81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 81:1

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

اذالشمس کورت۔۔۔ تا۔۔۔ ما احضرت۔ اذالشمس کورت۔ حضرت ابن عباس نے کہا : تکویر سے مراد اسے عرش میں داخل کرنا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی اس کی روشنی کا چلے جانا ہے، یہی قتادہ کا قول ہے اور مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے سعید بن جبیر نے کہا، اس کا معنی ہے اسے بےنور کردیا جائے گا ابوعبیدہ نے کہا، اسے لپیٹاجائے گا جس طرح پگڑی کو لپیٹا جاتا ہے اسے لپیٹ دیا جائے گا اور اسے مٹا دیا جائے گا، ربیع بن خثیم نے کہا، کورت کا معنی ہے اسے پھینک دیا جائے گا اسی معنی میں کورتہ، فتکور میں نے اسے گرایا تو وہ گرگیا ۔ میں کہتا ہوں : تکویر کا اصل معنی جمع کرنا ہے، یہ کارالعمامہ علی راسہ، سے ماخوذ ہے اس نے اپنے سرپر پگڑی کو جمع کیا اسے جمع کیا جائے گا اور روشنی کو مٹا دیا جائے گا پھر اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابوصالح سے مروی ہے، کورت کا معنی ہے اسے اوندھا گرا دیا جائے گا۔
Ayah 81:2

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے بےنور ہوجائیں گے

واذالنجوم انکدرت۔ جب ستارے گرجائیں گے اور بکھرجائیں گے ابوعبیدہ نے کہا، وہ گرجائیں گے جس طرح عقاب گرپڑتا ہے، عجاج شکرہ کا وصف بیان کرتا ہے : ابصر خربان فضاء فانکدر۔ شکرہ نے کھلی فضا دیکھی تو وہ نیچے گرگیا ۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اس روز آسمان میں کوئی ستارہ باقی نہیں بچے گا مگر وہ گرجائے گا یہاں تک کہ ساتویں زمین والے اس وجہ سے خوفزدہ ہوجائیں گے جو اس زمین کو مصیبت پہنچی اور اوپر والی زمینوں کو مصیبت آئی۔ ضحاک نے حضر تابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ معنی ہے وہ گرجائیں گے اس کی وجہ یہ ہے قندیلیں آسمان اور زمین کے درمیان نور کی زنجیروں سے لٹکی ہوئی ہیں وہ زنجریں نوری فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جب پہلے صور پھونکاجائے گا تو زمین اور آسمان میں جو کوئی ہوگا مرجائے گا وہ ستارے ٹوٹ گریں گے اور فرشتوں کے ہاتھوں سے زنجیریں گر جائیں گی کیونکہ جو اسے پکڑے ہوئے تھا وہ مرگیا یہ بھی احتمال موجود ہے ان ستاروں کے ٹوٹ گرنے سے مراد اس کے آثار کا مٹ جانا ہے، ستاروں کو نجوم اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ آسمان میں اپنی روشنی کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، انکدرت کا معنی ہے بدل جانا، ان کی روشنی باقی نہ رہے گی کیونکہ وہ اپنی جگہ پر نہیں رہیں گے۔ معنی قریب قریب ہے۔
Ayah 81:3

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

واذالجبال سیرت۔ جب پہاڑوں کو زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا اور ہوا میں چلایاجائے گا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، ویوم نسیر الجبال وترالارض بارزۃ، (کہف 47) جس روز پہاڑوں کو چلایاجائے گا اور آپ زمین کو عیاں دیکھیں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں ان کے چلنے سے مراد پتھر کی حیثیت سے بدل جانا ہے تو وہ مجتمع مٹی کی طرح ہوجائیں گے یعنی وہ بہنے والی ریت ہوجائیں گے اور وہ دھنکی ہوئی اون ہوجائیں گے وہ بکھرے ہوئے ذرات ہوجائیں گے، وہ سراب کی طرح ہوجائیں گے اس سراب کی طرح جو کچھ بھی چیز نہیں، زمین کھلا زمیدان ہوجائے گی اس میں آپ کوئی اونچ نیچ نہیں دیکھیں گے یہ بحث اس کے علاوہ کئی مواقع پر موجود ہے۔ الحمدللہ۔
Ayah 81:4

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب بیاہنے والی اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی

واذالعشار عطلت۔ عشار سے مراد حاملہ اونٹنیاں ہیں عشار کا واحد عشراء ہے یعنی وہ اونٹیاں جن کے حمل کو دس ماہ ہوچکے ہوں پھر اس کا یہی نام رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بچے کو جن دے اور بچہ جننے کے بعد اس کا یہی نام رہتا ہے عربوں کی عادت ہے وہ چیز کو پہلے والے نام سے یاد کرتے ہیں اگرچہ اس پر وقت گزرچک اہو ایک آدمی اپنے گھوڑے کو کہتا ہے جبکہ پانچ سال کی عمر پوری کرنے والا، ھاتو مھری، قربومھری ،۔ مھر کا معنی بچھیرا ہوتا ہے اسے یہ نام سابقہ اسم کی وجہ سے دیتے ہیں۔ عشرہ نے کہا : لاتذکری مھری وما اطعمتہ۔ تو میرے گھوڑے کا ذکر نہ کر اور جو میں نے اسے کھلایا ہے اس کا ذکر نہ کر۔ مزید یہ کہا : حملت مھری وسطھا فمضاھا۔ میں اپنے گھوڑے کے درمیان اور اس کے سینہ پر سوار ہوا۔ یہاں عشار کا خصوصا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عربوں کے ہاں یہ سب سے معزز چیز ہے اس کے مالک قیامت کے سوا اس کو نہیں چھوڑتے یہ ضرب المثل کے طور پر جملہ بولا جاتا ہے کیونکہ قیامت کے روز دس ماہ کی گابھن اونٹنی نہ ہوگی، لیکن اس سے ضرب المثل کا ارادہ کیا کہ قیامت کے دن کا خوف ایسا ہوگا کہ اگر کسی کی دس ماہ کی گابھن اونٹنی ہو تو وہ اسے چھوڑ دے گا اور اپنی پریشانی میں مصروف ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا ہے جب وہ اپنی قبروں سے اٹھیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے، وحشی جانوروں اور چوپاؤں کو دیکھیں گے تو ان میں دس ماہ کی گابھن اونٹیاں بھی ہوں گی جوان کے نفیس ترین اموال تھے وہ ان کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے اور ان اونٹنیوں کا معاملہ کسی پر اہمیت کا حامل نہیں ہوگا عربوں کو عشار کے معاملہ کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے کیونکہ عربوں کی اکثر زندگی اونٹوں کے متعلق ہی ہوتی ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ عطلت کا معنی ہے اس کے مالک اسے چھوڑ دیں گے کیونکہ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی، اعشی نے کہا : ھوالواھب الماۃ المصطفا، اما مخاضا واماعشارا۔ وہ چنی ہوئی اونٹیاں ہبہ کرنے والا ہے ابتدائی دنوں مکی حاملہ ہوں یادس ماہ کی حاملہ ہوں۔ یوں کہا جاتا ہے، ناقۃ عشرائ، ناقتان عشرون، نوق عشار وعشروات۔ یعنی تانیث کے ہمزہ کو واؤ سے بدل دیتے ہیں یہ جملہ کہتے ہیں، وقد عشرت الناقۃ تعشیرا، وہ دس ماہ کی گابھن ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، عشار کا معنی ایسا بادل ہے جو پانی سے خالی ہو وہ بارش نہ برسائے، عرب بادل کو حاملہ سے تشبیہ دیتے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ایسے گھر ہیں جو معطل ہوں اور جب کوئی رہائش نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ایسی زمین ہے جس کو کاشت کرنے سے چھوڑ دیا گیا ہو اسے کاشت نہ کیا جاتا ہو، پہلا معنی زیادہ مشہور ہے اس پر اکثر لوگوں کا نقطہ نظر ہے۔
Ayah 81:5

