78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کے متعلق آپس میں سوال کرتے ہیں

یہ لوگ کس چیز کے متعلق آپس میں سوال کرتے ہیں ۔ 1 (عم) کس چیز سے ؟ یہ دراصل عن ماتھان کو م میں مدغم کردیا گیا کیونکہ نون اور میم دونوں غنے میں شریک ہیں اور ما کا الف اس غرض سے حذف کیا گیا تاکہ ما استفہامیہ اور ماخبر یہ میں تمیز باقی رہے۔ جس طرح (فیم) اور (مم) وغیرہ میں ہوا ہے۔ (فتح القدیر قاضی شو کافی ج 5 ص 353 طبع مصر) خیال رہے کہ قرآن کریم میں (عما) بھی استعمال ہوا ہے جس کے معنی جس چیز سے کئے ہیں اور یہ بھی اصل میں عن ماہی تھا جب قاعدہ سباق اس میں ادغام ہوا اور الف کو اس لئے حذف نہیں کیا گیا کہ ماموصولہ ہے اور یہی ان دونوں میں اصل فرق ہے۔ منکرین کو متوجہ کرنے کیلئے بطور سوال پوچھا جا رہا ہے کہ منکرین و معاندین اور کافر و فاسق کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ (تسائلون) جمع مذکر غائب مضارع تساول مصدر باہم پوچھ گچھ کریں۔ وہ باہم ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ یہ ایک دوسرے سے ان کا پوچھنا بطور مذاق اور استہزاء تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں اس طرح کے سوال و جواب کرتے تھے جس سے ان کی مراد تفہیم ہرگز ہرگز نہیں تھی بلکہ محض طبع آزمائی اور مذاق کا نشانہ بنانا تھا جس میں وہ بہت ماہر تھے۔
Ayah 78:2

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

اس عظیم خبر کے متعلق (وہ شک میں ہیں)

جس کے متعلق یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ۔ 3 جب لوگ آپ میں مل کر بیٹھتے ہیں اور اس نبا عظیم کے بارے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور جو کچھ نبی اعظم و آخر ﷺ نے بیان فرمایا ہے ان الفاظ پر ، ان الفاظ کے مفہوم پر مختلف طریقوں سے بحث کرتے ہیں اور جو کچھ کرتے ہیں وہ افہام و تفہیم کے لئے نہیں بلکہ از راہ مذاق کرتے ہیں اس لئے ان کی ان چہ میگوئیوں اور فضول و لغو بحث کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور وہ اس طرح بغیر کسی نتیجہ کے پہنچنے کے اس کو چھوڑ کر دوسری طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور پھر جب کبھی ان کو مل کر بیٹھنے کا اتفاق ہوتا ہے یا وہ ایسا اتفاق بنا لیتے ہیں تو پھر بھانت بھانت کی بولایں بولنا شروع کردیتے ہیں اور جب تک مجلس قائم رہتی ہے اس موضوع پر ان کی گفتگو جاری رہتی ہے اور طرح طرح سے بحث کر کے محمد رسول اللہ ﷺ اور دوسرے مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں اور وقوع قیامت کو اس لئے ناممکن خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عالم تو قدیم ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ حارث کیسے مان لیا جائے۔ غور کرو کہ یہ نیلگوں آسمان اور اس میں آویزاں اربوں ، کھربوں ستارے ، سیارے اور یہ سورج اور چاند اور یہ فلک بوس پہاڑ اور یہ نہایت بوڑھے دریا اور سای طرح کی یہ ساری چیزیں جو ہمارے مشاہدہ میں ہیں اور یہ ابد الآباد اسی طرح قائم چلی آرہی ہیں اور اسی طرح ان کے درہم برہم ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کو درہم برہم کردینا کوئی حکیمانہ بات ہے اس لئے قیامت کے بارے میں ہم کو جو بتایا گیا ہے یہ سب من گھڑت باتیں ہیں جن کا سر ہے نہ پیر۔ ایک صاحب ایک طرف سے بولتے ہیں کہ یار ” ہماری زندگی تو صرف دنیوی زندگی ہے اس کے بعد اور کوئی زندگی نہیں “ وضاحت کے لئے عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 92 ملاحظہ کریں۔ دوسرا اٹھتا ہے تو طرح مصرع یوں دیتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی اور ہم مٹی میں مل جائیں گے اور ہوا کے جھونکے مٹی کو بھی اڑا کر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر لے جائیں گے تو پھر ان بکھرے ہوئے ذروں کو کون جمع کرے گا ؟ وضاحت کے لئے عروۃ الوثقی ، جلد ہفتم میں سورة یٰسین کی آیت 87 کی تفسیر ملاحظہ کیرں۔ کوئی بولتا تو اس طرح بولتا کہ قیامت و یا مت تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن اگر بفرض محال ہوئی بھی تو جن لوگوں نے اس طرح کا شور بپا کر رکھا ہے ان کے حصہ میں تو کچھ بھی نہیں آئے گا۔ ہمیں تو یقین ہے کہ اس روز بھی اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے ہم کو ان انعامات سے نوازے گا کیونکہ ہمارا حق ہے جب کہ اس نے ہم کو اس جگہ سرفراز کیا ہے وہ وہاں بھی سرفراز کرے گا۔ اس طرح کی باتیں بنا کر وہ ہیرو بننا چاہتے ہیں اور بن رہے ہیں۔
Ayah 78:3

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس کے متعلق یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں

