Ayah 79:1والنزعت غرقا
. واؤ قسمیہ ہے ‘ جواب قسم محذوف ہے ‘ یعنی قسم ہے نازعات اور اور ناشطات کی ‘ تم کو ضرور اٹھایا جائے گا اور بلاشبہ تم سے حساب فہمی ہوگی ‘ محذوف جواب پر آئندہ آیت دلالت کر رہی ہے۔
النّٰزِعٰت غرقًا سے مراد ہیں وہ ملائکہ جو کافروں کی جانیں پوری قوّت اور شدت سے نکالتے ہیں۔ . غرقًا اسم ہے لیکن بجائے مصدر کے مستعمل ہے یعنی مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے جیسے : قَعَدْتُّ جلوسًا میں جلوسًا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے۔ اغرق النازع فی القوس ‘ کمان کھینچنے والے نے پوری قوت اور شدت کے ساتھ جہاں تک کھنچاؤ ممکن تھا ‘ کمان کو کھینچا۔
Ayah 79:2والنشطت نشطا
الناشطات نشطًا سے مراد ہیں وہ ملائکہ جو اہل ایمان کی جانیں آہستگی کے ساتھ نکالتے ہیں۔ یہ لفظ نشط الدلو۔ ڈول کو آسانی کے ساتھ بغیر تکلیف کے نکال لیا ‘ کے محاورہ سے ماخوذ ہے یا نشط الحبل سے ماخوذ ہے یعنی رسّی کو اتنا ڈھیلا چھوڑ دیا کہ وہ کھل گئی۔ درحقیقت مؤمن دنیوی مصائب میں گویا بندھا ہوا قیدی ہوتا ہے ملائکہ اس بندش سے اس کو رہا کرتے اور آسانی سے اس کی گرہ کھول دیتے ہیں ‘ جیسے اونٹ کا زانو بند کھول دیا جاتا ہے (اور اونٹ آزاد ہوجاتا ہے) حدیث میں مؤمنوں کی روح کے متعلق آتا ہے کہ گویا ان کا زانوبند کھول دیا گیا اور ان کو رہا کردیا گیا۔ حضرت براء بن عازب ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب مؤمن دنیا سے انقطاع اور آخرت کی طرف توجہ کی حالت میں ہوتا ہے تو آفتاب جیسے گورے چہروں والے ملائکہ جنتی کفن اور بہشتی خوشبو لے کر آتے ہیں اور حد نظر کے فاصلہ پر بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے : اے نفس مطمئنہ ! اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل کر چل ‘ فوراً جان اس طرح بہہ کر باہر آجاتی ہے جیسے مشکیزہ سے پانی کا قطرہ۔ مَلک الموت اس کو لے لیتا ہے مگر وہ ملائکہ لمحہ بھر نفس کو ملک الموت کے پاس نہیں چھوڑتے اور خود اپنے قبضہ میں لے کر جنتی کفن اور بہشتی خوشبو میں رکھ دیتے ہیں اور اس سے پاکیزہ ترین مشک کی خوشبو نکلتی ہے۔ الحدیث۔ اور کافر بندہ جب دنیا سے قطع تعلق کی حالت میں ہوتا ہے تو آسمان سے سیاہ رو ملائکہ ٹاٹ لے کر اسکے پاس آتے ہیں اور بقدر حد نظر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت آکر اسکے سرہانے بیٹھ کر کہتا ہے : اے نفس خبیث ‘ اللہ کے غضب کی طرف نکل کر چل ‘ جان بدن کے اندر دوڑتی پھرتی ہے مگر ملک الموت اس کو اس طرح کھینچ کر نکالتا ہے جیسے خاردار تار تراون سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے آخر اس کو پکڑ لیتا ہے اسکے بعد وہ ملائکہ اس کو لمحہ بھر تاخیر کے بغیر لے لیتے ہیں اور ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں اور اس سے مردار کی بو کی طرح بدبو نکلتی ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ ملک الموت کافر کی جان کو رگوں سمیت کھینچتا ہے۔ (رواہ احمد)
بغوی نے حضرت ابن مسعود کا قول بیان کیا ہے کہ ملک الموت کافر کی جان ‘ ہر بال اور ناخن اور قدموں کے تلووں کے نیچے سے کھینچتا ہے اور جسم کے اندر اس کو لوٹا دیتا ہے پھر کھینچتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب وہ نکلنے کے قریب آجاتی ہے تو پھر بدن کے اندر لوٹا دیتا ہے۔ کافر کی جان کے ساتھ اسکا یہ عمل ہوتا ہے۔ مقاتل نے کہا : ملک الموت اور اسکے مددگار کافر کی جان کو اس طرح کھینچتے ہیں جیسے بہت زیادہ شاخ دار تار اون میں سے کھینچا جاتا ہے۔
فائدہ روایات مذکورہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جسم کثیف کی طرح نفس بھی ایک جسم ہے مگر لطیف جو بدن میں نفوذ کیے ہوئے ہے اور عناصر اربعہ کی پیداوار ہے اور روح وقلب اور دوسرے غیر مادی جواہر ممکنہ کا وجود عالم امر سے تعلق رکھتا ہے اس پر حاکم ہیں۔ چونکہ جواہر مجردہ لطیف اور غیر مادی ہیں ‘ اس لیے کشف کی نگاہ سے ہی عالم مثال میں عرش کے اوپر ان کی ہستی دیکھی جاتی ہے (مادی نظر سے اس عالم خلق میں ان کو نہیں دیکھا جاسکتا) ۔
