79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 79:1

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

والنازعات غرقا۔۔۔ تا۔۔۔۔ بالساھرۃ۔ والنازعات غرقا۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ چیزوں کی قسم اٹھائی کہ قیامت برحق ہے۔ النازعات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی روحوں کو نکالتے ہیں، یہ حضرت علی کا قول ہے۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس اور مسروق ومجاہد نے کہا اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو انسانوں کے نفوس کو نکالتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، اس سے مراد کفار کے نفوس ہیں جنہیں ملک الموت ان کے جسموں سے نکالا ہے ان کے ہر بال کے نیچے سے، ناخنوں کے نیچے اور قدموں کی جڑ سے اس طرح جس طرح گوشت بھوننے والی سیخ تر اون سے نکالی جاتی ہے پھر وہ انہیں جسموں میں داخل کرتے ہیں پھر اسے باہر نکالتے ہیں یہ کفار کے ساتھ اس کا معاملہ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے حضرت سعید بن جبیر نے کہا، ان کی روحیں نکالی گئیں پھر غرق کی گئیں پھر انہیں جلایا گیا پھر انہیں جہنم میں پھینک دیا گیا ایک قول یہ کیا گیا ہے کافر موت کے وقت نفس کو دیکھے گا وہ غرق ہورہا ہے۔ سدی نے کہا، النازعات سے مراد وہ نفوس ہیں جو سینوں میں غرق ہوجاتے ہیں مجاہد نے کہا، اس سے مراد موت ہے جو نفوس کو کھینچتی ہے۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا، اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو ایک افق سے دوسرے افق کی طرف جاتے ہیں یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، نزع الیہ۔ یعنی اس کی طرف گیا اور عربوں کے اس قول سے لیا گیا ہے، نزعت الخیل، گھوڑے دوڑے۔ غرقا یعنی وہ غرق ہوجاتے ہیں، غائب ہوجاتے ہیں وہ ایک افق سے ظاہر ہوتے ہیں اور دوسرے افق پر غائب ہوجاتے ہیں یہ تعبیر ابوعبیدہ، ابن کیسان اور اخفش نے کی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد کمانوں کو کھینچنے والے ہیں جو کمانوں پر تیرچڑھا کر انہیں کھینچتے ہیں یہ عطا اور عکرمہ نے کہا ہے غرقا، اغراق کے معنی میں ہے، اغراق النازع فی القوس کا مفہوم یہ ہے جہاں تک وہ قوس کو کھینچ سکتا تھا وہاں تک پہنچ گیا یہاں تک کہ وہ پھل تک پہنچ گیا یہ جملہ بولا جاتا ہے، اغرق القوس اس نے پورا پورا کھینچا۔ استغراق کا معنی استیعاب ہوتا ہے انڈے کے اندرونی پردے کو غرقی کہتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ایسے غازی ہیں جو تیر پھینکنے والے ہوں۔ میں کہتا ہوں : یہ اور مقاتل تعبیر برابر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے قوموں کی قسم اٹھائی تو اس سے مراد قوس کھینچنے والے بھی ہوں گے مقصود قوموں کی عظمت بیان کرنا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، والعادیات ضبحا۔ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہوئے آواز نکالتے ہیں یہ اغراق سے مراد کھینچنے میں مبالغہ کرنا ہے۔ یہ تمام تاویلات میں جائز ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ وحشی ہیں جو گھاس سے نکلتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں یہ یحییٰ بن سلام نے بیان کیا ہے، غرق کا معنی بہت ہی دور ہے۔
Ayah 79:2

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

والنشطت نشطا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومن کے نفس کو نکالتے ہیں جس طرح اونٹ کے اگلے پاؤں سے ڈھنگا کھولا جاتا ہے، فراء نے یہ قول بیان کیا پھر کہا، عربوں سے جو کچھ میں نے سنا وہ یہ کہتے ہیں انشطت کماانشطت من عقال، یعنی کھولنے کے لیے مجہول کا فعل استعمال کیا جاتا ہے باندھنے کے لیے مجرد کا فعل استعمال کیا جاتا ہے باندھنے والے کو ناشط کہتے ہیں جب تواونٹ کے بازو میں رسی باندھے گا تو کہے گا نشطتہ اور وناشط ہوگا اور جب تو اس رسی کو کھولے گا تو اس وقت کہے گا، انشطتہ، انت منشط۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اس سے مراد موت کے وقت مومنوں کے نفوس ہیں وہ تیزی سے نکلتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کسی مومن پر موت کا وقت آتا ہے تو اس پر جنت پیش کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جو کچھ تیار کیا ہوتا ہے یعنی بیویاں اور حورعین تو ان سب کو دیکھ لیتا ہے وہ اسے اپنی طرف دعوت دیتے ہیں وہ ان کی طرف تیزی سے نکلتا ہے اور ان کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد کفار اور منافقوں کے نفوس ہیں ان کے نفوس کو یوں نکالا جاتا ہے جس طرح عقب کو نکالا جاتا ہے، عقب اسے کہتے ہیں جس کے ساتھ تیر کو لپیٹا جاتا ہے، عقب سے مراد وہ پٹھا ہے جس سے تانت بنائی جاتی ہے، اس کا واحد عقبہ ہے اس سے تو کہتا ہے، عقب السھم والقدح والقوس عقبا۔ جب تو ان چیزوں پر کوئی چیز لپیٹے۔ نشط کا معنی تیزی سے کھینچنا ہے اس سے انشوطہ کا لفظ ہے جس کا معنی ایسی گرہ ہے جس کا کھولنا آسان ہو جب تو اسے کھینچے جس طرح ازار بند کی گرہ ہوتی ہے، ابوزید نے کہا، اس کا باب یوں چلایا جاتا ہے، نشطت الحبل انشطہ نشطا۔ میں نے اسے ایسی گرہ کے ساتھ باندھا جس کا کھولنا آسان تھا، انشطتہ یعنی میں نے اسے کھول دیا انشطت الحبل یعنی میں نے اسے پھیلایا یہاں تک کہ اس کی گرہ کھل گئی، فراء نے کہا، انشط العقال، ڈھنکا کھولا گیا۔ نشط اس کے ہاتھوں میں رسی باندھی گئی، لیث نے کہا، انشطتہ بانشوطۃ وانشوطیتین، یعنی میں نے اس سے ایک گرہ یا دوگرہوں سے باندھا۔ انشطت العقال، میں نے اس کے ڈھنگے کو لمبا کیا تو وہ ڈھنگا کھل گیا۔ یہ بھی قول ہے کہ نشط، انشط کے معنی میں ہے دونوں لغتیں ایک معنی میں ہیں اس تعبیر پر حضرت ابن عباس کا پہلا قول صحیح ثابت ہوتا ہے، انہیں سے ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ ناشطات سے مراد فرشتے ہیں جنہیں ان کے نشاط کی وجہ سے ناشطات کہا جاتا ہے وہ جہاں کہیں ہو اللہ تعالیٰ کے امر کے ساتھ جاتے ہیں اور آتے ہیں ان سے اور حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی روحوں کو جلد اور ناخنوں کے درمیان سے نکالتے ہیں یہاں تک ان کے پیٹوں سے اسے بڑی سختی کے ساتھ نکالتے ہیں جب کہ انہیں بڑی تکلیف ورغم لاحق ہوتا ہے جس طرح تو خاردار تار کو اون سے نکالتا ہے اس وقت نشط کھینچنے کے معنی میں ہوگا یہ جملہ بولا جاتا ہے، نشت الدلو انشطھا وانشطھا، یعنی میں نے اسے کھینچا، اصمعی نے کہا، بشر انشاط ایسا کنوں جس کی گہرائی تھوڑی ہو جس سے ڈول ایک دفعہ کھینچنے سے نکل جاتا ہے۔ بئر نشوط ایسے کنویں کو کہتے ہیں جس سے ڈول کئی دفعہ کھینچنے سے نکلتا ہے مجاہد نے کہا، یہ ایسی موت ہے جو انسان کے نفس کو کھینچتی ہے سدی نے کہا، اس سے مراد ایسے نفوس ہیں جن کو دونوں قدموں سے کھینچا جاتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، النازعات سے مراد نمازیوں کے ہاتھ اور ان کے ذاتیں ہیں جو تیر چڑھا کر کمانوں کھینچتے ہیں النازعات سے مراد وہ ہاتھ ہیں جو گھوڑوں اور اونٹوں کی رسیوں کو کھولتے ہیں۔ عکرمہ اور عطا نے کہا : اس سے مراد وہ تانتیں ہیں جن کے ساتھ تیروں کو چھوڑا جاتا ہے، عطا، قتادہ اور حسن بصری اور اخفش سے مروی ہے اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو ایک افق سے دوسرے افق کی طرف جاتے ہیں صحاح میں اسی طرح ہے یعنی وہ ستارے جو ایک برج سے دوسرے برج کی طرف نکلتے ہیں جس طرح بیل ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف جاتا ہے اور غم، غم والے کو ہلاک کردیتے ہیں۔ ابوعبیدہ اور عطا نے کہا : الناشطات سے مراد وہ وحشی جانور ہیں جو ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف جاتے ہیں جس طرح غم انسان کو ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایک قول ہی کیا گیا ہے النازعات سے مراد کافروں کی روحیں نکالنے والے ہیں اور الناشطات سے مراد مومنوں کی روحیں نکالنے والے ہیں فرشتے مومن کی روح کو نرمی سے کھینچتے ہیں۔ نزع کا معنی سختی سے کھینچنا ہے، اور نشط کا معنی نرمی سے کھینچا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ دونوں آیتیں کفار کے لیے باقی مومنین کے لیے ہیں جب وہ دنیا سے جدا ہورہے ہوتے ہیں۔
Ayah 79:3