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے

واذالوحوش حشرت۔ جب وحشی جانور جمع کیے جائیں گے، حشر کا معنی ہے جمع کرنا۔ یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ حضر تابن عباس سے مروی ہے کہ حشر کا معنی ہے موت۔ عکرمہ نے ان سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حشر سے مراد جنوں اور انسانوں کے علاوہ کی موت ہے۔ کیونکہ یہ دونوں قیامت کے روز پورا پورا حق لیں گے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : ہر شی کو دوبارہ اٹھایاجائے گا یہاں تک کہ مکھیوں کو بھی دوبارہ اٹھایاجائے گا، حضرت ابن عباس نے فرمایا، قیامت کے روز وحشی جانوروں کو جمع کیا جائے گا یہاں تک کہ ان سے ایک دوسرے کا قصاص لیاجائے گا، سینگ والے جانور سے بےسینگ جانور کا بدلہ لیاجائے گا پھر انہیں کہا جائے گا مٹی ہوجاؤ تو وہ مرجائیں گے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے جو کچھ روایت کیا ہے یہ اس سے زیادہ صحیح ہے ہم نے اس کا ذکر مفصل طور پر پہلے کیا ہے سورة انعام میں بھی اس کا کچھ ذکر گزرا ہے۔ جب وحشی جانوروں کی یہ حالت ہے انسانوں کا کیا حال ہوگا ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے، آج صحراؤں میں لوگوں سے الگ تھلگ رہنے اور ان سے دور بھاگنے کے باوجود قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے وہ لوگوں کے ساتھ مل جائیں گے یہ معنی حضرت ابی بن کعب نے بیان کیا ہے۔
Ayah 81:6

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا آگ ہوجائیں گے

واذالبحار سجرت۔ جب سمندروں کو پانی سے بھر دیا جائے گا عرب کہتے ہیں، سجرت الحوض اسجرہ سجرا۔ جب تو اسے بھر دے لغت میں ساجر اور مسجور کا معنی بھرا ہواہونا ہے۔ ربیع بن خیثم نے روایت نقل کی ہے کہ سجرت کا معنی ہے بہنا اروبھرجانا، یہ کلبی اور مقاتل، حسن اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے ابن ابی زمنین نے کہا، سجرت کا معنی ہے بھرجانا اس کے بعد وہ ایک دوسرے کی طرف بہہ پڑیں گے اور وہ سب ایک چیز بن جائیں گے یہی حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے میٹھے سمندر کو نمکین اور نمکین کو میٹھے کی طرف چھوڑاجائے گا یہاں تک کہ وہ بھرجائے گا، ضحاک اور مجاہد سے مروی ہے انہیں کھول دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ایک سمندر بن جائے گا قشیری نے کہا، اس کی صورت یہ ہوگی اللہ تعالیٰ اس پردے کو ہٹا دے گا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے، بینھما برزخ الایبغین۔ الرحمن) ان کے درمیان آڑ ہے وہ ایک دوسرے سے تجاوز نہیں کرتے۔ جب وہ آڑ ختم ہوجائے گی توسمندروں کا پانی کھل جائے گا اور وہ تمام زمین پر پھیل جائے گا اور سب ایک سمندر بن جائیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ جہنمیوں کی گرمی کی وجہ سے ایک سمندر بن جائے گا حضرت حسن بصری، قتادہ اور ابن حیان سے مروی ہے، وہ خشک ہوجائیں گے یہاں تک کہ پانی کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہے گا قشیری نے کہا، یہ سجرت التنور سے مشتق ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب توتندور کو گرم کرے۔ جب اس پر آگ کو مسلط کردیا جائے گا تو اس سے رطوبت ختم ہوجائے گی اس وقت پہاڑوں کو چلایاجائے گا سمندر اور تمام زمین ہموار میدان بن جائے گا کہ پہاڑوں کی مٹی سے سمندروں کی گہرائی کو بھر دیا جائے گا، نحاس نے کہا، اقوال میں اتفاق ہے پہلے ایک دوسرے کی طرف بہیں گے پھر آگ بنادیے جائیں گے پھر خشک ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں : اس وقت پہاڑ چلائے جائیں گے جس طرح قشیری نے ذکر کیا ابن زید، شمر، عطیہ، سفیان، وہب، حضرت ابی، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابن عباس کا یہی نقطہ نظر ہے، ضحاک نے اسے روایت کیا ہے انہیں جلایاجائے گا تو وہ آگ ہوجائیں گے، حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ سورج، چاند اور ستاروں کو سمندر میں پھینک دے گا پھر اللہ تعالیٰ ان پر دوبور ہواچلائے گا وہ اس میں ہواپھونکے گی تو وہ آگ ہوجائیں گے ایک حدیث میں بھی ہے اسی طرح ہے اللہ تعالیٰ سورج، چاند اور ستاروں کو حکم دے گا تو وہ سمندر میں گرپڑیں گے پھر اللہ تعالیٰ دوبور ہواکوبھیجے گا وہ انہیں آگ کی صورت میں بھڑکا دے گی یہی وہ بڑی آگ ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کفار کو سزا دے گا قشیری نے کہا، حضرت ابن عباس نے سجرت کی جو تفسیر اوقدت سے کی ہے یہ احتمال موجود ہے کہ جہنم سمندر کی گہرائیوں میں ہو دنیا کا نظام چلانے کے لیے آج اسے روشن نہیں کیا گیا جب دنیاختم ہوجائے گی تو سب آگ بن جائیں گے جس میں اللہ تعالیٰ جہنمیوں کو داخل کرے گا یہ بھی احتمال ہے کہ سمندر کے نیچے آگ ہو پھر اللہ تعالیٰ تمام سمندروں کو روشن کردے گا تو یہ سب آگ بن جائیں گے حدیث میں ہے البحر نار من نار سمندرآگوں میں سے ایک آگ ہے۔ معاویہ بن سید نے کہا : بحر روم زمین کا درمیان ہے اس کے نیچے تانبے کے بند کنویں ہیں جنہیں قیامت کے روز آگ کی صورت میں بھڑکا دیا جائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے سورج سمندر میں گرایا جائے گا تو سورج کی گرمی سے سمندر آگ بن جائیں گے پھر اس میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں یہ بھی جائز ہے کہ یہ قیامت سے پہلے ہوا اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ایک ہوا اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ قیامت کے روز ہو ان آیات کے بعد جو کچھ ہے وہ قیامت کے روز ہوگا۔ میں کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے سمندر کے پانی سے وضو نہیں کیا جائے گا کیونکہ جہنم کا ایک طبق ہے حضرت ابی بن کعب نے کہا، چھ آیات قیامت کے وقوع سے قبل کی ہیں اس اثنا میں کہ لوگ بازاروں میں ہوں گے کہ سورج کی روشنی چلی جائے گی ستارے ظاہر ہوجائیں گے وہ متحیر و دہشت زدہ ہوجائیں گے وہ اس حال میں دیکھ رہے ہوں گے کہ ستارے ٹوٹ گریں گے وہ اس حال میں ہوں گے کہ پہاڑ زمین پر گرپڑیں گے زمین میں حرکت برپا ہوگی اور زلزلہ واقع ہوگا اور آگ لگ جائے گی تو وہ بکھرے ذرات ہوجائیں گے انسان جنوں کی جانب اور جن انسانوں کی جانب بھاگیں گے، عام جانور، وحشی جانور، کیرے مکوڑے اور پرندے خلط ملط ہوجائیں گے، بعض بعض میں موجزن ہوجائیں گے مابعد آیت کا یہی مفہوم ہے۔ واذالوحوش حشرت۔ پھر جن انسانوں کو کہیں گے، ہم تمہارے پاس خبرلائے ہیں وہ سمندر کی طرف جائیں گے تو وہ بھڑکی ہوئی آگ ہوگی وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ زمین ساتویں زمین تک پھٹ جائے گی اور آسمان ساتویں آسمان تک پھٹ جائے گا وہ اس حالت میں ہوں گے کہ ہوا آئے گی وہ سب کو ہلاک کردے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، سجرت کا معنی ہے اس کا پانی سرخ کردیا جائے گا یہاں تک کہ وہ خون کی طرح ہوجائے گا یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، عین سجرائ، سرخ آنکھ۔ ابن کثیر نے اسے سجرت پڑھا ہے ابوعمرو نے بھی اسی طرھ پڑھا ہے یہ اس کی حالت کے بارے میں ایک دفعہ کی خبر ہے باقی قراء نے اسے مشدد پڑھا ہے اس میں اسے بار بار خبردی گئی ہے۔
Ayah 81:7

