79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 79:1–2

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکلاتے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور جو بند کھول دیتے ہیں

1۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت والنزعت غرقا۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان سختی سے نکالتے ہیں۔ یعنی وہ فرشتے جو کافروں کی روحوں کو کھینچتے ہیں آیت والنشطت نشطا۔ اور بند کھولنے والوں کی یعنی وہ فرشتے جو کافروں کی روحون کو ناخنوں اور جلد کے درمیان سے نکالتے ہیں یہاں تک کہ اس کو نکال لیتے ہیں آیت والسبحت سبحا۔ اور تیزی سے تیرنے والوں کی۔ یعنی وہ فرشتے جو ایمان والوں کی روحوں کو لے کر آسمان اور زمین کے درمیان تیرتے ہیں آیت فالسبقت سبقا پھر دوڑ کر آگے بڑھ جانے والوں کی۔ یعنی وہ فرشتے ہیں کہ ایمان والوں کی روحوں کو لے کر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاتے ہیں آیت فالمدبرات امرا۔ پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والوں کی۔ یعنی وہ فرشتے ہیں جو بندوں کے معاملات کی تدبیر کرتے ہیں ایک سال سے دوسرے سال تک۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت والنزعت غرقا کے بارے میں روایت کیا کہ کافروں کی جانیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھولے جاتے ہیں پھر ان کو آگ میں غرق کردیا جاتا ہے۔ 3۔ الحاکم وصححہ نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والنزعت غرقا والنشطت نشطا۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافروں کی جانیں پوری قوت سے نکالتے ہیں اور وہ فرشتے جو اہل ایمان کی جانیں آہستگی کے ساتھ نکالتے ہیں سے مراد ہے موت۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والنشطت نشطا سے مراد ہے موت۔ 5۔ جویبر نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے آیت والنزعت غرقا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ کافروں کی روحیں ہیں جب ملک الموت کو دیکھتی ہیں اور وہ ان کو اللہ کے غصہ سے آگاہ کرتے ہیں تو وہ غرق ہوجاتی ہیں پھر ملک الموت غوط مار کر پیٹھوں اور گوشت کے بند کھولتے ہوئے وہاں سے ان کو کھینچ لاتے ہیں والسبحت سبحا یعنی ایمان والوں کی روحیں جب ملک الموت کو دیکھتی ہیں وار وہ فرماتے ہیں اے نفس مطمئنہ روح وریحان کی طرف نکل آ اور اپنے رب کی طرف جو ناراض نہیں ہے۔ تو وہ خوش ہوتے ہوئے اور جنت کی طرف شوق کرتے ہوئے اس طرح تیرے نے لگتی ہے جیسا غوطہ لگانے والا پانی میں تیرتا ہے۔ آیت فالسبقت سبقا یعنی وہ تیزی چلتی اللہ تعالیٰ کی عزت اور کرامت کی طرف۔ کافروں کی روح کس طرح نکالی جائے گی۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے آیت والنزعت غرقا والنشطت نشطا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ دونوں آیتیں کافروں کے لیے ہیں۔ جب ان کی روح کھینچی جاتی ہے تو اسے بڑی شدت اور سختی کے ساتھ اس طرح کھینچا جاتا ہے جیسے سیخ کو اون میں سے کھینچا جاتا ہے۔ اور اس کا نکلنا انتہائی اور تکلیف دہ ہوتا ہے آیت والسبحت سبحا فالسبقات سبقا۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں آیتیں ایمان والوں کے لیے ہیں۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت والنزعت غرقا سے مراد ہے کہ سا وقت ارواح سینوں میں گھس جاتی ہیں۔ آیت والنشطت نشطا سے مراد وہ فرشتے ہیں۔ جب وہ روح کو انتلیں اور قدموں سے نکالتے ہیں آیت والسبحت سبحا۔ سے مراد ہے کہ روح پیٹ میں تیرتی ہے اور موت کے وقت مضطرب ہوجاتی ہے۔ 8۔ ابن المنذر وابن ای حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والنزعت غرقا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو انسان کی روح کو کھینچتے ہیں آیت والنشطت نشطا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو انسان کی روح کے بند کھولتے ہیں۔ آیت والسبحت سبحا سے وہ فرشتے مراد ہیں جب آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوتے ہیں آیت فالسبقت سبقا سے بھی فرشتے مراد ہیں۔ آیت فالمدبرت امرا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو ان کاموں کی تدبیر کرتے ہیں جن کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ 10۔ عبد بن حمید وابو الشیخ نے العظمہ مجاہد (رح) نے آیت والنزعت غرقا والنشطت نشطا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد موت ہے۔ 11۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابو الشیخ نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے آیت والنزعت غرقا والنشطت نشطا والسبحت سبحا فالسقت سبقا فالمدبرات امرا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سب فرشتوں کی صفات ہیں۔ 12۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والنزعت غرقا سے مراد کافر ہے آیت والنشطات نشطا سے مراد ہیں ستارے آیت والسبحت سبحا سے بھی مراد ہیں ستارے۔ آیت والسبقت سبقا سے بھی مراد ہیں ستارے۔ آیت فالمدبرات امرا سے مراد ہیں فرشتے۔ 13۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت والنزعت غرقا سے مراد ہے قسم ہے سختی کے ساتھ کھینچنے والوں کی۔ آیت والنشطت نشطا سے مراد ہے گلے میں رسی ڈال کر نکالنے والوں کی آیت فالسبقت سبقا سے مراد ہیں اور گھوڑ دوڑ میں سبق لے جانے والوں کی۔ 14۔ ابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ پھاڑ ڈالوں لوگوں کو ورنہ تجھ کو دوزخ کے کتے پھاڑ ڈالیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت والنشطت نشطا کیا تو جانتا ہے وہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ فرمایا دوزخ میں کتے ہیں جو ہڈیوں اور گوشت کو چیر ڈالیں گے۔
Ayahs 79:3–5

