہ کا فاصلہ ہے اور اسی قدر ہر ایک آسمان کا دل ہے۔ چمکتے ہوئے چراغ سے مراد سورج ہے کہ جس کی چمک ساری دنیا میں یکساں ہے۔ معصرات کے معنی میں سلف کے دو 1 ؎ قول ہیں ‘ ایک ہوا دوسراخوب برسنے والا بال۔ مطلب دونوں قولوں کا یہ ہے کہ پہلے ہوا آسمان پر چلتی ہے۔ اس سے بادل اکٹھے ہو کر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے وہاں مینہ برستا ہے جس سے طرح طرح کا اناج میوہ اور جانروں کا چارہ پیدا ہوتا ہے۔ ماء ثجاجا کے معنی لگاتار بارش۔ الفافا کے معنی خوب گھنے کے درخت۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 462 ج 4)
Ayahs 78:17–3017۔ 30۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں اس حشر سے پہلے مینہ برسنے کا ذکر ہے اگرچہ نیک و بد کا فیصلہ دوسرے صور کے اور اس صور سے لوگوں کے قبروں سے اٹھنے کے بعد ہوگا لیکن دنیا کا پیدا کیا جانا ‘ مرنے کے بعد پھر زندہ کیا جانا ‘ یہ سب کچھ ‘ نیک و بد کی جانچ اور اس کے فیصلہ کے لئے ہے اس لئے اس فیصلہ کا اہتمام زیادہ فرما کر اس کا ذکر صور سے پہلے فرمایا اور یہ تو سورة زمر میں گزر چکا ہے کہ پہلے صور کے پھونکنے سے تمام دنیا اجڑ جائے گی۔ اور دوسرے صور کے پھونکنے سے سب جی اٹھیں گے۔ ان آیتوں میں منکرین حشر کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس لئے مختصر طور پر فقط دوسرے ہی صور کا ذکر فرمایا کیونکہ جو کچھ دوسرے صور کے وقت ہوگا منکرین حشر فقط اس کے ہی منکر تھے۔ دونوں صوروں کے مابین میں چالیس برس کا عرصہ لگنے کی بابت صحیح بخاری کے بعض شارحوں نے جو لکھا ہے کہ صحیح مسلم میں چالیس برس کے عرصہ کی روایت موجود ہے یہ تو ان شارحوں کا سہو ہے ‘ صحیح مسلم میں تو چالیس برس کے عرصہ کی کوئی روایت نہیں ہے ہاں مسند ابن مبارک تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردویہ کی روایت موجود ہے یہ تو ان شارحوں کا سہو ہے صحیح مسلم میں تو چالیس برس کے عرصہ کی کوئی روایت نہیں ہے ہاں مسند ابن مبارک تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردودیہ میں جو روایتیں ہیں ان میں چالیس برس کا ذکر ہے دوسرے صور کے بعد جب سب لوگ قبروں سے اٹھ کر میدان محشر میں جا کر کھڑے ہوں گے اسی وقت دوزخ کو ستر ہزار نکیلیں دے کر فرشتے میدان محشر میں لائیں گے جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے آیا ہے اسی واسطے دوسرے صور کے ذکر کے ساتھ اللہ نے ان آیتوں میں دوزخ کا ذکر فرمایا ہے صور اس نرسنگے کو کہتے ہیں جس کو اسرافیل (علیہ السلام) دو دفعہ پھونکیں گے۔ چناچہ ترمذی 2 ؎ ابو داؤد و صحیح ابن حبان میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے جو روایت ہے اسی کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے صور کے معنی پوچھے تھے آپ ﷺ نے وہی معنی بتائے جو اوپر بیان کئے گئے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت انس سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی نبی کے پیرو اس قدر کثرت سے نہ ہوں گے جس قدر کثرت سے میرے پیرو ہوں گے۔ اور مستدرک 4 ؎ حاکم و طبرانی میں حضرت عبد 4 اللہ بن مسعود ؓ کی معتبر سند سے جو روایتیں ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ کسی نبی کے پیرو نہیں ہیں بلکہ اغوائے شیطانی سے کوئی گروہ بتوں کی اور کوئی سورج اور چاند وغیرہ کی پوجا کرتا ہے ان لوگوں کے گروہ قیامت کے دن الگ الگ بن جائیں گے۔ غرض ان حدیثوں کے موافق جٹ کے جٹ اور گروہ کے گروہ اللہ تعالیٰ کے رو برو جانے کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑے یا بہت جس قدر لوگ کسی نبی کے پیرو ہوں گے وہ تو اپنے اپنے نبی کے ساتھ ہوں گے اور باقی کے لوگوں کی جماعتیں الگ الگ ہوں گی۔ آسمان کے کھل جانے اور اس میں دروازے ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ محشر کے میدان میں طرح طرح کے انتظام کے لئے بہت سے فرشتے آسمان سے اتریں گے جن کے زمین پر اترنے کے لئے بہت سے دروازوں کی طرح کے راستے آسمان میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے بن جائیں گے۔ قیامت کے دن نیا آسمان جو بنے گا دوسرے صور کے ذکر میں یہ اس نئے آسمان کا ذکر ہے کیونکہ حال میں جو آسمان موجود ہے یہ تو پہلے صور کے صدمہ سے ٹوٹ جائے گا۔ پہاڑوں کی کئی حالتیں قرآن شریف میں آئی ہیں کہ اول ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر دھنی ہوئی روئی کے مانند ہوجائیں گے یہ سب حالتیں پہلے صور کے وقت کی ہیں دوسرے صور کے حال میں جہاں پہاڑوں کا ذکر ہے وہ اصل میں اس زمین کے ذکر کے ساتھ ہے جو قیامت کے دن نئی پیدا کی جائے گی۔ یہاں پہاڑوں کے ذکر سے مطلب یہ ہے کہ پہلے صور کے وقت پہاڑ اڑ کر پھر اڑے ہوئے رہیں گے۔ اس نئی زمین پر پہاڑوں کا کہیں نام و نشان بھی نہ ہوگا بلکہ ان کی جگہ فقط ریت ہوگی۔ چناچہ اس مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة کہف میں ان لفظوں میں فرمایا ہے ویوم نسیر الجبال و تری الارض بارزۃ ‘ مرصاد اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں بیٹھ کر دشمن پر قابو پانے کے لئے تاک لگائی جاتی ہے حاصل معنی یہ ہیں کہ دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے منتظر ہیں۔ احقاب حقبہ کی جمع ہے ایک حقبہ کس قدر مدت کا ہوتا ہے اس میں سلف کا اختلاف ہے۔ مگر مسند 1 ؎ بزار میں ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حقبہ اسی برس کا ہوتا ہے اس روایت کی سند میں ایک شخص حجاج بن نصیر راوی ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن حبان نے اس کو ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے اس لئے حقبہ کی یہی تفسیر صحیح ہے جو اس روایت میں ہے آخر رکوع تک معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دوزخی دوزخ میں سالہا سال رہیں گے جہاں نہ ان کو کچھ کسی طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے۔ اور نہ گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز پینے کی ملے گی جس سے پیاس بجھے بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا جزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی فہمایش کے اس انکار پر ان کے اصرار تھا اور وہ انکار اور اصرار سب کچھ دفتر الٰہی میں لکھا جاتا ہے اس لئے اس انکار اور اصرار کی سزا میں ان پر دن بدن عذاب بڑھتا اور بدلتا رہے گا۔ اسی کو جزآء وفاقا فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ان کے اعمال ویسی ہی ان کی سزا۔ بعض مفسروں نے پہلے تو فرمایا کہ دوزخی دوزخ میں قرنوں رہیں گے پھر فرمایا کہ دوزخیوں کا عذاب دن بدن بڑھتا جائے گا بعض مفسروں نے پہلی آیت کہ جس میں قرنوں کے عذاب کا ذکر ہے۔ وسری آیت سے جس میں ہمیشہ عذاب کے بڑھنے کا ذکر ہے منسوخ ہونا لکھا ہے مگر صحیح قول یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے ایک مدت دوزخیوں پر ایک قسم کا عذاب رہے گا پھر دوسری قسم کا عذاب ہوگا اسی طرح دن بدن عذاب بڑھتا اور بدلتا جائے گا۔ مثلاً ایک مدت تک ان پر پیاس کا عذاب رہے گا پھر گرم پانی ملے گا تو ایسا جس سے انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی حاصل کلام یہ ہے کہ ایک آیت دوسری آیت کا بیان ہے دونوں آیتوں میں سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔
(2 ؎ صحیح مسلم باب مابین النفختین ص 406 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 381 ج 2۔ )
(2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الصور ص 78 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب الشفاعۃ و الخراج الموحدین من النار ص 112 ج 1۔ )
(4 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی الحشر وغیرہ ص 748 ج 4۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 307 ج 6۔ )
Ayahs 78:31–3631۔ 36۔ اوپر دوزخ اور دوزخیوں کا ذکر تھا اس کے مقابلے میں ان آیتوں میں جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے حضرت 2 ؎ عبد اللہ بن عباس نے مفازا کے معنی سیر گاہ کے کہے ہیں حدیقۃ وہ باغ ہے جس میں ہر طرح کے درخت ہوں انگور ایک خاص شان کا مزہ دار میوہ ہے اس لئے خاص طور پر اس کا نام جدا فرمایا۔ کو اعب سے مراد کنواری اور اتراب سے مراد ہم عمر عورتیں۔ دھاق کے معنی لبریز پیالہ شراب طہور کا۔ پھر فرمایا کہ دنیا کی شراب نوشی کے بعد جس طرح کی بےہودہ باتیں ہوتی ہیں جنت کی شراب نوشی کے بعد ایسی کوئی بات نہ ہوگی۔ جنت کو عطا اس لئے فرمایا کہ جس کسی کو جنت ملے گی وہ اللہ کے فضل سے عطا کے طور پر ملے گی ورنہ انسان کی کیا طاقت ہے کہ تھوڑی سی عمر کے نیک عملوں کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کی دنیا کی بیشمار نعموتوں کی شکر گزاری کو پورا کرکے جنت کی اس قدر بےحساب نعمتوں کو پاسکتا چناچہ واثلہ بن الاسقع سے مستدرک 1 ؎ حاکم وغیرہ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ پچھلی امتوں میں ایک عابد تھا جس نے مدتوں ایک پہاڑ پر بیٹھ کر عبادت کی تھی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس عابد سے فرمائے گا کہ میری رحمت کے سبب سے جا جنت میں چلا جا۔ وہ عابد کہے گا یا اللہ میرے نیک عملوں کا بدلہ کہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر فرشتوں سے فرمائے گا اچھا اس کے نیک عملوں کا ان نعمتوں کے ساتھ تول کر اندازہ کیا جائے جو نعمتیں اس کو دنیا میں دی گئی تھیں اس اندازہ میں عابد کے سب نیک عمل فقط آنکھوں کی نعمت کے بدلے میں برابر ہوجائیں گے۔ ان ہی نعمتوں کا شکریہ آدمی کے ذمہ ہونے سے صحیح 2 ؎ حدیثوں میں آیا ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے کوئی شخص جنت میں نہیں جاسکتا عطا کے ساتھ حساب کا لفظ جو فرمایا اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ حساب بھی ایک عطا ہے۔ کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ اکہرا ہونے کی جگہ دس سے لے کر سات سو تک کبھی اس سے بھی زیادہ کا حساب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ٹھہرایا ہے جس کا ذکر صحیح حدیثوں میں آیا ہے۔
2 ؎ صحیح مسلم باب لن یدخل الجنۃ احد بعملہ الخ ص 376 ج 2۔
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 308 ج 6۔ )
(1 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی ذکر الحساب وغیرہ ص 763 ج 4۔ لکن رواہ عن جابر ؓ و فی روایۃ الطبرانی عن واثلہ بن اثقع بمعناہ ص 762 ج 4)
