79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 79:1–5

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے گھسیٹ لانے والوں کی گھس کر

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور (آسانی سے) گرہ کھول دینے والوں کی

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر ان کی جو دوڑ کر آگے بڑھتے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر ان کی جو انتظام کرتے پھرتے ہیں۔

ترکیب ¦ وللقسم جارۃ النازعات مجرور مقسم بہا و الناشطات والسابحات عطف علیہ بالوا و فالسابقات فالمد برات عطف بالفاء لکونھا مسببتہ عن التی قبلھا کانہ قیل واللاتی سبجن فسبقن کما تقول قام فذھب فضرب وانتصاب۔ غرقا علی انہ مصدر محذوف الزوائد ای اغراقا او علی الحال ای ذوات اغراق یقال اغرق فی الشیء یغرق فیہ اذا اوغل فیہ وبلغ غایۃً وکذانشطا و سبحاوسبقا مصدر والنصب علی انھا مفعول مطلق وامرا مفعول بہ وقیل حال ای یدبرون ماموراتٍ و جواب القسم محذوف ھو عند الفراء لتبعثن وقال الاخفش والزجاج لنفخن فی الصور نفختین وقال الکسائی الجواب المحذوف ھوان القیامۃ واقعۃ والدلیل علی جمیع الاقوال مابعدھامن الآیات۔ وقیل الجواب مذکور ثم فیہ اقوال الاول انہ قولہ قلوب یومئذ واجفۃ والثانی ھو ھل اتاک حدیث موسیٰ الثالث ھو قولہ تعالیٰ ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشٰی تفسیر … مناسبت ¦ ابن عباس و ابن الزبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں چھیالیس آیات دو رکوع ہیں۔ مناسبت اس سورت کو سورة عم تیساء لون سے یہ ہے کہ اس سورة میں کفار کا سوال مع جواب مذکور تھا جو وہ قیامت کے بارے میں انکار کے طور سے کیا کرتے تھے۔ اس سورة میں قیامت کے مبادی قسم کے طور سے ذکر فرما کر بعد میں قیامت اور اس جہان باقی کی مجملاً کیفیت بیان فرمائی تاکہ ان نادانوں کو معلوم ہو کہ قیامت دور نہیں۔ کس لیے کہ اس کے مبادی یعنی موت اور اس کے سامان بہت قریب ہیں اور یہ موت قیامت کا دروازہ ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ من مات قامت قیامتہ جو مرگیا اس کی قیامت برپا ہوگئی اور نیز ان پانچ چیزوں کی قسم کھا کر موت کی کیفیت بھی بیان فرما دی کہ بدوں کی روح کھینچ کر اور گھسیٹ کر ان کے جسم سے نکالی جاتی ہے اور غافل و مست شہوات دنیا کو یوں فرشتے گھسیٹ کرلے جاتے ہیں اور نیکوں کی روح کی جسم سے گرہ کھول دی جاتی ہے۔ گویا وہ اس عالم کے مشتاق تھے خصوصاً جبکہ نزع میں وہاں کی کیفیت سے وہ خبردار ہوچکے تھے تو اس تن کے پنجرے میں اس طرح تڑپتے اور پھڑپھڑاتے تھے کہ جس طرح مرغ چمن جو پنجرے میں بند ہو چمن دیکھ کر اور مرغان چمن کی آوازیں سن کر تڑپا اور پھڑپھڑایا کرتا اور مشتاق ہوتا ہے کہ جلد قفس کا دروازہ کھول دیا جاوے تو اڑ جائوں ؎ آوازِ من برسانید بمرغان چمن کہ ہم آواز شمادر قف سے افتادست یہی حال مومن کا ہوتا ہے۔ پھر فرشتے اس کی گرہ اور قفس کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ پھر وہ ارواح طیبات اڑتی ہوئی اور ایک دوسرے سے تیز روی کرتی ہوئی عالم قدس میں جا پہنچتی ہیں ؎ خرم آں روز کزیں منزل ویراں بروم راحت جاں طلبم و سوئے جاناں بروم درہوائے رخِ تو ذرہ صفت رقص کناں تالب چشمہ خورشید درخشاں بروم پھر اس عالم میں ملائکہ ان کے لیے ان کے درجات کے موافق ان کے عیش جاودانی کا سامان و انتظام کرتے ہیں۔ سبحان اللہ پانچ چیزوں کی قسم کھا کر قیامت کا برپا ہونا بیان فرمایا مگر ان پانچ چیزوں کے ذکر سے نفوس بشریہ کو اس عالم کا مشتاق بنا دیا اور ان میں سے بدکاروں اس خسیس جہاں پر شیدا ہو کر یہیں پسر جانے والوں کو پر حذر بھی کردیا اور بتا دیا کہ خود نہ جاؤ گے تو گھسیٹ کر فرشتے بری حالت سے لے جائیں گے۔ یہاں رہنا نہیں ہوگا۔ یا یوں کہو کہ اس سورة میں ان کے سوال قیامت کے در جواب یوں فرمایا تھا۔ فتاتون افواجا کہ تم گروہ گروہ اور جماعت جماعت ہو کر عدالت میں حاضر ہو گے۔ اب یہاں اس سورة کے مطلع یعنی شروع میں پانچ چیزوں کی قسم کھا کر ان پانچ صفات کی طرف اشارہ کردیا جن کے سبب ہر نیک و بد کو اپنے مراتب سعادت و شقاوت میں دوسرے سے امتیاز ہے اور ہر ایک صفت کا ایک گروہ ہوگا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نفوس انسانیہ جب سعادت 1 ؎ کی طرف عروج کرنا چاہتے ہیں تو ان کو یہ پانچ مرتبے طے کرنے پڑتے ہیں۔ ان کے بعد اس مقصود کو پہنچتے ہیں۔ اول مرتبہ : اول مرتبہ یہ کہ جو چیزیں اس کے اس مقصود کے خلاف اور اس کے لیے حائل و مانع ہیں اور ان کی طرف اس کی طبیعت مائل ہے تو اس کو ضرور ہے کہ طبیعت کو کھینچ کر اور نفس کو گھسیٹ کر ادھر سے لاوے اور اپنے مطلب کی تحصیل میں کوشش کرے۔ اس مرتبے کو والنازعات غرقا سے تعبیر کیا۔ شہوات و لذات کے روکنے میں یہ حالت زیادہ واقع ہوتی ہے۔ شرع میں اس کو مجاہدہ کہتے ہیں۔ ہر کام میں جس کے کرنے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ اول مجاہدہ اور سچی کوشش اور بڑی عرق ریزی درکار ہے۔ سست اور ہوء اوہوس کے بندے نہ کبھی دنیاوی مقاصد میں کامیاب ہوئے ہیں نہ دینی میں۔ بادشاہوں کو ملک گیری میں پہاڑ اور دشوار گزار جنگل طے کرنے پڑے ہیں۔ گرمی سردیوں کی تکالیف اٹھائی ہیں۔ علم حاصل کرنے میں علماء نے بڑی عرق ریزیاں کی ہیں۔ اولیاء اللہ نے بڑی شدید ریاضتیں کی ہیں۔ سالہا راتوں جاگے ہیں ‘ نفس سے لڑائیاں کی ہیں چلّے کھینچے ہیں۔ دوسرا مرتبہ : دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ ان ریاضات اور مشقتیں اٹھانے کے بعد ایک ملکہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کام میں ایک نشاط و سرور معلوم ہونے لگتا ہے اور اشتیاق پیدا ہوجاتا ہے اور اب ان موانع و شہوات کے مقابلے نہیں کرنے پڑتے ٗ میدان صاف ہوجاتا ہے۔ اس کو نشاط کہتے ہیں اور اس مرتبہ کو والنشطت نشطا سے تعبیر فرمایا۔ اہل اللہ کے نزدیک اس حالت کا نام جو ریاضات و مجاہدات کے بعدپیدا ہوتی ہے شوق و ذوق ہے۔ یہی شوق بڑی بڑی مشکلوں کو آسان کردیتا ہے۔ تیسرا مرتبہ : تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ اس شغل میں پوری مہارت پیدا ہوجاتی ہے اور بےتکلف وہ کام اس سے سرزد ہونے لگتا ہے۔ اس مرتبہ کو والسبحت سبحاً سے تعبیر فرمایا کہ اچھی طرح تیرنا۔ کس لیے کہ تیرنے والا کسی آڑ بغیر بےکھٹکے سیر کرتا ہے۔ اس مناسبت سے اس مرتبہ کو سباحت کہتے ہیں۔ اہل سلوک کے نزدیک اس کا نام سیر احوال و مقامات ہے۔ اب یہاں سے شاہد مقصود تک رسائی شروع ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کسی نے نبی کریم ﷺ کے اخلاق پوچھے ٗ آپ نے فرمایا کہ آپ کا خلق قرآن ہے یعنی قرآن پر عمل کرنا آپ کے لیے بےکلفت و مشقت ہے۔ چوتھا مرتبہ : چوتھا مرتبہ یہ کہ اپنے ہمسروں سے اس شغل میں بڑھ جاوے۔ یہ سب سے آگے دوڑے۔ اس حالت کو فالسبقت سبقا سے تعبیر فرمایا اور یہ اعلیٰ کمال ہے۔ صوفیہ کرام کے نزدیک اس کا نام طیران و عروج ہے۔ پانچواں مرتبہ : اس کے بعد پانچواں مرتبہ یہ ہے کہ جمیع مراتب کمال کو طے کرکے دوسروں کی تکمیل کرنے لگے اور لوگوں کا اس کام میں مقتداء و مرشد ہوجاوے اور اس مقصود کے طالب اس سے رجوع کریں۔ اس مرتبہ کو فقراء کے نزدیک رجوع و نزول ودعوۃ الخلق الی الحق کہتے ہیں۔ اس مرتبہ کو اس عبارت سے تعبیر فرمایا۔ فالمدبرات امرا۔ 1 ؎ بلکہ شقاوت اور دنیاوی کاروبار ‘ حرفت و صنعت میں اور علوم اکتسابیہ میں بھی یہ یہی مراتب طے کرنے پڑتے ہیں۔ 12 منہ چونکہ ہر ایک مرتبہ عمدہ ہے اس لیے ان کی قسم کھاتا ہے اور بھی مضامین میں اس سورة کو سورة عم تیساء لون سے مناسبتیں 1 ؎ ہیں۔ اب ہم آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں والنازعات غرقا فرع کشیدن چیزے از جائے خود و برکندن و مانند شدن بہ پدر و کشیدن کمان یقال نزع فی القوس ای مدہا وفلان فی النزع ای وفی قلع الحیواۃ نزاع آرزو مند شدن یقال نزع الی اہلہ نزوع پرداختن از کار (ععفاک 2) بیر نزوع بالفتح ونزیع چاہ کہ قعر او نزدیک باشد (ازصراح) غرقِ آب از سرگذشتن وسخت کشیدن کمان راو مبالغت کردن درمدح و ذم و جزآن۔ استغراق فراگرفتن ہمہ را۔ اغتراق در آمیختن۔ اسپ بااسپان دیگر۔ صراح نازعات نازعۃ کی جمع ہے جو اسم فاعل ہے اور غرقا مصدر ہے۔ ان دونوں لفظوں کے کئی معنی ہیں۔ اس لیے یوں ہی معنی ہوئے کہ قسم ہے ان کی جو کھینچتے ہیں ڈوب کر یا یوں کہو قسم ہے ان کی جو کمان کھینچتے ہیں زور سے یا یوں کہو قسم ہے ان کی جو سخت آرزو مند ہیں یا یوں کہو قسم ہے ان کی جو اپنے کام سے بالکل فارغ ہونے والے ہیں۔ ہر ایک معنی پر کلام طویل ہے۔ پہلے معنی کہ جو کھینچتے ہیں ڈوب کر۔ اس میں متعدد اقوال ہیں۔ جمہور کہتے ہیں کہ نازعات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو جان نکالتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرشتوں کی قسم کھاتا ہے جو اس کی بہتر مخلوق ہے اور ان میں سے بالخصوص ان فرشتوں کی جو روح کھینچتے ہیں گھس کر۔ اس سے کفار کی جانکنی مراد ہے کہ ان کی روح عالم آخرت کے مصائب سے ڈر کر ان کے بدن میں ادھر ادھر تمام اطراف و جوانب میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس لیے وہ ملائکہ بھی ان کے اجسام میں گھس کر روح نکالتے ہیں۔ اسی طرح نشطت۔ سبحت۔ سبقت۔ مدبرات سے بھی مراد ملائکہ ہیں جن کو باعتبار ان کے صفات و حالات کے مختلف صفات سے تعبیر فرمایا اور اسی تغایر وصفی کو تغایر ذاتی کی طرح عطف کا باعث سمجھنا چاہیے۔ اس تقدیر پر یہ شبہ وارد ہوتا ہے کہ نازعات وغیرہ مؤنث کے صیغے ہیں اور فرشتہ مونث نہیں بلکہ خدا پاک نے کفار کو فرشتوں کے مؤنث کہنے میں الزام دیا۔ حیث قال وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عباد الرحمن اناثا الآیہ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کی زبان میں جمع اور جماعات کو بصیغہ مؤنث تعبیر کرتے ہیں اور ملائکہ سے اشخاص مراد نہیں بلکہ جماعات۔ بعض کہتے ہیں کہ نازعات غرقا سے مراد ستارے ہیں اور یہ حسن بصری کا قول ہے اور ان کو نازعات باعتبار طلوع کے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو کھینچ کر اوپر لاتے ہیں اور غرقا سے اشارہ ان کے غروب کی طرف ہے۔ اس میں اپنے عجائبِ قدرت اور عالم کے عروج و نزول اور فنا وبقاء پر اپنا قادر ہونا ثابت کرکے یہ دکھایا جاتا ہے کہ اے بنی آدم ! ہم قیامت برپا کرنے پر بھی قادر ہیں اور یہ کہ جب یہ روشن اجسام غروب کرتے ہیں تو پھر تمہارا غروب یعنی فنا و موت کیا بات ہے اور پھر جس طرح غروب کے بعد یہ طلوع کرتے ہیں قیامت کے روز تم بھی باردگر طلوع کرو گے اور اسی طرح نشطت و غیر ہا سے بھی مراد ستارے ہیں باعتبار ان کے اوصاف کے اور ایک جگہ ستاروں کی نسبت یوں بھی آیا ہے وکل فی فلک یسجون اس تقدیر پر مدبرات امر سے ستارے مراد لینے میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ تدبیر امور حق سبحانہ کے ہاتھ میں ہے نہ ستاروں کے۔ اس لیے اکثر مفسرین نے یہ کہا کہ اخیر جملہ سے مراد ملائکہ کرام ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ارضی و سماوی معاملات کے سرانجام دینے پر مامور ہیں مگر ستاروں کے مدبرات ہونے کی یہ توجیہ بھی ہوسکتی ہے کہ حرارت و برودت ‘ شعاع و ضیاء کی وجہ سے ان کی تاثیرات زمین پر پڑتی ہیں۔ پھل پکتے ہیں ٗ پھول آتے ہیں وفیہ مافیہ۔ بعض کہتے ہیں ان پانچوں کلمات سے مراد ارواح ہیں۔ پس نازعات سے مراد وہ ارواح ہیں جو اس عالم سفلی اور ظلمانی پر مبتلا ہیں۔ اس لیے ان کا جسم سے فراق نزع شدید ہے یعنی کھینچ کر اور گھسیٹ کر سختی سے دور کئے جاتے ہیں اور جو ارواح علائقِ جسمانیہ سے الگ ہیں اور ان کو عالم علوی کا ازحد اشتیاق ہے وہ بہت جلد ادھر کو جسم چھوڑ کر روانہ ہوتی ہیں۔ ان کی اس سیر کو نشط اور سباحت سے تعبیر کیا۔ پھر ان میں بھی درجات متفاوت ہیں۔ ؎ ازانجملہ مضامین میں یہی مناسبت ہے جس طرح اس سورة میں مبداء و معاد کی تصویر کھینچی گئی ہے اس میں بھی ازانجملہ اس سورة کے اختتام میں قیامت برپا ہونے اور نیک و بدوں کے درجات اور کافروں کی حسرت بیان فرمائی تھی۔ اس سورة کے ابتداء میں اس آنے والے وقت کا چند چیزوں کی قسمیں کھانے میں ذکر کردیا کہ ملائکہ یوں جان قبض کرتے ہیں اور اس طرح سے لے جاتے ہیں اور یہی قیامت اور اس عالم غیب کی ابتداء ہے جو بہت ہی قریب ہے۔ وہاں عذاب قریب سے ڈرایا گیا تھا یہاں وہ عذاب قریب آنکھوں کے سامنے لا کر دکھایا گیا۔ 12 منہ بعض اور بھی سریع السیر ہیں۔ جیسا کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) و اولیائِ کرام کی ارواح طیبات اور ان میں سے بعض عالم علوی کے مدبر امور بھی ہیں۔ چناچہ حدیث صحیحہ سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ٗ میں تمہارے آگے جاتا ہوں کہ تمہارے لیے تیاریاں کروں اور اسی طرح سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس عالم میں ارواح مومنین کے مربی و مدبر امور ہیں بلکہ جو لوگ ایمان و اعمال صالحہ سے منور ہو کر اس جہاں میں جاتے ہیں وہ اپنے ان آنے والے عزیزوں محبوں کے لیے جنت میں تیاریاں کرتے ہیں۔ بعض علمائِ کرام فرماتے ہیں کہ حضرات اولیاء و انبیاء کی ارواح پاک گروہ ملائکہ میں مل جاتی ہیں۔ پھر ملائکہ کی طرح وہ بھی تدبیر عالم سفلی میں مصروف ہوتی ہیں۔ پہلی امتوں نے جو حضرات انبیاء و اولیائِ کرام و ملائکہ عظام کی پرستش اور ان سے نذر و نیاز کرکے اپنے مقاصد کا سرانجام چاہنا دستور کرلیا تھا ٗ غالباً وہ اسی خیال سے تھا جس کو اسلام نے رد کردیا اور بتا دیا کہ گو وہ مامور ہیں مگر کرتے وہی ہیں جو حکم الٰہی ہوتا ہے۔ نہ وہ کسی کی نذر و نیاز سے خوش ہوتے ہیں نہ پکارنے ‘ دہائی دینے پر ان کے کام بناتے ہیں۔ وہ حق سبحانہ کی مرضی کے تابع محض ہیں۔ ان کا ذاتی ارادہ و اختیار ان معاملات میں کچھ بھی نہیں۔ بعض 1 ؎ کہتے ہیں یہ پانچوں کلمات غازیوں کے گھوڑوں کی بابت ہیں۔ نازعات وہ گھوڑے جو گردن کھینچ کر اور بلند کرکے چلتے ہیں اور وہی نشطت ہیں یعنی دارالاسلام سے نکل کر دارالحرب کی طرف جانے والے ماخوذ ہے۔ قول عرب سے ثورناشط اذا خرج من بلدالی بلد اور یہی سبحت ہیں۔ دوڑنے کو سباحت سے تعبیر کیا کرتے ہیں اور اسی لیے تیز رو گھوڑوں کو سبوح کہتے ہیں اور یہی سبقت ہیں کہ ایک دوسرے سے آگے دوڑ کر دشمن کے سامنے جاتے ہیں اور انجام کار یہی تدابیر امر یعنی فتح و ظفر کرتے ہیں اور یہ اسناد مجازی ہے کہ ان ہی کے سبب سے دشمن پر فتح و غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ ابو مسلم اصفہانی کہتے ہیں کہ ان پانچوں کلمات سے مراد غازی ہیں۔ پس نازعات غازیوں کے ہاتھ ہیں اور نشطت ان کے تیر ہیں جو ان کی کمانوں سے شپا شپ چھوٹتے ہیں اور سبحت ان کے گھوڑے ہیں جو اس موقع پر دھاوا کرتے ہیں اور وہی سبقت ہیں کہ بڑھ کر دشمن تک پہنچتے ہیں اور ان ہی کو مجازاً باعتبار انجام فتح و ظفر کے مدبرات کہا گیا ہے۔ والنشطت نشطاً نشط نشاط بالفتح شادمانی نمودن و گرہ کشادن نشیطہ آنچہ غزاۃ در راہ یا بنداز غنیمت ناشط گاؤ دشتی نشط گزیدن مارو بردن اندوہ و آب برکشیدن از چاہ بےبکرہ و گرہ آسان بستن۔ نشوط چاہ کہ دلوا زدے بہ بسیار کشیدن بر آید و ایضا نوعے ازماہی از صراح ان لغوی معانی کے لحاظ سے ہر ایک توجیہ چسپاں ہوسکتی ہے۔ والسبحت سبحا۔ سبح۔ سباحہ۔ بالفتح والکسر شن اوری کردن۔ سبح تصرف کردن در معاش۔ قولہ تعالیٰ ان لک فی النہار سبحا طویلا۔ ورفتار اسپ فرش سابح سبحہ باضم مہر ہا کہ عدد تسبیح بوی گیرند۔ و نمازو ذکر تسبیح پاکی و بپا کی یاد کردن سبحانہ اللہ معناہ التتربہ للہ نصب علی المصدر یہاں بھی ہر معنی مناسب چسپاں کرلینے چاہییں فالسبقت فالمدبرات کے معنی ظاہر ہیں۔ اول سبقت یعنی پیش روی اور آگے بڑھنا اور دوسرے کے معنی تدبیر کرنا آگے بڑھنے والوں تدبیر کرنے والوں کی قسم کھاتا ہے مگر سب سے اول معنی صاف ہیں یعنی قسم ہے۔ اس جماعت کی جو اپنے نفس کو کسی کام میں کھینچتے ہیں یعنی کوشش و سرگرمی کرتے ہیں اور قسم ہے اس جماعت کی جو نیک کاموں میں نشاط و شوق پیدا کرتے ہیں 1 ؎ وجوہ مذکورہ بالا اور ان کی سوا اور وجوہ جو الفاظ قرآنیہ سے پیدا ہوسکتی ہوں سب منصوص نہیں معانی پر لحاظ کرکے ہر ایک عالم نے ایک مناسب معنی مراد لیے ہیں۔ 12 منہ اور قسم ہے اس جماعت کی جو نیک کاموں میں دوڑتے ہیں۔ پھر اس جماعت کی قسم جو اس دوڑ کے بعد آگے بڑھتے ہیں ٗ سبقت کرتے ہیں پھر اس جماعت کی قسم جو ان مراتب سے فارغ ہو کر لوگوں کی تکمیل و رہنمائی کرتے ہیں اور چونکہ یہ اخیر دونوں جماعت پہلی تینوں جماعت سے بالاتر ہیں۔ اس لیےلائی گئی جس کوتعقیب کہنا چاہیے۔
Ayahs 79:6–14