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور جو تیرتے ہوئے چلتے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں

15۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت والسبحت سبحا سے سارے ستارے مراد ہیں۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ابن الکوا (رح) نے ان سے آیت فالمدبرات امرا کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ فرشتے ہیں جو رحمن کے ذکر اور اس کے امر کی تدبیر کرتے ہیں دنیا کی تدبیر چار فرشتوں کے ذمہ ہے 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں عبدالرحم بن سابط (رح) سے روای کیا کہ دنیا کے کام کی تبدیر چار فرشتے کرتے، جبیر میکائیل ملک الموت اور اسرائیل فیل (علیہ السلام) ۔ جبریل مقرر ہیں ہواؤں اور لشکروں پر اور میکائیل مقرر ہیں بارش اور سبزہ اگانے پر اور ملک الموت مقرر ہیں روحوں کے قبض کرنے پر اور اسرافیل ان پر احکام لے کر نازل ہوتے ہیں۔ 18۔ ابن ابی الدنیا فی الذکر الموت میں ابی المتوکل لناجی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فالمدبرات امرا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو ملک الموت کے ساتھ مرنے والوں کے پاس حاضر ہوتے ہیں ان کی روحیں قبض کرنے وقت۔ ان میں سے کچھ روح کو لے کر اوپر چرھ جاتے ہیں اور ان میں سے کچھ دعا پر آمین کہتے ہیں اور ان میں سے کچ میت کے لیے استغفار کرتے ہیں یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جاتی اور اس کو قبر میں دفن کردیا جاتا ہے۔
Ayahs 79:6–7

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس روز ہلادینے والی ہلا ڈالے گی

