Ayahs 80:33–42آیت 33 تا 42:
طامہ حاقہ خاصہ جیسے اسم فاعل کے وزن پر صاخہ بھی مصدر ہے جس کا معنی ایک چیخ اور پکار ہے اور مرد اس سے قیامت ہے۔ جب وہ بپا ہوگی تو اس وقت ماں باپ بھائی بہن بیوی بچے شوہر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جب ماں باپ جیسے قریبی رشتے کام نہیں دیں گے تو دوستوں یاروں کا قصہ ہی کیا ہے کہ کوئی کسی کے کام آسکے جس طرح دوست یار و رشتہ دار کام نہیں دیں گے اسی طرح پر مال و دولت بھی کام نہیں دیں گے۔ جس پر بھی کوئی سنگین مقدمہ کھڑا ہوا اور جرم ثابت ہوا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی یچوں شوہر بہن بھائی اور رشتہ داروں سے بھاگتا پھرے گا کہ کہیں مجھے چھوڑا جائے مجھے کسی سے کیا مطلب ہے۔ چھوڑا کیسے جائے وہ بہر حال جہنم رسید ہوگا اور ضرور سزا پائے گا ۔ ترغیب میں بحوالہ بخاری مسلم نسائی ابن ماجہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حشر کے روز سب لوگ قبروں سے ننگے کھڑے ہوں گے۔ دریافت ہوا کہ ایک دوسرے پر نظر پڑے گی اور یہ شرم کی بات ہے فرمایا کہ اس کا کوئی امکان نہیں اور در منثور میں بحوالہ ترمذی عبد بن حمید طبرانی ، حاکم ، ابن مردویہ ، بیہقی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ بیان فرمایا کہ حشر کے روز سب لوگ ننگے کھڑے ہوں گے تو عائشہ ، ام سلمہ ، سودہ ؓ ہر سہ نے عرض کی کہ یہ تو شرم کی بات ہے تو آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھ کر جواب دیا کہ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی کوئی کسی کو نہیں دیکھے گا ۔
اور وجوہ کی تنوین عوض مضاف الیہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عمرو بن ام مکتوم ؓ جیسے تمام مسلمانوں کے چہرے اس دن روشن تر و تازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے اور جو کچھ کھایا پیا ہوگا وہ چہرہ کی رونق کو دوبالا کر رہا ہوگا اور جنت کے تختوں پر بیٹھے ہوئے خوب آرام کر رہے ہوں گے اور صاحب عبوست کافروں کی طرف دیکھ کر اسی طرح خوش ہوں گے جیسے کہ وہ دنیا میں ان کی طرف دیکھا کرتے تھے اور ابن مردویہ وغیرہ میں نبوی ارشاد ہے کہ جو اسے ٹھیک مطلب لے کر پڑھے گا اس کا چہرہ قیامت کے دن روشن ہوگا ۔ اس جگہ بھی وجوہ کی تنوین عوض مضاف الیہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو مومنوں پر عابس ہوں گے وہ قیامت کے دن اس کا بدلہ پا کر بہت بڑے رسوا ہوں گے اور افسوس کریں گے کہ ہم نے ایسا کیوں کیا مگر ایسے افسوس کا وہاں پر کچھ فائدہ نہیں ۔ در منثور میں بحوالہ ابن ابی حاتم حسین ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیہ کریمہ کو پڑھ کر فرمایا کہ کافروں کے چہرے خاک آلود ہوں گے یعنی ان پر عبوست چھائی ہوگی جس کی وجہ شروع سورت گزر چکی ہے۔ کفرہ کافر کی جمع ہے کہ یہ لوگ اللہ پاک کی مذکورہ بالا نعمتوں کے شکر گزار نہیں اور فجرہ فاجر کی جمع ہے کہ یہ لوگ فسق و فجور میں منہمک ہو کر ایسے کاموں کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ عبوست سیاہی بن کر ان کے چہروں پر قیامت کے دن چھا جائے گی اور دائمی طور پر ناری عذاب میں ٹھہرے رہیں گے۔ الحاصل کہ اللہ پاک نے اس سورة میں عابس پر اس کی عبوست کا ذکر فرمایا ہے اور اس سے اعراض فرما کر اپنی نعمتوں کو شمار فرمایا ہے جن کا وہ شکر گزار نہیں ہوا اور اسے اپنی گرفتوں سے ڈرایا ہے اور اس جیسے دیگر لوگوں کو بھی تنبیہ فرمائی ہے اگر وہ باز آیا جیسے کہ عباس ؓ باز آگیا تو اسے معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ اصرار کر گیا جیسے کہ ابو جہل اور عتبہ اور امیہ والی نے کہا تو گرفتارہو کر مذکورہ سزا پائے گا کیونکہ اللہ پاک ابن ام مکتوم ؓ جیسے بھلے لوگوں کا ساتھ دیتا ہے ابو جہل جیسے بڑے لوگوں کا ساتھ نہیں دیتا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ تو ابن مکتوم ؓ کو دیکھ کر اور نہ کسی دیگر صحابی ؓ کو دیکھ کر منہ بنایا اور نہ آپ کا ایسا خلق اور نہ اس کی آپ سے کوئی توقع کی جاسکتی ہے بلکہ جریر ؓ کا بیان اس کے خلاف صحیح میں یوں مروی ہے کہ جب کبھی مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو مسکرائے اور خدنہ پیشانی سے ملاقات فرمائی اور عائشہ ؓ سے صحیح میں مروی ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائے تو چہرہ بشاش تھا۔ اور کعب ؓ سے صحیح میں مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سلام عرض کیا تو آپ نے ہشاش بشاش ہو کر مجھے جواب عنایت فرمایا اور آپ کی یہ روش عام تھی جسے ہم سب صحابہ ؓ جانتے ہیں بلکہ براہ راست نبوی ارشاد ابن مردویہ وغیرہ میں مروی ہے کہ جو سورة عبس میں پڑھے گا اس کا چہرہ قیامت کے دن روشن ہوگا ۔ ظاہر ہے کہ یہ حدیث اس شخص کے حق میں ہے جو آپ کے چہرہ مبارک کو روشن ٹھہرائے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ حدیث اس شخص کے حق میں ہے جو آپ کے چہرہ مبارک کو روشن ٹھہرائے گا جو عبوست کا قائل ہے اسے عبوست سے ہی دو چار ہونا پڑے گا ۔ اور روح البیان میں عمرفاروق ؓ سے مروی ہے کہ اپنے ایک منافق کی بابت سنا کہ وہ عبوست نبوی سے اس کی تفسیر کرتا ہے اور بار بار اس پر زور دیتا ہے تو اسے بلا کر سمجھایا کہ یہ ٹھیک نہیں جب اس نے اپنی تفسیر پر اصرار کیا تو اسے سزا دی گئی ہے۔
اگر یہ روایت ثابت ہے تو اس کا بھی مطلب ٹھیک ہے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صرف سادہ تلاوت کے تکرار پر اسے سزا دی کہ یہ ایک بےمعنی بات ہے۔