80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayahs 80:1–16

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(کیا اس نے) تیوری چڑھائی اور منہ موڑ لیا ؟

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

تجھے کیا خبر کہ شاید وہ پاکیزگی اختیار کرے

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا وہ نصیحت پکڑے پس نصیحت اس کو فائدہ دے

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو شخص پروا نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

پس تو اس کے لیے فکر مند ہوگا ؟

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

اور تجھ پر کیا ہے اگر وہ پاکیزگی اختیار نہ کرے

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آیا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ ڈرتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

پس تو اس سے غافل ہے

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پس جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

وہ ایسے صحیفوں میں (درج) ہے جو مکرم (و معزز) ہیں

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

بلند مرتبہ صاف ستھرے ہیں

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

وہ (دور دور) سفر کرنے والوں کے ہاتھوں میں ہے

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو بڑے بزرگ اور نیکو کار ہیں

آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں میں نہیں اور بسملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کا نام لے یوں پڑھو اور سمجھو اور پڑھائو اور کہ کوئی ( فلاں صاحب) بینا متمول غیر مسلم نبوی مجلس میں بیٹھ کر کچھ بیکار امور دریافت کر رہا تھا اور اسے جواب بھی دیا جا رہا تھا کہ ایک مسلم فقیر نابینا بھی اسی مجلس میں شامل ہو اور کچھ کام کی بات پوچھ کر جواب کا متقاضی ہوا وہ اندھا تھا بہرا تو تھا نہیں ممکن ہے کہ مجلس مذاکرہ میں کفار کی طرف سے مخاصمت طول پکڑ گئی ہو اور یہ بیچارہ ناصحان طور پر کچھ بولا ہو جس پر یہ کافر ناراض ہوا اور ناک بھوں چڑھائے اور ترش رو ہو کر اسے ڈانٹا کہ یہ ہمارے مکالمہ میں حارج ہوا ہے اگر یہ یہاں سے چلا جائے تو بہتر ہے۔ اسے نفرت اور حقارت کے طور پر ڈانٹا محض ظاہر داری کے طور پر تھا اور نہ وہ خاندان کے لحاظ سے بہت بڑا شریف خاندانی تھا۔ رسول اللہ ﷺ تو اپنے حلم کی وجہ سے خاموش رہے مگر اللہ پاک خاموش نہیں رہا اور فرمایا کہ جسے یہ اندھا سمجھ کر دھتکار اور ڈانٹ رہا ہے اور وہ پاکباز اور روشن ضمیر ہے۔ اندھا تو دراصل یہ خود آپ ہے کہ حق و صداقت سے دور ہے پھر اسے مخاطب ہو کر یوں فرمایا کہ تیری اپنی حالت تو یہ ہے کہ اپنے جیسوں کی یا اپنے سے زائد اغنیاء کی آمد پر خوش آمدید کہتا ہے اور ان کی پوری پوری خاطر و تواضع کرتا ہے خواہ وہ تیری طرح کتنے ہی بداطوار ہوں اور اگر کوئی غریب نیک سیرت تیرے قریب آجائے تو ترش رو ہو کر اسے ڈانٹتا ہے اور اس پر مزید یہ کہ تو ہمارے رسول اللہ ﷺ سے بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ بھی تیری طرح مسلم غرباء کو ناک بھوں چڑھا کر ڈانٹا کرے اور تیرے جیسے صرف اغنیاء ہی سے اپنی مجلس کو سجایا کرے سو ایسی توقعات تو ہمارے رسول ﷺ سے مت کیا کر اور نہ وہ ان کے پورا کرنے کے لئے کبھی بھی تیار ہوگا ۔ اس کی مجلس تو قرآن مجید اور حدیث شریف سے مزین ہے اور ہر ایک چھوٹے بڑے کے لئے دروازہ کھلا ہے اپنے اپنے درجوں میں جوں جوں کوئی آیا ، اسے سوال کا حق حاصل ہے کسی کو بیو روکا ڈانٹا نہیں جاسکتا اور اس میں کسی امیر اور غریب کا کوئی سوال پیدا کرنا کسی طرح بھی ٹھیک نہیں اور یہ ضابطہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان پر نازل کردہ قرآن و حدیث کے ساتھ ہی کچھ مخصوص نہیں بلکہ ہر ایک سابق رسول (علیہ السلام) اور اس پر نازل شدہ صحیفہ کے لئے ہم اس قانون پر عمل کرتے چلے آ رہے ہیں کبھی بھی کسی رسول (علیہ السلام) نے اپنی علمی اور دینی مجلس سے کسی مسلم فقیر کو غربت کی وجہ سے نہیں نکالا اور نہ ڈانٹا اور نہ کسی غنی کو تمول کی وجہ سے مزید موقع نہیں دیا اور نہ کسی کے ایسے توقعات کو کبھی پورا کیا ۔ بلکہ ہمیشہ ایسے تقاضوں کو مسترد فرمایا ۔ فرعون کا ذکر پچھلی سورة میں گزر چکا ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ٹکرایا اور اسے اور اس کے ساتھیوں کو حقیر سمجھا کہ یہ تعداد میں مٹھی بھر ہمارے ما تحت ہیں اور میں آسودہ حال اور صاحب اقتدار ہوں انہیں ہر طرح سے گرا سکتا ہوں ۔ اسی طرح پر نوح (علیہ السلام) سے تقاضا ہوا کہ یہ تمہارے حلقہ کے لوگ ہمارے نوکر چاکر اور گھٹیا درجہ کے انسان ہیں کوئی ظاہری تفضل ان میں موجود نہیں جب ہم آیا کریں تو انہیں چھٹی دے کر رخصت کردیا کرو۔ ان کا ہمارا قریب ہو کر بیٹھنا ہمیں گوارا نہیں ہوتا کہ اس میں ہماری ذلت ہے تو آپ نے جواباً فرمایا کہ اللہ پاک نے جس انعام و کرام سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو نوازا ہوا ہے وہ تمہیں نظر نہیں آتا اور دنیوی آسودگی کے خزانے اللہ پاک کے پاس ہیں جب اسے منظور ہوا تو وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی مناسب حصہ دے گا کہ وہ ہمارے ارادوں اور کاموں سے خوب آگاہ ہے تمہارے ایسے تقاضے سراسر جاہلانہ ہیں انہیں ہرگز پورا نہیں کیا جاسکتا اور میں اپنے کام میں مستعد ہوں اور آخر تک اسے پورا کر دوں گا ۔ مجھے کسی سے کچھ لینا نہیں کہ میں اس کے تقاضے پورے کرتا پھروں اور محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اسی طرح پر ارشاد ہوا کہ قرآن مجید پڑھ کر سنائو اور سمجھائوں اور اپنے کام میں مستعد اور ہوشیار رہو اور کسی سے کچھ مطلب مت رکھو اور اپنے ساتھیوں کو جو صبح و شام اللہ پاک سے ہی مطلب رکھتے ہیں اپنی علمی مجلس سے ان جاہلوں کے تقاضوں کی بناء پر مت نکالو کہ یہ ظالمانہ روش ہے جو آپ جیسوں کے لئے مناسب نہیں بلکہ جب وہ آیا کریں تو انہیں خوش آمدید کہا کرو اور مرحبا بکم کہہ کر مناسب جگہ پر بٹھایا کرو کہ اس سے ان کی دلجوئی ہوگی اور اگر ان میں سے کوئی ناداستہ آداب مجلس کے خلاف بھی کچھ کر بیٹھے تو وہ تائب ہوا کرے اور تم معافی دے دیا کرو اور اللہ پاک بھی معاف فرما دے گا ۔ پھر مکرر فرمایا کہ ایسے لوگوں سے جو صبح و شام اللہ پاک کو پکارتے رہتے ہیں اور اس سے ہی مطلب رکھتے ہوں میل جول رکھا جو ان کے خلاف کسی دنیا دار کی ناجائز درخواست ہرگز قبول مت کیا کرو کہ یہ الٰہی سر چشمہ اور علمی مجلس ہر ایک کے لئے برابر ہے اور اس کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے ورنہ وہ جانے تمہارا کام بس تبلیغ ہے۔ در منثور میں بحوالہ احمد بن جریر ، ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم ، طبرانی ، ابو شیخ ، ابو نعیم ، عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ قرشی خاندان کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس صہیب ، عمار ، بلال ، خبیب ؓ جیسے کچھ خادموں کو بیٹھے دیکھ کر طنزاً کہا کہ اب تو خاموش ہو کر انہیں لئے بیٹھے ہو کیا اچھا ہوتا کہ آپ ہماری مان کر انہیں رخصت دے دیتے اور ہمارے ساتھ بات چیت کرتے ۔ تو اللہ پاک نے سورة انعام کی آیات کو نازل فرما کر بتایا کہ ان کا تقاضا غلط ہے پاکبازوں کو مجلس سے ہٹا کر تم سے بات چیت کا کوئی ضابطہ نہیں ۔ اور بحوالہ صحیح مسلم ، نسائی ، ابن ماجہ ، ابن جریر ، ابن منذر ، ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم ، حاکم ، ابو شیخ ، ابو نعیم ، سعد ابن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ میری ونیز عبد اللہ بن مسعود ؓ اور بلال ؓ اور تین دیگر شخصوں کی بابت ان کی درخواست تھی کہ ہماری آمد پر انہیں رخصت کردیا کرو ۔ رسول اللہ ﷺ کے دل میں خیال پیدا ہوا تو اللہ پاک نے ان آیات کریمات کو نازل فرما کہ ایسے تقاضے ہرگز پورے نہیں ہو سکتے ۔ اور بحوالہ ابن ابی شیبہ اور ابن ماجہ اور ابن جریر ، ابن منذر ، ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم ، ابی شیخ ، ابو نعیم ، بیہقی ، خباب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مجھے ونیز بلال اور صہیب اور عمار ؓ دیگر ایسے خادموں کو بیٹھے دیکھ کر اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصن نے کہا کہ ہم آپ سے ایک پردہ کی بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے کان میں یہ بات کی کہ انہیں اٹھا دیں تاکہ ہم کچھ علمی بات چیت کرسکیں ان کے بیچ بیٹھ کر بات چیت ہماری ذلت کا سبب ہے ہاں جب فارغ ہو لیا کریں تو پھر چاہے جیسے آپ بٹھا لیا کریں بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پر اگر تحریری معاہدہ ہوجائے تو بہتر ہے۔ اور قلم اور دوات اور کاغذ بھی پیش ہوئے ۔ اور علی ؓ لکھنے پر مامور ہوئے تو ان آیات کا نزول ہوا تو آپ نے پڑھ کر سنایا کہ ایسے مطالبات ہرگز قابل سماعت نہیں ۔ امام بغوی ؓ نے معالم میں یہ لفظ بڑھا کر اسے بیان کیا ہے کہ آپ نے انہیں جواب دیا کہ ( ما انا بطارد المومنین) تمہاری آمد پر سابق بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو اٹھا کر تم سے بات چیت شروع کر دوں یہ قطعا ً ناممکن ہے ۔ اور حاشیہ مشکوٰۃ میں بھی لمعات سے یہ روایت منقول ہے۔ اور شاہ عبد القادر دہلوی (رح) نے بھی اسے موضع القرآن میں بیان فرمایا ہے اور مدارک میں بھی اسے بیان کیا ہے ہاں دیگر مفسروں نے اسے حذف کیا ہے اور نعم سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مطالبہ پورا کرنے پر آمادہ ہوئے مگر یہ ٹھیک نہیں کہ شان نبوت کے خلاف ہے ۔ خصوصاً سورة عبس کے نزول کے کافی عرصہ بعد بلکہ شعراء اور ہود کے بعد جن میں ( ما انا بطارد المومنین) اور ( وما انابطارد الذین امنوا) وارد ہوا ہے کہ سابق انبیائے کرام (علیہ السلام) نے ایسے مطالبات کو پورا نہیں کیا تجھے بھی ان کی روش پر ایسے مطالبات کو پورا کرنا مناسب نہیں ۔ جیسے کہ سنن ابن ماجہ میں تصریح ہے کہ ان دونوں صاحبوں نے سورة کہف کے نزول تک اپنے مطالبہ پر اصرار کیا اور پھر ہجرت نبوی کے کچھ عرصہ بعد مسلمان ہوئے اور مولفۃ القلوب میں شمار ہوئے ۔ اور یہ جو وارد ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں کچھ خیال پیدا ہوا جس کا مطلب ہمارے علماء کرام کے نزدیک یہ ہے کہ ان کا مطالبہ پورا کردیا جائے مگر میرے نزدیک یہ ٹھیک نہیں کہ یہ آپ کے اخلاق عالیہ اور سابقہ الٰہی ہدایات کے خلاف ہے۔ سورۃ قلم میں آپ کے اخلاق فاضلہ کی تشہیر کی گئی ہے جس کے بعد سورة عبس نازل ہوئی جس میں ہمارے علماء کرام کے نزدیک آپ کو زجر کی گئی ہے پھر اس کے بعد شعراء اور ہود کا نزول ہوا پھر یہ سورة انعام نازل ہوئی دریں حالات کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ آپ ایسے مطالبات کے پورا کرنے پر آمادہ ہوگئے لہٰذا یہ مطلب صحیح نہیں بلکہ ٹھیک مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ کے دل میں ان کے اس مطالبہ سے رنج اور غصہ پیدا ہوا ہے اور اسے پرانا مطالبہ بتا کر نوح (علیہ السلام) کا جواب اپنی طرف سے سنا دیا ۔ اور آپ نے جو نعم فرمایا تو وہ فلتقعد معھم ان شئت کے جواب میں فرمایا ہے کہ ہاں میں ان غرباء کی مجلس چاہتا ہوں کہ وہ اچھی ہے۔ یا وہ مبتداء محذوف کی خبر ہے کہ تم دونوں مشترک ہو کر ایسا مطالبہ کر رہے ہیں اور میں اس کے جواب میں نوحی جواب کو کافی سمجھتا ہوں کہ میں انہیں تمہاری آمد پر مجلس سے نہیں اٹھا سکتا ۔ نبوت سے حسن ظن ہے کہ اگر لکھتے تو یہی لکھتے جو فرمایا ہے۔ پھر اس کے بعد سورة مومنون نازل ہوئی جیسے در منثور میں بحوالہ ادب مفرد بخاری اور ( کتاب التفسیر) نسائی ، ابن منذر ، ابن ابی حاتم ، حاکم ، بیہقی ، یزید بن بابنوس اور مروی ہے کہ ہم نے عائشہ صدیقہ ؓ سے نبوی خلق کی بابت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا سورة مومنون میں آپ کے خلق کا صاف صاف بیان ہے ۔ اور ذی علموں کو خوب معلوم ہے کہ سورة مومنون اور سورة الانبیاء کا سیاق ایک ہے۔ ہر ایک نبی (علیہ السلام) ضرور مومن ہے اور ہر مومن نبی (علیہ السلام) نہیں ۔ اور صدیقہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو ان میں داخل فرمایا ہے ۔ اور یہ سورة مکہ کے آخری ایام میں نازل ہوئی یہ اور زکوٰۃ کے مفہوم میں ہر طرح کا تزکیہ نفس موجود ہے جیسے کہ سورة شمس ، اعلیٰ ، مریم ، کہف ، فاطر ، طہٰ کی آیات کریمات سے ظاہر ہے۔ سورۃ تطفیف میں اللہ پاک نے یوں فرمایا کہ ایسے لوگوں کا یہ صریحاً جرم ہے کہ وہ مسلمانوں کو غلط کار اور غلط گفتار بتاتے ہیں اور ان پر تمسخر اڑاتے ہیں کیا یہ لوگ ان پر جج لگے ہوئے ہیں جو کہ ایسا کر رہے ہیں ۔ نیز سورة قلم میں فرمایا کہ اے ہمارے رسول ﷺ نبوت اللہ پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے جو تجھ پر نازل ہوئی ہے اور اس کی تبلیغ و اشاعت پر تجھے بہت بڑا اجر وثواب بھی ملے گا اور کہ تیرے اخلاق کریمانہ بہت بلند ہیں بالآخر میدان تیرے ہاتھ میں ہوگا ۔ اور عنقریب ان لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ تو غلط کار اور غلط گفتار ہے یا کہ یہ لوگ خود غلط کار اور غلط گفتار ہیں ۔ یہ لوگ تبلیغ اشاعت کے کام کو ایسی درخواستوں سے ڈھیلا اور کمزور کرنا چاہتے ہیں سو تم ان کی ایسی کوئی درخواست بھی قبول مت کرو ۔ یہ پیٹ بھرے دولت مند لوگ حلف اٹھا اٹھا کر اور غیبت کو اپنا شعار بنا بنا کر اور چغلی کھا کھا کر اور ظلم و ستم ڈھا ڈھا کر اور اپنا نسب بدل بدل کر گناہوں کے مرتکب ہوتے اور کار خیر سے روکتے ہیں اور اولاد و احفاد اور مال و منال کے گھمنڈ پر قبول حق سے انہیں عار ہے ۔ نیز فرمایا کہ ایسے مالدار اور عیالداروں کا میں خود بندوبست کرلوں گا کہ وہ میرے انعامات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مقابلہ کرتے ہیں ۔ میں ایسے ہر شخص کو جہنم رسید کردوں گا جس طرح وہ یہاں ہماری آیتوں اور ہمارے نیک بندوں سے ناک بھوں چڑھاتا اور عبودیت سے کام لیتا ہے ایسے ہی وہاں پر بھی اسے عبوست ہی سزا کے طور پر نصیب ہوگی۔ اے عبوست پسند تو ہمارے رسول ﷺ سے ایسی کوئی امید مت رکھ اور کہ وہ تیری ایسی کوئی امید پوری ہیں کرے گا کہ اپنی مجلس سے پاک بازوں کو نکال کر تجھے ان کی جگہ پر بٹھا دے ایسا ہرگز ممکن نہیں یہ عام دستر خوان ہے خواہ کوئی بھی ہے بڑا ہے یا کہ چھوٹا عورت ہے یا کہ مرد۔ مشرک کافر ہے یا مسلم موحد خواہ فقیر ہے یا کہ غنی ۔ امام سردار ہے یا کہ غلام نوکر خاندان معزز ہے یا کہ نہیں بہر حال سب کے لئے برابر کی جگہ ہے۔ ابراہیم اور موسیٰ و نیز دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے صحیفوں میں جو کچھ نازل ہوا تھا وہی اس قرآن مجید میں نازل ہوا ہے ۔ جس طرح ان کی تبلیغ و اشاعت ہوئی اس طرح پر اس کی بھی تبلیغ و اشاعت ہوگی ۔ سامعین کے لئے ایسے ترفع و تنزل کی نہ کبھی پہلے رعایت کی گئی اور نہ اب رعایت کی جائے گی سب کے حقوق مساوی ہیں بلکہ اصل بلندی اور پاکیزگی الٰہی کتابوں کو حاصل ہے پھر ان کو جو ان سے متمسک ہوں اور انہیں لکھتے پڑھتے ہوں اور ان کی تبلیغ و اشاعت کرتے ہوں اور سکھاتے پڑھاتے ہوں اور فرشتے جو پیام الٰہی کے لئے مخصوص ہیں وہ بھی ان میں شامل ہیں ۔ اور انبیاء کرام (علیہ السلام) تو سب سے زیادہ اس کے اہل اور مستحق ہیں کہ وہ بھی فرشتوں کی طرح اللہ پاک اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر کی طرح ہوتے ہیں پھر ان سب سے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام بلند ہے کہ صبح و شام جوں جوں قرآن مجید اترتا ہے توں توں اسے لکھتے لکھاتے جاتے ہیں ۔ اگرچہ آپ نبوت سے پیشتر نہ خود لکھ سکتے تھے اور نہ کسی کا لکھا ہوا پڑھ سکتے تھے پھر اللہ پاک نے اعجاز کے طور پر عربی خط لکھنا بھی سکھا دیا اور کسی کا لکھا ہوا پڑھنا بھی سکھا دیا جو کہ آپ کی نبوت پر روشن دلیل ہے اسی طرح دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی اللہ پاک نے اعجازی طور پر لکھنا پڑھنا سکھایا تھا کہ سب لوگ بزرگ و نیک تھے۔ اور در منثور میں بحوالہ صحاح ستہ و مسند امام احمد عائشہ ؓ سے مرفوعا ً مروی ہے کہ جو قرآن مجید کو جانتا اور پڑھتا لکھتا اور اس پر عمل بھی کرتا ہے وہ سفرہ کرام بررہ میں شامل ہے اور جو اسے مشکل سے پڑھتا ہے اسے دوہرا اجر ہے ایک تلاوت کا دوسرا مشقت برداشت کرنے کا۔
Ayahs 80:17–23