ہرگز نہیں عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ 4 (کلا) کا مفوہم ہم نے پیچھے سورة المدثر کی آیت 35 کے تحت بیان کردیا ہے اسی مضمون پر ایک نظر ڈال لی جائے اور اس کے بعد یہ لفظ بار بار آئے گا اور ہر جگہ اسی مضمون پر نگاہ ضروری ہے اگر آپ نے اس مضمون کو نگاہ میں رکھا تو ان شاء اللہ اعلزیز اس کا مفہوم متعن کرنے میں آپ کو دشواری نہیں ہوگی۔ گزشتہ آیات میں منکرین قیاتم نے جتنے فرضی دلائل بیان کئے ، جتنے اختلاف ان کے سامنے آئے اور جو جو باتیں انہوں نے کیں ان سب کی تردید صرف ایک دو الفاظ بول کر کردی کہ ہرگز ایسا نہیں ، جس طرح کی باتیں تم بنا رہے ہو ان کی کوئی حقیقت نہیں اس بحث و تمحیث کا کچھ فائدہ نہیں ، اس میں اختلاف کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یہ باتیں جو تم لوگ بنا رہے ہو یہ فیصلہ کن ثابت نہیں ہوں گی اور اس حیص بیص میں جو دنیا میں تم کو مہلت دی گئی ہے وہ نکل جائے گی اور تم کو اس کٹہرے میں لا کھڑا کردیا جائے گا اور جب تم اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے تو تمہارے طوطے اڑ جائیں گے اور تمہاری ساری حیص بیص ختم ہو کر رہ جائیگی۔ اب اس وقت حقیقت حال تم پر واضح ہوجائے گی لیکن اس وضاحت کا کوئی فائدہ۔
Ayahs 78:4–5

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر ہرگز نہیں ، عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

پھر ہرگز ایسا نہیں عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ 5 ایک ہی بات کو دو تین بار جب دہرایا جاتا ہے تو وہ محض بیکار نہیں ہوتا بلکہ اس سے تاکید مزید ہوتی ہے اور وہ اس قدر پختہ ہوتی ہے کہ جس کو ہماری زبان میں ایک ایک اور دو گیارہ کہا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورتحال اس تاکید کی ہوتی ہے کہ جتنی مئوکدبات کی گئی ہے اس دس گنا مزید بڑھ کر اس کی تاکید کی جا رہی ہے کہ تم لوگ کان کھول کر سن لو کہ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ تمہارا خیال ہے کہ قیامت کو ضرور آنا ہے اور پھر ضرور آنا ہے نہ تم اس کو روک سکتے ہو اور نہ تمہارے بڑے اس کو روک سکتے ہیں تم کو یہ ایک آوارہ خبر نہیں سنائی جا رہی بلکہ حقیقی خبر سنائی جا رہی ہے جس کے ہونے میں کسی طرح کا بھی شک و شبہ نہیں ہے اگر تم کو یقین نہیں آ رہا اور فی الواقع بات ایسی ہے کہ تم کو یقین نہیں آ رہا تو جتنا تم کو اس وقت شک ہے اس سے زیادہ تم کو اس وقت یقین آئے گا اور ایسا آئے گا کہ تم کو کبھی دوبارہ شک نہیں گزرے گا بلکہ اس قدر پختہ یقین ہوگا جس قدر کسی چیز کے دیکھ لینے کے بعد ، مشاہدہ کرلینے کے بعد اس پر یقین آجاتا ہے لیکن افسوس کہ اس وقت تم کو اس شک کے رفع کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayah 78:6

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا ؟

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا ؟ ۔ 6 یہ سوال کیا جا رہا ہے ان لوگوں سے جو قیامت کے روز کو تسلیم نہیں کر رہے تھے کہ بتائو کیا ہم نے اس زمین کو تمہارے لئے بچھونا نہیں بنایا ، ایسا بچھونا جو تمہارے لئے فائدہ مند ہو اور تمہاری بقا اور تمہاری نشو و نما کے لئے کفایت کرے اور تمہارے رزق کا سامان ہم نے اس میں نہیں رکھ دیا کہ تم اپنی مرضی سے جب چاہو اس سے اپنا رزق حاصل کرلو اور یہ بھی کہ پہاڑوں کی نسبت ہم نے اس کو تمہارے لئے ہموار کردیا ہے اور اس کے میدانوں کو زرخیز بنا دیا ہے اور ان میں تمہارے لئے لہلہاتے ہوئے کھیت بھی موجود ہیں اور سر سبز باغات ہیں ، ابلتے ہوئے چشمے بھی ہیں اور ایسے چشمے ہیں کہ گرمیوں میں تم کو سرد اور میٹھا پانی مہیا کرتے ہیں اور سردیوں میں وہی چشمے تمہارے لئے گرم بنا دیئے گئے ہیں اور تمہیں زندہ و سلامت رکھنے کے لئے کمال حکمت سے ہرچیز فراہم کردی ہے۔ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ تم کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے جب کہ تمہارا نام و نشان بھی نہیں تھا اور اس کے باوجود اس نے تم کو اچھا بھلا انسان بنا دیا کہ تم ایک زندگی کو حاصل کرنے اور اچھی طرح اس زندگی کو گزارنے کے باوجود دوسری زندگی سے انکار کرنے لگے۔ اگر تم کو انکاری کرنا تھا تو تم نے اپنی دوسری زندگی سے انکار کرنے کی بجائے پہلی ہی زندگی سے کیوں نہ انکار کردیا۔
Ayah 78:7

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح (نہیں گاڑ دیا ؟ )

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح نہیں گاڑ دیا ۔ 7 تم نے اپنی زندگی کی ایک آسائش کی طرف نگاہ کیوں نہ دوڑا دی تاکہ تم پر ایک چیز کا جواب کے متعقل سوال کرنے سے پہلے ہی جواب تیار رکھتے تم سے پوچھا جا رہا ہے کہ ذرا اس سلسلہ ہائے کوہ کی طرف نگاہ اٹھائو اور ان کو اچھی طرح دیکھو کہ کیا اس دھرتی میں اللہ نے ان کو کیل کی طر گاڑ نہیں دیا تاکہ اس کے گاڑنے کے باعث اور ان پہاڑوں کے وزن کے باعث اس کی اضطراری حالت رک جائے اور وہ کپکپانا بند کر دے۔ پھر ان پہاڑوں کو جن کو کیل کی طرح گاڑ دیا ہے ان کے اندر تمہارے لئے کیا کیا ذخیرے بند کر کے رکھ دیئے ہیں کہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود وہ محفوظ کے محفوظ پڑے ہیں اور ابھی معلوم نہیں کہ تم کتنی بڑی لمبی مدت تک ان تک پہنچ نہیں پائو گے اور یہ تو پہاڑوں کا حال ہے اور ابھی خلائوں میں تمہارے لئے کیا کچھ محفوظ ہے اور ان سمندروں کی تہوں میں کیا کیا دفینے دفن ہوئے پڑے ہیں ذرا ان بڑی بڑی مہیب باتوں پر دھیان دو اور ان پر غور و فکر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر غور کرو کہ جس نے اتنا بڑا سلسلہ بنایا اور چلایا اور اس کی مسلسل حفاظت کئے چلے جا رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ تمہارے جیسے ساڑھے پانچ فٹ کے انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ کیسے آدمی ہو کہ تم نے کتنی دانائی کی بات کی ہے جس پر اڑ گئے ہو اور تم کو وہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی ہے ایک طرف تمہارے اقرار کو دیکھیں اور دوسری طرف انکار کو تو تم ہی بتائو کہ تمہارے متعلق کیا فیصلہ کیا جائے جس کو حتمی فیصلہ کہا جاسکے۔
Ayah 78:8