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب روحیں (بدنوں) سے ملا دی جائیں گی

واذالنفوس زوجت۔ نعمان بن بشیر نے کہا، کہ نبی کریم نے فرمایا، واذالنفوس زوجت کا معنی ہے ہر آدمی کو اس جماعت کے ساتھ ملا دیا جائے گا جو اس جیسا عمل کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا، فاجر کو فاجر کے ساتھ اور صالح کو صالح کے ساتھ ملا دیا جائے گا، حضر تابن عباس نے فرمایا : یہ اس وقت ہوگا جب لوگ تین جماعتیں ہوں گی، سابقون ایک جماعت ہوں گے، اصحاب یمین ایک جماعت ہوں گے اور اصحاب شمال ایک جماعت ہوں گے انہیں سے ایک قول یہ بھی مروی ہے مومنوں کے نفوس کو حور عین کے ساتھ ملایاجائے گا، کافروں کو شیاطین کے ساتھ ملایاجائیگا یہی صورت حال منافقون کی ہوگی، ان سے ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ ہر ایک جنتی اور جہنمی کو اس کی مثل کے ساتھ ملا دیا جائے گا جو اعلانیہ طاعت کرتا تھا اس کو اس کی مثل کے ساتھ، درمیانے کو اس کی مثل کے ساتھ، نافرمان کو اس کی مثل کے ساتھ ملا دیا جائے گا ،۔ تزویج کا معنی یہ ہے کہ ایک شی کو اس کی مثل کیساتھ ملادیاجائے۔ معنی یہ ہوگا جب نفوس کو جنت اور دوزخ میں اس کی مثل کے ساتھ ملا دیا جائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے ہر ایک کو اسی بادشاہ یا حاکم کے ساتھ ملا دیا جائے گا جس کے ساتھ وہ دنیا میں رہتا تھا، جس طرح ارشاد فرمایا، احشروالذین ظلموا وازواجہم۔ الصافات 22) ظالموں اور ان کی مثل کو جمع کرو۔ عبدالرحمن بن زید نے کہا، انہیں ان کے اعمال کے مشابہ جوڑے بنا دیا جائے گا وہاں حقیقت میں کوئی جوڑا نہیں، اصحاب یمین ایک جوڑا ہیں، اصحاب شمال ایک جوڑا ہیں، سابقون ایک جوڑا ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، احشروالذین ظلموا وازواجہم۔ ظالموں میں ان کی امثال کو جمع کردو۔ عکرمہ نے کہا، اس کا معنی ہے روحوں کو جسموں کے ساتھ ملا دیا جائے گا، یعنی روحوں کو جسموں کی طرف پھیر دیا جائے گا، حضرت حسن بصری نے فرمایا، ہر ایک و اس کی جماعت کی ساتھ لاحق کردیاجائیگا، یہودی کو یہودی کے ساتھ، نصاری کو نصاری کے ساتھ اور مجوسیوں کو مجوسیوں کے ساتھ، جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کیا کرتا تھا اسے اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا، منافقین کو منافقین کے ساتھ ملا دیا جائے گا، اور مومنوں کو مومنوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، گمراہ کو اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا، جس نے اسے گمراہ کیا ہوگا وہ شیطان ہو یا انسان ہوقدرے مشترک بغض اور عداوت ہوگی، مطیع کو اس آدمی کے ساتھ ملا دیا جائے گا جس نے اسے طاعت کی طرف بلایا وہ نبی ہو یا مومن ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ ملا دیا جائے گا ان اعمال کے اس کے ساتھ خاص ہونے کی وجہ سے تزویج کا نام دیا ہے۔
Ayahs 81:8–9