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی آجائے گی

19۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم ترجف الراجفہ جس دن کانپنے والی کانپے گی سے مراد ہے پہلی مرتبہ صور پھونکنا۔ آیت تتبعہا الرادفۃ اس کے پیچھے آنے والی پیچھے آئے گی سے مراد ہے دوسری مرتبہ صور پھونکنا آیت قلوب یومئذ واجفۃ کئی دل اس دن دھڑ رہے ہوں گے۔ یعنی خوف زدہ ہوں گے آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہم دوبارہ زندہ ہوں گے۔ 20۔ عبد بن حمید و بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ترجف الراجفۃ یعنی زمیان اور پہاڑ کانپیں گے اور وہ زلزلہ ہوگا آیت تتبعہا الرافۃ یعنی دونوں ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ 21۔ احمد والترمذی وحسنہ وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب چوتھائی رات گذر جاتی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوجاتے اور فرماتے ہیں اے لوگو ! اللہ کا ذکر کرو۔ اللہ کا ذکر کرو۔ آئی کانپنے والی اور اس کے پیچھے آنے والی پیچھے آئے گی۔ آئی موت جو اس میں ہے۔ قیامت کے روز کا زلزلہ۔ 22۔ ابو الشیخ وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کانپنے والی کانپے گی اور ہلے گی اپنے رہنے والوں کے ساتھ (یعنی اپنے رہنے والوں پر زلزلہ طاری کردے گی) اور اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت یوم ترجف الراجفہ تتبعہا الرافۃ۔ پھر آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کی مثال اس کشتی کی طرح سے ہے جو سمندر میں اپنے سواروں کے ساتھ الٹتی رہتی ہے یعنی ہچکولے کھاتی رہتی ہے۔ یا اس کی مثال اس قندیل کی طرح سے ہے جو اپنے کناروں کے ساتھ لٹکا ہوا ہو۔ 23۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ترجف الراجفہ تتبعہا الرادفۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ان دونوں میں سے مراد چیخ یعنی ہولناک آواز ہے۔ پہلی چیخ اللہ کی اجازت سے ہر چیز کو ماردے گی اور دوسری چیخ اللہ کی اجازت سے ہر چیز کو زندہ کر دے گی۔ 25۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم ترجف الراجفۃ آیت تتبعہا الرادفہ کے بارے میں پوچھا گی اتو انہوں نے فرمایا ان دونوں سے مراد دو مرتبہ صورت پھونکا جانا ہے پہلا صور زندوں کو ماردے گا۔ اور دوسرا صور مردوں کو زندہ کردے گا۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ونفخ فی الصور فسعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذا ہم قیام ینظرون (الزمر آیت 68) اور صورت پھونکا جائے گا تو بےہوش ہوجائے گا جو کوئی آسمانوں اور جو کوئی زمین میں ہے مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔
Ayahs 79:8–9

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

بہت سے دل اس روز دھڑک رہے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی

26۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قلوب یومئذ واجفۃ کئی دل اس دن دھڑک رہے ہوں گے یعنی در رہے ہوں گے اور مضطرب ہوں گے۔ 27۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت قلوب یومئذ واجفۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اس دن کئی دل خوف زدہ ہوں گے۔ 28۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قلوب یومئذ واجفۃ یعنی خوف زدہ آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ۔ کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے۔ یعنی کیا ہم زمین میں نئی پیدائش کے ساتھ جائیں گے۔ آیت ءاذا کنا عظاما نخرۃ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ جبکہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہوں گے۔ 29۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قلوب یومئذ واجفہ یعنی ڈر جائیں گے ان چیزوں سے جو وہ دیکھیں گے آیت یومئذ ابصارہا خاشعۃ اس دن ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ یعنی ذلیل ہوں گی۔ آیت یقولونء انا لمردودون فی الحافرۃ۔ یعنی کیا ہم نئی پیدائش میں اٹھیں جب ہم مرجائیں۔ دوبارہ اٹھنے کو جھٹلاتے ہوئے آیت ءاذا کنا عظاما نخرہ۔ یعنی جب کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہوں گے۔
Ayah 79:10

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی حالت میں واپس ہوں گے

30۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ یعنی نئی پیدائش میں اٹھیں گے۔ 31۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ سے مراد ہے کیا ہم دوبارہ زندہ ہوں گے۔ 32۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیتء انا لمردودون فی الحافرۃء اذا کنا عظاما نخرہ۔ نازل ہوئی تو کفار قریش نے کہا اگر ہم کو موت کے بعد زندہ کیا گیا تو کو ضرور اٹھایا جائے گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت تلک اذا کرۃ خاسرۃ۔ تو یہ لوٹنا اس وقت خسارے کا ہوگا۔
Ayah 79:11

