Ayahs 80:32–4232۔ 41۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی قرار دی گئی دوسرے صور کے پھونکے جانے اور تمام دنیا کے قبروں سے اٹھنے کا جو بہت بڑا غل شور ہوگا اس کو صاخہ فرمایا۔ صاخہ اس سخت آواز کو کہتے ہیں جس سے کان گنگ ہوجائیں۔ حشر کے دن ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار سے کچھ تو بدحواسی کے سبب سیب بھاگے گا کیونکہ عام لوگوں کی بدحواسی کا تو کیا ذکر ہے صحیح حدیثوں 1 ؎ کے مضمون کے موافق سوائے نبی آخر الزمان ﷺ کے اور سب انبیاء کے زبان پر نفسی نفسی کا کلمہ ہوگا۔ عام خلائق کی بدحواسی کا اندازہ اس حدیث سے ہوسکتا ہے جو عبد اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی نسائی وغیرہ میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حشر کے ذکر میں جب آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اس دن مرد عورت سب ننگے اٹھیں گے اس پر ایک بی بی نے عرض کیا کہ اس حالت میں تو ایک دوسرے کو ننگا دیکھیں گے۔ آپ نے فرمایا دوزخ کے میدان محشر میں لائے جانے سورج کے قریب ہوجانے کے سبب سے گرمی اور پسینہ کی تکلیف سب کو ایسا بدحواس کر دے گی کہ کوئی کسی کو ایسے وقت میں نہیں دیکھے گا۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ علاوہ اس کے اس دن ایک رشتہ دار کا دوسرے رشتہ دار سے کترانے اور بھاگنے کا سبب یہ بھی ہوگا کہ اس دن آپس کے ظلم اور زیادتی کا انصاف کا ڈھنڈورا پٹ جائے گا۔ چناچہ مسند امام 3 ؎ احمد میں معتبر سند سے عبد اللہ بن انیس کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آپس کے ظلم و زیادتی کے انصاف کے لئے قا۔ مت کے دن عام منادی کرا دی جائے گی کہ جس کا کوئی حق کسی پر ہو وہ اپنی فریاد پیش کرے اس کا انصاف کیا جائے گا جس پر ایک دوسرے سے ظلم و زیادتی کا بدلا چاہیں گے اور اس طرح کا سخت بدلا چاہیں گے جو بیان سے باہر ہے چناچہ مستدرک 4 ؎ حاکم وغیرہ میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک بھائی اپنے بھائی پر ظلم و زیادتی کی فریاد پیش کرے گا اور اس ظلم و زیادتی کے معاوضہ میں اس کی سب نیکیاں لے کر اپنے گناہ اس پر ڈالنے کی خواہش کرے گا۔ یہ ذکر فرما کر آنحضرت ﷺ بہت روئے اور فرمایا اللہ کی پناہ وہ دن بھی کیا آپا دھاپی کا دن ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا 5 ؎ ہے یہ تو اوپر گزر چکا ہے کہ اس دن سب ننگے اٹھیں گے روپے پیسے کا پاس ہونا تو درکنار کسی کے تن پر کپڑا تک نہ ہوگا اس لئے صحیح 5 حدیثوں کے مضمون کے موافق اس دن ظلم و زیادتی کرنے والوں کے نیک عمل ظلم و زیادتی کے معاوضہ میں مظلوموں کو دیئے جائیں گے۔ اس دن بعض لوگوں کے چہروں پر رونق کا آجانا اور بعضوں کے سیاہی کا چھا جانا یہ اس وقت ہوگا جب دائیں اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دے کر جنتی اور دوزخی کو چھانٹ دیا جائے گا۔ چناچہ ترمذی صحیح 6 ؎ ابن حبان وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جن لوگوں کے اعمال نامے سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ‘ جنت میں جانے کی خوشی سے ان کے چہروں پر رونق آجائے گی اور جن کے اعمال نامے الٹے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ‘ دوزخ میں جانے کے غم سے ان کے چہروں پر سیاہی چھا جائے گی۔ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے لیکن مسند بزار میں عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت کے موافق ہے جس کو بزار نے صحیح کہا ہے اس لئے ایک روایت کی تقویت دوسری روایت سے ہوجاتی ہے۔
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 314 ج 6)
(3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة عبس ص 191 ج 2)
(1 ؎ تفسیر بان کثیر ص 529 ج 4 و تفسیر الدر المنثور ص 370 ج 6۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة اخلاص ص 743 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ص 409 ج 2)
(1 ؎ صحیح بخاری کتاب الردعلی الجھمیۃ الخ ص 1106 ج 2)
(3 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی ذکر الحساب ص 772 ج 4)
(4 ؎ الرغیب الترہیب فی ذکر الحساب ص 776 ج 4)
(5 ؎ ایضاً )
(6 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة بنی اسرائیل ص 164 ج 2۔ )