صوفیہ کہتے ہیں کہ ارواح کے سامنے نفوس کو اللہ نے اپنے کمال قدرت سے اس طرح قائم کیا ہے جیسے سورج کے سامنے آئینہ ‘ جس طرح آئینہ سورج کی کرنوں سے بھر جاتا ہے اور جگمگا جاتا ہے ‘ اسی طرح روح کا فیضان نفس پر ہوتا ہے یا نفس چاند کی طرح اور روح سورج کی طرح ہے اور فلاسفہ کا قول ہے کہ چودہویں کا چاند سورج کی روشنی سے بھرپور روشن ہوتا ہے پس بدن کی زندگی تو نفس کی وجہ سے ہے اور نفس کی حیات روح کی وجہ سے ‘ میعاد مقرر پر نفس کو بدن سے کھینچ لیا جاتا ہے لیکن (روح مجرد کا تعلق منقطع نہیں ہوتا) نفس کے کھنچ جانے سے روح نہیں کھنچتی۔
اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ نفس کو بدن سے کھینچا جاتا ہے اور کفن و حنوط (ایک خاص خوشبو) میں رکھ کر اوپر چڑھایا جاتا ہے اور نفس مؤمن کے لیے ساتویں آسمان تک سب آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ‘ پھر اللہ فرماتا ہے : میرے بندے کے اعمالنامے کو علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ زمین سے ہی میں نے اس کو پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ برآمد کروں گا۔ کافر کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے بلکہ اس کی روح کو زمین پر پھینک دیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوتا ہے کہ روح (بمعنئ نفس) ایک جسم ہے جو زمین سے بنا ہے (یعنی عنصری ہے ‘ مادی ہے) اس تحقیق کی بناء پر اب عذاب قبر کی انکار کی گنجائش نہیں رہی جیسا کہ بعض اہل بدعت (معتزلہ) کا خیال ہے کہ بدن کثیف سے قطع نظر کر کے عذاب قبر ممکن نہیں۔ اہل حق کے نزدیک تو عذاب قبر بدن کثیف پر بھی ممکن ہے ‘ موت اس سے مانع نہیں۔ سورة بقرہ میں اس کی تحقیق گزر چکی ہے ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 79:3والسبحت سبحا . سیر کرنے والوں کی یا تیرنے والوں کی قسم ! مجاہد نے کہا : اس سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو تیزی کے ساتھ اعلیٰ گھوڑے کی رفتار کی طرح اترتے ہیں۔
Ayah 79:4فالسبقت سبقا . اور سبقت کرنے والوں کی قسم ! مجاہد نے کہا : ان سے مراد ہیں وہ ملائکہ جو نیکی اور عمل صالح میں انسان سے آگے ہیں۔ مقاتل نے کہا : وہ ملائکہ مراد ہیں جو مؤمنوں کی روحوں کو جنت یعنی ثواب کی طرف لے جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اور کافروں کی روحوں کو عذاب کی طرف۔ یہ وہی ملائکہ ہیں جن کا ذکر حضرت براء کی روایت کردہ حدیث میں پہلے آچکا ہے کہ ملک الموت جب نفس پر قبضہ کرلیتا ہے تو ملائکہ لمحہ بھر اس نفس کو اس کے پاس نہیں چھوڑتے بلکہ خود لے لیتے ہیں۔
حضرت ابن مسعود کا قول مروی ہے کہ السابقات سے مراد ہیں اہل ایمان کے نفوس جو قبض کرنے والے ملائکہ کی جانب اللہ کی ملاقات کے شوق اور انتہائی خوشی میں بڑھتے ہیں۔
Ayah 79:5فالمدبرات امرا . اور امراکا انتظام کرنے والوں کی قسم ! ابن ابی الدنیا کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ المدبرات سے وہ ملائکہ مراد ہیں جو مردوں کی روحیں قبض کرنے کے وقت ملک الموت کے ساتھ آتے ہیں ‘ ان میں سے بعض تو روح کو چڑھا کرلے جاتے ہیں اور بعض (میت کے لیے کی جانے والی) دعا پر آمین کہتے ہیں اور بعض میت کے لیے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے ہیں کہ اس پر نماز پڑھ لی جائے اور اس کو قبر میں رکھ دیا جائے۔
بغوی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک وہ ملائکہ مراد ہیں جن کے سپرد کچھ کام بحکم خدا کردیئے گئے ہیں اور ان کو انجام دینے کا طریقہ اللہ نے ان کو بتادیا ہے۔