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے (پھر پہلی حالت پر واپس ہوں گے )

33۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت ءاذا کنا عظاما ناخرہ۔ الف کے ساتھ۔ 34۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو نخرہ۔ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 35۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس حرف کو یوں پڑھتے تھے آیت ءاذا کنا عظاما نخرۃ۔ 36۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن الزبیر ؓ کو سنا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت عظاما نخرۃ۔ میں ابن عباس ؓ کو یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اس طرح نہیں ہے۔ 37۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ کے طرق سے روایت کیا کہ وہ سورة النازعات میں۔ ناخر۔ الف کے ساتھ پڑھتے تھے اور فرمایا اس سے مراد ہے بوسیدہ ہوجانا 38۔ عبد بن حمید نے محمد بن کعب قرظی، عکرمہ اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ یہ سب حضرات ناخرہ۔ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 39۔ الضرار نے ابن الزبر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے منبر پر فرمایا ان بچوں کا کیا حال ہے جو ” نخرۃ “ پڑھتے ہیں حالانکہ وہ ” ناخرہ “ ہے۔ 40۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت عظاما نخرہ سے مراد ہے بوسیدہ ہڈیاں۔ 41۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الناخرہ سے مراد ہے ایسی ہڈیاں جو بوسیدہ ہوجائے اور اس میں ہوا داخل ہوجائے
Ayahs 79:12–13

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اس صورت میں یہ واپسی بڑے خسارے کی ہوگی

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی

42۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت قالوا تلک اذا کرۃ خاسرۃ کہتے ہیں یہ تو اس وقت خسارہ کا لوٹنا ہوگا۔ یعنی اگر ہم نئی پیدائش میں پیدا ہوئے تو ہم ضرور نقصان کی طرف لوٹیں گے۔ آیت فانما ہی زجرۃ واحدۃ اور بیشک وہ ایک ہی ہیبت ناک آواز ہوگی۔ یعنی ایک چیخ ہوگی آیت فاذا ہم بالساہرۃ پس وہ اسی وقت میدان میں آموجود ہوں گے تو وہ سارے کے سارے زمین کی ظاہری سطح پر ہوں گے۔ جبکہ اس سے پہلے وہ اندر تھے۔ 43۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) آیت قالوا تلک اذ اکرۃ خاسرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوٹنا نقصان والا ہوگا۔ پھر فرمایا کہ جب قوم کے دلوں میں دوبارہ اٹھنے کو محال سمجھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فانماہی زجرۃ واحدہ فاذا ہم بالساہرۃ۔ بیشک وہ ایک ہیبت ناک آواز ہوگی پس وہ اسی وقت مید ان میں آموجود ہوں گے یعنی اچانک وہ زمین کے اوپر ہوں گے جبکہ اس سے پہلے وہ زمین کے اندر تھے۔ 44۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وہ زمین کے پیٹ میں تھے پھر زندہ ہو کر وہ اس کے ظاہر پر آجائیں گے۔ 45۔ عبد بن حمید نے حسن اور شعبی رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayahs 79:14–16

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا آپ کے پاس موسیٰ کا قصہ پہنچا ہے

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جبکہ ان کے پروردگار نے وادی مقدس یعنی میدان طویٰ میں انہیں انہیں پکارا