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا

اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ۔ 8 اگر تم ان فضائوں ، خلائوں اور افلاک میں دور دور تک نظر بصیرت سے نہیں دیکھ سکتے اور زمین کے ان پہاڑوں ، دریائوں اور میدانوں کی وسعت کو تم بذریعہ بصیرت نہیں دیکھ سکتے تو کیا تمہاری نظر اتنا کام بھی نہیں کرتی کہ تم اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی حکمت کے جلوئوں کو اپنی ذات کے اندر دیکھ سکو کہ اس نے تم سب کو مرد ہی مرد نہیں بنا دیا اور نہ سب کو عورتیں ہی عوتریں بنا دیا ہے بلکہ تم کو مرد و زن کی صورت میں پیدا فرمایا ہے اور دونوں کی تخلیق ایک ہی جیسے قطرئہ آب سے کی ہے جو ایک ہی طرح ٹپکایا جاتا ہے اور ایک ہی برتن اور جار میں رکھ کر تمہاری پرورش شروع کرتا ہے اور جب کہ تم اس برتن اور اس جار کی حقیقت سے بھی غافل ہو اور اس کی کسی طرح کی حفاظت سے بھی بری الذمہ ہو کیونکہ اس کی حفاظت تمہارے بس کی بات ہی نہیں ہے اور تم خوراک کھاتے تو ایسی جیسی ، نشو و نما پاتے ہو تو ایک طرح سے اور جب تمہاری تخلیق کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے خاص قانون کے مطابق کسی کو مرد بنا دیتا ہے اور کسی کو عورت پھر تم دونوں کا باپ ایک ہے ، ماں ایک ہے پھر تم میں سے جس کو باپ بنانا ہے اس کو سارے وہ آلات مہیا کردیتا ہے جو باپ ہونے کے لئے ضروری ہیں اور جس کو ماں بنانا ہے اس کو سارے وہ آلات مہیا کردیئے ہیں جو ماں ہونے کے لئے اس کے لئے ضروری ہیں اور پھر تم کو اپنے وقت پر تمہارے ماں باپ کی طرح تم کو ماں باپ بنا دیتا ہے۔ اگر وہ تم کو جوڑا جوڑا نہب ناتا تو تم ہی بتائو کہ تمہاری افزائش نسل کیسے ہوتی ؟ اگر تم کو وہ جوڑا جوڑا نہ بناتا تو دنیا کی زندگی کا یہ کٹھن سفر تم کیسے کاٹ سکتے اور اگر چار و ناچار وقت گزرتا بھی تو وہ کتنا بدمزہ اور کتنا خراب ہوتا کہ تم پرکیف و رنگ سے محروم ہوتے جس رب ذوالجلال والا کرام نے نسل انسانی کو مرد و زن میں تقسیم کر کے ان کی تمام صنفی ضروریات کا اہتمام کرنا ہے اور کرتا ہی چلا جاتا ہے اور ایک کو دوسرے پر اس طرح منطبق کرتا ہے کہ دونوں مل کر دو جان یک قالب ہوجاتے ہیں یا آپ یوں کہیں کہ وہ یک جان دو قالب نظر آتے ہیں پھر اس کے لئے آخر کیا مشکل ہے کہ وہ تم کو دوبارہ زندہ کرنا چاہے تو نہ کرسکے ؟ جب کہ اس نے دوبارہ زندگی کا اعلان بھی خود ہی کردیا ہے جو تم کو ماننا مشکل نظر آ رہا ہے۔
Ayah 78:9

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کا باعث بنایا

اور ہم نے تمہارے لئے نیند کو آرام کا باعث بنایا ۔ 9 (سباتاً ) آرام ، راحت ، تکان کا رفع کرنا۔ اصل میں اس کے معنی راحت کے ہیں اس سے سبت بسیت (نصر) ضم مضارع آتا ہے اس لئے اس آیت میں ہے کہ (وجعلنا نومکم سباتا) اور ہم نے تمہارے لیے نیند کو تمہاری تکان رفع کرن کے لئے بنایا ہے۔ ابن العربی نے سبات کے معنی قطع کرنے کے کئے ہیں اور سبت کے معنی قطع کرنے کے ہیں گویا جب سو گیا تو لوگوں سے منقطع ہوگیا۔ زجاج کہتے ہیں سبات یہ ہے کہ حرکت سے منقطع ہوجائے اور روح بدن میں موجود ہو پس معنی یہ ہیں کہ ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے لئے راحت بنایا۔ (تاج العروس) راغب لکھتے ہیں کہ سبات بمعنی قطع عمل ہے یہ رات کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے جس کا آیت (لتسکنوافیہ) ” تاکہ تم اس میں چین پکڑو “ میں بیان ہے۔ (سباتا) کا اصل مادہ س ب ت ہے اور (سباتاً ) لفظ قرآن کریم میں صرف دوبارہ استعمال ہوا ہے ایک بار سورة الفرقان کی آیت 74 میں اور ایک بار زیر نظر آیت میں اور اس مادہ کے جو الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں وہ یہ ہیں (یسبتون) (الاعراف : 361) (سبتھم) (الاعراف : 361) اور (السبت) کا لفظ پانچ بار قرآن کریم میں آیا ہے۔ سورة البقرہ کی آیت 56 ، سورة النساء کی آیت 74 ، 451 ، سورة الاعراف کی آیت 361 اور سورة النحل کی آیت 421 ۔ میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی نیند بھی ہے جو تم کو آرام دینے کے لئے بنائی گئی ہے اور تجربہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ نیند سے تکان کس طرح ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور جسم کو کس قدر سکون ملتا ہے کہ دنیا کا کوئی ٹانک (Tonic) اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور بلاشبہ نیند کو کم کیا جاسکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ صحیح اور درست نیند وہی ہے جو موت کے مشابہ ہو کہ انسان دنیا ومافیہا سے غافل ہوجائے اگرچہ قلیل مدت ہی کے لئے ہو۔
Ayah 78:10