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی ؟

واذالمودۃ سئلت۔ بای ذنب قتلت۔ مودۃ مقتولہ سے مراد وہ بچی ہے جس کو زندہ دفن کردیا گیا ہو اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس پر مٹی ڈالی جاتی ہے تو وہ مٹی اسے دبالیتی ہے تو وہ بچی مرجاتی ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ولایودہ حفظھما، البقرہ 255) آسمانوں اور زمین کی حفاظت اسے بوجھل نہیں کرتی۔ متمم بن نویرہ نے کہا، موء دوۃ مقبورہ فی مفازۃ۔ وہ جنگل میں مدفون ومقبور ہے۔ وہ بچیون کو دو وجہوں سے زندہ درگور کیا کرتے تھے وہ کہتے، فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں وہ اپنی بیٹیوں کو اس کے ساتھ ملادیتے۔ انہیں یاتوتنگ دستی کا خوف رہتا تھا یا گرفتار ہوجانے اور غلامی کا خوف ہوتا۔ سورة نحل میں ام یدسہ فی التراب۔ نحل 59) میں یہ بحث مکمل گزرچکی ہے اشراف ایسا نہ کیا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی اس سے روکتے تھے یہاں تک کہ فرزدق نے اس پر فخر کیا اور کہا، ومنا الذی منع الوائدات، فاحیا الوئید فلم یواد۔ ہم میں سے وہ لوگ ہوگزرے ہیں جو زندہ درگور کرنے والیوں کو روکتے تھے پس اس نے زندہ درگور کی جانے والی کو زندگی عطا کی اور اسے زندہ درگور نہ کیا۔ فرزدق کی مراد اس کا داد ہے جس کا نام صعصعہ تھا وہ بچیوں کو ان کے والدین سے خرید لیتا اسلام لایا اس نے ستر بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا، حضرت ابن عباس نے کہا، دور جاہلیت میں ایک عورت پر جب وضع حمل کا وقت آتا تو وہ ایک گڑھا کھودتی اور اس گڑھے کے کنارے بچہ جنتی، اگر وہ بچی ہوتی تو اسے گڑھے میں پھینک دیتی اور اس پر مٹی ڈال دیتی اگر بچہ جنتی تو اسے روک لیتی۔ قتادہ نے کہا، دور جاہلیت میں ایک آدمی اپنی بیٹی کو قتل کرتا اور اپنے کتے کو کھلا دیتا اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب کیا اور اس کے ارشاد کے ساتھ انہیں دھمکی دی۔ حضرت عمر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا قیس بن عاصم نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ، میں نے دور جاہلیت میں آٹھ بیٹیوں کو زندہ درگور کیا تھا فرمایا، ہر ایک جانب سے ایک غلام آزاد کردے۔ عرض کی یارسول اللہ میں تواونٹوں والا ہوں فرمایا اگر چاہے تو ہر ایک کی جانب سے ایک اونٹ کی قربانی کردے۔ اس بچی سے سوال کرنے میں حکمت یہ ہے کہ قاتل کو شرمندہ کیا جائے جس طرح جب بچے کو ماراجائے تو بچے سے پوچھا جائے، تجھے کیوں مارا گیا تیرا گناہ کیا تھا، حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ قاتل کو شرمندہ کرے کیونکہ اس بچی کو بغیر گناہ کے قتل کیا گیا تھا، ابن اسلمی نے کہا کس گناہ میں تجھے مارا گیا وہ اس بچی کو مارا کرتے تھے ایک اہل علم نے سئلت کا معنی طلبت کیا ہے گویا یہ ارادہ کیا کہ جس طرح مقتول کے قصاص کا مطالبہ کیا جاتا ہے اس کے قصاص کا مطالبہ کیا جائے گا یہ اس طرح ہے جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے، وکان عھد اللہ مسئولا۔ (الاحزاب) اللہ تمہارے ساتھ کیے ہوئے عہد کے بارے میں باز پرس ہوگی، گویا ان سے مطالبہ کیا جائے گا ان سے پوچھاجائے گا تمہاری اولادیں کہاں ہیں ؟ ضحاک اور ابوضحا نے جابر بن زید اور ابوصالح سے روایت نقل کی ہے کہ بچی اپنے باپ سے چمٹ جائے گی وہ پوچھے گی، کس گناہ کی پاداش میں تو نے مجھے قتل کیا ؟ تو باپ کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے آپ اسے واذالمودۃ سالت پڑھتے۔ حضرت ابی کے مصحف میں بھی اسی طرح ہے عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا وہ عورت جو اپنے بچے کو قتل کرتی تھی قیامت کے روز آئے گی اس کا بچہ اس کے پستان سے چمٹا ہوگا جب کہ اپنے خون میں لت پت ہوگا اور وہ عرض کرے گا اے میرے رب یہ میری ماں ہے اس نے مجھے قتل کیا ہے پہلاقول جمہور کا نقطہ نظر ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے جو اس نے حضرت عیسیٰ سے فرمایا، ءانت قلت للناس (المائدہ 116) کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا، کیونکہ یہ عمل گناہ کے بغیر صحیح نہیں وہاں کون سا گناہ تھا جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ کوئی گناہ نہیں تھا یہ امتحان میں بہت بڑھ کر ہوگا اور قاتل کے خلاف بہت بڑی دلیل ہوگی۔ واللہ اعلم۔ اسے قتلت بھی پڑھا گیا ہے اس میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ مشرکوں کے بچے عذاب میں مبتلا نہیں کیے جائیں گے اور عذاب کا استحقاق گناہ کے بغیر نہیں ہوتا۔
Ayah 81:10

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

واذالصحف نشرت۔ انہیں کھول دیا جائے گا جبکہ وہ پہلے لپٹے ہوئے تھے اس سے مراد وہ صحیفے ہیں جو فرشتے لکھتے رہے جن میں ان لوگوں کے اچھے برے اعمال درج ہوں گے جن کو موت کے موقع پر لپیٹ دیا جائے گا اور قیامت کے روز انہیں پھیلا دیا جائے گا ہر انسان اپنے صحیفے پر کھڑا ہوگا اس میں جو کچھ ہوگا وہ اسے جانتا ہوگا وہ کہے گا اس کتاب کو کیا ہوا یہ کوئی چھوٹا بڑاعمل نہیں چھوڑتی مگر اس نے اسے شمار کررکھا ہے مرثد بن وداعہ نے روایت نقل کی ہے جب قیامت کا روز ہوگا توعرش کے نیچے سے صحیفے اڑیں گے مومن کا صحیفہ اس کے ہاتھ میں ہوگا، اس کا ذکر، فی جنۃ عالیہ، قطوفھا دانیہ، کلوواشربوا ھنیئا بما اسلفتم فی الایام الخالیہ (الحاقہ) تک ہے کافر کا صحیفہ اس کے ہاتھ میں ہوگا اس کا ذکر فی سموم وحمیم، وظل من یحموم، لابارد ولاکریم۔ الواقعہ) میں ہے حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو ننگے پاؤں اور ننگے بدن اٹھایاجائے گا میں نے عرض کی یارسول اللہ عورتوں کا کیا حال ہوگا ؟ فرمایا، اے ام سلمہ لوگوں کو غافل کردیا جائے گا میں نے عرض کیا کس نے انہیں اس سے غافل کیا، فرمایا صحیفوں کے پھیلنے نے جن میں ذرہ اور رائی کے برابر اعمال لکھے ہوں گے، اس کا ذکر ابوثوارد عددی کے قول جو سورة سبحانہ میں ہے ہوچکا ہے ان کا دو دفعہ کھلنا اور ایک دفعہ لپیٹنا ہے اے ابن آدم جس میں تجھے مہلت دی گئی ہے وہ تیرا پھیلایا گیا صحیفہ ہے اس میں جو جی چاہے املاء کر اجب تو مرجائے گا تو اسے لپیٹ دیا جائے گا جب تجھے دوبارہ اٹھایاجائیگا تو اسے پھیلا دیا جائے گا۔ اقراء کتابک بنفسک الیوم علیک حسیبا۔ الاسرائ) اپنی کتاب پڑھ آج تیرے لیے وہی کافی ہے، مقاتل نے کہا، جب کوئی آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس کا نامہ عمل لپیٹ دیا جاتا ہے اور جب قیامت کا دن ہوتا ہے تو اسے پھیلادیا جاتا ہے، حضرت عمر سے مروی ہے جب آپ اس آیت کو پڑھتے تو فرماتے، اے انسان معاملہ تیرے سپرد کردیا گیا ہے، نافع، ابن عامر، عاصمہ اور ابوعمرو نے اسے نشرت پڑھا ہے حجت قائم کرنے کے لیے صرف ایک دفعہ پھیلایا جائے گا، باقی قراء نے اسے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ نشر، کئی دفعہ ہوگا، نافرمانی کو تنبیہ اور مطیع کو بشارت میں مبالغہ کے لیے ایسا ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا ہے انسان اور گواہ فرشتوں کی جانب سے عمل باربار ہونے کی وجہ سے فعل کو مشددذکر کیا جائے گا۔
Ayah 81:11

