Ayah 79:1قسم ہے ان (فرشتوں کے رب) کی جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں
1۔ (النزعت) اسم فاعل جمع مئونث النازعۃ واحد نزع مصدر باب ضرب کھینچنے والیاں ، کھینچ کر نکالنے والیاں۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ اس آیت میں ملائکہ مراد ہیں جو انتہائی طور پر کافروں کی جانیں ان کے بدنوں سے اس طرح کھینچتے ہیں کہ جس طرح کمان کھینچنے والا آخری حد تک تانت کو کھینچتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود نے فرمایا کہ موت کا فرشتہ ہر بال اور ناخن کی نوک کے اندر سے جان کو اکھیڑتا ہے پھر چھوڑ دیتا ہے کافروں کے ساتھ اس کا یہ عمل یونہی جاری رہتا ہے۔ مقاتل نے کہا فرشتہ ، موت اور اس کے کارندے کافروں کی روحوں کو اس طرح کھینچتے ہیں جیسے شاندار انکڑا دھنی اور بھیگی ہوئی اون میں سے کھینچا جاتا ہے اور مجاہد کے نزدیک بھی ملک الموت ہی مراد ہے۔ تاہم بعض نے کہا ہے کہ (نازعات) سے سینہ میں ڈوبتی ہوئی سانسیں مراد ہیں۔ حسن ، قتادہ اور ابن کیسان کے نزدیک ستارے مراد ہیں جو ایک افق سے نکل کر دوسرے افق میں ڈوبتے ہیں۔ عطا اور عکرمہ نے کہا ہے کہ کھینچی ہوئی کمانیں مراد ہیں۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ اس سے تیر اندازوں کی جماعتیں مراد ہیں اور بعض نے ملائکہ ہی مرادلئے ہیں۔ اس کا اصل مادہ ن ز ع ہے اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں بہت سے استعمال ہوئے ہیں جیسا کہ :
(نزع) (الاعراف :108) ، (الشعراء : 33) ، (نزعنا) (7 : 34) ، (51 : 74) (نزعناھا) (11 : 9) (تنزع) (3 : 62) (لننزعن) (91 : 96) (ینزع) (7 : 72) (تنازعوا) (02 : 26) (یتنازعوا) (71 : 12) : (25 : 32) ان مقامات کے مطالعہ سے اس کے معنی آسانی سے نکالے جاسکتے ہیں۔
نزعۃ پیشانی کا ایک طرف کا رخ نزع سر کی سیپوں کا بالوں سے صاف ہوجانا۔ نزیع مسافر نزاعۃ جھگڑا نازعۃ کمان ، ستارہ انزع کھلی ہوئی سیپوں والا آدمی۔ نرع کھینچنا ، نکالنا ، جان کنی ، باب ضرب منازعۃ باہم کشیدگی ، خصومت تنازع باہم خصومت کرنا ، تنائو انتزاع اکھڑ جانا ، اکھاڑنا ، باز رکھنا ، ہٹ جانا۔ (تاج و مفردات) نزرع شدت شوق۔ نزع عنہ اس سے باز رہا۔ (المرفدات) لیکن بعض کے نزدیک (نازعات) سے مراد وہ تیز و تند ہوائیں ہیں جو بڑے بڑے قوی ہیکل درختوں کو اور بڑی بڑی بلڈنگوں کو ، نگلوں کو زمین بوس کردیتی ہیں۔ عاد وثمود اور لوط علمہی السلام کی قوموں کے حالات کو پڑھو تم کو معلوم ہو کہ دنیا میں اللہ
تعالی کے بڑے عذابوں میں سے ایک عذاب ان تیز و تند ہوائوں اور آندھیوں کا بھی ہے۔ اس کی وضاحت ہم سورة الاعراف ، سورة ہود ، سورة الشعرا اور خاص کر جلد ہشتم میں سورة القمر کی آیت 20 , 19 میں تفصیل سے کر آئے ہیں ، وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ہم نے ترجمہ میں فرشتوں کی جماعت ہی کا ذکر کیا ہے اور ان استعارات سے جس طرح بھی مفہوم سمجھا جائے حقیقت پر کفایت کرتا ہے۔
Ayah 79:2اور ان کے رب کی قسم جو آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں کہ کوئی شور نہیں ہوتا
۔ 2 (والنشطت) اسم اعل جمع مئونث الناشطۃ واحد ، بند کھولنے والا ، (ناشطات) کی مراد مختلف فیہ ہے۔ فراء نے کہا ہے کہ آسانی سے مومنوں کی روحوں کو قبض کرنے والے فرشتے مراد ہیں جس طرح اونٹ کے زانو بندگی گرہ کھول دی جاتی ہے اور اس کو انشطت العقال کے نام سے موسوم کرتے ہیں کہ میں نے اونٹ کے زانو بند کو کھول دیا اور نشطتہ ، میں نے اس کو باندھ دیا جس طرح اوپر (النازعات) کے مفہوم میں آپ مختلف معنی پڑھ چکے ہیں بالکل اسی طرح اس لفظ کے معنوں کی یہی پوزیشن ہے۔ اصل کا اصل مادہ ن شرط ہے لیکن یہ مادہ قرآن کریم میں صرف اس جگہ ایک ہی مقام پر استعمال ہوا ہے مزید کسی جگہ استعمال نہیں ہوا ، اس لئے اس کے معنی تصریف آیات کے ذریعہ سے بیان نہیں کئے جاسکتے۔ صرف اوپر کی آیت کے پیش نظر اس سے مراد ہوائیں بھی لی جاسکتی ہیں خصوصاً وہ جو نرمی اور نشاط کے ساتھ چلتی ہیں جن کے چلنے سے آدمی خوش ہوتے ہیں کہ ان میں خنکی ہوتی ہے اور وہ بارش کی خوشخبری سے لدی ہوئی ہوتی ہیں لیکن ان کی نرم روی کے باوجودب عض اوقات قانون الٰہی ان کو عذاب کی صورت دے دیتا ہے اور اس نشاط کی چیز سے آدمی غم و اندوزہ میں بھی ڈوب جاتا ہے اور اس قدرت الٰہی کے نشانات واضح ہوتے ہیں ۔
Ayah 79:3اور ان فرشتوں کے رب کی قسم جو فضا میں تیزی کے ساتھ تیرتے پھرتے ہیں
۔ 3 (السبحت) کا اصل مادہ س ب ح ہے اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کیم میں عام بیان ہوئے ہیں۔ (سابحات) کے معنی ہیں تیرنے والیاں۔ سبح سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مئونث سابحۃ کی جمع ہے اس کا استعمال تیز رفتار گھوڑے پر بھی ہوتا ہے اور بادلوں کو فضا میں تیرنے یا تیرا نے کے لئے بھی اس کا استعمال ہوا ہے ۔ جیسے (1) آسمان میں ستاروں کی گردش کے لئے بولا گیا ہے (وکل فی فلک یسبحون) (2) گھوڑے کے دوڑنے کے لئے استعمال ہوا ہے (والسابحات سبحا) اور قسم ہے ان مجاہدین کی جماعتوں کے رب کی جو اللہ کی رضا کے لئے تیز رفتار گھوڑوں کو دوڑاتے ہیں۔ (3) کام میں جلدی لگ جانے کے لئے ان لک فی النھار سبحا طویلا ” التہ تجھ کو دن میں ایک بہت بڑا وقت بلیغ کے کام میں معروف رہنا پڑتا ہے۔ اب تینوں معنی کا لحاظ رکھتے ہوئے اس استعارہ کے مختلف معانی قرار دیئے جاسکتے ہیں اور خصوصاً یہ کہ استعارہ و اشارہ ایک بہت بڑا مضمون و مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور اس میں مختلف مضامین بیان کرنے کی وسعت موجود ہے۔ ہم نے متن کے تحت ترجمہ میں فرشتوں کو مراد لیا ہے تاکہ گزشتہ مترجمین سے خواہ مخواہ اختلاف نہ کیا جائے بلکہ ان کی متابعت ہی صحیح ہے اور تفسیر میں اس سے مراد ان ہوائوں سے لی ہے جو بادلوں کو نہایت آسانی کے ساتھ اپنے کندھوں پر اٹھا کر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر کردیتی ہیں اور اس طرح ان کو دبا کر ان سے بارش کو بھی ٹپکاتی ہیں جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے اور سماں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ معنی اس مناسبت سے بھی صحیح ہیں کہ اوپر دونوں آیات میں بھی ہم نے تفسیر میں ہوائوں ہی کا ذکر کیا ہے لیکن آنے والے زمانہ میں ان استعارات کا مفہوم زیادہ وضاحت کے ساتھ ان شاء اللہ العزیز سامنے آئے گا۔ اس وقت نہ تو ان استعارات و اشارات سے فرشتے مراد لئے جائیں گے ، نہ مجاہدین کے گھوڑوں کی بات ہوگی ، نہ ہوائوں کا ذکر چلے گا بلکہ ان کا مفہوم ان استعارات سے بالکل مختلف ہوگا لیکن ان استعارات پر جو صادق آئے یا آپ یوں کہہ لیں کہ یہ استعارات اس مفہوم پر محیط ہوں گے اگر آپ کے زمانہ میں کچھ اس طرح کی باتیں سامنے آئیں تو بجائے انکار کے ان پر غور و فکر کرنا ہی زیادہ صحیح ہوگا اور قرآن کریم کی وسعت کے پیش نظر جوں جوں اس کا مفہوم کھلتا ہے اس کو تسلیم کرنا کوئی جرم کی بات نہیں بشرطیکہ الفاظ کی بناوٹ اس کی تصدیق کرے ۔ علمائے اسلام کے لئے ضروری ہے کہ ایسے مقامات پر وہ صحابہ کرام ؓ کے دوسرے جو مختلف معانی و مفہوم بیان کئے گئے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے بجائے جمود کے وسعت سے کام لیں اور قرآن کریم کو کسی بھی ایک مفہوم کا پابند نہ کریں کیونکہ یہ پابندی صرف محکمات کے لئے ہے جن کا مفہوم ایک سے زیادہ بیان کیا ہی نہیں جاسکتا۔ متابہات میں یہ پابندی قرآن کریم کے ساتھ ظلم ہے۔ بیان کرنے والے کے دل کا تعلق اللہ اور اس کے بندے کا تعلق خاص ہے ، اس میں خواہ مخواہ شکوک و شبہات ڈالنا اور طرح طرح کے رنگ دینا اسلام کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے۔ جہاں تک استعارات و اشارات کا تعلق ہے وہ ابھی مزید اس جگہ بیان کئے گئے ہیں اور آگے بھی مکی سورتوں میں کچھ زیادہ ہی بولے جائیں گے۔ مکی سورتوں کے مضمون کا تعلق زیادہ تر ایمان بالغیب سے ہے کیونکہ ان سورتوں کا اصل مفہوم آخرت کے متعلق ہے اور آخرت کی آخر کونسی بات ہے جس کا تعلق مشاہدہ سے ہو ؟ یہی وجہ ہے کہ اس مضمون کو اس کی وسعت کے پیش نظر استعارات و اشارات اور کنایات میں زیادہ بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 79:4پھر ان کی جو حکم ماننے میں سبقت کرتے ہیں
۔ 4 (السابقت) کا مادہ س ب ق ہے اور اس مادہ کے الفاظ بہت استعمال ہوئے ہیں اور ہر جگہ اس میں سبقت اور آگے بڑھنے کا مضمون پایا جاتا ہے۔ آگے بڑھنے والیاں سبق سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ (سبقاً ) آگے ہونا ، پہلے ہونا ، مقدم ہونا۔ سبق بسبق کا مصدر ہے۔ ترجمہ میں ہم نے حسب سابق فرشتے ہی مراد لئے ہیں اور تفسیر میں گزشتہ مضمون کی طرح ہم ان سے مراد بھی ہوائیں ہی لے رہے ہیں۔ حقیقت میں سب امر الٰہی ہیں اور اس کی تفہیم کے لئے آپ ہوائوں کا نام لیں یا فرشتوں کا دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے۔ وہ ہوائیں جو بادلوں سے لدی ہوئی ہوتی ہیں اور ان کو فضا میں ہانکتی پھرتی ہیں۔ خاص موسموں میں خاص خاص سمتوں سے چلتی ہیں اور مختلف ممالک اور مختلف علاقوں میں ان کا رخ مختلف ہوتا ہے۔ سورة الذاریات اور گزشتہ سورة المرسلات میں ہم ان کی زیادہ وضاحت کرچکے ہیں ۔ یہ بات بار بار عرض کی جا رہی ہے کہ یہ کہنا کہ فلاں فرشتہ فلاں کام کے لئے مقرر ہے ، فلاں ہوا فلاں کام پر مقرر ہے ، فلاں فرشتہ کا یہ یہ کام اور فلاں ہوا یہ یہ کام کرتی ہے محض تفہیم کے لئے ہے حقیقت میں سب امر الٰہی اور حکم خداوندی کی تعبیرات ہیں تاکہ عام ذہن رکھنے والوں کی بھی تفہیم کرائی جاسکے ان چیزوں کے قبضہ اور اختیار میں کچھ بھی نہیں دیا گیا اختیار جتنا بھی دیا گیا ہے اور جیسا کیسا بھی دیا گیا ہے وہ صرف اور صرف انسان کو دیا گیا ہے ، انسان کے علاوہ کوئی چیز بھی اس دنیا میں اختیار نہیں رکھتی خواہ ستارے ہوں یا سیارے ، سورج ہو یا چاند ، زمین ہو یا آسمان ، فرشتے ہو یا ہوائیں سب کے سب بےاختیار ہیں۔ افسوس کہ مسلمانوں نے پہلے ان چیزوں کے نام رکھے اور پھر ان کو اپنے خیال اور تخیل ہی میں آسمان و زمین کے مختلف کاموں پر مامور ہونا بیان کیا اور وہ چیزیں جو محض انسانوں کی تفہیم کے لئے بطور استعارہ و اشارہ استعمال کی گئی تھیں ان کو اصل اور حقیبقت قرار دے دیا اور پھر اس سے استدلال کر کے ولیوں ، بزرگوں ، پیروں ، مرشدوں اور مذہبی راہنمائوں کے ذمہ دنیا کے کامل گا دیئے اور اس طرح غلط بنیاد پر ایک غلط عمارت کھڑی کردی جس کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ میں نے اشارتاً بات کردی ہے اور سمجھنے والوں نے اگر ذرا ذہن پر زور دیا تو ان شاء اللہ العزیز بہت کچھ سمجھ جائیں گے لیکن افسوس کہ آج قوم مسلم ذہن پر زور دے کر حقیقت سمجھنے کی کوشش بہت کم کرتی ہے بلکہ افراد ہوں یا جماعتیں ، حکومت ہو یا عوام سب کے سب بلا استثنیٰ جو کچھ کرتے ہیں محض جذبات کے تحت کرتے ہیں اور جذبات میں حیوانیت ہمیشہ انسانیت پر غالب ہوتی ہے اس لئے یہ جذبات کے تحت کئے ہوئے فیصلے بہت ہی کم درست ہوتے ہیں۔
Ayah 79:5پھر ان کی جو ہر کام کا انتظام تدبر سے کرتے ہیں
۔ 5 (المدبرات) کا اصل مادہ د ب ر ہے اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں اعم بیان کئے گئے ہیں۔ (المدبرات) اسم فاعل جمع مئونث مجرور المدبرۃ واحد مئونث اور تدبیر مصدر ہے۔ باب تفعیل۔ تدبیر کے معنی ہیں انجام کو سوچنا ، انتظام کرنا ، ہرچیز کے دبر یعنی نتیجہ پر غور کرنا۔ اس جگہ بقول ابن عباس ؓ فرشتوں کی وہ جماعتیں مراد ہیں جو انتظامات کائنات پر اللہ تعالیٰ کی طرف مامور ہیں اور اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بادلوں کو اٹھا کر جس علاقہ کی طرف حکم ہوتا ہے اس کی طرف ہانک کرلے جاتی ہیں اور جہاں پہنچ کر ان کو جل تھل کرنے کا حکم ہوتا ہے وہ جل تھل کردیتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے جو انتظامات اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں ان کو بیان کرنے کے لئے اور توحید الٰہی کا درس دینے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہو یہ بات باور کرانے کے لئے اس طرح کے استعارات بار بار قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں اور ان کو عام فہم بنانے کے لئے جس طرح علم الابدان کے ماہر انسانی جنس کے ایک ایک عضو کی الگ الگ تشریح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جگر کا یہ کام ہے ، معدہ یہ کام کرتا ہے ، انتڑیوں کا یہ فعل ہے قولون اس غرض کے لئے ہے ، دل اس طرح دھڑکتا ہے اور پھیپھڑے اس طرح پورے جسم کو ہوا پہنچاتے ہیں اس طرح ایک ایک عضو کا کام بتایا اور سجھایا جاتا ہے اور اس سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں حالانکہ حقیقت فقط اس قدر ہے کہ اس جسم کے سارے اعضاء جس طرح کام کر رہ ہیں ان کا خلاصہ ایک لفظ میں اس طرح بتایا جاتا ہے کہ یہ سب اعضاء اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ کام سر اجام دے رہے ہیں ورنہ ہم دیکھتے کہ جب امر الٰہی ہوتا ہے کہ اے اعضائو ! تم سب اپنا اپنا کام بند کر دو وہ اس وقت اپنا کام بند کردیتے ہیں اور اسی کو ہم موت سے تعبیر کرتے ہیں کہ آج عبدالکریم کی موت ہوگئی اور اس کا اظہار کرنے کے لئے ہم کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ تم جن کے اعضاء ابھی کام کر رہے ہیں اعتراض کرتے ہوئے اس طرح کہو کہ : انا للہ و انا الیہ راجعون۔
Ayah 79:6جس دن لرزا دینے اولی لرزا دے گی