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور ہم نے رات کو پردہ کی چیز بنایا

اور ہم نے رات کو پردہ کی چیز بنایا ۔ 10 (لباساً ) منصوب مفعول رات لباس کی طرح ہے ، کیوں اور کیسے ؟ اس لئے کہ دونوں عیب پوش ہیں ، سکون بخش ہیں ، آرام دہ ہیں۔ اس لئے رات کو لباس بنانے کا مطلب ہے لباس کی طرح بنانا۔ ذرا شب و روز کے تسلسل پر غور کرو۔ رات آتی ہے ساری کائنات پر اندھیرے کا پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی چیز اس میں لپٹ کر رہ جاتی ہے۔ جو کام دن کے اجالے میں تم نہیں کرسکتے وہ رات کی اس تاریکی میں تم بلاتکلف انجام دے سکتے ہو۔ دن بھر کی تگ و دو کے بعد تم گھر واپس آتے ہو اور اپنے گھر رات بسر کرتے ہو تمہیں رات کے تاریک سناٹوں میں جو آرام ملتا ہے اور جو میٹھی نیند تم سو سکتے ہو وہ آرام اور میٹھی نیند کے اجالے میں کہاں نصیب ہوتی ہے ؟ شیطان اور نفس کے پرستار رات کو اپنے عشرت کدوں کی رونق بڑھاتے ہیں اور اللہ رحمٰن کے بندے رات کو اٹھتے ہیں اور جب ساری دنیا سوتی ہے وہ اپنے سجدوں کو اپنے پروردگار کے سامنے سجاتے ہیں اور قیام میں سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی علامت کے طور پر کہ اے اللہ اپنے نور سے ہمارے اس سینہ کو روشن کر دے اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ کسی نے کس طرح رات گزاری ہے۔ کیا اب بھی تم کو یقین نہیں آتا کہ رات کو اللہ تعالیٰ نے فی الحقیقت لباس اور مکمل پردہ کس طرح بنایا ہے ؟ اور پردہ کے اندر چھپ کر کون کون کیا کا کرتا رہا ہے اور کس کو معلوم ہے کہ میرے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔
Ayah 78:11

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور ہم نے دن کو (حصولِ ) معاش کے لیے بنایا

اور ہم نے دن کو حصول معاش کے لئے بنایا ۔ 11 (معاشا) اسم اور مصدر۔ زندگی یعنی وقت زندگی عیش کی حیوان یا انسان کی زندگی حیات کا لفظ عام جو اللہ تعالیٰ کی ذات قدس ، ملائکہ ، انسان اور حیوان سب کے لئے استعمال کیا جاتا ہے عیش اور معاش کا استعمال صرف حیوان اور انسان کے لئے ہوتا ہے معیشت سامان زندگی۔ جس پردہ کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا تھا رات آتی ہے تو پردہ ڈال دیتی ہے اور دن آتا ہے تو پردہ اٹھا دیتا ہے اور ہرچیز اچھی بری نظر آنے لگتی ہے اور ہر سو روشنی پھیل جاتی ہے۔ زندگی کی رکی ہوئی گاڑی پھر حرکت کرنے لگتی ہے ، بازار کھل جاتے ہیں ، منڈیوں میں چہل پہل شروع ہوجاتی ہے ، کاشتکار اپنی زمین میں ہل چلانے نکل کھڑا ہوتا ہے مختصر یہ کہ سورج طلوع ہوتے ہی یا فجر پھوٹتے ہی کسب معاش کے لئے جدوجہد اور تگ و دو شروع ہوجاتی ہے۔ ذرا غور کرو کہ یہ کس کی کرشمہ سازی ہے اور کون ہے جو رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لے آتا ہے ؟ تم سوائے اس کے کچھ جواب نہیں دے سکتے کہ وہ اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے پھر تم بھی عجیب ہو کہ سب کچھ ماننے کے باوجود پھر انکار کرنے لگے جاتے ہو وہ انکار عملی ہو یا عقلی۔
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے

اور ہم نے تمہارے اوپر مضبوط سات آسمان بنائے ۔ 12 (سداداً ) منصوب۔ سخت ۔ زبردست اور مضبوط قدرت الٰہی کے نشانات میں سے ایک نشانی ہے کہ اس نے سات آسمان بنائے۔ تم اس آسمان دنیا پر نظر ڈالو جو نیلگوں چھت کی طرح تم کو نظر آ رہا ہے۔ لاکھوں ، کروڑوں سال گزرگئے ہیں کہ یہ سائبان تانا گیا ہے ذرا بتائو کہ شکست و ریخت کا کوئی نشان تم کو اس میں نظر آتا ہے۔ کوئی شکن ، کوئی سلوٹ ، کوئی دراڑ ، کوئی جھول ؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو کیا یہ سب کچھ خود بخود ہی بنتا چلا گیا ہے جب کہ اس کا بنانے والا کوئی نہیں ہے۔ تم مانو یا نہ مانو کوئی چیز بھی خود بخود نہیں بنتی بلکہ اس کا بنانے والا ہوتا ہے اس طرح یہ سب کچھ بھی خود بخود نہیں بن گیا بلکہ اس کا بنانے والا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اس کو بار بار دیکھو اور ایک بار پھر دیکھو بڑی طاقت کی دور بین لگا کر دیکھو تم کو کہنگی اور بوسیدگی کی کوئی علامت اس میں نہیں ملے گی۔ ان کو اتنا مضبوط بنا دیا گیا ہے کہ بیشمار ستارے ، سورج ، چاند اس کے سایے کے نیچے تیرتے نظر آتے ہیں وہ اپنے اپنے محور پر گردش کناں ہیں لیکن کسی کی مجال نہیں ہے کہ وہ ایک تل بھر بھی ادھر سے ادھر جھک جائے اور سر مو اس میں کبھی فرق آئے۔ کبھی تیز گامی یاست خرامی کا مظاہرہ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اس طرح ان کو باندھ دیا ہے کہ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی ادھر ادھر نہیں ہو سکتے اور پھر حکم کا باندھا اتنا مضبوط ہے تو عمل کے باندھنے کا کیا حال ہوگا۔ اگر تم ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہی ایک نشانی کفایت کرتی ہے۔
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ہم نے (سورج کو) روشن چراغ بنایا

