78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

(یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں ؟

عم یتساء لون۔۔ تا۔۔۔ سیعلمون۔ عم یتساء لون۔ عم استفہام کا لفظ ہے اس وجہ سے ما کا الف حذف کردیا گیا ہے تاکہ خبر استفہام سے ممتاز ہوجائے اس طرح فیم اور مم ہے جب ان کے ساتھ سوال کیا جائے معنی ہوگا وہ ایک دوسرے کے بارے میں کس چیز کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ زجاج نے کہا، عم اصل میں عن ما تھا نون کو میم میں مدغم کردیا گیا کیونکہ نون غنہ میں میم کے ساتھ شریک ہے۔ یتساء لون میں ضمیر قریش کے لیے ہے، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے جب قرآن حکیم نازل ہوا توقریش بیٹھا کرتے وہ آپس میں گفتگو کرتے ان میں سے کچھ تصدیق کرنے والے ہوتے اور کچھ جھٹلانے والے تو یہ آیات نازل ہوئیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے، عم، فیم کے معنی میں ہے یعنی کس چیز کے بارے میں سختی کرتے ہیں اور جھگڑتے ہیں ؟۔
Ayah 78:2

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

(کیا) بڑی خبر کی نسبت ؟

عن النبا العظیم۔ وہ نبا عظیم کے بارے میں سوال و جواب کرتے ہیں۔ عن حرف جار، اس یتساء لون کے متعلق نہیں جو تلاوت میں ہے کیونکہ یہ حرف استفہام کے داخل ہونے کو لازم ہے، توعن النبا العظیم تیرے اس قول کی طرح ہوجائے گاتیراکتنا مال ہے کیا تیس یاچالیس ؟ جو بات ہم نے ذکر کی ہے اس سے یہ بات لازم ہوگی، کہ اسے اس یتساء لون کے متعلق کرنا ممتنع ہے جو تلاوت میں موجود ہے، یہ ایک اور یتساء لون کے متعلق ہے جو مضمر ہے اسے مضمر ماننا اچھا ہے کیونکہ یتساء لون پہلے موجود ہے یہ مہدوی نے کہا، بعض اہل علم نے یہ ذکر کیا ہے کہ دوبارہ جو عن آیا ہے، اس میں استفہام ہے مگر وہ مضمر ہے گویا کلام یوں ہے، عم یستاء لون عن النبا العظیم، اس بنا پر پہلی آیت کے ساتھ متصل ہے اور النباء العظیم سے مراد بڑی خبر ہے۔
Ayahs 78:3–5

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

الذی ھم فیہ مختلفون۔ وہ اس کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں ایک تصدیق کرتا ہے اور دوسراجھٹلاتا ہے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبا عظیم سے مراد قرآن حکیم ہے اس کی دلیل قل ھو نبوا عظیم، انتم عنہ معرضون۔ ص) کہہ دیجئے وہ عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو قرآن حکیم نبا خبر اور قصص ہے وہ عظیم الشان خبر ہے سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ موت کے بعد دوبارہ اٹھانا ہے لوگ اس بارے میں دو حصوں میں بٹ گئے تصدیق کرنے والے اور تکذیب کرنے والے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد نبی کریم کا امر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ سے بہت ساری چیزوں کے بارے میں سوال کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے اختلاف کے بارے میں آگاہ فرمایا پھر انہیں خبردار کیا، فرمایا، کلا سیعلمون، ثم کلا سیعلمون۔ وہ عنقریب قرآن کے انجام کے بارے میں آگاہ ہوجائیں گے کیا وہ حق ہے یا باطل ؟ کلا انہوں نے بعث کا جو انکار کیا اور قرآن کی جو تکذیب کی اس کا رد کرنے کے لیے کلام کو ذکر کیا ہے اس پر وقف کیا جائے گا، یہ بھی جائز ہے کہ یہ حق کے معنی میں ہو یا الا کے معنی میں ہو، زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ان کا سوال دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں ہو، ہمارے بعض علماء نے کہا، اللہ تعالیٰ کا فرمان، ان یوم الفصل کان میقاتا۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے وہ دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں باہم سوال کیا کرتے تھے۔ یعنی یہ بات حق ہے کہ وہ اس بات کو جان لیں گے کہ حضرت محمد ﷺ جس قرآن کو لائے ہیں وہ سچ ہے اسی طرح آپ نے لوگوں کے سامنے یہ جو بیان کیا ہے کہ موت کے بعد انہیں دوبارہ اٹھایاجائے گا وہ سچ ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد ہے کافر اپنے جھٹلانے کے انجام کو دیکھ لیں گے پھر مومنین اپنی تصدیق کے انجام کو دیکھ لیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے برعکس بھی کیا گیا ہے کہ پہلے فعل کا فاعل مومن اور دوسرے فعل کا فاعل کافر ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا، یہ وعید کے بعد وعید ہے، دونوں افعال میں عام قرات یاء کے ساتھ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یتساء لون، ھم فیہ مختلفون، یعنی یہ غائب کے صیغے ہیں، حضرت حسن بصری، ابوالعالیہ اور مالک بن دینار نے کہا، دونوں تاء کے ساتھ مخاطب کے صیغے ہیں۔
Ayah 78:6

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا

الم نجعل الارض۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ الفافا۔ الم نجعل الارض مھدا۔ ان کی اس بات پر راہنمائی کی کہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے پر قادر ہے یعنی ان امور کو پیدا کرنے پر ہماری قدرت دوبارہ اٹھانے پر ہماری قدرت سے عظیم ہے۔ مھادا کا معنی، بستر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، الذی جعل الکم الارض فراشا۔ البقرہ 22) وہ ذات پاک جس نے زمین کو تمہارے لیے بستر بنادیا، اے مھد بھی پڑھا گیا ہے اس کا معنی ہے زمین ان کے لیے ایسی ہے جیسے بچے کے لیے پنگھوڑا ہوتا ہے مھدا اسے کہتے ہیں جسے بچھایا جاتا ہے اور اس پر سویا جاتا ہے۔
Ayah 78:7

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو (اس کی) میخیں (نہیں ٹھیرایا)

والجبال اوتادا۔ پہاڑوں کو میخیں بنایا تاکہ وہ پرسکون ہوجائے اور اپنے مکینوں کے ساتھ ایک طرف مائل نہ ہوجائے۔
Ayah 78:8

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

(بیشک بنایا) اور تم کو جوڑا جوڑا بھی پیدا کیا

وخلقنکم ازواجا۔ یعنی اصناف بنایا ان میں سے کچھ مذکر ہیں اور کچھ مونث ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجا کا معنی رنگ ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں ہر جوڑا داخل ہوجاتا ہے یعنی قبیح، حسین، لمبا اور چھوٹا تاکہ احوال مختلف ہوجائیں تو اعتبار واقع ہوسکے فضیلت والا شکر بجالائے اور جس پر فضیلت حاصل کی گئی وہ صبر کرے۔
Ayah 78:9

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور نیند کو تمہارے لئے (موجب) آرام بنایا

وجعلنا نومکم سباتا۔ جعلنا، یہ صیرنا کے معنی میں ہے اس وجہ سے یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے سباتا، یہ دوسرا مفعول ہے یعنی ہم نے نیند کو تمہارے بدنوں کی راحت بنادیا ہے اسی سے یوم السبت ہے جس کا معنی آرام کا دن ہے یعنی بنی اسرائیل کو کہا گیا اس روز آرام کرو اس میں کوئی کام نہ کرو، ابن انباری نے اس کا انکار کیا اور کہا، راحت کو سبات نہیں کہا جاتا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا اصل معنی لمبا ہوتا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے، سبتت المراۃ شعرھا جب عورت اپنے بالوں کو لمبا کرے۔ السبات لمبا کرنا ہے، رجل مسبوت الخلق، لمباآدمی، جب کوئی آدمی آرام کا ارادہ کرتا ہے تو وہ لمبا ہوجاتا ہے تو آرام کو سبت کہہ دیتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا اصل معنی کاٹنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، سبت شعرہ سبتا۔ اس نے اپنے بالوں کا حلق کرایا گویا جب وہ سوجاتا ہے تو وہ لوگوں اور مصروفیات سے الگ تھلگ ہوجاتا ہے، سبات موت کے مشابہ ہے مگر اس میں روح جسم سے الگ نہیں ہوتی اسی طرح یہ لفظ بولا جاتا ہے، سیر سبت یعنی چال نرم ہے، شاعر نے کہا، ومطویۃ الاقراب اما نھارھا، فسبت واما لیلھا فزمیل۔ لپٹے ہوئے پہلووں والا جہاں تک اس کے دن کا تعلق ہے اس کی چال تیز ہوتی ہے جہاں تک اس کی رات کا تعلق ہے تو اس کی چال نرم ہوتی ہے۔
Ayahs 78:10–11