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی

واذالسماء کشطت۔ کشط سے مراد یہ ہے جو چیز کسی کے ساتھ سختی سے چمٹی ہوئی ہو اس کو کھینچ لینا، آسمان سے چمڑا اس طرح ادھیڑ لیاجائے گا جس طرح مینڈھے اور دوسرے جانوروں سے چمڑا اتارلیا جاتا ہے، قشط بھی اس میں ایک لغت ہے حضرت عبداللہ کی قرات میں، اذالسماء قشطت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے کشطت البعیر کشطا میں نے اس کے چمڑے کو اتاراسلحتہ نہیں کہا جاتا کیونکہ عرب اونٹ کے بارے میں کشطتہ اور جلدتہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ انکشط کا معنی ہے چلا گیا آسمان کو اپنی جگہ سے ہلا دیا جائے گا جس طرح پردہ کو اس سے ہٹادیا جاتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے لپیٹ دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب۔ الانبیاء 104) اس روز ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جس طرح سجل کتابوں کو لپیٹ دیتی ہے گویا معنی ہے چمڑے کو اتار دیا جائے گا اور لپیٹ دیا جائے گا۔
Ayah 81:12

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی

واذالجحیم سعرت۔ جب جہنم کو روشن کیا جائیگا کفار کے لیے دہکایا جائیگا اور اس کے گرم کرنے میں اضافہ کیا جائیگا یہ جملہ بولا جاتا ہے، سعرت النار، اسعر تھا، عام قراء کی قرات تخفیف کے ساتھ ہے جو سعیر سے مشتق ہے۔ نافع، ابن ذکوان، اور رویس نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اسے بار بار روشن کیا جائے گا، قتادہ نے کہا، جہنم کو اللہ تعالیٰ کا غضب اور انسانوں کی خطائیں اسے بھڑکائیں گی ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا، آگ کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا تو وہ سرخ ہوگئی پھر اسے ایک ہزار تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اسے ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا تو وہ سیاہ ہوگئی وہ سیارہ تاریک ہے وہ موقوف ہے۔
Ayah 81:13

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب بہشت قریب لائی جائے گی

واذالجنۃ ازلفت۔ جنت متقین کے قریب کردی جائے گی، حضرت حسن بصری نے کہا، جنتیوں کو جنت کے قریب کیا جائیگا وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلے گی، حضرت عبدالرحمن بن زید نے کہا اسے قریب کیا جائے گا، زلفی کلام عرب میں قربت کے معنی میں ہے، تزلف فلان یعنی فلان قریب ہوگیا۔
Ayah 81:14

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

علمت نفس ما احضرت۔ نفس جان لے گا جو اس نے اچھا اور براعمل کیا، یہ اذالشمس کورت، اور اس کے مابعد کا جواب ہے، حضرت عمر نے فرمایا، اسی لیے یہ گفتگو ہوئی حضرت ابن عباس اور حضرت عمر کے بارے میں مروی ہے دونوں نے ان آیات کو پڑھا، جب علمت نفس ما احضرت تک پہنچے تو دونوں نے کہا، اس مقصد کے لیے یہ قصہ چلایا گیا ہے معنی یہ ہوگا جب سورج بےنور ہوجائے گا اور یہ امور ہوجائیں گے تو نفس اپنے اعمال کو جان لے گا۔ صحیین میں حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا، وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو وہ اپنے اعمال پائے گا وہ اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو وہ اپنے اعمال دیکھے گا پس آگ اس کا استقبال کرے گی جو آدمی یہ طاقت رکھے کہ وہ آگ سے بچے خواہ وہ کھجور کے ایک حصہ کے ساتھ تو وہ ایسا کرے، حضرت حسن بصری نے کہا، اذالشمس کورت، قسم ہے، جو علمت نفس ما احضرت۔ پر واقع ہے۔ جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، جب زید بھاگا تو عمر بھی بھاگا، پہلاقول زیادہ صحیح ہے، ابن زید نے حضرت ابن عباس سے یہ قول نقل کیا ہے، اذالشمس کورت، سے لے کر واذالجنۃ ازلفت۔ تک بارہ چیزیں ہیں چھ دنیا میں اور چھ آخرت میں ہوں گی۔ میں نے حضرت ابی بن کعب کے قول سے پہلی چھ کی وضاحت کردی ہے۔
Ayahs 81:15–16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہوجاتے ہیں