۔ 6 (ترجف) وہ لرزے گی۔ وہ کانپے گی۔ مادہ اس کا ر جہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مئونث غائب (الراجفہ) کانپنے والی یا کنپا دینے والی۔ رجف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث ۔ مراد اس سے قیامت ہے۔ سکون سے دنیا کا نظام قائم ہے اگر یہ زمین جس پر ہم بستے ہیں فقط پانچ منٹ کے لئے مسلسل کانپتی رہے تو شاید اس پر ایک ذی نفس بھی زندہ نہ رہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ساکن بنایا ہے اور اس کے سکون ہی کے باعث ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ بات واضح ہے کہ زمین متحرک ہے تو پھر اس کو ساکن ہم نے کیسے کہہ دیا ؟ آپ کی بات بالکل صحیح لیکن کبھی آپ ریل گاڑی میں بیٹھے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس ریل گاڑی کو آپ متحرک ہونے کے باوجود ساکن کہتے ہیں کیونکہ کانپنا اور چیز ہے اور متحرک ہونا اور چیز ہے۔ اگر یہ زمین ساکن نہ ہوتی تو زلزلہ کا آپ کو کیسے معلوم ہوتا ؟ زلزلے کا احساس ہی اس فیصلہ کے لئے کفایت کرتا ہے کہ زمین باوجود متحرک ہونے کے ساکن ہے۔ اس لئے اگر ہم نے اس کو ساکن کہہ دیا ہے تو یہ کوئی تنقیح کی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت ہر حال میں حقیقت ہی ہوتی ہے اور تسلیم کرلو کہ زمین باوجود متحرک ہونے کے ساکن ہے۔ لیکن زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ یہ کپکپا جائے گی اور یکایک تھرتھرانے لگے گی اور اس دن کو قیامت کا دن کہا جاتا ہے کہ اس کے کپکپانے سے ہر ایک چیز فنا ہوجائے گی اور اس دھرتی پر کوئی ذی روح چیز باقی نہ رہیگی اور اس کی کپکپاہٹ سے اس کو ایک بار فنا کر کے نئے سرے سے ہموار کردیا جائے گا اور اس میں کوئی نشیب و فراز آپ کو نظر نہیں آئے گا۔
Ayah 79:7جس کے بعد اس کو ایک دوسرا جھٹکا لگایاجائے گا
۔ 7 گویا اس زمین کے ایک بار کپکپانے سے اس کائنات کی ہرچیز فنا ہو کر فنا فی الارض ہوجائے گی اور ساتھ اس کے پیچھے آسمانوں میں ہل چل مچ جائے گی اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات کی بنا پر ستارے جھڑنا شروع ہوجائیں گے اور مہر و ماہ سب آپس میں ٹکرا جائیں گے جس سے زمین کی طرح آسمان پر رہنے والے بھی سب کے سب تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ باقی بنا رہتا ہے تو صرف ایک ذات کے لئے باقی رہنا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے : (کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذی الجلال والاکرام تتبعھا) وہ اسکے پیچھے پیچھے لگی آئے گی۔ تتبع تبع سے مضارع کا صیغہ واحد مئونث غائب ھا ضمیر واحد مئونث غائب۔ (رادفۃ) پیچھے آنے والی ردف جس کے معنی پیچھے ہونے اور کسی کے پیچھے سواری پر بیٹھنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث ۔ بعض نے اس سے مراد قیامت کا دوسرا جھٹکا بھی لیا ہے جس کے معنی سب مردوں کا زمنی سے اٹھا کر کھڑا کردینے کے ہیں۔ گویا پہلے رجفہ سے ہر ایک چیز فنا ہو جائیگی اور دوسرے سے انسانوں کو دوبارہ زندگی ملنے کا مفہوم نکلتا ہے۔
Ayah 79:8کتنے ہی دل خوف سے اس روز کا نپ رہے ہوں گے
۔ 8 (واجفۃ) اسم فاعل واحد مئونث وجف مصدر (ضرب) ترساں و لرزاں (محلی) وجف ، وجیف و جوف مصادر ہیں۔ اونٹ یا گھوڑے کا قدم قدم چلنا۔ کسی کا بےقرار ہونا۔ ایجاف (افعال) قدم قدم چلانا استیحاف (استفعال) دل کا کسی کی محبت میں وارفتہ بنا دینا یا وارفتہ ہوجانا۔ اس کا اصل مادہ و جہے اور اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں بیان ہوئی اور دونوں ایک ایک بار۔ ایک بار اس جگہ (واجفۃ) اور دوسرا لفظ اس مادہ کا (اوجفتم) استعمال ہوا ہے۔ (الحشر : 6) اور یہ لفظ بھی صرف ایک ہی بار استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دن اتنا زبردست ہوگا کہ سب لوگوں کے دل کانپ رہے ہوں گے اور ہر ایک دل ڈر رہا ہوگا کہ اب دیکھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا حکم ملتا ہے ، جنت میں جانے کا یا دوزخ میں داخل ہونے کا ؟ گویا افراتفری کا دن ہوگا۔
Ayah 79:9اور بہت سے لوگوں کی آنکھیں ندامت سے جھکی ہوں گی
۔ 9 دلوں کا کانپ جانا تو دہشت کے باعث اور افراتفری کے باعث ہوتا ہے لیکن آنکھوں کا ندامت سے جھک جانا نہایت شرمندگی محسوس کرنے کے مرادف ہے اور ظاہر ہے کہ یہ شرمندگی ان ہی لوگوں کو ہوگی جنہوں نے اس دن کو جھٹلایا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اس دن کا سختی کے ساتھ انکار کیا ہوگا اور اب جب کہ وہ اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور بذات زندہ ہو کر اس دن کے اندر موجود ہوں اور خصوصاً ان لوگوں کو بھی دیکھیں گے جن کے سامنے وہ اس دن کا انکار کرتے رہے تو ظاہر ہے کہ ان کی شرمندگی کا جیسا کیسا حال ہوگا۔ (خاشعۃ) ذیل ہونے والی ، خوار ہونے اولی ، دبی جانے والی خشوع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث ۔ اس کا مادہ خشع ہے اور اس مادہ کے بہت سے دوسرے الفاظ بھی قرآن کریم میں آئے ہیں۔ اس کا اظہار انسان کی آنکھوں سے اور دل ہی سے ہوتا ہے۔
Ayah 79:10وہ کہیں گے کیا ہم کو اپنے راستہ پر الٹے پائوں لوٹایا جائے گا ؟
۔ 10 (مرد و دون) اسم مفعول جمع مذکر مرفوع مردود واحد لوٹائے جانے والے (الحافرۃ) اصل مادہ حر ہے معنی اس کے ہیں پہلی حالت ، الٹے پائوں ، زمین حفر سے جس کے معنی زمین کھونے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث ، عرب میں ” حافرہ “ الٹے پائوں لوٹنے اور پہلی حالت پر پلٹنے کے لئے ضرب المثل ہوگیا ہے۔ انسان جس راستہ آیا الٹے پائوں اسی راستہ پر پلٹا تو چلنے کے باعث قدموں کے نشان سے جو زمین کھدی اسی نسبت سے (حافرہ) کہلائی یا فعل کو فاعل سے تشبیہ دے کر (حافرہ) کہہ دیا۔ بعض نے لکھا ہے کہ (حافرہ) کے معنی روئے زمین کے ہیں جس میں ان کی قبریں کھودی جاتی ہیں اس کا نام (حافرہ) بمعنی محفورہ ہے جیسے (عیشۃ راضیۃ) بمعنی (مرضیۃ) کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (حافرہ) یوں نام پڑا کہ وہ مستقر حوافر ہے یعنی سموں اور کہروں کے ٹکنے کی جگہ ہے۔ (معالم التنزیل ج 7 ص 171 طبع مصر) مثل ہے کہ رسی جل گئی پر ہل نہ گیا۔
ان آیات کریمات کو جن میں قسمیں کھا کھا کر قیامت کے آنے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ہولناک مناظر بیان ہوئے ہیں ان کو سن کر کفار از راہ مذاق ایک دوسرے کو مخاطب کر کے کہتے تھے کیا یہ سچ ہے کہ ہمیں پھر الٹے پائوں پلٹا دیا جائے گا گویا جس شاہراہ حیات پر چل کر ہم قبر کی منزل تک پہنچے ہیں کیا پھر ہم کو لحد سے اٹھا کر زندگی کی اس روندی ہوئی راہ پر واپس چلنا پڑے گا اور ان کے انکار کرنے کا یہ ایک طریق تھا جس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayah 79:11کیا جب ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی ؟
۔ 11 (نجرۃ) اس کا اصل مادہ ن خ ر ہے اور اس مادہ کا یہ ایک لفظ اس جگہ استعمال ہوا ہے اس کے علاوہ نہ تو اس لفظ کا استعمال ہوا ہے اور نہ ہی اس کے مادہ کا کوئی دوسرا لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ (نخرۃ) صیغہ صفت نخر مصدر باپ سمع ، بوسیدہ ، چور چور ، نخرۃ منخر مفخور ناک کا نتھنا ، (نخرۃ) ہوا کا تیز چلنا۔ نخر بوسیدہ ، چور چور ہڈیاں۔ ناخر اور ناخرۃ بوسیدہ ، چور چور ہڈیاں۔ نخوری ، فراخ ذہن ، فراخ شکم ، نخرار شریف ، بزرگ ، طبع ست نخارۃ جمع۔ نخر اور نخیر منمنانا ، ناک میں سے آواز نکالنا۔ نخر اٹکل ناک میں ڈال کر کھجانا۔ بوسیدہ ہونا۔ ریزہ ریزہ ہوجانا۔ وہ بات جس کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا تھا ، جو کفار آپس میں ایک دوسرے سے از راہ استہزاء کہتے تھے اس کا ذکر کرتے ہوئے مزید فرمایا جا رہا ہے کہ وہ آپس میں اس طرح کی باتیں ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر کرتے تھے اس میں اس کا ذکر خیر بھی آجاتا ہے کہ یہ لوگ جو اس طرح کی باتیں کہتے ہیں بالکل ان ہونی بات ہے جو کبھی نہیں ہو سکتی۔ کیا جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں اور ان کے اندر کا گودا گل جائے اور وہ خالی ہوجائیں تو ان میں پھر زندگی آجائے گی ؟ کیسی عجیب بات ہے کہ تم کرتے اور کہتے ہو۔