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس دن کہ زمین لرزے ‘

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

پے در پے زلزلے آئیں

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

کتنے ایک دل تو اس روز دھڑکتے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی۔

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

منکر کہیں گے کہ کیا ہم پہلی حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے (بارِدگر زندہ ہوں گے)

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

ارے اس وقت کہ جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجاویں گے ٗ

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں تب تو یہ پھر آنا بڑا ہی ٹوٹا ہے۔

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

پھر وہ واقعہ صرف ایک ہی ہیبتناک آواز تو ہے۔

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

پھر تو وہ اسی وقت میدان میں آموجود ہوں گے

ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ لقلوب ‘ ابصارھا مبتداثان خاشعۃ خبرہ والجملۃ خبر الاول۔ والضمیر فی ابصار ھاراجع الی اصحاب القلوب۔ وجف وجیف طپیدن ونوعے از رفتارِ شر (ععف اک 2) ایجاف راندن شتربراں رفتار ومنہ قولہ تعالیٰ فما او جفتم علیہ من خیل والارکاب ‘ ء انا الجملۃ الاستفہامیۃ مقولۃ یقولون الحافرۃ عند العرب اول الشیء وابتداء الامرو منہ قولھم رجع فلان علی حافرتہ عند العرب اول الشیء وابتداء الامر ومنہ قولھم رجع فلان علی حافرۃ ای علی الطریق الذی جاء عنہ والمراد الحالۃ الاولی واصل الحافرۃ الطریقۃ حفرھا ای اثر فیھا بمشیۃ فیھا جعل اثر قدمیہ حفراً فہی فی الحقیقۃ محفورۃ الاانھا سمیت حافرۃ کما فی عیشۃ راضیۃ وما وافق۔ احتفار زمین کندن حضرہ بالضم کندہ حافرسم مستور حافرہ اول ہر چیزے (صراح) ء اذا کنا الجملۃ تاکید للانکار والعامل فی اذا مضمر یدل علیہ مردودون قراء الجمہور نخرۃ وقراء خمرۃ والکسائی ناخرۃ قال الاخفش ھما نعتان ای معناھما واحد۔ وقیل ان الناخرۃ غیر النخرۃ لان الناخرۃ من النخیر بمعنی الصوت کنخیر النائم والمخنوق فھی العظام الفارغۃ التی یحصل من ھبوب الریح فیہ صوت والنخرۃ من نخر العظام ینخر فھو نخر کعفن یعفن عفن اذا بلی وصار لو لمستہ لتفتت تلک مبتداء کرۃ خاسرۃ خبرہ۔ الساہرۃ وجہ الارض قال الفراء سمیت بھا لان فیھا نوم الحیوان ومھرھم وقیل الساھرۃ ارض بیضاء۔ تفسیر ¦ ان مذکورہ بالا چیزوں کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ اے منکرین قیامت ! تم اس کا کیا انکار کر رہے ہو۔ تم ضرور مرنے کے بعد باردگر حساب کے لیے زندہ کئے جاؤ گے۔ یوم ترجف الراجفۃ اس روز کہ لرزنے والی چیزیں لرزیں یعنی زمین اور پہاڑ ہلیں اور وتبتعہا الرادفۃ پے در پے لرزہ اور زلزلہ آوے۔ یہ نفح صور اول کے وقت ہوگا کہ زمین ہل جاوے گی اور پے در پے زلزلے آکر یہ تمام دنیا نیست و نابود ہوجاوے گی۔ اس کے بعد باردگر ہر ایک انسان زندہ ہوگا۔ ابتدائِ نفخ صور اول سے لے کر نفخ ثانی تک ایک متصل زمانہ ہے۔ اس لیے اس میں زندہ ہونا صحیح ہوسکتا ہے ورنہ صرف نفخ اول صور میں تو کوئی زندہ نہ ہوگا بلکہ زندہ لوگ مرجاویں گے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یوم ترجف الراجفۃ سے مراد وہ بڑی ہیبتناک آواز ہے جو نفخہ اولی کے وقت ہوگی جس سے زمین و آسمان ‘ وحوش و طیور ‘ حیوان و انسان نیست و نابود ہوجاویں گے اور تبتعھا الرادفۃ سے مراد نفخہ ثانیہ ہے یعنی بارد گرصور پھونکنا جس سے تمام حیوان و انسان باردگر زندہ ہوں گے اور ان دونوں نفخ صور میں بمقدار چالیس برس کا زمانہ ہوگا اور ادفۃ اس لیے باردگر صور پھونکنے کو کہتے ہیں کہ وہ اول کے بعد ہے اور ایک شے سے بعد کی چیز کو رادفہ کہتے ہیں اور گھوڑے پر دو شخص بیٹھنے والوں میں سے اخیر کو ردیف کہتے ہیں۔ امام احمد و ترمذی و حاکم وغیرہ نے ابی بن کعب ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب چوتھائی رات گزر چکتی تھی تو فرمایا کرتے تھے ٗ اے لوگو ! اللہ کو یاد کرو۔ راجفہ آئی اس کے پیچھے رادفہ آتی ہے۔ موت اور اس کے سامان قریب آپہنچے۔ ابوہریرہ ؓ سے نقل ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ سبحانہ فرماتا ہے۔ یوم ترجف الراجفۃ تبتعہا الرادفۃ کہ زمین اور جو اس پر ہے ٗ ہلیں گے کہ جس طرح کشتی ڈگمگایا کرتی ہے (اخرجہ ابو الشیخ و ابن مردویہ والدیلمی) ابو مسلم ان دونوں جملوں سے قیامت کے احوال مراد نہیں لیتے بلکہ راجفۃ و رادفۃ سے مراد مشرکوں کے گھوڑے۔ پھر جب یہ حالت ہوگی تو اس روز قلوب یومئذ واجفۃ بہت دل دھڑکتے ہوں گے۔ کس لیے کہ عمر رائیگاں گئی۔ پھر عمل کرنے کا موقع نہیں رہا، برے اعمال اور خیال کا نتیجہ سامنے آیا۔ جہنم جوش مار رہی ہے۔ احکم الحاکمین کی طرف سے داروگیر ہو رہی ہے اور ایسی حیرت و دہشت طاری ہوگئی وابصارھا خاشعۃ کہ ان کی آنکھیں شرم کے مارے نیچی ہوں گی۔ ان مصائب کو دیکھ نہ سکیں گے۔ خوف کے وقت جبکہ سامنے مہلک سامان موجود ہوتے ہیں تو ملزم آنکھ بند کرلیتا ہے اور شرمندگی سے بھی آنکھیں نیچی ہوجاتی ہیں۔ قیامت کا حال بیان فرما کر کفار کے اقوال نقل کرتا ہے کہ وہاں تو یہ حالت ہوگی اور وہ وقت قریب آلگا ہے اور یہ لوگ اب اس دنیا میں غفلات و لذات کے نشہ اور جہالت کی تاریکی میں کس غرور سے یقولونء انا لمردودون فی الحافرۃ کہتے ہیں کہ کیا ہم باردگر پھر اس حالت حیات کی طرف لوٹائے جائیں گے یعنی کیا مر کر ہم باردگر زندہ کئے جاویں گے ! یہ کہنا ان کا تمسخر اور غرور کی وجہ سے تھا۔ ء انا کنا عظا مانخرۃ ارے کیا جب ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور چورا چورا ہوجاویں گی ٗ اس کے بعد پھر زندہ ہوں گے ؟ یہ ان کی ناقص سمجھ میں محال بات تھی اور اس کو خدائے قدیر کی قدرت سے باہر جانتے تھے۔ قالوا تلک اذاکرۃ خاسرۃ کہتے ہیں۔ تب تو یہ باردگر جینا بڑے نقصان کی بات ہے یعنی اگر مدتوں کے بعد زندہ بھی ہوئے تو یہ زندگی نقصان کی ہوگی۔ کس لیے کہ اتنی مدت میں کوئی عضو کہیں گیا ہوگا ٗ کوئی کہیں پھر جو کوئی زندہ ہوا تو کسی کی انگلی نہ ہوگی ٗ کسی کے پائوں نہ ہوں گے ٗ کوئی اندھا ہوگا۔ کسی کے بال نہ ملیں گے وغیرہ وغیرہ اور نیز اقارب بھی اس حالت میں نہ ہوں گے اور دنیا میں جو کچھ کمایا تھا ٗ وہ بھی نہ ہوگا اور نیز اس لیے بھی کہ ہم نے قیامت کے منکر رہ کر اعمال صالحہ و ایمان سے غفلت اختیار کی اور آج ان کی پرسش ہو رہی ہے اور ہم خالی ہاتھ رہے۔ الحاصل ان وجوہ سے اس زندگی کو خاسرہ سمجھتے تھے یعنی اگر تسلیم بھی کرلیا جاوے کہ باردگر زندہ ہوں گے تو وہ زندگی ناقص ہوگی اور یہ اس حکیم و قدیر کی شان سے بعید ہے۔ اس لیے بھی وہ اس باردگر زندہ ہونے کو محال جانتے تھے اور اس پر یہ دلیل لاتے تھے۔ ان کے جواب میں اس کا امکان بلکہ وقوع بتلاتا ہے۔ فقال انما ہی زجرۃ واحدۃ کہ یہ کرہ یعنی باردگر جینا کچھ مشکل نہیں صرف ایک سخت آواز یعنی نفخ صور سے ہوجاوے گا۔ کوئی حالت منتظرہ نہ ہوگی ٗ فوراً ہر ایک بدن تیار ہوجاوے گا اور اجزائِ بدن مجتمع ہوں گے۔ اسی وقت ان ابدان سے ارواح کو متعلق کردیا جاوے گا۔ گویا سوتے کو جگا دیا۔ اس لیے فرماتا ہے فاذا ھم بالساھرۃ کہ پھر تو جب ہی وہ یعنی ان کی روحیں ان کے بدنوں سے متعلق ہوجاویں گی اور جاگ جاویں گی یا یوں کہو فوراً وہ میدان میں حاضر ہوجاویں گے۔ اول 1 ؎ معنی چسپاں تر ہیں۔ کس لیے کہ اس زندگی کے بعد جو موت طاری ہوتی ہے اس کو خواب سے تشبیہ تام ہے۔ چند وجوہ سے : اول یہ کہ جسم سالم اور صحیح موجود ہوتا ہے اور خواب کی وجہ سے بیکار ایک جگہ پڑا رہتا ہے۔ نہ چلتا پھرتا ہے نہ کسی سے بات چیت کرتا ہے۔ نہ کھاتا پیتا ہے نہ کسی کو جواب دیتا ہے۔ یہاں کچھ ہی ہوا کرے ٗ اس کو اس کی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی۔ یہی حال موت سے ہوجاتا ہے۔ وہی جسم ہے۔ وہی اس کے اعضاء ہیں مگر ایک تختہ سا پڑا ہے نہ اب اس کو جورو بچوں کی پروا ہے نہ کسی یار دوست کی۔ نہ دنیا کے زر و جواہر مرغوب چیزوں کی جن کے لیے مارا مارا پھرتا تھا۔ نہ ان سے متمتع ہوسکتا ہے۔ سب بیکار پڑا ہے اور جس طرح خواب میں اس پر بہت کچھ واقعات گزرتے ہیں کہیں باغوں کی سیر کرتا پھرتا ہے۔ دوستوں سے مل کر لطف صحبت اٹھاتا ‘ لذت و سرور پاتا ہے۔ کہیں کسی مکان تنگ میں بند کیا جاتا ہے۔ مار پڑتی ہے۔ سانپ بچھو ڈستے ہیں ٗ روتاپیٹتا ہے ‘ چیختا ہے ٗ چلاتا ہے۔ پاس والوں کو کچھ بھی خبر نہیں ہوتی ٗ نہ جسم پر ان خواب کی راحتوں یا تکلیفوں کا کچھ اثر نمودار ہوتا ہے۔ نہ خواب کی حالت میں ان خواب کے واقعات کو فرضی اور خیالی سمجھتا ہے بلکہ اصلی بلکہ خواب کو بھی خواب بیدار ہو کر سمجھتا ہے۔ خواب میں تو اسی عالم کو اصلی حالت اور سچے واقعات سمجھتا ہے۔ یہی حال میت کا ہے۔ جب اس پر ادھر سے بےہوشی ہوئی اور دوسرا عالم منکشف ہوا اور فرشتوں سے آمنا سامنا ہوگیا۔ پھر کوئی بہاریں لوٹ رہا ہے۔ ملائکہ پاک صورت و حوریان مہر طلعت سے باتیں کر رہا ہے۔ ان کے جلسوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ باغ قدس کی بہاریں دیکھ رہا ہے۔ کسی پر وہاں گرز پڑ رہے ہیں ٗ جہنم کی لپٹیں اس کو کھائے جاتی ہیں۔ مکان تاریک و تنگ میں محبوس ہے۔ سانپ بچھو ڈس رہے ہیں ٗ روتا چلاتا ہے مگر اس کے جسم پر کوئی اثر نہیں۔ نہ جسم کے دیکھنے والوں کو کچھ دکھائی دیتا ہے۔ پھر جس طرح خواب سے بیدار ہونے والا پھر ایک دوسرے عالم میں آتا ہے اور یہاں کے حالات دیکھ کر اس عالم کو عالم خواب و خیال سمجھتا ہے۔ اسی طرح مردے جب سخت آواز سے خواب عدم سے جگا کر بیدار کئے جاویں گے تو ایک اور زندگی دیکھیں گے اور اٹھ کر کہیں گے ٗ من بعثنا من مرقدنا کہ کس نے سوتے ہوئے ہم کو جگا دیا ؟ اس لیے باردگر زندگی کو زجرۃ واحدۃ ایک تند آواز سے وابستہ کیا۔ جیسا کہ خواب سے بیدار کرنا ایک تند آواز سے ہوا کرتا ہے اور جیسا کہ اس عالم میں خواب سے بیدار ہوتا ہے۔ اس لیے اس عالم میں آواز تند سے بیدار ہونابیان فرمایا۔ اور بھی موت کو اور مر کر باردگر جینے کو انسان کی زندگی اور اس کے خواب اور اس کی بیداری سے مشابہتیں ہیں اور یہ کلام تخیلی نہیں بلکہ مقدمات حقہ اور یقینیہ پر مبنی ہے۔ اس لیے یہ ایک برہان یا حجت ہے جس کو ہر ایک ذی شعور سمجھ سکتا ہے۔ 1 ؎ یعنی لفظ ساہرہ کے دو معنی ہیں۔ اول یہ کہ فوراً یہ لوگ قیامت کے دن جاگ اٹھیں گے موت کی نیند سے۔ دوم یہ کہ فوراً میدان حشر میں آحاضر ہوں گے۔ اول معنی زیادہ مناسب اور بہت چسپاں ہیں کس لیے کہ موت کو خواب سے زیادہ مشابہت ہے اور سہر بیداری کو کہتے ہیں حیات اخروی بیداری اور موت خواب سے بہت مشابہ ہے چند وجہ سے جن میں سے ایک وجہ تفسیر میں بیان کی گئی۔ 12 منہ
Ayahs 79:15–26

