Ayah 79:26بلاشبہ اس میں خوف خدا رکھنے والوں کے لئے بڑی ہی عبرت ہے
۔ 26 فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قصہ میں جو قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے بڑی ہی عبرت ہے اور اسی طرح فرعون کی ہزیمت ہوئی اور جس طرح اس کو تباہ و برباد کیا گیا اور جس طرح بےبس بنا کر اس کو غرق کیا گیا ان ساری باتوں میں بہت عبرت ہے۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف ہو وہ تو سنتے ہی کانپ جاتے ہیں اور جو دل اس نعمت عظمیٰ سے بےبہرہ ہیں وہ کسی قیمت پر ہدایت قبول نہیں کریں گے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلے گی جب اللہ تعالیٰ کا ڈر انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا اور اس کے غصب کی بجلیاں گرا کر انہیں بھسم کردیں گی۔ لیکن افسوس کہ فرعون وقت ان ساری عبرتناک کہانیوں کو پڑھنے اور سننے کے بعد ان سنی کردیتے ہیں اور ملائیت نے ان قصوں کو مردوں کی بخشش کے لئے محفوظ کردیا ہے اور اپنی عقل میں تو کچھ بھی نہیں آتا کہ آخر مردوں کی بخشش سے ان کا کیا تعلق ہے اور خصوصاً ان مردوں کا جو فرعون کے کردار سے بھی بہت آگے نکل چکے ہیں۔
Ayah 79:27کیا تمہارا پیدا کرنا مشکل ہے اتنے بڑے آسمانوں کا بنانا ؟
۔ 27 فرعون کے قصہ سے پہلے قیامت کے دلائل ہی کا ذ کر ہوتا چلا آ رہا تھا اور درمیان میں ایک منکر قیامت کا تذکرہ کردیا گیا تاکہ منکرین قیامت کی حالت سے بھی لوگوں کو روشناس کرایا جائے اور موجودہ دور کے منکرین ایک گزشتہ منکر قیامت کا قصہ پڑھ کر شاید عبرت حاصل کریں کیونکہ یہ قصہ بلاشبہ عبرتناک ہے اور خصوصاً اس وقت اس کی مزید وضاحت خود بخود ہوجاتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کو (نکال) عبرت کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اس قصہ کے بیان کے بعد مضمون دوبارہ اپنے اصل موضوع کی طرف پھیر دیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ انسان اکثر عقل و فکر سے کام لینا پسند نہ کریں۔ یہ دوسری بات ہے ہم صرفا تنی بات پوچھتے ہیں ان لوگوں سے جو قیامت سے انکاری ہیں کہ کیا ان کا پیدا کرنا یعنی دوبارہ زندہ کرنا مشکل ہے یا اس نظام کائنات کا فنا کر کے دوبارہ بنا دینا زیادہ مشکل نظر آتا ہے اور یہ بات محض اس لئے ارشاد فرمائی جا رہی ہے کہ دوبارہ پیدا ہونے سے جن لوگوں کو شک ہے وہ ذرا غور و فکر کر کے بتائیں کہ آیا ان کا بنانا زیادہ مشکل ہے ہے جو اس سارے نظام کائنات کا سب کو معلوم ہے کہ اس پوری کائنات کا پیدا کرنا اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے پھر جب ہر ایک چیز اس کائنات کی فانی ہے اور فنا ہوتی چلی جا رہی ہے اور ساتھ ساتھ پیدا بھی ہوتی چلی جا رہی ہے اور ہم روزمرہ زندگی میں یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور پھر اس سے بھی زیادہ عبرتناک بات یہ ہے کہ اس کائنات میں ایک ایک سیارہ ، ستارہ اور اجرام فلکی وہ ہیں جو اس زمین سے سینکڑوں ہزاروں گنا زیادہ بڑے ہیں سب کا وہ بنانے اولا اور سب کا انتظام کرنے اولا ہے اور ابھی کتنی مخلوق آسمانوں میں پوشیدہ ہیں جن کے حالات سے انسان ابھی تک آگاہ ہی نہیں ہوسکا جب ان سب کے متعلق معلومات حاصل ہوں گی تو انسان کس تعجب میں غرق ہو کر رہ جائیگا ؟ لیکن قرآن کریم نے اس کی وضاحت اپنی زبان میں کردی ہے اور سمجھنے والے بحمد اللہ اب سمجھ رہے ہیں کہ دن بدن روشنی بڑھے گی اور اندھیرا خود بخود چھٹتا چلا جائے گا۔
Ayah 79:28اللہ تعالیٰ نے ان کی بلندی کو اونچا کیا اور پھر ان کو بےعیب بنایا
۔ 28 (سمکھا) کا اصل س م ک ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ اس جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس مادہ سے کوئی لفظ یا یہ لفظ کسی دوسری جگہ قرآن کریم میں نہیں آیا۔ اس کا ابھار ، اس کی چھت ، اس کی بلندی ، سمک مضاف ھا ضمیر واحد مئونث غائب مضاف الیہ سمک اصل میں سمک یمسک کا مصدر ہے۔ اس کے معنی بلند کرنے کے ہیں۔ چھت بھی چونکہ بلند ہوتی ہے اس لئے اس کو بھی سمک کہتے ہیں۔ (سوھا) اکو برابر کیا۔ اس کو پورا پورا بنایا۔ اس میں ھا ضمیر واحد مئونث غائب ہے۔ اس کی مزید وضاحت سورة الشمس میں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق میں اپنی قدرت کے کرشموں کا ذکر فرمایا ہے اور انسانوں کو بتا دیا ہے کہ تم اچھی طرح یاد رکھو کہ ان کی بلندی اور اونچئای کوئی معمولی چیز نہیں ہے جس کی مسافت کو تم گننا چاہو تو گن لو اور اسی طرح تم جو اندازہ بھی لگائو گے بہرحال وہ اندازہ ہی ہوگا اور اس آسمان دنیا کی اخیر تک تم پہنچ سکو بہت مشکل مرحلہ ہے اور ابھی اس سے آگے اور بھی ہیں۔ فرمایا ہم نے آسمان کی بلندی کو اتنا اونچا کردیا ہے کہ تم اس کو پا نہیں سکے حالانکہ ایک لمبے عرصہ سے تم اسی تگ و دو میں ہو اور ابھی نہ معلوم تمہاری کتنی نسلیں اسی تگ و دو میں کھپ جائیں گی پھر اس نیلگوں گنبد کو اس طرح درست کردیا ہے کہ اس میں کوئی جھول ، شکن اور شگاف نہ تم دیکھ سکے اور نہ ہی کبھی دیکھ سکو گے اور اس کا تسویہ اس طرح کردیا گیا ہے کہ اس میں کسی طرح کی کمی بیشی نہیں بتائی جاسکتی۔