Ayah 79:12وہ کہتے ہیں کہ تب تو یہ واپسی نقصان دہ ہوگی ؟
۔ 12 یہ ازراہ تعجب اور مذاق ہے کہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر ہمیں تو خسارہ ہی خسارہ ہوگا کیونکہ یہ تو ساری زندگی اس کو جھٹلاتے رہے اور اس کے لئے ہم نے کوئی تیاری نہیں کی۔ بلاشبہ ان کی یہ بات صحیح ہوگی لیکن اگر صحیح بات بطور مذاق کہی جائے تو کیا وہ صحیح ہوگی ؟ اور کیا اس کو کہا جائے گا کہ انہوں نے تو اس کو تسلیم کرلیا اور اگر کوئی شخص زندگی میں اس طرح کا مذاق کرتا ہو اور ازراہ استہزاء کہتا ہو تو اس کے کہنے کا اعتبار کرلیا جائے گا ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ دوہرا مجرم ہوگا ایک حقیقت کو نہ تسلیم کرنے کا اور دوسرا استہزاء و مذاق کرنے کا۔
Ayah 79:13پس سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایک سخت آواز ہو گی
۔ 13 فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! اگر یہ لوگ اس طرح کے مذاق کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں آخر کب تک یہ مذاق کریں گے ؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ کہا جاتا ہے کہ گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا ؟ چار دن کی زندگی تو ان کو دی گئی ہے اور وہ بھی مہلت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دے دی ہے اور اس دی گئی مہلت کے بل بوتے وہ اس طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جب قیامت کا وقت آئیگا تو و اچانک دھمکے گی اور پھر ان کی قیامت تو اس وقت ہی آگئی جب ان کو موت نے آ کر دبوچ لیا پھر کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ موت کو آتے کتنی دیر لگتی ہے کہ ابھی مذاق کر رہے تھے اور ابھی مذاق کا شکار ہو کر رہ گئے
Ayah 79:1414 (ساھرۃ) میدان ، زمین ، روئے زمین ، سھر سے جس کے معنی نیند اڑ جانے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث مگر اس کا استعمال زمین اور روئے زمین کے معنی میں ہوتا ہے۔ امام رازی تفسیر کبیر میں تحریر کرتے ہیں کہ (ساھرۃ) سفید ہموار زمین کو کہتے ہیں اس نام سے اس کے موسوم ہونے کی دو وجھیں ہیں : (1) اس پر چلنے اولا خوف سے سوتا نہیں۔ (2) اس میں سراب رواں ہوتا ہے۔ یہ عرب کے محاورہ عین ساھرۃ چشمہ رواں سے ماخوذ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں ایک تیسری وجہ بھی ہے (3) وہ یہ کہ زمین کا (ساھرۃ) اس لئے نام پڑا کہ شدت خوف کے باعث اس میں انسان کی نیند اڑ جاتی ہے تو وہ زمین کہ جس کے اندر قیامت کے موقع پر کافر جمع ہوں گے تو نہایت ہی خوف میں ہوں گے لہٰذا اس زمین کا نام (ساھرۃ) اسی بنا پر ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ میدان حشر میں بس ایک تہدید ہوگی یا ڈانٹ ہوگی یا ” اواو “ کے الفاظ منہ پر ہوں گے کیونکہ وہ اس سے کفر کرتے تھے اور اتنے میں ان کا دوبارہ کھڑا ہوجانا اور میدان حشر میں پہنچ جانا ہوجائے گا تم کس وہم میں مبتلا ہو کیا تم کو دنیوی زندگی کی طرح بچہ بنا کر تمہاری جوانی تک پہنچنے اور بالغ ہونے کا انتظار کیا جائیگا ؟ ہرگز نہیں۔ ع ایں خیال است و محال است و جنون۔ بلکہ وہ سارا معاملہ ایک پلک جھپکنے کے لحظہ میں ہوجائے گا ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ دار العمل نہیں ہے کہ وہاں تمہارے اعمال کا انتظار کیا جائے بلکہ وہ دار الجزاء ہے اور فیل ، پاس دیکھنے کے لئے دائیں بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملنے کا ہے وہ بھی تمہارے اختیار سے نہیں کہ ڈاکیہ رجسٹری لے کر آتا ہے اور وصول کرنے والے کا پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کہاں گیا ؟ نہیں ! ادھر ہمارا حکم ہوا اور ادھر دائیں والوں کے ہاتھ میں پہنچ گیا اور یہی صورتحال بائیں والوں کے ساتھ ہوئی۔ نہ دیر لگی اور نہ بائیں والوں نے چالاکی کے ساتھ دائیں میں پکڑ لیا بلکہ جس ہاتھ میں دیا گیا وہ اس کو پکڑنے پر مجبور محض ہوا کیونکہ اختیار کی بحث اب ختم ہو کر رہ گئی کیونکہ اس کا تعلق دارالعمل کے ساتھ تھا اور وہ بہت پیچھے رہ گیا ۔ اب معامل محض اہل جنت کے ساتھ خاص ہے اور وہ وقت ابھی حساب کتاب کے بعد آئے گا۔
Ayah 79:15کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر پہنچی تھی
۔ 15 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب چند واسطوں سے سیدنا یعقوب (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے۔ ان کے والد ماجد کا نام عمران اور والدہ محترمہ کا نام یو کا بد لکھا ہے۔ عمران کے گھر موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ایسے زمانہ اور اس حال میں کوئی جب کہ فرعون وقت نے اسرائیل لڑکوں کے قتل کا فیصلہ کیا تھا۔ اس لئے آپ کی والدہ ماجدہ اور دوسرے اہل خاندان ان کی ولادت کے متعلق سخت پریشان ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی آسیہ کے عمران کی بیوی یو کا بد کے ساتھ خاندانی تعلق ہونے کے باعث بڑے گہرے مراسم تھے۔ آسیہ نے یوکا بد کا ہاتھ بٹایا اور دونوں کے درمیان ایک خاص طرح کا معاہدہ طے پا گیا جس کے نتیجہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے بچپن ہی میں محل شاہی تک پہنچا دینے کی ایک سکیم تیار کرائی جو حکمت الٰہی کے تحت تکمیل کو پہنچ گئی اور اس طرح بچہ فرعون کا لے پالک بنایا گیا اور اس کی پرورش کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہی کو مقرر کرلیا گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے قاتلوں کے ہاتھوں اپنی خاص حکمت سے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کرا دی۔ جب آپ عین شباب کو پہنچ گئے اور اس راز سے پردہ اٹھا دیا گیا کہ آپ کا تعلق بنی اسرائیل کے فلاں خانوادے سے ہے لیکن اس کے باوجود آپ بدستور شاہی محلات میں شہزادگی کی شکل میں رہے اور ایک عرصہ کے بعد کچھ ایسے اتفاقات پیدا ہوگئے کہ آپ کو حکومت وقت نے قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا لیکن عین اس وقت آپ کو اس کی خبر لگ گئی جب ابھی آپ کی گرفتاری کے آرڈر جاری نہیں ہوئے تھے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مصر چھوڑ دیا اور بغیر کسی پروگرام کے مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ آپ کا ایک ساتھی بھی آپ کے ساتھ تھا۔ آپ نے مصر سے نکلتے وقت ہی اپنے ساتھی سے یہ بات طے کرا لی تھی کہ جیسا کہ مصر میں معروف ہے کہ اس وادی میں ایک شخص رہتا ہے جو فرعون کی حکومت کو اچھا نہیں سمجھتا اور وہ کسی دوسری حکومت کا نمائندہ ہے کہ اگر اس سے ہماری ملاقات ہوجائے تو آپ کو ہی الوداع کہہ دوں گا اور میں اس کے ساتھ کچھ رہ لوں گا۔ آپ نے اس پروگرام کے مطابق اس سمت میں سفر شروع کردیا ، چلتے چلتے آپ اس جگہ سے کچھ آگے نکل رہے تھے کہ قدرت نے آپ کی امداد کی اور کوئی سبب پیدا ہوگیا جس کے باعث ان کی سمجھ میں آگیا کہ ہم تو اس جگہ سے کچھ آگے نکل آئے۔ آپ وہاں سے واپس ہوئے تو اللہ نے آپ کی ملاقات اس آدمی سے کرا دی ۔ وہاں سے انہوں نے اپنے ساتھی کو رخصت کردیا اور خود اس کے پاس رک گئے پھر جب وہ اپنے پروگرام کے مطابق واں سے نکلنے لگے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے بھی اپنے ساتھ اس دور میں لے چل یے ۔ دونوں کے درمیان کچھ معاہدہ طے ہوا اور دونوں چلے لیکن منزل مقصود کا اس شخص کو معلوم تھا جس کے ساتھ آپ جا رہے تھے۔ راستہ میں کچھ ایسے واقعات پیدا ہوئے جن کے باعث موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنے اس معاہدہ کی وہ پابندی قائم نہ رہ کسی جس کے قائم رکھنے کا وعدہ لیا گا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) ایک بار بھولے ، پھر دوسری بار بھولے اور جب تیسری بار بھی بھول گئے تو معاہدہ کے مطابق الگ الگ ہونا ان دونوں پر لازم آگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نے ان تینوں واقعات کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے آپ کو اپنے سے الگ کردیا اور اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے مدین کی طرف نکل کھڑے ہوئے کہ آپ تو واپس مصر کی طرف جا ہی نہیں سکتے تھے۔ آپ مدین کے قریب پہنچ کر ایک ایسے کنوئیں پر رک گئے جہاں بہت سے گڈریئے اپنے اپنے ریوڑوں کو پانی پلانے کے لئے کھڑے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک طرف تو گڈریئے تھے لیکن ایک طرف دو عورتیں تھیں جو پیچھے اپنے ریوڑ کو سنبھالے الگ کھڑی تھیں۔ آپ نے جب ان لڑکیوں کو دیکھا تو فوراً اس حکومت کا نقشہ آپ کے سامنے آگیا کہ یہ معاشرہ کس قسم کا معاشرہ ہے ؟ آپ باوجود مسافر ہونے کے ان لڑکیوں سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ تمہارے یہاں ریوڑ کو روک رکھنے کی اصل وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے ٹھہرنے کی اصل وجہ اپنے ریوڑ کو پانی پلانا ہے اور ہم کنوئیں سے پانی نکالنے سے قاصر ہیں جب یہ لوگ اپنے اپنے ریوڑوں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے تو ان کا بچا ہوا پانی ہم اپنے ریوڑ کر پلائیں گی پھر اپنے گھر کو واپس جائیں گی۔ آپ نے ان کی بات سنی ، وجہ پوچھی کہ تم ریوڑ کے ساتھ کیوں ہو تو انہوں نے جو وجہ تھی وہ صاف صاف کہہ دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کنوئیں اور کنوئیں کے ڈولوں پر ایک نظر ڈالی اور پھر اس ماحول کے سارے گڈریوں کو بھرپور نظر سے دیکھا اور ایک بڑا ڈول بھی پایا جس کو کوئی آدمی ہاتھ نہیں لگا رہا تھا۔ آپ نے وہ ڈول پکڑا اور کنوئیں میں لٹکاتے ہوئے لڑکیوں کو کہا کہ ریوڑ کو ادھر لائیں۔ وہ ریوڑ کو قریب لائیں۔ اس طرح آپ نے بغیر کسی اجرت و مزدوری کے ان لڑکیوں کا وہ کام کردیا اور جب ریوڑ پانی پی چکا تو موسیٰ (علیہ السلام) الگ تھلگ ایک درخت کے سایہ میں چلے گئے۔ لڑکیوں نے اپنے ریوڑ کو ہانکا اور گھر کو چلی گئیں ۔ باپ نے لڑکیوں سے جلدی واپس آنے کی وجہ پوچھی ؟ تو انہوں نے ایک اجنبی آدمی کے اس کردار کا ذکر کیا اور ریوڑ کو اس کی جگہ محفوظ کیا تو والد نے ان سے اس طرح کی بات سنی تو فوراً ایک لڑکی کو بھیجا کہ واپس جا کر اس کنوئیں کے قریب دیکھے اور اگر وہ اجنبی شخص وہاں موجود ہو تو اس کو اپنے ساتھ اپنے گھر لانے کی دعوت دے۔ لڑکی نہایت خوشی کے ساتھ چلتی ہوئی شرم و حیا کا ایک پیکر بن کر موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب آئی اور ان سے فرمایا کہ میرے والد آپ کو گھر آنے کی دعوت دیتے ہیں اگر آپ میرے باپ کی بات سنیں تو شاید وہ آپ کو اس کام کی کوئی اجرت دے دیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لڑکی کی بات سنی تو اللہ تعالیٰ سے اپیل کی کہ اے اللہ ! میں تو ایک بےراہ رو مسافر ہوں جس کو اپنی منزل کا کچھ بھی پتہ نہیں اس لئے میرے ساتھ جو معاملہ بھی تو فرمائے وہ نیکی اور بھلائی کا ہی ہونا چاہئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دل میں دعا کرنا شروع کی اور اس لڑکی کے پیچھے پیچھے چل پڑے اور اس طرح آپ کی اس لڑکی کے والد سے ملاقات ہوئی۔ ان دونوں لڑکیوں کے والد ماجد بوڑھے تھے اور باتوں ہی باتوں میں اللہ نے ایک راہ و رسم پیدا کردی۔ لڑکیوں کے باپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کا مصر واپس جانا کسی حال میں بھی درست نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تو ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہے اور آپ اگر یہاں میرے پاس ٹھہر جائیں تو میں تم کو ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح کر کے دے سکتا ہوں۔ بشرطیکہ آپ ایک معاہدہ قبول کرلیں اور وہ معاہدہ یہ ہے کہ آپ آٹھ ، دس سال تک میرے ساتھ رہیں اور میری اولاد ان دونوں بچیوں کے علاوہ نہیں ہے اسلئے اس ریوڑ کی ذمہ داری بھی آپ قبول کرلیں کہ یہ خدمت آپ کو کرنا پڑے گی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس معاہدہ کو منظور کرتے ہوئے ریوڑ کی ذمہ داری سنبھال لی اور لڑکیوں کے باپ نے دونوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دے دیا۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو وہاں تک جانے کی جگہ مل گئی اور اسی دوران آپ نے مصر میں اپنے خاندان سے مراسم بھی بحال کئے اور اپنی داستان بھی ان کو کہلوا دی اور ایک طرف یہ آٹھ دس سال کی مدت پوری ہونے ہوتے مصر کی حالت بھی پہلے سے بدل گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے خاندان والوں نے اس اتفاقی قتل کی دیت دے دی جس کے قتل کا باعث مصر سے نکلنا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال کی مدت پوری کرنے کے بعد اسی دوران جو بچے آپ کے پیدا ہوئے ان کو اپنی اہلیہ کے ساتھ لیا اور مصر کی طرف واپس جانے کے ارادہ سے نکل کھڑے ہوئے۔ اس واقعہ کی طرف آیت کا اشارہ ہے۔
Ayah 79:16جب اس کے رب نے طویٰ کی مقدس وادی میں اس کو آواز دی
۔ 16 غرض موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خسر کے یہاں مدت اجارہ پوری کرنے کے بعد جو آٹھ دس سال تھی بعد میں کچھ مزید وقت رہے یا نہیں سیرت نگار دونوں طرح کے دلائل دیتے ہیں لیکن ہمیں اس جگہ اس سے بحث نہیں بحث فقط یہ ہے کہ انجام کار موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لے کر مصر کی طرف واپس آنے کے لئے نکلے ظاہر ہے کہ یہ قافلہ کئی دن تک چل کر ہی مصر پہنچ سکتا تھا۔ یہ لوگ جب مصر کو روانہ ہوئے تو راستے میں ایک جگہ رات گزارنے کے لئے پڑائو کیا ، سردیوں کا موسم تھا آپ اور آپ کا خاندان سردی سے ٹھٹھر رہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دور وادی میں ایک جگہ آگ کو روشن پایا تو اپنے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ یہیں ٹھہریں اور میں اس آگ کی طرف جاتا ہوں ، وہاں سے کسی راہنما سے یہ راستہ اور سمت بھی پوچھوں گا کہ ہم صحیح جا رہے ہیں یا نہیں ؟ اور وہاں سے آگ بھی لائوں گا تاکہ تم لوگ تاپ سکو۔ اپنے لوگوں کو وہاں بٹھا کر موسیٰ (علیہ السلام) آگ کی طرف چل نکلے۔ جب اس جگہ کے قریب ہوگئے تو وہاں سے ایک آواز آئی جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو متوجہ کر رہی تھی کہ اے موسیٰ ! آگ ادھر نہیں البتہ میں تیرا رب ہوں اور یہ وادی وادی قدس طویٰ کی ہے اور یہ آگ جو تجھے دکھائی گئی ہے محض آپ کو متوجہ کرنے کے لئے ہے کہ تجھے معلوم ہوجائے کہ بعض آ گیں ایسی بھی ہیں کہ وہ آگ نہ ہونے کے باوجود آگ ہی کہلاتی ہیں اور لوگ ان کو آگ ہی سمجھتے ہیں جس طرح ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ایسے ہی ہر روشن چیز آگ نہیں ہوتی۔
