81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 81:1

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا

جب آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا 1 ؎ (کورت) واحد مؤنث غائب ماضی مجہول تکویر مصدر ( تفعیل) جب سورج تاریک ہوجائے گا ۔ سورج کی روشنی جاتی رہے گی ۔ سورج بےرونق ہوجائے گا ۔ لغت میں تکویر کے معنی تہہ کر کے لپیٹ دینے کے ہیں اور روایات میں واضح ہے کہ قیامت کے روز سورج اور چاند لپیٹ دیئے جائیں گے یا بےنور کردیئے جائیں گے۔ ( معالم) مطلب صرف یہ واضح کرنا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ خود بخود نہیں ہے اور نہ ہی خود بخود ہو سکتا ہے بلکہ یہ سب کچھ کسی کے بنانے سے بنا ہے اور پھر جس چیز کا بنایا جانا ثابت ہے اس کا ہٹانا جانا بھی یقینا ثابت ہے کیونکہ اس دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جو بنائی گئی ہو اور پھر اس کا مٹ جانا نہ مقرر کیا گیا ہو ۔ آپ گزشتہ قوموں کے تذکار پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بعض قوموں نے محلات بنائے اور ایسے ایسے پختہ محلات بنائے کہ ان کے ذہن و دماغ میں ان کا کبھی فنا ہونا موجود ہی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا جب حکم آیا تو ان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس طرح ملبے کا ڈھیر بنا دیئے گئے کہ وہ بنانے والے بھی اس ملبے میں دب کر رہ گئے اور ان کا نام و نشان ہی مٹا دیا گیا ۔ لیکن پھر کیا ہوا کہ جو لوگ اس وقت اس عذاب سے بچا لیے گئے ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ ہمارے آبائو اجداد نے اس پہاڑی علاقہ میں اتنے اتنے اونچے محل بنا کر بہت غلطی کی تھی تو انہوں نے وہ فن سیکھا کہ انہوں نے ان پہاڑوں کے اندر ہی اندر کھود کھود کر گھر بنانے شروع کر دئے اور اس فن میں وہ کمال حاصل کیا کہ آج تک ان کا نام محض اس فن کی وجہ سے زندہ چلا آ رہا ہے۔ پھر جب ان کو اپنے پہاڑوں کے اندر کھودے گئے محلات پر ناز ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں کے اندر ہی سے ایسا لاد پھاڑا کہ نہ ان کے محلات باقی رہے اور نہ محلات کے پہاڑ باقی بچے۔ اسی طرح آپ ایک ایک قوم کا ذکر پڑھتے چلے جائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر آنے والی قوم نے جس جس مضبوطی پر انحصار کیا اس نے کس طرح غلطی کھائی اور کیونکر ان کو تباہ و برباد کیا گیا ۔ شاہی قلعے اور شاہی محلات آج بھی کھلی کتاب کی طرح درس دیتے نظر آتے ہیں ۔ بہر حال جس طرح اس دنیا کی ہرچیز کو فنا ہے اسی طرح اس سورج کو اور اس چاند کو بھی فنا ہے۔ اب چاہے ان کو کسی لفظ سے بھی تعبیر کیا جائے مقصودبیان صرف اور صرف ان کا انہدام ہے جو سو فیصد یقینی چیز ہے۔
Ayah 81:2

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب ستارے دھندلے ہوجائیں گے

جب ستارے دھندلے ہوجائیں گے 2 ؎ ( انکدرت) اور کا اصل مادہ ک د ر ہے لیکن اس مادہ کا صرف اور صرف یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں صرف ایک ہی بار استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس کا استعمال قرآن کریم میں کہیں نہیں ہوا ۔ ( انکدرت) وہ میل ہوگئی ، وہ بکھر گئی۔ انکدار سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ انکدار کے اصل معنی تو میلے ہونے کے ہیں مگر بکھر جانے اور پراگندہ ہونے پر بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ قدرت خداوندی کا وہ قانون جس کو کشش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس قانون کے تحت یہ سیارے ، ستارے اور سورج و چاند اپنے اپنے مدار میں حرکت پذیر ہیں اور اپنے مدار کو نہ چھوڑنے پر مجبور ہیں لیکن قیامت کے روز صرف اسی قانون کو ہٹا لیا جائے گا اور فلک کی ہر ایک چیز بکھر جائے گی اور ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر ختم ہونا شروع ہوجائے گی اس لیے اس کو کھڑکھڑانے والی اور کھٹکھٹانے والی اور کھڑاک کرنے والی کہا گیا ہے۔ یہ سب کے سب استعارات ہیں جو محض اس کے لیے اختیار کیا گئے جب قانون الٰہی کے مطابق اس کشش کے قانون کو ہٹایا جائے گا تو اس سے جو صورت حال پیدا ہوگی اس کو انہیں استعارات میں بیان کیا جاسکتا ہے کیونکہ فلک میں اتنے اتنے بڑے اجرام موجود ہیں جن میں سے ایک ایک ہماری زمین سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں گنا بڑا سمجھا گیا ہے پھر ان کا آپس میں ٹکرا جانا کیا کوئی معمولی حادثہ ہوتا ہے اور اس کی گرج اور دھمک کوئی معمولی چیز ہوگی ؟ نہیں بلکہ وہ ایک بہت بڑی چیز ہوگی جس سے انسان تو انسان حیوان اور جنگلوں کے درندے اور چرندے اور ہوا میں اڑنے والے سارے پرندے سب کے سب پریشان ہوجائیں گے اور کوئی ایک بھی ان میں سے اپنی حالت کو نہیں سنبھل سکے گا ۔ آیت اور زیر نظر آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو محض ایک استعارہ ہے۔
Ayah 81:3

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے 3 ؎ ( سیرت) وہ چلائی گئی ، وہ چلائے گئے تیرق سے جس کے معنی چلانے کے ہیں ۔ معنی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ راغب لکھتے ہیں کہ تیسر کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو سائر چلنے والے کے امر و اختیار اور ارادہ سے ہو جیسے مو الذی یسیر کم ” وہی تو ہے جو تم کو پھراتا ہے “ اور دوسرے وہ جو بذریعہ قہر و تسخیر ہو جیسے کہ پہاڑوں کی تسخیر ہے واذا الجبال سیرت اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے حالانکہ پہاڑ بالاختیار اور بالا ارادہ نہیں چلیں گے بلکہ ان کو چلانے والا چلائے گا ۔ جس کو دوسری جگہ اڑائے جانے سے تعبیر کیا گا ہے۔ جس چیز کو تم لوگ کشش ثقل کہتے ہو کیا وہ مخلوق نہیں ہے ؟ بلاشہ مخلوق ہے اور جب ساری مخلوق کو فنا ہے تو کشش ثقل کو آخر کیوں فنا نہیں ؟ اور جب کشش ثقل کو فنا ہے اور جب وہ فنا ہوگی تو آخراجرام فلکی کا کیا بنے گا ؟ بس اسی چیز کو ہم بار بار تسبیح کے دھاگے کو توڑ کر دیکھو سے عرض کرتے آ رہے ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ یہی کچھ کشش ثقل ہے جس کو تم دھاگہ کہہ رہے ہو اور جس طرح اس دھاگہ کے ٹونے سے سارے موتی ، کرنے جھڑنے شروع ہوجاتے ہیں اور پھر بکھر کر کوئی یہاں گرا ، کوئی وہاں گرا ۔ یہی ان اجرام فلکی کے ساتھ ہوگا اور جب ان میں سے ایک ایک کا حجم اس تمہاری زمین سے کئی گنا بڑا متصور ہے تو ایک بڑی چیز اگر چھوٹی چیز پر اتنی بلندی سے گر پڑے تو چھوٹی کا کیا رہ جائے گا اس کو تم نے کئی بار مشاہدہ کیا ہوگا ؟ بس اسی کو پہاڑ چلائے جائیں گے سے تعبیر کیا گیا ہے اور حقیقت اب تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ انشاء اللہ۔
Ayah 81:4