فلا اقسم بالخنس۔۔۔ تا۔۔۔ بمجنون۔ فلا اقسم بالخنس الجوار الکنس۔ لازائدہ ہے یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں جس طرح یہ بات گزرچکی ہے، پانچ بڑے ستارے مراد ہیں، زحل، مشتری، عطارد، مریخ اور زہرہ۔ جس طرح مفسرین نے ذکر کیا ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، حضرت علی سے یہی مروی ہے، تمام ستاروں سے صرف انہیں کا خصوصا ذکر کرنا دو وجوہ سے ہے۔ ایک یہ کہ سورج کے بالمقابل ہوتے ہیں یہ بکر بن عبداللہ مزنی نے کہا۔ دوسرے یہ کہکشاں کو طے کرتے ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا، اس سے مراد ستارے ہیں جو دن کے وقت چھپ جاتے ہیں، حضرت علی سے یہی مروی ہے فرمایا اس سے مراد ستارے ہیں جو دن کو چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوجاتے ہیں، اور غروب کے وقت آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ مخفی ہوتے ہیں تو وہ دکھائی نہیں دیتے۔ صحاح میں ہے، خنس سے مراد تمام ستارے ہیں کیونکہ وہ غائب ہوجانے کے ساتھ پیچھے ہوجاتے ہیں یا دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد سیاہ رات ہیں وہ ستارے نہیں جو ایک ہی جگہ پر رہتے ہیں، فراء نے ان آیات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ان سے پانچ ستارے مراد ہیں، زحل، مشتری، مریخ، زہرہ، اور عطارد کیونکہ وہ اپنی گزرگاہ میں پیچھے ہوجاتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں جس طرح ہرن مغار میں چھپ جاتا ہے مغار سے مراد اس کاٹھکانہ ہے جو وہ شاخوں سے بنالیتا ہے یہ قول بھی کیا جاتا ہے، انہیں خنس اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ ان سے مراد وہ ستارے ہیں جو متحیر ہوتے ہیں جو لوٹتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں، یوں جملہ بولا جاتا ہے، خنس عنہ یخنس خنوسا، پیچھے ہٹ جانا، اخنسہ غیرہ، جب اسے پیچھے کیا اور اس سے آگے گزر گیا، خنس ناک کا چہرے سے پیچھے ہونا جبکہ سرے سے کچھ بلند ہو، اس طرح یہ لفظ بولا جاتا ہے، الرجل اخنس المراۃ خنسائ، البقرہ کلھا خنس۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ اس سے مراد وحشی گائیں ہیں، ہشیم نے زکریا سے وہ ابواسحق سے وہ ابومیسرہ سے عمرو بن شرجیل سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا، تم عرب قوم ہو یہ خنس کیا ہوتا ہے میں نے جواب دیا وحشی گائے۔ کہا، میری رائے بھی یہی ہے۔ یہی حضرت جابر اور ابراہیم کا نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحشی گائیوں کی قسم اٹھائی ہے ان سے حضرت عکرمہ نے روایت نقل کی ہے کہ خنس سے مراد گائے اور کنس سے مراد ہرن ہیں جب وہ انسان کو دیکھتے ہیں تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں، سکڑتے ہیں اور اپنے ٹھکانے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ خنس جو ناک میں ہوتا ہے اس سے مراد ناک کے سرے کا پیچھے ہونا اور بانسے کا چھوٹا ہونا، گائے اور ہرن کے ناک اسی طرح چپکے ہوتے ہیں، زیادہ صحیح یہ ہے کہ انہیں ستاروں پر محمول کیا جائے کیونکہ اس کے بعد رات اور صبح کا ذکر ہے ستاروں کا ذکر اس کے زیادہ مناسب ہے۔ میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنی مخلوقات میں سے جس کی چاہے قسم اٹھائے وہ حیوان ہو، جماد ہو اگرچہ اس کی حکمت کی وجہ کا علم نہ ہو۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر بن عبداللہ سے یہ مروی ہے جبکہ دونوں صحابی ہیں اور امام نخعی سے مروی ہے کہ اس سے مراد وحشی گائے ہے حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد ہرن ہیں۔ حجاج بن منذر نے کہا، میں نے جابر بن زید سے الجواری الکنس کے بارے میں پوچھا فرمایا، ہرن اور گائے۔ یہ کوئی بعید نہیں کہ اس سے مراد ستارے ہوں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد فرشتے ہیں یہ ماوردی نے ذکر کیا، کنس کا معنی غائب ہونا ہے یہ کناس سے ماخوذ ہے اور اس سے مراد وحشی جانور کا وہ ٹھکانہ ہے جس میں وہ چھپ جاتا ہے۔ اوس بن حجر نے کہا : الم تران اللہ انزل مزنہ، وعفر الظباء فی الکناس تقمع۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بارش کو نازل کیا، جبکہ ہر نوں میں سے عفر، (ایک قسم کا ہرن) اپنے ٹھکانے میں سرہلارہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کنوس کا معنی اپنے اپنے ٹھکانوں میں پناہ لیتا، اس سے مراد وہ جگہیں ہیں جہاں وحشی جانور اور ہرن پناہ لیتے ہیں۔ کنس یہ کا نس اور کا نسہ کی جمع ہے اسی طرح خنس، خانس اور خانسہ کی جمع ہے، جواری یہ جاریہ کی جمع ہے یہ جری یجری سے مشتق ہے۔
Ayah 81:17

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

والیل اذاعسعس۔ فراء نے کہا، مفسرین نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ عسعس کا معنی پیٹھ پھیرنا ہے، جوہری نے یہ حکایت بیان کی ہے ہمارے ایک ساتھی نے کہا، وہ اپنے پہلے حصہ کے قریب ہوگئی اور تاریک ہوگئی اسی طرح جب بادل زمین کے قریب ہوتا ہے تو تاریک ہوتا ہے، مہدوی نے کہا، والیل اذاعسعس کا معنی ہے قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ پلٹ جائے یہ حضرت ابن عباس مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے، ان دونوں سے حضرت حسن بصری سے اور دوسرے علماء سے یہ بھی مروی ہے جب وہ اپنی تاریکیوں کے ساتھ آرہی ہو، زید بن اسلم نے کہا، عسعس کا معنی جانا ہے، فراء نے کہا عرب کہتے ہیں عسعس وسعسع جب اس سے تھوڑی سی تاریکی رہ جائے، خلیل اور دوسرے علماء نے کہا، عسعس اللیل جب وہ تاریکی آئے یا واپس پلٹے، مبرد نے کہا، اضداد میں سے ہے دونوں معانی ایک کی طرف لوٹتے ہیں رات کے اول حصہ میں تاریکی کا شروع ہونا اور اس کے آخری حصہ میں اس کا پلٹنا، علقمہ بن قرط نے کہا، حتی اذا الصبح لھا تنفسا، وانجاب عنھا لیلھا وعسعسا۔ یہاں تک کہ صبح نے اس کے لیے سانس لی اور اس کی رات اس سے چھٹی اور پلٹی۔ ماوردی نے کہا : عس کا اصل معنی بھرجانا ہے اسی وجہ سے بڑے پیالے کو عس کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اندر موجود چیز سے بھرا ہوتا ہے، اس لفظ کا اطلاق رات کے آنے پر ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بھرنے کی ابتدا ہوتی ہے اس کا اطلاق اس کے پلٹنے پر بھی ہوتا ہے کیونکہ اس کے بھرنے کی انتہا ہوتی ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہی اس کا بھرنا مکمل ہوتا ہے۔ جہاں تک امراء القیس کا یہ قول ہے، الما علی الربع القدیم بعسعسا۔ اس میں عسعس جگہ کا نام ہے۔ عسعس ایک آدمی کا نام بھی ہے، رجز نے کہا، عسعس نعم الفتی، تبیاہ، عسعس کتنا اچھا نوجوان ہے جس پر تواعتماد کرتا ہے۔ بھیڑیے کو عسعس، عسع اس اور عساس کہتے ہیں کیونکہ وہ رات کو تلاش کرتا ہے۔ قنافذ (گندگی والاکیڑا) کو عسع اس کہتے ہیں کیونکہ یہ رات کے وقت آتا جاتا ہے۔ ابوعمرو نے کہا، تعسعس کا معنی سونگھنا ہے اور یہ مصرعیہ پڑھا۔ کمنخر الذئب اذا تعسعسا۔ بھیڑیے کے نتھنے کی طرح جب وہ سونگھے۔ تعسعس کا معنی رات کے وقت شکار تلاش کرنا بھی ہوتا ہے۔
Ayah 81:18

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

والصبح اذا تنفس۔ صبح کی قسم جب وہ پھیل جائے یہاں تک کہ روشن ہوجائے دن جب خوب چڑھ جائے تو کہتے ہیں تنفس اسی طرح موج جب پانی باہر پھینکے، تنفس کا معنی ہوا کا پیٹ سے نکلنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اذا تنفس کا معنی ہے جب وہ پھٹے اسی سے تنفس القدس کا لفظ استعمال ہوتا ہے جب وہ ٹوٹ جائے۔
Ayah 81:19

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بیشک یہ (قرآن) فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

