Ayah 79:1سورة النازعات
مکی ہے اور اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں۔
Ayah 79:21 ۔” والنازعات غرقا “ یعنی فرشتے کفار کی روحوں کو ان کے جسموں سے کھینچیں گے۔ جیسا کہ کھینچنے والا کمان کے دھاگے کو کھینچتا ہے پھر اس کو بہت زیادہ کھینچتا ہے اور غرق اسم ہے اغراق مصدر کے قائم مقام کیا گیا ہے یعنی ” والنازعات اغراقا “ اور اغراق سے مراد کھینچنے میں مبالغہ کرنا ہے۔
مومنین اور کافروں کی نزع کے متعلق روایات
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس کو ملک الموت ہر بال کے نیچے سے کھینچے گا اور ناخنوں سے اور پائوں کے نیچے اور اس کو اس کے جسم میں جکڑ دے گا جب بھی وہ نکلنے کے قریب ہوگی اس کو جسم میں واپس لوٹائے گا کھینچنے کے بعد۔
پس یہ اس کا معاملہ کفار کے ساتھ ہوگا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ملک الموت اور اس کے مددگار کفار کی روح کھینچیں گے جیسے بہت زیادہ دندانوں والی گوشت بھوننے کی سیخ تر روئی سے کھینچی جاتی ہے۔ پس اس کی جان نکلے گی جیسے پانی میں ڈوبا ہوا شخص ہوتا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ موت ہے جو جانوں کو کھینچتی ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں وہ نفس ہے جب سینہ میں کھینچا جائے اور حسن اور قتادہ اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں وہ ستارے ہیں جو ایک افق سے دوسرے افق کی طرف کھینچے جاتے ہیں طلوع ہوتے ہیں ، پھر غائب ہوجاتے ہیں اور عطاء اور عکرمہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں وہ قسی ہے اور کہا گیا ہے وہ مجاہدین جو تیراندازی کرنے والے ہوں۔
Ayah 79:32 ۔” والناشطات نشطا “ وہ فرشتے جو مومن کے جی کو نرمی سے نکالتے ہیں۔ یعنی نرمی سے اترتے ہیں پھر اس کی روح قبض کرتے ہیں۔ جیسا کہ بیڑی اونٹ کے ہاتھ سے نکالی جاتی ہے یعنی نرمی سے اتاری جاتی ہے۔ فراء نے یہ قول نقل کیا ہے پھر فرمایا جو میں نے عرب سے سنا وہ یہ کہتے ہیں ” انشطت العقال “ جب تو اس کی گرہ کھولے اور ” نشطتہ “ جب تونے نرم گروہ سے اس کو باندھا ہوا اور حدیث میں ہے ” کانما انشط من عقال “ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ مومن کا نفس ہے جو موت کے وقت نکلنے کے لئے چست ہوتا ہے اس کی وجہ سے جو وہ اعزاز دیکھتا ہے اس لئے کہ اس پر جنت پیش کی جاتی ہے موت سے پہلے۔
اور علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں وہ فرشتے جو کفار کی روحوں کو کھال اور ناخنوں کے درمیان سے کھینچ کر نکالتے ہیں حتیٰ کہ اس کو ان کے منہ سے مصیبت اور غم کے ساتھ نکالتے ہیں اور نشط کھینچنا۔ کہا جاتا ہے ” نشطت الا اونشطا “ جب تو اس کو کھینچ لے ۔ خلیل (رح) فرماتے ہیں نشط اور انشاط ” ملک الشی الی نفسک “ حتیٰ کہ وہ کھل جائے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ موت جو نفوس کو چست کردے اور سدی (رح) فرماتے ہیں وہ نفس جو قدموں سے نکالا جائے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ ستارے جو ایک افق سے دوسرے افق کی طرف جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ” نشط من بلدالی بلد “ جب تیزی سے نکلے اور کہا جاتا ہے ” حمارناسط ینشط من بلدالی بلد “ اور عطاء اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ ازھاق یعنی آر پار ہوتا ہے۔
