Ayahs 80:1–2عبس وتولی۔۔ تا۔۔۔ الذکری۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
ان آیات کا شان نزول۔
مسئلہ نمبر 1۔ عبس وتولی، ان جاءہ الاعمی۔ اس نے چہرے پر تیوری چڑھائی یہ جملہ بولا جاتا ہے : عبس وبسر اس پر گفتگو پہلے ہوچکی ہے اس نے چہرے کو دوسری طرف کرلیا ان جاء یہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ مفعول لہ ہے معنی یہ ہوگا اس لیے کہ اس کے پاس اندھا آیا یعنی اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، علماء تفسیر نے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش کے سردار نبی کریم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب کہ رسول اللہ ان کے مسلمان ہونے کی خواہش رکھتے تھے، حضرت عبداللہ بن ام مکتوم حاضر ہوئے رسول اللہ نے ان کی قطع کلامی کو ناپسند کیا اور ان سے رخ انور پھیرلیا تو یہ آیات حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کے بارے میں نازل ہوئیں۔ امام مالک نے کہا کہ ہشام بن عروہ نے حضڑت عروہ سے روایت نقل کی ہے یہ آیات حضرت ابن مکتوم کے بارے میں نازل ہوئیں جو نبی کریم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا اے محمد مجھے اپنے قریب جگہ دیجئے جبکہ نبی کریم کے پاس مشرک روسا موجود تھے نبی کریم ان سے اعراض کرنے لگے اور دوسرے افراد کی طرف توجہ فرمانے لگے اور فرماتے، اے فلاں کیا میں جو کچھ کہتا ہوں اس میں تو کوئی حرج پاتا ہے ؟ وہ کہتا بتوں کی قسم جو آپ کہتے ہیں ان میں خوئی کجی نہیں پاتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے عبس وتولی، کو نازل فرمایا۔ ترمذی میں مسند روایت ہے کہ سعید بن یحییٰ بن سعیدی اموی اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہا یہ روایت ہم نے ہشام بن عروہ پر پیش کی وہ اسے اپنے باپ سے وہ حضرت عائشہ سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیات حضرت ابن ام مکتوم کے حق میں نازل ہوئیں وہ رسول اللہ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے وہ کہنے لگے یارسول اللہ میری راہنمائی کیجئے جبکہ رسول اللہ کے پاس مشرکین کے سرداروں میں سے ایک آدمی موجود تھا، رسول اللہ اس سے اعراض کرنے لگے اور سردار کی طرف توجہ کرنے لگے رسول اللہ فرماتے جو میں کہتا ہوں کیا تو اس میں کوئی حرج دیکھتا ہے ؟ وہ کہتا نہیں، اس بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں کہا یہ حدیث غریب ہے۔
سرکاردوعالم کی بارگاہ میں قریش کے کون سے سردار موجود تھے ؟
مسئلہ نمبر 2۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی کریم کے لیے عتاب ہے کہ آپ نے عبداللہ بن ام مکتوم سے اعراض کیا اسے عمرو بن ام مکتوم کہتے ام مکتوم کا نام عاتکہ بنت عامر بن مخذوم تھا یہ عمروابن قیس بن زائدہ بن اصم ہے یہ حضرت خدیجہ کے ماموں زاد بھائی تھے رسول اللہ مشرکوں میں سے ایک عظیم آدمی کے ساتھ مصروف گفتگو تھے جسے ولید بن مغیرہ کہا جاتا ہے۔ ہمارے علماء مالکیہ میں سے ابن عربی نے کہا یہ قول کیا گیا ہے جس کی کنیت ابوعبد شمس تھی، قتادہ نے کہا، وہ امیہ بن خلعی تھا، انہیں سے یہ قول مروی ہے، وہ ابی بن خلف تھا، مجاہد نے کہا، وہ تین افراد تھے، عتبہ، شیبہ، جو دونوں ربیع کے بیٹے تھے، ابی بن خلف، عطاء نے کہا، وہ عتبہ بن ربیعہ تھا حضرت سفیان ثوری نے کہا، نبی کریم اپنے چچا عباس کے ساتھ مصروف گفتگو تھے، زمخشری نے کہا، آپ کے پاس قریش کے سردار تھے، عتبہ شیبہ، جو ربیعہ کے بیـٹے تھے ابوجہل بن ہشام عباس بن عبدالمطلب، امیہ بن خلف، اور ولید بن مغیرہ۔ رسول اللہ انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے آپ یہ امید رکھتے تھے کہ ان کے اسلام لانے سے دورے لوگ بھی اسلام قبول کرلیں گے۔ جہاں تک ہمارے علماء کا تعلق ہے ان کا کہنا ہے وہ ولید بن مغیرہ ہے دوسروں نے کہا، وہ امیہ بن خلف اور عباس تھے یہ سب باطل ہے اور مفسرین کی ایک جانب سے جہالت ہے جنہوں نے دینی معاملات میں کوئی تحقیق نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ ہے امیہ بن خلف اور ولید دونوں مکہ مکرمہ میں تھے اور ابن مکتوم مدینہ طیبہ میں تھے وہ ان دونوں کے ساتھ اکٹھے نہ ہوئے اور نہ وہ دونوں ان کے ساتھ اکٹھے ہوئے وہ دونوں کافر مرے ان میں سے ایک ہجرت سے پہلے اور دوسرا ہجرت کے بعد غزوہ بدر کے بعد، ان میں سے کسی نے بھی مدینہ کا قصد نہ کیا وہ نہ اکیلا آپ کے پاس حاضر ہوا اور نہ ہی کسی اور کے ساتھ۔
آپ ﷺ کا رخ انور پھیرنے کا سبب۔
مسئلہ نمبر 3۔ حضرت ابن مکتوم حاضر ہوئے جبکہ نبی کریم اپنے پاس موجود قریش کے سرداروں سے محوکلام تھے انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے ان کے اسلام لانے کی قوی امید تھی اس کے اسلام لانے سے ان کی قوم کے بےشمارلوگوں کے اسلام لانے کا امکان تھا۔ حضرت ابن مکتوم آئے جبکہ وہ نابینا تھے عرض کی، اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو تعلیم دی ہے اس کی مجھے تعلیم دیں وہ نبی کریم کو ندا کرنے لگے اور ندا میں کثرت کرنے لگے، وہ نہیں جانتے تھے کہ رسول اللہ کسی اور کے ساتھ مصروف کلام ہیں یہاں تک کہ قطع کلامی کی وجہ سے آپ کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہونے لگے آپ نے دل میں سوچا یہ لوگ کہیں گے کہ آپ کے پیروکار نابینے، کم مرتبہ اور غلام ہیں، آپ نے تیوری چڑھائی اور رخ انور پھیر لیاتویہ آیت نازل ہوئی۔ ثوری نے کہا، اس کے بعد نبی کریم جب بھی حضرت ابن ام مکتوم کو دیکھتے تو اس کے لیے چادر بچھاتے اور کہتے، اے خوش آمدید، جن کے متعلق مجھے میرے رب نے عتاب کیا، آپ فرماتے کیا کوئی کام ہے ؟ آپ نے انہیں دو دفعہ غزوات کے موقع پر مدینہ طیبہ میں اپنا نائب نایا۔ حضرت انس نے کہا، میں نے انہیں قادسیہ کے دن سواری پر سوار دیکھا جبکہ انہوں نے زرہ پہنی ہوئی تھی اور ان کے پاس سیاہ جھنڈا تھا۔
