80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 80:1–16

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(محمد مصطفے ﷺ ترش رو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

کہ انکے پاس ایک نابینا آیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا سوچتا تو سمجھنا اسے فائدہ دیتا

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو پروا نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ الزام نہیں

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور (خدا سے) ڈرتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس سے تم بےرخی کرتے ہو

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

دیکھو یہ (قرآن) نصحیت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پس جو چاہے اسے یاد رکھے

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

(ایسے) لکھنے والے کے ہاتھوں میں

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو سردار اور نیکوکار ہیں

1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا کرتے تھے اور اپنی چادر ان کے لئے بچھا دیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ وہ شخص ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر خفا ہوا ہے بعضی روایتوں میں بجائے ابی بن خلف کے ابوجہل اور عتبہ بن ربیعہ وغیرہ کا نام جو اس قصہ میں ذکر کیا گیا ہے ان روایتوں کی سند صحیح نہیں ہے حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم مہاجرین اولین میں سے ہیں۔ مشہور نام تو ان کا عبد اللہ ہے لیکن بعضی روایتوں میں ان کا نام عمر بن ام مکتوم آیا ہے غرض مکتوم ان کی ماں کا نام ہے۔ جہاد میں جاتے وقت تیرہ مرتبہ کے قریب آنحضرت ﷺ نے ان عبد اللہ بن ام مکتوم کو خلیفہ بنا کر مدینہ چھوڑا ہے۔ لفظ عبس و تولے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو غائب ٹھہر کر جو باتیں کی ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے اس باب میں ترک اولیٰ کے طور پر جو ایک بات ہوگئی تھی اس کو نہایت مہربانی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح جتلایا کہ گویا یہ بات چیت کسی دوسرے سے ہے۔ عبد اللہ بن ام مکتوم کے سنور جانے کا یہ مطلب ہے کہ آئندہ اسلام میں وہ اور پکے ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ پہلے سے مسلمان ہوچکے تھے اور نصیحت سن کر نفع اٹھانے کا یہ مطلب ہے کہ آگے کو انہیں نیک عمل کا شوق زیادہ ہوتا۔ پھر فرمایا جو کوئی اپنی آسودہ حالی کے گھمنڈ میں اللہ کا کلام سننے سے بےپروائی کرتا ہے اس کی طرف متوجہ ہونا اور جو اللہ کے خوف سے اللہ کے کلام کے سننے کے شوق میں اپنے گھر سے دوڑتا ہوا آیا۔ اس سے کم توجہی کرنا یہ اللہ کو پسند نہیں۔ اب جو ہوا سو ہوا۔ آئندہ ایسا نہیں کرنا چاہئے اللہ کا کلام غریب ‘ آسودہ حال ‘ سب کو یکساں حالت سے سنا دینا چاہئے۔ پھر اس کو سن کر جو راہ راست پر نہ آئے گا تو اپنا کچھ کھوئے گا اے نبی اللہ کے ایسے شخص کا کچھ بار تم پر نہیں کیونکہ جب تم نے اللہ کا حکم سب کو پہنچا دیا تو تمہارا فرض ادا ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی عظمت جتلائی کہ یہ کلام ساتویں آسمان پر کی باعزت بلند ستھری جگہ لوح محفوظ سے معزز فرمانبردار فرشتوں نے نقل کیا ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کلام کی بڑی قدر ہے وہ لوگ بڑے ناقدرے ہیں جو اس کی قدر نہیں کرتے۔ چنانہ اس مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة انعام میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ وما قدرو اللہ حق قدرہ اذاقالوا ما انزل اللہ علیٰ بشر من شے حاصل یہ ہے کہ اہل مکہ پر قرآن کا کلام خدا ہونا تو اس سبب سے ثابت ہوچکا تھا کہ باوجود دعویٰ فصاحت کے وہ لوگ ایسی ایک چھوٹی سی سورت بھی بنا کر نہ لاسکے۔ اب جن پر قرآن نازل ہوتا تھا ان کو اللہ کا رسول اس لئے ماننا ضروری ہے کہ بغیر وحی آسمانی کے کوئی ایسا کلام بنا نہیں سکتا۔ اس کے بعد اہل مکہ کا قرآن اور اللہ کے رسول کو جھٹلانا بڑی ناقدری تھی کہ ایسے بڑے باعظمت کلام کو وہ لوگ جھٹلاتے تھے جس کی عظمت نے ان کے دعویٰ فصاحت کو خاک میں ملا دیا۔ سفر جمع ہے۔ سافر کی ‘ جس کے معنی کاتب کے ہیں۔ مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا کہ کاتب فرشتوں نے اس قرآن شریف کو لوح محفوظ سے نقل کیا ہے۔ معتبر سند سے دلائل النبوۃ ‘ بیہقی ‘ تفسیر ابن جریر 1 ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں کاتب ملائکہ نے ایک دفعہ سارے قرآن کو لوح محفوظ سے نقل کیا۔ اور وہ ان کاتب ملائکہ کے صحیفوں میں حفاظت سے آسمان دنیا پر رکھا رہا اور حسب ضرورت وقت بوقت حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ سے نبی آخر الزمان ﷺ پر نازل ہوا۔
Ayahs 80:17–31

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

اسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا ؟

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے کھڑا کرے گا

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہیں کیا

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

تو انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے پانی برسایا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کجھوریں