عبدالرحمن بن سابط نے کہا : دنیا کا انتظام کرنے والے چار فرشتے ہیں : جبرئیل ‘ میکائیل ‘ ملک الموت اور اسرافیل۔ جبرئیل کے سپرد ہوائیں اور فوجیں ہیں (یعنی اگر ملائکہ کو لے کر مؤمن مجاہدوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو بحکم الٰہی جنود ملائکہ کی قیادت جبرئیل کرتے ہیں اور میکائیل کے سپرد بارش اور زمین کی روئیدگی کی خدمت ہے اور ملک الموت قبض ارواح پر مامور ہیں اور اسرافیل اللہ کا امر لے کر ان کے پاس اترتے ہیں۔ قتادہ نے المدبرات کے علاوہ باقی تینوں سے ستارے مراد لیے ہیں۔ ستارے ایک افق سے دوسرے افق کی طرف (زبردستی بغیر طبعی میلان کے) کھینچے جاتے ہیں ‘ پھر ڈوب جاتے ہیں اور ایک افق سے دوسرے افق کی طرف (طبعی میلان کے ساتھ) حرکت بھی کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : کل فی فلک یسبحون۔ اور باہم رفتار میں ستارے سبقت بھی کرتے ہیں۔ یہ قول ضعیف ہے نزع نشط اور سبح میں اس قول پر کوئی (نمایاں) فرق نہیں اور ایک ہی چیز کو چار مرتبہ ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ نزع اور نشط میں یہ فرق قائم کرنا کہ مشرق سے مغرب کی طرف ستاروں کی قسری (خلاف طبع) حرکت نزع ہے اور ایک برج سے دوسرے برج کی طرف مناسب طبع حرکت نشط ہے۔ یہ فرق (یونانی) فلسفیوں کے خیال پر مبنی ہے جو قائل ہیں کہ ہر آسمان دوسرے سے چسپاں ہے ‘ اسی صورت میں حرکت قسری (غیر طبعی) کا امکان ہوسکتا ہے۔ مگر شروع کے نزدیک (بعض احادیث سے) ثابت ہے کہ ایک آسمان دوسرے آسمان سے پانچ سو برس کی راہ کے فاصلہ پر ہے۔
اس آیت کی تاویل میں عقلی احتمالات بغیر روایت و نقل کے کچھ اور بھی بیان کیے گئے ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے یہ نفوس فاضلہ کے احوال ہیں جو بدن سے جدا ہونے کے وقت ہوتے ہیں۔ نفوس فاضلہ (اوّل) ابدان سے شدت کے ساتھ کھنچتے ہیں۔ اغراق النازع فی القوس کمان کھنچنے میں شدت اور زور کرنا۔ اس جگہ بھی النازعات غرقا۔ اسی محاورہ سے ماخوذ ہے۔ پھر تیزی کے ساتھ عالم ملکوت کی طرف جاتے ‘ پھر وہاں اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں پھر خطیرۂ قدس کی طرف بڑھتے ہیں ‘ یہاں تک کہ اپنے مرتبہ اور قوّت کی وجہ سے مدبرات میں سے ہوجاتے ہیں یا (یوں کہو کہ) بوقت سلوک (الی اللہ) سالکین کے نفوس فاضلہ کے یہ احوال ہوتے ہیں ‘ خواہشات نفس سے نکل کر عالم القدس کی طرف نشاط کے ساتھ جاتے ‘ پھر مراتب ترقی میں تیرتے ‘ پھر کمالات کی طرف بڑھتے ہیں ‘ یہاں تک کہ مدبرات میں سے ہوجاتے ہیں (یعنی دوسرے لوگوں کو سلوک راہ کا طریقہ بتانے والے) ۔
یا مجاہدوں کے احوال مراد ہیں کہ ان کے ہاتھ کمانوں کو قوت کے ساتھ کھینچتے ‘ پھر چستی کے ساتھ تیر پھینکتے ہیں اور وہ بحر و بر میں پھرتے ہیں اور دشمن کے مقابلہ کی طرف بڑھتے ہیں اور جنگی امور کا نظم کرتے ہیں۔
یا یہ مجاہدوں کے گھوڑوں کے اوصاف ہیں۔ ان کے گھوڑے اپنی لگاموں میں شوخیاں کرتے ہیں ‘ پسینہ میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ دارالاسلام سے دارالکفر کی طرف جاتے ہیں۔ رفتار میں (ہمواری رکھتے ہیں ‘ گویا) تیرتے ہیں۔ دشمن کی طرف سبقت کرتے ہیں آخر میں امر فتح کا انتظام کرتے ہیں۔
Ayah 79:6یوم ترجف الراجفۃ . یَوْمَ ظرف زمان ‘ قسم کے جواب محذوف سے متعلق ہے۔ یعنی تمہارا حشر و حساب اس روز ہوگا جس روز زمین و پہاڑ میں زلزلہ آئے گا۔ اس روز کی مقدار تو نفخۂ اولٰی کے وقت سے جنت و وزخ کے داخلہ کے وقت تک پچاس ہزار برس کی ہوگی مگر حشر و حساب اس دن کے کچھ حصہ میں ہوگا۔ انہی اجزاء وقتی کے لحاظ سے پورے دن کو یوم الحشر والحساب قرار دیا۔
بیہقی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ : یعنی زمین اور پہاڑوں میں لرزہ آئے گا۔ الراجفۃ : زلزلہ۔ اس کے بعد دوسرا زلزلہ آئے گا۔