Ayah 79:29اس کی رات کو تاریک بنایا اور دن کو روشن کر دیا
۔ 29 (اعطش) اس نے تاریک کردیا اغطاش سے جس کے معنی تاریک ہونے اور تاریک کردینے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (ضحھا) اس کے دن چڑھے۔ اس کی دھوپ کا پھیلنا اور رون ہونا ضحی مضاف ھا ضمیر واحد مئونث غائب مضاف الیہ۔ دن رات کا تعلق آفتاب کے طلوع و غروب سے ہے اور وہ ہم زمین والوں کے لئے ہمارے سروں کے اوپر ہم کو نظر آتا ہے۔ اس کے آنے جانے سے اندھیرے اور اجالے کا تعلق ہے چونکہ اس کی نسبت بحیثیت دیکھنے کے آسمان سے متعلق دکھائی دیتی ہے اس لئے اس کے اندھیرے اور اجالے کو بھی اسی کے ساتھ نسبت دی گئی ہے اور اس کی صورت اصل یہی ہے کہ ہم باوجود تسلیم کرنے کے کہ زمین گردش کر رہی ہے اور سورج ایک جگہ اپنے محور پر قائم ہے لیکن اس کے باوجود ہم انسان کسی بھی زبان کو اٹھا کر دیکھیں تو ہم کو سورج کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کا ذکر ملے گا۔ اسی لئے ہم نے عرض کیا ہے کہ مشاہدہ میں جو نظر آتا ہے اس کے مطابق کسی چیز کا بیان کردینا نہ غلط ہے اور نہ ہی قابل تید ہے ہے اور نہ ہی اس کو موضوع بحث بنا کر حقائق کے ساتھ ضد لگانے سے کچھ حاصل ہوتا ہے یہ ایک خواہ مخواہ کی بحث ہے جس میں محض بضد ہونے سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور قرآن کریم انسانوں کی زبان میں نازل ہوا ہے اس لئے اس میں وہی زبان استعمال کی گئی ہے جو ہم روز مرہ زندگی میں بولتے ہیں ، اس کے الفاظ کی بحث کو اٹھا کر سائنس اور مشاہدہ سے متصادم بتا کر سائنسدانوں یا سائنس سے کر ڈالنا سراسر جہالت ہے اگرچہ اس طرح کی بحثیں اٹھانے والے اپنے آپ کو علامتہ الدہر تصور کرتے ہوں لیکن حقیقت میں وہ سراسر جاہل اور متعصب ہیں جو اپنی حیثیت سے بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم چوما دیگرے نیست۔
Ayah 79:30اور اس کے بعد زمین کو بسنے کے قابل بنا دیا
۔ 30 توحید الٰہی کے نشانات کا ذکر جہاں بھی قرآن کریم میں کیا گیا خواہ مخواہ نہیں کیا گیا بلکہ اس سے کچھ استدلال کرنے کے لئے ان کا بیان شروع کیا۔ توحید الٰہی کے نشانات میں سے ہر ایک وہ چیز ہے جس کا خالق تلاش کرنے کے بعد بھی کوئی میسر نہ آئے اور عقل انسانی اس بات کو تسلیم کرے کہ اس کا خالق اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی دوسرے کے خلاق ہونے کی وہاں قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ مثلاً آپ نے ایک گھر تعمیر کیا اور کہا جاتا ہے کہ یہ گھر میں نے تعمیر کیا لیکن اس سے مراد دراصل تعمیر کرانا ہے نہ کہ اس کا بنانا۔ دوسرے لفظوں میں جس شخص نے اس تعمیر کے اخراجات برداشت کئے دراصل اس نے اس کو تعمیر کیا۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھر تعمیر کرنے والا وہاں موجود ہی نہیں ہوتا لیکن گھر تعمیر ہوتا رہتا ہے اس کے تعمیر کرنے اولے وہ معمار ہوتے ہیں ، وہ مزدور ہوتے ہیں جنہوں نے وہ گھر بنایا ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ تعمیر کی اجرت لیتے ہیں اس لئے ان کا نام نہیں چلتا بلکہ اصل نام ان کا چلتا ہے جنہوں نے اس تعمیر کے اخراجات برداشت کئے ہوتے ہیں۔ اگر اس پر مزید غور کیا جائے تو اصل گھر کا مالک وہ ٹھہرتا ہے جس نے اس گھر کی جگہ کو بنایا اور پھر اس مکان کی تعمیر میں جو کچھ خرچ ہوا وہ سارا میٹریل جس نے بنایا اور اس لحاظ سے جتنا بھی غور کریں ہم اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جس نے زمین بنائی وہ اللہ ہے اور جس نے اس گھر کے سارے میٹریل کو بنایا وہ بھی اللہ ہے مثلاً اس میں اینٹ پتھر لگے اور ظاہر ہے کہ ان دونوں کے میٹریل کا اصل خلاق تو اللہ ہی ہے کوئی دوسرا نہیں ہاں کسی دوسرے نے جتنا زور اس پر لگایا اس کی اجرت وصول کرلی۔ اس میں جو جو چیزیں استعمال ہوئیں ان میں ایک ایک چیز پر غور کرنے سے پتہ چلے گا کہ اس میں ایک چیز بھی ایسی نہیں جس کا خالق اللہ نہ ہو یہاں تک کہ جن مستریوں اور مزدوروں نے اس کو بنایا وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق تھے اور جس نے اس تعمیر کے اخراجات ادا کئے وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے اسی طرح دراصل اس کا مالک بھی وہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص یہ تسلیم کرتا اور مانتا ہے کہ مالک ہر شے کا خدا ہے یہ اتنی لمبی بات ہم نے اس لئے کی ہے کہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” اللہ نے آسمانوں کی بلندی کو اونچا کیا اور ان کو بےعیب بنایا اور اس کی رات کو تاریک بنانا اور اس کے دن کو ظاہر کیا اور اس کے بعد زمین کو بسنے کے قابل بنا دیا۔ “ یہ جو ہم نے بیان کیا ہے کہ ” اس کے بعد زمین کو بسنے کے قابل بنایا “ اس کو ہمارے مترجمین نے اس طرح بیان کیا کہ ” اس کے بعد زمین کو پھیلایا “ ” بچھایا “ ” ہموار کیا “ چونکہ آسمانوں کے بنانے کے بعد اس کا ذکر تھا اس لئے ان کو یہ ابہام پیدا ہوا کہ قرآن کریم نے تو دوسری جگہ بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ اس کائنات میں جب ان چیزوں کے بننے کا وقت آیا تو سب سے پہلے زمین بنی اور اس کے بعد آسمان بنائے گئے اور اس جگہ بالکل اس کے برعکس بیان کردیا پھر وہ اس کی تفسیر میں اس خلا کو پر کرتے کرتے کہاں سے کہاں نکل گئے ۔ رہی یہ بات کہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت کہاں کی ہے کہ زمین کو پہلے بنایا ؟ تو اس کے لئے ایک ہی آیت کفایت کرتی ہے کہ : (ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ثم استوی الی السمآء فسوھن سبع سموت) (2 : 92) ” یہ اس کی کار فرمئای ہے کہ اس نے زمین کی ساری چیزوں کو تمہارے لئے پیدا کیا پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا اور سات آسمان درست کردیئے۔ “ پھر اس کی وضاحت سورة فصلت میں اس طرح فرما دی کہ : (الذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا) ” وہ جس نے زمین کو دونوں میں پیدا کیا اور تم اس کے لئے شریک ٹھہراتے ہو “ اور اس کے بعد فرمایا (ثم استوی الی السمآء وھی دخان) ” پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا۔ “ (فصلت : 9 تا 21) یہ اشکال ان کو کیوں پیدا ہوا ؟ شخص اس لئے کہ انہوں نے (دحھا) کا ترجمہ کیا ” زمین کو بچھایا ، زمین کو پھیلایا “ یعنی یہ کہ آسمانوں کی پیدائش کے بعد زمین کو بچھایا اور زمین کو ہموار کیا ، زمین کو پھیلایا۔ لیکن اگر اس کا ترجمہ کیا جاتا کہ آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو بسنے کے قابل بنا دیا تو یہ اشکال پیدا ہی نہ ہوتا حالانکہ دحا یدحوا دحوا کا مطلب جیسا کہ پھیلانا ، بچھانا اور ہموار کرنا صحیح ہے اسی طرح ” زندگی کے قابل بنانا “ بھی صحیح ہے چناچہ الدحیۃ فوج کے سردار کو کہا جاتا ہے جو ان کا اتنظام کرتا ہے اور ان کو لڑنے کے قابل بناتا ہے۔ (دحھا) کا اصل مادہ د ح و ہے یاد ح ی ہے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ھا ضمیر واحد مئونث غائب۔
حقیقت اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کے متعلق جو تصور دیا ہے کہ جس طرح تم میں کوئی شخص مکان تعمیر کرنا چاہتا ہے تو پہلے زمین خریدتا ہے اور اس کے لئے سارے بندوبست کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے مکان کی چھت تعمیر کردی جاتی ہے تو پھر اس کو رہنے کے قابل بناتا ہے۔ زمین پہلے تھی ، مکان بعد میں تعمیر ہوا اور چھت مکمل ہونے کے بعد وہ قابل رہائش ہوا تو کون ہے جو اس سے انکار کرسکتا ہے ؟ بالکل اسی طرح اس کا بیان فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے زمین کو بنایا ، جس طرح بنایا۔ کتنا زمانہ اس کے بننے پر لگا ؟ اس کو دو دن سے تعبیر فرمایا اور ان کا تعین کرتے وقت پچاس ہزار سال کا ایک دن بھی بتا دیا۔ بہرحال زمین تیار ہوئی تو اس کو ٹھہرانے کے لئے پہاڑ وغیرہ اس میں بنائے گئے اور اس میں مزید دو نادوار خرچ ہوئے اور ازیں بعد وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو سات آسمان بنا دیا اور حسب دستور یہ کام بھی دو ادوار میں مکمل ہوا لیکن جب تک آسمانوں کا تعین نہ ہوا اور اس ہوائی کرہ کے ساتھ ساتھ اجرام فلکی کا جوڑ نہ لگایا ، زمین بانجھ کی بانجھ ہی رہی لیکن جونہی اجرام فلکی کا تعلق اللہ نے اس کے ساتھ جوڑا تو وہ رہائش کے قابل ہوگئی اور ہر ایک چیز جو پہلے ہی اس کے اندر رکھ دی گئی تھی زندہ ہونے لگی اور اپنی بود و باش انہوں نے اس زمین پر بنا لی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بھی اس میں بسا دیا اور انسانوں کی ضروریات کو بھی اس میں پھیلا دیا اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا اس نظام کو اسی طرح برقرار رکھے گا۔