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں آوارہ چھوڑ دی جائیں گی

اور جب دس مہینے کا گابھن اونٹنیاں آوارہ چھوڑ دی جائیں گی 4 ؎ قرآن کریم نے مختلف اشارات و استعارات بیان کیے ہیں جن کا مفہوم محض ایک بات کو تفہیم کرانا ہوتا ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح بات سمجھ میں آجائے اور خصوصاً جب انسان کسی طرف مصروف ہو اور جس میں مصروف ہو اس میں مصروف ہونا وہ اپنی ذات کے لیے فائدہ مند بھی سمجھتا ہو ۔ اس کی طرف سے اس کو موڑ کر ، پھیر کر کسی دوسری طرف رخ کردینا اگر ناممکن نہیں تو بہر حال مشکل ضرور ہے لیکن اگر اس کے لیے کوشش ضروری ہو تو وہ کوشش حکمت عملی سے ہوگی اور مصروف ہونے والا خود اپنی مرضی سے سمجھ کر مصروف رہتے ہوئے اپنا رخ بدل لے گا تو وہ اس پر پختگی کے ساتھ قائم رہے گا لیکن اس کے برعکس اگر کسی کو بزور رخ بدلنے پر مجبور کیا جائے جب کہ وہ فقط حیوان بھی نہ ہو تو وہ اگر رخ بدلے گا بھی تو مجبوری سے بدلے گا لہٰذا جونہی اس پر سے مجبوری اٹھی بس اس کا رخ پھر مڑ گیا ۔ منکرین قیامت کا منہ موڑنے کی کوشش کی گئی لیکن حکمت عملی کے ساتھ تاکہ وہ سمجھ کر ، سوچ کر خود ہی اس رخ کو بدل لیں پھر جنہوں نے سمجھ سوچ کر رخ بدلا بحمد اللہ وہ پکے مومن ہوگئے۔ اس لیے قرآن کریم ہر معاملہ میں تفہیم کا قائل ہے بزور کسی راستہ سے ہٹا کر دوسرے راستہ پر لگانے کا وہ دل سے قائل ہی نہیں ہے۔ زیر نظر آیت میں حالات کا رخ بدلنے کی جو صورت بیان کی گئی ہے یہ وہ صورت ہے جو بحکمت رخ بدلنے کے مترادف ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک انسان جس چیز سے محبت کرتا ہے اگر اس کی محبت کو نفرت میں بدل دیا جائے تو وہ نفرت ایسی نفرت ہوتی ہے جس سے بڑی نفرت اور کوئی نہیں ہو سکتی ، کیوں ؟ اس لیے کہ جس طرح دنیا کی ہرچیز کی ضد موجود ہے اور سوائے اللہ کے کوئی بھی ضد سے پاک نہیں ہے اگر یہ صحیح ہے تو محبت کی ضد کا نام ہی نفرت ہے پھر جب محبت بدل گئی تو اس کی جگہ فطر تاً نفرت کو لینا ہے وہ فوراً لے لیتی ہے۔ دنیائے دوں میں کیا ہے ؟ بس خواہشات ہی خواہشات ہیں ، شہوات ہی شہوات ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ انسان زندگی میں ایک وقت ایک چیز سے پیار کرتا ہے لیکن دوسرے وقت میں اس سے اسی کو نفرت بھی ہوتی ہے تو بڑے غضب کی ، ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ چونکہ انسان کی ضرورت مبدل ہے اگر ضرورت بدل جائے تو ظاہر ہے کہ یہی خواہش کا بدل جانا ہے۔ تمہاری تفہیم کے لے انسان کو پیسے سے بڑی محبت ہے لیکن بعض اوقات اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ وہ بےدریغ اس کو خرچ کرتا ہے اور اس وقت کسی اور چیز کی طرف اس کی اتنی زبردست رغبت ہوجاتی ہے کہ وہ محبت مال کو اس کے مقابلہ میں کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔ دس سال کی گابھن اونٹنی ایک دنیا میں رہنے اور بسنے والے آدمی کے لیے بہت ہی رغبت کی چیز ہے کہ ایک تو اس کو اس سے دودھ حاصل ہوگا جو اس کی خوراک ہے اور اس کا رزق ہے لکنی دوسری طرف اس کی اونٹنی نے اس کی جنس اونٹ کو دوگنا کردیا ہے۔ اس کو اس کے حاصل ہونے کی خوشی ہے اور تیسرے یہ دنیا کا مال ہے جس کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اس کی عزت و تعریف کریں گے اور یہ بھی کہ کوئی غرض مند اس سے اپنی غرض کا اظہار کرے گا اور اس سے اس کو مال بھی حاصل ہوگا اور دنیا کا نشہ بھی لیکن اس طرح کی اونٹنی جس کو میسر ہے اگر اس پر کوئی اتنی بڑی اور بھاری مصیبت بن جائے کہ وہ اس مصیبت کو ٹالنے کی تگ و دو میں لگ جائے اور اس کی سمجھ میں آئے کہ یہ اونٹنی دینے سے شاید میری یہ مصیبت ٹل جائے تو وہ اس کو بخوشی دینے پر تیار ہوجائے گا ۔ یہ بات تفہیم کرائی جا رہی ہے کہ وہ وقت اتنا کٹھن وقت ہوگا کہ انسان کے ذہن میں دنیا کے مال و منال کی ابھی ناقدری ہوگی کہ وہ چاہے گا میرا مال جائے جدھر جائے لیکن میری مصیبت میرا پیچھا چھوڑے لیکن اس کی ایسی چیزوں سے بےرغبتی اب اس کو کچھ فائدہ نہ دے گی ۔ یہ ایک دوسری بات ہے۔ ( عشار) دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں ، گابھن اونٹنیاں ( عشار) حاملہ اونٹنیاں ہیں اس کا واحد عشرا ہے عشراء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کا گابھن ہوئے دس ماہ گزرے ہوں گویا اس کے بچہ جننے میں ہی کم وقت رہ گیا ہو اور ایسی اونٹنی ایک بلوچ کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے یہ اس سے پوچھنے کی بات ہے۔ ( امام ابو بکر) علامہ فیوضی نے المصباح المنیر میں تصریح کی ہے کہ اس طرح کے واحد اور جمع کی نظر صرف نفساء اور نفاس ہے اور ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسری نظر نہیں ہے۔ (عطلت) یوں ہی چھوڑ دی گئی اور وہ بچاری چھوڑ دی گئی۔ تعطیل سے جس کے معنی یوں ہی چھوڑ دینے ، دیکھ بھال نہ کرنے اور بےزیور کردینے کے ہیں ۔ ماضی کے صیغہ واحد مؤنث غائب یہاں نفع نہ اٹھانا اور یوں ہی بیکار چھوڑ دینا مراد ہے۔ یعنی اس کی طرف رغبت نہ رہنا ۔ وہ چیزیں جو بڑی اہمیت رکھتی تھی ان کی کوئی اہمیت نہ رہنا اور یہ نشانات قیامت میں سے ہے اور انسان آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایسی بیسیوں چیزیں ہیں جن کی طرف پہلے بہت رغبت ہوئی تھی لیکن اس وقت ان کی کوئی وقعت نہیں رہی۔
Ayah 81:5

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی (جانور) اکٹھے کیے جائیں گے

اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے 5 ؎ ( الوحوش) جمع ہے الوحش کی الوحش صحرائی جانور کو کہتے ہیں لیکن اس کا استعمال جنگل جانوروں کے علاوہ غم ، ڈر ، خوف ، تنہا اور خشک زمین پر بھی ہوتا ہے اور اسی طرح تو حش ( تفعل) گھر کا ویران اور اجاڑ ہوجانا ، پیٹ خالی ہونا اور پیٹ خالی کرنا ( استیحاش) ( استفعال) غمگین ہونا ، وحشت محسوس کرنا اور وحشت سے بھری ہوئی زمین ( حشرت) وہ اکٹھا کی گئی ۔ وہ اکٹھے کیے گئے ۔ وہ جمع کیے گئے۔ حشر سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب یہ ہول قیامت کا ذکر ہے تو بلا شبہ یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ جب بھی کسی کی جان پر بن جاتی ہے یا اس کو جان جانے کا خطرہ لا حق ہوجاتا ہے تو وہ وقت ایسا وقت ہوتا ہے کہ انسان ہو یا حیوان اس کو کچھ ہوش نہیں رہتا اور اس حالت کے لیے اس کا بیان صحیح ہے کہ جنگلی جانور جو ایک دوسرے کے دشمن ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کی خوراک ہیں وہ ایسا نازک وقت آئے گا کہ جب وہ اکٹھے ہوں گے تو خوف اور ڈر کے مارے سب ایک جگہ جمع ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو خوراک نہیں بنائیں گے کہ ان کو خوراک بنانے کی ہوش ہی نہیں ہوگی اور اگر ہول قیامت نہیں تو پھر نشانات قیامت میں سے ہے اور یہ کہ انسان ایسے جانوروں کو سکھائے گا اور وہ باوجود دحوش ہونے کے ایک جگہ رہ کر دکھائیں گے جیسے ایک خانوادے کے لوگ اکٹھے رہ رہے ہوں گے اور وحشی اور بد و قوموں کا جن کو قرآن کریم نے ” جن “ کا نام ہی دیا ہے وہ پہاڑوں اور جنگلوں کو چھوڑ کر مدنی زندگی اختیار کرلیں گے اور یہ سب دنیوی تعلمی کی کرشمہ سازیاں ہوں گی اور انسان اس لحاظ سے بہت ترقی کر جائے گا لیکن اس کے باوجود وہ آخرت سے نا بلند ہی ہوگا اور اس کی فکر اس کو کم ہی لاحق ہوگی گویا م ایک طرف سے وہ ترقی پذیر ہوگا اور دوسری طرف قعر مذلت میں پڑا ہوگا اور اس کی دونوں حالتوں میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ فرق ہوگا ۔ غور کرو گے تو سمجھ جائو گے کہ انسان باوجود ترقی پذیر ہونے کے آخرت کی طرف سے بالکل وحشی کا وحشی ہو کر رہ گیا ہے۔
Ayah 81:6