Ayah 79:43 ۔” والسابحات سبحا “ وہ فرشتے جو مومنوں کی روحیں قبض کرتے ہیں اور بڑی نرمی سے نکالتے ہیں۔ پھر ان کو چھوڑے دیتے ہیں تاکہ وہ راحت حاصل کرلیں جیسے پانی میں کسی چیز کے ساتھ تیرنے والا اس کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے اور مجاہد اور ابوصالح (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتے ہیں جو آسمان سے تیزی سے اترتے ہیں عمدہ گھوڑے کی طرح اس کو سابح کہا جاتا ہے جب تیز دوڑے اور کہا گیا ہے وہ مجاہدین کے گھوڑے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ ستارے ، سورج اور چاند ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وکل فی فلک یسبحون “ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں وہ کشتیاں ہیں۔
Ayah 79:54 ۔” فالسابقات سبقا “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتے ہیں جو ابن آدم سے خیر اور نیک عمل میں سبقت کر گئے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتے ہیں جو مومنین کی روح کو لے کر جنت کی طرف سبقت کریں گے اور ابن مسعود ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ وہ مومنین کے نفوس ہیں جو جلدی کرتے اور ان فرشتوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو ان کی روح قبض کرتے ہیں اللہ کی ملاقات اور اس کے اعزاز کے شوق ہیں۔
تحقیق انہوں نے سرور کا معائنہ کیا ہوتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ ستارے ہیں جو ایک دوسرے سے چلنے میں سبقت کرتے ہیں اور عطاء (رح) فرماتے ہیں وہ گھوڑے ہیں۔
Ayah 79:65 ۔” فالمدبرات امرا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ فرشتے ہیں جن کو کئی کام سپرد کیے گئے ہیں جن کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ان کو معرفت دی ہے۔ عبدالرحمن بن سابط فرماتے ہیں دنیا میں تدبیر امور چار فرشتے کرتے ہیں۔ جبرئیل، میکائیل، ملک الموت اور اسرافیل علیہم السلام۔ بہرحال جبرئیل (علیہ السلام) کو تو وحی، پکڑ اور لشکروں کو شکست دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور بہرحال میکائیل کو تو بارش، پودوں اور رزق کی ذمہ داری دی گئی ہے اور بہرحال اسرافیل تو صاحب صور ہیں اور امر عظیم کے لئے ہی اتریں گے اور ان قسموں کے جواب محذوف ہیں۔ اس کی تقدیر ” لتبعثن ولتاحسبن “ ہے اور کہا گیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ کا قول ” ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشیٰ “ ہے اور کہا گیا ہے اس میں تقدیم و تاخیر ہے اصل عبارت ” یوم ترجف الراجفۃ تتبعھا الرادفۃ والنازعات غرقا “ ہے۔
Ayah 79:76 ۔” یوم ترجف الراجفۃ “ یعنی پہلا نفخہ اس کی وجہ سے ہر چی ہلنے لگے اور اس کی وجہ سے تمام مخلوق مرجائے گی۔
Ayah 79:87 ۔” تتبعھا الرادفۃ “ اور وہ نفخہ ثانیہ ہے جو پہلے کے پیچھے آئے گا اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ دو چیخیں ہیں۔ پس پہلی ہر چیز کو موت دے گی اور دوسری ہر چیز کو اللہ کی اجازت کے ساتھ زندہ کردے گی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” ترجف الراجفۃ “ زمین وپہاڑ متزلزل ہوجائیں گے۔ ” تتبعھا الرادفۃ “ جب آسمان پھٹ جائے گا اور زمین وپہاڑ اٹھائے جائیں گے پھر کوٹ دیئے جائیں گے۔
عطاء (رح) فرماتے ہیں ” الراجفۃ “ قیامت اور ” الرادفۃ “ بعث اور ” الرجفۃ “ کی اصل آواز اور حرکت ہے ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ جب رات کا چوتھائی حصہ ختم ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فرماتے اے لوگو ! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو راجفہ آگئی اس کے پیچھے رادفہ آرہی ہے، موت آگئی اس کے ساتھ جو اس میں ہے موت آگئی اس کے ساتھ جو اس میں ہے۔
