79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 79:34–41

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

تو جب بڑی آفت آئے گی

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی۔

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

تو جس نے سرکشی کی

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

اس کا ٹھکانا دوزخ ہے

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور دل کو خواہشوں سے روکتا رہا

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

اس کا ٹھکانا بہشت ہے

34۔ 41۔ دنیا کی موجودات ایک دن اجڑ کر اس کے بعد سزا و جزا کا دوسرا نظام قائم ہوگا جس کا نام قیامت ہے طامہ اس آفت کو کہتے ہیں جس کی برداشت نہ ہو سکے۔ یہاں طامہ سے مطلب قیامت ہے۔ اس دن دوزخ کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لایا جائے گا سورج ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا۔ ادھر سورج کی گرمی اور ادھر دوزخ کی آگ کی گرمی۔ اس لئے پسینہ کی وہ حالت ہوگی کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہیں گے۔ نیکی بدی کے تولے جانے کا ‘ پل صراط پر گزرنے کا جدا خوف لگا ہوگا غرض ایسی ایسی خوفناک آفتیں اس دن آدمی کو پیش آنے والی ہیں جس کی برداشت اس قدر مشکل ہے کہ جس کو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والساعۃ ادھیٰ وامر جس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کی گھڑی بڑی آفت اور سختی کی گھڑی ہے پھر جب انسان اس دن دیکھے گا کہ بغیر نیک عمل کے ان آفتوں سے نجات نہیں مل سکی تو اس وقت ہر شخص اپنے نیک و بد عملوں کو سوچے گا مگر اس وقت کا سوچنا کچھ فائدہ نہ دے گا اس وقت یہی انجام ہوگا کہ جس شخص نے فقط دنیا کے عیش و عشرت میں اپنی ساری عمر گنوائی اور اس عیش و عشرت میں عقبیٰ کو بالکل بھولا رہا وہ دوزخی قرار پائے گا اور جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا کھٹکا لگا رہا اور اس کھٹکے کے سبب سے وہ اپنے جی کے برے کاموں سے ہمیشہ روکتا اور نیک کاموں میں جی لگاتا رہا وہ جنتی ٹھہرے گا۔ ترمذی 1 ؎ مستدرک حاکم بیہقی طبرانی وغیرہ میں معتبر اسناد سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک وہ آدمی ہے جس نے دنیا میں بڑی عمر پائی اور نیک کاموں میں لگا رہا اور بد وہ ہے جس نے دنیا میں بڑی عمر پائی اور اس کو برے کاموں میں گنوایا۔ شداد 2 ؎ بن اوس اور عبد اللہ بن عمر ؓ کی یہ روایتیں اوپر گزر چکی ہیں کہ وہ شخص بڑا کم عمل ہے جو عمر بھر برے کاموں میں لگا رہا اور پھر مرنے کے بعد راحت کی توقع رکھی۔ اس دن آدمی کو نیک عمل کی بڑی قدر ہوگی۔ چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں معتبر سند سے محمد بن ابی عمیرہ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص عمر بھر نیک کاموں میں جہاں تک ہوسکا لگا رہا اس کو بھی اس دن یہ پچھتاوا ہوگا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کئے کہ زیادہ ثواب کا مستحق ٹھہرتا۔ 1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی طول العمر للمومن ص 68 ج 2۔ 2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 10۔ 3 ؎ جامع ترمذی ابواب صفۃ القیمۃ ص 82 ج 2۔
Ayahs 79:42–46

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

سو تم اسکے ذکر سے کس فکر میں ہو ؟

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو معلوم ہے

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کرینگے) کہ گویا (دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے

42۔ 46۔ نسائی ‘ مستدرک 4 ؎ حاکم مسند بزار مسند عبد بن حمید وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب تک یہ آیتیں نازل نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک ٹھٹھے کے طور پر اکثر مشرکین آنحضرت ﷺ سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے جب یہ آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے جتلایا کہ قیامت کے آنے کا وقت سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں تو مشرکنا مکہ اور ٹھٹھے کی باتیں کرتے تھے مگر عاجز آ کر قیامت کا حال پوچھنا انہوں نے کم کردیا تھا۔ ان روایتوں میں بعض صحیح ہیں اور باقی کی تقویت صحیح روایتوں سے ہوجاتی ہے۔ صحیح 5 ؎ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل کی صورت بن کر آنحضرت ﷺ سے دین کے چند مسئلے پوچھے اور آنحضرت ﷺ نے ان کے جواب دیئے۔ جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس بات سے میں اور تم دونوں انجان ہیں غرض بہت سی صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے قیامت کے آنے کا وقت کسی انسان یا فرشتے کو معلوم نہیں ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں میں ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہوگا اس لئے اس کے اور اس کی آفتوں کے مقابلہ میں حشر اور قیامت کے منکروں کو دنیا کا رہنا بالکل تھوڑا نظر آئے گا۔ (4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 314 ج 6۔ ) (5 ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان ص 27 ج 1) 1 ؎ صحیح مسلم باب اثم مانع الزکوٰۃ ص 318 ج 1