Ayah 79:7تتبعھا الرادفۃ . الراجفۃ سے مراد ہے پہلا نفخہ اور الرادفۃ سے مراد ہے ‘ دوسرا نفخہ۔ بیہقی نے حضرت ابن عباس کا قول بھی یہی نقل کیا ہے ‘ پہلے نفخہ کو راجفہ کہنے کی یہ وجہ ہے کہ پہلی بار صور پھونکنے سے زلزلہ آجائے گا اور ہر چیز ہل جائے گی اور مخلوق مرجائے گی۔ دوسرے نفخہ کو رادفۃ اس لیے کہا کہ وہ پہلے کے پیچھے آئے گا۔ ابن مبارک نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس برس کی مدت ہوگی۔ اوّل نفخ سے بحکم خدا ہر مرنے والی چیز مرجائے گی۔ حلیمی (رح) نے بیان کیا کہ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کی مدت ہونے پر تمام روایات متفق ہیں۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں نفخوں کے درمیان چالیس کی مدت ہوگی۔ لوگوں نے پوچھا : ابوہریرہ ! کیا چالیس دن کی میعاد ہوگی ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواب دیا : مجھے اس سے انکار ہے۔ لوگوں نے کہا : تو پھر چالیس مہینے ہوں گے ؟ ابوہریرہ ؓ نے کہا : مجھے اس سے بھی انکار ہے۔ پھر اللہ آسمان سے بارش برسائے گا ‘ جس سے لوگ (قبروں سے) ایسے اگیں گے جیسے سبزی اگتی ہے ‘ انسان کا ہر جزء بدن فنا ہوجاتا ہے ‘ سوائے دم گزے کی ہڈی کے۔ اسی سے قیامت کے دن جڑ کر دوبارہ تخلیق ہوگی۔ ابن ابی داؤد نے البعث میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ایسی ہی حدیث لکھی ہے اس روایت میں چالیس سال کا لفظ ہے لیکن اوّل روایت اس کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے (جس میں چالیس کا لفظ تو ہے مگر سال کا لفظ نہیں ہے) ۔
ابن ابی حاتم ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا کہ دونوں نفخوں کے درمیان وادی میں سیلاب آجائے گا اور دونوں کے درمیان چالیس (دن یا مہینہ یا سال) کا فاصلہ ہوگا پھر ہر فنا شدہ انسان و حیوان اور چوپایہ (زمین سے) اُگے گا ‘ اگر ان کے مرنے سے پہلے کوئی گزرنے والا ان کی طرف سے گزرا ہو اور پھر جی اٹھنے کے بعد ادھر سے گزرے تو ان کو پہچان لے (یعنی اوّل زندگی کی شکل و صورت اور دوسری زندگی کی شکل و صورت میں کوئی فرق نہ ہوگا) پھر روحوں کو چھوڑا جائے گا اور بدنوں سے لا کر ملا دیا جائے گا۔ آیت : وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ کا یہی معنی ہے۔
Ayah 79:8قلوب یومئذ واجفۃ . الواجف تیز رفتار ‘ بطور استعارہ اضطراب شدید مراد ہے۔ بہت دل اس روز (دھڑکتے ہوں گے) سخت مضطرب ہوں گے۔
Ayah 79:9ابصارھا خاشعۃ . خوف کی وجہ سے ان دلوں کی نگاہیں یعنی دل والوں کی نگاہیں پست ہوں گی۔ دل دھڑکنے اور نگاہیں پست ہونے کی وجہ کیا ہوگی۔
Ayah 79:10یقولونء انا لمردودون فی الحافرۃ . یہ کلام سابق کی علت ہے کیونکہ وہ دنیا میں حشر آخرت کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم کو پہلی زندگی میں واپس کیا جائے گا یعنی مرنے کے بعد پھر زندہ کیا جائے گا۔ ءَ اِنَّا میں استفہام انکاری ہے (یعنی نہیں لوٹایا جائے گا) بعض قراءتوں میں ہمزۂ استفہام لفظاً محذوف ہے مگر معنیً مراد ہے۔ الحافرہ۔ پہلی زندگی۔ رَجَعَ فلانٌ فی الحافرۃ کا معنی یہ ہے کہ فلاں شخص اپنے اسی طریق پر لوٹ گیا جس پر آیا تھا اور جس کو اپنی مرضی سے اس نے کھودا تھا (گویا حافرۃ بمعنی محفورۃٌ کے ہے ‘ کھودا ہوا) جیسے عِیْشَۃٌ رَّاضِیَۃٌ یعنی مَرْضِیَّۃٌ۔ یا یوں کہو کہ قابل کو مقبول سے تشبیہ دی اور مقبول کی جگہ قابل کا استعمال کیا۔ ابن زید نے کہا : الحافرۃ سے مراد دوزخ ہے۔
Ayah 79:11ء اذا کنا عظاما نخرۃ . استفہام انکاری ہے ‘ انکار کے بعد انکار مزید تاکید کے لیے ہے یعنی کیا ہم کو اٹھایا جائے گا کیا ہم کو زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا ‘ جبکہ ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے۔