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

والسبحت سبحا۔ حضرت علی شیر خدا نے فرمایا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومنوں کی روحوں کے ساتھ تیرتے ہیں۔ کلبی نے کہا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومنوں کی روحوں کو قبض کرتے ہیں جس طرح ایک آدمی پانی میں تیرتا ہے کبھی وہ نیچے چلے آتے ہیں اور کبھی وہ اوپر اٹھ آتے ہیں وہ نرمی سے اسے نکالتے ہیں پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ آرام کرسکیں۔ مجاہد اور ابوصالح نے کہا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے آسمان سے جلدی آتے ہیں جس طرح تیز رفتار گھوڑے کو سابح کہتے ہیں جب وہ تیز دوڑے۔ مجاہد سے مروی ہے، فرشتے اترنے اور اوپرچڑھنے میں تیزی کرتے ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ السابحات سے مراد موت ہے جو بنی آدم کے نفسوں میں تیرتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد، نمازیوں کے گھوڑے ہیں : عشرہ نے کہا : والخیل تعلم حین، تس بح فی حیاض الموت سبحا۔ گھوڑے جانتے ہیں جب وہ موت کے حوضوں میں تیرتے ہیں۔ قتادہ اور حسن نے کہا، اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو افلاک میں تیرتے ہیں اس طرح سورج اور چاند ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کل فی فلک یسبحون۔ یاسین) ہر ایک اپنے فلک میں تیررہا ہے عطاء نے کہا، اس سے مراد وہ کشتیاں ہیں جو پانی میں تیرتی ہیں حضرت ابن عباس نے کہا، السبحت سے مراد مومنوں کی روحیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کی رحمت کے شوق میں تیرتے ہیں جب وہ نکلتی ہیں۔
Ayah 79:4

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں

فالسبقت سبقا۔ حضرت علی نے فرمایا اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو انبیاء تک وحی پہنچانے میں شیاطین پر سبقت لے جاتے ہیں، یہ مسروق اور مجاہد کا قول ہے مجاہد اور ابوروق سے یہ بھی مروی ہے اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو انسانوں پر خیر اور عمل صالح میں سبقت لے گئے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ بنی آدم پر عمل صالح میں سبقت لے جاتے ہیں تو اسے لکھ لیتے ہیں مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد موت ہے جو انسان پر سبقت لے جاتی ہے، مقاتل نے کہا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومنوں کی روحوں کو جلدی جنت کی طرف لے جاتے ہیں، حضرت ابن مسعود سے مروی ہے اس سے مراد مومنوں کے نفوس ہیں جو ملائکہ کی طرف سبقت لے جاتے ہیں اور جوان کی روحوں کو قبض کرتے ہیں جبکہ انہوں نے فرحت و سرور کو دیکھ لیا ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کی رحمت کا شوق رکھتے ہیں ربیع سے بھی اسی طرح مروی ہے کہا، اس سے مراد وہ نفوس ہیں جو موت کے وقت نکلنے میں سبقت لے جاتے ہیں قتادہ، حسن اور معمر نے کہا، اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن میں سے بعض بعض سے چال میں سبقت لے جاتے ہیں، عطاء نے کہا، اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو جہاد کی طرف سبقت لے جاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ روحیں ہیں جو جسموں سے پہلے جنت یا جہنم کی طرف سبقت لے جاتی ہیں یہ ماوردی کا قول ہے، جرجانی نے کہا، سابقات کا فاء کے ساتھ ذکر کیا اس لیے کہ اس سے مراد بھی پہلے والے ہیں یعنی جو تیرتے ہیں اور سبقت لے جاتے ہیں تو کہتا ہے وہ اٹھا اور چلا گیا تو یہ چیز اس امر کو ثابت کرتی ہے کھڑا ہوناجانے کا سبب ہے اگر تو کہتا ہے، قام وذھب تو کھڑا ہوناجانے کا سبب نہ ہوتا۔
Ayahs 79:5–6