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

انسان ہلاک ہو وہ کیسا ناشکرگزار ہے

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

(اللہ نے) اس کو کس چیز سے پیدا کیا

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

ایک حقیر قطرہ سے اس کو تخلیق کیا پھر اس کو ایک خاص انداز سے بنایا

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لیے راہ (ہدات) آسان کر دی

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو موت دی پھر اسے قبر (عالم برزخ) میں رکھا

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ اٹھا کھڑا کر دے گا

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، اس نے (اپنے رب کے) حکم کو ادا نہیں کیا

آیت 17 تا 23: بہ ناقدر اور نا شناس انسان جو کہ پاکبازوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتا اور چیں بجیں ہوتا ہے اور انہیں ڈانٹنا ہے خودذلیل و رسوا ہے اسے اپنی پیدائش یاد نہیں کہ کس گندے پانی سے اسے بنایا ہے۔ آخر اسے نطفہ ہی سے بنایا گیا ہے جو پشت سے ہوتا ہوا کہاں سے کہاں جا نکلتا ہے ۔ پھر وہ طوراً بعد طور حالات بدلتا ہوا کیا سے کیا بنتا رہتا ہے اور اس کے یہ حالات پیٹوں میں اللہ پاک کی قدرتوں سے اول بدل ہوتے ہوئے ایک کامل انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جس کے اعضاء متناسب اور شکل نہایت اچھی ہوتی ہے پھر وہ اسی طرح پر رفتہ رفتہ جوان ہو کر اللہ پاک کا مخاطب ٹھہر کر اس کے احکام کا مکلف قرار پاتا ہے جیسے کہ اللہ پاک نے اسے مخاطب فرما کر ان امور سے آگاہ فرمایا ہے کہ پہلے بدبو دار کیچڑ سے اس کا اصل مواد تیار کیا پھر اسے نطفہ کی شکل میں پشت میں جگہ دی پھر علقہ بنایا اور خون کی رنگت اس میں پیدا کی پھر اس میں ریشے بنا کر گوشت کی شکل میں منتقل کردیا اور اس میں ہڈی بھی پیدا کی اور پٹھے بھی پیدا کردیئے پھر پورا ڈھانچہ تیار ہونے پر اس میں روح پھونک دی ۔ اس کے بعد بھی اسے ماں کے پیٹ میں ہی رکھا جس کی وجہ سے بہت تکلیف ہوتی رہی پھر ماں نے اسے تکلیف سے جنا اور اللہ پاک اسے کامل انسان بنا کر دنیا میں لایا اور اسے اماں کی گود میں دودھ پلا پلا کر پرورش کرایا پھر وہ اسی طرح پر جوان حتیٰ کہ بوڑھا بھی ہوا پھر طبعی عمر پوری ہو کر موت نے اسے آگھیرا اور مر کر دفن ہوا یا کہ قتل ہوا یا کہ جل کر کرایا کہ غرق ہوا یا کہ درندوں نے اسے پھاڑ کھایایا کہ وہ اوپر سے گر پڑا تو اسے پرندوں نے نوچ کھایا اور کہیں سے کہیں اس کے ذرات اڑتے اڑاتے پہنچے اور فنا ہوئے ۔ پھر جب اللہ پاک کو منظور ہوا حشر بھی ضرور ہوگا یہ لوگ حلفیہ بیان کرتے ہیں کہ حشر و نشر اور حساب و کتاب اور جنت و نار کوئی نہیں سو یہ اصل حقیقت سے بیخبر ی ہے جس کی وجہ سے ایسے لوگوں سے کوئی اچھا کام نہیں ہوتا ۔
Ayahs 80:24–32

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی غذا کی طرف غور کرے

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے (بادلوں سے) خوب پانی برسایا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر زمین کو ہم نے خوب پھاڑا

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم نے اس میں خوب غَلّہ پیدا کیا

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور (اس طرح) انگور اور ترکاریاں (بھی)

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں (بھی)

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغات (بھی)

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارہ (بھی)