سعید بن منصور نے محمد بن کعب کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : یَقُوْلُوْنَ ءَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ نازل ہوئی تو کفار قریش کہنے لگے : اگر مرنے کے بعد ہم دوبارہ زندگی کی طرف لوٹے تو بڑے گھاٹے میں رہیں گے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 79:12قالوا تلک اذا کرۃ خاسرۃ . اس کا عطف یَقُوْلُوْن پر ہے یا قَدْ مقدر ہے اور یَقُوْلُوْنَ کے فاعل سے حال ہے لیکن محمد بن کعب کا بیان کردہ شان نزول حال ہونے کی اجازت نہیں دیتا (کیونکہ حال اور ذوالحال کے زمانہ کا اتحاد ضروری ہے اور یہاں قول دوئم کا زمانہ قول اوّل کے زمانہ سے مؤخر ہے) تِلک سے اشارہ رجعت کی طرف ہے اور رجعت کا مفہوم لمردودون فی الحافرۃ سے مستفاد ہو رہا ہے (گویا مشار الیہ معنیً مذکور ہے) یعنی جب ایسا ہوگا جیسا محمد ﷺ کہتے ہیں تو یہ زندگی کی واپسی بڑے گھاٹے کی ہوگی ‘ نقصان رساں ہوگی اور ہم ایسی زندگی والے نقصان میں رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ ہم دوسری زندگی کی تکذیب کرتے ہیں تو اگر دوسری زندگی ہوگئی تو لامحالہ ہم کو گھاٹا اٹھانا پڑے گا۔ کفار قریش کا یہ کلام بطور استہزاء تھا۔
Ayah 79:13فانماھی زجرۃ واحدۃ . یعنی نفخۂ دوئم تو بس ایک جھڑکی ہوگا۔ صحاح میں ہے کہ زجر کا معنی ہے
آواز سے نکال دینا۔ زجرتہ فانزجر : میں نے اس کو جھڑک کر نکال دیا ‘ وہ نکل گیا۔ اس آیت کا بھی یہی مفہوم ہے۔ صور میں جو آواز پھونکی جائے گی ‘ اس سے لوگ قبروں سے باہر نکال دیئے جائیں گے۔ لفظ زجر کا استعمال کبھی صرف آواز میں ہوتا ہے جیسے والزاجرات زجرًا میں وہ ملائکہ مراد ہیں جو ابر کو ڈانٹ کی آواز سے ہنکاتے ہیں (نکالتے نہیں ہیں) کبھی صرف نکال دینے کا معنی مراد ہوتا ہے جیسے : ازدجر یعنی اس نے نکال دیا ‘ روک دیا۔
Ayah 79:14فاذا ھم بالساھرۃ . فاء عطف کے لیے ہے اور اذا مفاجاتی (اچانک اور ناگہاں کے معنی میں) ہے۔ اِذَا
کے آنے سے ھم بالساھرۃ جو جملہ اسمیہ تھا جملہ فعلیہ کی قوت میں ہوگیا۔ اسی لیے اس کا عطف جملہ فعلیہ پر صحیح ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں یہ ایسی بات کہہ رہے ہیں مگر جب یہ زمین کے اوپر ایک میدان میں ہوں گے تو ناگہاں وہ وقت آ ہی جائے گا ‘ اس صورت میں جملہ فانماھی زجرۃ واحدۃ معترضہ ہوگا جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ جس لرزہ کے یہ منکر ہیں ‘ اس کو لانا اللہ کے نزدیک آسان ہے ‘ کچھ دشوار نہیں۔
السَّاھِرَۃ : رُوئے زمین۔ مراد یہ ہے کہ اچانک وہ زندہ ہو کر روئے زمین پر آجائیں گے۔ بعض نے کہا : الساھرۃُ سے مراد ہے زمین قیامت۔ قتادہ نے کہا : جہنم مراد ہے۔
Ayah 79:15ھل اتاک حدیث موسیٰ . استفہام تقریری ہے یعنی آچکی۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے
لیے تکذیب قوم پر صبر آفرینی مقصود ہے اور کافروں کے لیے تباہی کی دھمکی ہے کہ تم پر بھی کہیں وہی مصیبت نہ آپڑے جو تم سے پہلے لوگوں پر پڑی تھی۔ یعنی تمہارے پاس موسیٰ کے واقعہ کی اطلاع پہنچ چکی ہے کہ
Ayah 79:16اذ ناداہ ربہ بالواد المقدس طوی . حدیث موسیٰ کے مفہوم سے ظرف (اِذْ ) کا تعلق ہے یعنی تمہارے
پاس موسیٰ سے تعلق رکھنے والی اس وقت کی بات تو آ ہی چکی ہے۔ جب اللہ نے ان کو وادی مقدس یعنی طویٰ میں نداء دی تھی۔ طویٰ ایک وادی کا نام ہے یا طَیٌّ سے مشتق ہے اور ثُنٰی کی طرح ہے اس وقت یہ نودِیَ یا المقدس کا مفعول مطلق ہوگا یعنی دوبارہ ندا دی یا اس وادی کا تقدس دوہرا تھا۔ بصورت اسمیت الوادی کا عطف بیان ہوگا۔
Ayah 79:17اذھب الی فرعون انہ طغی . یہ نادیٰ کا بیان ہے یعنی موسیٰ کے جانے سے کچھ پہلے اللہ نے ان سے کہا کہ
فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ حد سے آگے بڑھ چکا ہے۔
Ayah 79:18فقل ھل لک الی ان تزکی . اور اس سے کہو کہ کیا تجھے شرک سے پاک ہوجانے کی خواہش ہے۔ تزکّٰی ‘ تو
شرک سے پاک صاف ہوجائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تو لا الٰہ الاّ اللہ کی شہادت دے ‘ کیا تجھے اس طرف رغبت ہے۔
Ayah 79:19واھدیک الی ربک فتخشی . اور کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ میں تجھے اللہ کی معرفت ‘ عبادت