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

فالمدبرات امرا۔ قشیری نے کہا، علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں، ماوردی نے کہا، اس بارے میں دو قول ہیں، اس سے مراد ملائکہ ہیں یہ جمہور کا نقطہ نظر ہے، اس سے مراد سات ستارے ہیں، یہ خالد بن معدان نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت نقل کی ہے، ان کے امور کی تدبیر کی دو صورتیں۔ ان کے طلوع و غروب کی تدبیر کرنا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس میں جو احوال کے بدلنے کا فیصلہ کیا ہے وہ تدبیر ہے، قشیری نے بھی اپنی تفسیر میں یہی قول نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے عالم کے بہت سے امور کو نجوم کی حرکات کے ساتھ معلق کیا ہے پس تدبیر کو ان ستاروں کی طرف منسوب کردیا گیا ہے اگرچہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے جس طرح ایک چیز کو اس کے مجاور کی وجہ سے نام دیا جاتا ہے۔ اگر مراد فرشتے ہوں تو ان کی تدبیر سے مراد یہ ہوگا کہ وہ حلال و حرام اور اس کی تفصیل کے ساتھ نازل ہوتے ہیں یہ حضرت ابن عباس قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا، اس میں یہ امر اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے لیکن جب فرشتے اسے لے کر اترے تو انہیں یہ نام دے دیا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، نزل بہ الروح الامین۔ شعرائ) اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے، فانہ نزلہ علی قلبک۔ بقرہ 97) جبرائیل امین نے اسے تیرے دل پر نازل کیا، یعنی جبرایل امین نے حضرت محمد ﷺ کے دل پر اسے نازل کیا جبکہ نازل کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ عطاء نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ مدبرات امر سے مراد وہ فرشتے ہیں جنہیں زمین کے احوال کی تدبیر سپرد کی گئی ہے ہواؤں کا معاملہ حضرت میکائیل، ملک الموت، یعنی حضرت عزرائیل اور حضرت اسرافیل، جہاں تک حضرت جبرایل امین کا تعلق ہے اس کے ذمہ ہواؤں اور لشکروں کے معاملات ہیں حضرت میکائیل کے ذمہ بارش اور نباتات ہے۔ ملک الموت کے ذمہ خشکی اور تری میں روحوں کو قبضہ کرنا ہے، جہاں تک حضرت اسرافیل کا تعلق ہے وہ ان فرشتوں پر اللہ تعالیٰ کا امر لاتے ہیں حضرت اسرافیل سے بڑھ کر کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں، حضرت اسرافیل اور عرش کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : انہیں ایسے امور کا مکلف بنادیا گیا ہے انہیں جس کی پہچان اللہ تعالیٰ نے کرادی ہے، سورت کے آغاز سے یہاں تک قسمیں ہیں اللہ تعالیٰ نے جن کی قسمیں اٹھائی ہیں اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ مخلوقات میں سے جس کی چاہے قسمیں اٹھائے ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی چیز کی قسم اٹھانا جائز نہیں قسم کا جواب مضمر ہے گویا فرمایا، والنازعات۔۔ لتبعثن ولتحاسبین۔ جواب قسم اس لیے مضمر کیا گیا ہے کیونکہ سامعین اسے پہنچانتے تھے، یہ فراء کا قول ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، ء اذا کنا عظامانخرہ۔ النازعات) کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہ ان کے اس قول کے جواب میں ہے، اء ذا کناعظاما نخرہ، نبعث، تو صرف ءاذا عظاما نخرۃ پر اکتفا کیا گیا۔ ایک قوم نے کہا : جواب قسم، ان فی ذالک لعبرۃ لمن یخشیٰ ۔ النازعات) اس میں ڈرانے والے کے لیے عبرت ہے۔ یہ ترمذی ابن علی کا پسندیدہ مذہب ہے۔ یعنی میں نے جو قیامت کا ذکر کیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر کیا ہے یہ سب ڈرنے والوں کے لیے نصیحت ہے لیکن جواب قسم قسم اسی چیز کو بنانا جو سورت میں مذکور ہو ظاہر و باہر ہو اس سے زیادہ مناسب ہے کہ کسی ایسی چیز کو جواب قسم بنایاجائے جو کلام میں مذکور نہ ہو، یہ انباری کا قول ہے یہ قبیح ہے کیونکہ قسم اور جواب قسم کے درمیان طویل فاصلہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا جواب قسم ھل اتاک حدیث موسیٰ ، ہے کیونکہ معنی تجھ پر واضح ہوچکا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا جواب یوم ترجف الراجفہ۔ ہے یہاں یوم سے پہلے لام مقدر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں تقدیم وتاخیرہوگویا کلام یوں کی گئی فاذاھم بالساھرہ۔ النازعات) والنازعات غرقا، سجستانی نے کہا، یہ جائز ہے کہ اس میں تقدیر وتاخیر ہو گویا کلام یوں کی گئی فاذا ھم بالساھرۃ والنازعات۔ ابن انباری نے کہا، یہ غلط ہے کیونکہ فاء کے ساتھ کلام کو شروع نہیں کا جاتا، پہلی توجیہ زیادہ مناسب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جواب قسم یہ ہے کہ جہنمیوں کے دل سخت ہوگئے ان کی آنکھیں جھکی ہیں یوم ترجف الراجفہ، کو نصب اس وجہ سے ہے لیکن یہ جواب قسم نہیں، زجاج نے کہا، تقدیر کلام یوں ہے، قلوب واجفہ، یوم ترجف الراجفہ، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ اذکر کی وجہ سے منصوب ہے اور ترجف کا معنی تضطرب ہے اور راجفہ کا معنی مضطربہ، عبدالرحمن بن زید نے یہی کہا ہے کہا اس سے مراد زمین ہے اور رادفہ سے مراد قیامت ہے مجاہد نے کہا، راجفہ سے مراد زلزلہ ہے۔
Ayah 79:7

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا

تتبعھا الرادفہ۔ رادفہ سے مراد چیخ ہے، مجاہد، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا، دونوں سے مراد چیخیں ہیں یعنی دونوں نفخے، جہاں تک پہلے نفخہ کا تعلق ہے وہ اللہ کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کردے گا، جہاں تک دوسرے نفخے کا تعلق ہے وہ اللہ کے حکم سے ہر چیز کو زندہ کردے گا حدیث میں نبی کریم کا ارشاد ہے، دونوں فخوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا، مجاہد نے بھی کہا، رادفہ اس وقت ہوگا جب آسمان پھٹ جائے گا زمین اور پہاڑ اٹھالیے جائیں گے اور انہیں ایک ہی بار ریزہ ریزہ کردیا جائے گا، یہ سلسلہ زلزلہ کے بعد ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے، راجفہ سے مراد زمین کا حرکت کرنا ہے رادفہ سے مراد دوسرا زلزلہ ہے جو زمینوں کو فنا کردے گا، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، سورة النمل کے آخر میں ایسی بحث گزرچکی ہے جو صور پھونکنے کی بحث میں کافی وشافی ہے، رجفہ کا اصل معنی حرکت ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم ترجف الارض، المزمل 14) یہاں رجفہ سے مراد صرف حرکت نہیں بلکہ یہ رجف الرعد یرجف، رجفا ورجیفا سے مشتق ہے یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ آوز اور حرکت کو ظاہر کرے اسی سے ارا جیف کا لفظ ہے کیونکہ اس میں آوازیں مضطرب ہوتی ہیں اور لوگ اس میں بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، شاعر نے کہا : ابالا راجیف یا بن اللوم توعدنی، وفی الاراجیف خلت اللوم الخوار۔ کیا تو ایسے قصائد میں (جورجزیہ بحر میں کہے گئے ہیں) مجھے دھمکی دیتا ہے اسے ملامت کرنے والے جبکہ میرا خیال تھا کہ ایسے قصائد میں ملامت اور ضعف کا طعنہ ہوگا۔ حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ جب رات کا ایک چوتھائی گزرجاتا ہے تو آپ اٹھتے پھر فرماتے، اے لوگو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو راجفہ آچکی رادفہ کے پیچھے آرہی ہے موت اپنی سختیوں کے ساتھ آگئی۔
Ayah 79:8

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

قلوب یومئذ واجفہ۔ اس روز دل خوف زدہ ہوں گے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے، سدی نے کہا، وہ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اس کی مثل، اذالقلوب لدی الحناجر۔ غافر 18) جب دل نر کرہ تک پہنچ جائیں گے، مورج نے کہا، جب دل مضطرب خوف زدہ اور پرسکون نہ ہوں گے مبرد نے کہا، جب دل مضطرب ہوں گے معنی سب کا قریب قریب ہے اس سے مراد کفار کے دل ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے، وجف القلب یجف وجیفا جب وہ پھڑپھڑا رہا ہو جسطرح یہ لفظ بولا جاتا ہے، وجب یجب وجیبا۔ اسی سے، وجیف الفرس والناقۃ فی العدو، ہے ایجاف کا معنی جانور کو تیز چال پر برانگیختہ کرنا ہے، قلوب کو مبتدا کی حیثیت سے رفع دیا گیا اور واجفہ اس کی صفت ہے۔
Ayahs 79:9–10