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے

اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے 6 ؎ (الحبار) بحار دریا ، سمندر یہ بھی ابحر کی طرح بحر کی جمع ہے۔ بحر دریا ۔ سمندر بحر دراصل اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں بہت کثرت سے پانی ہو اور اس اعتبار سے سمندر کو بحر کہتے ہیں ۔ سمندر میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک پانی کی کثرت اور وسعت اور دوسرا کھاری پن اور نمکینی انہی دونوں مفہوموں کے لیے بحر کا استعمال کسی چیز کی زیادتی اور وسعت کے متعلق ہوتا ہے اور کبھی ملاحت اور نمکینی کے سلسلہ میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ بڑے بڑے علامۃ الدہر کو متبحر علماء بھی کہا جاتا ہے۔ ( سجرت) کی اصل تو س ج ر ہے۔ اس مادہ کے صرف تین الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ۔ ایک تو یہی ہے ( سجرت) 81 : 6) ( المسجود) (52 : 6) یسجرون) (المؤمن 40 : 72 ) ثم فی النار یسجرون ( سیجرت) وہ آگ سے پر کی گئی ۔ اس کا پانی بہایا گیا ۔ وہ خالی کی گئی ۔ وہ پر کی گئی تسحیر سے جس کے معنی زور سے آگ بھڑکانے اور بہانے ، خالی کرنے اور پر کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ امام فخر الدین رازی کہتے ہیں کہ یہ ( سجرت) بھی پڑھا گیا ہے اور ( سجرت) بھی ۔ یہ بالتخفیف بھی پڑھا گیا ہے اور بالتشدید بھی اور اس کی مختلف وجہیں ہیں۔ (1) اصل کلمہ (سجرت) التنور سے ہے جو تنورجھونکنے اور اس میں آگ بھڑکانے کے لیے آتا ہیک اور کسی چیز میں جب آگ بھڑکائی جاتی ہے تو جو کچھ رطوبت اس میں ہوتی ہے وہ خشک ہوجاتی ہے تو اس وقت سمندروں میں ذرا سا پانی نہیں بچے گا پھر چونکہ سب تصریح ( و سیرت الجبال) پہاڑ چلائے جائیں گے اس لے اس وقت سمندر اور زمین انتہائی حرارت اور وزنی میں ایک شے بن جائیں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب سمندروں کے پانی سوکھ جائیں گے تو زمین ابھر کر اور موتفع ہو کر پہاڑوں کی چوٹیوں کے برابر ہوجائے اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور ان کے اجزاء منتشر ہوں گے تو وہ مٹی کی طرح ہوجائیں گے اور وہ مٹی سمندروں کی تہہ میں جا پہنچے گی اور اس سے زمین کا نشیب و فراز ختم ہوجائے گا۔ (2) سجرت) بمعنی فجرت یہ جو پانی کے رواں ہونے کے لیے آتا ہے اور یہ اس طرح کہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق جب وہ دریا چلائے جا رہے ہیں اور دونوں میں ایک خاص پردہ ہے جو اس وقت ہٹا دیا جائے گا اور وہ دونوں ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور اس طرح ان دونوں کا پانی مل کر ایک عجیب منظر پیش کرے گا ۔ (3 ) سورج ، ستارے ، سیارے بلکہ تمام اجرام فلکی جب پھٹ کر گرنے شروع ہوجائیں گے تو وہ سمندروں کو پر کرلیں گے اور ان کی تمازت اور گرمی سے سمندروں کا پانی خشک ہوجائے گا اور سب سے بہتر اور اچھی بات یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ ہوجائے گا ہم اپنی طرف سے اس معاملہ میں کچھ نہیں کہتے ۔ ہاں ! یہ کہ اس وقت ان استعارات کی صحیح حقیقت کھل جائے گی اور جو وحی الٰہی نے کہا ہے وہ بلا شک و شبہ ہو کر رہے گا ۔ ( سجر) کی وضاحت آپ نے پڑھی اور سنی کہ یہ فقاء جس طرح پانی پر بولا جاتا ہے آگ پر بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ پانی کیا ہے ؟ یہ بات اب وضاحت میں آئی ہے کہ یہ دو گیسوں کا مرکب ہے ایک کا نام ہائیڈروجن رکھا گیا ہے اور دوسری کا نام آکسیجن ہے اور ان دونوں گیسوں کا الگ تجزہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ان میں سے ایک بھڑکانے والی ہے اور دوسری بھڑکنے والی ۔ لیکن دونوں کو جب خاص مقدار اور خاص طریقہ پر ملایا جائے تو وہ نہ بھڑکتی ہے اور نہ بھڑکاتی ہے بلکہ پانی پانی ہوجاتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ایک محاورہ بھی ہے جس طرح قدرت نے ان دونوں کو اس فضا میں محفوظ رکھا ہے لیکن ان دونوں کو اس طرح الگ الگ رکھا گیا ہے کہ وہ الگ الگ رہ کر ایک دوسرے پر مؤثر نہیں ہیں بلکہ فقط محفوظ ہیں ۔ زیر نظر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے نشانات میں سے یہ ایک نشانی ہے کہ سمندروں میں اس روز پانی کی لہریں نہیں بلکہ آگ کے شعلے اٹھیں گے۔ اسوقت ہم کو بڑا تعجب معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ان پانی کے اجزاء پر کہیں نظر ڈالی جائے تو قطعاً تعجب اٹھ جاتا ہے بلکہ اگر تعجب ہوتا ہے تو محض اس پر کہ آج یہ پانی آگ کو بجھا کیسے دیتا ہے اس کو تو آگ کو اور بھڑکانے میں ممدو معاون ہونا چاہئے تھا کیونکہ اس میں تو بھڑکنے اور بھڑکانے کا مادہ درجہ اتم موجود ہے۔ جس چیز کا نام قیامت ہے اس روز جب دوسرے سارے ضابطے ختم ہو کر رہ جائیں گے تو کیا یہ ضابطہ بدستور اسی طرح قائم رہے گا ؟ ہرگز نہیں بلکہ اس میں بھی یہ فرق آئے گا کہ جو اس وقت روک کر رکھی گئی وہ اس وقت اٹھ جائے اور جہاں آج وہ پانی آگ بجھانے کا کام کررہا ہے کل وہ آگ لگانے کا کام کرنے لگے ۔ آپ نے کبھی گڑ بنتے دیکھا ہوگا یہ صحیح کہ گڑ کے برابر کوئی چیز میٹھی نہیں ہوتی لیکن اس کو گڑ بناتے وقت ذرا آگ زیادہ کر کے دیکھو کہ وہ ایک سخت کڑوی چیز بن جائے گا یہاں تک کہ اس کا زبان پرکھنا بھی دشوار محسوس ہونے لگے گا ۔ ایسا کیوں ہے ؟ کیا اس میں کڑواہٹ موجود نہیں تو ابھی ابھی اس میں کیسے آگئی اور اگر اس کے اندر موجود تھی تو وہ دو منٹ پہلے کہاں تھی ؟ اس طرح تجزیہ کر رو گے تو حقیقت کو حاصل کرلو گے ۔ کیونکہ جو بندہ یا بندہ ہونے کا اصول کائنات میں موجود ہے۔
Ayah 81:7

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب تمام لوگ جمع کردیئے جائیں گے

اور جب تمام لوگ جمع کردیئے جائیں گے 7 ؎ ( النفوس) جمع النفس واحد اشخاص ، لوگ ( زوجت) اس کا جوڑ ملا دیا گیا ۔ تزویج سے جس کے معنی ایک شے کے ساتھ دوسری شے کے جفت و قرین کرنے کے لیے ہیں اور اس اعتبار سے مرد اور عورت میں عقد کرنے کے معنی آتے ہیں ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ آیت زیر نظر کے متعلق امام رازی اور امام راغب نے تین احتمالات کا ذکر کیا ہے : (1) ہر گروہ کو اس کے گروہ کے ساتھ جنت یا دوزخ میں ملا دیا جائے گا۔ (2) اور داح کو اجاد کے ساتھ ملا دیا جائے گا ۔ (3) نفوس کو اپنے اعمال کے ساتھ ملا دیا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیاوی گروہ بندیاں توڑ کر انسانوں کے اعمال و اخلاق کے مطابق انسانوں کی گروہ بندی کردی جائے گی اور اس کی تفصیل پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد ہشتم میں کردی گئی ہے۔ ملاحظہ کریں سورة الواقعہ کی آیات 7 تا 11 پھر ان کی مزید وضاحت بھی اسی صورت میں آگے کردی گئی ہے۔ گویا مقربین کا ایک گروہ ہوگا اور اصحاب الیمین کا ایک گروہ علیحدہ ہوگا اور اصحاب الشمال کا ایک علیحدہ ہوگا اور پھر ان کے اندر بھی مزید پارٹیاں ہوں گی جن کے اعمال آپس میں ملتے جلتے ہوں گے اور وہ ایک مزاج اور ایک مذاق کے لوگ ہوں گے کہ یہ اصول عام ہے کہ ؎ کند ہم جنس باہم جنس پرواز
Ayah 81:8

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب زندہ درگور کی ہوئی (لڑکی) کے متعلق سوال کیا جائے گا