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو پردہ مقرر کیا

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو معاش (کا وقت) قرار دیا

وجعلنااللیل لباسا۔ وجعلناالنھار معاشا۔ ہم نے رات کو یوں بنایا کہ رات کی تاریکی تمہیں ڈھانپ لیتی ہے یہ طبری نے کہا ہے، ابن جبیر اور سدی نے کہا، اسے تمہارے لیے سکون کا باعث بنادیا اور دوسرے جملے میں اضمار ہے اصل میں وقت معاش تھا رزق کی تلاش میں آنے جانے کا وقت۔ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ساتھ زندگی گزاری جاتی ہے، جیسے کھانے پینے اور دوسرے امور کی چیزیں اس اعتبار سے معاشا اسم زمان ہوگا، یہ بھی جائز ہے کہ وہ مصدر ہو اور عیش کے معنی میں ہو اور مضاف مقدر ہو۔
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے

وبنینا فوقکم سبعا شدادا۔ یعنی سات مضبوط آسمان، ان کی خلقت اور مضبوط اور عمارتیں بڑی پختہ ہیں۔
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور (آفتاب کا) روشن چراغ بنایا

وجعلنا سراجا وھاجا۔ وھاج کا معنی روشن ہے جعل فعل یہاں پیدا کرنے کے معنی میں ہے کیونکہ یہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہے وھاج، اسے کہتے ہیں جس میں وھج (روشنی) پائی جائے اس کا باب یوں چلایا جاتا ہے، وھج، یھج وھجا ووھجا ووھجانا، جوہر جب چمک رہا ہو تو اسے توھج کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وھاجا یعنی روشن چمکنے والا۔
Ayah 78:14

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور نچڑتے بادلوں سے موسلا دھار مینہ برسایا

وانزلنا من المعصرات ماء ثجاجا۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا، معصرات سے مراد ہوائیں ہیں یہ حضرت ابن عباس کی رائے ہے گویا وہ بادلوں کو نچوڑتی ہیں حضرت ابن عباس نے یہ بھی کہا، اس سے مراد بادل ہیں سفیان، ربیع، ابوالعالیہ اور ضحاک نے کہا، اس سے مراد وہ بادل ہیں جو پانی کی صورت میں نچڑتے ہیں ابھی تک انہوں نے بارش نہیں برسائی ہوتی جس طرح امراہ معصرۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کے وقت قریب ہو اور ابھی اسے حیض نہ آئے، ابوالنجم نے کہا ،۔ تمشی الھوینی مائلا خمارھا، قد اعصرت او قد دنا اعصارھا۔ وہ نرمی سے چلتی ہے جبکہ اس کی اوڑھنی ایک طرف جھکی ہوتی ہے اسے حیض آچکا ہے یاحیض آنے کا وقت قریب ہے۔ ہواؤں کو معصرات کہتے ہیں باب یوں چلایا جاتا ہے، اعصرت الری، تعصراعصارا، جب وہ غبار اڑائے، یہی اعصار ہے بادلوں کو معصرات کہتے ہیں کیونکہ وہ بارش برساتے ہیں قتادہ نے کہا، المعصرات سے مراد آسمان ہے، نحاس نے کہا، یہ صحیح اقوال ہیں وہ ہوائیں جو بارش کو لائیں انہیں معصرات کہتے ہیں وہ ہوائیں جو بادلوں سے ملتی ہیں اور بارش ہوتی ہے انہیں معصرات کہتے ہیں بارش ہوا سے اسی طرح نازل ہوتی ہے یہ بھی جائز ہے کہ تمام اقوال کا مفہوم ایک ہی ہو، معنی یہ ہے ہم نے ہواؤں سے تیز بہتا ہوا پانی نازل کیا، صحیح ترین قول یہ ہے کہ معصرات سے مراد بادل ہے معروف بھی یہی ہے کہ بارش بادلوں سے ہوتی ہے اگر الفاظ بالمعصرات ہوتے تو معنی ہوا کرنا بہتر ہوتا، صحاح میں ہے، معصرات سے مراد بادل ہیں جن کو بارش کے ساتھ نچوڑا جاتا ہے، اعصر القوم ان پر بارش ہوئی اسی وجہ سے بعض نے یہ قرات کی وفیہ یعصرون۔ المعصر سے مراد وہ بچی ہے جسے پہلی دفعہ حیض آئے یہ جملہ بولا جاتا ہے، قداعصر گویا وہ جوانی کی عمر میں داخل ہوگئی، راجز نے کہا، جاریۃ بسفوان دارھا، تمشی الھوینی ساقطا خمارھا، قد اعصرت اوقددنا اعصارھا۔ نوجوان بچی جس کا گھر سفوان کے مقام پر ہے وہ آہستہ آہستہ چلتی ہے جب کہ اس کی اوڑھنی گری ہوئی ہے اسے حیض آچکا ہے یا اس کے حیض کے آنے کا وقت قریب ہوچکا ہے۔ اس کی جمع معاصر آتی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، وہ حیض کے قریب ہیں کیونکہ بچی میں اعصار کی حیثیت وہی ہے جس طرح مراھق، (قریب البلوغ) بچے کی ہوتی ہے۔ میں نے ابوغوث اعرابی سے یہ بات سنی، دوسرے علماء نے کہا، معصر سے مراد وہ بادل ہیں جو بارش برسانے کے وقت کو پہنچ چکا ہو، یہ جملہ بولا جاتا ہے، اجن الزرع فھو مجن، یعنی کسی کو چھپانے کے قابل ہوگئی اسی طرح بادل جب بارش برسانے والا ہوجائے تو اسے کہتے ہیں، اعصر، مبرد نے کہا، سحاب، معصر پانی کو روکنے والا یعنی اس سے تھوڑی تھوڑی چیز نچوڑی جاتی ہے اسی سے عصر ہے اس پناہ گاہ کو کہتے ہیں جس کی پناہ لی جاتی ہے۔ عصرہ جب اسے ضمہ کے ساتھ پڑھا جائے تو اسے بھی پناہ گاہ کہتے ہیں سورة یوسف میں یہی بحث پہلے گزرچکی ہے اسی سے معصر کا لفظ ہے جو اس بچی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو بلوغ کی عمر کو پہنچے کیونکہ اسے گھر میں محبوس کردیا جاتا ہے تو گھر کو عصر کہتے ہیں حضرت ابن عبار اور عکرمہ کی قرات میں بالمعصرات ہے۔ مصاحف میں من المعصرات ہے۔ حضرت ابی بن کعب، حسن بصری، ابن جبیر، زید بن اسلم اور مقاتل بن حیان نے کہا، من المعصرات یعنی آسمانوں سے۔ ماء ثجاجا جو پے درپے بہے، حضرت ابن عباس مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، ثججت دمہ فانااثجہ ثجا۔ میں نے اس کے خون کو بہایا، قد ثج الدم یثج ثجوجا۔ خون بہا، اسی طرح پانی ہے یہ فعل لازم بھی استعمال ہوتا ہے اور متعدی بھی استعمال ہوتا ہے، آیت میں ثجاج سے مراد بہنا ہے، زجاج نے کہا، اس کا معنی صباب ہے بہت زیادہ بہانے والایہ متعدی ہے گویا وہ اپنے نفس کو بہاتا ہے عبید بن ابرض نے کہا : فثج اعلاہ ثم ارتج اسفلہ۔ اس کے اوپروالے حصہ کو بہایا پھر اس کے نیچے والاحصہ میں اضطراب پیدا ہوا۔ حدیث نبوی میں ہے کہ نبی کریم سے حج مبرور کے بارے میں سوال کیا گیا فرمایا، العج والثج۔ عج کا معنی تلبیہ کے ساتھ آواز کو بلند کرنا اور ثج کا معنی خون بہانا اور قربانیوں کو ذبح کرنا۔ ابن زید نے کہا، ثجاجا کثیرا معنی ایک ہی ہے۔
Ayahs 78:15–16

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے گھنے باغ

لنخرج بہ حبا ونباتا۔ وجنت الفافا۔ بہ کی ضمیر سے مراد پانی ہے۔ حبا سے مراد گندم ہے جو اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ہیں نباتا سے مراد وہ گھاس ہے جسے حیوانات کھاتے ہیں جنت سے مراد باغات ہیں الفافا سے مراد ایک دوسرے کے ساتھ لپٹی ہوئی تاکہ ان کی شاخیں ادھر ادھر پھیلیں اس کی کوئی واحد نہیں جس طرح اوزاع، اضیاف۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کی وحد لف یالف ہے کسائی نے یہی ذکر کیا ہے کہا، جنۃ لف وعیش مغدق۔ گھناباغ اور خوش حال زندگی۔ ان سے اور ابوعبید سے یہ مروی ہے، یہ لفیف کی جمع ہے جس طرح شریف کی جمع اشراف آتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جمع کی جمع ہے، کسائی نے یہ حکایت بیان کی ہے، یہ ترکیب ذکر کی جاتی ہے، جنۃ لفاء، نبت لف اس کی جمع لف آتی ہے جس طرح حمراء کی جمع حمر آتی ہے پھر لف کی جمع الفاف آتی ہے، زمخشری نے کہا، اگر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ملتفۃ کی جمع ہے اس میں حروف زائدہ کو حذف کردیا گیا تو یہ زیادہ پریشان ہوتا ہے۔ یہ لفظ بولا جاتا ہے، شجرۃ لفائ، شجر لف، اور امراءۃ لفاء اس عورت کو کہتے ہیں جس کی پنڈلی موٹی اور بھرے گوشت والی ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے تقدیر کلام یوں ہے نخرج بہ جنات الفافا کلام کیونکہ اس پر دلالت کرتا ہے اس لیے اسے حذف کردیا گیا۔ اس التفات اور انضمام کا معنی ہے کہ باغوں میں درخت قریب قریب ہیں اور ہر درخت کی ٹہنیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔
Ayah 78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے

ان یوم الفصل کان۔۔۔ تا۔۔۔ سرابا۔ ان یوم الفصل کان میقاتا۔ میقات کا معنی وقت جمع ہونے کی جگہ اور اولین وآخرین کے وعدہ کی جگہ ہے۔
Ayah 78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ غٹ کے غٹ آموجود ہو گے

یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ دوبارہ اٹھانے کے لیے جس وقت صور پھونکا جائے گا تو تم پیشی کی جگہ جماعت درجماعت آؤ گے، ہر امت اپنے امام کے ساتھ آئے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، افواج کا معنی جماعتیں ہیں اس کا واحد فوج ہے۔ یوم کا لفظ پہلے یوم سے بدل کے طور پر منصوب ہے، حضرت معاذ بن جبل کی حدیث سے مروی ہے کہ میں نے عرض کی، یارسول اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا۔ کے بارے میں بتائیے تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا اے معاذ، تو نے عظیم چیز کے بارے میں سوال کیا ہے پھر آپ کی آنکھوں سے چھم چھم آنسو برسنے لگے پھر فرمایا میری امت میں سے دس جماعتیں الگ کی جائیں گی اللہ تعالیٰ انہیں مسلمانوں کی جماعت سے ممتاز کردے گا اس کی صورتوں کو بدل دے گا ان میں سے کچھ بندروں کی صورت میں ہوں گے، بعض خنزیروں کی صورت میں ہوں گے، بعض اوندھے منہ ہوں گے، ان کی ٹانگیں اوپر کی طرف ہوں گی اور انہیں چہرے کے بل گھسیٹا جارہا ہوگا، بعض اندھے ہوں گے وہ ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے ہوں گے ان میں سے بعض بہرے گونگے ہوں گے وہ کوئی سمجھ بوجھ نہ رکھیں گے بعض اپنی زبانیں چبا رہے ہوں گے وہ ان کے سینوں پر لٹک رہی ہوں گی ان کے مونہوں سے پیپ لعاب کے طور پر بہہ رہی ہوگی، محشر میں موجود تمام افراد ان سے نفرت کریں گے، بعض کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوں گے بعض کو آگ کی سولیوں پر لٹکایا گیا ہوگا بعض مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہوں گے بعض ایسے جبے پہنائے جائیں گے جن سے تارکول بہہ رہی ہوگی جو جیسے ان کے جسموں سے چمٹ ہوئے ہوں گے۔ رہے وہ شخص جو بندروں کی صورت میں ہوں گے وہ لوگوں میں سے چغل خور ہوں گے۔ جو خنزیر کی صورت پر ہوں گے جو ناجائز کمائی، حرام چیز اور محصول کھائیں گے، جن کے سراوندھے ہوں وہ سود خور ہیں، اندھے وہ ہوں گے جو حکم میں ظلم کرتے ہیں، صم اور بکم وہ لوگ ہوں گے جو اپنے اعمال پر عجب کا اظہار کرتے ہیں، جو اپنی زبانیں چبا رہے ہوں گے وہ علماء اور قصہ گو ہیں جن کے قول عمل کے خلاف ہوں گے جن کے ہاتھ پاؤں کتے ہوں گے وہ لوگ ہوں گے جو اپنے پڑوسیوں کو اذیت دیتے ہیں جن کو آگ کی سولیوں پر لٹکایا جائے گا وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو حاکموں کے پاس لے جاتے ہیں، جو مردار سے زیادہ بدبودار ہوں گے وہ لوگ ہیں جو شہوات اور لذات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اپنے اموال میں سے اللہ کے حق کو روکتے ہیں، جوج بےپہنیں گے وہ متکبر اور فخر کرنے والے ہوں گے۔
Ayah 78:19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے ہوجائیں گے

وفتحت السماء فکانت ابوابا۔ فرشتوں کے نازل ہونے کے لیے آسمان کو کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے دروازے ہوجائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزیلا۔ الفرقان) جس روز آسمان بادل کی صورت میں پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ٹکڑے ہوجائے گا وہ دروازوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اس تاویل کی بنا پر ابواب کو نصب کاف حرف جار کے حذف کی وجہ سے ہوگی، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تقدیر کلام یہ ہوگی فکانت ذات ابواب۔ کیونکہ وہ سارے کے سارے دروازے ہوجائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے ابواب اس کے راستے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے اجزاء الگ الگ ہوجائیں گے اور اس کے ٹکڑے گرجائیں گے یہاں تک کہ اس میں دروازے دروازے ہوجائیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے ہر بندہ کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک اس کے عمل کا دروازہ اور اس کے رزق کا دروازہ۔ جب قیامت قائم ہوگی تو دروازے کھل جائیں گے اسراء کی حدیث میں ہے۔ پھر مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا توجبرائیل امین نے دروازہ کھلوانا چاہاتوان سے کہا گیا تو کون ہے ؟ حضرت جبرائیل امین نے کہا، جبرائیل پوچھا گیا تیرے ساتھ کون ہے ؟ جواب دیا حضرت محمد ﷺ ۔ پوچھا گیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا ؟ حضرت جبرائیل امین نے جواب دیا انہیں پیغام بھیجا گیا تھا تو اس دروازے کو ہمارے لیے کھول دیا گیا۔
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے

و سیرت الجبال فکانت سرابا۔ یعنی پہاڑ کوئی چیز نہ ہوں گے جس طرح سراب ہوا کرتا ہے دیکھنے والا اسے پانی گمان کرتا ہے جب کہ وہ پانی نہیں ہوتا ایک قول یہ کیا گیا ہے، سیرت کا معنی ہے انہیں ان کی جڑوں سے اکھیڑ دیا گیا ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں اپنی جگہ سے زائل کردیا گیا۔
Ayah 78:21

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

بیشک دوزخ گھات میں ہے

ان جہنم کا نت مرصادا۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ الا عذابا۔ ان جہنم کا نت مرصادا۔ مرصادا، رصد سے فعال کا وزن ہے رصد ہراس چیز کو کہتے ہیں جو تیرے سامنے ہو، حضرت حسن بصری نے کہا، جہنم پر داروغے ہیں کوئی آدمی جنت میں داخل نہیں ہوتا مگر اس کے پاس سے گزرتا ہے جو آدمی راہداری لے کر آتا ہے وہ آگے گزرجاتا ہے اور جو راہداری لے کر نہیں آتا اسے روک لیا جاتا ہے۔ حضرت سفیان سے مروی ہے کہ جہنم پر تین پل ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے، مرصادا اسم منسوب ہے یعنی جہنم اس کو تاڑنے والی ہوتی ہے جو بھی اس کے پاس سے گزرتا ہے مقاتل نے کہا، اس کا معنی ہے قید خانہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے راستہ، گزرگاہ، جہنم تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں مگر یہ کہ جہنم کے اوپر سے گزراجائے۔ صحاح میں ہے : مرصادا کا معنی ہے راستہ، قشیری نے ذکر کیا ہے مرصادا سے مراد وہ جگہ ہے جس میں کوئی فرد دشمن کی تاڑ میں ہوتا ہے جس طرح مضار یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں گھوڑوں کو ضامر بنایا جاتا ہے، یعنی جہنمیوں کے لیے تیار کی گئی ہے پس مرصادا محل کے معنی میں ہے، فرشتے جہنمیوں کی تاڑ میں ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ جہنم میں جاگرتے ہیں۔ مادردمی نے ابوسنان سے روایت نقل کی ہے کہ مرصادا، راصدہ کے معنی میں ہے وہ انہیں ان کے افعال کے بدلے جزا دے گا، صحاح میں ہے، الراصد الشئی، اس کو تاڑنے والا اس کا باب یوں چلتا ہے، رصدہ یرصدہ رصدا ورصدا۔ ترصد کا معنی بھی تاڑنا ہے، مرصد تاڑنے کی جگہ ہے، اصمعی نے کہا، رصدتہ، ارصدہ کا معنی ہے میں نے اسے تاڑا۔ میں اسے تاڑتا ہوں ارصدتہ میں نے اسے تیار کیا، کسائی نے اس کی مثل کہا ہے۔ میں کہتا ہوں جہنم تیار کی گئی ہے وہ تاڑ میں ہے، مترصد، رصد سے متفعل کے وزن پر اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے تاڑنا۔ یعنی جو بھی آتا ہے اس پر جھانکنے والا، مرصاد مفعول کا وزن ہے جو مبالغہ کے انداز میں سے ہے جس طرح معطار، مغیار، گویا جہنم کفار کا بہت زیادہ انتظار کرنے والی ہے۔
Ayah 78:22