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

اور آنکھیں جھکی ہوئی

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹیں گے ؟

ابصارھا خاشعہ۔ یہ سابقہ مبتدا کی ضمیر ہے جس طرح یہ قول، ولعبد مومن خیر من مشرک (البقرہ 221) مومن غلام مشرک سے بہتر ہے، خاشعہ کا معنی جھکی ہوئی ذلیل ورسوا، یہ صورت اس ہولناکی کی وجہ سے ہوگی جسے وہ دیکھ رہی ہوگی اس کی مثل، خاشعۃ ابصارھم ترھقھم ذلہ۔ المعارج 44) ہے یعنی یہ بعث کو جھٹلانے والے اور اس کا انکار کرنے والے کہیں گے جب انہیں کہا جاتا ہے تمہیں دوبارہ اٹھایاجائے گا تو وہ انکار کرتے ہوئے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کیا ہم اپنی موت کے بعد پہلی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے تو جس طرح ہم موت سے پہلے زندہ تھے اسی طرح پھر زندہ ہوجائیں گے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، انا لمبعوثون خلقا جدیدا۔ الاسراء) کیا ہم کو نئی مخلوق کی حیثیت سے دوبارہ اٹھایاجائے گا یہ جملہ بولا جاتا ہے، رجع فلاں فی حافرتہ اوعلی حافرتہ یعنی وہ آدمی جہاں سے آیا وہاں سے ہی واپس چلا گیا، یہ قتادہ کا قول ہے، ابن اعرابی نے کہا، احافرہ علی صلع وشیب، معاذ الہ من سفہ وعار۔ کیا اس گنجے پن اور بالوں کی سفیدی کے بعد میں پہلی حالت کی طرف لوٹ جاؤں گا اس بےوقوفی اور شرمندگی سے اللہ کی پناہ۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، رجع فلاں فی حافرۃ یعنی جس راستہ سے آیا تھا اسی راستہ سے واپس چلا گیا ان کا ضرب المثل میں قول ہے، النقد عندالحافرۃ، نقد سبقت کے وقت ہوتا ہے یعقوب نے کہا، پہلے کلمہ پر، یہ جملہ بولا جاتا ہے، التقی القوم فاقتتلوا عند الحافرہ۔ لوگ آپس میں ملے تو انہوں نے ملاقات پر آغاز پر ہی باہم جھگڑا شروع کردیا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حافرہ کا معنی دنیا ہے یعنی کیا ہم دنیا کی طرف لوٹادیے جائیں گے تو ہم بطور زندہ اس طرح صبر کریں گے جس طرح ہم پہلے تھے، شاعر نے کہا، الیت لاانساکم فاعلموا۔ حتی یرد الناس فی الحافرۃ۔ میں قسم اٹھاتا ہوں میں تمہیں کبھی نہیں بھولوں گا جان لو یہاں تک کہ لوگوں کو دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حافرہ سے مراد وہ زمین ہے جہاں قبروں کو دفن کردیا گیا ہو یہ مخصوص کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ماء دافق۔ الطارق) عیشۃ راضیہ۔ الحاقہ) معنی یہ ہوگا کیا ہمیں اپنی قبروں میں دوبارہ زندہ کرکے لوٹا دیا جائے گا یہ مجاہد، خلیل اور فراء کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، زمین کو حافرہ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ قدم لگنے کی جگہ ہے جس طرح قدم کو ارض کا نام دے دیا جاتا ہے کیونکہ قدم زمین پر ہوتا ہے معنی اس کا یہ ہوگا کہ ہم موت کے بعد زمین کی طرف لوٹیں گے اور اپنے قدموں پر چلیں گے ابن زید نے کہا، حافرہ سے مراد آگ ہے اور پڑھا، تلک اذا کرۃ خاسرہ، النازعات) پھر وہ باری تو بڑے خسارے والی ہوگی، مقاتل اور زید بن اسلم نے کہا، یہ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا، کلام عرب میں حافرہ سے مراد دنیا ہے ابوحیوہ نے اسے حفرہ پڑھا ہے یہ حافرہ سے ماخوذ ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، حفرہ سے مراد ایسی زمین ہے جو اپنے مردوں کے جسموں کی وجہ سے بدبودار ہوگی یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، حفرت اسنانہ یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب اس کے دانتوں کے ظاہر اور باطن میں میل چڑھ جائے یہ جملہ بولا جاتا ہے فی اسنانہ حفر، وقد حفرت تحفر حفرا یہ، کسر، یکسر کسرا کے وزن پر ہے جب اس کی جڑیں خراب ہوجائیں، بنواسد نے کہا، فی اسنانہ حفر، وقد حفرت یہ تعجب، تعبا کی مثل ہے یہ دونوں لغتوں میں سے مروی لغت ہے صحاح میں اسی طرح ہے۔
Ayah 79:11

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے (تو پھر زندہ کیے جائیں گے)

ء اذا کناعظامانخرۃ۔ کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے کہا جاتا ہے، نخرالعظم یعنی بوسیدہ ہوجائے اور ٹوٹ پھوٹ جائے کہا جاتا ہے، عظامانخرہ، اہل مدینہ اہل مکہ، اہل شام اور اہل بصرہ نے اسی طرح پڑھا ہے، ابوعبید نے اسی کو پسند کیا ہے کیونکہ وہ آثار جن میں ہڈیوں کا ذکر ہوتا ہے ہم نے ان میں غور کیا تو ہم نے نخرہ دیکھا، ناخرہ، نہ دیکھا ابوعمرو، ان کے بیٹے عبداللہ، حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود، ابن زبیر، حمزہ، کسائی، اور ابوبکر نے ناخرہ پڑھا۔ فراء طبری اور ابومعاذ نحوی نے آیات کے سروں کی موافقت کی وجہ سے اسے ہی پسند کیا، صحاح میں ہے، ناخرہ اس ہڈی کو کہتے ہیں جس میں ہوا داخل ہو پھر اسے نکلے تو اس سے آواز نکلے یہ جملہ بولا جاتا ہے جو ابھی بوسیدہ نہ ہوا ہوتا ہم اس کا بوسیدہ ہونا ضروری ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے ناخرہ سے مراد جو اندر سے خالی ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ایک معنی میں ہیں اسی طرح عرب کہتے ہیں، نخرالشی فھو ناخر ونخر۔ جس طرھ اس فعل سے اسم فاعل کا صیغہ ذکر کرتے ہیں، طمع فھوطمع وطامع، حذر وحاذر، بخل وباخل، فرۃ وفارۃ۔ بعض تفاسیر میں ہے جب ناخرہ کا لفظ ہو تو معنی بوسیدہ ہے اور جب نخرہ ہو تو اس کا معنی ہوا اسے میں سے گزرتی ہے یہ پہلے معنی کے برعکس ہے ہمدانی نے قادسیہ کے موقع پر کہا تھا، من بعد ماصرف عظاما نخرہ، اس کے بعد میں بوسیدہ ہڈیاں ہوچکا ہوں گا، بعض نے کہا، ناخرہ اسے کہتے ہیں جس کی اطراف کھائی جاچکی ہو اور اس کا درمیان حصہ باقی ہو نخرہ اسے کہتے ہیں جو مکمل خراب ہوچکی ہو، مجاہد نے کہا، نخرہ سے مراد ہے جو ریزہ ریزہ ہوچکا ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، عظاما ورفاتا، الاسراء 49) ریزہ ریزہ ہڈیاں، نخرۃ الریح ہوا کا تیز چلنا، نخرہ اور نخرہ میں وہی مناسب ہے جو ہمزہ میں میم کو سکون اور ضمہ دینے کی صورت میں ہے یہ گھوڑے، گدھے اور خنزیر کے ناک کا اگلا حصہ ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، ھشم نخرتہ، یعنی اس کی ناک کو توڑ دیا۔
Ayah 79:12