Ayah 79:31اور اس سے اس کا پانی اور سبزہ نکالا
۔ 31 لاریب زمین ایک ٹھوس چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر زندگی کو قائم رکھنے کے لئے اس کے اندر اس کی شریانوں میں پانی بھر دیا ہے جو اس کے اندر ہی اندر چلتا رہتا ہے اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ وہ کہیں کڑوا ہے اور کہیں کھاری اور اسی طرح کہیں میٹھا ہے اور کہیں بہت ہی ٹھنڈا بھی اور میٹھا بھی۔ زمین کے اندر اگر اللہ تعالیٰ اس پانی کو نہ روکتا تو شاید یہ آگ کا گولا بن جاتی اور اپنے رہنے والوں کی بود و باش کے یہ کام نہ آتی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر نباتات اگنے اور بڑھنے کی جو صلاحیتیں رکھی ہیں وہ اس لئے موجود ہیں کہ اس کے اندر پاین موجود ہے اگر یہ پانی اتنا قریب نہ ہوتا تو معلوم نہیں انسان کو اس کے لئے کتنی مشکلات پیش آتیں اور پھر مزید غور کرو کہ اگر اس سے بھی زیادہ ضرورت ہو تو انسان اس زمین کے اندر سے پانی نکال کر اس کے قشر میں ڈال لیتا ہے تو اس سے اشیاء میں ترو تازگی آجاتی ہے اور ان کی زندگی بحال ہوجاتی ہے۔ سای پانی کے ذریعہ انسان خوراک بھی حاصل کر رہا ہے اور اپنے جانوروں کے لئے بھی چارہ پیدا کر رہا ہے اور بلاشبہ یہ بھی اس کی وحدانیت پر ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
Ayah 79:32اور پہاڑوں کو اس پر قائم کردیا۔
۔ 32 (ارسھا) کا اصل مادہ ر س و ہے اور اس کے معنی ہیں کہ اس کو قائم کردیا۔ اور سی ارسائٌ جس کے معنی لنگر باندھنے کے ہیں۔ اسی طرح ثابت رکھنے اور میخ ٹھونکنے کے آئے ہیں ، ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ھا ضمیر واحد مئونث غائب۔ اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ اس نے پہاڑوں کو زمین میں گاڑدیا ۔ گویا زمین پانی پر لنگر انداز کردی گئی۔ غور کرو کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ مذکر ہو یا مئونث اس میں وہ ساری صلاحیتیں رکھ ید جاتی ہیں جو ایکا نسان میں ہوتی ہیں یا ایک انسان میں ہونا ضروری قرار پاتی ہیں لیکن کیا ان سب کا صدور اسی وقت ہونا شروع ہوجاتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ جوں جوں انسان بڑا ہوتا چلا جاتا ہے اور جوں جوں اس کو ان کی ضرورت پیش آتی جاتی ہے وہ خود بخود ظاہر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ یہی حال ہر ایک چیز کی نشو و نما کا ہے بلکہ اس کو ہم نشو و نما سے تعبیر کرتے ہیں۔ رہے ان پہاڑوں کے اندر دفینے جو ابھی تک مخفی پڑے ہیں تو وہ جوں جوں ان کے نکلنے کا وقت قریب آتا جاتا ہے وہ ظاہر ہو رہے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز جوں جوں وقت آئے گا وہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔
Ayah 79:33یہ سب کچھ اس نے تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدہ کے لئے کیا ہے
۔ 33 ربوبیت الٰہی کے نشانات میں سے یہ ایک نشانی ہے کہ اس نے اس زمین کے اندر تمہارے فائدہ کی ساری چیزیں رکھ دی ہیں اور تم اس سے جب چاہو اور جیسے چاہو ان کو حاصل کرلو۔ بلاشبہ انسان کی جتنی ضرورتیں ہیں وہ سب کی سب اس میں رکھ دی ہیں بلکہ انسان خود بھی اس کے اندر موجود ہے اور اس سے قدرت الٰہی کی کرشمہ سازی سے پیدا ہو رہا ہے جو ساری حقیقتوں سے بڑی حقیقت ہے لیکن اس کائنات کے سہرے کا اتنا حق بھی نہیں کہ یہ غور و فکر کرے کہ پوری کائنات کا نظام تو میری خاطر بنایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کی ہرچیز محض بیکار پیدا نہیں کردی گئی بلکہ ہر ایک چیز کو کارآمد بنایا گیا ہیت و کیا اس اشرف المخلوقات کو اس نے محض بےکار پیدا کردیا ہے ؟ اگر بات ایسی ہے تو پھر کار آمد چیزوں کے پیدا کرنے کا انجام کیا نکلا ؟ حالانکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس خلاصہ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت کے لئے پیدا فرمایا تاکہ اس کی ساری صفات کا یہ مظہر ہو کہ اس کی قدرتوں کا انکشاف کرے اور اس کو مکلف بنایا تاکہ وہ اچھے اور برے میں تمیز کر کے اچھائی کو قبول کرتے ہوئے برائی کو مسترد کر دے تاکہ اس زندگی کے بعد اس کو اس زندگی کے انعامات کا بھی مستحق قرار دیا جائے جس کو اخروی زندگی کے نام سے موسوم کیا جا جاتا ہے۔
Ayah 79:34پس جب وہ بڑی آفت یعنی قیامت آئے گی