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

یعنی سرکشوں کا وہی ٹھکانا ہے

للطاغین مابا۔ یہ مرصادا سے بدل ہے ماب سے مراد لوٹنے کی جگہ ہے یہ لوٹنے کی جگہ ہے جس کی طرف لوگ لوت کر آتے ہیں جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، اب یئوب اوبۃ، جس کا معنی ہے لوٹنا۔ قتادہ نے کہا اس کا معنی ہے پناہ گاہ اور ٹھکانہ۔ طاغین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کرکے اپنے دین میں سرکشی کی یا دنیا میں ظلم اختیار کرکے سرکشی اختیار کی۔
Ayah 78:23

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

لبثین فیھا احقابا۔ جب تک احقاب رہیں گے وہ آگ میں ہی رہیں گے اور احقاب ختم نہ ہوں گے جب ایک حقب ختم ہوگا تو دوسرا شروع ہوجائے گا حقب سے مراد زمانہ ہے اور احقاب سے مراد کئی زمانے ہیں، حقب کا معنی سال ہے اس کی جمع حقب آتی ہے۔ متمم بن نویرہ تمیمی نے کہا، کنا کندمانی جدیمہ حقبۃ، من الدھر حتی قیل لن یتصدعا، فلما تفرقنا کانی ومالکا، لطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا۔ ہم دونوں ایک زمانہ جذیمہ کے دو ساتھیوں کی طرح رہے یہاں تک کہ یہ کہا گیا وہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے جب ہم جدا ہوئے گویا میں اور مالک طویل اجتماع کی وجہ سے ایک رات بھی اکٹھے نہ رہے۔ حقب قاف کے ضمہ اور سکون کے ساتھ اسی سال کا عرصہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے کم یاس سے زیادہ جیسا کہ بعد میں آئے گا اس کی جمع احقاب ہے آیت میں اس کا معنی ہے وہ جہنم میں آخرت کے حقب ہیں گے جن کی کوئی انتہا نہیں آخرت کا لفظ حذف کردیا گیا ہے کیونکہ سیاق کلام اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کلام میں آخرت کا ذکر ہے، یہ کلام اس طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے، ایام الاخرہ، یعنی ایام کے بعد ایام جن کی کوئی انتہا نہیں یہ کلام تعین پر تب دلالت کرتی اگر یہ کہا جاتا ہے، پانچ احقاب یادس احقاب وغیرہ۔ اعقاب کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک حقب لمبی مدت تھی، اس کے ساتھ اس لیے گفتگو کی گئی جس کی طرف ان کے اوہام جاسکتے تھے اور لوگ اسے پہنچانتے تھے یہ ہمیشگی سے کنایہ ہے یعنی وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ایام کی بجائے احقاب کا ذکر کیا، کیونکہ احقاب دلوں میں زیادہ ہولناکی پیدا کرتا ہے، اور ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے معنی قریب قریب ہے یہ ہمیشگی کا حکم مشرکین کے حق میں ہے آیت کو ان نافرمانوں پر بھی محمول کرنا ممکن ہے جو طویل زمانہ کے بعد جہنم سے نکلی گے ایک قول یہ کیا گیا ہے، احقاب سے مراد وہ وقت ہے جس میں وہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ پئیں گے جب وہ غصہ ختم ہوجائے گا تو ان کے لیے ایک اور عذاب ہوگا اس لیے یہ ارشاد فرمایا، لبثین فیھا احقابا، لایذوقون فیھا بردا ولاشرابا، الاحمیما وغساقا۔ لبثین، یہ لبث سے اسم فاعل ہے اس کی تائید یہ قول بھی کرتا ہے کہ اس کا مصدر بعثت ہے جس طرح شراب، حمزہ اور کسائی نے لبثین الف کے بغیر پڑھا ہے یہ قرات ابوحاتم اور ابوعبید کی ہے، یہ بھی دونوں لغتیں ہیں جس طرح یہ کہا جاتا ہے رجل لابث، لبث اس طرح، طمع، طامع، اور فرہ، فارہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، ھولبث بمکان کذا۔ یعنی ٹھہرنا اس کا عمل رہا، اسے تشبیہ دی گئی ہے اس چیز کے ساتھ جس کی انسان میں خلقت ہوتی ہے جس طرح حذر، فرق کیونکہ فعل کا باب عموما اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جن کی کسی شی میں خلقت ہو اسم فاعل میں یہ چیز نہیں ہوتی۔ حقب سے مراد اسی سال ہے یہ ابن عمر، ابن محیصن اور حضرت ابوہریرہ کا نقطہ نظر ہے، سال تین سوساٹھ دن کا ایک دن دنیا کے دنوں کے لحاظ سے ایک ہزار کا ہوگا، یہ حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے حضرت ابن عمر سے یہی مرفوع روایت ہے، حضرت ابوہریرہ نے کہا، سال تین سوساٹھ دن کا ہوگا اور ہر دن دنیا کے دنوں جیسا ہوگا، حضرت ابن عمر نے کہا، حقب سے مراد چالیس سال ہیں سدی نے کہا، ستر سال، ایک قول یہ کیا گیا ہے ایک ہزار ماہ، ابوامامہ نے سے مرفوع نقل کیا ہے بشیر بن کعب نے کہا، تین سوسال، حضرت حسن بصری نے کہا، احقاب کتنے ہیں تم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا لیکن انہوں نے ذکر کیا کہ اس سے مراد سو حقب ہیں ایک ایک حقب ستر ہزار سال ہیں ان میں سے ایک دن ان کا ایک ہزار سال کی طرح ہے، جس کو تم شمار کرتے ہو ابوامامہ نے نبی کریم سے روایت نقل کی ہے، ایک حقب تیس ہزار سال کا ہے یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے پہلاقول ماوردی کا ہے قطرب نے کہا، اس سے مرادطویل غیر محدود زمانہ ہے، حضرت عمر بن خطاب نے کہا، نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اللہ کی قسم جو جہنم میں داخل ہوگا وہ جہنم میں سے نہیں نکلے گا یہاں تک کہ وہ اس میں کئی زمانہ رہے گا، حقب سے مراد اسی سے زیادہ سال ہیں، سال تین سوساٹھ دن کا ہے اور اس کا ہر دن ان ہزاروں سالوں کی طرح ہے جسے تم شمار کرتے ہوتوتم میں سے کسی کو بھی اس بات پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ جہنم سے نکلے گا یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے قرظی نے کہا، احقاب سے مراد تنتالیس حقب ہیں، ہر حقب ستر خریف کا ہے، اور ہر خریف سات سو سال کے برابر ہے ہر سال تین سوساٹھ دنوں کے برابر ہوتا ہے اور ہر دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں، یہ اقوال آپس میں متعارض ہیں آیت میں ہمیشگی کا ذکر ہے جو ایسی خبر کی محتاج ہے جو عذر کو ختم کردے نبی کریم سے ایسی کوئی چیز ثابت نہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے معنی وہی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیا یعنی وہ اس میں کئی زمانے رہیں گے جب بھی ایک زمناہ گزرے گا اس کے پیچھے ایک اور زمانہ آجائے گا ایک دہر گزرے گا تو دوسرا اس کے پیچھے آجائے گا یہ سلسلہ اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔ ابن کیسان نے کہا : لبثین فیھا احقابا۔ کا معنی ہے جس کی کوئی انتہا نہیں گویا ابدا کا لفظ استعمال کیا ہے، ابن زید اور مقاتل نے کہا، یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان، فذوقوا فلن نزیدکم الا عذابا۔ النبا) چکھو ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کریں گے یعنی عدد ختم ہوچکا اور خلود حاصل ہوگیا ہے۔ میں کہتا ہوں، یہ تعبیر بعید ہے کیونکہ وہ خبر ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ولایدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط۔ الاعراف 40) وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ن کے میں داخل نہ ہوجائے جس طرح پہلے گزرا ہے یہ کفار کے حق میں ہے جہاں تک نافرمان موحدوں کا معاملہ ہے تو یہ صحیح ہے تونسخ، تخصیص کے معنی میں ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 78:24