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے

قالواتلک اذا کرۃ خاسرہ۔ انہوں نے کہا، وہ تو خسارے والالوٹنا ہوگا یہ محض لوٹنے کی طرح نہیں ہوگا یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کی رائے ہے ربیع بن انس نے کہا، جس نے اس کو جھٹلایا تھا اس کے لیے نقصان کا باعث ہوئی، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ خسارے کی باری ہوگی معنی یہ ہے اس باری والے خسارہ پانی والے ہوں گے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، تجارۃ رابحہ یعنی تجارت کرنے والانفع اٹھانے والا ہوگا اس باری سے بڑھ کر کوئی چیز خسارہ دینے والی نہ ہوگی وہ جہنم کی طرف لے جانی والی ہے، قتادہ اور محمد بن کعب نے کہا، اگر ہم موت کے بعد زندہ لوٹے تو ہمیں آگ میں جمع کیا جائیگا انہوں نے یہ بات اس لیے کی تھی کیونکہ انہیں آگ کی دھمکی دی گئی تھی کرّکامعنی لوٹنا ہے یہ کہا جاتا ہے کرّہ، اور کرّپہلا فعل متعدی ہے اور دوسرا لازم ہے کرہ کا معنی ایک بار اور اس کی جمع کر ات ہے۔
Ayah 79:13

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی

فانما ھی زجرۃ واحدہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ اس پر دوبارہ اٹھانا آسان ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے نفخۃ واحدہ قرات نقل کی ہے۔
Ayah 79:14

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے۔

فاذا ھم بالساھرۃ۔ سب مخلوق روئے زمین پر ہوگی جبکہ پہلے وہ زمین کے اندر تھی فراء نے کہا، اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ اس میں حیوان سوتا اور جاگتا ہے عرب کھلے میدان اور اس کی زمین کو ساھرہ کہتے ہیں یہ نسبت کا معنی دے رہا ہے کیونکہ ایسی زمین میں خوف کی وجہ سے جاگا جاتا ہے تو اس زمین کی ایسی صفت بیان کردی جو اس چیز کی صفت تھی جو اس میں ہوئی ہے حضرت ابن عباس اور مفسرین نے امیہ بن خلف ابی صلت کے قول سے استدلال کیا ہے۔ وفیھا لحم ساھرہ وبحر۔ صحاح میں ہے یہ قول کیا جاتا ہے، ساھور یہ زمین کا سایہ ہے اور ساھرہ سے مراد روئے زمین ہے اسمعنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، فاذا ھم بالساھرہ، النازعات) اور کہا جاتا ہے الساھور، جس طرح چاند کا غلاف ہوتا ہے جب اسے گرہن لگتا ہے تو وہ اس غلاف میں داخل ہوجاتا ہے انہوں نے امیہ بن ابی صلت کا شعر پڑھا ہے۔ قمر وساھور یسل ویغمد، چاند اور سایہ کبھی اسے سونتا جاتا ہے اور کبھی اس سایہ میں داخل کردیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے ساھرہ سے مراد سفید زمین ہے ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، وہ چاندی کی زمین ہوگی اس پر کبھی اللہ تعالیٰ کا نافرمانی نہیں کی گئی ہوگی اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا، ایک قول یہ کیا گیا وہ ایسی زمین ہے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے نئے سرے سے بنائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے ساھرہ سے مراد ساتویں زمین کا نام ہے جسے اللہ تعالیٰ لائے گا اور اس پر مخلوق کا حساب لے گا، یہ اس وقت ہوگا جب زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا ثوری نے کہا، ساھرہ سے مراد شام کا علاقہ ہے، وہب بن منبہ نے کہا، یہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے عثمان بن ابی عاتکہ نے کہا، یہ شام میں ایک مخصوص جگہ کا نام ہے، یہ اریحاء اور حسان پہاڑوں کے درمیان کی جگہ ہے اللہ تعالیٰ جتنا چاہے اسے پھیلادے گا، قتادہ نے کہا، اس سے مراد جہنم ہے یعنی اچانک یہ کفار جہنم میں ہوں گے اسے ساھرہ کہا گیا ہے، کیونکہ اسوقت وہ لوگ اس پر نہ سوئیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ساھرہ سے مراد جہنم کے کنارے صحراء ہے یعنی وہ قیامت کے دن زمین پر ٹھہریں گے تو اس وقت ہمیشہ کی بیداری ہوگی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ساھرہ سے مراد ہموار زمین ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں سراب چلتا ہے یہ عربوں کا قول ہے، عین ساھرہ سے ماخوذ ہے ایسا چشمہ جس کا پانی چلتا رہتا ہو اس کی ضد نائم ہے۔ یا اس وجہ سے اسے ساھرہ کہتے ہیں کہ کیونکہ اس پر چلنے والا ہلاکت کے خوف سے نہیں سوتا۔
Ayahs 79:15–16

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب ان کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طوی میں پکارا

ھل اتاک حدیث موسیٰ ۔۔۔ تا۔۔۔۔ لمن یخشٰی۔ ھل اتاک حدیث موسیٰ ، اذ نادی ربہ بالواد المقدس طوی۔ یعنی آپ تک وہ خبر آچکی ہے اور پہنچ چکی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نبی کریم کے لیے تسلی کا باعث ہے کیونکہ فرعون آپ کے زمانہ کے کفار سے زیادہ قوی تھا پھر ہم نے اسے پکڑ لیا اسی طرح یہ لوگ ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ھل بمعنی ما ہے وہ خبر آپ کے پاس نہیں آئی بلکہ آپ کو اس کی خبر دی گئی ہے اس میں ڈرنے والوں کے لیے عبرت ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ کئی مواقع پر گزرچکا ہے جو کافی وشافی ہے۔ طوی میں تین قراتیں ہیں ابن محیصن، ابن عامر اور کو فیوں نے طوی کو تنوین سے پڑھا ہے، ابوعبید نے اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ اس میں تخفیف ہے باقی قراء نے تنوین کے بغیر پڑھا ہے کیونکہ یہ معدول ہے جس طرح عمر اور قتم ہے، فراء نے کہا، طوی، مدینہ طبیہ اور مصر کے درمیان ایک وادی ہے کہا یہ طاو سے معدول ہے جس طرح عامر سے عمر معدول ہے۔ حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے طاء کے کسرہ کے ساتھ اسے پڑھا ہے اور ابوعمرو سے بھی یہی مروی ہے معنی یہ ہے کہ وہ وادی یکے بعد دیگرے مقدس بنائی گئی ہے یہ زجاج نے کہا، اور شعر پڑھا : اعاذل ان اللوم فی غیر کنھۃ، علی طوی من غیک المترددیہ۔ اے مجھے ملامت کرنے والے، بیشک بغیر وجہ کے میری باربار ملامت تیری متردد سرکشی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، طاء کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ دو لغتیں ہیں اس بارے میں گفتگو سورة طہ میں گزرچکی ہے۔
Ayah 79:17