اور توحید کا راستہ بتاؤں اور نتیجہ میں تو اس کے عذاب سے ڈرنے لگے یعنی فرائض کو ادا کرے اور ممنوعات سے اجتناب رکھے۔ فتخشٰی
میں فاء سببی ہے۔ خشیت الٰہی (خوف خدا) نتیجہ معرفت ہے اور معرفت ثمرۂ ہدایت (لہٰذا خوف خدا نتیجہ ہدایت ہے) ۔
Ayah 79:20فاراہ الایۃ الکبری
Ayah 79:21فکذب و عصی
. یہ فعل محذوف پر معطوف ہے یعنی موسیٰ گئے فرعون کے پاس پہنچے
اور اس کو اپنی سچائی کی بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی وہ کھلم کھلے عظیم الشان معجزے دکھائے جو واضح طور پر موسیٰ کی صداقت بتا رہے تھے لیکن فرعون نے موسیٰ کو جھوٹا قرار دیا اور موسیٰ کی صداقت ‘ معجزات سے ظاہر ہونے کے بعد بھی فرعون نے اللہ اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کی۔ الایۃ الکبرٰی سے مراد ہیں ‘ معجزات لیکن تمام معجزات چونکہ حضرت موسیٰ کی صداقت ظاہر کرنے میں ایک معجزہ کی طرح تھے (سب میں یکسانیت تھی ‘ گویا سب ایک ہی تھے) اس لیے (الا یۃ) بصیغہ واحد ذکر کیا یا اس سے مراد ہے لاٹھی کا سانپ بن جانا۔
Ayah 79:22ثم ادبر یسعی . جب سانپ کو فرعون نے اپنی طرف تیزی سے آتے دیکھا تو منہ پھیر کر پشت موڑ کر تیزی
سے بھاگا۔ یسعٰی ضمیر ادبر سے حال ہے (دوڑتا ہوا ‘ تیزی سے بھاگتا ہوا) یا یہ معنی ہے کہ اس نے ملک میں تباہی کی کوشش کرتے ہوئے ایمان اور طاعت سے پشت پھیری۔
Ayah 79:23فحشر فنادی . پھر فوج کو یا جادوگروں کو جمع کر کے مجمع میں پکارا۔
Ayah 79:24فقال انا ربکم الاعلی . یہ نادیٰ کا بیان ہے (یعنی فرعون نے نداء میں یہ) کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا پروردگار ہوں ‘ مجھ سے اوپر تمہارا کوئی رب نہیں یا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ تمہارے کام کے کرتا دھرتا ہیں ‘ میں ان سب سے بڑا ہوں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کلام سے فرعون کی مراد یہ تھی کہ یہ بت دیوتا ہیں اور میں ان کا بھی دیوتا ہوں اور تمہارا بھی۔
Ayah 79:25فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی . لغت میں نَکَال کے معنی ہے ضعف اور عجز یا ایسی چیز جو کسی کو کسی کام سے روک دے اور عاجز بنا دے۔ چوپایہ کے پاؤں میں بندھی ہوئی رسّی اور لگام کے دہانہ کو بھی نکل اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ چوپائے کو روک دیتی ہے (آزاد نہیں رہنے دیتے) نکال ‘ تنکیل کا اسم ہے (یعنی عبرت۔ ایسی سزا جو دوسروں کو اس جرم کے اقدام سے روک دے) کہا جاتا ہے : نکلت بہٖ میں نے اس کو ایسی سخت سزا دی کہ دوسروں کے لیے عبرت بن گئی۔ آیت میں نکال یا مصدر محذوف کی صفت ہے جو پہلے فعل کی تاکید کر رہا ہے یعنی میں نے اس کی گرفت کی ‘ عبرت انگیز گرفت ‘ دیکھنے اور سننے والوں کو اس جیسی حرکت کرنے سے روک دینے والی۔
یا فعل محذوف ہے اور نکال اس کا مفعول مطلق برائے تاکید ہے یعنی اللہ نے اس کو پکڑا اور اس کو سخت عبرت بنا دیا۔ نکال کی اضافت الاٰخرۃ کی جانب بتقدیر فی ہے یا اضافت لامیہ ہے۔ اوّل صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ فرعون کی گرفت آخرت میں بھی نکال ہے اور دنیا میں بھی ‘ آخرت میں دوزخ کے اندر جلانا اور دنیا میں ڈبونا (دونوں عبرت آفریں سزائیں ہیں) حسن بصری (رح) اور قتادہ (رح) کا یہی قول ہے۔ دوسری صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ پہلے لفظ اور دوسرے لفظ کی وجہ سے اللہ نے اس کو عبرت آفریں سزا دی۔ ایک کلمہ تھا : انا ربکم الاعلٰی اور دوسرا کلمہ تھا مَا علمت لکم من الٰہٍ غیری۔ ان دونوں لفظوں میں چالیس برس کا فصل تھا۔ مجاہد اور ایک جماعت علماء کا یہی قول ہے۔
Ayah 79:26ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی . اس گرفت اور سزا میں اہل خشیت کیلئے نصیحت ہے۔ من یخشی سے مراد ہیں وہ لوگ جن میں اللہ سے ڈرنے کی صلاحیت ہے (بالفعل خشیت رکھنے والے اہل تقویٰ کیلئے تو نصیحت کی ضرورت ہی نہیں ہے)