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

(جو) تمہارے اور تمہارے جانوروں کے کام آتے ہیں

آیت 24 تا 32: انسان کو اپنے کھانے پینے اور لباس و دیگر ضروریات زندگی پر خوب اچھی طرح سے غور و فکر کرنا مناسب ہے کہ ہم انہیں کس طرح پیدا کرتے ہیں پہلے پانی بھرے بادل چھا جاتے ہیں پھر موسلا دھار بارش برستی ہے اور زمین کی خشکی دور ہو کر تری پھیلتی ہے پھر بیج پھٹتا ہے اور زمین شق ہوتی ہے اور طرح طرح کی خوشنما اور خوش وضع سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جس میں طرح طرح کا دانہ نیچے اوپر چڑھا ہوا پیدا ہوتا ہے جو کہ سٹوں بھٹوں میں محفوظ ہوتا ہے اور انسان اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اور صبح و شام سے اپنی غذا بناتا ہے جیسے گندم جو کئی قسم کی ہوتی ہے اور بےچھلکا جو اور چھلکا دار جو اور مکئی اور باجرہ اور جوار اور سانواں ، سوانک ، ساگودانہ ، چاول ، چنا ، چینا ، باقلا ، لوبیا ، ارھر ، مونگ ، موٹھ ، مسور اور مٹر یہ سب غلہ شمار ہوتا ہے جس سے بعض ترکاری کا کام دیتا ہے خواہ اسے شوربا بنا کر یا خشک کھایا جائے۔ اور بعض پودے بیل ہو کر زمین میں پھیلتے ہیں اور کھیت کا پھل کہلاتے ہیں اور کچے کھائے جاتے ہیں جیسے کہ انگور اور تربوز اور سرد اور کچرا اور خربوزہ اور ککڑی بڑی اور چھوٹی اور کھیرا اور قضب اصل اور بقل دونوں صورتوں میں پیدا ہوتا ہے اصل جڑ ہے جو زمین کے اندر ہوتی ہے جیسے کہ شلجم اور گاجر اور مولی اور اروی اور آلو کچالو اور چقندر اور ادرک سونٹھ اور شکر قندی اور پیاز اور لہسن اور بقل زمین کے باہر ہوتی ہے جیسے کہ کدو گھیا ٹنڈا توری اور کا نسی پھل اور پیٹھا اور پھول گو بھی اور گنڈ گو بھی اور بند گو بھی اور بینگن ( طویل گول سیاہ) اور بھنڈی اور ہاتھی چک اور چونگان اور کریلا اور کھمبی اور ٹماٹر اور ساگ سویا اور سوگ خرفہ اور ساگ میتھی اور ساگ پالک اور اجمود اور ساگ چوگا اور ساگ چولان اور سانگ گندنا اور ترکاریوں کی اصلاح کے لیے جو اللہ پاک نے پیدا کیا ہے وہ گرم مصالحہ ہے جیسے کہ مرچ ( سیاہ و سرخ ) اور لونگ اور زیرہ اور الائچی ( چھوٹی بڑی) اور پیاز اور لہسن اور دھنیا اور سونف اور پودینہ اور نمک اور ادرک سونٹھ اور ہلدی اور دار چینی اور علامہ فیومی نے مصباح المنیر میں تضب کا ترجمہ نصفعہ اور قت کیا ہے اور ازہری اور قالی اور فیروز آبادی ہر سہ فاضلوں نے ونیز دیگر ائمہ لغت نے فرمایا ہے کہ ہر چھوٹا بڑا درخت جس کی شاخیں زمین میں پھیلی ہوتی ہیں اور تازہ کھایا جاتا ہے تضب کہلاتا ہے اور ہر وہ دانہ جو بوئے بغیر قدرتی طور پر پیدا ہوتا ہے اور عام قوت دستیاب نہ ہونے پر اسے بھی قوت بنا لا جاتا ہے تضب کہلاتا ہے اور اسی طرح ہر پیلو کا پھل بھی جسے انسان اور چو پائے کھاتے ہیں تضب کہلاتا ہے۔ اور زیتون کا درخت بھی اللہ پاک نے طور سینا میں پیدا کیا ہے جس سے تمہارے کھانے اور جلانے اور دیگر ضروریات کے لئے تیل نکلتا ہے اور بہت بڑی وسیع برکت پر حاوی ہے جب وہ جلتا ہے تو اس کی روشنی صاف ہوتی ہے اس میں دھواں اور تکدر بالکل نہیں ہوتا گویا وہ بجلی ہے جو کہ آپ ہی آپ روشن ہوتی ہے اور مکھن اور گھی اور تیل اور چربی اور ناریل کھوپرا اور رائی سرسوں اور پنبہ دانہ اور السی بھی اس کے ساتھ ملحق ہے جو کہ کھانے اور جلانے کے کام آتے ہیں اور جلانے میں موم بھی انکے ساتھ شامل ہے اور روئی اور السی سے کپڑے تیار ہوتے ہیں اور کھجوروں کے درختوں کو بھی اللہ پاک نے پیدا کیا ہے جن کا پھل پہلے پہل خلال پھر بلح پھر بسر پھر رطب پھر