انہ لقول رسول کریم۔ یہ جواب قسم ہے اور رسول کریم سے مراد جبرائیل امین ہیں یہی حضرت حسن، ضحاک، اور قتادہ کی طرف مضاف کیا جاتا ہے پھر اپنے اس ارشاد کے ساتھ کی نفی کردی، تنزیل من رب العالمین۔ الواقعہ) تاکہ اہل تحقیق کو معلوم ہوجائے کہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ رسول سے مراد حضور کی ذات ہے۔
Ayahs 81:20–21

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو صاحب قوت مالک عرض کے ہاں اونچے درجے والا سردار

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

(اور) امانتدار ہے

ذی قوۃ۔ جس نے رسول سے مراد جبرائیل امین لی ہے آپ کی قوت تو ظاہر ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ان کی قوت کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے قوم لوط کی بستیوں کو پروں کے قوادم سے اکھاڑ دیا تھا۔ عند ذی العرش مکین، مطاع امین۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے مرتبہ والے ہیں، حضرت ابوصالح سے مروی ہے کہ وہ ستر خیموں میں بغیر اجازت داخل ہوتے ہیں ان کی آسمانوں میں اطاعت کی جاتی ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا اس معنی ہے فرشتے حضرت جبرائیل امین کی اطاعت کرتے ہیں جب وہ رسول اللہ کو معراج پرلے گئے تو حضرت جبرائیل امین نے رضوان فرشتہ جو جنت کے خازن تھے سے فرمایا، آپ کے لیے دروازہ کھول دو ، اس نے دروازہ کھول دیا آپ داخل ہوئے اور جنت میں جو نعمتیں تھیں انہیں دیکھا آپ نے جہنم کے داروغے سے کہا، آپ کے لیے جہنم کا دروازہ کھول دو یہاں تک کہ آپ اسے دیکھ لیں اس نے اس کی اطاعت کی اور دروازہ کھول دیا۔ حضرت جبرائیل اس وحی کے بارے میں امین ہیں جس وحی کو لے کر وہ آتے ہیں جس نے ان الفاظ کا مصداق نبی کریم کی ذات کو بنایا تو اس وقت ذی قوہ کا معنی ہے رسالت کی تبلیغ میں قوی ہیں۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ آپ کی بھی اطاعت کرتا ہے۔
Ayah 81:22

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمد) دیوانے نہیں ہیں

وماصاحبکم بمجنون۔ یعنی حضرت محمد ﷺ مجنون نہیں یہاں تک کہ ان کے قول میں تہمت لگائی جائی، یہ جواب قسم ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے نبی کریم نے ارادہ کیا کہ آپ جبرائیل امین کو اس صورت میں دیکھیں جس صورت میں وہ اپنے رب کے پاس ہوتے ہیں حضرت جبرائیل امین نے عرض کی، اس میں میرا اختیار نہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں اجازت دی، جبرائیل امین آپ کے پاس آئے جبکہ آفاق کو بھرا ہوا تھا جب نبی کریم نے انہیں دیکھا تو آپ پر غشی طاری ہوگئی مشرکوں نے کہا، وہ تو مجنون ہے تو یہ آیات نازل ہوئیں نبی کریم نے حضرت جبرائیل امین کو ان کی صورت پر دیکھا اور آپ اس سے ڈر گئے وہ آپ کی خدمت میں اس طرح وارد ہوئے جس کا ان کے ارادہ میں احتمال تک نہ تھا تو آپ بےہوش ہوکرگرپڑے۔
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

بیشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے کنارے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے

ولقد راہ بالافق المبین۔۔۔ تا۔۔۔ رب العالمین۔ ولقد راہ بالافق المبین۔ رسول اللہ نے جبرائیل امین کو ان کی اصلی حالت میں دیکھا جن کے چھ سو پر ہیں یعنی مشرق کی جانب سورج کے ہونے کی جگہ۔ کیونکہ یہ افق جب سورج اس سے طلوع ہوتا ہے تو وہ افق پر روشن ہوجاتا ہے یعنی اس جہت میں اشیاء کو دیکھاجاسکتا ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے افق مبین سے مراد آسمان کی اطراف ہیں۔ شاعر نے کہا : اخذنا بافاق السماء علیکم، لنا قمراھا والنجوم الطوالع۔ ہم نے تمہارے خلاف آسمان کی اطراف کو اپنی گرفت میں لے لیا ہمارے لیے اس کے دو چاند اور روشن ستارے ہیں۔ ماوردی نے کہا، اس تاویل کی بنا پر اس میں تین قول ہیں، رسول اللہ نے جبرائیل امین کو آسمان کے مشرقی افق پر دیکھا، یہ سفیان کا قول ہے۔ آسمان کے مغربی افق پر دیکھایہ ابن شجرہ نے بیان کیا ہے، اجیاد کی جانب سے دیکھا، یہ مکہ مکرمہ کا مشرق ہے، یہ مجاہد کا قول ہے، ثعلبی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم نے جبرائیل سے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ میں تجھے ایسی صورت میں دیکھوں جس میں تو آسمان میں ہوتا ہے، حضرت جبرایل امین نے کہا، آپ اس پر قدرت نہ رکھیں گے، فرمایا کیوں نہیں عرض کی، آپ کہا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے لیے وہ صورت بناؤں فرمایا، ابطح میں۔ عرض کی وہ تو مجھے احاطہ نہیں کرسکتی فرمایا منی میں عرض کی وہ میرے لیے کافی نہیں، فرمایا عرفات میں عرض کی وہ اس قابل ہے کہ مجھے احاطہ میں لے لے۔ حضرت جبرائیل امین نے ان سے وعدہ کرلیا۔ نبی کریم مقررہ وقت پر تشریف لے گئے کیا دیکھتے ہیں کہ وہ عرفات کے پہاڑوں سے جھنکار کے ساتھ آئے جبکہ انہوں نے مشرق ومغرب کو بھرا ہوا تھا ان کا سر آسمان میں تھا اور قدم زمین میں تھے جب نبی کریم نے انہیں دیکھا تو بےہوش ہوکرزمین پر گر پڑے حضرت جبرائیل امین نے سابقہ صورت بنائی اور آپ کو سینے سے لگایا اور کہا اے محمد خوف نہ کھائیے آپ کا کیا حال ہوتا اگر آپ اسرافیل کو دیکھتے جبکہ ان کا سر تخت کے نیچے اور ان کے قدم ساتویں زمین تک پہنچے ہوئے ہوتے عرش ان کے کندھے پر ہوتا، بعض اوقات اللہ کے خوف سے کمزور ہوجاتے ہیں یہاں کہ وہ ایک چڑیا کی صورت میں ہوتے ہیں یہاں تک کہ تیرے رب کے عرش کو اس کی عظمت ہی اٹھائے ہوئے ہوتی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے رسول اللہ نے افق مبین پر اپنے رب کو دیکھا، حضرت ابن مسعود کا قول بھی یہی ہے، سورة النجم میں یہ بحث مکمل گزرچکی ہے اسے وہاں سے غور سے پڑھ لے۔ المبین میں دو قول ہیں ان میں سے ایک افق کی صفت ہے یہ ربیع کا قول ہے۔ دوسرا یہ ہے یہ اس کی صفت ہے جس کو انہوں نے دیکھا یہ مجاہد کا قول ہے۔
Ayah 81:24