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

آپ کو کچھ موسیٰ کا بھی حال معلوم ہوا ؟

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جبکہ ان کے رب نے ان کو پاک وادی طویٰ میں پکارا

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ تم فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سر اٹھا رکھا ہے۔

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

پھر (جا کر) کہو کیا تو چاہتا ہے کہ سدھر جائے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے رب کی راہ بتائوں کہ تو ڈرنے لگے ؟

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

سو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا۔

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

پھر لوگوں کو جمع کرکے پکارا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

تو کہا کہ میں ہی تمہارا بڑا معبود ہوں۔

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

پھر تو اس کو اللہ نے آخرت اور دنیا کی رسوائی میں گرفتار کیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک اس میں ہر ایک ڈرنے والے کے لیے (بڑی) عبرت ہے۔

ترکیب ¦ ھل استفہامیۃ او بمعنی قدر والجملۃ مستانفۃ لبیان مسئلۃ النبوۃ اذ متعلق بحدیث۔ لاباتاک لا ختلاف وقیتھما طویٰ قریٔ بالتنوین و ترکہ و ھما سبعیتان فمن صرفۃ جعلہ اسم وادٍ و مکانٍ وجعلہ نکرۃ ومن لم یصرفہ جعلہ بلدۃ وبقعۃ وجعلہ معرفۃ وھو وادٍ بین الشام وقلزم وھوبدل من الوادال اذھب ای قال اذھب وقیل ھو تفسیر للنداء تزکی قرء الجہور بالتخفیف وقرأنافع وابن کثیر بتشدید الرائے علی ادغام التاء فی الزای قال ابو عمر و بن العلاء علی الاول مسناہ تکون زکیاء مؤمنا وعلی الثافی الصدقۃ۔ والیٰ متعلقۃ بمحذوف وھو رغبۃ او توجہ وھو مبتدالک خبرہ واھدیک معطوف علی تزکی منصوب بان والفاء فی فتخشی لترتیب الخشیۃ علی الہدایۃ یسعیٰ حال من الضمیر فی یسعی۔ نکال الآخرۃ و فی نصب النکال وجہان احدھما ھو مصدر لان اخذونکل بہ معنا ھماواحد الثانی ھو مفعول لہ ای اخذہ اللہ لا جل نکال الاخرۃ و الاولی۔ ورجح الزجاج القول الاول لعبرۃ اسم ان فی ذلک خبرھا۔ تفسیر ¦ مسئلہ معاد پر دلائلِ عقلیہ بیان فرمانے کے بعد وہ دلائلِ نقلیہ بیان فرماتا ہے جن کا تعلق ایک جم غفیر کے مشاہدہ سے ہے یعنی سینکڑوں آدمیوں نے مردوں کو زندہ ہوتے دیکھا ہے اور جو چیز بظاہر قابل حیات نہیں اس میں حق سبحانہ نے روح پھونک دی ہے اور یہ تاریخی واقعات (جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے اتباع کے عہد میں ان کی برکت و معجزات سے سرزد ہوئے تھے) عرب میں مشہور اور معروف تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرماتا ہے۔ فقال ھل اتاک حدیث موسیٰ کہ کیا تجھے موسیٰ کی بات پہنچی ؟ یعنی ضرور پہنچی۔ پھر دیکھو کیا ان کے وقت میں مردہ زندہ نہیں ہوا جس کا قصہ سورة بقرہ میں موجود ہے اور نیز ان کے پاس ایک عصا تھا جو سانپ بن جاتا تھا پھر مردہ کا زندہ کرنا خشک لکڑی کے سانپ بنانے سے کچھ بڑھ کر ہے ؟ ہرگز نہیں۔ یا یوں کہو کہ مسئلہ معاد کے بعد مسئلہ نبوت کا ثابت کرنا یہی اہم مقاصد میں سے تھا۔ اس لیے ایک مسلم النبوۃ نبی کا ذکر کرتا ہے اور اس کے ضمن میں مسئلہ معاد کو بھی ثابت کرتا ہے اور یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ اے قریش ! تم نے موسیٰ کا حال تو سنا ہوگا۔ وہ فرعون کے پاس ہماری طرف سے رسول بن کر گئے۔ فرعون اور اس کی قوم اے قریش ! دولت و حشمت میں تم سے بدرجہا بڑھ کر تھے۔ انہوں نے ہمارے رسول کا کہنا نہ مانا ٗ معجزات کو جھٹلایا۔ پھر اس کا اور اس کے سرداروں کا یہ انجام ہوا کہ ہم نے ان کو دنیا اور آخرت کی رسوائی میں گرفتار کیا۔ دنیا میں قلزم میں ڈوب کر مرے۔ آخرت میں جہنم کی آگ میں پھینکے گئے۔ ان کے سرو سامان سب دھرے رہے۔ اب تم جو ہمارے رسول کے ساتھ وہی معاملہ کرتے ہو جو فرعون نے موسیٰ سے کیا تھا۔ سو تم بھی اپنے لیے دنیا و آخرت کی خواری کے لیے تیار ہوجائو۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ ¦ حضرت موسیٰ کا حال اکثر سورتوں میں بتفصیل مذکور ہے مگر اس سورة میں جو کہ نزول میں ان سے مقدم ہے۔ اجمالاً ذکر فرمایا گیا۔ فقال اذ ناد ربہ بالواد المقدس طویٰ کہ جب موسیٰ کو اس کے رب نے یعنی ہم نے پاک جنگل میں جس کا نام طویٰ ہے اور کوہ طور بھی وہیں واقع ہے پکارا۔ یہ مختصر کیفیت ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) شہر مصر میں پیدا ہوئے تھے بنی اسرائیل کے خاندان میں۔ فرعون نجومیوں کی اس خبر سے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص ایسا پیدا ہوگا جس سے تیری ہلاکت ہوگی ٗ ان کے ہر ایک بچے کو قتل کروا ڈالتا تھا۔ اس خوف سے موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو لکڑی کے صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ بہتے ہوئے فرعون کے محلوں میں آنکلے۔ اس کی بیوی نے دیکھ لیا۔ صندوق کھولا گیا تو چاند سا لڑکا دکھائی دیا۔ فرعون کے کوئی بیٹا نہ تھا۔ اس کی بیوی نے بیٹا بنا لیا۔ ان ہی کے گھر میں ناز و نعمت سے پرورش پائی ٗ جوان ہوئے تو ایک بازار میں دیکھا کہ ایک فرعونی ایک اسرائیلی کو مار رہا ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے فریاد کی۔ آپ مظلوم کے چھڑانے کو بڑھے فرعونی باز نہ آیا تو اس کے آپ نے ایک گھونسا مارا جس سے وہ مرگیا۔ اس خوف سے کہ فرعونی اور فرعون مجھے نہ پکڑیں موسیٰ ( علیہ السلام) مصر چھوڑ کر قلزم پار شہر مدین میں آئے جہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) رہا کرتے تھے۔ یہاں ان کی ایک بیٹی سے آپ نے شادی کرلی۔ آٹھ یا دس برس یہاں رہے۔ اب مصر کا شوق ہوا اور سمجھے کہ اب اس قصہ کو لوگ بھول گئے ہوں گے۔ بیوی بچے بھی ساتھ چلے۔ بیوی حاملہ تھیں رستہ میں ایک منزل پر وادی طویٰ میں پہنچ کر راہ بھول گئے۔ سردی کا موسم تھا ٗ رات ہوگئی تھی۔ آپ نے دور سے ایک آگ کا چمکارا دیکھا۔ بیوی اور غلاموں سے کہا ٗتم یہیں ٹھہرو میں آگ کے پاس جاتا ہوں ٗ آگ لائوں گا۔ تمہارے تاپنے کے لیے اور اگر آگ نہ ملی تو راستہ تو بتا دے گا۔ رستہ پوچھ لوں گا۔ آپ اس مقام پر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک درخت پر تجلی ہے اور ہر ایک شاخ و برگ سے ملائکہ کی تسبیح و تہلیل کی آوازیں آرہی ہیں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) دیکھ کر حیران ہوگئے۔ پھر ایک ایسا نور عظیم الشان متجلی ہوا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی آنکھیں دیکھ نہ سکیں اور موسیٰ کو آواز آئی۔ اے موسیٰ ! میں رب العلمین ہوں ٗ قریب آ۔ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا میرا عصا ہے۔ فرمایا اس کو زمین پر ڈال دے۔ ڈالا تو سانپ بن گیا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) ڈر کر پیچھے بھاگنے لگے۔ فرمایا ڈر نہیں اس کو اٹھا لے۔ اٹھایا تو پھر عصا تھا اور کہا اپنا دایاں ہاتھ بغل میں دبا کر نکال۔ نکالا تو آفتاب کی طرح چمکنے لگا۔ یہ دو معجزے یا نشانیاں عطا کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم نے تجھے رسول کیا تو اذھب الی فرعون انہ طغٰی شاہ مصر کے پاس جا کیونکہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ خدائی دعویٰ کرتا ہے۔ بندگان خدا کو ایذا دیتا ہے ٗ نہایت بدکار ہے اور اس کے سبب سے اس کی قوم بدکاری کے دریا میں ڈوبی ہوئی ہے۔ وہاں جا کر فقل ھل لک الی ان تزکٰی یہ کہہ کہ کیا تجھ کو اس بات کی رغبت و خواہش ہے کہ تو درست ہوجاوے ٗ تیرے اخلاقِ بد دور ہوجاویں اور تو تمام روحانی نجاستوں سے پاک و صاف ہوجاوے اور پاک ہونے کے بعد واھدیک الیٰ ربک تیرے رب کا تجھے رستہ بتائوں۔ جب تک انسان روحانی نجاستوں میں آلودہ رہتا ہے اس کو اس کے رستہ تک بھی رسائی نہیں ٗ اس تک تو کجا۔ یہی تاریکیاں حجاب حاجز ہیں۔ بندے کو خدا تک نہیں پہنچنے دیتیں۔ اول تزکیہ پھر تخلیہ ہے اور صرف یہی بات نہیں کہ تجھے رستہ بتا دوں ٗ وہاں پہنچے یا نہ پہنچے بلکہ پہنچا ہی دوں۔ کس لیے کہ کمال ہدایت ایصال الی المطلوب۔ فتخشیٰ کہ پھر تو ڈرنے لگے کس لیے کہ دربارِ الٰہی میں جب پہنچ ہوجاتی ہے تو بہیمیت کمزور ہوجاتی ہے اور جلالِ الٰہی کا پرتو او پر پڑتا ہے جس لیے بندہ ڈرنے اور لرزنے لگتا ہے جو بادشاہ کے دربار تک ہی نہیں پہنچا اس پر دربار کی کیا ہیبت پڑے گی۔ خشیت دلیل وصال ہے اس مقام پر بجز گریہ کے اور کچھ نہیں بن آتا۔ اے فرعون ! اگر تجھ کو ان سب باتوں کی رغبت ہے تو میں کوشش کروں کیونکہ طالب کے لیے ارادت شرط ہے ورنہ محرومی ہے۔ فرعون نے ارادت تو ظاہر نہ کی بلکہ انکار و مقابلہ کرکے پوچھا کہ راہ دکھانا اور درست کرنا تو بعد کی بات ہے۔ پہلے اپنا رسول ہونا تو ثابت کیجئے ٗ ہم کس دلیل سے جانیں کہ تجھ کو خدا نے ہمارے پاس بھیجا ہے ؟ اس لیے فاراہ الایت الکبریٰ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کو بڑی نشانی دکھائی۔ بڑی نشانی کیا تھی ؟ بعض علما فرماتے ہیں ید بیضا بعض کہتے ہیں عصا 1 ؎ دکھایا کہ وہ سانپ بن گیا اور فرعون اور اس کے درباری ڈر کر بھاگنے لگے اور یہی قول قوی ہے۔ 1 ؎ کس لیے کہ توریت سفر خروج کے (7) باب میں یہی ہے۔ 12 منہ بعض کہتے ہیں دونوں معجزے دکھائے۔ ہر ایک کو آیۃً کبریٰ کہا جاسکتا ہے۔ یہ اول ملاقات کا معاملہ ہے اور بعد میں تو اور بہت معجزات دکھائے جن کا ذکر جلد دوم سورة بقرہ کی تفسیر تاریخ بنی اسرائیل میں ہم کرچکے ہیں مگر فرعون معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لایا بلکہ فکذب وعصٰی جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ یہ جادو ہے۔ میرے جادوگر اس سے بھی بڑھ کر دکھا سکتے ہیں۔ اس لیے میں تیرا ان سے مقابلہ کراتا ہوں اور ایک روز مقرر کرکے تیرے مقابلہ کے لیے انہیں بلاتا ہوں۔ چناچہ اس نے ایسا کیا مگر جادوگر عاجز ہو کر ایمان لے آئے لیکن فرعون نے اس پر بھی خدا کی نافرمانی کی کہ ان جادوگروں کو ایمان لانے کے جرم میں مروا ڈالا۔ اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ ثم اد بریسعٰی اس نے اس کے بعد پشت پھیرنے یعنی نافرمانی میں کوشش کی اور بنی اسرائیل کو اور زیادہ تکالیف دینی شروع کردیں اور یہ قصد کیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) تو کیا میں اس کے خدا کا مقابلہ کروں گا۔ اس لیے اس نے ایک روز درباریوں کو جمع کیا۔ فحشر اور جب سب جمع ہوگئے تو فنادیٰ (منادی) کی۔ فقال انا ربکم الاعلیٰ کہ میں ہوں تمہارا بڑا رب نہ موسیٰ کا خدا۔ بس تم موسیٰ کے کہنے میں نہ آنا ٗ میری اطاعت کرنا ہے اور اس کی قوم بت پرست تھی مگر فرعون اپنی سرکشی سے خصوصاً موسیٰ ( علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے زور و قوت جتانے کو لوگوں کے سامنے کہتا تھا کہ میں بڑا رب ہوں۔ تمہاری پرورش میرے ہاتھ میں ہے جس کو جس قدر چاہوں دوں جس کو چاہوں سزا دوں ٗ پھر اتنا اختیار میرے سوا کس کو ہے ؟ خدا تعالیٰ کا محسوس نہ ہونے کے سبب قائل نہ تھا۔ اس لیے وہ بےعقل اپنے آپ کو رب اعلیٰ سمجھتا تھا۔ ہندوستان میں پہلے زمانوں میں راجائوں کو معبود سمجھا کرتے تھے۔ یہی مصر کا دستور تھا۔ جب فرعون نے موسیٰ ( علیہ السلام) کی بات نہ مانی اور سرکشی میں ترقی کرتا گیا تو فاخذہ اللہ اس کو اللہ جبار وقہار نے پکڑ لیا اور کس بلا میں مبتلا کیا۔ نکال الآخرۃ و الاولیٰ آخرت کے عذاب میں اور دنیا کے عذاب میں۔ اس روز اس کی ساری خدائی بوسیدہ ہو کر ہوا میں اڑ گئی۔ اس گرفتاری کی تفصیل اور سورتوں میں موجود ہے کہ فرعون اپنا لشکر لے کر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو گرفتار کرنے نکلا تھا۔ بنی اسرائیل قلزم سے پار اتر گئے۔ دریا نے رستہ دے دیا۔ بعد میں جو فرعون اور اس کا لشکر آیا تو سب غرق ہوگئے۔ یہ تو دنیا کی رسوائی تھی ٗ آخرت کے لیے جہنم تیار ہے۔ آخرت کو اس لیے مقدم کیا کہ دنیا کی رسوائی بمقابلہ آخرت کی رسوائی کے کچھ نہیں۔ اصل عذاب و رسوائی وہیں کی ہے۔ اس لیے اس کے اسباب سے بچنا چاہیے۔ ان فی ذلک لعبرۃ اس بیان میں عبرت اور نصیحت ہے مگر کس کے لیے ؟ لمن یخشٰی۔ اس کے لیے جو خدا ترس ہے اور اس کے دل پر کفر اور بدکاری کی سیاہی چھا نہیں گئی ہے۔ اس کو عبرت و نصیحت ہوسکتی ہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا فرمودہ غلط نہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ یقینی ہے ہو کر رہے گا۔ ان سے مقابلہ کرنے والا انجام کار خراب ہوتا ہے۔ کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی مگر جو بدبخت ازلی ہے اس کو عبرت و نصیحت نہیں ہوتی۔ کیسا ہی حادثہ ہو وہ اس کو ایک معمولی بات خیال کرتا ہے۔ اب بھی خدا تعالیٰ کی آیات قدرت وقتاً فوقتاً ہماری عبرت کو ظاہر ہوتی ہیں۔ وبا ‘ بربادی خاندان یا بجلی ‘ ہوا ‘ ژالہ باری وغیرہ مگر دل کے اندھے ان کو معمولی بات جانتے ہیں۔
Ayahs 79:27–33