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

وہاں نہ ٹھنڈک کا مزا چکھیں گے نہ (کچھ) پینا (نصیب) ہوگا

لایذوقون فیھا برداولاشرابا۔ میں ھا ضمیر جہنم کے لیے ہوگی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، احقاب کا واحد حقب اور حقبہ ہے، کمیت نے کہا، مزلھا بعد حقبۃ، حقب۔ اس کے لیے ایک حقبہ کے بعد کئی حقب گزر گئے۔ لایذوقون فیھا، ھاضمیر سے مراد احقاب ہے۔ برد سے مراد نیند ہے یہ ابوعبید اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے، شاعر نے کہا، ولوشئت حرمت النساء سواکم، ون شئت لم اطعم نقاخا ولابردا۔ اگر میں چاہتا تو میں تم پر عورتوں کو حرام کردیتا اور اگر میں چاہتا تو میں نہ ٹھنڈا پانی چکھتا اور نہ نیند کرتا۔ یہی معنی مجاہد سدی، کسائی فضل بن خالد اور ابومعاذ نحوی نے کیا ہے، عرب کہتے ہیں، منع البرد البرد۔ ٹھنڈک نے نیند کو دور کردیا۔ میں کہتا ہوں حدیث طیبہ میں ہے رسول اللہ سے عرض کی گئی کیا جنت میں نیند ہوگی فرمایا نہیں نید موت کا بھائی ہے اور جنت میں کوئی موت نہیں، اسی طرح جہنم ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، لایقضی علیھم فیموتوا۔ فاطر 36) حضرت ابن عباس نے کہا، بردا کا معنی مشروب کی ٹھنڈک ہے انہیں سے یہ بھی مروی ہے، بردا کا معنی نیند ہے اور شراب کا معنی پانی ہے، زجاج نے کہا، اس میں وہ ہوا، سایہ اور نیند کی ٹھنڈک نہیں پائیں گے، پس بردا اس شی کی ٹھنڈک کو قرار دیا جس میں راحت ہوتی ہے یہ ٹھنڈک انہیں نفع دے گی جہاں تک زمھریرا کا تعلق ہے، اس سے وہ اذیت حاصل کریں گے وہ انہیں نفع نہ دے گی ان کے لیے اس میں عذاب ہوگا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اسے زیادہ نہیں جانتا۔ حضرت حسن بصری، عطا اور ابن زید نے کہا، بردا سے مراد سکون و راحت ہے، شاعر نے کہا، فلا الظل من برد الضحی تستطیعہ، لا الفی اوقات العشی تذوق۔ تو چاشت کی ٹھنڈک کے سایہ کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ بعد دوپہر کے اوقات کے سایہ کو چکھتا ہے۔ یہ جملہ الطاغین سے حال بن رہا ہے یا یہ احقاب کی صفت ہے، احقاب ظرف زمان ہے اس میں عامل لبثین یالبثین ہے جبکہ فعل کا متعدی مانا جائے۔
Ayah 78:25

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

مگر گرم پانی اور بہتی پیپ

الا حمیما وغساقا۔ جس نے بردا کا معنی نیند لیا ہے اس کے نزدیک یہ مستثنی منقطع ہے جس نے اس کا معنی ٹھنڈک لیا ہے اس نے اسے بدل قرار دیا ہے حمیم سے مراد گرام پانی ہے یہ ابوعبیدہ کا نقطہ نظر ہے ابن زید نے کہا، حمیما سے مراد ان کی آنکھوں کے آنسو ہیں جن کو حوضوں میں جمع کیا جائے گا پھر وہ انہیں پلائے جائیں گے، نحاس نے کہا، حمیما کی اصل گرم پانی ہے اسی سے حمام ہے اسی سے حمی، بخار) ہے اس معنی میں ظل من یحموم ہے اس سے مراد انتہائی گرم ہے، غساق سے مراد جہنمیوں کی پیپ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد زمھریر ہے حمزہ اور کسائی نے سین کو مشدد پڑھا ہے۔ سورة ص) میں اس کے متعلق گفتگو گزرچکی ہے۔
Ayah 78:26

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

(یہ) بدلا ہے پورا پورا

جزاء وفاقا۔ ایسی جزا جوان کے اعمال کے موافق ہو، حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، وفاق، موافقت کے معنی میں ہے جس طرح قتال، مقاتلہ کے معنی میں ہے، جزاء مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی ہم نے انہیں ایسی جزا دی جوان کے اعمال کے موافق تھی یہ فراء اور اخفش نے بات کہی، فراء نے یہ بھی کہا، یہ وفق کی جمع ہے وفق اور لفق دونوں کا معنی ایک ہی ہے، مقاتل نے کہا، عذاب دنیا کے موافق ہوگا، شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں اور جہنم سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں، حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے کہا، ان کے اعمال برے تھے اللہ تعالیٰ انہیں وہ کچھ دے گا جو ان کے لیے تکلیف دہ ہوگا۔
Ayah 78:27

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

انھم کانوا لایرجون حسابا۔ وہ اپنے اعمال کے محاسبہ پر کوئی خوف زدہ نہ ہوتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ حساب کے ثواب کی امید نہیں رکھتے تھے، زجاج نے کہا، وہ دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے کہ وہ حساب کی امید رکھتے۔
Ayah 78:28

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے

وکذبوا بایتنا کذابا۔ آیات سے مراد وہ ہے جو انبیاء لائے ایک قول یہ کیا گیا ہے جو ہم نے کتابیں نازل کیں ان کو جھٹلاتے تھے عام قراء کی قرات کذابا ہے یعنی ذال مشدد اور کاف کے نیچے کسرہ ہے یعنی بہت شدید جھٹلایا۔ فراء نے کہا، یہ یمنی لغت ہے وہ یوں کہتے ہیں، کذبت بہ کذابا، خرقت القمیص خراقا۔ ہر وہ فعل جو فعل کے وزن پر ہو اس کا مصدر فعال کے وزن پر ہوتا ہے یہی ان کی لغت ہے۔ حضرت علی شیر خدا نے کذابا تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، یہ بھی مصدر ہے، ابوعلی نے کہا، تخفیف اور تشدید دونوں طرح ہے اس کا مصدر مکاذبہ ہے جس طرح اعشی کا قول ہے، فصدق تھا وکذب تھا والمرء ینفعہ کذابہ۔ میں نے نفس سے سچ بولا اور اس سے جھوٹ بھی بولاانسان کو اس کا جھوٹ ہی نفع دیتا ہے۔ ابوالفتح نے کہا، کذب اور کذب دونوں کا یہ مصدر ہے زمخشری نے کہا، کذابا جب ذال کی تخفیف کے ساتھ ہوتویہ کذب کا مصدر ہوگا جس طرح مذکورہ شعر میں ہے یہ اس قول کی طرح ہے، انبتکم من الارض نباتا، یعنی انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انہوں نے جھوٹ بولا یاکذبوا فعل بذات خود اس کو نصب دیتا ہے کیونکہ کذابا، کذبوا کے معنی کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے کیونکہ ہر حق کی تکذیب کرنے والاجھوٹا ہوتا ہے کیونکہ جب وہ مسلمانوں کے نزدیک جھوٹے تھے تو مسلمان بھی ان کے نزدیک جھوٹے تھے تو اس طرح ان کے نزدیک مکاذبہ ہوا کرتا تھا، حضرت ابن عمر نے اسے کذابا پڑھا جو کاذب کی جمع ہے، یہ ابوحاتم کا قول ہے اور وہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یہ زمخشری کا قول ہے، بعض اوقات کذاب سے مراد ایسا شخص ہے جو جھوٹ میں مبالغہ کا کام دے کہا جاتا ہے، رجل کذاب، جس طرح تو کہتا ہے، حسان بخال وہ اسے کذبوا کے مصدر کی صفت بناتے ہیں تقدیر کلام یوں ہوگی تکذیبا کذابا مفرطا کذبہ، صحاح میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وکذبوا بایتنا کذابا۔ یہ مشدد کے مصدر میں سے ایک ہے کیونکہ باب تفعیل کا مصدر کبھی تفعیل جیسے تکلیم، کبھی فعال جیسے کذاب، کبھی تفعلۃ جیسے توصیۃ اور کبھی مفعل کے وزن پر آتا ہے جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے، ومزقنھم کل ممزق۔ السبا 19)
Ayah 78:29

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کر رکھا ہے

وکل شئی احصینہ کتبا۔ لفظ کل کو نصب فعل مضمر دے رہا ہے جس پر احصینہ دلالت کرتا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی واحصینا کل شئی احصیناہ، ابوسمال نے اسے مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے، کتبا مفعول مطلق کی حیثیت سے منصؤب ہے کیونکہ احصینا کا معنی کتبنا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی کتبناہ کتابا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ علم کے معنی میں ہے کیونکہ جس چیز کو لکھا جاتا ہے وہ نسیان سے بہت ہی بعید ہوتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے اسے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے تاکہ ملائکہ اسے پہچان لیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جو بندوں کو اعمال لکھے جاتے ہیں تو یہ وہ کتابت ہے جوان فرشتوں کی طرف سے صادر ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں کے افعال کے بارے میں صادر ہوئی اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، وان علیکم لحفظین، کراما کاتبین۔ الانفطار) تم پر کراما کاتبین محافظ ہیں۔
Ayah 78:30