اس کے بعد آئندہ آیت میں کلام کا رخ بدل کر منکرین حشر کو خطاب فرمایا اور وجود حشر پر اللہ کے قادر ہونے کو موجودہ کائنات کی ایجاد کو ذکر کر کے ثابت کیا اور فرمایا :
Ayah 79:27ء انتم اشد خلقا ام السماء . اَلسَّمَآءُکی خبر محذوف ہے یعنی تخلیق کے اعتبار سے تم زیادہ سخت ہو یا آسمان
زیادہ سخت ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی آسمان کی تخلیق زیادہ سخت ہے ‘ آسمان سے مراد ہے آسمان مع ان تمام چیزوں کے جو اس کے اندر ہیں کیونکہ مقام تفصیل میں زمین اور پہاڑوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور اس کی موجودات کی تخلیق تمہاری تخلیق سے زیادہ سخت ہے۔ تم کائنات سماوی کا جزء ہو اور جزء کی تخلیق کل کی تخلیق سے بداہتہً آسان ہوتی ہے ‘ پھر دوبارہ تخلیق تو خلق اوّل سے سہل ہی ہے۔
بنھا . اللہ نے آسمان کو بنایا۔ یہ جملہ السمآء کی صفت ہے (لیکن جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے اور السماء معرفہ ہے اور معرفہ کی صفت معرفہ ہونی چاہیے) اور السماء میں الف لام زائد ہے (فرد غیر معین کے لیے ہے) جیسے وَلَقَدْ اَمُرُّ عَلَی اللَّئیم یَسُبُّنِی میں یسبّنیجملہ ہونے کے باوجود اللئیم معرف باللام کی صفت ہے کیونکہ اللئیم سے فرد غیر معین مراد ہے یا التی موصول محذوف ہے یعنی وہ آسمان جس کو خدا نے بنایا یا دوسرے جملہ کا پہلے جملہ پر عطف ہے اور حرف عطف محذوف ہے۔ دونوں جملوں کو ملانے سے پوری دلیل اس طرح بنتی ہے کہ اللہ نے آسمان بنایا ‘ جس کی تخلیق تمہاری تخلیق سے زیادہ دشوار ہے اور جو اس کی تخلیق پر قدرت رکھتا ہے وہ ایسی چیز کو جو آسمان سے کمزور ہے ‘ دوبارہ بنانے پر (بدرجۂ اولیٰ ) قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 79:28رفع سمکھا . السمک ‘ بلندی۔ یعنی اللہ نے زمین سے آسمان کی بلندی کی ایک مقدار مقرر کی یا وہ بلندی جو آسمان کے نیچے اور زمین سے فوق ہے ‘ اس کو بنایا۔
فسواھا . پھر اس کو ہموار ‘ بلا شگاف بنایا۔
Ayah 79:29واغطش لیلھا . اور آسمان سے پیدا ہونے والی رات کو تاریک بنایا۔ غَطَشَ الَّیْلُ : رات اندھیری ہوگئی۔ آسمان کی طرف رات کی اضافت اس لیے کی کہ سورج آسمان پر ہے اور سورج کی حرکت سے رات پیدا ہوتی ہے۔
واخرج ضحھا . اور آسمان سے سورج کی روشنی نمودار کی اور دن کو اس سے پیدا کیا۔
Ayah 79:30والارض بعد ذلک دحھا . یعنی آسمان کو پیدا کرنے کے بعد اللہ نے زمین کو بچھایا ‘ پھیلایا۔ والارض سے پہلے دحٰی فعل محذوف ہے اور فعل محذوف کی تفسیر دحٰھا کر رہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بغیر اس کے کہ آسمان کی تخلیق سے پہلے زمین پھیلائی جائے۔ اللہ نے زمین کو پیدا کردیا پھر براہ راست آسمان کو بنانے کا ارادہ کیا اور دو روز میں سات آسمانوں کو ٹھیک ٹھیک بنایا ‘ پھر دو روز میں زمین کو بچھایا۔ غرض زمین مع اپنی موجودات کے چار روز میں بنائی گئی۔ بعض علماء نے کہا کہ بعد ذٰلک کا معنی ہے مَعَ ذٰلک ‘ یعنی اس کے ساتھ اللہ نے زمین کو بچھایا ‘ جیسے آیت میں آیا ہے : عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔
بیضاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ لفظ بَعْدَ اس جگہ حقیقی معنی میں مستعمل ہے اور آیت : ثم استوٰی الی السماء میں (ثم تراخی زمانی کے لیے نہیں بلکہ) بُعد مرتبہ کے لیے ہے ‘ آسمان و زمین کی تخلیق میں عظیم الشان فرق ہے جیسے آیت : ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں ثُمَّ فرق مرتبہ (یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی) کو ظاہر کر رہا ہے ‘ تفسیر اوّل چونکہ سلف کے کلام سے ماخوذ ہے ‘ اسلئے اولیٰ ہے۔
Ayah 79:31اخرج منھا ماء ھا . زمین سے اللہ نے اس کا پانی برآمد کیا ‘ زمین سے چشمے نکال دیئے۔
و مرعھا . اور زمین کی گھاس پیدا کردی۔ مرعٰی ‘ چراگاہ ‘ مرغزار۔ یہ ظرف مکان ہے۔ مجل بول کر