اور جب زندہ درگور کی گئی سے سوال کیا جائے گا 8 ؎ ( الموء دۃ) کا اصل مادہ واد ہے اور اس مادہ کا یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں آیا ہے ، اس کے علاوہ اس مادہ کا کوئی لفظ بھی نہیں آیا اور نہ ہی لفظ کسی دوسری جگہ آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بار ہی لفظ بیان ہوا ہے۔ اسم مفعول واحدمؤنث واد مصدر ( ضرب) زندہ دفن کی ہوئی۔ اسلام سے پہلے عرب کے بعض قبائل مفلسی اور عار کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں لڑکیوں کو زندہ گڑھے میں دفن کردیا کرتے تھے ، کیوں ؟ اس لیے کہ بعض تو ان میں سے کسی کو داماد بنانا عیب سمجھتے تھے اور بعض کہتے تھے کہ لڑکی کمائی نہیں کرسکتی اس لیے اس کو کھلانا بیکار سمجھتے تھے۔ بعض ایسی مائوں کا ذکر بھی تاریخ سے ملتا ہے کہ وہ خود گڑھا کھود کر بچہ وضع کرتیں اور اگر لڑکا ہوتا تو خیر ورنہ اسی وقت گڑھے میں لڑکی کو پھینک کر دبا دیتیں۔ ( معالم التنزیل ) فرمایا جا رہا ہے کہ قیامت کے روز اس طرح زندہ گاڑھی گئی لڑکیوں کو نکالا جائے گا اور ان کو بطور گواہ قاتلوں کے حق میں پیش کیا جائے گا اگرچہ وہ ان کو ماں باپ ہی ہوں گے اور اسی طرح دوسرے عزیز اقارب ۔ مطلب یہ ہے کہ عہد جاہلیت میں جہاں بہت سی قبیح رسومات موجود تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ وہ نہایت شرح صدر سے لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ ایک قبیلہ نے دوسرے قبیلہ پر حملہ کیا اور اس قبیلہ کے لوگوں کو قتل و غارت کیا اور جاتے وقت ان کی نوجوان لڑکی کو بھی ساتھ لے گئے پھر اس پر لڑائی شروع ہوئی اور انجام کار دونوں خاندانوں میں صلح ہوئی تو اس لڑکی کو اختیار دیا گیا کہ وہ چاہے تو اپنے والد کے پاس چلی جائے اور چاہے تو وہ جس کی اسیری میں رہی ہے اس کے پاس چلی جائے۔ لیکن لڑکی نے باپ کے بجائے اس آدمی کو پسند کیا اور اسی کے پاس چلی گئی لیکن جس کی وہ لڑکی تھی وہ اس قبیلہ کا سردار تھا۔ اس کو بہت و ہزیمت اٹھانا پڑی اور اس نے سمجھا کہ میری رسواء ہوئی ہے اس نے اپنے قبیلہ والوں کو حکم دیا کہ آئندہ جس کے ہاں لڑکی ہوگی وہ اس کو زندہ گاڑھ دیا کرے گا ۔ جب اس قبیلہ نے ایسا شروع کیا تو ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے ایسا عمل کرنا شروع کردیا اس میں انہوں نے مزید فوائد بھی سمجھے اور سمجھائے اور قوم اس پر من حیث القوم لگ گئی اگرچہ بعض لوگوں نے اس کی سخت مخالفت کی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس رسم کو مدت تک جاری رکھا اور پھر اسلام آیا تو اس نے اس کی بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا ۔ اسوقت ہمارے معاشرہ میں کفار مکہ کی یہ رسم نہایت ، مناقانہ سمجھی جاتی ہے اور لا ریب ہے بھی ایسی ہی لیکن ہمارے ہاں ایسی رسوم نہیں ہیں جو انسانیت سے گری ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود معاشرہ میں وہ بہت عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں مثلاً لڑکیوں کی میراث کا معاملہ آپ لے لیں کہ ہمارے معاشرے میں اسکو لڑکیوں میں تقسیم کرنا خصوصاً جب کہ ان کے بھائی بھی موجود ہوں نہایت ہی بری نظر سے دیکھا جاتا ہے اور میراث کے عوض کی ایک رسم لوگوں نے لڑکی کے جہیز کو دے دی ہے حالانکہ آج بھی اگر لڑکی اور لڑکے کے شادی کے اخراجات کا شمار کیا جائے تو کسی صورت میں بھی لڑکا لڑکی سے پیچھے نہیں رہتا مثلاً اس وقت ایک متوسط صورت حال کے مطابق لڑکے کے بیوی کے لے 10 تولے سونا اور اتنی چاندی اور آنے والی بہو کے پکڑے اور سامان واہیات وغیرہ کے لیے ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب اخراجات آتے ہیں اور لڑکی کو جو والدین کی طرف سے جہیز ملتا ہے وہ بھی تقریباً اسی کے برابر ہوتا ہے۔ ہاں لڑکے کے لیے جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے وہ لڑکا تقریباً واپس لے آتا ہے کیونکہ وہ اس کا اور ہونے والی بیوی کا قرار پاتا ہے۔ لڑکی کو اس جہیز کے بدلے پوری جائیداد سے فارغ کردیا جاتا ہے جس کا کوئی جواز شرعی موجود نہیں ہے۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ کوئی لڑکی شادی کے بعد اپنے باپ کی میراث سے اگر حصہ پانے کا مطالبہ کرے تو معاشرہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟ یہ مجھ سے نہیں کسی اپنی بہن یا بیٹی سے پوچھ کر دیکھ لو اور اس میں سارے پڑھے لکھے اور نہایت سمجھدار اور جہاندیدہ لوگ موجود ہیں بلکہ بڑے بڑے علمائے کرام اور گدی نشین ، سجادہ نشین ، مذہبی رہنما ، سیاسی لیڈر اور ملک کی بڑی بڑی شخصیتیں سب شامل ہیں ۔ پھر صرف یہی نہیں بلکہ ایسے ایسے واقعات دیکھے گئے ہیں کہ ایک صاحب نے وفات پائی اور اس کے پاس دو تنی بچیوں کے سوا کوئی وارث نہ چھوڑا ہاں ! مرنے والے کے عصبات تھے لیکن پورا گائوں متحد ہوگیا کہ زمین ان عصبات کو ملنی چاہیے کہ وہ عصبات ہیں اور لڑکوں کا کوئی حق نہیں ہے اور پھر نتیجہ یہی نکلا کہ لڑکیوں کے بیان دلوا کر معاملہ رفع دفع کرا دیا اور اس کے لیے جو رشوت دی گئی وہ لاکھوں کی تعداد میں تھی اور اس طرح ساری وراثت حرام میں چلی گئی لیکن جن کا حق تھا ان کا حق بھی تسلیم نہ ہونے دیا ۔ بالکل اسی طرح ہمارے جتنی غیر منتقلہ جائیداد ہوتی ہے اس میں کئی مربعے زمین اور کو ٹھیاں اور کاریں اور کارخانے سب نرینہ اولاد کے ہاتھ میں جاتا ہے لڑکیوں کو اس طرح کو دیکھنے بھی نہیں دیتا ۔ کیا یہ ظلم زندہ درگور کرنے کے برابر نہیں ہے لیکن اس کو ہمارے معاشرے میں کوئی شخص بھی برا نہیں کہتا ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اس کالے قانون کو مٹا دیا تھا لیکن ہمارے ہاں باوجود قانون اسلام موجود ہونے کے اس قانون کو مثلہ کیا جاتا ہے اور اس کے لیے بہت سے چور دروازے کھول دیئے گئے ہیں ، حالانکہ آپ ﷺ نے بیٹی کو وہ شان دی کہ وہ باعث عار ہونے کی بجائے اپنے والدین کے لیے وجہ صدر افتخار بن گئی ۔ آپ ﷺ نے اپنے دلآویز ارشادات سے اس غلط فہمی کو اہل عرب کے دلوں سے نکال دیا کہ بچی والدین کے لیے ایک ناگوار بوجھ ہے یا خاندان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہے اس معاملہ میں جو مساعی آپ ﷺ نے فرمائی ان کا کچھ حصہ آپ ﷺ بھی سن لیں شاید آپ کے ذہن سے یہ نامراد مرض نکل جائے اور آپ اہل حق میں داخل ہو کر حق کے اجرا کی پوری پوری کوشش کریں ۔ (1) من کانت لہ انثی ولم یئذھا ولم یھنھا ولم یوثر ولدہ علیھا ادخلہ اللہ الجنۃ ” جس شخص کی ایک بچی ہو وہ اسے زندہ درگور بھی نہ کرے ، اس کی توہین بھی نہ کرے ، اپنے بیٹے کو اس پر فوقیت بھی نہ دے تو اس امر کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا “۔ (ابن ماجہ) (2) من ابتلی من جذہ البنات بشی فاحسن الیھن کن لہ سترا من النار ” جو شخص بچیوں کا باپ بننے سے آزمایا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے آتش دوزخ سے پردہ ثابت ہوں گی “۔ ( بخاری و مسلم) (3) من عال جاریتین حتی تبلغا جاء یوم القیامۃ انا و ھو ھذا وصم اصابہ ” جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے دن میں ﷺ اور وہ اس طرح کھڑے ہوں گے ۔ یہ فرمایا اور اپنی انگلیوں کو باہم پیوست کردیا “۔ ( مسلم) (4) ان النبی ﷺ قال لسراقۃ بن جعشم الا ادلک علی اعظم الصدقۃ او من اعظم الصدقۃ قال بلی یا رسول اللہ ﷺ قال ابنتک المودو دۃ لیس لھا کا سب غیر ” نبی کریم ﷺ نے سراقہ بن جعشم سے فرمایا کہ میں تمہیں سب سے بڑے صدقہ سے آگاہ نہ کروں ؟ عرض کیا ضرور یا رسول اللہ ﷺ ! فرمایا تیری وہ بیٹی جو طلاق پا کر یا بیوہ ہو کر تیری طرف پلٹ آئے اور تیرے سوا اس کے لیے کمانے والا کوئی نہ ہو “۔ ( ابن ماجہ) اس سلسلہ میں یہ احادیث جمع کرنا مقصود نہیں ، مقصود یہ ہے کہ بچیوں کے ساتھ بچوں کے مقابلہ میں کوئی دوسری طرح کا سلوک کرنا ، بچوں کے مقابلہ میں ان کو حقیر سمجھنا ، نرینہ اولاد میں میراث تقسیم کرنا اور بچیوں کو جائیداد سے محروم کرنا ، بچیوں کو بوجھ سمجھنا اور بچوں کو بہتر خیال کرنا ایسی چیزیں ہیں جن کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ اسلام میں ان کی ممانعت کی گئی ہے ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں ۔ آپ ﷺ کے پیار کی کہانی جو آپ ﷺ نے بچیوں کو دیا بڑی طویل ہے ۔ آپ ﷺ نے ایک سے بڑھ کر ایک کو پیار دیا ۔ اچھی تعلیم دے کر ان کی شادیاں کیں ، ان کے گھروں میں گئے ، ان کو گھر بلایا ، کسی معاملہ میں کسی طرح عار محسوس نہ کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب جن کے ہاں بچیوں کو زندہ درگور کرنا ایک معمولی بات سمجھی جاتی تھی بلکہ اس کو بہادری خیال کیا جاتا تھا اسی معاشرہ کی چند ہی سالوں کے اندر کایا پلٹ گئی۔ اس اہل عرب ہی کے نظریات میں فرق نہیں آیا بلکہ دنیا بھر میں بچیوں کی قدر و منزلت بلند ہوگئی۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے روز اس طرح گاڑھی جانے والی سے سوال کیا جائے گا ۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس طرح گاڑھنے والے سے سوال کیا جائے گا بلکہ گاڑھی جانے والی سے سوال کیا جائے گا ، کیوں ؟ اس لیے کہ گاڑھنے والا اس قابل بھی نہیں کہ اس کو ناراضگی کی حالت میں مخاطب کر کے بات کی جائے کیونکہ اس کا کردار اتنا گندا ہے ، اس کی بات اتنی بری ہے ، اس کا فعل اتنا شرمناک ہے کہ اس کو مخاطب کر کے بات تک نہیں کی گئی اور اس سے جو پوچھا جائے گا اس کا ذکر آنے والی آیت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 81:9