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

سو (اب) مزہ چکھو ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے

فذوقوا فلن نزیدکم الا عذابا۔ ابوبرزہ نے کہا، میں نے قرآن حکیم میں موجود سب سے سخت آیت کے بارے میں پوچھا فرمایا، تو آپ نے اس آیت کی تلاوت کی یعنی جب بھی ان کے چمڑے پک جائیں گے ہم ان کے چمڑے بدل دیں گے اور جب کبھی وہ ٹھنڈی ہوگی ہم اسے مزید بھڑکادیں گے۔
Ayah 78:31

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے

ان للمتقین۔۔ تا۔۔۔۔ حسابا۔ ان للمتقین مفازا، حدائق واعنابا۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کے امر کی مخالفت سے بچاتا ہے اس کی جزا کا ذکر کیا مفازا یہ کامیابی ہے اور نجات اور جہنمی جس میں داخل ہوچکے ہیں اس سے خلاصی کی جگہ ہے اسی وجہ سے جب پانی کم ہوجاتا ہے تو اسے فلاحا ومفازا کہتے ہیں یہ فال لیتے ہوئے کہ اس قحط سالی سے نجات نصیب ہو۔
Ayah 78:32

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

(یعنی) باغ اور انگور

حدائق واعنابا۔ یہ فوز کی تفسیر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ متقین کے لیے باغات ہیں، حدائق، حدیقہ کی جمع ہے یہ اس باغ کو کہتے ہیں جس کا احاطہ کیا گیا ہو، جس طرح کہا جاتا ہے، احدق بہ یعنی اس کا احاطہ کیا، اعنابا، عنب کی جمع ہے اس سے مراد انگور کی بیلیں ہیں۔
Ayah 78:33

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور ہم عمر نوجوان عورتیں

وکواعب اترابا۔ کو اعب کعب کی جمع ہے اس کا معنی ابھری ہوئی چیز ہے اس کا یوں باب چلایا جاتا ہے، کعبت الجاریہ، تکعب کعوبا، کعبت تکعب تکعیبا، اور نھدت تنھد نھودا۔ ضحاک نے کہا، ککواعب العذاری، دو شیزاؤں کے ابھرے ہوئے سینے، اس معنی میں قیس بن عاصم کا شعر ہے۔ وکم من حصان قد حوینا کریمہ، ومن کا عب لوتدر ما البوس معصر۔ کتنی ہی پاکدامن معزز عورتوں کو ہم نے جمع کیا اور کتنی ہی ابھرے ہوئے سینوں والی بلوغت کو عمر کو پہنچے والی بچیوں کو جمع کیا جو نہیں جانتی جنگ کیا ہوتی ہے۔ اترابا کا معنی ہے ہم عمر، اس کی وضاحت سورة واقعہ میں گزرچکی ہے اس کا واحد ترب ہے۔
Ayah 78:34

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور شراب کے چھلکتے ہوئے گلاس

وکاسا دھاقا۔ حضرت حسن بصری، قتادہ ابن زید اور حضرت ابن عباس نے اس کا معنی چھلکتا ہوابھرا ہواجام لیا ہے کہا جاتا ہے، ادھقت الک اس یعنی میں نے اس کو بھر دیا، کاس دھاق یعنی بھرا ہواجا۔ جس طرح شاعر نے کہا، من مائھا بکاسک الدھاق۔ اس کے پانی سے اپنے بھرے ہوئے جام سے۔ خداش بن زہیر نے کہا، فاترعنالہ کا سا دھاقا۔ ہم نے اس کے لیے چھلکتا ہوا جام بھرا۔ سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد اور حضرت ابن عباس نے کہا، اس کا معنی پے درپے ہے یعنی ان میں سے ایک دوسرے کے پیچھے ہوگا اسی سے ادھقت الحجارۃ ادھاقا یہ ایسی سختی ہوتی ہے جس سے پناہ لی جاتی ہے اس کا بعض بعض میں داخل ہوتا ہے، پس متتابع، متداخل کی طرح ہے۔ عکرمہ سے یہ بھی مروی ہے اور زید بن اسلم نے بھی یہی کہا ہے، اس کا معنی صاف ہے شاعر نے کہا : لانت الی الفواد احب قربا، من الصادی الی کاس دھاق۔ توقربت کے اعتبار سے دل کے لیے اس پیاسے سے بھی زیادہ محبوب ہے جو صاف جام سے محبت رکھتا ہے۔ یہ دھق کی جمع ہے، یہ دوایسی لکڑیاں ہوتی ہیں جن کے ساتھ پنڈلی کو جکڑا جاتا ہے، کاس سے مراد شراب ہے تقدیر کلام یہ ہے خمرا ذات دھاق، یعنی اسے نچوڑا گیا اور اسے صاف کیا گیا یہ قشیری کا قول ہے، صحاح میں ہے ادھقت الماء میں نے اسے تیزی سے انڈیلا، ابوعمرو نے کہا، دھق یہ عذاب کی ایک قسم ہے فارسی میں اسے شکنجہ کہتے ہیں، مبرد نے کہا، مدھوق سے مراد وہ شخص ہے جس کو ہر قسم کا عذاب دیا جائے جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہ ہو، ابن اعرابی نے کہا، دھقت الشئی میں نے اسے توڑ دیا میں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اسی سے دھدقتہ ہے شاعر نے کہا : ندھدق بضع اللحم للباع والندی۔ ہم بیچنے والے کے لیے اور سخاوت کے لیے گوشت کے ٹکڑے کرتے ہیں۔ دھبقتہ میم کی زیادتی کے ساتھ اس کی مثل معنی رکھتا ہے اصمعی نے کہا، دھقہ کا معنی کھانے کی نرمی، اس کی خوشبو اور رقت ہے، اسی طرح ہر نرم چیز کے لیے بھی یہ لفظ بولتے ہیں اس معنی میں حضرت عمر سے مروی ایک قول ہے، لوشئت ان یدھمق لی لفعتل ولکن اللہ اب قوما۔ اگر میں چاہتا کہ عمدہ عمدہ نرم کھانا میرے لیے تیار کیا جائے تو میں ایسا کرسکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم پر عیب لگایا ہے اور فرمایا، اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا، الاحقاف 20 ) ۔
Ayah 78:35

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)

لایسمعون فیھا لغوا ولاکذابا۔ ھاضمیر سے مراد جنت ہے لغو سے مراد باطل ہے اس سے مراد لغوکلام ہے اس معنی میں حدیث ہے جب تو نے جمعہ کے روز اپنے ساتھی سے کہا، خاموش ہوجاجب کہ امام خطبہ دے رہا ہوتوتونے باطل عمل کیا، اس کی وجہ یہ ہے جب وہ جام پئیں گے تو ان کی عقلیں متغیر نہ ہوں گی اور وہ باطل کلام نہ کریں گے جبکہ دنیاداروں کا معاملہ مختلف ہے نیز وہ ایک دوسرے کو نہیں جس میں وہ جھوٹ نہیں سنیں گے کسائی نے کذابا پڑھا ہے یہ کذبت کذابا ہے یعنی وہ جنت میں باہم جھوٹ نہ بولیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ونوں تکذب کے مصدر ہیں یہاں اسے غیر مشدد پڑھا کیا ہے کیونکہ یہ کسی ایسے فعل کے ساتھ مقید نہیں جس کا یہ مفعول مطلق بنے۔ اور وکذبوا بایتنا کذابا، انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا کیونکہ کذبوا فعل کذاب مصدر کو مقید کرتا ہے۔
Ayah 78:36