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے

اذھب الی فرعون انہ طغی۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے انہیں ندا کی کہ فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی کی ہے تو کلام سے ایک جز کو حذف کردیا گیا کیونکہ ندا بھی ایک قول ہے گویا ان کے رب نے انہیں ارشاد فرمایا فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی کی۔ یعنی اس نے نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا، حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ فرعون ہمدان کا رہنے والاچھوٹے قد کا مضبوط آدمی تھا مجاہد نے کہا، اصطخر کا رہنے والا تھا، حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ اصفہان کا رہنے والا تھا، جسے ذو ظفر کہتے ہیں اس کی لمبائی چار بالشت تھی۔
Ayah 79:18

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور (اس سے) کہو کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے

فقل ھل لک الی ان تزکی۔ کیا تو خواہش رکھتا ہے کہ تو اسلام لائے اور گناہوں سے اپنے آپ کو پاک کردے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، کیا تو خواہش رکھتا ہے کہ تولا الہ الا اللہ کی گواہی دے ؟۔
Ayah 79:19

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا راستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

واھدیک الی ربک فتخشی۔ میں تیری تیرے رب کی اطاعت کی طرف راہنمائی کروں تو تو اس سے ڈرے اور تقوی اختیار کرے، نافع اور ابن کثیر نے تزکی پڑھا ہے، کہ تاء کو زاء میں مدغم کردیا گیا ہے کیونکہ یہ اصل میں تتز کی تھا، باقی قراء نے اسے تزکی پڑھا ہے، معنی ہوگا تو پاکیزہ مومن بنے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو دعا دی کہ وہ پاکیزہ مومن بن جائے، کہا، اس وجہ سے ہم نے تخفیف کو اختیار کیا ہے صخر بن جویریہ نے کہا، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تو حضرت موسیٰ کو فرمایا، اذھب الی فرعون، حضرت موسیٰ نے عرض کی میں اس کے پاس کیسے جاؤں جبکہ تو جانتا ہے کہ وہ اسطرح نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی کہ تجھے جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کر بیشک آسمان میں بارہ ہزار فرشتے ہیں جو تقدیر کے علم کے خواہش مند ہیں وہ اس تک نہیں پہنچے اور نہ ہی اس کا ادراک کرسکے۔
Ayah 79:20

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔

فاراہ الایۃ الکبری۔ تو حضرت موسیٰ نے اسے بڑی نشانی دکھائی یہ معجزہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد عصا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے یدبیضاء مراد ہے جو سورج کی طرح چمکتا تھا، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ آیۃ کبری سے مراد عصا ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، اس سے مراد ید بیضاء اور عصا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد سمندر کا پھٹنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، آیہ سے مراد تمام نشانیاں اور معجزات ہیں۔
Ayahs 79:21–22

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

فکذب وعصی، ثم ادبر یسعی۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت موسیٰ کو جھٹلایا اور اپنے رب کی نافرمانی کی پھر ایمان سے اعراض کرتے ہوئے پیٹھ پھیرلی اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرنے لگا، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سزا دینے کی کوشش کرنے لگا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ سانپ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔
Ayah 79:23

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اور (لوگوں) کو اکھٹا کیا اور پکارا

فحشر فنادی۔ فقال اناربکم الاعلی۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو بلایا تاکہ وہ اسے سانپ سے بچائیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس نے جنگ کرنے کے لیے اپنے لشکروں کو جمع کیا اور مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس نے لوگوں کو جمع کیا اس نے لوگوں کو بلند آواز سے ندا دی، میں تمہارا بڑا رب ہوں میرے اوپر کوئی تمہارا رب نہیں، یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ ابلیس نے فرعون کے سامنے انسان کی صورت بنائی جب کہ وہ مصر میں ایک حمام میں تھا فرعون نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، ابلیس نے اسے کہا، تجھ پر افسوس کیا تو مجھے نہیں پہچانتا ؟ فرعون نے کہا، نہیں شیطان نے کہا، تو کیسے مجھے نہیں پہنچانتا جبکہ تو نے مجھے تخلیق کیا ہے ؟ کیا تو نے یہ نہیں کہا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں، ثعلبی نے یہ واقعہ کتاب العرائس میں ذکر کیا ہے۔
Ayah 79:24

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں

عطاء نے کہا : فرعون نے ان کے لیے چھوٹے بت بنائے اور ان کی عبادت کا حکم دیا اور کہا، میں تمہارے بتوں کا رب ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے قائدوں اور سرداروں کا ارادہ کیا وہ ان کا مالک تھا اور وہ اپنے ماتحت لوگوں کے مالک تھے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کلام میں تقدیم وتاخیر ہے تقدیر کلام اس طرح ہے، فنادی فحشر کیونکہ بلانا جمع کرنے سے پہلے ہوا۔
Ayah 79:25

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا

فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی۔ اس کا پہلا قول ماعلمت لکم من الہ غیری۔ القصص 38) میں اپنے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں پاتا، اس کا دوسرا قول ہے، اناربکم الاعلی، النازعات) میں تمہارا بڑا رب ہوں، یہ حضرت ابن عباس، مجاہد اور عکرمہ کا نقطہ نظر ہے ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، معنی یہ بنا پہلی بات پر مہلت دی اور دوسری پر اسے پکڑ لیا اور دونوں پر عذاب دیا مجاہد نے کہا، یہ اس کی پہلی عمر اور آخری عمر کا عذاب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا دوسرا قول انا ربکم الاعلی، ہے اور پہلاقول اس کا حضرت موسیٰ کو جھٹلانا ہے یہ قتادہ سے بھی مروی ہے۔ نکال زجاج کے قول کے مطابق مفعول مطلق ہے تاکید کے لیے ہے، کیونکہ فاخذہ اللہ، کا معنی ہے نکل اللہ بہ۔ یہاں نکال کا لفظ ذکر کیا کیونکہ یہ مذکورہ فعل کے مصدر کا معنی دیتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حرف جار کے حذف کی وجہ سے اسے نصب دی اصل کلام یوں تھی، فاخذہ اللہ بنکال الاخرۃ۔ جب حرف جار کو حذف کردیا گیا تو اسے نصب دی گئی، فراء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کو عبرتناک انداز میں پکڑا اور نکال اس کا نام ہے جس کو دوسروں کے لیے عبرت بنایا گیا ہو، یہ جملہ بولا جاتا ہے، نکل فلان بفلان، جب اسے سزا دے کر عمل سے روک دیا، کلمہ میں امتناع کا معنی پایا جاتا ہے اس سے قسم سے انکاری کرنا ہے اور بیٹری کو نکل کہتے ہیں، سورة مزمل میں یہ بحث گزرچکی ہے۔
Ayah 79:26

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کیلئے اس (قصے) میں عبرت ہے

ان فی ذالک لعبرۃ لمن یخشی۔ جو آدمی ڈرتا ہے اس کے لیے اس میں عبرت ہے۔
Ayahs 79:27–29

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

بھلا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا ؟ اسی نے اس کو بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی چھت کو اونچا کیا پھر اسے برابر کردیا