Ayah 79:17اے موسیٰ فرعون کے پاس جا کر وہ حد سے بہت ہی تجاوز کر گیا ہے
۔ 17 اس واقعہ کی تفصیلات پیچھے سورة الاعراف ، سورة ہود اور سورة الشعراء میں گزر چکی ہیں اس لئے اس جگہ اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ فرمایا آپ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے یہ روشنی دکھائی گئی اب آپ آگئے ہیں تو ہمارا پیغام سن لیں کہ آپ مصر جا رہے ہیں اپنے خاندان والوں کے پاس لیکن ہماری ہدایت یہ ہے کہ آپ اب جائیں فرعون وقت کے پاس کہ اس نے ساری حدود کو پھلانگ دیا ہے اور اب میرے پروگرام میں ہے کہ آپ کے ذریعہ قوم بنی اسرائیل کو نئی زندگی بخشی جائے ۔ فرعون کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی ہدایت کرو اور اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اس سے مطالبہ کیجیے کہ میری قوم بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے حوالے کر دے تاکہ ہم یہاں سے نکل کر کسی دوسرے علاقہ میں آباد ہوجائیں۔ مصر کے تخت پر جو شخص بھی بیٹھتا اس کو فرعون کہتے تھے اور فراعنہ مصر ایک دوسرے سے زیادہ بڑھ کر برے تھے اور خصوصاً بنی اسرائیل کے حق میں ان کی پالیسی نہایت سخت تھی۔ اس وقت کے فرعون نے بڑا اودھم مچا رکھا تھا اور نہایت ہی سرکشی اختیار کر رکھی تھی۔ رعایا کو اس نے مختلف طبقات میں تقسیم کر رکھا تھا اور ان کے مفادات کو آپس میں متصادم کردیا تھا تاکہ وہ کسی حال میں متحد نہ ہو سکیں اور ایسا نہ ہو کہ اس کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیں اور خود بنی اسرائیل کے ایک قوم ہونے کے باوجود اس نے ان کو کئی ایک گروہوں میں تقسیم کردیا تھا تاکہ من حیث القوم وہ آپس میں بھی اکٹھے نہ ہو سکیں۔ تفصیل اس کی پیچھے گزشتہ سورتوں میں گزر چکی ہے خصوصاً الاعراف اور الشعراء میں۔
Ayah 79:18پھر اس سے کہو کیا تو پاک و صاف ہونا چاہتا ہے ؟
۔ 18 موسیٰ (علیہ السلام) کو جو فرعون کے لئے پروگرام دیا گیا تھا اس میں سرفہرست یہ چیز تھی کہ اے فرعون ! آپ کی حکومت پر جو اعتراض وارد ہوتے ہیں میں ان سے ایک ایک کی وضاحت کرتا ہوں بشرطیکہ تو ان کی اصلاح کی یقین دہانی کرائے لیکن اگر تو اپنی زیادتیوں کو نہ تو تسلمک کرنے کے لئے تیار ہو اور نہ ہی ان کا کوئی تدارک کرنے کے لئے تو پھر خواہ مخواہ وقت کے ضیاع کی ضرورت نہیں ہے پھر تم میری قوم بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو اور کسی طرح کی مزاحمت نہ کرو میں ان کو لے کر یہاں سے نکل جاتا ہوں۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک بہت بڑی تقریر دربار فرعون میں جا کر اس کے اعوان و انصار کی موجودگی میں کردی اور اللہ تعالیٰ کا پیغام بےدھڑک ہو کر پہنچایا۔ اس مضمون کو قرآن کریم نے اس طرح ضبط فرمایا کہ ” اے فرعون کیا تو چاہتا ہے کہ تو پاک و صاف ہوجائے۔ “ (ھل لک الی ان تزکی)
Ayah 79:19۔ 19 فرعون کے پاس جا کر اس کو تلقین کریں کہ میں تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہوں کہ تو رب ذوالجلال والا کرام سے ڈر جا کیونکہ اس نے ظلم کی انتہا کردی ہے کہ مخلوق ہو کر خالق بن بیٹھا ہے۔ آپ اس کے پاس جائیں اور اسے سمجھائیں کہ اس مشت خاک کو یہ غرور زیبا نہیں ہے اگر تو چاہے تو میں تجھے رذائل سے پاک ہونے کا طریقہ سکھا سکتا ہوں۔ اگر تیری خواہش ہو تو تجھے تیرے رب کریم کی طرف بلا سکتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی معرفت کی راہ ہے۔ اس طرح تیرے دل سے غرور و پندار دور ہوجائے گا اور تیرے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف پیدا ہوجائے گا اور جب اس کا خوف پیدا ہوگیا تو یہ ساری بد اعتدالیاں کا فور ہوجائیں گی اور تو راہ راست پر گامزن ہوجائے گا۔ لیکن فرعون کو کسی پروردگار کی طرف دعوت دینا ذنبور کے چھتے پر ہاتھ ڈالنے سے کم نہیں تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے (واھدیک الی ربک) کے الفاظ سن کر آگ بگولا ہوگیا اور اس جگہ اگر اس کا ذکر نہیں تاہم دوسری جگہ ہے کہ اس نے بڑے تعجب سے پوچھا کہ : (من ربکما یموسیٰ ) اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کو یہ تعجب کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ اس نے اناربکم الاعلی کا دعویٰ بلند کر رکھا تھا چناچہ اس کا ذکر آگے آنے ہی والا ہے۔ لیکن جونہی اس نے سوال اٹھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جھٹ جواب دیا کہ : (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی) (طہ : 05) ” موسیٰ (علیہ السلام) نے بےدھڑک جواب دیا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو اس کی خلقت بخشی پھر اس پر زندگی کو عمل کی راہ کھول دی۔ “ تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی ، جلد ششم سورة طہ کی آیت 64 سے 45 تک کی تفسیر دیکھیں۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” میں تھے تیرے پروردگار کی طرف راستہ دکھائوں تاکہ تجھ میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو۔ “
Ayah 79:20پھر اس نے فرعون کو ایک بڑی نشانی دکھائی
۔ 20 یہ بڑی نشانی کیا تھی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس گئے ، اسے دعوت حق دی اور اپنی صداقت پر دلیل پیش کی۔ اپنا عصا اس کے سامنے زمین پر پھینکا جو اژدھا بن کر پھنکارنے لگا ، لیکن اتنی بڑی نشانی دیکھ کر بھی وہ آپ کی تکذیب سے باز نہ آیا اور کہنے لگا کہ یہ سب جادو کی کرشمہ سازی ہے۔ یہ عصا جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے پھینکا وہ کیا تھا ؟ یہ بلاشبہ وہی لاٹھی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے لیکن اس جگہ اس سے مراد بنی اسرائیل کی حکومت کے قیام کے ہیں کہ اس وقت جو حکومت برسر اقتدار ہے اس کو اقتدار پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں اگر حکومت کا حق ہے تو وہ محض قوم بنی اسرائیل کو ہے اس کے لئے جو دلائل موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کئے ان کو عصا سے موسوم کیا گیا ہے گویا عصا ایک محاورہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بار بار آیا ہے اور عصا سے مراد جو کچھ لی گئی ہے اس کی تفصیل اس جگہ دیکھ لینا بھی خالی از فائدہ نہیں ہوگا۔
عصا کا مفہوم و مطلب اور استعمال اہل یہود اور اہل اسلام کے مطابق
(1) ” یہوداہ سے سلطنت نہیں چھوٹے گی اور نہ اس کی نسل سے حکومت کا عصا موقوف ہوگا۔ “ (پیدائش 94 : 01)
(2) ” اسرائیل سے ایک عصا اٹھے گا اور عذاب کی نواہی کو مارلے گا۔ “ (گنتی 42 : 71)
(3) ” لوہے کی عصا یعنی لاٹھی سے اس کو توڑے گا۔ “ (زبور 2 : 9)
(4) ” تیری سلطنت کا عصا لاٹھی رساتی کا عصا ہے تو صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہے۔ “ (زبور 54 : 7)