Ayahs 79:9–108 ۔” قلوب یومئذ واجفۃ “ ڈرنے والے کانپنے والے پریشان اور چلنے میں وجیف نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ سخت مضطرب ہوگا۔ کہا جاتا ہے ” وجف القلوب ووجف وجوفا ووجیفا ووجوبا ووجیبا “ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کانپنے والے اور سدی (رح) فرماتے ہیں اپنی جگہوں سے ہٹے ہوئے اس کی نظیر۔ ” اذالقلوب لدی الحناجر “ ہے۔
Ayah 79:1110 ۔” یقولون “ یعنی منکرین بعث جب ان کو کہا جاتا تھا کہ تم موت کے بعد اٹھائے جائو گے۔ ” ء انا لمردو دون فی الحافرۃ “ یعنی پہلے حال کی طرف اور ابتداء امر کی طرف۔ پس ہم زندہ ہوجائیں گے موت کے بعد جیسا کہ ہم پہلے تھے ؟ عرب کہتے ہیں ” رجع فلان فی حاقرتہ “ یعنی جہاں سے آیا تھا وہاں لوٹ گیا اور حافرۃ ان کے نزدیک شے کی ابتداء کا نام ہے اور شئی کے اول کا اور ان میں بعض نے کہا ہے الحاضرۃ زمین کا اوپر والا حصہ جس میں ان کی قبریں کھودی جاتی ہیں اس کا نام حافرۃ رکھا گیا بمعنی محفورۃ۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” عیشۃ راضیۃ “ یعنی مرضیہ کی طرح اور کہا گیا ہے اس کا نام حافرۃ رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ حوافر کا مستقر ٹھکانہ ہے یعنی کیا ہم زمین کی طرف لوٹائے جائیں گے پھر ہم نئی پیدائش کے ذریعے اٹھائے جائیں گے کہ ہم اس پر چلیں گے ؟ اور ابن زید نے کہا ہے ” الحافرۃ “ جہنم ہے۔
Ayah 79:1211 ۔” ء اذا کنا عظاما نخرۃ “ نافع، ابن عامر، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ائنا “ استفہام کے ساتھ پڑھا ہے ” اذا “ اس کے چھوڑنے کے ساتھ۔ ان کی ضد ابو جعفرنے۔ باقی حرضات نے اس کے استفہام کے ساتھ اور حمزہ ، کسائی اور ابوبکر رحمہم اللہ نے۔ ” عظاما ناخرۃ “ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” نخرۃ “ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں جیسے طمع اور طامع اور حذر اور حاذر اور ان دونوں کا معنی بوسیدہ اور ایک قوم نے ان دونوں میں فرق کیا ہے۔ پس انہوں نے کہا ” النخرۃ “ بوسیدہ اور ” الناخرۃ “ کھوکھلی جس میں ہوا گزرے تو سیٹی کی سی آواز آئے۔
Ayah 79:1312 ۔” قالوا “ یعنی منکرین۔ ” تلک اذا کرۃ خاسرۃ “ خسارے کا لوٹنا۔ یعنی اگر ہم موت کے بعد لوٹ آئے تو ہم اس سے خسارہ میں ہوں گے جو ہمیں موت کے بعد پہنچے گا۔
Ayah 79:1413 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فانماھی “ یعنی آخری نفخہ۔ ” زجرۃ “ چیخ۔ ” واحدۃ “ جس کو وہ سنیں گے۔
Ayah 79:1514 ۔” فاذاھم بالساھرۃ “ یعنی زمین کے اوپر یعنی وہ زمین کے پیٹ میں ہونے کے بعد زمین کے اوپر آجائیں گے۔
اورعرب چٹیل میدان اور زمین کے اوپری حصہ کا نام ساھرہ رکھتے ہیں۔ بعض اہل لغت نے کہا ہے تو ان کو دیکھے گا کہ انہوں نے زمین کا نام ساھرہ رکھا ہے اس لئے کہ یہ حیوانات کی نیند اور بیداری ہے۔ سفیان (رح) فرماتے ہیں وہ شام کی زمین ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ جہنم ہے۔
Ayah 79:1615 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ھل اتاک حدیث موسیٰ “ فرماتے ہیں تحقیق آیا ہے اے محمد ! ( ﷺ ) آپ کے پاس موسیٰ کا واقعہ ۔
Ayah 79:1716 ۔” اذناداہ ربہ بالواد المقدس طویٰ “
Ayah 79:1817 ۔ پس کہا اے موسیٰ ! (علیہ السلام)” اذھب الی فرعون انہ طغی “ بلند ہوا اور تکبر کیا اور اللہ تعالیٰ کا انکار کیا۔
Ayah 79:1918 ۔” فقل ھل لک الی ان تزکی “ اہل حجاز اور یعقوب نے زاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی شرک سے پاک وصاف ہوجائے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی تو اسلام لے آ اور نیک کام کرے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
Ayah 79:2019 ۔” واھدیک الی ربک فتخشیٰ “ یعنی میں تجھے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی طرف بلاتا ہوں پس تو اس کی سزا سے ڈر۔