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ اس کو کس گناہ کے بدلہ میں قتل کیا گیا

کہ اس کو کس گناہ کے بدلہ میں قتل کیا گیا ؟ 9 ؎ زندہ گاڑھی جانے والی سے سوال کیا جا رہا ہے کہ تجھ کو کس گناہ کی پاداش میں گاڑھ دیا گیا ؟ لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ؟ کیوں نہیں جواب تو اس کے اندر موجود ہے کہ ظالم نے ظلم کرتے وقت کبھی اس بات کو نہیں سوچا کہ میں یہ ظلم کیوں کرتا ہوں ؟ اگر وہ اس بات پر غور کرے تو یقینا وہ ظلم کر ہی نہیں سکتا اور نہ ہی اس سے ظلم کا صدور ہو سکتا ہے ۔ اس کے ظلم کو دراصل ظلم بنانے والی یہی چیز ہے کہ اس نے کبھی نہ غور کیا کہ میں جو کرنا چاہتا ہوں جو کرنے والا ہوں اس کے کرنے کا مجھے حق ہے یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ اگر وہ یہ سوچے تو سوچ اس کو کبھی یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس کے کرنے کا مجھے حق ہے اس لیے اس جگہ ظلم کرنے والے سے نہیں پوچھا گیا کہ تو نے یہ ظلم کیوں کیا بلکہ مظلوم سے پوچھا گیا ہے کہ تجھ پر یہ ظلم کیوں کیا گیا اور پھر اس کے سوال کے اندر ہی اس کا جواب بھی آگیا کہ مجھے جب مظلوم تسلیم کرلیا گیا تو میری حالت نے یہ خود ظاہر کردیا کہ ظالم نے کسی ایسے عمل کی پاداش میں یہ فعل نہیں کیا جس کے کرنے کا اس کو حق تھا اور اس نے کیا نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے کہ یہ اسے کرنے کا حق نہیں تھا لیکن اس نے کیا اور یہی اس کا فطری جواب ہے ۔ پھر جب فطری جواب موجود ہے تو وہاں مزید جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اور یہ بھی قرآن کریم نے ایک ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر کے آخرت کی ساری دادا رسی کا بیان کھول دیا ہے کہ وہاں ظالموں کے ظلم کو اجاگر کرنے کا کیا طریقہ ہے اور یہ کہ اخروی مزاج عدالت کیا ہوگا اور یہ کہ مظلوموں کی داد رسی کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جانے والا ہے ؟ یہی کہ جو سب سے زیادہ مظلوم ہے وہی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس کے ظلم کی داستان پہلے سنی جائے اور اس کو سب سے پہلے جزا دی جائے اور اس کے ظالم کو سب سے پہلے ظلم کے انجام سے دو چار کیا جائے ۔ آیت نے اسی بات کی طرف رہنمائی کی ہے۔
Ayah 81:10

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے

اور جب اعمال نامے کھول جائیں گے 10 ؎ ( صحف) صحیفے ، کتابیں ، نوشتے ، اوراق صحیفۃ کی جمع ۔ خیال رہے کہ یہ جمع نادر ہے کیونکہ فعیلۃ کی جمع فعل پر نہیں آتی ندرت اور قیاس میں اس کی مثال سفینۃ اور سنن سے دی جاسکتی ہے ۔ لیکن اس جگہ اس سے مراد اعمال نامے ہیں بعض انسانوں نے جو کچھ اس دنیا میں کیا ہوگا وہ ان کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا اور اگر ان کو کوئی اعتراض ہوگا تو وہ نہایت مستعدی سے واضح کیا جائے گا اور یہ بات اس لیے اس جگہ ارشاد فرمائی گئی کہ تم لوگ جب قیامت کے آنے کا انکار کرتے ہو تو تم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ اگر قیامت قائم نہ ہوتی تو اس طرح کے ظلموں کا بدلہ ظالموں کو کیسے ملتا جس طرح کے ظلم کی نشاندہی اوپر کی گئی کہ ایک بچی ابھی پیدا ہوئی اور ابھی اس کو زندہ ہی زمین میں گاڑھ دیا گیا اور وہ جس طرح مری اس کا تصور کر کے انسان کانپ جاتا ہے لیکن جس ظالم نے یہ ظلم کیا وہ ایسا ظالم ہے جو اس مظلومہ کا باپ بھی کہلاتا ، اسی طرح قیامت کے آنے پر اثبات کی دلیل ہی اس کو بنا دیا گیا اور اب بھی اگر کوئی شخص تسلیم نہیں کرنا چاہتا تو یہ اس کی بد بختی پر دال ہے اور یہ بھی کہ ظالم بخت اور ہوتا ہی کب ہے ؟
Ayah 81:11

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی

اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی 11 ؎ ( کشطت) واحد مؤنث غائب ، ماضی مجہول کشط مصدر ۔ کشط کے معنی برہنہ کردینا ، جگہ سے ہٹا دینا ، گھوڑے کے اوپر سے اس کا پالان یا جھول الگ کرنا ۔ ذبیح جانور کی کھال اتار دینا ۔ یساط برہنہ ہونا ( تاج ، قاموس) کسی چیز کو ہٹا کر لپیٹ دینا ، آسمانوں کی جگہ سے ہٹا کر لپیٹ دیا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو تم اپنے سروں سے اوپر دیکھتے ہو تو تم کو ایک عجیب سماں نظر آتا ہے ۔ دیکھیں چاہتی ہیں کہ اوپر کو دیکھتی ہی رہیں خصوصاً رات کے وقت جب رات کی خنکی انسان کو سحر زدہ کردیتی ہے اور وہ چھت پر بیٹھ کر اوپر کو نظر اٹھاتا ہے تو اس کے سو غم غلط ہوجاتے ہیں اس لیے کہ اس کو دیکھنے سے اس کی نظر تقاضا کرتی ہے کہ وہ بار بار دیکھے اور پھر اس کو کوئی ایسی چیز بھی دکھائی نہیں دے رہی جس کی طرف نظر اٹھانا ناجائز اور حرام ہے بلکہ وہ اجرام فلکی ہیں جو خوبصورتی کے ساتھ اور نہایت ہی احسن طریقے سے چمک و دمک رہے ہیں اور دیکھنے والوں کا دل موہ رہے ہیں لیکن جب قیامت آئے گی تو چونکہ ان اجرام فلکی کو فنا کردیا جائے گا اور وہ آپس میں ٹکڑا کر فنا ہو رہے ہوں گے اس لیے اوپر دیکھنے والا آسمان دنیا کی حالت دیکھ کر پریشان حال کیا تھا کہ اب ہوجائے گا کیونکہ وہ وقت ہوگا جب آسمان کی گویا کھال ادھیڑ لی گئی ہوگی یعنی وہ بےرونق اور بےنور ہو کر رہ جائے گا ۔
Ayah 81:12

