79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 79:41

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

اس کا ٹھکانا بہشت ہے

فان الجنۃ ھی الماوی۔ ماوی سے مراد منزل ہے، یہ دونوں آیتیں حضرت مصعب بن عمیر اور ان کے بھائی کے حق میں نازل ہوئیں ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، جس نے سرکشی کی اس سے مراد حضرت مصعب بن عمیر کا بھائی ہے جو غزوہ بدر کے موقع پر گرفتا ہوا انصار نے اسے پکڑلیا، انصار نے اس سے پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا میں مصعب بن عمیر کا بھائی ہوں صحابہ نے اس کی مشکیں نہ باندھیں اس کی عزت کی اور اپنے ہاں رات ٹھہرایا جب صبح ہوئی تو صحابہ نے حضرت مصعب بن عمیر سے اس کا ذکر کیا تو حضرت مصعب نے کہا، وہ میرا بھائی نہیں اپنے قیدی سے سختی کرو کیونکہ وادی میں اس کی والدہ کے پاس سب سے زیادہ زیور اور مال ہے صحابہ نے اس کی مشکیں کس دیں یہاں تک کہ اس کی ماں نے اس کا فدیہ بھیج دیا جہاں تک ڈرنے والے کا تعلق ہے تو اس سے مراد حضرت مصعب بن عمیر ہیں جنہوں نے غزوہ احد کے موقع پر اس وقت رسول اللہ کا دفاع کیا جب لوگ آپ سے دور چلے گئے تھے یہاں تک کہ تیر آپ کے پیٹ سے آرپار ہوگئے تھے جب رسول اللہ نے انہیں خون میں لت پت دیکھا فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تیرے لیے اجر کی آرزو رکھتا ہوں، حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا میں نے حضرت مصعب بن عمیر کو دیکھا جبکہ ان پر دو چادریں تھیں جن کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں لگایاجاسکتا ان کے جوتوں کے تسمے سونے کے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت مصعب بن عمر نے غزوہ بدر کے موقع پر اپنے بھائی کو قتل کیا تھا۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت دو آدمیوں ابوجہل بن ہشام مخزومی اور حضرت مصعب بن عمیرعبدی کے حق میں نازل ہوئی۔ سدی نے کہا، یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں نازل ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کا ایک غلام تھا جو کھانالاتا تھا آپ اس سے پوچھتے تو اسے کہاں سے لایا ہے ؟ ایک روز وہ کھانا حضرت ابوبکر نے اس سے نہ پوچھا اور کھانا کھالیا غلام نے آپ سے پوچھا آج آپ نے مجھ سے کیوں نہیں پوچھا ؟ فرمایا میں بھول گیا تھا تو یہ کھانا کہاں سے لایا تھا ؟ غلام نے بتایا دورجاہلیت میں میں نے کچھ لوگوں سے کہانت کی تھی انہوں نے یہ کھانا مجھے دیا۔ حضرت ابوبکر نے اس وقت قے کردی۔ ساتھ ہی یہ عرض کیا اے میرے رب رگوں میں جو کچھ باقی ہے تو نے اسے روک لیا ہے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی واما من خاف مقام ربہ۔ کلبی نے کہا یہ آیت اس آدمی کے حق میں نازل ہوئی جس نے گناہ کا ارادہ کیا خلوت میں اس پر قادر ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اسے ترک کردیا، اس کی مثل حضرت ابن عباس سے مروی ہے، جو نافرمانی کے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا۔
Ayahs 79:42–44

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

سو تم اسکے ذکر سے کس فکر میں ہو ؟

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو معلوم ہے

یسئلونک عن الساعۃ۔۔۔ تا۔۔۔۔ اوضحھا۔ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مکہ مکرمہ کے مشرکوں نے رسول اللہ سے مذاق کے انداز میں سوال کیا قیامت کب برپا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، حضرت عروہ بن زبیر نے اس آیت کی تفسیر میں روایت نقل کی ہے رسول اللہ لگاتار قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی فیم انت من ذکراھا، الی ربک من تھا۔ مرسھا کا معنی اس کا قائم ہونا ہے فراء نے کہا، سوھا کا معنی اس کا قیام ہے جس طرح کشتی ٹھہرتی ہے ابوعبید نے کہا، اس کا معنی اس کی انتہا ہے کیونکہ مرسی السفینہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کشی لنگر انداز ہوتی ہے یہی حضرت ابن عباس کا قول ہے ربیع بن انس نے کہا، اس کا کون سازمانہ ہے معنی قریب قریب ہے سورة الاعراف میں اس کا بیان گزرچکا ہے حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، قیامت برپا نہیں ہوگی مگر ایک غصہ کے ساتھ جو تیرا رب فرمائے گا اے محمد ﷺ تجھے کیا پڑی کہ آپ قیامت کا ذکر کریں یا اس کے بارے میں سوال کریں یعنی آپ کو اس کے بارے میں سوال نہیں کرنا چاہیے یہی وہ معنی ہے جو زہری نے حضرت عروہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم لگاتار قیامت کے بارے میں سوال کرتے رہے یہاں تک کہ یہ آیات نازل ہوئیں یعنی تیرے رب کے پاس اس کی انتہاء ہے گویا جب مشرکین نے آپ سے اس بارے میں بہت زیادہ سوال کیے تو سول اللہ نے اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں سوال کیا تاکہ اسے پہچان لیں تواپ سے یہ فرمایا گیا کہ آپ سوال نہ کریں آپ کا اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ مشرکوں کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار ہو جو انہوں نے آپ سے سوال کیا تھا یعنی آپ کو اس سے کیا غرض یہاں تک کہ وہ اس کی وضاحت آپ سے پوچھیں آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اس کا علم رکھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ذکری، ذکر کے معنی میں ہے الی ربک من تھا، یعنی اس کے علم کی انتہا تیرے رب کے پاس ہے قیامت کے وقوع کا علم کسی اور کے پاس نہیں یہ آیت بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ ارشاد ہے قل انما علمھا عندربی۔ الاعراف 187) فرمادیجئے اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان اللہ عندہ علم الساعۃ، لقمان 34) بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس ہی قیامت کا علم ہے۔
Ayah 79:45