حضرت عبداللہ کا فعل درست نہ ہونے کے باوجود عتاب کیوں ؟
مسئلہ نمبر 4۔ ہمارے علماء نے کہا : حضرت عبداللہ بن ام مکتوم نے جو کچھ کیا یہ سوء ادبی تھی اگر وہ جانتے ہوتے کہ نبی کریم کسی اور کے ساتھ گفتگو میں شریک ہیں اور آپ ﷺ ان کے اسلام لانے کی امید کرتے ہیں لیکن نبی کریم نے آپ کو عتاب کیا تاکہ اہل مدینہ کے دل نہ ٹوٹ جائیں یا یہ معلوم ہوجائے کہ مومن فقیرغنی سے بہتر ہے اور مومن کی طرف توجہ کرنا اگرچہ وہ فقیر ہو یہ زیادہ مناسب اور بہتر ہے تاکہ وہ ایمان لے آئیں اگرچہ ایسے آدمی کی طرف توجہ کرنا بھی مصلحت کا تقاضا ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، ماکان للنبی ان یکون لہ اسری۔ الانفال 67) نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اس کے قیدی ہوں۔ جیسے یہ پہلے گزرچکا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ نبی کریم نے اس آدمی کی تالیف کا قصد کیا کیونکہ آپ کو حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کے دل میں جو ایمان تھا اس پر اعتماد تھا جس طرح حضور نے ارشاد میں ہے ایک آدمی سے صلہ رحمی کرتا ہوں جبکہ دوسرا آدمی مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس خوف سے کہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں منہ کے بل نہ پھینک دے۔
سرکارددوعالم ﷺ نے حضرت عبداللہ کے کس فعل کو ناپسند کرتے ہوئے رخ انور پھیرا۔
مسئلہ نمبر 5۔ ابن زید نے کہا : نبی کریم نے حضرت ابن مکتوم کے ساتھ اس لیے سخت رویہ اپنایا اور ان سے اعرض کیا کیونکہ جو آدمی انہیں لارہا تھا اسے آپ نے اشارہ کیا تھا کہ وہ حضرت ابن مکتوم کو آگے آنے سے روکے۔ حضرت ابن مکتوم نے اسے دھکا دیا اور بات ماننے سے انکار کردیا یہاں تک کہ وہ نبی کریم سے کلام کرے یہاں تک کہ نبی کریم اسے تعلیم دیں اس میں ان کی طرف سے کچھ جفا کا پہلو تھا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں نبی کریم ﷺ پر وحی نازل کی اور غائب کا صیغہ ذکر کیا مقصود نبی کریم کی شان کا اظہار تھا انہیں فرمایا : عبس وتولی، پھر انس پیدا کرنے کے لیے خطاب کا صیغہ ذکر کیا اور فرمایا، ومایدریک۔
Ayah 80:3ومایدریک لعلہ یزکی۔ کس چیز نے آپ کو آگاہ کیا ممکن ہے ابن مکتوم اس چیز کے ذریعے جس کی انہوں نے تم سے استدعا کی کہ وہ آپ سے قرآن ودین کی تعلیم سیکھیں وہ اپنے دین میں طبیعت کی زیادتی اور اپنے آپ سے جہالت کی تاریکی کو دور کرنا چاہتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لعلہ کی ضمیر کافر کے لیے ہو یعنی جب آپ نے یہ طمع کیا کہ وہ اسلام قبول کرکے پاکیزہ ہوجائے یا وہ نصیحت حاصل کرے اور یہ نصیحت اسے قبول حق تک لے جائے آپ کو کس نے آگاہ کردیا کہ آپ نے جو طمع کی ہے وہ ہوکررہنے والی ہے، حمزہ نے اسے ان جاءہ الاعمی۔ پر محمول کیا ہے یہ فعل محذوف کے متعلق ہے جس پر عبس وتولی۔ دلالت کرتا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، ان جاءہ اعرض عنہ وتولی، جب ہمزہ استفہام کی صورت میں قرات کی جائے گی تو اس وقت تولی پر وقف ہوگا اور جب استفہام کے بغیر قرات کی جائے گی تو اس پر وقت نہیں کیا جائے گا یہ عام قراء کی قرات ہے۔
دیگر مقامات عتاب۔
مسئلہ نمبر 6۔ عتاب میں اس آیت کی مثل سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ولاتطردالذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی (الانعام 52) جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں ان کو دور نہ کرو۔ اسی طرح سورة کہف میں ہے، ولاتعد عینک عنھم ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا۔ کہف 28) اور اس قسم کی جو دوسری آیات ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 80:4اویذکر فتنفعۃ الذکری۔ یا جو آپ کہتے تو وہ اس سے نصیحت حاصل کرتا اور نصیحت اسے نفع دیتی۔ عام لوگوں کی قرات فتنفعہ الذکری، میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے اس کا عطف یزکی پر ہے، عاصم اور ابن ابی اسحاق اور عیسیٰ نے اسے فتنفعہ عین کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے، یہ سلمی اور زربن حبیش کی قرات ہے یہ لعل کا جواب ہے کیونکہ یہ لعل غیر موجب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لعلی ابلغ الاسباب، غافر) پھر فرمایا، فاطلع۔
Ayahs 80:5–10اما من استغنی۔۔۔ تا۔۔۔ عنہ تلھی۔