46۔ ابوعبید فی فضائل وابن النباری فی الوقف والابتداء وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فاذاہم بالساہرۃ کے بارے میں۔ تو فرمایا کہ زمین ساری کی ساری ہموار میدان ہے۔ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ امیہ بن ابی الصلت نے کہا وفیہا لحم ساہرۃ وبھر یعنی اس میں زمین اور سمندری جانوروں کا گوشت ہے۔ قیامت کا میدان 47۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذاہم بالساہرہ میں الساہرہ سے مراد ہے زمین کی سطح اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ زمین ساری کی ساری میدان ہے کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھا صید بحر وصید ساہرۃ سمندر کا شکار اور زمین کا شکار۔ 48۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا ہم بالساہرۃ سے مراد ہے کہ اچانک وہ زمین پر جمع ہوجائیں گے پھر امیہ بن ابی الصت کا شعر بیان کیا وفیہا لم ساھرۃ وبحر وما فاہو بہ ابدا مقیم ترجمہ : اور اس میں سمندری جانوروں کا گوشت موجود ہے اور وہ کبھی بھی اس کو نہیں بھولے 49۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا ہم بالساہرہ سے زمین مراد ہے۔ 50۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے فاذا ہم بالساہرہ کے بارے میں روایت کیا کہ ساہرہ سے مراد زمین ہے کہ و زمین کے نیچے یعنی اندر تھے۔ اور وہ اس کے اوپر والی سطح پر نکال دئیے جائیں گے۔ 51۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بالساہرہ سے مراد ہے کہ یہ زمین کا نام ہے اور کہا جاتا ہے ساہرہ بنی فلاں۔ 52۔ ابن المنذر وبن ابی حاتم نے سہل بن سعد الساعدی سے آیت فاذاہم بالساہرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ساہرہ سے مراد ہے سفید وسیع زمین جیسے صاف ستھری روٹی۔ 53۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ الساہرہ ایک پہاڑ ہے بیت المقدس کے پہلو میں 54۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذاہم بالساہرہ میں ساہرہ جہنم میں ہے۔
Ayahs 79:17–27

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

سو اس سے کہو کیا تجھے اس بات کی خواہش ہے کہ تو پاکیزہ بن جائے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور یہ کہ میں تجھ تیرے رب کی طرف رہنمائی کروں تو تو ڈرنے لگے

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر انہوں نے اسے بڑی نشانی دکھلائی

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

سو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی میں لگا رہا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر اس نے پشت پھیری کوشش کرتے ہوئے

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

سو اس نے جمع کیا پھر زور سے آواز دی

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

پھر کہا کہ میں تمہارا پروردگار اعلیٰ ہوں

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

سو اللہ نے اسے پکڑ لیا، جس میں دنیا وآخرت کی سزا تھی

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا پیدائیش کے اعتبار سے تم زیادہ سخت ہو یا آسمان ؟ اللہ نے اس کو بنایا

1۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ یعنی نافرمانی کی۔ آیت فاراہ الاٰیۃ الکبری۔ پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی۔ یعنی اپنی لاٹھی اور اپنا ہاتھ آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا یعنی پھر وہ فساد کے اعمال کرنے لگا۔ آیت فاخذہ اللہ نکال الاٰخرۃ والاولیٰ پھر اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لی ادنیا کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو معبود نہیں جانتا۔ اور آخرت کا عذاب اس لیے کہ وہ کہتا تھا میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فارہ الاٰیۃ الکبری۔ سے مراد ہے آپ کا عصا اور ید بیضاء آیت فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی۔ یعنی اس کو دنیا اور آخر کا عذاب پہنچ گیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے صخر بن جویریہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا آتی اذہب الی فرعون انہ طغی سے لے کر آیت واھدیک الی ربک فتخشی۔ تک یعنی وہ ہرگز ایسا نہیں کرے گا یعنی وہ ہدایت نہیں پائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب میں کس طرح اس کی طرف جاؤں اور آپ جان چکے ہیں کہ وہ نہیں جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ آپ اس کام کو کر ڈالیے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ بیشک آسمان میں بارہ ہزار فرشتے ایسے ہیں جو تقدری کے علم کو تلاش کر رہے ہیں مگر وہ نہ اس تک پہنچے ہیں اور نہ اس کا ادراک کرسکے۔ فرعون کو ایمان کی دعوت 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہل لک الی ان تزکی کیا تیری خواہش ہے کہ تو پاک ہو یعنی کیا تیری خواہش ہے کہ تو لا الہ الا اللہ کہے۔ 6 بیہقی نے الاسماء والصفات میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہل لک الی ان تزکی یعنی کیا تیری خواہش ہے کہ تو لا الہ الا اللہ کہہ لے۔ 7۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہل لک الی ان تزکی یعنی تیری خواہش ہے کو تو نجات پاجائے آیت ثم ادبر یسعی۔ پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا۔ یعنی وہ قوت اور طاقت میں نہیں رہا پس وہ فساد کے کام کرنے لگا۔ 8۔ ابن المنذر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم ادبر یسعی سے مراد ہے کہ اس نے حق سے پیٹھ پھیری اور شر انگیزی میں کوشش کرنے لگا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے فرعون کیا تیری خواہش ہے کہ میں تجھ کو تیری جوانی دے دوں کہ تو بوڑھا نہ ہو اور ایسا ملک اور بادشاہی تجھ کو عطا کروں جو تجھ سے چھینی نہ جائے اور نکاح، شراب اور سواری کی لذت تیری طرف لوٹائی جاتی رہے اور تو مرے تو جنت میں داخل ہو تو میرے ساتھ ایمان لے آ۔ تو یہ کلمات اور یہ لذتیں اور راحتیں اس کے دل میں واقع ہوگئیں ا نے کہا ایسا ہی ہوگا جیسا آپ نے کہا یہاں تک کہ ہامان آجائے۔ پس جب ہامان آیا تو اس نے اس کو بتایا تو ہامان نے اسے عاجز قرار دیا۔ اور کہا تو عبادت کرنے لگا جبکہ تو خود رب ہے کہ تیری عبادت کی جاتی ہے اس وقت وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور ان کو جمع کر کے کہنے لگا آیت انا ربکم الاعلیٰ ۔ میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ 10۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی کے بارے میں روایت کیا کہ الاخرۃ سے مراد اس کا قول آیت انا ربکم الاعلیٰ ہے اور الاولیٰ سے اس کا یہ قول مراد ہے آیت ماعلمت لکم من الہ غیری (القصص آیت 28) ۔ 11۔ عبد بن حمید نے عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 12۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولیٰ کے بارے میں کہا یہ دونوں اس کے دو کلمات ہیں۔ پہلا کلمہ یہ ہے۔ آیت ما علمت لکم من الہ غیری۔ کہ میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی اور کو خدا نہیں جانتا۔ اور دوسرا کلمہ یہ ہے آیت انا ربکم الاعلی۔ کہ میں تمہارا بڑا رب ہوں اور ان دونوں کلموں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے۔ 13۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ دونوں کلموں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے۔ 14۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے خیثمہ (رح) سے روایت کیا کہ فرعو کے اس قول آیت ماعلمت لکم من الہ غیرہ اور اس قول انا ربکم الاعلی کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے۔ آسمان و زمین کی تخلیق کے مراحل
Ayah 79:28

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی چھت کو بلند کیا سو اسے درست بنایا

1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت رفع سمکہا اس کی چھت بلند کی یعنی اس کو بنایا۔ آیت واغطش لیلہا اور اس کی رات اندھیری کردی۔ یعنی اس کی رات خوب تاریک کردیا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت رفع سمکھا یعنی اس کی عمارت کو بلند کیا بغیر ستور کے آیت واغطش لیلہا یعنی اس کی رات کو تاریک کردیا۔ آیت واخرج ضحہا اور اس کے دن کو ظاہر کیا۔ یعنی اس کو ظہر کیا آیت والارض بعد ذلک دحہا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی اس کو پھیلا دیا۔ آیت اخرج منہا ماء ہا ومرعاہا۔ والجبال ارساہا۔ متاعا لکم ولانعامکم۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت رفع سمکہا۔ یعنین اس کی عمارت کو بلند کیا۔ آیت واغطش لیلہا۔ یعنی اس کی رات کو تاریک کیا۔ آیت واخرج ضحہا اور اس کے دن کی روشنی کو خوب منور کیا۔ آیت والارض بعد ذلک دحٰہا اس کے بعد زمین کو بچھادیا۔ آیت والجبال ارسٰہا اور پہاڑوں کو خوب جمادیا یعنی ان پہاڑوں کے ذریعہ اس زمین کو جمادیا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے رہنے والوں کے ساتھ گھومنے لگے۔
Ayah 79:29