Ayah 79:2120 ۔” فاراہ الآیۃ الکبریٰ “ اور وہ عصا اور یدبیضاء ہے۔
Ayah 79:2221 ۔” فکذب “ اس بات کی کہ وہ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ” وعصیٰ “۔
Ayah 79:2322 ۔” ثم ادبر “ پیٹھ پھیری اور ایمان سے اعراض کیا۔ ” یسعیٰ “ زمین میں فساد کے کام کرتا ہے۔
Ayah 79:2423 ۔” فحشر “ پس اپنی قوم اور لشکروں کو جمع کیا۔ ” فنادیٰ “ جب وہ جمع ہوگئے۔
Ayah 79:2524 ۔” فقال انا ربکم الا علی “ پس میرے سے اوپر کوئی رب نہیں ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی مراد یہ تھی کہ بت بھی رب ہیں اور میں تمہارا اور ان کا رب ہوں۔
Ayah 79:2625 ۔” فاخذہ اللہ نکال الآخرۃ والاولیٰ “ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو سزا دی۔ پس اس کو پہلے اور پچھلوں کے لئے عبرت بنادیا۔ یعنی دنیا میں غرق کرکے اور آخرت میں آگ کے ذریعے اور مجاہد اور مفسرین رحمہم اللہ کی ایک جماعت نے کہا ہے الآخرۃ اور الاولیٰ سے فرعون کے دو کلمے ” ماعلمت لکم من الہ غیری “ اور اس کا قول ” اناربکم الاعلیٰ “ ہے اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا۔
Ayah 79:2726 ۔” ان فی ذلک “ جو فرعون نے کیا جب جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ ” لعبرۃ “ نصیحت۔ ” لمن یخشیٰ “ اللہ عزوجل سے۔
Ayah 79:2827 ۔ پھر منکرین بعث کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” ء انتم اشد خلقا ام السمائ “ یعنی کیا تمہیں موت کے بعد پیدا کرنا تمہارے نزدیک زیادہ سخت ہے اور تمہاری تقدیر میں یا آسمان ؟ اور وہ دونوں اللہ کی قدرت میں ایک ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس “ ہے۔ پھر بیان کیا کہ کس نے آسمان کو پیدا کیا تو فرمایا ” بناھا “
Ayah 79:2928 ۔” رفع سمکھا “ اس کی چھت کو۔ ” فسواھا “ بغیر پھٹن اور بغیر شگاف کے۔
Ayah 79:3029 ۔” واغطش “ تاریک کیا۔ ” لیلھا “ اور غطش اور غبش تاریکی ہیں۔ ” واخرج ضحاھا “ ان کے دن اور نور کو واضح اور ظاہر کیا اور ان دونوں کی آسمان کی طرف نسبت کی ہے اس لئے کہ ظلمت ونور دونوں آسمان سے اترتے ہیں۔
Ayah 79:3130 ۔” والارض بعد ذلک “ آسمان کے پیدا کرنے کے بعد۔ ” دحاھا “ اس کو بچھایا اور دحوبچھانا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کے تمام رزقوں کے ساتھ پیدا کیا لیکن آسمان کے پیدا کرنے سے پہلے اس کو بچھایا نہیں تھا۔ پھر آسمان کی طرف استواء کیا۔ پس ان کو ٹھیک ٹھیک سات آسمان بنائے، پھر زمین کو اس کے بعد بچھایا اور کہا گیا ہے اس کا معنی جب زمین اس کے ساتھ اس کو بچھایا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” عتل بعد ذلک زنیم “ یعنی مع ذلک ہے ایسے ہی بعد ذلک مع ذلک ہے۔
Ayah 79:3231 ۔” اخرج منھا ماء ھا ومرعاھا۔
Ayah 79:3332 ۔” والجبال ارساھا۔
Ayah 79:3433 ۔ متاعا لکم ولا نعامکم۔
Ayah 79:3534 ۔” فاذا جاء ت الطامۃ الکبریٰ “ یعنی دوسرا نفخہ جس میں بعث اور قیامت کا قیام ہے اور قیامت کا نام طامہ رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ ہر ہولناک امر پر بلند ہوگی اور اپنے ماسوا کو ڈھانپ دے گی اور الطامۃ عرب کے نزدیک ایسی مصیبت جس کے برداشت کی طاقت نہ ہو۔
Ayah 79:3635 ۔” یوم یتذکر الانسان ماسعیٰ “ جو دنیا میں خیر وشر کا عمل کیا۔
Ayah 79:3736 ۔” وبرزت الجحیم لمن یریٰ “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس سے پردہ کو کھول دیا۔ پس اس کی طرف مخلوق دیکھے گی۔
Ayah 79:3837 ۔” فاما من طغیٰ “ اپنے کفر میں۔
Ayah 79:3938 ۔ وآثر الحیوۃ الدنیا “ آخرت پر۔
Ayah 79:4039 ۔” فان الجحیمھی الماویٰ ۔