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغ

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارا

17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا وقت اس پر ایک مشکل کا وقت تھا اس کو آسان کیا اور پھر طرح طرح کی چیزیں اس کی زیست بھر کی ضرورت کی پیدا کیں اور جب اس کی زیست پوری ہوگئی تو عقبیٰ کے انتظام کی مصلحت سے اس کی روح قبض کی اور اس کی لاش کو رواں دواں نہیں ہونے دیا کہ کتے کوے اسکو کھا جائیں بلکہ مردوں کو زمین میں دفن کرنے کی حکمت دنیا میں ایجاد کردی تاکہ مردہ کی لاش کا پردہ دھکا رہے۔ ان سارے انتظاموں کو آنکھوں سے دیکھ کر اور اس کی قدرت کے لاکھوں کرشموں کا تجربہ کرکے بھی ناسمجھ انسان اس صاحب قدرت کی قدرت کا انکار کرتا ہے کہ وہ صاحب قدرت اس انسان کو پھر دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ یہ ناسمجھ اتنا سمجھتا کہ اللہ تو وہ حکیم ہے جس کا ثانی نہیں دنیا کے معمولی عقل و سمجھ کے آدمی بھی دنیا کا جو کام کرتے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی انجام اپنے دل میں سوچ لیتے ہیں مثلاً مکان بنانے کا انجام اس میں رہنے کا ‘ کھیتی کرنے اور باغ لگانے کا انجام اناج کے ہاتھ آنے اور میوہ کے کھانے کا ہوتا ہے پھر اللہ کی حکمت اور تدبیر کو ان لوگوں نے کیا معمولی عقل اور سمجھ کے لوگوں کی عقل و سمجھ سے بھی کم سمجھا ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی انجام کے پیدا کیا ہے۔ دنیا میں لوگ رہیں گے کوئی اللہ کی نعمتوں کو بھول کر بتوں کو پوجے گا اور کوئی اللہ کی نعمتوں کے شکریہ میں اس کا فرمانبردار بن کر اپنی زیست بسر کرے گا پھر آخر مرنے کے بعد سب یکساں حالت میں ہوجائیں گے نہ نیکوں کا کچھ اجر نہ بدوں کی کچھ پرسش ‘ اللہ کی شان میں ایسی بدگمانی بڑی بےادبی کی بات ہے اس بےادبی سے خفا ہو کر اس بےادبی کے کرنے والوں کو یہاں قتل الانسان کے لفظوں سے خفگی فرمائی ہے اور سورة مومنون میں فرمایا افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون فتعالی اللہ الملک الحق۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ دنیا کو محض کھیل تماشے کے طور پر پیدا کرتا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد نیک و بد کا کچھ انجام نہ ٹھہراتا۔ اسی واسطے اس آیت میں سب انتظام انسان کو جتلا کر فرمایا کلا لما یقض ما امرہ جس کا مطلب یہ ہے کہ باوجود ان احسانات کے ان کے شکریہ میں انسان کو طاعت الٰہی بجا لانے کا جو حکم تھا بجائے اس کے اس نے طرح طرح کی نافرمانی کی اور اللہ کی قدرت کو جھٹلایا۔ صحیح 1 ؎ بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بنی آدم نے مجھ کو جھٹلایا اور یہ جھٹلانا اس کو مناسب نہ تھا اور وہ جھٹلانا اس کا یہ ہے کہ میں نے اپنے کلام پاک میں خبر دی کہ مرنے کے بعد بنی آدم کو پھر پیدا کرکے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہوگا اور بنی آدم نے اس کو جھٹلایا صحیح مسلم 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب سب لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہوں گے تو جو لوگ عقبیٰ سے غافل تھے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا کی طرح طرح کی نعمتیں یاد دلائے گا جب وہ ان نعمتوں کا اقرار کریں گے تو پھر ان سے فرمائے گا کہ ان نعمتوں سے خوش ہو کر کبھی تم نے مجھ کو بھی یاد کیا تھا وہ کہیں گے نہیں۔ فرمائے گا اچھا آج میں نے بھی تم کو ویسا ہی بھلا دیا جیسا تم نے مجھ کو بھلا دیا تھا اب ذرا غور کرنے کی جگہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی نظر رحمت سے ان دن بھلا دے اس کا انجام سوائے دوزخ میں جانے کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ چناچہ سورة جاثیہ میں فرمایا الیوم ننسا کما نسیتم لقاء یومکم ھذا وماواکم النار و مالکم من ناصرین ذلکم بانکھ اتخذتم ایات اللہ ھزوا وغرتکم الحیاۃ الدنیا فالیوم لایخرجون منھا ولا یستعتبون۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جس طرح تم نے آیات قرآنی کو مسخرا پن میں اڑا دیا اور دنیا کے عیش و آرام میں پھنس کر آج کے دن کی سزا و جزا کو تم بالکل بھول گئے ویاس ہی معاملہ خدا کی طرف سے تمہارے ساتھ آج کیا جائے گا کہ بےیارو مددگار تم کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اور پھر تمہاری خبر نہ لی جائے گی کہ تمہارے اوپر کیا گزری۔ صبا زمین کی وہ پیداوار جو سال میں کئی بار کاٹی جائے جیسے ترکاری یا بعض قسم کی گھانس غلباً کے معنی موٹے اور گھنے درخت اب کے معنی خودر و چارہ۔