جوخوشحال وگنی ہے آپ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی بات وجہ سے سنتے ہیں، تصدی کا معنی توجہ سے بات سننا ہے، راعی نے کہا : تصدی لوضاح کان جبینہ، سراج الدجی یحنی الیہ الاساور۔ وہ وضاح کے سامنے آیا گویا اس کی پیشانی تاریکیوں کا چراغ ہے بڑے بڑے سردار اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس کی اصل تصدد ہے جو صد سے مشتق ہے یہ وہ چیز ہوتی ہے جو تیرے سامنے آئے اور تیرے بالمقابل ہوجائے کہا جاتا ہے، داری صد دددارۃ، میرا گھر اس کے گھر کے سامنے ہے، اسے ظرف کی بنا پر نصب دی گئی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ صدی سے مشتق ہے جس کا معنی پیاس ہے یعنی آپ اس غنی کی طرف اس طرح متوجہ ہوتے ہیں جس طرح پیاسا پانی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، مصاداۃ کا معنی بالمقابل ہونا ہے۔ عام قراء کی قرات تصدی صاد کی تخفیف کے ساتھ ہے تخفیف کے لیے دوسری تاء کو حذف کردیا گیا نافع اور ابن محیصن نے ادغام کی صورت میں صاد کو مشدد پڑھا ہے۔ یہ کافر ہدایت نہ پاتے، ایمان نہ لاتے تب بھی آپ پر کوئی حرج نہیں آپ تو صرف رسول ہیں آپ کے ذمہ صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ رہا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے لیے علم کا طالب ہے وہ تیزی کرتے ہوئے آیا جب کہ وہ اللہ سے ڈرتا بھی ہے آپ اس سے رخ انور پھیر لیتے ہیں اور کسی اور کام میں مصروف ہوجاتے ہیں، تلھی، اصل میں تتلھی تھا یوں جملہ بولا جاتا ہے، لھیت عن الشئی الھی، میں نے اس سے اعراض کرنے کے لیے بناوٹی مشغول ہوا، تلھی کا معنی تغافل ہے، لھیت عنہ وتلتھیت عنہ دونوں کا معنی ایک ہے۔
Ayah 80:11کلاانھاتذکرہ۔۔۔ تا۔۔۔۔ برررہ۔
کلا انھاتذکرہ۔ کلایہ ردع اور زجر کا کلمہ ہے جس طرح آپ نے دونوں فریقوں کے ساتھ رویہ اپنایا ہے معاملہ ایسا نہیں یعنی اس کے بعد آپ ایسانہ کریں کہ آپ غنی کی طرف متوجہ ہوں اور مومن فقیر سے اعراض کریں نبی کریم سے جو رویہ ظاہر ہوا وہ ترک اولی کے ضمن میں آتا ہے جس طرح پہلے یہ بحث گزرچکی ہے اگر اسے گناہ صغیرہ پر محمول کیا جائے تو یہ بھی بعید نہیں، یہ قشیری کا قول ہے، اس صورت میں کلا سے ابتداء کی جائے گی جو حقا کے معنی میں ہے انھا میں ضمیر سے مراد سورت اور قرآن کی آیات ہیں، تذکرہ سے مراد نصیحت ہے یعنی مخلوق کے لیے نصیحت۔
Ayah 80:12فمن شاء ذکرہ۔ جو چاہے قرآن سے نصیحت حاصل کرے، جرجانی نے کہا، انھا میں ضمیر قرآن کے لیے ہے قرآن کا لفظ مذکر ہے مگر جب قرآن کو تذکرہ بنادیا توضمیر تذکرہ کے اعتبار سے ذکر کی اگر ضمیر مذکر ذکر کی جاتی تو یہ بھی جائز تھا جس طرح ایک اور موقع پر فرمایا، کلا انہ تذکرہ، المدثر) خبردار وہ نصیحت ہے، جو چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے وہ یہ ارشاد ہے، فمن شاء ذکرہ، یعنی وہ اس کو یاد کرنے والا ہو اسے بھولنے والا نہ ہو، یہاں ضمیر کو مذکر ذکر کیا کیونکہ تذکرہ ذکر اور وعظ کے معنی میں ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں چاہتا ہے اس کی طرف الہام فرما دیتا ہے۔
Ayah 80:13فی صحف مکرمہ۔ صحف، صحیفہ کی جمع ہے وہ صحیفے اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے محترم ہیں یہ سدی کا قول ہے طبری نے کہا، یہ دین میں مکرم ہیں کیونہ ان میں علم اور حکمتیں ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مکرم اس لیے ہیں کہ انہیں معزز فرشتے لاتے ہیں یا اسلیے کہ یہ لوح محفوظ ہے نازل ہونے والا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اس لیے معزز ہیں کیونکہ یہ کریم کی جانب سے نازل ہوئے کیونکہ کتاب کی شرافت کتاب والے کی بزرگی سے ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد انبیاء کی کتب ہیں اس کی دلیل، ان ھذا لفی الصحف الاولی، صحف ابراہیم وموسی۔ (الاعلی) ۔
Ayah 80:14مرفوعۃ مطھرہ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی شان بڑی بلند ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ساتویں آسمان میں بلند ہیں یہ یحییٰ بن سلام کا نقطہ نظر ہے، طبری نے کہا، ان کا ذکر اور قدر بلند ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ شبہ اور تناقض سے بلند ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا وہ ہر میل سے پاک ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اسے محفوظ ہیں کہ کفار اس کو پائیں، یہی سدی کا قول ہے حضرت حسن بصری نے کہا، یہ اس سے پاک ہیں کہ کفار پر نازل ہوں، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قرآن فرشتوں کے لیے صحیفوں میں ثبت کردیا گیا ہے وہ انہیں پڑھتے ہیں اور وہ صحیفے مکرم اور بلند اور پاکیزہ ہیں۔
Ayah 80:15بایدی سفرہ۔ سفرۃ سے مراد فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ارورسولوں کے درمیان سفیر بنایا ہے وہ نیک ہیں وہ معصیت سے آلودہ نہیں، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، وہ صحیفہ پاکیزہ ہیں اسے بھی پاک بنادیتے ہیں جوان سفرہ کا حامل بنے۔ سفرہ کا معنی کاتب بھی ہے مجاہد نے بھی یہ کہا ہے، اس سے مراد وہ معزز فرشتے ہیں جو نامہ اعمال میں بندوں کے افعال لکھتے ہیں اس کی واحد سافر ہے جس طرح کاتب کی جمع کتبہ ہے کہا جاتا ہے سفرت یعنی میں نے لکھا کتاب کو سفر کہتے ہیں اس کی جمع اسفار آتی ہے زجاج نے کہا، کتاب کو سفر کہتے ہیں اور کاتب کو سافر کہتے ہیں کیونکہ اس کا معنی ہے کہ وہ ایک چیز کو واضح کرتا ہے اور وضاحت کرتا ہے جملہ بولا جاتا ہے، اسفر الصبح جب صبح روشن ہوجائے سفرت المراہ جب وہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹادے اسی سے یہ جملہ بولا جاتا ہے، سفرت بین القوم اسفر سفارہ، یعنی میں نے ان کے درمیان مصالحت کرائی یہی قول فراء نے کیا ہے، اور یہ شعر پڑھا ہے۔ فما ادع الفارۃ بین قومی ولا امشی بغیش ان مشیت۔ میں اپن قوم میں مصالحت کے فریضہ کو نہ چھوڑوں گا اگر میں اس کام کے لیے چلاتودھو کہ سے نہ چلوں گا۔