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر فرمایا

4۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واغطش لیلہا یعنی عشاء کو تاریک بنادیا آیت واخرج ضحاہا یعنی اس کے سورج کو ظاہر کیا۔ 5۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت واغطش لیلہا یعنی اس کی رات کو تارک کردیا۔ آیت واخرج ضحٰہا۔ یعنی اس کے دن کو ظاہر کیا۔
Ayah 79:30

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور اس کے بعد زمین کو پھیلایا

6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والارض بعد ذلک دحی ہا یعنی اس کے ساتھ ساری زمین کو بچھا دیا۔ 7۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا اللہ کی کتاب میں دو آیتیں ہیں (ایسی ہیں) کہ ان میں سے ایک دوسرے کے خلاف ہے۔ ، تو انہوں نے فرمایا بیشک یہ تو نے اپنی رائے سے کہا ہے تو پڑھ اس نے پڑھا۔ آیت قلء انکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین (فصلت آیت 9) کہہ دو کیا تم اس کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی یہاں تک پہنچا۔ ثم استویٰ الی السماء وہی دخان (فصلت آیت 11) پھر تو آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا اور اللہ تعالیٰ کا قول آیت والارض بعد ذلک دحٰھا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا۔ تو یہ دونوں آیتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا آسمان کے پیدا کرنے سے پہلے پھر آسمان کو پیدا کیا پھر آسمان کے پیدا کرنے کے بعد زمین کو بچھا دیا۔ اور دحاہا کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بچھا دیا۔ 8۔ ابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت والارض بعد ذلک دحٰہا سے مراد ہے کہ زمین مکہ سے بچھائی گئی۔
Ayahs 79:31–32

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اس سے اس کا پانی نکالا اس کا چارہ

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو جمادیا

9۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت اخرج منہا ماء ہا اس سے اس کا پانی نکالا۔ یعنی اس سے نہریں جاری کیں آیت ومرعہا۔ اور اس کا چارا نکالا سے مراد ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا نباتاتت یا دوسری چیزوں میں سے۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت دحا ھا۔ یعنی زمین کو بچھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں سے پانی اور نباتات یعنی سبزے کو نکالا اور اس میں سے نہروں کو جاری کردیا۔ اور اس میں پہاڑوں کو، صحراؤں کو راستوں کو اور ٹیلوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان چیزیں ہیں سب کو دونوں میں بنایا۔
Ayah 79:33

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدہ کے لیے

11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت متاعا لکم۔ تمہارے لیے سامان حیات ہے۔ یعنی نفع کی چیزیں۔ 12۔ عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ زمین کو کعبہ کے نیچے سے پھیلا دیا گیا۔ 13۔ ابو الشیخ نے العظمہ علی ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی جب آپ کی نماز کو پورا کرچکے تو اپنے سر مبارک کو اٹھا کر فرمایا وہ ذات بہت برکت والی ہے جو اس آسمان کو بلند کرنے والی ہے اور اس کی تدبیر کرنے والی ہے پھر اپنی نگاہ کو زمین پر رکھا اور فرمایا وہ ذات بہت برکت والی ہے جو اس زمین کو بچھانے والی ہے اور اس کو پیدا کرنے والی ہے۔
Ayahs 79:34–35

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

سو جب بڑی مصیبت آئے

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

جس دن انسان اپنی کوششوں کو یاد کرے گا

14۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری۔ جب وہ بڑا حادثہ آئے گا۔ میں الطامہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ 15۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے قاسم بن الولید الہمدانی (رح) سے آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری کے بارے میں روایت کیا کہ جب جنت والے جنت کی طرف اور دوزخ والے دوزخ کی طرف بھیجے جائیں گے۔ 16۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عمرو بن قیس الکندی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاءت الطامۃ الکبری سے مراد ہے جب کہا جائے گا کہ تم اس کے سبب دوزخ کی طرف چلے جاؤ۔