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو

انما انت منذر من یخشھا۔ منذر کا معنی ڈرانے والا ہے، ڈرانے کو ڈرنے والے کے ساتھ خاص کیا کیونکہ وہی اس سے نفع حاصل کرتا ہے اگرچہ سروردوعالم ہر کسی کو خبردار کرنے والے ہیں یہ آیت بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ ارشاد ہے، انما تنذر من اتبع الذکر وخشی الرحمن بالغیب۔ یاسین 11) آپ اسے خبر کرنے والے ہیں جو ذکر کی اتباع کرے اور بن دیکھے رحمن سے ڈرے، عام قراء کی قرات منذر تنوین کے بغیر اضافت کے ساتھ ہے مقصود تخفیف ہے ورنہ اصل میں تو اسکے آخر میں تنوین ہے کیونکہ یہ مستقبل کے معنی میں ہے کیونکہ جب یہ ماضی کا معنی دے تو اس پر تنوین نہیں آتی فراء نے کہا، تنوین اور اس کا ترک دونوں طرح جائز ہے جس طرح اسمیں دونوں قراتیں جائز ہیں بالغ امرہ، موھن کیدالکافرین، موھن کیدالکافرین، تنوین ہی اصل ہے، ابوجعفر، شیبہ، اعرج، ابن محصین، حمید اور عیاش نے ابوعمرو سے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے معنی یہ ہوگا تیرے خبردار کرنے سے وہ نفع حاصل کرے گا جو قیامت سے ڈرتا ہے، ابوعلی نے کہا یہ بھی جائز ہے کہ اضافت ماضی کے لیے ہو جس طرح ضارب زیدا مس کیونکہ وہ خبردار کرچکا تھا یہ آیت ان افراد کا رد کررہی ہے جنہوں نے یہ کہا، احوال آخرت غیر محسوس ہیں یہ صرف روح کی راحت اور اس کا دکھ ہے کسی قسم کا احساس نہیں ہوگا۔
Ayah 79:46

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کرینگے) کہ گویا (دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے

کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا الاعشیۃ او ضحھا۔ گویا کفار جس وقت وہ قیامت کو دیکھیں گے وہ کہیں گے وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر ایک رات بھر یا دن بھر وہ دن جو اس رات کے ساتھ ملا ہے، مراد قلیل مدت کا اظہار ہے جس طرح یہ فرمایا، لم یلبثوا الاساعۃ من نھار، الاحقاف 35) وہ نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے گویا جب وہ اسے دیکھیں گے تو وہ کہیں گے وہ اس میں نہیں ٹھہرے مگر ایک دن، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ قبروں میں نہیں ٹھہرے مگر ایک رات یا اس کا دن، گویا جب وہ اس کی ہولناکی کو دیکھیں گے تو وہ قبروں میں ٹھہرنے کی مدت کو قلیل جانیں گے فراء نے کہا، کہنے والا کہے گا کیا اس رات کی چاشت بھی ہے ؟ ضحادن کے ابتدائی حصہ کو کہتے ہیں لیکن ضحا کو عشیہ کی طرف مضاف کیا اس سے مراد وہ دن ہوتا ہے جس میں وہ آدمی ہوتا ہے عربوں کی عادت یہی ہوتی ہے وہ یوں کہتے ہیں، آتیک الغداۃ او عشی تھا، آتیک العشیۃ اوغدا تھا اس میں عشیۃ کالفط دن کا آخری حصہ ہوتا ہے اور غداۃ دن کا پہلا پہر ہوتا ہے۔ بنی عقیل کے ایک آدمی نے مجھے یہ سنایا، عشیۃ الھلال اوسرارھا، چاند کی شام یا شام کے آخری حصہ میں، اس نے یہاں عشیۃ الھلال اور سرار العشیۃ مراد لیا ہے یہ آتیک الغداۃ او عشی تھا سے زیادہ شدید ہے۔