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا تمہارا بنانا بڑی بات ہے یا آسمان کا ؟ جس کو اس نے بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

جس کی چھت بلند کی پھر اس کو سنوارا

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی نکالی

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور زمین کو اس کے بعد ہموار کیا

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

(پھر) اس میں سے پانی اور چارہ نکالا

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو اس کا دباؤ کیا۔

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے برتنے کے لیے۔

ترکیب ¦ انتم مبتداء اشد خبرہ خلقا تمیز منہ السماء مبتداء والخبر محذوف ای اشدو التردید بین الجملتین بالھمزۃ وام بناھا الجملۃ مستانفۃ وقیل حال من المحذوف قال الزجاج والفراء ولکسائی تم الکلام عند قولہ بناھا لاتہ من صلۃ السماء والتقدیر ام السماء التی بناھا بحذف التی رفع سمکہا مستانف لبیان البناء۔ او صفۃ سمک بر داشتن وسقف خانہ (وعع اض 2) یقال سمک اللہ السماء سمکا سموک بلند شدن یقال سنام سامک ای عال مرتفع۔ سمک بالتحریک ماہی۔ سماک سموک ج۔ از صراح۔ اغطش اغطاش تاریک کردن شب راو تاریک شدن متعدی و لازم۔ ص۔ والارض منصوب بفعل محذوف ای وحی الارض وکذا الجبال ای وارسی الجبال قریٰ بالرفع علی الابتداء متاعا مفعول لہ او مفعول مطلق ای متع متاعاً تفسیر ¦ منکرین حشر کو ان دلائل کے بعد یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ لکڑی کا سانپ بنانا اور دیگر حیوانات لایعقل کا ہر برسات میں پیدا کردینا یا مینڈک کی مٹی سے مینڈک پیدا کردینا اور بات ہے۔ کلام انسان اشرف المخلوقات کے باردگر زندہ ہونے میں ہے۔ اس کا جواب دیتا ہے۔ ء انتم اشد خلقاء ام السماء کہ کیا تمہارا بنانا اول بار یا باردیگر بڑی بات ہے یا آسمان کا ؟ یعنی جس قادر مطلق نے ایسا وسیع اور بلند آسمان بنایا اور اس میں یہ یہ صنعتیں رکھیں اور جس نے زمین کو بنایا اور اس کو ایسا اور ایسا کیا اور اس میں سے انسان اور حیوان کی خورش پیدا کی جس کی قدرت اور حکمت کے ایسے بڑے نمونہ موجود ہیں۔ پھر اس کے نزدیک انسان کا باردگر پیدا کرنا کون سی بڑی بات ہے ؟ کس لیے کہ جو بڑی چیز جس میں بےانتہا باریکیاں رکھی ہیں ٗ پیدا کردینے پر قادر ہے۔ وہ چھوٹی چیز کے پیدا کردینے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے خصوصاً جبکہ ایک بار اس کو پیدا بھی کرچکا ہو۔ اس کے بعد آسمان کی پیدائش اور اس کے اندر جو صنعتیں رکھیں ٗ ان کو بیان فرماتا ہے۔ اول رفع سمکہا کہ اس کی چھت کس قدر بلند کی۔ زمین سے لاکھوں کوس بلند ہے نہ وہ کسی ستون پر قائم ہے نہ کسی دیوار پر رکھا ہوا ہے۔ دوم فسوھا یہ نہیں کہ بیڈول اس کو بلند کردیا بلکہ ٹھیک کیا۔ ہر موقع پر ہر چیز ہے نہ اس میں شگاف ہے نہ ٹیڑھا ترچھا پن ہے۔ سوم واغطش لیلہا واخرج ضحہا اس کی رات اندھیری کی یعنی اس طور پر رکھا کہ گردش سے رات پیدا ہوتی ہے اور کیسی اندھیری ہوتی ہے اور پھر دوسری پلٹی میں دن پیدا ہوتا ہے۔ کیسی روشنی پیدا ہوجاتی ہے ؟ اور آسمان ہی پیدا کرکے نہیں بیٹھ رہا بلکہ والارض بعد ذلک دحہا اس کے بعد یعنی آسمان کے سنوارنے کے بعد زمین کو ہموار کیا۔ پیدا تو اول زمین کو کیا اس کے بعد آسمان کو پیدا کیا اور اس کو ٹھیک کرکے زمین کو ہموار اور موزوں کیا۔ ان آیات اور سورة فصلت کی ان آیات ثم استویٰ الی السماء اور سورة بقرہ کی آیات ھوالذی خلق لکم ما فی الارض الخ وان آیات قلء انکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین الخ میں کچھ تعارض نہیں۔ اس کی تشریح و تفصیل ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ اخرج منہا ماء ھا ومرعاھا زمین سے پانی نکالا ٗکنوئوں اور چشموں سے اور چارہ پیدا کیا والجبال ارسہا اور پہاڑوں کو اس کا دباؤ بنایا جس سے ڈگمگاتی نہیں۔ متاعالکم ولانعامکم تمہارے برتنے اور آرام پانے اور تمہارے چارپایوں کے برتنے اور کھانے کے لیے۔ پھر یہ مصالح زمین و آسمان میں جس نے ملحوظ رکھ کر ان کو بنایا ہے۔ کیا وہ انسان کو باردگر زندہ نہیں کرسکتا ؟ ضرور کرسکتا ہے۔