السفیر سے مراد رسول اور قوم میں مصلح ہے اس کی جمع سفراء آتی ہے جس طرح فقیہ کی جمع فقہا آتی ہے عبرانی زبان میں کاتبوں کو سفراء کہتے ہیں قتادہ نے کہا، یہاں سفرہ سے مراد قراء ہیں کیونکہ وہ کتابیں پڑھتے ہیں ان سے حضرت ابن عباس کے قول کی طرح بھی قول مروی ہے وہب بن منبہ نے کہا، بایدی سفرہ، کرام بررہ۔ سے مراد نبی کریم کے صحابی ہیں ابن عربی نے کہا، نبی کریم کے صحابہ، سفرہ، کرام بررہ۔ تھے لیکن اس آیت میں وہ مراد نہیں وہ اس آیت سے جو مراد ہیں ان کے قریب بھی نہیں بلکہ جب یہ لفظ مطلق بولاجائے تو اس وقت صرف ملائکہ مراد ہوں گے ان کے علاوہ کوئی بھی ان کے ساتھ شریک نہیں جب اس آیت سے مراد ان کے علاوہ ہوں ان کے ساتھ یہ اس میں شامل نہیں۔ صحیح میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جو آدمی قرآن حکیم کی قرات کرتا ہے جبکہ وہ حافظ ہو وہ سفرۃ کرام بررہ کے ساتھ ہوگا وہ آدمی جو اس کی قرات کرتا ہے اور اس کے لیے تگ ودو کرتا ہے جبکہ یہ امر اس پر مشکل ہو تو اس کے لیے دواجر ہیں، متفق علیہ الفاظ بخاری کے ہیں۔
Ayah 80:16کرام بررہ۔ اپنے رب پر کریم ہیں یہ کلبی کا نقطہ نظر ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، وہ معاصی سے بالا ہیں وہ اپنے آپ کو نافرمانیوں سے بلند رکھتے ہیں ضحاک نے حضرت ابن عباس سے کرام کی یہ وضاحت نقل کی ہے وہ فرشتے اس سے بالا ہیں جب خاوند اپنی بیوی کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کرے یاقضاٗے حاجت کے لیے پردہ کھولے تو وہ اس بندے کے ساتھ ہوں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ دوسروں کے منافع کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔ بررۃ۔ بار کی جمع ہے جس طرح کفرہ کافر کی جمع ہے، سحرہ، ساحر کی جمع ہے، فجرہ، فاجر کی جمع ہے برا اور بار جب وہ سچ کا اہل ہو، اس سے برفلان فی یمینہ فلاں اپنی قسم میں سچا ہے فلاں یبر خالقہ، وتبررہ فلاں، اپنے خالق کی اطاعت کرتا ہے، بررہ کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہیں، اپنے اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے سچے ہیں سورة واقعہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان، انہ لقرآن کریم، فی کتب مکنون، لایمسہ الا المطھرون۔ واقعہ) وہ قرآن حکیم ہے محفوظ کتاب میں ہے اسے پاکیزہ لوگ چھوتے ہیں وہی اس سورت میں کرام بررہ ہے۔
Ayah 80:17قتل الانسان ما۔۔۔ تا۔۔ ما امرہ۔
قتل الانسان ما اکفرہ۔ قتل لعن کے معنی میں ہے یعنی اس پر لعنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے عذاب دیا جائے انسان سے مراد کافر ہے، اعمش نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے کہ قرآن میں جہاں بھی قتل الانسان کے الفاظ ہیں اس سے مراد کافر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ عتبہ بن ابی لہب کے حق میں نازل ہوئی وہ ایمان لایا تھا جب سورة نجم نازل ہوئی تو وہ مرتد ہوگیا تھا اس نے کہا، میں تمام قرآن پر ایمان لایا سوائے سورة النجم کے، اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں یعنی عتبہ پر لعنت ہو کیونکہ اس نے قرآن کا انکار کیا رسول اللہ ﷺ نے اس کے حق میں بددعا کی، اللھم سلط علیہ کلبک اسد الغاضرہ، اے اللہ اس پر غاضر کاشیر مسلط کردے۔ وہ اس کے تھوڑے عرصہ بعد شام کی طرف تجارت کے لیے گیا جب وہ غاضرہ کے مقام پر پہنچا تو اسے نبی کریم کی دعا یاد آگئی جو لوگ اس کے ساتھ تھے ان سے اس نے کہا، اگر اس نے صبح زندہ اندا میں کی تو ان کے لیے ہزار دینا ہوں گے ان ساتھیوں نے اسے درمیان میں رکھا اور اپنا سامان اس کے اردگرد رکھ دیا وہ اس حالت میں تھے کہ ایک شیر آیا جب وہ سامان کے قریب پہنچاتو اس نے چھلانگ لگائی تو وہ عتبہ کے اوپر پہنچ گیا اور سے پھاڑ دیا، اس کے باپ نے اس پر آہ زاری کی اور رویا اور کہا محمد نے جو بات بھی کی وہ پوری ہوئی۔
ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے ہے کہ ما اکرہ کا معنی ہے کس چیز نے اس کو کفر پر برانگیختہ کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے، ماتعجیبیہ ہے عربوں کی عادت ہے جب وہ کسی چیز پر متعجب ہوتے تو کہتے، قاتلہ اللہ ما احسنہ۔ اخزاء اللہ ما اظلمہ۔ اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے وہ کتنا حسین ہے اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے وہ کتنا ظالم ہے، معنی یہ ہوگا جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس کے بعد انسان کفر کرے تو اس پر تعجب کا اظہار کرو، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے وہ اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں پر کتنی ناشکری کرنے والا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر کتنا احسان کیا ہے، یہ بھی تعجب کے اظہار کے لیے ہے، ابن جریج نے کہا، وہ کتنا ہی شدید کافر ہے، ایک قول یہ کیا گی ا ہے، ما استفہامیہ ہے یعنی وہ کون سی چیز ہے جو اسے کفر کی طرف دعوتے دینے والی ہو۔ یہ استفہام توبیخ کے لیے ہے ماتعجب کا احتمال رکھتا ہے اور ای کے معنی کا بھی احتمال رکھتا ہے پس یہ استفہامیہ ہوگا۔