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہے انعام کثیر

جزاء من ربک عطاء حسابا۔ جزاء مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے گویا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز کا بدلہ دیا ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اسی طرح عطا ہے کیونکہ اعطاھم اور اجزاھم کا معنی ایک ہی ہے حسابا کا معنی کثیر ہے یہ قتادہ کا قول ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، احسبت فلانا یعنی میں نے اسے کثیر مال عطا کیا یہاں تک کہ اس نے کہا میرے لیے کافی ہے شاعر نے کہا، ونفقی ولید الحی ان کان جائعا، وتحسبہ۔۔۔۔۔۔ ہم قبیلہ کے بچے کو ترجیح دیتے ہیں اگر وہ بھوکا ہوا اور اگر وہ بھوکا نہ ہوتوہم اسے کثیر مال دیتے ہیں۔ قتبی نے کہا، ہم اس کا اصل معنی یہ دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی دوسرے کو اتنا دے یہاں تک کہ وہ کہے، یہ میرے لیے کافی ہے زجاج نے کہا، حسابا کا معنی ہے جوان کے لیے کافی ہو، یہی اخفش نے کہا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، احسبنی کذا یعنی میرے لیے کافی ہے کلبی نے کہا، ان کا حساب لیا اور انہیں ایک نیکی پر دس گنا عطا کیا، مجاہد نے کہا، انہوں نے جو عمل کیے اس کے مناسب انہیں عطا کیا حساب شمار کرنے کے معنی میں ہے یعنی انہیں اتنا عطا کیا جس قدر رب تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق اس کے لیے ثابت ہوا کیونکہ اس نے ایک نیکی پر دس گنا عطا کیا، ایک قوم کے لیے سات سوگنا کا وعدہ کیا اور ایک قوم کے لیے اس مقدار کا وعدہ کیا جس کو کوئی انتہا اور مقدار نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا، انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب۔ الزمر) صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجر دیا جائے گا ابوہاشم نے عطاء حسابا پڑھا ہے یہ فعال کا وزن ہے جس کا معنی کافی ہوجاتا ہے، اصمعی نے کہا، عرب کہتے ہیں، حسب الرجل یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو اس کی تعظیم بجالائے شاعر کا مصرعہ ہے : اذا اتاہ ضیفہ یحسبہ، جب اس کا مہمان اس کے پاس آتا ہے تو وہ اس کی تعظیم بجالاتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے اسے حسانا پڑھا ہے۔
Ayah 78:37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کا یارا نہ نہ ہوگا

رب السماوات والارض۔۔۔ تا۔۔۔ کنت ترابا۔ رب السماوات والارض ومابینھا الرحمن۔ حضرت ابن مسعود، نافع، ابوعمرو، ابن کثیر، اور زید نے یعقوب سے، مفضل نے عاصم سے لفظ رب پر رفع پڑھا ہے کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے الرحمن اس کی خبر ہے یا اس کا معنی ہے ھو رب السموات، یعنی وہ آسمانوں کا رب ہے لفظ الرحمن دوسرا مبتدا ہواگا، ابن عامر، یعقوب اور ابن محصین نے دونوں کو مجرور پڑھا ہے کیونکہ یہ جزاء من ربک کی صفت ہے یعنی تیرے رب کی جزاجو آسمانوں کا رب اور رحمن ہے، حضرت ابن عباس، عاصم، حمزہ اور کسائی نے رب السموات پڑھا ہے کیونکہ یہ صفت ہے، الرحمن یہ مرفوع ہے تقدیر کلام یوں ہے، ھوالرحمن۔ ابوعبید نے اسے اختیار کیا ہے کہا، یہ زیادہ مناسب ہے لفظ رب کے نیچے کسرہ ہے کیونکہ یہ من ربک کے قریب ہے تو یہ اس کی نعت ہوگا لفظ رحمن کو رفع دیں گے کیونکہ یہ اس سے دور ہے اور جملہ مستانفہ ہے۔ اور لایملکون منہ خطابا، اس کی خبر ہے یعنی وہ اس امر کے مالک نہیں ہوں گے کہ وہ اس کا سوال کریں مگر اس کے متعلق جس کی انہیں اجازت نہ دی جائے، کسائی نے کہا، اس کا معنی ہے وہ شفاعت کے بارے میں گفتگو کے مالک نہ ہوں مگر اسوقت جب انہیں اجازت دی جائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ خطاب کا معنی کلام کرنا ہے یعنی وہ مالک نہ ہوں گے کہ وہ اپنے رب سبحانہ تعالیٰ سے گفتگو کریں مگر اس کی اجازت کے ساتھ ہی گفتگو نہیں کرے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد کفار ہیں وہ گفتگو کے مالک نہ ہوں گے جہاں تک مومنوں کا تعلق ہے وہ شفاعت کریں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اجازت ملنے کے بعد وہ گفتگو کریں گے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ البقرہ 255) کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں شفاعت کرے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یومئذ لاتنفع الشفاعۃ الامن اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا۔ طہ) اس روز شفاعت نفع نہ دے گی مگر جس کے حق میں رحمن اجازت دے اور رحمن اس کے حق میں بات راضی ہو۔
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو (خدائے) رحمن اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو

یوم یقوم الروح والملائکۃ صفا۔ یوم ظرف کی حیثیت سے منصوب ہے معنی یہ ہوگا کہ وہ گفتگو کا اختیار نہیں رکھیں گے روح کے بارے میں آٹھ قول ہیں، یہ بھی فرشتوں میں سے ایک ہے حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ نے کوئی مخلوق تخلیق نہ کی جو عرش کے بعد اس سے بڑی ہو جب قیامت کا روز ہوگا تو وہ تنہا صف باندھ کر کھڑا ہوجائے گا اور تمام فرشتے دوسری صف میں ہوں گے اس کی مخلوق کی عظمت ان کی صفوں کے اعتبار سے ہوگی، اس کی مثل حضرت ابن مسعود سے مروی ہے، روح ساتوں آسمانوں سے، ساتوں زمینوں اور پہاڑوں میں سے بڑی مخلوق ہے وہ چوتھے آسمان کے بالمقابل ہوگی وہ ہر روز بارہ ہزار دفعہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرے گی اللہ تعالیٰ ہر تسبیح کے بدلے میں ایک فرشتہ پیدا فرمائے گا قیامت کے روز وہ تنہا صف میں ہوگی اور باقی فرشتے ایک صف میں ہوں گے۔ (2) روح سے مراد حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہیں، یہ شعبی، ضحاک اور سعید بن جبیر کا نقطہ نظر ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہیی کہ عرش کی دائیں جانب نور کی ایک نہر ہے جس کی وسعت ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں اور ساتوں سمندر کی مانند ہے، جبرائیل امین ہر روز سحری کے وقت اس میں داخل ہوتے ہیں اس سے غسل کرتے ہیں تو وہ نور علی نور ہوجاتے ہیں ان کے جمال میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے اور عظمتیں بڑھ جاتی ہیں پھر وہ پر جھاڑتے ہیں تو ہر وہ قطرہ جوان کے پر سے گرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ستر ہزار فرشتے پیدا فرماتا ہے ان میں سے ہر روز ستر ہزاربیت معمور میں داخل ہوتے ہیں اور کعبہ میں ستر ہزار داخل ہوتے ہیں تاقیامت وہ فرشتے دوبارہ ان دونوں کی طرف نہیں لوٹتے وہب نے کہا، جبرایل امین (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہیں ان کے سینہ کا گوشت کا نپ رہا ہے اللہ تعالیٰ ہر کپکپی سے ایک لاکھ فرشتہ پیدا کرتا ہے، فرشتے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے سرجھکائے صف درصف کھڑے ہیں جب اللہ تعالیٰ انہیں کلام کی اجازت دیتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں، لا الہ الاانت، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ تعالیٰ کے فرمان، یوم یقوم الروح والملائکۃ صفا، لایتکلمون الامن اذن لہ الرحمن۔ کا یہی مطلب ہے اور صواب سے مراد لا الہ الانت ہے۔ (3) حضرت ابن عباس نے نبی کریم سے روایت نقل کی ہے کہ آیت میں روح سے مراد اللہ تعال کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے وہ فرشتے نہیں ان کے سر، ہاتھ اور پاؤں ہیں وہ کھاناکھاتے ہیں، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی بیشک یہ بھی لشکر ہے وہ بھی لشکر ہے یہ ابوصالح، اور مجاہد کا قول ہے، اس تاویل کی بنا پر وہ انسان کی شکل و صورت پر بنائے گئے ہیں وہ لوگوں کی طرح ہیں انسان نہیں ہیں۔ (4) وہ فرشتوں میں سے معزز فرشتے ہیں، یہ مقاتل بن حیان کا قول ہے۔ (5) وہ ملائکہ پر نگہبان ہیں یہ ابن ابی نجیح کا قول ہے۔ (6) یہ انسان ہیں یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے، اس سے مراد روحوں والے ہیں عوفی اور قرظی نے کہا، یہ وہ بات ہے جو حضرت ابن عباس چھپایا کرتے تھے کہا، روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے جو انسان کی شکل پر بنائی گئی ہے آسمان سے کوئی فرشتہ نازل نہیں ہوتا مگر اس کے ساتھ ایک روح بھی ہوتی ہے۔ (7) بنی آدم کی روحیں صف درصف کھڑی ہوں گے، فرشتے صف درصف کھڑے ہوں گے یہ دو نفخوں کے درمیان ہوگا، ابھی ان کو جسموں کی طرف نہیں لوٹایاجائے گا یہ عطیہ کا قول ہے۔ (8) اس سے مراد قرآن ہے، یہ زید بن اسلم کا قول ہے اور اس آیت کی تلاوت کی، وکذالک اوحینا الیک روحا من امرنا۔ الشوری 52) اور اسی طرح ہم نے تیرے طرف اپنے حکم سے قرآن کو وحی کیا، صفا یہ مفعول مطلق ہے تقدیر کلام یہ ہوگی، یقومون صفوفا مصدر اپنے اندر واحد اور جمع کا معنی رکھتا ہے جس طرح عدل اور صوم ہے، یوم العید کو یوم الصف کہتے ہیں ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا، وجاء ربک والملک صفا صفا، الفجر) تیرے رب کا حکم آیا جب کہ فرشتے صف درصف تھے یہ صفوف پر دلالت کرتا ہے یہ سلسلہ پیشی اور حساب کے موقع پر ہوگا یہ قتبی اور دوسرے علماء نے معنی کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے روح ایک صف میں کھڑے ہوں اور فرشتے ایک صف میں کھڑے ہوں گے پس وہ دو صفوں میں ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام ایک صف میں کھڑے ہوں گے۔ لایتکلمون الامن اذن لہ الرحمن وقال صوابا۔ وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر جس کو رحمن کی شفاعت کی اجازت دے جبکہ وہ بھی سچی کرے، یہ ضحاک اور مجاہد کا قول ہے ابوصالح نے کہا، صواب کا معنی لا الہ الاللہ ہے ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے جولا الہ الا اللہ کہے وہ اس کے حق میں شفاعت کریں گے، صواب کا اصل معنی درست ہے خواہ وہ قول ہو یا فعل ہو، یہ اصاب، یصیب اصابۃ سے مشتق ہے جس طرح جواب، اجاب، یجیب اجابۃ سے مشتق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے وہ فرشتہ اور روح جو صفوں میں کھڑے ہیں وہ کلام نہیں کریں گے وہ ہیبت اور جلال کی وجہ سے کلام نہیں کریں گے مگر جسے رحمن شفاعت کے بارے میں اجازت دے جبکہ انہوں نے سچی بات کی، وہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی پاکی بیان کرتے ہیں، حضرت حسن بصری نے کہا، قیامت کے روز روح کہے گی کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا مگر رحمت کے ساتھ اور کوئی آگ میں داخل نہیں ہوگا مگر عمل کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کے فرمان، وقال صوابا کا یہی معنی ہے۔
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