تمر کہلاتا ہے اور عجوہ اور عنبر نامی کھجور سب سے بالا قسم ہے اور اس کا گڑ و قند بھی ہوتا ہے جو کھایا جاتا ہے اور اس کی گٹھلیاں اونٹ وغیرہ کھاتے ہیں اور اس کے چھلکوں سے گدے تکئے بھرے جاتے ہیں اور اس کے پتوں سے رسیاں بنائی جاتی اور چٹائیاں اور پنکھے بنائے جاتے ہیں یہ سب فائدے اور اس جیسے دیگر فائدے کھجور کے درخت سے حاصل کرتے ہیں جس کی جڑ زمین میں اور شاخیں آسمان میں ہوتی ہیں اور اپنے وقت پر ہمیشہ پھل دیتا ہے اور اسی طرح گنا بھی ہے کہ اس کی رس سے بھری گڑو قند تیار ہوتا ہے اور اسی طرح پر شہد بھی ہے جو کہ مکھیوں کے چھتہ سے برآمد ہوتا ہے جو کہ ہر طرح کا پھل کھایا کرتی ہیں اور قدرت الٰہی سے کئی قسموں اور رنگوں کا شہد پیدا کرتی ہیں جو کہ یوں بھی اور دوا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور حدائق بھی اللہ پاک نے پیدا فرمائے اور وہ حدیقہ کی جمع ہے اور وہ ہر ایک باغ کا نام ہے جو کہ چار دیواری میں بیشمار درختوں سے سجا سجایا ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے اس میں ہر طرح کا میوہ و پھل پیدا کیا ہوتا ہے جسے تم حیرت اور تعجب سے دیکھتے ہو کہ وہ کئی طرح کی رنگتوں سے رنگیں ہوتا ہے اور طرح طرح کی خوشبو اس سے مہکا کرتی ہے چناچہ اللہ پاک نے ایسے امور کی طرف اپنے بندوں کو توجہ دلائی ہے اور اس کے ساتھ وہ خوشبو بھی ملحق ہے جو کہ ہرن کے نافہ سے برآمد ہوتی ہے اور کستوری کہلاتی ہے اور اس کے ساتھ وہ بھی ملحق ہے جو دریا سے برآمد ہو کر عنبر کہلاتا ہے۔ ونیز دیگر خوشبو ہائے جیسے کہ زعفران اور کیوڑہ اور گلاب اور درس و نیز دیگر عطریات اور خوشبو ہائے ان سب چیزوں کا بحسب ارشاد الٰہی ذائقہ نہایت لذیز اور خوشبو نہایت مفرح خصوصاً جب کہ وہ نیا تازہ اتر کر آتا پھر خواہ تو میرے ایسے میوے یوں ہی کھائو یا کہ ان کا رس نچوڑ کر پیو ہر طرح سے تمہیں کام دیتا ہے۔ پھر ان کے خشک کردہ ذخیروں سے بھی تم لوگ بحسب ارشاد الٰہی فائدہ اٹھاتے رہتے ہو اور فواکہ وہ پھل ہے جسے درختوں اور بیلوں پر اللہ پاک لگاتا ہے جیسے کہ انار اور سنگترہ اور انجیر اور گولر اور بہی اور آلو بخارا ، آلوچہ ، ایلچی اور لوکاٹ اور آڑو اور سیب ، ناشپاتی چوٹا اور کیلا اور امرود اور توت اور سفید توت کے پتے اس کیڑے کی خوراک ہے جس کے لعاب سے ریشم پیدا ہو کر تیار ہوتا ہے اور آم کھٹمل اور پستہ اور چلغوزہ اور ناریل کھوپرا اور بادام اور اخروٹ اور مونگ پھلی اور رس بھری اور شاہ بلوط اور لیموں اور نارنگی اور کتھا چکوترا اور گل گل اور میٹھا اور بالٹا اور علامہ فیومی نے مصباح میں تربوز کو فورا کہ میں شمار کیا ہے اور یوں کہا ہے کہ فقہاء ککڑی کو بھی فواکہ میں شمار فرماتے ہیں اور مولوی امیر علی صاحب رامپوری نے مواہب الرحمن میں ککڑی کھیرا دونوں کو فواکہ میں شمار فرمایا ہے ۔ دریں صورت انگور میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب اس میں شامل ہوگا ۔ طبرانی اور ابو نعیم اور حاکم نے جو انس ؓ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھجور اور تربوز دونوں کو ملا کر کھایا کرتے تھے اور فواکہ میں سے یہ آپ کو زیادہ پسند تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فواکہ میں شامل ہیں اور نسائی میں انس ؓ سے مروی ہے کہ ۔۔۔۔ رسول اللہ ﷺ کھجور اور تربوز دونوں کو ملا کر کھایا کرتے تھے اور فواکہ میں سے یہ آپ کو زیادہ پسند تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فواکہ میں شامل ہیں اور ان چیزوں میں سے ہر ایک کے کئی کئی اقسام ہیں اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہوتے ہیں سب کو ایک پانی پلایا جاتا ہے پھر اتنا بڑا فرق ۔ یہ اللہ پاک کی قدرتوں کے مظاہرہ دانشمندوں کے لئے قاتل مطالعہ ہیں پھر چارہ پٹھا گھاس پھوس خشک و تر سب جانوروں کے کام آتا ہے ، جو انسانوں کے لئے بنایا ہے انسان اور جو جانوروں کے لئے بنایا اسے جانور کھائیں جیسے اونٹ اور بھینس اور گائے اور بکری یہ سب اسم جنس کے طور پر ہے جس میں بھیڑ دنبہ و دیگر ایسے تمام جانور داخل ہیں جو انسانوں سے مانوس ہیں دوسری جنس وہ ہے جو مانوس نہیں جیسے کہ جنگلی اونٹ اور گائے اور بکری اور ہرن اور بارہ سنگھا یہ سب چوپائے شہری اور جنگلی گھاس پھوس چرتے اور دانہ کھاتے ہیں اور جگالی بھی کرتے ہیں اور کھران کے چرے ہوتے ہیں شرعا ً حلال ہیں مگر ہاں خنزیر اگرچہ وہ چرندہ ہے درندہ نہیں حرام ہے کہ وہ گندگی خور ہے اور صاحب ناب ہے اور جگالی بھی نہیں کرتا اور گینڈا جانور بھی اس سے ملحق ہو کر حرام ہیں اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ گھاس پھوس سبزی دانہ خورچوپایوں میں خوب اچھی طرح سے غور کرو کہ ہماری قدرت ان میں کس طرح پر واقع اور نافذ ہوتی ہے دودھ جو کہ سفید اور مفید اور لذیز ہوتا ہے ان کے پیٹوں میں پیدا کردیا جو کہ گوبر اور خون کا راستہ لیتے ہوئے برآمد ہوتا ہے پھر بھی اس پر ان کا کوئی اثر نہیں ۔ ان جانوروں کی اپنی اپنی مادہ کے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ونیز تمہارے لئے اللہ پاک دودھ بھی پیدا کردیتا ہے پہلا دودھ جو گاڑھا ہوتا ہے بیوی کہلاتا ہے۔ پھر کچھ وقت بعد دودھ کہلاتا ہے اگر اس میں پانی ڈال دیا جائے کچی لسی کہلاتا ہے اور یوں بھی پیا جاتا ہے اور پکا کر بھی پیا جاتا ہے اور اسے وہی بنا کر بھی کھایا جاتا ہے اور اسے بلو کر چھاچھ بھی بنائی جاتی ہے اور اس سے مکھن بھی نکالا جاتا ہے جسے یوں بھی کھایا جاتا ہے اور اس کا گھی بنا کر بھی کھایا جاتا ہے اور اگر وہی کو خشک کرلیا جائے تو پنیر بنا کر کھایا جاتا ہے اور پھر جانوروں کا گوشت اور چربی اور سر اور دماغ اور پائے اور دل اوجھری اور جگر اور کلیجی اور تلی اور گردے کپورے بھی تم سب کھا جاتے ہو ان کے سینگوں سے تم لوگ تلواروں ، چھریوں ، خنجروں ، استروں والی لاٹھیوں کے قبضے بناتے ہو اور ان کے چمڑوں سے ان کے خلاف اور نیز چھولداریاں اور خیمے بناتے ہو جو تمہیں جنگ میں کام دیتے ہیں اور مقامی طور پر بھی کام دیتے ہیں اور ان سے کپڑے اور بسترے اور بوٹ اور جوتیاں اور ٹوپیاں اور پوستینیں اور موزے اور دستانے اور چٹائیاں اور کاٹھیاں اور لگامیں اور ودر اور پٹے اور گدے اور تکئے اور سرہانے اور مشکیں اور پکھالیں اور وڈول بو کے بنا کر اپنے کام میں لاتے ہو ۔ اور ان کے بالوں اور ریشم سے دھاگے اور رسیاں بنا کر لباس وغیرہ کی صورت میں اپنے کام میں لاتے ہو اور گرمی اور سردی اور دھوپ اور بارش سے بچائو حاصل کرتے ہو اور اسی طرح ان کی ہڈیوں اور انتڑیوں پتوں اور گوبروں سے بھی تم لوگ فائدہ اٹھاتے ہو اور ان جانوروں پر تم لوگ سوار ہو کر اور بوجھ لاد کر بڑی بڑی دور تک آتے جاتے ہو اور خر اس کو کنواں و ہل پر جوت کر تیل پانی نکالتے اور آٹا پیستے ہو اور کھیتی باڑی کرتے ہو اور گھوڑوں گدھوں خچروں سے بھی تم سواری اور بوجھ اٹھانے کا کام لیتے ہو اور ان کی زیب وزینت ان سب کاموں کے علاوہ ہے ۔ یہ سب اللہ پاک کے تم پر انعامات اور احسانات ہیں جن کا شکریہ لازم ہے مگر انسان شکر کی جگہ صاف طور پر ناشکری کر رہا ہے جس کا پورا محاسبہ قیامت کو ہو گا