Ayahs 80:18–19من ای شئی خلقہ، من نطفۃ خلقہ فقدرہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کو کس چیز سے پیدا کیا ہے کہ وہ تکبر کا اظہار کرتا ہے ؟ یعنی اس کی خلقت پر تعجب کا اظہار کرو، تھوڑے سے پانی سے جو حقیر ہے، جامد ہے تو وہ اپنے بارے میں کس وجہ سے مغالطہ کا شکار ہوتا ہے ؟ حضرت حسن بصری نے کہا، وہ آدمی جو بول کے راستہ دو دفعہ دنکلا وہ کیسے تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کے پیٹ میں مقدر کیا۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس کے ہاتھوں، اس کے پاؤں، اس کی آنکھوں، تمام اعضا بدصورتی، لمبا، چھوٹا، بدبخت اور سعادت مند ہونے کو مقدر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فقدرہ کا معنی ہے اسے کامل بنایاجس طرح ارشاد فرمایا، اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سواک رجلا۔ الکہف) کیا تو اس کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر بناسنوار کر تجھے مرد بنایا اور فرمایا، الذی خلقک فسواک۔ الانفطار 7) جس نے تجھے پیدا کیا اور درست بنایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس نے اس کے کئی مراحل بنائے ایک حالت سے دوسری حالت، پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر اس کی خلقت کو مکمل کرلیا۔
Ayah 80:20ثم السبیل یسرہ۔ عطا، قتادہ، سدی اور مقاتل نے کہا، ماں کے پیٹ سے نکلنے کو آسان کردیا، مجاہد نے کہا، اس کے لیے خیر اور شر کے راستہ کو واضح کردیا، اس کی دلیل، انا ھدینہ السبیل۔ الانسان 3) ہم نے اسکی راستہ کی طرف راہنمائی کی، وھدینہ النجدین۔ البلد) ہم نے اسے دونوں راستے دکھادیے، یہ حضرت حسن بصری، عطاء اور حضرت ابن عباس کا قول ہے، جو ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے مجاہد نے یہ بھی کہا، شقاوت اور سعادت کا راستہ، ابن زید نے کہا، اسلام کا راستہ، ابوبکر بن ظاہر نے کہا، اللہ تعالیٰ نے ہر ایک لیے اس چیز کو آسان کردیا جس کے لیے اسے پیدا کیا تھا اور اس پر اسے قدرت دے دی، اس پر دلیل رسول اللہ کا قول ہے، اعملوا فکل میسر لماخلق لہ، عمل کرتے جاؤ ہر ایک کے لی اسی امر کو آسان کردیا جائے گا جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا۔
Ayah 80:21ثم اماتہ فاقبرہ۔ یعنی اس کے لیے قبربنائی تاکہ اس میں چھپایاجائے، یہ حکم اس کی تکریم کے لیے دیا اور اسے ان چیزوں میں سے نہیں بنایا جن کو زمین پر پھینک دیا جاتا ہے، جسے پرندے اور درندے کھاتے ہیں، یہ فراء نے کہا، ابوعبیدہ نے کہا، اقبرہ کا معنی ہے اس کے لیے قبربنائی اور حکم دیا کہ اسے قبر میں دفن کردیاجائے، ابوعبیدہ نے کہا، جب عمر بن ہبیرہ نے صالح بن عبدالرحمن کو قتل کیا توبنوتمیم نے کہا، جبکہ وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، اقبرنا صالحا، تو جواب میں کہا، دونکموہ خود ہی یہ ذمہ داری ادا کرلو، اقبرہ، قبرہ نہیں کہا، کیو کہ قبرہ اسے کہتے ہیں جو اپنے ہاتھوں سے دفن کرے یہ جملہ بولا جاتا ہے، قبرت المیت، جب تو اسے دفن کرے، اقبرہ اللہ جب اسے اس طرح بنادے کہ اسے دفن کیا جائے اور اس کے لیے قبر بنائی جائے عرب کہتے ہیں، بترت ذنب البعیر، میں نے اونٹ کی دنب کاٹی، ابترہ اللہ تعالیٰ نے اسے دم بریدہ کردیا۔ عقبت قرن الثور، میں نے بیل کا سینگ کاٹا، اعقبہ اللہ تعالیٰ نے اسے بےسینگ کردیا، طردت فلانا میں اسے دھتکارا، اللہ اطردہ اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکارا ہوا بنادیا۔
Ayah 80:22ثم اذا شاء انشرہ۔ جب چاہے گا موت کے بعد زندہ کرے گا، عام قراء کی قرات انشرہ ہے، ابوحیوۃ نے نافع اور شعیب بن ابی حمزہ سے شاء نشرہ نقل کی ہے یہ دونوں فصیح لغتیں ہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے، انشرہ اللہ المیت ونشرہ۔ اللہ تعالیٰ نے مردہ کو زندہ کردیا، اعشی نے کہا، حتی یقول الناس مماراو، یاعجیبا للمیت الناشر۔ لوگوں نے جو دیکھا اس کی وجہ سے وہ کہیں اس میت پر تعجب ہے جو اٹھنے والا ہے۔
Ayah 80:23کلالما یقض ما امرہ۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا، کسی نے بھی اس کا حق ادا نہ کیا جو اسے حکم دیا گیا تھا، حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے، اس کا معنی ہے اس نے اس وعدہ کو پورا نہیں کیا، جو اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکال کر اس سے لیا گیا تھا، پھر کہا گیا، کلایہ جھڑکنے کے لیے ہے یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح کافر کہتا ہے کیونکہ کافر کو جب دوبارہ اٹھنے کی خبر دی جائے گی تو وہ کہے گا، اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میرے لیے اس کے ہاں اچھاٹھکانہ ہوگا، بعض اوقات وہ کہے گا مجھے جو حکم دیا گیا تھا میں نے اس کا حق ادا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں اس نے آج تک کوئی چیز پوری نہیں کی بلکہ وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا تھا، اور میرے رسول کا انکار کرنے والا تھا حضرت حسن بصری نے کہا، یہ درست نہیں کہ اس نے حق نہیں ادا کیا یعنی اسے جو حکم دیا گیا تھا اس پر عمل نہیں کیا، لما میں ما کلام کا سہارا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے، فبما رحمہ من اللہ لنت لھم، آل عمران 159) عماقلیل لیصبحن نادمین۔ مومنون) فبما اور عما میں ما کی یہی حیثیت ہے، امام ابن فورک نے کہا، معنی ہے یقینا اللہ تعالیٰ نے کفار کو ایمان کا جو حکم دیا اس کا فیصلہ نہ کیا تھا بلکہ اس چیز کا حکم دیاجس کو مقدر نہ کیا تھا، ابن انباری نے کہا، کلا پر وقف قبیح ہے، امرہ اور نشرہ پر وقف عمدہ ہے۔ اس صورت میں کلا حق کے معنی میں ہوگا۔