Ayahs 78:37–4037۔ 40۔ اوپر ذکر تھا کہ جس شخص کو نیک عملوں کے بدلہ میں جنت ملے گی وہ محض عطائے الٰہی کے طور پر ملے گی ان آیتوں میں اس بیشمار عطا کی صراحت یوں فرمائی کہ زمین آسمان جنت اور نیکی کے ثواب کے درجہ کو بڑھانا سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو جو کچھ چاہے عطا کے طور پردے دیوے اس کی بارگاہ میں کچھ کمی نہیں۔ وہ رحمن ہے اس کی رحمت بندوں پر عام ہے پھر فرمایا باوجود اس عام رحمت کے اس کا جلال بھی ایسا ہے کہ قیامت کو جب اس سے آمنا سامنا ہوگا تو بغیر اس کے حکم کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا۔ حضرت عبد اللہ 3 ؎ بن عباس ؓ کا مشہور قول ہے کہ اس آیت میں روح سے مراد بنی آدم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حشر کے دن بنی آدم اور ملائکہ اللہ کے رو برو صف باندھ کر کھڑے ہوں گے۔ صحیح حدیثوں کے موافق یہ ذکر اس وقت کا ہے جب اللہ تعالیٰ نیک و بد کے فیصلہ کے لئے آسمان سے زمین پر میدان محشر میں نزول فرمائے گا اور لوگ سورج کی گرمی اور پسینہ سے گھبرائیں گے اور حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک سب انبیاء کے پاس حساب و کتاب شروع ہوجانے کے لئے جائیں گے اور کسی نبی کی جرأت اور طاقت اللہ تعالیٰ سے بات کرنے کی نہ ہوگی آخر خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کو بات کرنے کا حکم ہوگا اور آپ ﷺ کی شفاعت سے سب لوگوں کا حساب و کتاب شروع ہوگا۔ چناچہ اس کا ذکر تفصیل سے اوپر گزر چکا ہے۔ وقال صواباً کے یہ معنی ہیں کہ جس طر اس دن بغیر حکم اللہ تعالیٰ کے اس سے کوئی بات نہ کرسکے گا اسی طرح اس کی مرضی کے خلاف کوئی کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مثلاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کی مرضی کے خلاف اپنے باپ آذر کی بخشش یا تخفیف عذاب کی سفارش نہ کرسکیں گے سورة انبیاء میں ولا یشفعون الا لمن ارتضی۔ وقال صوابا کی گویا تفسیر ہے ہے پھر فرمایا جس دن کے حساب و کتاب اور عذاب سے ان لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اس دن کا پیش آنا ایسا یقینی اور اس کی صداقت ایسی ایک حق بات ہے کہ جس کو کوئی جھٹلا نہیں کستا کس لئے کہ جن آیات قرآنی میں قیامت کے آنے کا ذکر ہے ان آیتوں کو یہ قیامت کے منکر لوگ محض ہٹ دھرمی سے جھٹلا رہے ہیں اگر اس ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر اپنی آنکھوں کے سامنے کے انتظام دنیا پر بھی یہ لوگ ذرا غور کریں تو ان کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آسکتی ہے کہ خود موجودہ انتظام اس کا مقتضی ہے کہ دنیا کے ختم کے بعد قیامت جیسے ایک دن کی سخت ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں بہت سے نیک لوگ ایسے ہیں کہ عمر بھر دنیا کی اکثر راحتوں سے محروم رہے اور بہت سے بد لوگ ایسے ہیں کہ دنیا کی ہر طرح کی راحت میں ان کی ساری زندگی بسر ہوئی اب دنیا کے چھوٹے چھوٹے حاکم و آقا تو اس بات کو بڑی ناانصافی گنتے ہیں کہ نیک و بد نوکر یا غلام کو ہمیشہ ایک حالت میں رکھا جائے اس احکم الحاکمین کے انصاف پر یہ دھبہ کون لگا سکتا ہے کہ اس کی بارگاہ میں نہ نیکی کا کچھ ثمرہ ہے نہ بدی کی کوئی پرسش۔ چناچہ اسی مطلب کو سورة جائیہ میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ ام حسب الذی اجتر حوا السیات ان نجعلہم کالذین امنوا و عملوا الصحلت سواء محیاھم و مماتھم ساء مایحکمون و خلق اللہ السموت والارض باحلق و لتجزی کل نفس بما کسبت وھم لا یظلمون اور اسی مطلب کی تاکید سورة نون میں ان لفظوں سے فرمائی ہے افنجعل المسلمین کا لمجرمین مالکم کیف تحکمون۔ ان آیتوں کے اصلی معنی تو سورة جاثیہ اور سورة نون میں گزر چکے۔ یہاں حاصل مطلب اسی قدر ہے کہ آخرت کا حال کسی نے آنکھ سے تو ابھی تک دیکھا نہیں ہاں وہاں کا حال دنیا میں اسی قدر کسی کو معلوم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ اپنے رسول کو بتایا ہے وہ حال تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انصاف میں یہ بات ہرگز جائز نہیں کہ وہ دنیا کو دنیا کی ہی حالت پر رکھے اور ختم دنیا کے بعد دوسرا جہان سزا اور جزا کے لئے نہ پیدا کرے اور فرمانبرداروں اور نافرمانبرداروں کو یکساں کر دے اس کے سوا اٹکل پچو باتیں جو یہ نافرمان لوگ بناتے ہیں وہ اس کی باتیں بالکل بےٹھکانے ہیں پھر فرمایا جب قیامت کا آنا یقینی ہے تو آدمی کو چاہئے کہ اس دن خدا کو اچھی طرح منہ دکھانے کے ارادہ سے جہاں تک ہو سکے نیکی کرے اور جس عذاب سے اس کو ڈرایا گیا ہے اس سے ڈر کر برے کاموں سے پرہیز کرے اور یہ خوب جان لے کہ دنیا میں نیک و بد جو کچھ کرے گا اس دن وہ سب اس کے سامنے آنے والا ہے۔ دو روز نامچہ نویس خدا کی طرف سے ہر ایک شخص پر مقرر ہیں۔ رات دن انسان کے ہر قول و فعل کو لکھ لینا یہی ان کا کام ہے۔ شداد 1 ؎ بن اوس اور عبد اللہ بن عمر کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا صاحب عقل وہی ہے جو زندگی میں موت کے بعد کا کچھ سامان کرلے اور کم عقل وہ ہے جو عمر بھر برے کاموں میں لگا رہے اور موت کے بعد پھر راحت کی توقع رکھی۔ بخاری 2 ؎ اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا صحت اور فارغ البالی اللہ تعالیٰ کی دو بڑی نعمتیں ہیں جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ دو نعمتیں دیں اور پھر وہ اللہ کی عبادت سے غافل رہے تو ایسے لوگ بڑے ٹوٹے میں ہیں ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا 3 ؎ ہے پھر فرمایا جو کوئی اس فہمایش کے بعد بھی عقبیٰ کے انکار پر اڑا رہے گا تو اس کو وہاں ایسا پچھتاوا ہوگا کہ وہ عذاب کی سختی کے خیال سے یہ آرزو کرے گا وہ خاک ہوجاتا تو اچھا ہوتا۔ صحیح 4 ؎ مسلم ترمذی ‘ مسند امام احمد میں جو حضرت ابوہریرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن یہاں تک انصاف ہوگا کہ اگر کوئی سینگ والا جانور بغیر سینگ والے جانور کو مار بیٹھا ہوگا تو اس سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ بیہقی ‘ تفسیر ابن 5 ؎ جریر ابن ابی حاتم کی روایتوں میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس بدلہ کے بعد سب جانوروں کو خاک ہوجانے کا حکم ہوگا اور وہ خاک ہوجائیں گے جانوروں کی یہ حالت دیکھ کر حشر کے منکر لوگ یہ آرزو کریں گے کہ وہ بھی اسی طرح خاک ہوجاتے تو عذاب سے بچ جاتے۔
1 ؎ مشکوۃ شریف باب فی استحباب المال و العمر للطاعۃ فصل ثانی ص 451۔ والترغیب والترھیب فی ذکر الموت الخ ص 440 ج 4 جامع ترمذی ابواب صفۃ القیمۃ 82 ص ج 4
2 ؎ صحیح بخاری کتاب الرقاق ص 949 ج 2
3 ؎ جامع ترمذی ابواب الزھد ص 65 ج 2
4 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص 320 ج 2
5 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 310 ج 6۔
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 465 ج 4)