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

ء انتم اشد خلقا۔۔۔ تا۔۔۔ ولانعامکم۔ ء انتم اشد خلقا ام السمائ۔ اس سے مراد اہل مکہ ہیں کیا تمہارے اندازے کے مطابق تمہاری موت کے بعد تمہیں پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان کو پیدا کرنا مشکل ہے پس جو آسمان پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لخلق السماوات والارض اکبر من خلق الناس۔ غافر 57) آسمانوں اور زمین کی تخلیق لوگوں کی تخلیق سے بڑھ کر ہے، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اولیس الذی خلق السماوات والارض بقادر علی ان یخلق مثلھم۔ یاسین 81) کیا وہ ذات پاک جو آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمانے والی ہے وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ ان کی مثل کو پیدا کردے، اس کلام کا مقصود تقریع وتوبیخ ہے پھر آسمان کی صفت بیان کی۔ بنھا، رفع سمکھا۔ آسمان کو تم پر اس طرح بلند کیا جس طرح کوئی عمارت بنائی جاتی ہے اس کی چھت کو فضا میں بلند کردیا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، سمکت الشئی، یعنی میں نے اسے ہوا میں بلند کیا اور سمک الشی سموکا وہ چیز بلند ہوگئی فراء نے کہا ہر وہ شی جو کسی دوسری چیز کو اگائے وہ عمارت ہو یا کوئی دوسری چیز تو دوسری چیز کو سمک کہتے ہیں، اس طرح یوں کہا جاتا ہے بناء مسموک اونچی عمارت، سنام سامک تامک۔ اونچی کہ ان، مسموکات یعنی آسمان، یہ جملہ بولا جاتا ہے، اسمک فی الریم، سیڑھی اوپرچڑھ۔ فسواھا۔ اس کی بناوٹ کو برابر کیا اور اس میں کوئی کجی، کوئی پھٹن اور سوراخ نہیں۔ واغطش لیلھا، اس کی رات کو تاریک کردیا جسطرح کہتے ہیں، غطش اللیل رات تاریک ہوگئی، اغطشہ اللہ، اللہ تعالیٰ نے اسے تاریک کردیا، جس طرح تو کہتا ہے، ظلم اللیل واظلمہ اللہ یوں بھی جملہ بولا جاتا ہے، اغطش اللیل اور اغطشہ اللہ جس طرح یوں کہا جاتا ہے، اظلم للیل اور اظلمہ الہ، غطش اور غبش کا معنی تاریکی ہے، رجل اغطش، اندھا آدمی یا اندھے جیسا، اسی طرح قد غطش بھی کہتے ہیں وہ اندھا ہے المراۃ غطشا عورت اندھی ہے، اسی طرح یہ کہا جاتا ہے، لیلۃ غطشاء ولیل اغطش، تاریک رات، فلاۃ غطشی لایھتدی لھا، ایسا بیابان جس کا کوئی راستہ نہ ہو۔ اعشی نے کہا، وغامرھم مدلھم غطش۔ ان کی تاریک رات ان کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ رات کی نسبت آسمان کی طرف کی کیونکہ رات سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہوتی ہے اور سورج کو آسمان کی طرف مضاف کیا جاتا ہے، یوں کہا جاتا ہے، نجوم للیل کیونکہ ان کا ظہوررات کے وقت ہوتا ہے۔ واخرج ضحھا۔ اس کے دن کو روشن اور سورج کو ظاہر کیا، ضحھا کی نسبت آسمان کی طرف کی جس طرح رات کی نسبت اس کی طرف کی، کیونکہ اس میں تاریکی اور روشنی کا سبب ہے یہ سورج کا غروب وطلوع ہے۔
Ayah 79:30

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

والارض بعد ذالک دحاھا۔ یعنی اسے پھیلا دیا، یہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے زمین کی تخلیق آسمان کی تخلیق کے بعد ہوئی ہے اس کے بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں، ھوالذی خلق لکم مافی الارض جمیعا ثم استوی الی السماء، کے تحت گزرچکی ہے عرب کہتے ہیں، دحوت الشئی ادحوہ دحوا۔ جب تو اسے پھیلائے، شتر مرغ کے گھونسلے کو ادحی کہتے ہیں کیونکہ وہ زمین پر پھیلایا گیا ہوتا ہے، امیہ بن ابی صلت نے کہا : وبث الخلق فیھا اذا دحاھا، فھم قطانھا حتی التنادی۔ جب زمین کو پھیلادیا تو اس میں مخلوق کو پھیلادیا پس یہ روز قیامت تک اس کے مکین ہیں۔ مبرد نے یہ شعر پڑھاـ: دحاھا فلما راھا استوت، علی الماء ارسی علیھا الجبال۔ زمین کو پھیلایا جب اسے دیکھا کہ وہ پانی پر قرا پکڑ گئی ہے تو اس پر پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، دحاھا کا معنی ہے برابر کرنا، زید بن عمرو کا قول ہے۔ دحاھا فلما استوت شدھا، باید وارسی علیھا الجبال۔ اسے ہموار کیا جب وہ ہموار ہوگئی تو اسے ہاتھوں کے ساتھ مضبوط کیا اور اس پر پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ حضرت ابن عباس سے روایت مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو تخلیق کرنے سے ایک دوہزار سال پہلے کعبہ بنایا اور چارستونوں پر اس پانی پر رکھا پھر بیت اللہ کے نیچے سے زمین کو پھیلایا بعض علماء نے یہ ذکر کیا کہ بعد کالفط مع کے معنی میں ہے گویا فرمایا، اس کے ساتھ ہی زمین کو پھیلادیاجس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے عتل بعد ذالک زنیم۔ القلم) اس ایت میں بھی بعد، مع کے معنی میں ہے اس معنی میں عربوں کا قول ہے، انت احمق وانت بعد ھذا سی الخلق، تو احمق ہے ساتھ ہی ساتھ بداخلاق ہے۔ شاعر نے کہا : فقلت لھا عنی الیک فاننی، حرام وانی بعد ذالک لبیب۔ میں نے اسے کہا تو مجھ سے دور ہوجابے شک میں محروم ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ میں دانش مند ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے بعد، قبل کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر۔ الانبیاء 105) اس آیت میں بعد کا لفظ پہلے کی معنی میں ہے ابوخراش ہذلی نے کہا، حمدت الھی بعد عروۃ اذ نجا، خراش وبعض الشر اھون من بعض۔ میں نے عروہ سے پہلے اپنے اللہ کی حمد کی کیونکہ خراش نجات پاچکا تھا بعض مصیبتیں دوسروں سے آسان ہوتی ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے : خراش نے عروہ سے پہلے نجات پائی تھی ایک قول یہ کیا گیا ہے دحاھا کا معنی ہے اس میں ہل چلایا اور اس کو پھاڑا یہ ابن زید کا نقطہ نظر ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے اسے خوراک کے لی تیار کیا، معنی قریب قریب ہے، عام قراء کی قرات نصب کے ساتھ ہے یعنی دحا الارض۔ حضرت حسن بصری اور عمرو بن میمون نے الارض کو مرفوع پڑھا ہے کیونکہ ضمیر اس کی طرف لوٹتی ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے، دحا یدحوا دحوا۔ دحی یدحی دحیا، جس طرح، طغی، یطغی، یطغوا اور طغی یطغی، ہے اس طرح محا، یمحوا، یمحی اس طرح لحی العود یلجی ویلجوا جس نے مضارع کا صیغہ یدحو کہا، وہ دحوت کہتا ہے اور جو یدحی کہتا ہے وہ دحیت کہتا ہے۔
Ayah 79:31