اور ہم نے سورج کو روشن چراغ بنایا ۔ 13 (سراجاً ) چراغ۔ دیا۔ مجازاً آفتاب اور ہر روشن چیز کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ سرج جمع ہے (وھاجاً ) صیغہ مبالغہ ، بہت روشن وھج سے (سراجاً و ھاجاً ) چمکتا ہوا اور بہت ہی روشن سورج وھج بھڑک ، بھڑکنا و ھیج روشنی۔ سورج کیا ہے ؟ وہ ایک چراغ ہے جو سارے جہان کو روشن کرتا ہے۔ اس کو کس نے بنایا ہے ؟ فرمایا اس کو بنانے والے ہم ہیں یعنی اس کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور وہ صرف روشن ہی نہیں بلکہ گرم بھی ہے۔ روشنی اور حرارت دونوں ہی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہیں ۔ کائنات کی یہ ساری چہل پہل اور گلشن ہستی کی یہ ساری حسن آرائیاں اور جمال آفرینیاں ، نور اور حرارت دونوں کا کرشمہ ہیں۔ اگر سورج میں صرف نور ہوتا یا صرف حرارت ہوتی تو زندگی نام کی کوئی چیز اس دھرتی پر نہ ہوتی ۔ اس سورج کے متعلق بھی اگر انسان غور و فکر کرے تو اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے سے وہ کبھی انکار نہ کرسکے۔ آج ہم کو بتایا جاتا ہے کہ تمہاری زمین سے اس کا حجم تین لاکھ تئیس ہزار گنا بڑا ہے اور زمین سے اس کا فاصلہ 9 کروڑ تیس لاکھ میل ہے اور اس کا درجہ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اس کا قطر آٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار میل ہے جو زمین کے قطر سے 901 گنا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا برنانیکا ) زمین سے اتنا فاصلہ ہونے کے باوجود وہ مناسب مقدار میں روشنی بھی پہنچا رہا ہے جس کے باعث زمین کا چپہ چپہ روشن ہے اور مناسب مقدار میں حرارت بھی فراہم کر رہا ہے جس سے انسانی ، حیوانی اور نباتاتی زندگی برقرار رہے ، زمین سے اس کی مناسب دوری ، اس کے طلوع و غروب ہونے کا نظام خواہ وہ زمین کی حرکت کے باعث ہے یا اس کے باعث یا دونوں کے باعث بہرحال ایک خاص ترتیب کے ساتھ قائم ہے۔ موسموں کا تغیر و تبدل ، رات کا آنا جانا ، ہرچیز پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس کا منبع خود حرارت بنانے والا ، اس کو مناسب دوری پر رکھنے والا ، اس کے منظم طلوع و غروب کا لائحہ عمل مرتب کرنے والا قادر مطلق ہے جو علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔
Ayah 78:14

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور ہم نے (پانی سے) بھرے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا

ہم نے پانی سے بھرے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔ ۔ 14 (المعصرت) اسم فاعل جمع مئونث المعصر ۃ واحد اعصاء مصدر باب افعال۔ نچوڑنے والیاں مراد وہ ہوائیں جو بادلوں کو دبا کر نچوڑتی ہیں یا وہ ہوائیں جو گرد اڑاتی ہیں جن کے اندر بگولے ہوتے ہیں یا ان سے مراد بادل ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ معصر اصل میں بادل کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور برسنے والا ہی ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ معصرات کا معنی ہے فریاد رسی کرنے والے اور اس سے مراد آسمان ہیں لیکن اس کا کہنے والا کوئی بھی ہو اس کے یہ معنی درستن ہیں ہیں کیونکہ فریاد رسی اللہ تعالیٰ کی ذات سے اور اس کی مخلوق ہی سے ہے کوئی بھی نہیں جس کو فریاد رس کہا جائے اور پہلا ترجمہ ہی صحیح ہے کیونکہ عصر کے معنی نچوڑنے کے ہیں۔ (ثجاجاً ) کے معنی ہیں زور و شور سے برسنے والا اور یہ ثج سے ہے جس کے معنی زور و شور کے ساتھ پانی کے برسنے اور بہنے کے ہیں۔ بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان بادلوں کو بنانے والا ، ان کو محفوظ خیالی میں رکھنے والا اور پھر ضرورت کے مطابق ان کو نچوڑ کر ان سے پانی نکالنے اور برسانے والا کون ہے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ سب کام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔
Ayah 78:15

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ ہم اس سے اناج اور سبزہ اگائیں

تاکہ ہم اس سے اناج اور سبزہ اگالیں ۔ 15 (حبا) دانہ ، غلہ اناج جن کے دانے دانے الگ الگ ہوتے ہیں جیسے گندم ، جو ، جوار ، مک ، باجرہ ، سوانک ، کنگنی ، ساگو دانہ ، چاول ، چنا ، چنیا ، باقلو ، لوبیا ، ارہر ، مونگ ، موٹھ ، مسور ، مٹر وغیرہ سب غلہ جات ہیں اگرچہ بعض کی دالیں تیار کی جاتی ہیں جو بطور سالن پکائی جاتی ہیں (نباتاً ) اسم منصوب نکرہ سبزہ زمین ، زمین کی ساری پیداوار ، روئیدگی خواہ وہ خود رو ہو یا بوئی جاتی ہے اور اگائی جاتی ہے۔ زمین کی ساری روئیدگی خواہ وہ خود رو ہو یا اگائی جانے والی وہ غلہ جات ہوں یا چارہ کے کام آنے والی فصلیں سب کا پیدا کرنے والا اور اگانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس میں بھی بد اعتدالیاں کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے میں کوئی کمی نہ کی۔ دراصل یہ سب انعامات ہیں جو ایک ایک کر کے گنوائے جا رہے ہیں اور ان سے توحید الٰہی اور قیامت پر استدلال کیا جائے گا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے کس طرح اس کی ناشکری کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 78:16