۔ 34 (الطامۃ) ( کا اصل مادہ ط م م ہے۔ بلائے بزرگ ، بڑی آفت ، بڑا ہنگامہ ، قیامت جس میں ہر ایک چیز کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ طم سے جس کے معنی کسی چیز کے اتنے زیادہ ہونے کے ہیں کہ وہ چھا جائے اور غالب آجائے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مئونث اور اس لئے (طامۃ) کے معنی اس بڑی مصیبت کے آتے ہیں کہ جو ہرچیز پر چھا جائے اور اس جگہ اس سے قیامت ہی مراد ہے کیونکہ ہنگامہ قیامت سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا پھر اس ہنگامہ کو (الکبری) کے لظ سے مزیدب ڑا کردیا ہے اور ظاہر ہے کہ قیامت سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ ہولناک نہیں ہو سکتی یعنی سخت عذاب والی۔ ایسی ہلچل مچا دینے والی کہ کسی کو کسی کی بھی پہچان نہ رہے بلکہ سب کو اپنی اپنی پڑجائے گویا وہی بات جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ” تجھے کیا پڑی ہے پرائی اپنی نبی ڑ تو۔ “
Ayah 79:35اس دن ہر انسان اپنے اعمال کو یاد کرے گا
۔ 35 اس کی زندگی کی پوری فلم تیار کرنے والا اس کی پوری زندگی پر محیط کیسٹ کو ایک ایسی ٹیپ میں لاکر رکھ دے گا کہ انسان کے سامنے اس کی زندگی کی پوری فلم گھومنے لگے گی اور وہ ترتیب وار ایک ایک واقعہ ، ایک ایک بات کو اور ایک ایک حرکت کو اس کے سامنے پیش کرتا جائے گا اور جو کچھ اس نے دنیا میں کیا ہوگا ، اچھا یا برا وہ سب کا سب اس کے سامنے پیش کرتا جائے گا۔ (یتذکر) یہ دن وہ دن ہے کہ انسان کو جو کچھ اس نے کہا ہے سب کا سب اس کو یاد آئے گا اور جو کچھ اس کے لاشعور میں موجود ہے وہ سب کا سب اس کے شعور میں آجائے گا۔ خصوصاً یہ کہ جن مصلحتوں کے تحت اس نے یہ سب کچھ انجام دیا تھا وہ بھی اجاگر کردی جائیں گی اور کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں رہے گی اگر اس نے اچھے کاموں میں اپنی زندگی گزاری تھی تو اس کی خوشی کی انتہا نہ ہوگی اور اگر بد اعمالیوں میں عمر برباد کر کے آیا تھا تو اس روز اس کا ملال دیکھنے کے لائق ہوگا اور خصوصاً جب اس کے سامنے اس کے صحائف اعمال کھول کر رکھ دیئے جائیں گے ، جو باتیں اس کو فراموش ہوگئی تھیں وہ بھی اس کو یاد آنے لگیں گی ہم نے اس یاد آنے اور یاد دلائے جانے کی دو صورتیں عرض کی ہیں ان دونوں میں کو سنی صورت اس کو واضح کرے گی یا ان دونوں صورتوں کے علاوہ کوئی تیسری صورت ہوگی اس کو وہ عالم الغیب ہی جانتا ہے جو مفہوم ہماری سمجھ میں آیا ہے وہ عرض کردیا ہے۔
Ayah 79:36اور دیکھنے والے کے سامنے دوزخ ظاہر کردی جائے گی
۔ 36 قرآن کریم نے انسان کی تفہیم کرانے کے لئے آنے والے واقعات کو اس طرح پیش کیا ہے گویا کہ وہ آنکھوں دیکھا حال ہے حالانکہ یہ سب کچھ بطور ہمدردی ایسا کیا گیا ہے لیکن اس زندگی کی سرمستیاں اس قدر ہیں کہ انہوں نے اکثر انسانوں کو اس سے غافل کر رکھا ہے اور باوجود اس وضاحت کے اس کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن اس وقت ان کی حالت کیا ہوگی جب وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ؟ زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو باوجود سمجھانے بجھانے کے برائی سے باز نہ آئے لیکن جب وہ برائی کا مرتکب ہوجائے تو اس کا نتیجہ اسی وقت اس کی آنکھوں کے سامنے پھرنے لگے۔ یہ بات بالکل محقق ہے آپ کسی بھی قاتل کی حالت اگر جانتے ہیں تو ساری بات آپ پر واضح اور روشن ہوجائے گی۔
Ayah 79:37پھر جس نے سرکشی کی ہو گی
۔ 37 گزشتہ آیت کی وضاحت فرما دی گئی کہ وہ لوگ جو دنیا کی زندگی میں اس قدر مصروف رہے کہ ان کے سامنے آخرت کا تصور جب بھی کسی نے پیش کیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اس کی باتوں کی پروانہ کرتے ہوئے سرکشی کا مظاہرہ کیا اور دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی اور دنیا کے انہماک نے ان کو آخرت کے تصور سے باز رکھا لہٰذا انہوں نے جو کچھ کیا محض دنیوی زندگی کی رنگینیوں کے لئے کیا۔
Ayah 79:38اور دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی
۔ 38 (اثر) اثر یوئر ایثارا۔ اختارہ و فضلہ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے پسند کیا۔ بہتر سمجھا۔ ایثار جس کے معنی کسی چیز کو دوسری چیز پر ترجیح دینے اور پسند کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کی بات ہے جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا اس جگہ ذکر خیر چل رہا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اس دنیا کے بہت بڑے بڑے لوگ ہیں جو باپ دادا والے لوگ کہلاتے ہیں اور بلاشبہ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو خالصتاً اس دنیا ہی کے لئے سمجھا کہ گویا دنیا خالصتاً ان کے لئے ہے اور وہ اس دنیا کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔
Ayah 79:39بلاشبہ دوزخ ہی ایسوں کا ٹھکانا ہے