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ دھکائی جائے گی

اور جب دوزخ دھکائی جائے گی 12 ؎ ( سعرت) کا مادہ س ع ر ہے ۔ اس مادہ سے ( سعرت) کا لفظ تو قرآن کریم میں ایک بار اس جگہ بیان ہوا ہے البتہ اس مادہ کے حروف ( السعیر ، سعیراً ) اور ( سعر) استعمال ہوئے ہیں اور ( سعرت) وہ دھکائی گئی۔ وہ بھڑکائی گئی ۔ تسعیر سے جس کے معنی سخت آگ دھکانے کے ہیں ، ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ( الجحیم) دوزخ ، دھمکتی ہوئی آگ ۔ حجم کے معنی آگ کے سخت بھڑکنے کے ہیں ۔ جحیم اس سے مشتق ہے۔ فعیل بمعنی فاعل ہے ۔ امام ابن جریج سے مروی ہے کہ دوزخ کے سات طبقے ہیں ۔ ان میں سے ایک کا نام ( جحیم) بھی ہے اور وہ سات طبقات اس طرح بیان کیے گئے ہیں : (1) جھنم (2) لظی (3) حطمہ (4) سعیر (5) سقر (6) جحیم (7) ہاویہ (معالم التنزیل ج 4 ص 55) اور طبقاتی نام پورے دوزخ میں بھی بولے جاتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ دوزخ بھڑکائی جائے گی۔ کن کے لیے ؟ ان کے لیے جو دوزخ میں ڈالے جانے والے ہیں ۔
Ayah 81:13

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب جنت (جنتیوں کے) قریب لائی جائے گی

اور جب جنت قریب لائی جائے گی 13 ؎ ( ازلفت) کا اصل مادہ ز لہے۔ (ازلفت) کا لفظ قرآن کریم میں تین بار استعمال ہوا ہے ایک بار اس جگہ ، دوسری بار الشعرا آیت 90 میں اور تیسری بار سورة ق کی آیت 31 میں اور تینوں جگہ پر اس کا استعمال اہل جنت کے لیے ہے ۔ وہ قریب لائی گئی ۔ ازلاف سے جس کے معنی قریب لانے کے ہیں ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب اور اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد ہشتم سورة ق کی آیت 21 ، 22 میں گزر چکی ہے ۔
Ayah 81:14

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

(اس وقت) ہر جان جان لے گی کہ وہ کیا لے کر آئی ہے

اس وقت ہر جان جان لے گی کہ وہ کیا لے کر آئی 14 ؎ ( احضرت) اس نے حاضر کیا ۔ احضار سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک وقت ہے کہ اس وقت غفلت کے سارے پردے اٹھ جائیں گے ۔ ہر قسم کا خمار اتر جائے گا اور اسے اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا کھویا اور کیا پایا ؟ اس لیے کہ اس کے سارے اعمال اچھے ہوں گے یا برے اس کے سامنے لائے جائیں گے اور اعمال کے سامنے لانے کا مطلب ان اعمال کے نتائج سے ہے کہ جیسے انہوں نے اعمال کیے ہوں گے ویسے ہی ان کے سامنے ان کے نتائج آجائیں گے اور ان میں ذرا برابر کمی بیشی نہیں ہوگی ۔ اس سورت کا جو مضمون قیامت کے متعلق تھا وہ اس آیت پر ختم ہوا اور اب دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی رسالت کے متعلق ہے۔
Ayah 81:15

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

پس نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے والے (ستاروں کے رب ) کی

نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے اور چھپ جانے والے ستاروں کے رب کی 15 ؎ قرآن کریم کا انداز بیان کیا ہی عجیب ہے ۔ گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا بیان تھا جنہوں نے اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول محمدرسول اللہ ﷺ اور اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم کو اس طرح ماننے سے انکار کیا جیسا کہ ان کو ماننے کا حق ہے ان کے پاس محض اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ایک دھندلا سا تخیل ضرور تھا باقی سب کچھ وہ ایک گھڑنت سمجھتے تھے ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق ان کا خیال تھا کہ آدمی تو کام کا تھا لیکن اس کو کسی کی مار لگ گئی ہے اور کسی نے اس پر جادو کردیا ہے جس سے وہ بہک گیا ہے اور قرآن کریم کو گزشتہ لوگوں کی کہانیاں کہا کرتے تھے اور قیامت کا نام آتے ہی ان کے چہرے اتر جاتے تھے ۔ اور ان بھوں چڑھانے لگتے ۔ انہوں نے جس کردار کا مظاہرہ کیا اور اس طرح اللہ کے دین اور اس کے رسول کی مخالفت میں انہوں نے بہت کچھ کہا مختصر یہ کہ انہوں نے جو کہا اور جتنا کہا اس کا جواب ان کو دیا گیا ؟ صرف اور صرف یہ کہ نہیں ! جو کچھ کہا اور جو کیا سب کی نفی کردی اور پھر اس کو مؤکد کرنے کے لیے عربوں کے رواج کے مطابق فرمایا (اقسم) میں قسم کھاتا ہوں ۔ بعض یہ جو میں نے نفی کی ہے یہ قسما ً کہتا ہوں کہ میرا یہی جواب ہے جس پر مجھے پورا اطمناان ہے۔ (بالخنس) خنس پیچھے ہٹ جانے والے ۔ پھرجانے والے ۔ رک جانے والے ۔ چھپ جانے والے ۔ خانس کی جمع ہے جو خس سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے بعض کے نزدیک اس سے ستارے مراد ہیں کیونکہ وہ دن میں چھپ جاتے ہیں اور بعض کے نزدیک چاند اور سورج کے علاوہ پانچوں سیارے ہیں جن کو ” خمسہ متحیرہ “ کہتے ہیں یعنی مریخ ، زحل ، عطارد ، زہرہ اور مشتری کیونکہ ان کی چال کچھ اس ڈھب سے ہے کہ کبھی یہ مشرق سے مغرب کو چلتے ہیں اور کبھی ٹھٹھک کر الٹے پھرتے ہیں اور کبھی سورج کے پاس آ کر غائب ہوجاتے ہیں اور بعض کے نزدیک اس سے مراد اور چیزیں بھی لی گئی ہیں ۔ ہر آنے والی بات کو مؤکد کیا ہے اور اس طرح کی گئی نفی کو بھی جو پیچھے گزر گئی ہے۔
Ayah 81:16

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

سیدھے چلنے والے اور رک رہنے والے (ستاروں کے رب ) کی

سیدھے چلنے والے اور ایک جگہ رکے رہنے والے ستاروں کے رب کی قسم 16 ؎ گزشتہ آیت میں ( خنس) کا لفظ آیا اور زیر نظر آیت میں ( کنس) کا اور دونوں مادے یعنی خ ن س اور ک ن س سے صرف یہ دو لفظ استعمال ہوئے ہیں اگرچہ خنس کے مادہ کا ایک اور لفظ بھی قرآن کریم میں آیا ہے ( الخناس) جو آگے آئے گا۔ الکنس جمع ہے الکانس مفرد کناس مصدر اور کناس ہرن کے رہنے کی جگہ اور جھاڑی کو کہتے ہیں جہاں ہرن چھپتا ہے ۔ اس جگہ مراد چھپنے والے ستاروں ہی سے ہے اور اس کے معنی بھی تقریباً ( الخنس) کے ساتھ ملتے جلتے ہی ہیں بلکہ ایک ہی جیسے بیان کیے گئے ہیں ۔ جو ستارے وہاں مراد لیے گئے ہیں وہی ستارے اس جگہ بھی مراد لیے گئے ہیں ۔ چھپ جانے والے ستارے جو دن کو چھپ جاتے ہیں اور رات کو نظر آنے لگتے ہیں ۔ راستہ اور چال بدلتے رہتے ہیں ۔ ( الجوار) جاریۃ کی جمع ہے چلنے والی کشتیاں ، ہوائیں اور ستارے سب کے سب اس سے مراد لیے جاسکتے ہیں اور ان صفات سے متصف انسان بھی ہو سکتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ استعارات و اشارات ہی ضروری نہیں کہ ان سے مراد وہی ہے جو آج تک مفسرین نے لی ہے ۔ ان استعارات و اشارات کو ابھی تک پردہ میں رکھا گیا ہے عین ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں ان کی اصل مراد بھی سامنے آجائے اور یہ استعارات جو مفہوم اپنے اندر رکھتے ہیں وہ واضح ہوجائے اور آنے والا زمانہ ان کی وضاحت (Practical Demonstration) پیش کر دے ۔
Ayah 81:17

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور (قسم ہے) رات (کے رب ) کی جب کہ وہ ختم ہونے لگے

اور قسم ہے رات کے رب کی جب رخصت ہونے لگے 17 ؎ (عسعس) رات کا اندھیرا چھا گیا ، رات کا اندھیرا چلا گیا ۔ بروزن فعل عسعسۃ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ غسعس اللیل کے معنی ہیں رات کا اندھیرا چھا گیا اور اسی طرح یہ لفظ رات کے اندھیرا چلے جانے پر بھی بولا جاتا ہے لہٰذا یہ کلمہ اضداد میں سے ہے اور اس باب سے یہ کلمہ اس آیت میں آیا ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قسم ہے رات کے رب کی جب پھل جائے اور قسم ہے رات کے رب کی جب وہ رخصت ہونے لگے دونوں معنوں پر یہ مضمون حاوی ہے اور آنے والی آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس سے مراد رات کا پھل جانا ہی لینا زیادہ صحیح ہوگا تا ہم دوسرے معنی بھی مراد لیے گئے ہیں یعنی جب رات جانے لگے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ( عسعس) دراصل سعسع کی ترکیب کا مقلوب ہے جس کے معنی جانے کے ہیں ۔ بہر حال چونکہ یہ ایک استعارہ ہے اس لیے عین ممکن ہے کہ اس کی وسعت کسی اور مضمون کی متحمل ہو جس کا اظہار بعد میں کسی وقت ہو سکے اور یہ بھی بطور قسم مؤکد کرنے کے لیے ہے۔
Ayah 81:18

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور (قسم ہے) صبح (کے رب ) کی جب وہ سانس لے