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا

اخرج منھا ماء ھا ومرعاھا۔ ھا ضمیر سے مراد زمین ہے ماء ھا، سے مراد چشمے ہیں جو پانی سے پھوٹتے ہیں مرعا سے مراد وہ نباتات ہیں جن کو چرا جاتا ہے، قتبی نے کہا، ان دوچیزوں کے ساتھ ان تمام چیزوں پر دلالت ہوگی جن کو زمین نکالتی ہے خواہ وہ انسانوں کی خوراک ہو یا چوپاؤں کا چارہ ہو جیسے گھاس، درخت، دانا، کھجور، بھوسہ، ایندھن، لباس، آگ اور نمک کیونکہ آگ لکڑیوں سے ہوتی ہے اور نمک پانی سے ہوتا ہے۔
Ayah 79:32

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا

والجبال ارساھا۔ عام لوگوں کی قرات والجبال ہے معنی ہوگا پہاڑوں کو گاڑھا اور انہیں زمین میں اس کی میخوں کے طور پر ثبت کیا ہے حضرت حسن بصری، عمرو بن میمون، عمرو بن عبید، اور نصر بن عاصم نے والجبال پڑھا ہے، کیونکہ یہ مبتدا ہے یہ سوال کیا جائے گا، اخرج سے پہلے حرف عطف کیوں نہ داخل کیا گیا ؟ تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا، یہ قد کے مضمر ہونے کے ساتھ حال ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، حصرت صدورھم۔ النساء 90) تنگ ہوچکے ہوں ان کے سینے یہاں بھی قد مضمر ہے۔
Ayah 79:33

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدے کیلیے (کیا)

متاعالکم ولانعامکم۔ تمہاری منفعت کے لیے اور تمہارے اونٹوں، گائیوں اور بھیڑ بکریوں کی منفعت کے لیے۔ متاعایہ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے اور یہ مفعول مطلق ہے جو مذکورہ فعل کے الفاظ پر نہیں کیونکہ اخرج کا معنی ہے اس سے تمہیں لطف اندوز کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حرف جار کے حذف کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 79:34

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

تو جب بڑی آفت آئے گی

فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔۔۔ تا۔۔۔ لمن یری۔ فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔ طامہ کبری سے مراد بڑی مصیبت ہے اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے جس کے ساتھ دوبارہ اٹھانا ہوگا ضحاک نے حضرت ابن عباس سے یہی روایت نقل کی ہے، حضرت حسن بصری کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابن عباس اور ضحاک سے یہ بھی منقول ہے کہ اس سے مراد قیامت ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب آجائے گی یہ اپنی ہولناکی کی وجہ سے ہر دوسری مصیبت پر چھاجائے گی عربوں کی امثال میں سے ایک یہ بھی ہے۔ جری الواد فطم علی لقری۔ وادی یہی یہاں تک کہ اپنی گزرگاہ سے باہر نکل آئی۔ مبرد نے کہا، عربوں کے ہاں طامہ اس مصیبت کو کہتے ہیں جس کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی عربوں کی امثلہ میں سے میں نے چند اخذ کی ہیں وہ کہتے ہیں، طعم الفرس طمیما یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ دوڑنے میں اپنی ساری کوشش صرف کردے، طم الماء یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ پوری نہر کو بھردے، یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، طم السیل الرکیہ۔ سیلاب نے کنویں کو دفن کردیا۔ طم کا معنی دفن کرنا اور غالب آنا ہے، قاسم بن ولید، ہمدان نے کہا، طامہ کبری سے مراد یہ ہے جب جنتیوں کو جنت اور جہنمیوں کو جہنم کی طرف نہ روکاجائے گا مجاہد کے قول کا بھی یہی معنی ہے سفیان نے کہا، اس سے مراد وہ ساعت ہے جس وقت جہنمیوں کو زبانیہ کے حوالے کیا جائے گا یعنی ایسی مصیبت جو غالب آجاتی ہے اور بڑی ہوجاتی ہے۔ شاعر نے کہا : ان بعض الحب یعمی ویصم، وکذالک البغض ادھی واطم۔ بعض محبتیں انسان کو اندھا بہرہ بنادیتی ہیں اسی طرح بغض ہر چیز پر غالب آجاتا ہے۔
Ayahs 79:35–36

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی۔

یوم یتذکرالانسان ماسعی۔ وبرزت الجحیم لمن یری۔ اس نے جو اچھا یابراعمل کیا ہوگا اسے یاد کرے گا اور ہر دیکھنے والے کے لیے جہنم ظاہر کردی جائے گی، حضرت ابن عباس نے کہا، اس جہنم سے پردہ ہٹا دیا جائے گا اسے ہر آنکھ والا بھڑکتا ہوا دیکھے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد کافر ہے کیونک ہوہ جہنم میں عذاب کی انواع دیکھے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے مومن اسے دیکھے گا تاکہ نعمت کی قدر کو پہچانے اور کافر آگ میں داخل ہو، فاذا جاءت الطامۃ، کا جواب محذوف ہے یعنی جب بڑی مصیبت آجائے گی توجہنمی جہنم میں اور جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے مالک بن دینا نے وبرزت الجحیم پڑھا ہے عکرمہ اور دوسرے قراء نے ولمن تری پڑھا ہے یعنی جہنم جسے دیکھے گی یا اے محمد ! جسے تو دیکھے گا خطاب نبی کریم کو ہے اور مراد لوگ ہیں۔
Ayahs 79:37–38

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

تو جس نے سرکشی کی

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا

فاما من طغی۔۔ تا۔۔۔ الماوی فاما من طغی، واثرالحیوۃ الدنیا۔ طغیان سے مراد ہے نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت نضر اور اس کے بیـٹے حارث کے حق میں نازل ہوئی یہ ہراس کافر کو عام ہے جس نے دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی۔ یحییٰ بن کثیر سے مروی ہے جس نے ایک کھانے میں تین قسم کے کھانے تیار کیے تو اس نے سرکشی کی، جویر نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت حذیفہ نے کہا، اس امت کے بارے میں جس چیز سے میں زیادہ خوف محسوس کرتا ہوں کہ وہ دیکھی ہوئی چیز کو جانی گئی، چیز پر ترجیح دیں گے، یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ کتابوں میں یہ چیز پائی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، میرا کوئی بندہ اپنی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دیتا مگر اس پر اس کے غم اور چیزوں کا ضیاع عام کردیا جاتا ہے پھر مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کس میں ہلاک ہوا ہے۔
Ayahs 79:39–40

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

اس کا ٹھکانا دوزخ ہے

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور دل کو خواہشوں سے روکتا رہا

فان الجحیم ھی الماوی۔ الماوی میں الف لام مضاف الیہ ھاء کے عوض میں ہے۔ واما من خاف مقام ربہ، وہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا، ربیع نے کہا، مراد ہے قیامت کے روز اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے دڑا۔ قتادہ کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک ایسا مقام ہے مومن جس سے ڈرتے ہیں مجاہد نے کہا، اس سے مراد وہ دنیا میں ذنب کے مواقع پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور گناہوں کا قلع قمع کرتا ہے، اس کی مثل ولمن خاف مقام ربہ جنتان۔ الرحمن) جو اپنے رب کے حضور کے کھڑا ہونے سے ڈر اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ ونھی النفس عن الھوی۔ جس نے معاصی اور محارم سے اپنے نفس کو روکا رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، خواہش نفس کو ترک کرنا جنت کی چابی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا، تم ایسے زمانہ میں ہو جس میں حق خواہش نفس کی قیادت کرتا ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جس میں خواہش نفس حق کی قیادت کرے گی، ہم ایسے زمانہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