Ayah 80:24فلنظرالانسان الی طعامہ۔۔۔ تا۔۔۔ ولانعامکم۔
فلنظرالانسان الی طعامہ۔ جب اللہ تعایل نے انسان کی تخلیق کے آغاذ کا ذکر کیا پھر اسے جو رزق دیا گیا اس کا ذکر کیا تو اے انسان دیکھے توسہی اللہ تعالیٰ نے اس کا کھانا کیسے پیدا کیا یہ نظر دل کی نظر ہے کہ وہ فکر کرے یعنی وہ غوروفکر کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کھانے کو کیسے پیدا کیا جو اس کی زندگی کا سہارا ہے اور اس کے لیے کیسے زندگی کے اسباب کو بنایا تاکہ وہ آخرت کی تیاری کرے حضرت حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے دونوں نے کہا، کہ وہ اپنے کھانے اور قضائے حاجت کی طرف دیکھے، ابن ابی خیثمہ نے ضحاک بن سفیان کلابی سے روایت نقل کی ہے کہ مجھے نبی کریم نے ارشاد فرمایا اے ضحاک، تیرا کھانا کیا ہے ؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ گوشت اور دودھ۔ فرمایا پھر وہ کیا ہوجاتا ہے۔ میں نے عرض کی وہی جسے آپ جانتے ہیں فرمایا انسان جو نکلتا ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساتھ اس کی مثال بیان کی ہے، حضرت ابی بن کعب نے کہا، نبی کریم نے ارشاد فرمایا انسان کے کھانے کو دنیا کی مثال بنادیا گیا اگرچہ وہ اسے لذیذ بنانے کے لیی مصالحہ ڈالے اور اسے نمکین بنائے دیکھوتو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ابوالولید نے کہا میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا وہ بیت الخلاء میں داخل ہوتا ہے تو اس کے جسم سے جو چیز نکلتی ہے اسے دیکھتا ہے، فرمایا ایک فرشتے اس کے پاس آتا ہے اور اسے کہتا ہے دیکھوتوجس چیز میں بخل کرتا تھا اس کا انجام کیا ہوا ہے۔
Ayah 80:25اناصببنا الماء صبا۔ عام قراء کی قرات انا کی سورت میں ہے کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے کو فیوں اور رومیوں نے یعقوب سے روایت کی ہے انا ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ محل جر میں ہے کیونکہ یہ طعام سے بدل ہے گویا یوں کلام کی گئی ہے ؟ فلینظرالانسان الی طعامہ، اناصبناالماء صبا۔ اس قرات میں طعامہ پر وقف کرنا اچھا نہیں اس طرح جب آپ اسے محل رفع میں رکھیں اور ھو ضمیر مانیں کیونکہ رفع کی صورت میں بھی طعام کی وضاحت کرے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے کیونکہ ہم نے پانی برسایا اور اس کے ذریعے کھانا نکالا، یعنی یہ اس طرح تھا، حسین بن علی نے اسے انی پڑھا ہے جو کیف کے معنی میں ہے جس نے اس قرات کو اپنایا ہے، اس نے طعامہ پر وقف تام کیا ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے، انی این کے معنی میں ہے اس وقت یہ وجوہ سے کنایہ ہوگا معنی ہوگا جس صورت میں ہم نے پانی برسایا، کمیت نے کہا، انی ومن این آبک الطرب، کیسے اور کہاں سے تجھے تک نشاط پہنچی ؟۔ صببنا الماء صبا، یعنی ہم نے بارش کو نازل کیا۔
Ayahs 80:26–28ثم شققناالارض شقا، فانبتنا فیھا حبا، وعنباوقضبا۔ ہم نے زمین کو نباتات سے پھاڑا پھر ہم نے اس میں گندم، جو وغیرہ، جن چیزوں کو کاٹا جاتا ہے اور ذخیرہ کیا جاتا ہے، اور ان کو اگایا، جوقت، (ایک دانا جو صحراء میں ہوتا ہے لوگ اسے کوٹ کر کھاتے ہیں) اور چارہ ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اسے قضب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کے ظہور کے بعد اسے بار بار کاٹا جاتا ہے۔ قتبی اور ثعلب نے کہا، اہل قت کو قضب کہتے ہیں، حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد تر کھجوریں ہیں کیونکہ انہیں کھجور کے درخت سے کاٹا جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے عنب کا ذکر کیا، ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد فصفحہ یہ ترقت ہوتا ہے، خلیل نے کہا، قضب سے مراد ترفصفصہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ فسسہ ہے جب وہ خشک ہوجائے توقت ہوتا ہے کہا، قضب کا اطلاق درخت کی ٹہنیوں پر ہوتا ہے جنہیں کاٹا جاتا ہے کہ اس سے تیر یا کمانیں بنائی جائیں۔ یہ بھی قول کیا جاتا ہے قضب ہراس چیز کو کہتے ہیں جنہیں کاٹا جاتا ہے، جس طرح قت، کر اث وغیرہ، اسی طرح ساری سبزیاں جنہیں کاٹا جاتا ہے اس کی جڑیں اگتی ہیں، صحاح میں ہے، قضبہ اور قضب سے مراد سبزیاں ہیں وہ فارسی زبان میں اسفست ہے اور وہ جگہ جہاں سبزیاں اگتی ہیں۔
Ayahs 80:29–30وزیتوناونخلا، وحدائق غلبا۔ زیتون، زیتون کا درخت ہے، نخلا سے مراد کھجور کا درخت ہے، حدائق سے مراد باغات ہیں جس کا واحد حدیقہ ہے کلبی نے کہا، کھجور اور درختوں میں سے جس کی چار دیواری ہو اسے حدیقہ کہتے ہیں اگر چار دیواری نہ ہوتوا سے حدیقہ نہیں کہتے، غلب سے مراد جس کے درخت موٹے ہوں یہ جملہ بولا جاتا ہے، شجرۃ غلباء، شیر کو بھی اغلب کہتے ہیں کیونکہ اس کی گردن موٹی ہوتی ہے وہ کسی طرف متوجہ ہوتا ہے تومکمل طور پر متوجہ ہوتا ہے عجاج نے کہا، مازلت یوم البین الوی صلبی، والراس حتی صرت مثل الاغلب۔ جدائی کے روز میں لگاتار اپنی پشت اور سر کو موڑتا رہا یہاں تک میں شیر کی طرح ہوگیا۔ حدیقہ غلباء اسے کہتے ہیں جو گھنا ہو اسی طرح حدائق غلب اور اغلولب العشب اسے کہتے ہیں جب جڑی بوٹیاں ایک دوسرے میں داخل ہوجائیں، حضرت ابن عباس نے کہا، الغلب، اغلب اور غلباء کی جمع ہے اس سے مراد موٹے درخت ہیں آپ سے ہی یہ مروی ہے، اس سے مراد لمبے درخت ہیں قتادہ اور ابن زید نے کہا، غلب سے مراد کھجور کے اچھے درخت ہیں ابن زید اور عکرمہ سے مروی ہے موٹے تنوں والوں کو کہتے ہیں، مجاہد نے کہا، جن کی شاخیں باہم پیوست ہوں۔