اور قسم ہے صبح کے رب کی جب وہ سانس لے 18 ؎ ( تنفس) اس نے سانس لیا ۔ اس نے دم کھینچاتنفس سے جس کے معنی سانس کی آمد و شد کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ صبح کا سانس لینے سے کیا مراد ہے ؟ اس سے مراد صبح صادق ہونا ہے جس کو ہماری زبان میں پو پھٹنے سے تعبیر کرتے ہیں اور اس وقت کے رب کی قسم اس لیے دی کہ یہ وقت ایک خاص قبولیت کا وقت ہے کہ تہجد خواں اپنی تہجد کی نماز پوری کر کے اپنی عرضیاں رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں اور اسی وقت کے متعلق اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا آسمان اول پر آنے کا ذکر کیا جاتا ہے جو محض قرب وقت کے لیے ایک استعارہ بیان کیا گیا ہے ۔ آنے والے مضمون کو مؤکد کرنے کے لیے یہ اس جگہ پانچویں قسم کھائی جا رہی ہے جو محض اس لیے بیان کی گئی ہے کہ معاندین و مخالفین اس پر پختہ یقین کریں کہ آنے والی بات یا کہی جانے والی بات بالکل سچ اور درست ہے اور آنے والی بات کیا ہے ؟ اس کا ذکر آنے والی آیت میں موجود ہے۔
Ayah 81:19

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

بلاشبہ وہ ایک بزرگ رسول کی زبان (سے اللہ) کا کلام ہے

بلا شبہ وہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے جو بزرگ فرشتہ کی زبان سے سنایا گیا ہے 19 ؎ گزشتہ آیتوں میں پانچ قسموں کا ذکر گزر چکا ہے ان میں سے ایک ایک قسم اپنے اندر شہادت کا وافر مضمون رکھتی ہے اور یہ مضمون شہادت محض لوگوں کی یقین دہانی کے لیے بیان کیا گیا ہے اور اس کو اس قدر مؤکد کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ کلام تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ہے لیکن اس کو جس فرشتہ کی زبان سے سنوایا گیا ہے وہ فرشتہ بھی ایک بہت ہی بزرگی والا فرشتہ ہے اور اس کے بیان کرنے کا مطلب محض یہ ہے کہ تمہارا یہ کہنا سراسر باطل اور جھوٹ ہے کہ یہ قرآن خود محمد رسول اللہ ﷺ نے گھڑا ہے یا یہ کہ دوسرے لوگوں سے سیکھ کر اس کو بیان کرتا ہے ۔ ہرگز نہیں یہ تو ایک محترم قاصد کے ذریعہ بھیجا گیا کلام ہے اور تم کو کیا معلوم کہ وہ محترم شخصیت کیسی شخصیت ہے۔
Ayah 81:20

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو (رسول) بڑی قوت والا اور صاحب عرش کے حضور بڑا درجہ رکھنے والا ہے

وہ بڑی قوت والا ہے اور صاحب عرش کے حضور بڑا درجہ رکھنے والا ہے 20 ؎ وہ فرشتہ جس کے ذریعہ یہ قرآن کریم محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس پر نازل کیا گیا ہے وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں بہت ہی بزرگی والا ہے اور یہ بھی کہ اس کا قیام بھی نہایت محفوظ جگہ پر ہے جو عرش کریم ہی کے پاس ہے ۔ جان لینا چاہئے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کسی قسم کی جہت ، طرف ، سمت اور جگہ پر قیام کرنے سے پاک ہے ۔ وہ ہر گہ موجود اور ہر وقت موجود ہے لیکن اس کے باوجود انسانوں کی تفہیم کے لیے اس کا آسمانوں میں رہنا بلندیوں کی طرف اس کی نسبت پاک کو کرنا محض تفہیم انسانی کے لیے ہے جب کسی مرئی شخصیت کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو چیزیں اس کے لیے لازم آتی ہیں کہ ان کا بیان کیا جائے تو جس طرح کیا جائے اس طرح کرنے کے لیے یہ استعارہ بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر کہ ومہ اس کی تفہیم کرسکے اس طرح اس کے عرش کا بیان ہے اور اسی طرح اس کی قوت کا اظہار کیا گیا ہے۔ غور کرو کہ جب وہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ اے میرے بندے ! میں بھوکا تھا مگر تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ۔ اے میرے بندے ! میں پیاسا تھا مگر تو نے مجھے پانی نہ پلایا ۔ اے میرے بندے ! میں ننگا تھا لیکن تو نے مجھے لباس نہ پہنایا اور ان استعارات کو سن کر بندہ بوکھلا گیا اور اس نے جھنجھلا کر کہا کہ اے میرے اللہ ! تو کیسے بھوکا ہو سکتا تھا ؟ جوں ہی اس نے تعجب کیا تو اس کے تعجب کا پورا خیال رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا مرے بندے میرا فلاں بندہ جو بھوکا تھا اور اس نے میرے نام پر کھانا طلب کیا تھا پھر تو نے اسے کیوں نہ دیا ؟ اس طرح ساری باتوں کا جواب دے کر خود رسول اللہ ﷺ نے ثابت کردیا کہ یہ استعارات ہیں ان سے مراد حقیقت نہیں بلکہ تفہیم ہے۔ اس طرح ہم بیان کرتے وقت اس کو آسمانوں کے اوپر آخری بلندیوں تک اس کا تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے تصور سے وراء الوراء ہے لیکن ہم خاکی لوگ اپنی تسلی کے لیے بیان اگر اس طرح اس استعارہ میں بھی نہ کریں تو ہم بیان کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہی کچھ کہہ اور بتا سکتے ہیں پھر کیا زبان نہیں کھولیں گے ؟ ہاں ! ضرور کھولیں گے لیکن اس تصور کے ساتھ یہ بیان محض استعارہ ہے حقیقت میں اللہ تعالیٰ کسی بھی جہت اور سمت سے پاک ہے۔
Ayah 81:21

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

جو مطاع (بھی) ہے پھر امین بھی ہے

وہ مطاع بھی ہے اور امین بھی ہے 21 ؎ ( مطاع) اسم مفعول واحد مذکر اطاعۃ مصدر باب افعال ط و ع مادہ ۔ اطاعت کیا گیا ۔ وہ جس کی دوسرے تابعداری کریں ۔ مراد اس سے جبریل (علیہ السلام) ہیں جو فرشتوں میں سے جلیل القدر فرشتہ ہیں ۔ وحی الٰہی کے لانے والے ہیں اور اس جگہ ان کا وحی لانا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف مراد ہے اور فرمایا گیا ہے کہ وہ ایسا فرشتہ ہیں کہ دوسرے فرشتے ان کی فرمانبرداری میں ہیں اور جو وہ ان کو حکم دیں وہ کرتے ہیں ۔ گویا آپ براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے پاتے ہیں اور جتنے فرشتوں کی معیت میں آنا قرار پاتا ہے اتنے فرشتوں کی موجودگی میں اترتے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر قرآن کریم نازل کرتے ہیں اور اس طرح فرمایا کہ وہ امانت و دیانت میں بھی ضرب المثل ہیں ۔ فرشتہ اور بد دیانتی کا تو آپس میں جوڑ ہی نہیں ہے ۔ لیکن وہ فرشتہ جس کو جبریل کہتے ہیں وہ تو دوسرے تمام فرشتوں میں امین کے لقب سے معروف ہیں گویا امین فرشتہ امین محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف نازل ہوا ہے کسی ایرے غیرے کے ہاتھ آیا ہوا کلام نہیں ہے یہ تو کلام لانے والے کی بات ہے ۔ رہا وہ جس کی طرف وہ کلام لایا گیا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تو آپ ﷺ کے متعلق آنے والی آیت اشارہ کر رہی ہے۔
Ayah 81:22

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور تمہارا ساتھی ہرگز مجنون نہیں ہے