یہ دن برحق ہے۔ پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانہ بنائے

ذالک الیوم الحق، فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا۔ حق کا معنی ہے جو واقع ہونا ہے مابا کا معنی مرجعا ہے یعنی جو چاہے عمل صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہاں لوٹنے والی جگہ بنالے۔ گویا جب وہ اچھا عمل کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹاتا ہے اور جب وہ براعمل کرتا ہے تو اسے اپنے میں سے شمار کرتا ہے رسول اللہ کا یہ فرمان یہی رہنمائی کرتا ہے، بھلائی سب کی سب تیرے قبضہ میں ہے اور شرتیری طرف لوٹنے والا نہیں، قتادہ نے کہا، مابا کا معنی راستہ ہے۔
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنیوالا ہے آگاہ کردیا۔ جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ کاش ! میں مٹی ہوتا

اناانذرنکم عذابا قریبا۔ قریش کے کفار اور عرب کے مشرکوں سے خطاب فرمایا کیونکہ انہوں نے کہا، ہم کو دوبارہ نہیں اٹھایاجائے گا جبکہ عذاب آخرت کا عذاب ہے ہر وہ چیز جو ہوکررہنے والی ہو وہ قریب ہوا کرتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کا نھم یوم یرونھا لم یلبثو الاعشیۃ او ضحھا۔ النازعات) گویا جس روز وہ اسے دیکھیں گے وہ کہیں گے وہ اسمیں نہیں ٹھہرے مگر ایک رات یا اس کا ایک دن، یہ کلبی اور دوسرے علماء نے معنی کیا ہے، قتادہ نے کہا، یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ دونوں عذابوں میں سے یہ زیادہ قریبی ہے، مقاتل نے کہا، اس سے مراد بدر کے دن قریش کا قتل ہے۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے یہی موت اور قیامت ہے کیونکہ جو آدمی مرجاتا ہے اس کے لیے قیامت قائم ہوجاتی ہے اگر وہ جنتی ہو تو وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لے گا اگر وہ جہنمی ہوگا تو وہ ذلت اور رسوائی دیکھے گا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یوم ینظر المرء ماقدمت یداہ۔ اس میں عذاب کے وقت کو بیان فرمایا یعنی ہم نے تمہیں ایسے عذاب سے خبردار کیا جو اس دن کے قریب ہے اس سے مراد وہ دن ہے جس میں انسان وہ کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں ینظر کے بعد الی حرف جار محذوف ہے حضرت حسن بصری کے قول کے مطابق المرء سے مراد مومن ہے یعنی وہ اپنے لیے عمل پائے گا جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو وہ اپنے لیے کوئی عمل نہیں پائے گا تو وہ یہ آرزو کرے گا کاش وہ مٹی ہوجائے بعد میں جب کافر کا ذکر کیا تو اس سے بھی معلوم ہوا کہ اس سے مراد مومن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں المرء سے مراد ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط ہے کافر سے مراد ابوجہل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ عام ہے اس روز وہ اپنے عمل کی جزا دیکھے گا مقاتل نے کہا، یوم ینظرء المرء ماقدمت یداہ ابوسلمہ بن عبدالاسد مخزومی کے حق میں نازل ہوئی۔ ویقول الکافر یلیتنی کنت ترابا۔ یہ اس کے بھائی اسود بن عبدالاسد کے حق میں نازل ہوئی ثعلبی نے کہا، میں نے ابوالقاسم بن حبیب کو کہتے سنا کہ یہاں کافر سے مراد ابلیس ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر عیب لگایا کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا اور خود فخر کیا کہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے جب وہ قیامت کے روز دیکھے گا جس ثواب، راحت اور رحمت میں حضرت آدم اور ان کی اولاد ہے اور اپنے آپ کو شدت اور عذاب میں دیکھے گا تو وہ تمنا کرے گا کہ وہ حضرت آدم کی جگہ ہوتا اور یہ کہے گا، یقول الکافر یلتینی کنت ترابا۔ کہا میں نے یہ تعبیر ابونصر قشیری کی بعض تفاسیر میں پڑھی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ہائے کاش میں مٹی سے پیدا کیا جاتا اور میں نہ کہتا کہ میں حضرت آدم سے بہتر ہوں۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے جب قیامت برپا ہوئی تو زمین کو چمڑے کی طرح بچھا دیا جائے گا جانوروں، چوپاؤں اور وحشیوں کو جمع کیا جائے گا پھر ان کے درمیان قصاص قائم کیا جائے گا یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بےسینگ بکری کا قصاص لیاجائے گا جو اس نے بکری کو سینگ مارا تھا جب ان کے قصاص سے فراغت ہوجائے گی تو اسے کہا جائے گا تومٹی ہوجا، اس موقع پر کافر کہے گا، کاش میں بھی مٹی ہوجاتا، اسی کی مثل حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص سے مروی ہے ہم نے اس کا ذکر کتاب التذکرہ میں کردیا ہے جو مردوں اور آخرت کے امور کے متعلق ہے الحمدللہ۔ ابوجعفر نحاس نے ذکر کیا احمد بن نافع، سلمہ بن شبیب سے وہ عبدالرزاق سے وہ معمر سے وہ جعفر بن برقان جزرمی سے وہ یزید بن اصم سے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو دوبارہ اٹھائے گا خواہ وہ جوان ہو، پرندہ ہو یا انسان ہو، پھر چوپاؤں اور پرندوں سے کہا جائے گا مٹی ہوجاؤ، اس موقع پر کافر کہے گا ہائے کاش میں مٹی ہوجاتا، کچھ لوگوں نے کہا، اس کا معنی ہے مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا جس طرح کہا، اے کاش مجھے کتاب نہ دی جاتی ابوزناد نے کہا، جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا جنتیوں کو جنت کی طرف جانے کا حکم دے دیا جائے گا اور جہمیوں کو جہنم کی طرف جانے کا حکم دے دیا جائے گا تو تمام دوسری مخلوقات اور مومن جنوں کو کہا جائے گا مٹی ہوجاؤ تو وہ مٹی ہوجائیں گے اس موقع پر کافر جب انہیں مٹی ہوتا ہوا دیکھے گا تو کہے گا کاش میں مٹی ہوجاتا لیث بن اسلم نے کہا مومن جن مٹی ہوجائیں گے۔ عمر بن عبدالعزیز، زہری، کلبی اور مجاہد نے کہا : مومن جن جب جنت کے اردگرد میدانوں میں ہوں گے وہ جنت میں نہیں ہوں گے یہ زیادہ صحیح ہے سورة الرحمن میں اس کا بیان گزرچکا ہے، کہ وہ مکلف ہیں انہیں بدلہ دیا جائے گا اور انہیں سزا دی جائے گی وہ انسانوں کی طرح ہیں واللہ اعلم باالصواب۔