(5) ” لوہے کے عصا سے انہیں توڑے گا۔ “ (زبور 02 : 2)
(6) ” تیری چھری اور تیری لاٹھی وہی میری تسلی کا باعث ہیں۔ “ (زبور 32 : 4)
(7) ” خدا تیرے زور کا عصا (لاٹھی) صحیحوں میں بھیجے گا تو اپنے دشمنوں کے درمیان حکمرانی کرے گا۔ “ (زبور 011 : 2)
(8) ” تیری بادشاہت کا عصا راستی کا عصا ہے۔ “ (عبرانیوں باب 1)
(9) ” وہ لکڑا جو لوہے کے عصاء سے سب قوموں پر حکومت کرے گا۔ “ (عکاشفہ 21 : 5)
(01) ” یہوداہ میرا عصا ہے ، افرائیم میرے سر کار خود ہے۔ “ (زبور 06 : 7)
(11) صحیح بخاری ص 72 پارہ 92 ایضا ص 803 پارہ 41 میں مفروعاً مروی ہے کہ : لا تقوم الساعۃ حیر یخرج رجل من قحطان یسوق الناس بعصاہ جس کی حافظ صاحب نے فتح الباری میں قرطبی سے اس طرح وضاحت کی ہے کہ : یسوق الناس بعصاہ جس کی حافظ صاحب نے فتح الباری میں قرطبی سے اس طرح وضاحت کی ہے کہ : یسوق الناس بعصاہ کنایۃ عن غلبۃ علیھم وانقیاوھم لہ ولم یرونفس العصا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بادشاہ لوگوں کو لاٹھی سے چلائے گا یعنی ان پر خوب حکومت کرے گا اور ہر ایک کو اپنی اپنی جگہ پر دبا کر رکھے گا ہرگز مطلب نہیں کہ وہ سچ مچ لاٹھی لئے ان کے پیچھے پیچھے پھرتا رہے گا۔
(21) صحیح مسلم ص 134 جلد اول میں حاکم وقت عبدالملک بن مروان کی بابت مروی ہے کہ : فنکت ساعۃ بعصاہ جس کی امام نووی رحمت اللہ علیہ نے اس طرح تشریح فرمائی ہے کہ : وھذہ عادت من تفکر فی امرھم لاٹھی سے اس طرح پر کرید کسی اہم کام میں غور و فکر کے لئے ہوا کرتی ہے۔ یہ شخص بادشاہ ہے گہری غور و فکر سے سوچ رہا ہے جو کہ بادشاہوں کا کام ہے۔
(31) صحیح بخاری ص 501 پارہ 81 میں عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ : (عن علی بن ابی طالب خرج من عند رسول اللہ فی وجعہ الذی توفی فیہ فقال العباس یا ابا حسن کیف اصبح رسول اللہ فقال اصبح بحمد اللہ بارئاً فاخذبیدہ عباس بن عبدالمطلب فقال لہ انت واللہ بعد ثلاث عبدالعصا وانی واللہ لاری رسول اللہ سوف یتوفی من وجعہ ھذا انی اعرف وجوہ بنی المطلب عند الموت اذھب بنا الی رسول اللہ ﷺ ولئسلہ فمن ھذا لامران کان فینا علمنا ذلک وان کان فی غیرنا علمناہ فاوصی بنا فقال علی انا وللہ لئن سئلنا ھا رسول اللہ ﷺ فمنعنا لا یعطینا الناس بعدہ وانی لا سئلھا رسول اللہ ﷺ ” لوگوں نے علی سے پوچھا کہ آج رسول اللہ ﷺ کی طبیعت کیسی ہے ؟ فرمایا کہ بہت اچھی ہے۔ یہ سن کر عباس نے فرمایا کہ اچھی کیا مجھے تو آثار سے معلوم ہو رہا ہے کہ وقت ختم ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ آج سے تین دن کے بعد آپ کو عبدالعصا حکومت وقت کے ماتحت ہو کر کام کرنا پڑے گا لہٰذا ضروری ہے کہ آپ ابھی جا کر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کریں کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا ؟ پھر خواہ وہ ہمارا نام بتائیں یا کسی دوسرے کا جو بھی تجویز فرمائیں بہرحال ہم کو علم تو ہوجائے گا کہ وہ کون ہے ؟ علی ؓ نے جواب دیا کہ مجھے امیدن ہیں ہے کہ وہ ہمیں نامزد فرمائیں اچھا اگر آپ نے کسی دوسرے کو نامزد فرما دیا تو ہمارے لئے اس کا خلاف ممکن ہی نہیں رہے گا اور اسی طرح معاملہ رہا تو رائے دینے کا حق تو ہمارا بھی رہے گا لہٰذا اس مطلب کے لئے آپ کے پاس جانا صحیح اور درست معلوم نہیں ہوتا۔
(41) اوپر عبدالعصا لاٹھی کا غلام بطور کنایہ واقع ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ تجھے حکومت وقت کی رعایا کا ایک فرد ہو کر رہنا پڑے گا۔ چناچہ عباس کی پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی جس کا باعث عباس کی کمال فراست ہے۔
(51) کامل مبرد ص 188 جلد اول میں ہے کہ حجاج بن یوسف نے خطبہ جمعہ پڑھا تو اسی اثناء میں اسی بازار سے با آواز بلند تکبیر مسموم ہوئی تو اس نے اصل موضع کو چھوڑ کر پکارا کہ اے اہل عراق ! اے اہل شقاق ! اے اہل نفاق ! اے بد اخلاق ! اے عبید العصا ! اے اولاد الاماء میں تمہاری یہ تکبیریں سن رہا ہوں ، یہ تکبیریں شیطان کی تکبیریں ہیں ، اللہ تعالیٰ کی تکبیریں نہیں ہیں ! پھر اس نے عبدالعصا پر یوں بیان کیا کہ : یریدانھم لاینقادون الا بالا ذلال کما قال مفزع الحمیری العبد یقرع بالعصار والحرتکفیہ الملامۃ ” عقل مند کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور بیوقوف لونڈی زادہ کو لاٹھیوں سے سیدھا کیا جاتا ہے اور یہ اعلان حکومت وقت کا اعلان ہے۔
اگر رفع عصا اور وضع عصا اسی طرح شق عصا اور القائے عصا وغیرہ کی وضاحت احادیث اور کتب اسلام اور عربوں کے محاورات میں دیکھی جائے تو اس کس امثلہ اتنی بیان یک جاسکتی ہیں کہ صفحات کے صفحات بھر جائیں۔ ہمیں اس طوالت کی ضرورت نہیں ہم تو صرف یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن کریم نے اس طرح کے جو اشارات و استعارات بیان کئے ہیں ان کا مفہوم بہت واضح ہے لیکن افسوس کے ہمارے علماء و فضلائنے ہمارے مفتیوں اور فقہاء نے زیادہ تر لفظی بحث کو اٹھایا ہے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی حالانکہ اشارات و استعارات اور محاورہ ضرب الفاظ کی بحث نہیں ہوتی بلکہ مفہوم متعین کرنا ضروری ہوتا ہے۔
Ayah 79:21اس پر فرعون نے جھٹلایا اور نافرمانی کی
۔ 21 فرعون نے کیا کیا ؟ وی جو کچھ حکومتیں اکثر اوقات میں کیا کرتی ہیں کہ مخالف کی بات کو اگرچہ وہ ایک سو ایک بار صحیح ہو لیکن حکومت وقت کے اعوان و انصار کے خلاف پڑتی ہو تو کبھی کسی برسر اقتدار پارٹی اور فرد نے آج تک تسلیم نہیں کی بلکہ اس کے توڑ پیش کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے۔ دلائل کا جواب کبھی کسی نے دلائل سے نہیں دیا بلکہ ہمیشہ سینہ سے دیوار کو ڈھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مدلل باتیں سنیں تو بجائے ان کو تسلیم کرنے اور حقیقت کو پالینے کے اس نے وہی کچھ کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور نافرمانی پر تل گیا اور جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی وضاحت کی تھی اس کو پست پشت ڈال دیا۔ حکومتیں ہمیشہ یہی کرتی آئی ہیں اور کر رہی ہیں اور کرتی رہیں گی۔ اس دور کے حالات کو نگاہ میں رکھیں تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ہر ملک میں ہمیشہ سے دو طبقات بڑے اور اونچے چلے آ رہے ہیں ایک سیاسی لیڈر اور دوسرے مذہبی راہنما اور ان دونوں طبقوں نے ہمیشہ ایک ہی جیسا کردار ادا کیا ہے اور کسی زمانہ میں بھی انہوں نے حق بات کو سیدھے ہاتھ تسلیم نہیں کیا اور اس طرح دلائل کی زبان کو بھی انہوں نے کبھی قبول نہیں کیا بلکہ ہمیشہ طاقت ، دھنس اور دھاندلی ہی کو سارے دلائل کا نچوڑ تسلیم کیا ہے۔ قرآن کریم نے دو لفظوں میں فرعون کے کردار کو قلمبند کردیا۔ فرمایا : (لکذب و عصی) کہ فرعن نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور نافرمانی پر تل گیا۔
Ayah 79:22پھر اس نے روگردانی کی اور موسیٰ کے خلاف کوششیں شروع کر دیں