تمہارا ساتھی ہر گزمجنوں نہیں ہے 22 ؎ (صاحبکم) تمہارا رفیق ، صاحب ۔ مضاف کم ضمیر جمع مذکر مضاف الیہ ۔ اس جگہ کم کا خطاب کفار کی جانب ہے اور صاحب سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ۔ یہاں صاحب کہہ کر کفار کو اس امر پر تنبیہ کرنا ہے کہ تم ان کو ساتھ رہ چکے ہو ۔ ان کا تجزیہ کرچکے ہو اور ان کے ظاہر و باطن کو پہچان چکے ہو اور پھر بھی تم نے ان میں کوئی خرابی یا دیوانگی نہیں پائی ہے ۔ ( صاحبکم) کا لفظ نبی اعظم و آخر ﷺ کے لیے تین بار قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے ایک بار تو اس جگہ اور دوسری بار سورة سبا کی آیت 46 میں اور تیسری بار سورة النجم کی آیت 2 میں ( مجنون) اسم مفعول واحد مذکر مرفوع ، مضمو ، دیوانہ ، جن رسید ہ۔ وہ شخص جس کو جنات نے تعلیم دی ہو ۔ وہ شخص جس کے حواس اور عقل پر کسی قسم کا پردہ پڑگیا ہو ۔ بیماری کا یا جنات کا اثر ۔ خیال رہے کہ لغت میں جن کا معنی چھپانا ہے اور یہی مفہوم اس کے تمام مشتقات میں پایا جاتا ہے۔ جنین ، جن ، جنین ، مجنون ، جنۃ ، مجنۃ ، جنون ، جان سب کے معافی میں ستر کا مفہوم لازم ہے۔ ( مجنون) اسم مفعول واحد مذکر مجرور جہاں بھی استعمال ہوا اس کے مین صرف اور صرف جن رسیدہ یعنی دیوانہ کے ہیں اور یہ قرآن کریم میں چار بار استعمال ہوا ہے سورة صافات آیت 36 ، سورة الطور آیت 29 ، سورة القلم آیت 2 میں اور سورة التکویر کی آیت 22 میں یعنی زیر نظر آیت میں ۔ کفار نے نبی اعظم و آخر ﷺ پر دیوانہ اور جن رسیدہ ہونے کا الزام لگایا اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی ۔ جن رسیدہ ہونے کا مطلب یہی ہے جو ہمارے ہاں جاہلوں میں سمجھا جاتا ہے کہ جن انسان کے اندر حلول کرجاتا ہے اور پھر وہ انسان سے اس طرح کی حرکتیں کراتا ہے جو وہ چاہتا ہے ۔ گویا انسان باوجود انسان نظر آنے کے اور حرکات و سکنات کا صدور اس سے ہونے کے اس جن کے سامنے مجبور ہوتا ہے اور جن جو چاہتا ہے وہ کہتا اور کرتا ہے حالانکہ یہ تصور سو فی صد غلط ہے لیکن وہم پرستوں کے ہاں بہت پکا عقیدہ ہے اور آج بھی لوگوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے اور ہماری قوم میں جن ڈالنے اور نکالنے والے تقریباً ہر بستی ، گائوں اور شہر میں پائے جاتے ہیں جو محض اسی قوت و ہمہ کے باعث لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور بڑے بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے بیوقوف ان کے وہم تزویر کا شکار ہیں اور خصوصاً عورتوں اور وہ بھی زیادہ جو ان ہوں یا ہو رہی ہوں میں بعض امراض ایسے پیدا ہوجاتے ہیں جن کے باعث نوجوان لڑکیوں کو ایک دورہ کی شکل بنتی ہے اور لوگ اس کا دم جھاڑ کرانے کے لیے ان وحشیوں کے پاس جاتے ہیں اور وہ بھی ان کو یقین دلاتے ہیں کہ بس یہ جن کا اثر ہے اور ہم اس کو زائل کرسکتے ہیں پھر آگے کیا ہوتا ہے سب کو معلوم ہے خصوصاً ان کو جو اس کا شکار ہیں اگرچہ یہ سو فی صد فراڈ ہے ، دھوکا ہے ، فریب ہے اور بعض اوقات ہسٹیریا کا مرض ہے ۔ آپ کے متعلق ایسا خیال کیوں کیا گیا ؟ آخر کسی حرکت کا صدور آپ ﷺ سے ہوا جس کے باعث لوگوں کا اس طرف دھیان اور خیال گیا تو انہوں نے آپ ﷺ پر ایسا الزام رکھا ؟ بالکل صحیح ہے آپ ﷺ سے اس کا صدور ہوا اور بار بار ہوا اور حد سے زیادہ اور وہ یہ کہ عقائد و اعمال کے لحاظ سے آپ ﷺ کی قوم خواہ وہ توہمات ہی تھے بہر حال وہ لوگ چل رہے تھے اور آپ ﷺ نے اٹھ کر ان سب کا راستہ روک دیا اور ہر ایک کو بتایا کہ تم یہ غلط کر رہے ہو ، غلط کہہ رہے ہو ، جھوٹ بول رہے ہو ، فراڈ کر رہے ہو ، دھوکا اور فریب دے رہے ہو ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ساری دنیا ایسا کرتی ہے اور صرف یہ ایک نوجوان ان کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوگیا ہے اور یہ بات اپنی جگہ سو فی صد صحیح ہے کہ یہ ایک ہی غلط ہو سکتا ہے پورے انسانوں کی جمعیت تو غلط نہیں ہو سکتی بس اس چیز کو انہوں نے جن رسیدہ ہونے پر لگا لیا اور ایسا لگایا کہ قرآن کریم کے بار بار تردید کرنے کے ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور یہی حالت آج ہے کہ جو ایک بار سایہ اور جن کے اثر کا نام لے لیتا ہے اگر ان کی تردید کی جائے اور ہزار دلائل ان کے سامنے رکھے جائیں تو وہ پھر بھی ان کو ٹھکرائیں گے لیکن اپنی حرکت سے باز نہیں آئیں گے۔ ہاں ! آپ کو اگر انہوں نے دیوانہ اور جن رسیدہ قرار نہ دیا تو وہابی کہہ کر اپنی بھڑاس نکال لی اور اگر وہ خود بھی وہابی ہیں تو ان کے پاس دہریہ ، نیچری اور ضدی جیسے الفاظ موجود ہیں ان میں سے کسی ایک کا استعمال کرلیں گے لیکن اپنا نظریہ جو سو فی صد غلط ہے کبھی نہیں چھوڑیں گے ۔ حالانکہ مدت سے ہمارا یہ اعلان ہے کہ ایسا کوئی جنوں والا ہے تو وہ ہمارے سامنے آئے اور ہم پر اپنا وار کرے اور ذرا مہلت بھی نہ دے لیکن آج تک نہ تو کوئی سامنے آیا اور نہ ہی ان شاء اللہ العزیز کوئی آئے گا ۔ ہاں ! ہم کو بہت سے لوگوں نے بس جن کہہ دیا اور اس پر انہوں نے اکتفا کیا اور سامنے آنے سے گریز کی ۔ مختصر یہ کہ اس جگہ جناب نبی اعظم و آخر ﷺ کا ذکر مبارک ہو رہا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس جبریل فرشتہ وحی لے کر آیا اور اس نے کفار مکہ کو مخاطب کر کے کہا کہ لوگو ! یہ اللہ کا رسول ﷺ ہے اور تم لوگوں میں کوئی اجنبی نہیں ہے اس کی گزشتہ زندگی سے تم بیخبر نہیں ہو جس کی سیرۃ و کردار سے تم ناواقف ہو ۔ غور کرو کہ اس نے نبوت سے پہلے چالیس سال تم میں رہ کر گزارے ہیں ، زندگی کی مختلف منزلیں اس نے تمہاری آنکھوں کے سامنے طے کی ہیں ۔ تم اس کی دیانت ، پاکبازی ، اولوالعزمی اور دانائی سے اچھی طرح آگاہ ہو پھر تعجب ہے کہ تم ہوش و حواس ہوتے ہوئے اس کو مجنوں کہتے ہو ۔ تعجب ہے تم پر یہ کیسی حرکت تم کرتے ہو اور سراسر دیوانگی کا مظاہرہ تم خود کر رہے ہو۔ عقل کے ناخن لو اور ہمارے رسول ﷺ کو اس طرح کہہ کر ٹال مت دو بلکہ اس کی باتوں پر غور و فکر کرو ورنہ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی۔
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس نے اس کو افق منور پر دیکھا ہے

بلا شبہ اس نے اس کو افق پر دیکھا ہے 23 ؎ ہاں ! لوگو سن لو اور کان کھول کر سن لو کہ اس کے پاس ایک آنے والا آتا ہے لیکن وہ آنے والا جبریل ہے جو اللہ کا پیغام لے کر محمد رسول اللہ ﷺ پر اترتا ہے اور آپ ﷺ کے دل میں اس کلام کو اتارتا ہے اور آپ ﷺ اپنی زبان مبارک سے اس کو لوگوں کے سامنے من و عن پیش کرتے ہیں اور وہ جو کہتا ہے وہی کہتا ہے جو اس کو سنایا جاتا ہے یا اس کے دل پر ڈالا جاتا ہے اور وہ فرشتہ جو آپ ﷺ کے پاس پیغام لے کر آتا ہے وہ ان کو دوبارہ دکھائی بھی دے چکا ہے اور انہوں نے اس کے آنے کا ذکر تمہارے سامنے کیا ہے اور تم نے نہایت بد بختی سے ان کو جن کہہ کر ٹال دیا ہے ، حالانکہ انہوں نے جو کچھ تمہارے سامنے پیش کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے جو فرشتہ نے تم لوگوں تک پہنچانے کے لیے ان کے دل میں ڈالا ہے ۔ انہوں نے اس فرشتہ کی آمد کو افق مبین پر اس طرح دیکھا ہے جیسے تم لوگ سورج کو نکلتے ہوئے افق پر دیکھتے ہو اس لیے وہ جو کچھ آپ سے کہتے ہیں پورے ایمان و یقین سے کہتے ہیں اور اس میں بہتری ہے اور جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں محض تمہاری بہتری کے لیے کہہ رہے ہیں اور خصوصاً جس بہتری کی وہ بات کرتے ہیں وہ تمہاری آخرت کی بہتری ہے اور تم سب کو اس دنیا کی زندگی کو گزار کر اپنے اللہ کے ہاں حاضر ہونا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سے ایک ایک بات تم سے پوچھی جانا ہے اور ایک برکت حرکت جو تم کر رہے ہو اس سے تم کو آگاہ کیا جائے گا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا پیغام جھٹلا کر تم ان کو نہیں بلکہ اپنا نقصان کر رہے ہو اگر تم بھی مان لو گے فائدہ میں رہے گے اگر نہیں مانو گے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہاری حاضری ہوگی اور تمہارے کیے کی سزا تم کو بھگتنا ہوگی اور مثل ہے کہ یہ کوہ اور یہ میدان بھی تم کو سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