Ayah 80:31وفاکھۃ وابا۔ جسے لوگ کھاتے ہیں جیسے درختوں کے پھل جس طرح انجیر، اخروٹ، وغیرہ، اب، سے مراد ایسی گھاس جسے جانور کھاتے ہیں حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری نے کہا، اب ان چیزوں کو کہتے ہیں جنہیں زمین اگاتی ہے لوگ اسے نہیں کھاتے، جسے انسان کھاتے ہیں اسے حصید کہتے ہیں اسی معنی میں شاعر کا قول ہے جو اس نے نبی کریم کی مدح میں کہا : لہ دعوہ میمونہ ریھا الضبا، بھاینبت اللہ الحصیدۃ والابا۔ آپ کی دعوت مبارک ہے اس کی خوشبو بادصبا جیسی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ حصیدہ اور اب اگاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کو اب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کا قصد کیا جاتا ہے اور اسے کاٹنے کے لیے اس کی طرف جایا جاتا ہے اب اور ام دونوں ہم معنی میں ہیں شاعر نے کہا : جدمنا قیس ونجد دارنا، ولنا الاب بہ المکرع۔ ہماری اصل (جداعلی) قیس ہے اور نجد ہمارا ملک ہے وہاں ہمارے لیے بہترین گھاس اور عمدہ پانی ہے۔ ضحاک نے کہا، اب، اس چیز کو کہتے ہیں جو روئے زمین پر اگے ابورزین نے بھی اسی طرح کہا ہے اس سے مراد نباتات ہے اس پر حضرت ابن عباس کا قول دلالت کرتا ہے اب سے مراد وہ چیز ہے جسے زمین اگاتی ہے جسے لوگ اور چوپائے کھاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور ابی طلحہ کہتے ہیں، اب سے مراد تازہ پھل ہیں ضحاک نے کہا اس سے مراد خاص طور پر انجیر ہے، حضرت ابن عباس سے یہی مروی ہے، شاعر نے کہا، فمالھم مرتع للسوا، والاب عندھم یقدر۔ ان کے ہاں جو چوپاؤں کے لیے چراگاہیں نہیں اور خوراک بھی ان کے پاس کم ہے۔
کلبی نے کہا پھلوں کے بغیر ہر نباتات مراد ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، فاکھۃ سے مرادتازہ پھل اور اب سے مراد خشک پھل ہیں ابراہیم تیمی نے کہا، حضرت ابوبکر سے فاکھۃ اور اب کی تفسیر پوچھی گئی فرمایا کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اٹھائے گی جب میں کتاب اللہ کی تفسیر میں ایسی بات کروں جو میں جانتا ہی نہ ہوں۔ حضرت انس نے کہا، میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا پھر فرمایا ان سب کو تم ہم نے پہچان لیا یہ اب کیا ہے پھر آپ نے اپنا عصا اٹھایاجو آپ کے ہاتھ میں تھا فرمایا اللہ کی قسم یہ توتکلف ہے اے ابن ام عمر، تجھ پر کیا حرج ہوگا اگر تو نہیں جانتا کہ اب کیا ہے ؟ پھر فرمایا س کتاب سے جو چیز تمہارے لیے واضح ہے اس کی پیروی کرو اور جو واضح نہ ہو اس کو چھوڑ دو ، نبی کریم سے مروی ہے سات چیزوں سے تمہیں پیدا کیا گیا سات چیزوں سے تمہیں رزق دیا گیا، سات اعضاء پر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرو۔ رسول اللہ نے سات چیزوں سے پیدا گیا ہے یہ مراد لیا ہے، نطفہ، علقہ، مضغہ، سات چیزوں سے رزق دیا گیا ہے یہ مراد لیا، ہم نے اس میں دانا، انگوراگایا اور پھل، ، پھر کہا، ابایہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے یہ انسان کا رزق نہیں یہ جانور کے لیے خاص ہے۔
Ayah 80:32متاعالکم۔ یہ مفعول مطلق کے طور منصوب ہے برائے تاکید ہے کیونکہ ان تمام چیزوں کا اگانا تمام حیوانات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہ ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے قبروں سے مردوں کو اٹھانے کے لیے بیان فرمائی جس طرح کھیتیاں جبکہ وہ پہلے ختم ہوچکی تھیں جس کی وضاحت کئی مواقع پر گزرچکی ہے اس میں احسان کا بھی ذکر کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں پر انعام فرمایا یہ بھی کئی مواقع پر گزرچکا ہے۔
Ayah 80:33فاذا جاءت الصاخہ۔۔۔ تا۔۔ الفجرہ۔
فاذا جاءت الصاخہ۔ جب اس زندگی کے امر کا ذکر کیا تو آخرت کے امر کا ذکر کیا تاکہ اوہ اعمال صالحہ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو احسانات کیے ہیں اسے صرف کرکے زاد راہ تیار کریں، صاخہ سے مراد چیخ ہے جس سے قیامت برپا ہوگی یہاں اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جو کانوں کو بہر اکردے گی وہ وکئی اور آواز نہیں سنیں گے مگر جس چیز کے ساتھ انہیں زندہ ہونے کی دعوت دے جائے گی، کئی مفسرین نے ذکر کیا کان اس کی طرف متوجہ ہوں گے یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے، اصاخ الی کذا۔ یعنی اسے سنا اسی معنی میں ایک حدیث ہے، یہ جانور جمعہ کے روز کان لگا کر سنتا ہے اسے قیامت کا ڈرہوتا ہے مگر جن اور انسان کے۔ شاعر نے کہا، یصیخ للنباۃ اسماعیہ، اصاخۃ المنشد للمنشد۔ وہ خبر کو غور سے سنتا ہے جس طرح ایک شاعر دوسرے شاعر کو غور سے سنتا ہے۔ ایک عالم نے کہا : یہ قدماء کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے طور پر معنی لیا گیا ہے جہاں تک لغت کا تعلق ہے تو اس کا مقتضا پہلاقول ہے، خلیل نے کہا، صاخہ ایسی چیخ ہے جو کانوں کو بہرہ بنادے گی لغت میں اصل معنی سختی سے تھپڑ مارنا ہے یادروازہ بند کرنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ صخہ بالحجر سے ماخوذ ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اسے پتھر مارے۔ راجز نے کہا : یاجارتی ھل لک ان تجالدی، جلادۃ کالصک بالجلامد۔ اے میری پڑوسن کیا تو مجھے زمین پر ایسا پٹکے گی جس طرح پتھر کو پھینکا جاتا ہے۔ اس معنی میں عربوں کا قول ہے کہ، صختھم الصاخہ وباتتھم البائتہ۔ اس سے مراد بڑی مصیبت ہے، طبری نے کہا، میرا خیال ہے یہ صخ فلان فلانا، سے ماخوز ہے جب وہ اسے بہرہ کردے۔ ابن عربی نے کہا، صاخۃ اسے کہتے ہیں جو بہرے پن کو لازم کردے جب کہ وہ سنانے والی تھی، یہ فصاحت کا بہترین اسلوب ہے یہاں تک ایک آدمی نے کہا : اصم بک المناعی وان کان اسمعا۔ موت کی خبر دینے والے نے تجھے بہرہ کردیا اگرچہ وہ سنانے والا تھا۔ اللہ کی قسم قیامت کا صیحہ آواز سنانے والا ہے جو دنیا سے بہرہ کردے گا اور امور آخرت کو سنائے گا۔
Ayahs 80:34–36یوم یفرالمرء من اخیہ۔ وامہ وابیہ، صاحبتہ وبنیہ۔ اس دن صاخہ آئے گی تو آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا یعنی بھائی کے ساتھ دوستی کرنے اور گفتگو کرنے سے دور بھاگے گا کیونکہ اس کے لیے وہ فارغ نہیں ہوگا کیونکہ وہ اپنے بارے میں مصروف ہوگا جس طرح بعد میں فرمایا، اس دن ہر آدمی کو ایسا کام ہوگا جو اسے دوسری چیزوں سے غافل کردے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ اس سے جو مطالبہ کرسکتے تھے اور باہم جو حقوق موجود تھے اس وجہ سے ان سے دور بھاگے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس لیے دور بھاگے گا تاکہ جس شدت سے وہ اب ہے وہ اسے دیکھ نہ لیں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ان سے اس لیے بھاگے گا کیونکہ وہ جانتا ہوگا کہ وہ انہیں کچھ نفع نہیں دے سکتا۔ جس طرح فرمایا، یوم لایغنی مولی عن مولی شیا۔ الدخان 41) اس روز کوئی دوست کسی دوست کو کچھ نفع نہیں دے گا۔ عبداللہ بن ظاہر ابہری نے کہا، وہ ان سے اس لیے بھاگے گا کیونکہ اس پر یہ امر واضح ہوچکا ہوگا کہ وہ عاجز ہیں اور ان کے پاس کوئی حیلہ نہیں وہ اس کی طرف بھاگے جو اس سے غم اور دکھ دور کرسکے گا، اگر یہ امر اس پر ظاہر ہوچکا ہوتا تو وہ اپنے رب کے سوا کسی چیز پر اعتماد نہ کرے۔ صاحبتہ سے مراد اس کی بیوی ہے اور بنیہ سے مراد اس کی اولاد ہے۔
ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : کہ قابیل اپنے بھائی ہابیل سے دور بھاگے گا نبی کریم اپنی ماں سے دور بھاگیں گے، حضرت ابراہیم اپنے باپ سے دور بھاگیں گے، تو حضرت نوح اپنے بیٹے سے دور بھاگیں گے، حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی بیوی سے دور بھاگیں گے، حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے بیٹے کی لاش سے دور بھاگیں گے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : قیامت کے روز سب سے پہلے جو اپنے باپ سے دور بھاگے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں سب سے پہلے جو اپنے بیٹے سے دور بھاگے گا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں سب سے پہلے جو اپنی بیوی سے دور بھاگے گا وہ حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں علماء کی رائے تھی یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ان کا یہ فرار اپنے بچاؤ کے لیے ہوگا۔
Ayah 80:37لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، قیامت کے روز لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھائے جائیں گے میں نے عرض کی یارسول اللہ مرد اور عورت ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے، فرمایا اے عائشہ، معاملہ اس سے بڑا سخت ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھیں۔ امام ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بےختنہ اٹھایاجائے گا، ایک عورت نے عرض کی، کیا ہم میں سے بعض ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھتے ہوں گے ؟ فرمایا اے فلانہ، ہر کسی کو اپنی اس روز پڑی ہوگی۔ کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عام قراء کی قرات میں غین معجمہ کے ساتھ ہے ہر آدمی ایسی حالت میں ہوگا جو اسے رشتہ داروں سے غافل کردے گی ابن محیصن اور حمید نے یعنیہ پڑھا ہے یعنی اس کا امر اسے دوسروں سے لاتعلقی کردے گا۔ قتبی نے کہا، یغنیہ کا معنی ہے وہ اسے پھیر دے گا اور اسے اپنی قرابت سے روک دے گا یہ جملہ بولا جاتا ہے، اغن عنی وجھک، اپنے چہرے کو مجھ سے پھیر لے، اغن عن السفیہ، بیوقوف سے دور ہوجا، خناف نے کہا، سیعنیک حرب بنی مالک، عن الفحش والجھل فی المحفل۔ بنی مالک سے جنگ تجھے مجلس میں فحش گوئی اور جہالت سے روک دے گی۔
Ayahs 80:38–39وجوہ یومئذ مسفرہ۔ ضاحکۃ مستبشرہ۔ کچھ چہرے چمکدار اور روشن ہوں گے انہیں اپنی کامیابی اور مقدر نعمتوں کا علم ہوچکا ہوگا۔ یہ مومنوں کے چہرے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں جس کرامت سے نوازا ہوگا اس کی وجہ سے خوش وخرم ہوں گے عطاخراسانی نے کہا، وہ طویل عرصہ تک اللہ کی راہ میں غبارآلود ہوتے رہے اس وجہ سے وہ روشن ہوں گے ابونعیم نے اس کا ذکر کیا ضحاک نے کہا وضو کے آثار کی وجہ سے وہ روشن ہوں گے حضرت ابن عباس نے کہا، راتوں کو عبادت کرنے کی وجہ سے روشن ہوں گے حدیث میں ہے جس کی رات کی نماز زیادہ ہوجاتی ہے دن کے وقت اس کا چہرہ حسین ہوجاتا ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، اسفر الصبح جب صبح خوب روشن ہوجائے۔