۔ 39 جن لوگوں کا گزشتہ آیات میں ذکر کیا گیا ہے یہ وہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور قیامت کے روز ساری شرمندگی ان ہی لوگوں کے حصے میں آئے گی اور یہی ہیں جو شرمندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ مطلب ہے قیامت کا دن ایسا دن ہوگا کہ سارے انسان سب سے پہلے دو بڑے گروہوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ ایک گروہ ان لوگوں کا ہوگا جنہوں نے سرکشی اختیار کی اور حدود اللہ کی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنی دنیوی زندگی میں اتنے مصروف رہے کہ آخرت کی زندگی کو بالکل ہی بھول گئے اور دنیوی زندگی کے آرام و آسائش کو آخرت کے آرام و آسائش پر ترجیح دی۔ ان کی ساری جدوجہد دولت ، عزت اور مال کے اکٹھے کرنے کے لئے صرف ہوگئی اور آخرت کا کوئی تصور ان کے ذہن و دماغ میں کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ ان کے شب و روز اسی ادھیڑ بن میں گزرتے رہے کہ وہ اس دنیا میں اونچے سے اونچے منصب پر فائز ہوں اور اس کے لئے جو ان سے بن پڑا وہ انہوں نے کیا۔ انہوں نے اپنی اخروی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ، وہاں سرخروئی حاصل کرنے کے لئے کبھی سوچا تک بھی نہ تھا۔ دنیا میں رہتے ہوئے جو کام بھی انہوں نے کئے خواہ وہ دین کے نام پر کئے یا محض دکھاوے کے لئے کرتے رہے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ اچھی طرح یاد رکھیں کہ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جن عظمتوں کو حاصل کرنے کے لئے وہ لگے رہے وہ فانی تھیں چند روز ان کی عظمتوں کا ڈھکا بجا اور پھر ہمیشہ کے لئے فنا کی وادیوں میں گم ہوگئے۔ لیکن جن لوگوں نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی بلاشبہ اس وقت دنیا میں ان کے نام تک سے کوئی واقف نہ تھا لیکن آخرت میں ان ہی کا نام ہوگا۔ گزشتہ آیتوں میں اہل دنیا کا ذکر تھا اور آنے والی آیات میں ان گمنام شخصیتوں کا ذکر ہے جن کے نام سے دنیا میں کوئی بھی واقف نہیں تھا لیکن آخرت کی زندگی میں جو پذیرائی ان کو حاصل ہوگی اس پر دنیا دار رشک کریں گے۔
Ayah 79:40جس نے اپنے رب کی شان سے خوف کھایا اور نفس کو گری ہوئی خواہشات سے روکا
۔ 40 (الھوی) اسم مصدر۔ ناجائز نفسانی خواہش۔ ناجائز رغبت۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی دنیوی زندگی گم شدگی کی حالت میں گزار دی لیکن اس کی طرف انہوں نے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا نہ کبھی اس کی رنگینوں کی طرف ان کی توجہ ہوئی اور ان سے جو کچھ بن پڑا انہوں نے اپنی آخرت کے لئے کیا اور اس طرح دنیا کے لوگوں نے ان کی جو مخالفتیں کیں اور جو جو زیادتیاں ان کے ساتھ روا رکھیں وہ انہوں نے سرما تھے پر قبول کیں اور اللہ کی رضا کے لئے اس معاملہ میں کبھی انہوں نے اف تک نہ کی۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا ایسا خوف طایر رہا کہ ساری زندگی انہوں نے اپنی راہ سے دوسری طرف کو کبھی نگاہ ہی نہ اٹھنے دی اور دنیوی خواہشات کا قبضہ اپنے اوپر کبھی نہ ہونے دیا۔ انہوں نے دنیا میں جو کچھ کیا محض دین کی خاطر کیا اور جو زندگی اختیار کی اس کو عارضی زندگی کا درجہ دیا اور اس سے اپنی اخروی زندگی کو سنوارنے کی کوشش میں مصروف رہے اور اپنے نفس کو دنیوی خواہشات سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور یہ وہ دوسرا گروہ ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چاک جو اہل دنیا کا گروہ تھا۔ یہ لوگ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہے اور ہر وقت ان کو اس بات کا خیال رہا کہ ہم نے ایک دن اپنے رب کی روبرو کھڑے ہونا ہے اس لئے انہوں نے اپنے نفس کے گھوڑے کو کبھی بےلگام نہیں ہونے دیا اور انہوں نے شریعت کی قائم کردہ حدود کو توڑنے کی کبھی جسارت نہیں کی۔ انہوں نے دنیوی زندگی کو بحال رکھا تو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے رکھا۔
Ayah 79:41پس بلاشبہ جنت ہی ان کا ٹھکانا ہے
۔ 41 فرمایا دنیا کی زندگی گزرتے کتنی دیر لگی ؟ اگر کوئی بہت دیر تک زندہ رہا تو ایک سو سال اس نے جی لیا ہوگا اور اس میں زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ سال اس کو مل گئے ہوں گے کہ وہ ظاہری شوں شاں میں رہا ہوگا پھر غور کرو کہ وہ لوگ کتنے سمجھدار نکلے جنہوں نے اس دنیائے دوں کی زندگی پر لات ماری اور آخرت کو اس پر ہزار بار ترجیح دی اور اللہ تعالیٰ کے قانون سے متصادم ہوتے ہی انہوں نے اپنے آپ کو سختی سے باز رکھا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج جنت کی بہاریں ان کے لئے چشم براہ ہیں اور جتنی مخلوق جو ان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی وہ ان کے اتنظار میں ہیں اور اب میدان حشر سے فراغت پا کر یہ لوگ جس طرف کو بھی منہ کریں اور جس طرف بھی قدم بڑھئایں گے ان کو سلامتی پیش کرنے والی ٹولیاں ان کے استقبال کے لئے نکلیں گی اور ہر طرف سے اھلا و سھلاً مرحباً کے نعرے بلند ہوں گے اور جنت ہی ان لوگوں کا ٹھکانا ہوگا۔ اس جگہ اس مختصر ذکر کے بعد اب دوبارہ منکرین قیامت ہی کی طرف رخ پھر رہا ہے۔