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں

وماھواعلی الغیب بضنین۔ ابن کثیر، ابوعمرو اور کسائی کی قرات میں ظنین ہے یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں، ظنہ کا معنی تہمت ہے، شاعر نے کہا، اما و کتاب اللہ لاعن شناء ۃ، ھجرت ولکن الظنین ظنین۔ خبردار کتاب اللہ کی قسم مجھے کسی دشمن کی وجہ سے نہیں چھوڑا گیا مگر متہم متہم ہوتا ہے۔ ابوعبید نے اسے اختیار کیا ہے کیونکہ انہوں نے آپ کو بخیل قرار نہیں دیا، بلکہ آپ کو جھٹلایا کیونکہ عربوں کا کلام یوں ہوتا ہے، ماھو بکذا، وہ ماھوعلی کذا نہیں کہتے، وہ کہتے ہیں، ماانت علی ھذابمتھم، باقی قراء نے اسے بضنین پڑھا ہے۔ یعنی آپ بخیل نہیں ہیں یوں باب چلایا جاتا ہے، ضننت بالشئی اضن ضننا فھوضنین۔ ابن بی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے جو آپ کو علم دیا گیا ہے اس میں تم پر بخل نہیں کرتے بلکہ وہ مخلوقات کو اللہ کا کلام اور اس کے احکام سکھاتے ہیں۔ شاعر نے کہا، اجود بمکنون الحدیث واننی، بسرک عمن سالتی لضنین۔ میں سربستہ رازوں کے بارے میں سخاوت کرنے والا ہوں اور میں تیرے راز کے بارے میں بخل کرنے والا ہوں اس سے جو کوئی اس کے بارے میں مجھ سے سوال کرے۔ الغیب سے مراد قرآن حکیم اور آسمان کی خبریں ہیں پھر یہ حضرت محمد کی صفت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جبرائیل کی صفت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، بظنین کا معنی کمزور ہے فراء نے اور مبرد نے یہ بیان کیا ہے یہ کہا جاتا ہے، رجل ظنین یعنی کمزور آدمی بئرظنون جب اس میں پانی کم ہو۔ ظنون سے مراد ایسا قرض ہے جس کے بارے میں پتہ نہ ہو کیا لینے والا ادا کرے گا یا نہیں ؟ اسی معنی میں حضرت علی کی ایسے آدمی کے بارے میں گفتگو ہے جس کے دین ظنون تھے۔ اگر سچا ہے تو جب اپنے قرض پر قبضہ کرے گا تو گزشتہ عرصہ کی زکوۃ ادا کرے گا، ظنون سے مراد ایسا آدمی ہے جس کے اخلاق برے ہوں یہ مشترک لفظ ہے۔
Ayah 81:25

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

وماھو بقول شیطان الرجیم۔ یعنی قرآن ایسے آدمی کا قول نہیں جو ملعون ہو جسطرح قریش کا کہنا ہے، عطا نے کہا، اس سے مراد شیطان ابیض ہے جو نبی کریم کے پاس حضرت جبرائیل کی صورت میں آتا تھا تاکہ آپ کو آزمائش میں ڈال دے۔
Ayah 81:26

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کدھر جا رہے ہو ؟

فاین تذھبون۔ قتادہ نے کہا، اس سے مراد، تم اس قول سے اور اس کی اطاعت سے کہاں بھٹکے جارہے ہو ؟ معمر نے قتادہ سے یہی روایت نقل کی ہے یعنی تم میری کتاب اور اطاعت سے کہاں بھاگے جارہے ہو، زجاج نے کہا، جو راستہ میں نے تمہارے لیے واضح کیا ہے اس کو چھوڑ کر تم کون سے زیادہ واضح راستہ پر چلو گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے این تذہب کا معنی ہے الی این تذھب فراء نے عربوں سے روایت نقل کی ہے کہ ذھبت شام، خرجت العراق، انطلقت السوق، سب میں الیھا مراد ہے کہا، ہم نے ان تین افعال میں سنا ہے، بنی عقیل میں سے ایک نے کہا : وای الارض تذھب بالصباھ، یعنی الی ای الارض تذھب بالصباح۔ یہاں الی محذوف ہے جنید نے کہا، وہ اس آیت کو دوسری آیت سے ثابت کرتے ہیں۔ وان من شئی الاعندناخزائنہ۔ الحجر 21) اور کوئی نہیں چیز مگر ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں کون سے راستے پر تم چلتے ہو جو اس راستہ سے زیادہ صحیح ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے واضح کیا ہے، یہ زجاج کے قول کا معنی ہے۔
Ayah 81:27

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو جہان کے لوگوں کے لئے نصحیت ہے

ان ھوالاذکرللعالمین۔ یعنی قرآن عالمین کے لیے نصیحت اور تنبیہ ہے، ان، ما، کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے محمد ﷺ سراپا نصیحت ہیں۔
Ayah 81:28

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

(یعنی) اس کیلئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

لمن شاء منکم ان یستقیم۔ تم میں سے جو چاہے حق کی اتباع کرے اور قائم رہے، حضرت ابوہریرہ اور سلیمان بن موسیٰ نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوجہل نے کہا معاملہ ہمارے سپرد ہے چاہیں تواستقامت کا مظاہرہ کریں چاہیں تواستقامت کا مظاہرہ نہ کریں یہی قدر ہے اور ابوجہل قدریہ کا رئیس ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے

وماتشاء ون الاان یشاء اللہ رب العالمین۔ اس امر کو واضح کیا بندہ کوئی بھلائی کا کام نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ممکن ہوتا ہے اور کوئی برائی نہیں کرتا مگر اللہ اللہ تعالیٰ ہی اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے، حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ کی قسم عربوں نے اسلام نہ چاہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے چاہا، وہب بن منبہ نے کہا، اللہ تعالیٰ نے انبیاء پر جو کتابیں نازل کیں ہیں ان میں شامی کتب میں میں نے پڑھا ہے جس نے مشیت کو اپنی طرف منسوب کیا اس نے کفر کیا، قرآن حکیم میں ہے، ولواننا نزلنا۔۔ تا۔۔۔ ان یشاء اللہ۔ الانعام 111) ۔ اگر ہم اتارتے ان کی طرف فرشتے اور باتیں کرنے لگتے ان سے مردے، (قبروں سے اٹھ کر) اور ہم جمع کردیتے ہر چیز کو ان کے روبرو تب بھی وہ ایمان نہ لاتے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ماکان لنفس ان تو من الاباذن اللہ۔ یونس 110) کسی نفس کو اختیار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایمان لائے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشائ۔ القصص 56) جسے ہدایت دینا آپ پسند کرتے ہیں آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے جس کے حق میں چاہتا ہے۔ اس معنی میں یہ آیات کثیر ہیں اس طرح احادیث میں بہت زیادہ ہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے ہدایت دی اور کفر کے وسیلہ سے گمراہ کیا جس طرح پہلے کئی مواقع پر گزرچکا ہے۔