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور (اس طرح) گھنے باغات (بھی)

اور اس طرح گھنے باغات بھی ۔ 16 (الفافاً ) کا اصل مادہ لف ہے ۔ لپٹے ہوئے ، ایک دوسرے سے پیوست ، گنجان درخت ۔ علامہ زمخشری کہتے ہیں کہ : ادراع اور اخیات کی طرح اس کا واحد بھی نہیں آتا لیکن بعض لوگ اس کا واحد لف بتاتے ہیں چناچہ صاحب الاقلید کا بیان ہے کہ مجھے حسن یعنی علی لحدی نے یہ شعر سنایا ۔ جۃ لت و عینش مغدق وتدامی کلھم بیض زھر ابن قتیبہ کا بھی یہی خیال ہے کہ الفاف لف کی جمع ہے اور لف لفاء کی جمع لیکن ابن قتیبہ کو کوئی نظر شاید نہ مل سکتی کیونکہ انہوں نے کسی دلیل کا ذکر نہیں کیا لیکن علامہ کے ہم نوا اور لوگ بھی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بادلوں سے موسلادھار بارش جو برسائی گئی اور جس کا ذکر اس اہتمام کے ساتھ کیا گیا تو اس کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایسے ہی اس کا ذکر نہیں کردیا گیا کہ سر راہ بات کردی ہو بلکہ بارش برسا کر ہم نے انسانوں کے لئے ہر طرح کے غلہ جات ، اناج اور چارے اگائے اور بارش کے اس پانی سے گنجان باغات اپنی بہار دکھا رہے ہیں جن کی شاخوں میں رنگا رنگ پھل تمہارے کام و دہن کی ضیافت کے لئے تیار ہو رہے ہیں اور یہ سب چیزیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کے شاہکار ہیں جو اس کی حکمت کی گواہی پیش کر رہے ہیں۔ جس کی قدرت کے حیرت زا نمونے تم دیکھو چکے ہو۔ پھر اتنا سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی تم قیامت کے دن سے مسلسل انکار ہی کرتے چلے جا رہے ہو۔ ذرا غور و فکر کر کے بتائو کہ جو اللہ یہ سارے کام کرتا ہے اور تم روزمرہ زندگی میں ان سارے کاموں کو ہوتے دیکھ رہے ہو کیا وہ اللہ تم کو مارنے کے بعد قیامت کے روز دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ کیا اس نے انسان کو بےمقصد پیدا کیا ہے ؟ کیونکہ انسان کے سوا جو کچھ ہے وہ تو سب کا سب اللہ تعالیٰ نے محض انسان کے لئے پیدا کیا ہے کیونکہ کسی چیز کے ہونے سے اس چیز کا کوئی فائدہ وابستہ نہیں ہے۔ ہاں ! انسان ہی ایسا ہے کہ جو کچھ اس کائنات میں پیدا کیا گیا ہے اس میں اس کا فائدہ اور نفع موجود ہے اور انسان کو عقل عطا کی ہے تاکہ وہ اس سے نفع و فائدہ حاصل کرسکے۔ انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ اس کو غور و فکر کی استعداد بخشی عمل اور ارادہ کی آزادی اس کو دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات کو مسخر کر کے اس کی ترک تازیوں کے لئے میدان ہموار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کو اپنی مرضی اور اختیار سے استعمال کرنے کی استعداد بخشی۔ علم و حکمت کے کارواں کی قیادت اس کو سونپ دی اور اس ساری فضیلت کے بعد اس کو محض بیکار چھوڑ دیا۔ کیا تم اس موٹی اور عام فہم بات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔
Ayah 78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بلاشبہ فیصلے کے دن (قیامت) کے لیے ایک وقت مقرر ہے

(الفصل) فصل کا اصلصل ہے اور اس کے معنی ہیں حق و باطل کی تمیز۔ حق بات۔ سچا فیصلہ کرنے والا قول۔ حق کو باطل سے الگ کرنے والا کلام۔ ہڈیوں کا اور اعضاء کا جوڑ۔ دو چیزوں کو ملنے سے روکنے والا اور دونوں کو جدا جدا رکھنے والا پردہ۔ زیر نظر آیت میں آخری معنی چھوڑ کر باقی سب معنی کا لحاظ رکھا گیا ہے اور ساری باتیں اس پر صادق آتی ہیں۔ (یوم الفصل) وہ دن جس دن حق و باطل میں تمیز ہوجائے گی۔ وہ دن جس دن حق بات واضح ہوجائے گی۔ ظاہر ہے کہ وہ دن قیامت ہی کا دن ہے ۔ (میقاتاً ) ظرف زمان منصوب نکرہ ، مقررہ وقت ، کفار بار بار یہ بات کرتے تھے کہ بڑی مدت ہوئی ہے اس شور کو سنتے ہوئے کہ قیامت آئے گی ، قیامت آئیگی لیکن آج تک وہ نہ آئی۔ اچھا اگر اس کو آنا ہے تو آپ جو اس کے آنے کا بار بار ذکر کر رہے ہیں تو آخر اس کو لے کیوں نہیں آتے۔ اٹھو اس کو لے آئو کہ ہم بھی اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ قیامت کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ جب کسی نے چاہا بس قیامت قیامت کھیل لیا۔ وہ تو ایک نہایت سنگین حادثہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو واقع کرنے کے لئے ایک خاص دن اور خاص وقت مقرر کردیا ہے تم سو بار نہیں ہر بار کہو اور الٹی سیدھی ہانکتے رہو لیکن وہ اپنے وقت سے ایک منٹ بھی پہلے واقع نہیں ہوگی اور جب اس کا وہ مقررہ وقت آجائے گا تو زمین کے جس دور دراز گوشے میں بھی تم بکھرے پڑے ہو گے وہ تم کو اچانک لا کھڑا کر دے گا اور اس حاضری سے دنیا کی کوئی طاقت بھی تم کو بچا نہیں سکے گی اور پھر تم خواہ مخواہ یہ شور ڈال رہے ہو حالانکہ تم سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ سب کو اس دنیا سے رخصت مل رہی ہے اور تم ایک ایک کر کے جا رہے ہو اور جب بھی کوئی ایک تم میں سے چلا جاتا ہے تو اس کی قیامت تو آجاتی ہے کیونکہ اس کو دوبارہ اس دنیا میں کب آنا ہے کہ تم اس کے لئے شور مچا رہے ہو۔ اس سے تو بہتر تھا کہ تم اس کے لئے اپنی مکمل تیار کرتے اور اس دنیا میں اس طرح فارغ ہوتے کہ جب تم قیامت سے دوچار ہوتے تو تم کو کامیاب و کامران قرار دیا جاتا اور تمہارا رزلٹ آؤٹ (Result Out) ہوتے ہی تم کو جنت میں ایک اچھے عہدہ پر داخلہ مل جاتا اور ناکام ہو کر تم کہیں دوزخ کی اتھاہ کند میں نہ گر جاتے۔
Ayah 78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن صور پھونکا جائے گا (اور) تم گروہ در گروہ چلتے چلے آؤ گے

جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ گر وہ چلتے آئو گے ۔ 18 قیامت کے ذکر میں قرآن کریم میں (نفخ صور) کا ذکر تقریباً دس بار آیا ہے اور ہم اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 37 ، جلد پنجم سورة الکھف کی آیت 99 ، سورة طہ کی آیت 201 ، جلد ششم سورة المئومنون کی آیت 101 ، جلد ہفتم سورة النمل کی آیت 78 ، سورة سباء کی آیت 18 ، سورة یٰسین کی آیت 15 ، سورة الزمر کی آیت 86 ، جلد ہشتم سورة ق کی آیت 02 ، سورة الحاقہ کی آیت 31 میں تفصیل سے کرچکے ہیں ۔ اس جگہ بھی منکرین قیامت کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آج تو تم اس کا انکار کر رہے ہو لیکن آنے والے کل جب صور پھونکا جائے گا تو اسی آواز پر تم کو چار و ناچار لبیک کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔ بالکل اسی طرح جس طرح بارش سے زمین کی روئیدگی اگ آتی ہے اور تم اس آواز کی طرف دوڑتے چلے آ رہے ہو گے اور میدان حشر میں تم سب جمع ہو جائو گے اور تمہارا آنا فوج در فوج اور گروہ در گروہ ہوگا اور تم میں سے کسی کی یہ مجال نہ ہوگی کہ وہ آرام کے ساتھ گہری نیند سو جائے اور اس کے سوتے ہی سوتے یہ وقت نکل جائے ۔ اوپر جو گروہ گروہ ہو کر حاضر ہونے کا ذکر کیا گیا تو اکثر اس سے یہی سمجھا گیا ہے کہ یہ وہی گروہ بندی ہے جو دنیا میں ہم نے بنا رکھی ہے یا یہ گروہ بندی وطن ، قوم ، نسل اور زبان پر بنائی گئی کہ وہ بندی ہوگی یا مذہبی تقیمہ میں شیعہ ، سنی ، دیو بندی ، بریلوی اور اہلحدیث سب کو الگ الگ گروہوں میں لایا جائے گا۔ ہرگز نہیں یہ گروہ بندی اعمال و افعال کی نسبت سے ہوگی جیسے شرابیوں کا گروہ ، زانیوں کا گروہ ، ڈاکوئوں کا گروہ ، قاتلوں کا گروہ ، کافروں کا گروہ ، منافقوں کا گروہ ، منکرین قیامت کا گروہ اور ان کے مقابلہ میں نمازیوں کا گروہ ، روزہ داروں کا گروہ ، زکوۃ ادا کرنے والوں کا گروہ ، صدقہ و خیرات کرنے والوں کا گروہ ، غریبوں ، مسکنوں کو کھانا کھلانے والوں کا گروہ ، اسی طرح ان کے راہنمائوں اور سرغنوں کو بھی ان کے ساتھ رکھا جائے گا اور پھر اہل جنت ، جنت کی طرف روانہ کردیئے جائیں گے اور اہل جہنم ، جہنم کی گہرائیوں کی طرف دکھیل دیئے جائیں گے۔
Ayah 78:19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے ہوں گے

آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروزازے ہی دروازے ہوجائیں گے ۔ 19 جن آسمانوں کے کھولنے کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے ظاہر ہے کہ وہ یہ موجودہ آسمان تو نہیں ہوں گے کیونکہ ان آسمانوں کو پھٹ جانا اور روئی کے گالوں کی طرف اڑا دیا جانا اور ریزہ ریزہ ہو کر فضا میں پھیل جانے کا ذکر تو بہت جگہ پر گزر چکا ہے اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اس زمین کو اور آسمانوں کو بدل دیا جائیگا اور اس وقت نہ تو زمین یہ زمین رہے گی اور نہ ہی آسمان یہ آسمان ہوں گے۔ آسمانوں کو کھولے جانے کا کیا مطلب اور کیا مفہوم ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اوپر کی مخلوق اور نیچے کی مخلوق کے آپس میں مراسم پیدا ہوں گے اور اس طرح یہ بھی کہ اوپر والے نیچے والوں کو دیکھ اور معلوم کر کے یہ وہی لوگ ہیں جو ہم کو برے ناموں سے یاد کرتے تھے اور ہمارا مذاق اڑایا کرتے تھے خواہ اس سے بلندی و پستی وہ مراد لی جائے جو ہم کو فاصلہ اور دوری کے لحاظ سے نظر آرہی ہے اور خواہ وہ بلندی و پستی مراد لی جائے جو درجہ اور مرتبہ کے لحاظ سے حاصل ہوئی ہے کیونکہ جس طرح آسمان دنیا کو دوسرے آسمانوں سے الگ کر کے بیان کیا جاتا ہے اسی طرح انسانوں کی مرتبہ و عزت کی بلندی کو آسمان سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ بات ساری زبانوں میں موجود ہے اور اہل زبان اس کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس جگہ آسمان سے اترنے والے مصائب و آلام کا ذکر بھی کیا ہے لیکن جس دن کا اس جگہ ذکر کیا جا رہا ہے اس دن مصائب و آلام کا اوپر سے نازل ہونے کا کوئی مطلب نہیں بنتا نظر آتا۔
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے ، پس وہ ریت کی طرح ہوجائیں گے