Ayah 79:42یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی ؟
۔ 42 (ایان) کب متی کے قریب المعنی ہے اور کسی شے کا وقت دریافت کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس کی اصل ا ی اوان بمعنی کونسے وقت کے بتاتے ہیں اور الف کو حذف کر کے وائو کو یا کیا گیا ہے اور پھر یا کا یا میں ادغام کردیا اور اس طرح (ایان) ہوگیا۔ قرآن کریم میں یہ لفظ چھ بار آیا ہے (7 : 781) ، (61 : 12) ، (72 : 56) ، (15 : 21) ، (57 : 6) اور ایک بار اس جگہ سورة النازعات میں (مرسھا) مرسا مضاف ھا ضمیر مضاف الیہ۔ مصدر میمی ٹھہرانا ، جمانا۔ (سراغ ، راغب ، آلوسی) اس کا اصل مادہ ر س و ہے اورر س ا یر سوار سوا کے معنی ٹھہرنا۔ جگہ پر جم جانا اور اس سے مصدر میمی مرسھا آتا ہے اور مرسھا ای منتھاھا کے معنی میں ہے۔ آپ سے اے پیغمبر اسلام ! قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی ؟ اس کا ذکر بالکل اس سوال میں پیچھے گزر چکا ہے اس لئے آپ عروۃ الوثقی ، جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 781 کی تفسیر دیکھیں۔ ان شاء اللہ مکمل وضاحت وہاں مل جائے گی اور قیامت کی علامات کے متعلق بھی بہت کچھ بیان کیا گیا ہے لیکن جوں جوں ہم قیامت کی طرف بڑھ رہے ہیں یا جیسے جیسے قیامت ہماری طرف بڑھتی آرہی ہے یہ علامات بھی ہمارے قریب آرہی ہیں یا ہم بھی ان عالمات کے قریب قریب پہنچ رہے ہیں تو حقائق ثابت کر رہے ہیں اس لئے ہم اس جگہ چند ایک علامات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
(ان من اشراط الساعۃ ان یرفع العلم و یکثر الجھل و یکثر الزنا و یکشر مشرب الخمر و یقل الرجال و یکثر النساء حتی یکون یخمسین امراۃ القیم الواحد) (بخاری و مسلم) ” فرمایا علامات قیامت میں سے یہ ہیں کہ : (1) علم اٹھا لیا جائے گا۔ (2) جہالت زیادہ ہوگی۔ (3) زنا بہت ہوگا۔ (4) شراب کا پینا بڑھ جائے گا۔ (5) مرد تھوڑے ہوں گے اور عورتیں زیادہ ہوں گی یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں پر ایک خبر گیری کرنے والا مرد ہوگا۔
اذا جاء اعرابی فقال متی الساعۃ قال اذا ضیعت الامانۃ فانتظر الساعۃ قال کیف اضاعتھا قال اذا وسدالامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ (بخاری) ” ایک اعرابی نے آپ سے پوچھا قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا : (6) جب امانت ضائع کردی جائیگی تو اس وقت قیامت کا انتظار کرو۔ اس نے کہا امانت کا ضائع ہونا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا حکومت کا نا اہلوں کے سپرد کیا جانا امانت کا ضائع ہونا ہے اور یہی وقت قیامت کے انتظار کا ہے ۔ “
(ج) قال و برصدیق و جفا ایاہ و قال و شرب الخمر و لبس الحریر (ترمذی) (7) ” ہر شخص اپنے دوست سے نیکی کرے گا اور اپنے باپ پر ظلم کرے گا۔ “ (8) شراب پی جائے گی۔ (9) اور مرد مریشم کے کپڑے پہنیں گے۔ “
(و) (قال رسول اللہ ﷺ لاتقوم الساعۃ حتی یتقارب الزمان فتکون السنۃ کا لشھر والشھر کالجمعۃ و تکون الجمعۃ کالیوم و یکون الیوم کالساعۃ و تکون الساعۃ کا لضرمۃ بالنار) (ترمذی) (01) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ زمانہ قریب ہوجائے گا سال مہینہ کی مانند ہوگا مہینہ ہفتہ کی مانند اور ہفتہ ایک دن کی مانند لگے گا اور دن ایک ساعت کی طرح اور ساعت آگ کا شعلہ اٹھنے کی مانند ہوگی۔ “
بس آپ ان دس نشانیوں میں سے ایک ایک پر غور کریں اور اپنے زمانہ کے ساتھ اس کی مطابقت کرتے جائیں۔ بس جوں جوں قرب قیامت آئے گا ان دس میں ایک ایک قریب سے قریب تر ہوتی جائے گی۔ دنیا ایک بوڑھی ماں ہے ، اس ماں کی عمر کے مطابق ہی بات ہوگی لیکن جب بیان کی گئی دس علامتوں میں سے ایک ایک اس کے قرب کو بتا رہی ہے تو پھر اس بات کو یقین کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونا چاہئے کہ جس طرح قیامت ہمارے قریب آرہی ہے بالکل اسی طرح ہم بھی قیامت کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اس طرح اب فاصلہ تیزی سے طے ہوتا نظر آ رہا ہے اور حقیقت حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ علاوہ ازیں قرب قیامت اور علامات قیامت میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے اور بلاشبہ ان میں بہت سی باتیں احساس کراتی ہیں کہ ان میں جو حقیقت ہے وہ کھل رہی ہے۔