حال مراد لیا۔ مقام سبزہ سے مراد سبزہ ہے۔ یا مرعٰی مصدر ہے اور مراد اسم مفعول ہے (چرنا ‘ یعنی وہ شئے جو چری جائے) ۔
Ayah 79:32والجبال ارسھا . اور اللہ نے پہاڑوں کو زمین کی میخیں بنایا۔
Ayah 79:33متاعا لکم والا لعامکم . اے لوگو ! اللہ نے زمین بچھائی اور پہاڑوں کی میخیں قائم کیں ‘ تم کو اور تمہارے چوپایوں فائدہ پہنچانے کے لیے۔ متاعًا ‘ وحٰی اور ارسٰی کی علت ہے دونوں فعل اس کو اپنا مفعول بنانے میں نزاع کر رہے ہیں (اس لیے پہلے یا دوسرے کا مفعول محذوف ہے اور وہی مفعول محذوف ہے جس پر مفعول مذکور دلالت کر رہا ہے) ۔
یہ فقیر کہتا ہے کہ اگر متاعًا لکم ولانعامکم کو اخرج منھا کی علت غائی قرار دے دیا جائے تو شاید زیادہ مناسب ہوگا۔ اللہ نے پانی اور سبزہ انسانوں اور جانوروں (یعنی کل جانداروں) کے فائدہ کے لیے بنایا) ۔
Ayah 79:34فاذا جاءت الطامۃ الکبریٰ . فاء سببی ہے یعنی جب اس کائنات کی ایجاد سے اللہ کا قادر ہونا ظاہر ہوگیا اور
قیامت کا امکان ہوگیا اور پھر اللہ کے خبر دینے سے حشر کا ثبوت بھی ہوچکا تو اب الطامۃ الکبرٰی کا لفظ بول کر اللہ نے قیامت کے آنے کا وقت اور اس کے احوال بتائے۔ یہ لفظ اس لیے اختیار کیا کہ (تفصیل بیان کرنے سے پہلے) عنوان سے ہی قیامت کے کچھ احوال معلوم ہوجائیں۔ لغت میں طَمٌّ کا معنی ہے غلبہ ‘ سمندر کو طمّ کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے۔ عرب ناقابل برداشت مصیبت کو الطامۃُ کہتے ہیں ‘ قیامت کو طامۃ کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ حادثۂ قیامت تمام حوادث و مصائب پر غالب ہے (سب سے بڑی مصیبت ہے) الکبرٰی ‘ الطامۃُ کی صفت تاکیدی ہے اور اِذَا ظرفیہ ہے (جس وقت) لیکن معنی شرط کو متضمن ہے۔ (جب بھی)
Ayah 79:35یوم یتذکر الانسان ما سعی . یَوْمَ ۔ اِذَا سے بدل ہے ما سعٰی میں مَا مصدری یا موصولہ ہے ‘ مطلب یہ
ہے کہ جب قیامت آئے گی یعنی وہ دن آئے گا کہ انسان انتہاء غفلت یا امتداد زمانہ کے سب اپنے کیے ہوئے اعمال کو اپنے اعمالنامہ میں دیکھ کر یاد کرے گا۔
Ayah 79:36و برزت الجحیم لمن یرٰی . اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ نمایاں ہو جائیگی۔ مقاتل نے کہا :
دوزخ کا سرپوش ہٹا دیا جائے گا۔ کافر اس میں داخل ہوجائیں گے اور مؤمن اس کی پشت پر قائم شدہ پل صراط سے گزر جائیں گے ‘ یا یہ مراد ہے کہ دیکھنے والے کافروں کے سامنے دوزخ نمایاں ہوجائے گی۔ اِذَا کا جواب (اس دن کیا ہوگا) محذوف ہے جس پر یتذکر الانسان دلالت کر رہا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ محذوف ماننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آئندہ جو تفصیل احوال آرہی ہے وہی اِذَا کا جواب ہے۔
Ayah 79:37پس جو معصیت میں حد سے آگے بڑھ گیا ہے یہاں تک کہ کافر ہوگیا ہے
Ayah 79:38اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر دنیوی زندگی کو آخرت پر اس نے ترجیح دے رکھی ہے ‘
ابو موسیٰ کی روایت ہے جو اپنی دنیا سے محبت کرے گا وہ اپنی آخرت کو پیچھے ڈال دیگا اور جو اپنی آخرت سے محبت کریگا وہ اپنی دنیا کو پیچھے کر دیگا۔ پس تم باقی کو فانی کے مقابلہ میں اختیار کرو۔ (احمد و بیہقی فی شعب الایمان)
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دوزخ خواہشات سے ڈھانکی ہوئی ہے (اور مسلم کی روایت میں گھری ہوئی ہے) اور جنت نامرغوب اشیاء سے ڈھانکی ہوئی یا گھری ہوئی ہے۔ یہ بھی حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ سوائے ذکر اللہ اور اس کے متعلقات اور عالم اور متعلم کے (باقی) دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ملعون ہے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
Ayah 79:39اسکا ٹھکانا دوزخ ہے۔
Ayah 79:40واما من خاف مقام ربہ . اور جو قیامت کے دن حساب کے لیے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا۔
و نھی النفس عن الھوی