اور پہاڑ چلائے جائیں گے اور وہ ریت کی مانند ہوں گے ۔ 20 (میرث) وہ چلائی گئی۔ وہ چلائے گئے ” تسیر “ جس کے معنی چلانے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مئونث غائب۔ راغب لکھتے ہیں تسیر کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو سائر جو چلنے والے کے امر و اختیار اور ارادہ سے ہو جیسے (ھو الذی یسیرکم) ویہ تو ہے جو تم کو چلاتا ہے اور دوسرے وہ جو بذریعہ قہر و تسخیر کے ہو جیسے کہ پہاڑوں کا تسخیر و تسییر ہے کہ : (واذا الجبال سیرت) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور (و سیرت الجبال) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ (سراباً ) سراب چمکتی ہوئی ریت کو کہتے ہیں اور خصوصاً جب شدت گرما میں دوپہر کے وقت دھوپ کی تیزی سے میدان میں جو ریت پانی کی طرح چمکتی ہوئی نظر آتی ہے اور دور سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا پانی بہہ رہا ہے اور مکانات اور درختوں کا عکس اس میں دکھائی دے رہا ہے اسے ” سراب “ کہتے ہیں چونکہ اکثر اس کی نظر پڑنے سے پانی کا دھوکا ہوجاتا ہے اس لئے سراب دھوکا اور فریب کے لئے ضرب المثل ہے۔ فرمایا وہ دن ایسا دن ہوگا کہ اس کی آمد سے قبل ہی پہاڑ اکھڑ جائیں گے اور ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑتے ہوں گے اور ان کے ذروں کو اس طرح جمع کردیا جائے گا جیسے ریت کے بڑے بڑے تودے ہوتے ہیں اور یہ تودے اکثر دریائوں کے اندر دور سے دیکھنے والوں کو اسی طرح دکھائی دیتے ہیں گویا کہ وہ چلتا ہوا پانی ہے اور دیکھنے والوں کو اس سے دھوکہ لگتا ہے وہ اس طرح کہ جب پانی سمجھ کر پانی کی تلاش میں نکلنے والا اس کے قریب پہنچتا ہے تو وہ بجائے پانی کے ریت کے تودے دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس وقت جو اس کی حالت ہوتی ہے اس کا جواب ہم نے عروۃ الوثقی جلد ششم سورة النور کی آیت 93 ، 04 کے تحت دے دیا ہے۔
Ayah 78:21

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بلاشبہ دوزخ (دوزخیوں کی) تاک میں ہے

بلاشبہ دوزخ دوزخیوں کی تاک میں ہے ۔ 21 (مرصاداً ) مقام انتظار ، گھات کی جگہ مصراد مبالغہ کا صیغہ ہے منتظر ، گھاتی یعنی گھات لگانے والا۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی دوزخی کو دوزخ کے سامنے لایا جائے گا تو وہ اس سے کوئی جرح و قدح نہیں کرے گا یعنی اس کے دربان اس کے وارنٹ گرفتاری دیکھ کر اندر جانے دیں ہرگز نہیں گویا وہ اس کو حاصل کرنے اور اپنے اندر لے جانے کے لئے پہلے ہی تیار کھڑی ہے کہ جو نہی وہ اس کے سامنے آیا تو اس نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا گویا کہ وہ اس کی خوراک تھا کہ جھپٹتے ہی اس کو نگل گئی۔ یہ بات ان کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے جو قیامت کے دن کو ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور دوزخ کو محض ایک ڈراوا خیال کرتے ہیں جس کی خارج میں کوئی حقیقت نہیں ہے حالانکہ جو کچھ وہ سمجھے ہیں وہ اس طرح سمجھنے میں خود سچے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے اور وہ محض اپنے تکوں کو دلیل سمجھتے ہیں۔
Ayah 78:22

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

(جو) سرکشوں کا ٹھکانا ہے

وہ سرکشوں کا ٹھکانا ہے ۔ 22 (طاغین) سرکش ، شریر اور حد سے گزر جانے والے طغی کی جمع بحالت نصب و جر۔ وہ لوگ جو شریر ہیں اور حد سے گزر جانے والے ہیں اور بہت سرکش ہیں وہ سب کے سب اس میں جمع ہونے والے ہیں۔ کفر بھی سرکشی ہے ، بد کاری و بدکرداری بھی سرکشی ہے اور فسق و فجور سب سرکشی ہیں۔ اسی طرح تم غور کرو گے تو اپنے زمانہ کے سارے سرکشوں کا تم کو معلوم ہوجائے گا اور یہ بات قرآن کریم نے واضح طور پر بیان کردی ہے کہ سارے سرکشوں کا ٹھاکنا جہنم ہے۔ (ماباً ) لوٹنے کی جگہ (حالت نصب) مآب کی اصل اوب ہے۔ اب یو وب اوبا وابابا و مآبا ۔ رجع فرمایا جا رہا ہے کہ ان سب طاغیوں کا اصل ٹھکانا دوزخ ہے ، دنیا میں خواہ میں کتنے ہی خوشحال ہیں اور کتنے ہی صاحب اقتدار ہیں اور کتنے صاحب مال ہیں اور کتنے ہی صاحب جاہ و حشم ہیں لیکن آخرت میں ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں چلے گی اور اس دنیا کے سارے تعلقات اور اسباب ٹوٹ کر رہ جائیں گے اور کوئی بھی ایک دوسرے کے لئے سبب اور سہارا بننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