Ayah 79:43تجھے اس کے آنے کے ذکر سے کیا تعلق ہے ؟
۔ 43 یہ ان کے سوال کا جواب دیا جا رہا ہے جو گزشتہ آیت میں انہوں نے اٹھایا تھا کہ ” بتائو قیامت کب ہوگی ؟ “ آپ سے کہا جا رہا ہے کہ عقل کے ادھو اس سوال کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ کیا میں نے کہا ہے کہ قیامت میں لائوں گا یا لاتا ہوں۔ جب اس کے لانے کا تعلق میرے ساتھ نہیں ہے بلکہ اسی ذات کے ساتھ ہے جو اس کائنات کا بنانے والا ہے ، کائنات کا نظام چلانے والا ہے لہٰذا اگر تم کو یہ پوچھنا ہی ہے تو اس سے پوچھو جس کو قیامت بپا کرنا ہے۔ میں تو محض خبر دینے والا ہوں اور میں اتنی ہی خبر دے سکتا ہوں کہ جتنی مجھے بتائی گئی ہے۔ جو چیز مجھے بتائی نہیں گئی اس کو میں تم سے کیسے بیان کرسکتا ہوں اور اسی بات کے کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے اگر اس سے آگے جو کچھ تم کر رہے ہو اس کا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو اب سے کب کا کام تمام ہوگیا ہوتا۔
Ayah 79:44اس کے وقت کی انتہا تو تیرے رب سے متعلق ہے
۔ 44 (منتھھا) منتھی اسم ظفر زمان مضاف ھا مضاف الیہ۔ اس کا آخری وقت یا ظرف مکان۔ اس کی آخری حد۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ان سے واضح الفاظ میں فرما دیں کہ اس کی انتہا کو تمہارا رب ہی جانتا ہے اس نے کسی انسان کو اس کا علم نہیں دیا اور نہ ہی اس کا علم دیا جاسکتا ہے اور اسی طرح یہ بھی یاد رہے کہ علم اذن دینے سے نہیں آتا بلکہ سیکھنے سے آتا ہے اور جن لوگوں کو بغیر سیکھے علم حاصل ہوتا ہے وہ صرف اور صرف انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہم السلام) ہیں اور ان کے سکھانے کے لئے جبریل (علیہ السلام) کا بھینچنا ہے جس کی قوت و برداشت بھی نبی و رسول ہی کو ہو سکتی ہے کسی دوسرے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آئے تو شاید اس کی جان کے لالے پڑجائیں اور یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ آخر وہ کسی غیر نبی کو بھینچا لگائے گا تو آخر کیوں ؟
Ayah 79:45تو تو صرف اس کو جو اس سے ڈرتا ہے خبردار کرنے والا ہے
۔ 45 (یخشھا) واحد مذکر غائب مضارع خشیۃ ” ھا “ ضمیر مفعول وہ اس سے ڈرتا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ آپ کو اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ آپ ان لوگوں کو قیامت کا تعین کر کے واضح کروا دیں کہ اسکی آمد کس وقت ہوگی ؟ یہ سوال آپ کے لئے درست نہیں ہے کیونکہ آپ کا کام فقط ڈرانا ہے ، اس شخص کو جو اس سے ڈرے اور ڈرنا چاہے۔ اگر کوئی شخص ڈرنا نہیں چاہتا تو اس کا معاملہ اس کے رب کے ساتھ ہے ، آپ کا مقصد صرف ڈرانا ہے وہ آپ ڈرا رہے ہیں جو کام ان کا ہے وہ ان ہی کے لئے آپ رہنے دیں ، ڈریں گے اور اپنی اصلاح کرلیں گے تو ان کا اپنا فائدہ ہے اور اگر نہیں ڈریں گے اور اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کریں گے تو نقصان بھی ان ہی کا ہوگا اور اگر وہ اپنا نقصان آپ کرنا چاہتے ہیں تو ان کو کر کے دیکھ لینے دیں۔
Ayah 79:46وہ جس روز اس کو دیکھیں گے گویا وہ ایک صبح یا شام اس میں رہے تھے
۔ 46 اس وقت آپ ان کو ڈراتے ہیں لیکن وہ آپ سے ڈرنا نہیں چاہتے اور طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں لیکن جب ان کے ماننے نہ ماننے سے اس کا کوئی تعلق نہیں وہ تو جب اس کے آنے کا وقت ہوگا بہرحال آئیگی اور جس روز وہ اس کو دیکھیں گے تو ان کے طوطے اڑ جائیں گے اور ان کو گزرا ہوا وقت ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہ تو ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی اس دنیا میں رہے ہیں۔ اس لئے وہ قلت وقت کا شکوہ کریں گے کہ ہم تو دنیا میں نہیں گئے اور نہ ہی ہم وہاں رہے۔ بس گئے کہ ہم کو واپس بلا لیا گیا اور ہمارا قیام تو فقط اتنا ہی رہا جتنی دیر صبح یا شام کا وقت ہوتا ہے۔ ہمیں تو سمجھنے اور سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملی اور اتنے قلیل وقت میں ہم اس حقیقت کو کیسے سمجھ سکتے تھے اور یہ کہنا ان کا گویا عذر پیش کرنا ہوگا لیکن ان کے اس عذر کی کوئی قیمت نہیں پڑے گی بس ایک فریب ہے جو وہ اپنے آپ کو دے رہے ہیں اور ہم اس سورت کے مضمون کو اس جگہ ختم کر رہے ہیں۔ ربنا و اتنا ما وعد تنا علی رسلک ولا تخزنا یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد۔