۔ 22 برہحال مختلف مجالس میں مکالمت (Dialouge) کا یہ سلسلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان جاری رہا۔ فرعون حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے روشن اور پر از صداقت دلائل سن سن کر اگرچہ پیچ و تاب کھاتا مگر لاجواب ہوجانے کی وجہ سے کوئی صورت نہیں بنتی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے رستگاری حاصل کرے۔ وہ خوب جانتا تھا کہ میری ربوبیت اور الوہیت کی بنیاد اس قدر کمزور ہے کہ دلائل موسیٰ کی صداقت کے سامنے تار عنکبوت کی طرح تار تار ہوجاتی ہے اور درباری بھی اس کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لئے فرعون کے لئے یہ بات سخت ناقابل برداشت تھی اور جس قلمرو میں اس کی رعب شاہی اور دبدبہ حکومت کے سامنے اس کی ربوبیت والوہیت کا جاہ و جلال بھی مانا جاتا ہو وہاں موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کی یہ جرأت حق اندر ہی اندر اس کو سخت خائف اور پریشان کر رہی تھی۔ اسی لئے فرعون نے اس سلسلہ بحث کو ختم کرنے کے لئے دوسرے طریقے اختیار کئے جن میں اپنی طاقت و قہر مانیت کا مظاہرہ ہو۔ مصری قوم کو موسیٰ اور قوم بنی اسرائیل کے خلاف مشتعل کرنا اور رب العالمین سے جنگ کا اعلان کر کے اس بحث کا خاتمہ کردینا شامل تھا۔ چناچہ اس نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو ! میں تو تمہارے لئے اپنے سوا کوئی معبود نہیں مانتا اور تسلیم کرتا اور اسی طرح ہوتے ہوتے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ اب مقابلہ کی تیاریاں شروع کردیں اور اعوان و انصار نے بھی اس کو کہا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔
Ayah 79:23پس اس نے لوگوں کو جمع کیا اور منادی کرا دی
۔ 23 فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لئے ملک مصر کے بڑے ماہر لوگوں کو شاہی دعوت نامے دیئے اور ان کو ایک دن مقرر کردیا کہ فلاں تاریخ کو فلاں میدان میں تم کو ملک مصر کے ایک ساحر سے مناظرہ کرنا ہے جس میں اس بات پر دلائل پیش کرنا ہیں کہ قوم بنی اسرائیل کو اس ملک کی قلیدی اسامیوں پر متعینن ہیں کیا جاسکتا یہ صرف اور صرف قبطیوں کا حق ہے وہ اس ملک پر حکومت کریں اور قلیدی آسامیوں پر متعین کئے جائیں ظاہر ہے کہ ایک زمانہ تک قوم بنی اسرائیل بھی اس ملک کے سیاہ وسفید کی مالک رہ چکی تھی اور بنی اسرائیل سے پہلے بھی اس ملک پر حکمران کرتے رہے تھے اب دونوں گروہوں کو مقابلہ کرنا تھا اور دونوں کے حکومتی ادوار پر بحث تھی کہ کن لوگوں کا زمان سنہری زمانہ (Golden Period) کہلاتا ہے جس سے ملک کے سارے عوام کی حالت درست ہوجائے اور سب کو ایک جیسے حکومتی حقوق مل جائیں۔ اس مناظرہ کا اصل مقصود کیا تھا اس کا ذکر آنے والی آیت میں بڑی وضاحت سے کیا جا رہا ہے۔
Ayah 79:24پھر لوگوں کو اس نے کہا کیا میں تمہارا رب اعلیٰ نہیں ہوں ؟
۔ 24 مناظرہ کا موضوع (Topic) زیر نظر آیت نے بالکل صاف کردیا کہ موضوع یہ ہے کہ اس ملک کا رب کون ہے ؟ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آتے ہی بغیر کچھ بات چیت کرنے کے صاف صاف لفظوں میں فرما دیا کہ میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں اور تمہارے پاس آیا ہوں حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے علم میں تھا کہ اس دور میں مصر پر جو حکمران مقرر کیا جاتا تھا وہ سورج دیوتا کا اوتار سمجھ کر رب اور معبود کہلاتا تھا۔ اس کے باوجود اور کھلی گمراہی کیا ہو سکتی ہے کہ اس نے آتے ہی حکومت کے سب سے بڑے عہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اس کے مقابلہ میں اپنے لئے ایک معبود بھی متعین کردیا ہے اور پھر سب سے زیادہ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ اپنے رب ہونے سے وہ انکار کرتا اس نے تو برملا رب مصر کا رب بھی اس کو مان لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت وقت کے دعویٰ کی اس نے کھلی مخالفت شروع کردی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہماری حکومت کو ہٹا کر اپنی قوم بنی اسرائیل کی حکومت مقرر کرے حالانکہ ہم مرتے دم تک ایسی حرکت نہیں کرنے دیں گے۔ اس نے بجائے اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اپنی حکومت کے اعوان و انصار کو آپس میں مناظرہ کرنے دیتا اور اس معاملہ میں دلائل پیش کئے جاتے حالات کے پیش نظر سلسلہ موضوع ہی بدل دیا اور سب کو مخاطب کر کے ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہار اسب سے بڑا معبود و الہ نہیں ہوں ؟ ظاہر ہے کہ قوم نے مع بنی اسرائیل کے اس کی اس حیثیت کو تسلیم کیا ہوا تھا وہ تو اس کی حیثیت کا انکار نہیں کرسکتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس نازک حالت میں فرعون کے ساحروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم جس مقصد کے لئے اس میدان میں اترے ہو اس کی کارروئای شروع کرتے ہوئے اپنے دلائل کو پیش کرو جیسا کہ تم پیش کرنا چاہتے ہو اس طرح بات کا رخ دوبارہ اصل موضوع کی طرف پھر گیا۔
Ayah 79:25پھر اللہ نے فرعون کو دنیا اور آخرت دونوں عذابوں میں مبتلا کر دیا
۔ 25 زیر نظر آیت اختصار ہے اس سارے معاملات و بیانات کا جو میدان میں زینت کے روز موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان پیدا ہوئے اور اس شکست کے بعد جس کو قرآن کریم نے دنیا کا عذاب قرار دیا ہے اور اس کے بعد دریائے نیل میں غرق ہونے کا واقعہ جس میں فرعون اور اس کے سارے لائو لشکر کو غرق کردیا گیا اور قرآن کریم نے اس کو آخرت کے عذاب سے تعبیر کیا ہے۔ تفصیل اس کی عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الاعراف ، جلد چہارم سورة ہود اور جلد ششم سورة الشعرا اور سورة القصص میں گزر چکی ہے یعنی دنیا کے عذاب سے وہ ذلت و رسوائی مراد ہے جو اس کو مجمع عام میں اٹھانی پڑی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنا عصا پھینکا تو وہ فرعون کے ساحرو کا سبب بنا بنایا صاف کر گیا اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ موسیٰ کے دلائل میں وہ وزن تھا کہ اس کے سامنے فرعون کے مناظرین کا جادو نہ چل سکا اور پھر یہی شکست فرعون کے حصہ میں نہ آئی اس سے بڑھ کر اس کو شکست یہ ہوئی کہ اس کے مدعو کئے ہوئے سارے ساحر رب موسیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے اور فرعون کی ربوبیت کا واضح الفاظ میں انکار کردیا اور اس طرح فرعون اور اس کی فرعونیت کو جس شکست اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا وہ اس سے دریافت کرنے کی بات تھی اور پھر جس طرح آخرت کے عذاب میں داخل کرنے کے لئے اس کو نیل میں غرق کیا گیا اس کی واضاحت بھی آپ پیچھے پڑھ چکے اور آخرت میں بھی ان لوگوں کے لئے عذاب الٰہی تیار کھڑا ان کا انتظار کر رہا ہے کہ کب قیامت بپا ہو اور ان کو ان کی آخری منزل پے لے جا کر دوزخ میں دھکیل دیا جائے۔ اس طرح فرعون سارے انسانوں کے لئے ایک حیرت بنا کر رکھ دیا گیا۔ (نکال) اسم منصوب ، مضاف ، ایسا عذاب جو باعث عبرت ہو نکل قید ، سخت بندش ، لگام ، لگام کا لوہا ، آگ کی بندش نکل وہ چیز جس سے سزا دیں۔ نکلۃ عبرتناک سزا نکل رسیغ ، طاقتور آدمی ، بہادر ، عقل مند ، تجربہ کار نکال عبرتناک سزا تنکیل (تفعیل) عبرتناک سزا دینا ، رسوا کرنا ، لوٹا دینا ، بھگا دینا ، اپنے سے ایک طرف کو کردینا ، وغیرہ۔