Ayah 78:1سورة النباء
مکی ہے اور اس کی چالیس 40 آیات ہیں
Ayah 78:21 ۔” عم “ اس کی اصل ” عن ما “ ہے۔ نون میں ادغام کیا گیا ہے اور ما کے الف کو حذف کردیا گیا ہے جیسے ان کے قول ” فیم “ اور ” بم “ میں ” یتساء لون “ یعنی کسی چیز کے بارے میں یہ مشرکین آپس میں سوال کرتے ہیں اور یہ اس وجہ سے کہا کہ جب نبی کریم ﷺ نے ان کو توحید کی طرف بلایا اور ان کو موت کے بعد اٹھنے کی خبر دی اور ان پر قرآن کی تلاوت کی تو ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے کہ محمد (ﷺ ) کیا لائے ؟ زجاج (رح) فرماتے ہیں لفظ استفہام کا لفظ ہے اور اس کا معنی نفحیم (تعظیم) ہے۔ جیسا کہ تو کہے ” ای شیء زید ؟ “ جب تو اس کے امر اور اس کی شان کو عظیم سمجھے۔
Ayah 78:32 ۔ پھر ذکر کیا کہ ان کا باہم سوال و جواب کسی چیز کے بارے میں تھا تو فرمایا ” عن النبا العظیم “ مجاہد اور اکثر حضرات فرماتے ہیں وہ قرآن ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” قل ھو نبا عظیم “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ بعث ہے۔
Ayah 78:43 ۔” الذی ھم فیہ مختلفون “ پس تصدیق کرنے والے اور تکذیب کرنے والے ۔
Ayah 78:54 ۔” کلا سیعلمون “ کلا نفی ہے فرماتے ہیں وہ عنقریب جان لیں گے اپنی تکذیب کا انجام جب تمام امورواضح ہوجائیں گے۔
Ayah 78:65 ۔” ثم کلا سیعلمون “ یہ ان کے لئے وعید ہے وعید کے پیچھے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں ” کلا سیعلمون “ ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیں گے یعنی کافر ہیں۔ ” ثم کلا سیعلمون “ یعنی مومنین۔ پھر اپنی کاریگری کو ذکر کیا تاکہ وہ اس کی توحید کو جان لیں۔
Ayah 78:76 ۔ تو فرمایا ” الم نجعل الارض مھادا “ بچھونا۔
Ayah 78:87 ۔” والجبال اوتادا “ زمین کے لئے تاکہ وہ ان کے ساتھ نہ ہلے۔
Ayah 78:98 ۔” وخلقناکم ازواجا “ قسمیں مذکر ومونث۔
Ayah 78:109 ۔” وجعلنا نومکم سباتا “ یعنی تمہارے بدنوں کے لئے راحت۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں سبات یہ ہے کہ حرکت ختم ہوجائے اور اس میں روح نہ ہو اور کہا گیا ہے اس کا معنی ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے اعمال کو کاٹنے والا بنادیا اس لئے کہ سبت کی اصل کاٹنا ہے۔
Ayah 78:1110 ۔” وجعلنا اللیل لباسا “ ڈھانپنا اور پردہ ہر چیز کو اپنی تاریکی میں ڈھانپ لیتی ہے۔
Ayah 78:1211 ۔” وجعلنا النھار معاشا “ المعاش زندگی اور ہر وہ چیز کو اس سے زندگی گزاری جائے تو وہ معاش ہے۔ یعنی ہم نے اس میں معاش کے سبب اور مصالح میں تصرف کرنا بنایا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ تم اس میں اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہو اور جو تمہارے لئے اس کے رزق میں تقسیم کیا گیا۔
Ayah 78:1312 ۔” وبنینا فوقکم سبعا شدادا “ مراد سات آسمان ہیں۔
Ayah 78:1413 ۔” وجعلنا سراجا “ یعنی سورج۔ ” وھاجا “ روشن چمک دار۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں الوھاج ایندھن والا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس میں نور اور حرارت بنادی اور ” وھج “ نور اور حرارت کو جمع کرتا ہے۔
Ayah 78:15معصرات کی مختلف تفاسیر
14 ۔” وانزلنا من المعصرات “ مجاہد، قتادہ، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں یعنی وہ ہوائیں جو بادلوں کو نچوڑتی ہیں اور یہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ ازہری (رح) فرماتے ہیں وہ ہوائیں جو بگولوں والی ہیں اور اس تاویل پر من باء کے معنی میں ہوگا یعنی ” بالمعصرات “ کیونکہ ہوا بارش کو گھماتی ہے۔ ابوالعالیہ ، ربیع اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” المعصرات “ وہ بادل اور یہ والبی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں ” المعصر “ وہ بادل جو بارش سے لبریز ہو لیکن برسے نہ جیسے ” المراۃ المعصر “ وہ عورت جس کا حیض قریب ہو اور ابھی اس کو حیض نہ آیا ہو۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں وہ مغیثات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قول ’ دفیہ یغاث الناس وفیہ یعصرون “ میں مذکور ہے اور حسن، سعید بن جبیر، زید بن اسلم اور مقاتل بن حیان رحمہم اللہ فرماتے ہیں۔ ” من المعصرات “ یعنی آسمانوں سے۔ ” ماء ثجاجا “ یعنی بہت ہوا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں مدرار اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں لگاتار ایک دوسرے کے پیچھے اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں بہت زیادہ۔
Ayah 78:1615 ۔” لنخرج بہ “ یعنی اس پانی کے ذریعے ” حبا “ جو لوگ کھاتے ہیں۔ ” ونباتا “ جس کو زمین اگائے ان چیزوں میں سے جن کو جانور کھاتے ہیں۔
Ayah 78:1716 ۔” وجنات الفافا “ درختوں سے گنجان۔ اس کا واحد لف اور لیف ہے۔ کہا گیا ہے یہ جمع الجمع ہے۔ کہا جاتا ہے ” جنۃ لفا “ اور اس کی جمع الف ہے لام کے پیش کے ساتھ اور جمع کی جمع الفاف ہے۔
Ayah 78:1817 ۔ ان یوم الفصل “ مخلوق کے درمیان فیصلہ کا دن۔ ” کان میقاتا “ جب اللہ تعالیٰ نے ثواب و عقاب کا وعدہ کیا۔
Ayah 78:1918 ۔” یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا “ گروہ در گروہ ہر جگہ سے حساب کے لئے۔
Ayah 78:2019 ۔” وفتحت السمائ “ اہل کوفہ نے ” فتحت “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تشدید کے ساتھ یعنی فرشتوں کے اترنے کے لئے پھاڑ دیا جائے گا۔ ” فکانت ابوابا “ یعنی دروازوں والا اور کہا گیا ہے کھل جائے گا اور بکھر جائے گا حتیٰ کے اس میں دروازے اور راستے بن جائیں گے۔
Ayah 78:2120 ۔” و سیرت الجبال “ زمین کے اوپر سے ۔” فکانت سرابا “ یعنی اڑتے ہوئے ذرات دیکھنے والے کی آنکھ کے لئے سراب کی طرح۔
Ayah 78:2221 ۔” ان جھنم کانت مرصادا “ راستہ اور گزرنے کی جگہ۔ پس کسی کے لئے جنت کا راستہ نہ ہوگا حتیٰ کہ آگ کو طے کرے اور کہا گیا ہے۔
مرصادا کی تفسیر
” کانت مرصادا “ یعنی ان کے لئے تیار کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے ” ارصدت الشیئ “ جب تو اس کو اس کے لئے تیار کرے اور کہا گیا ہے وہ ” رصدت الشیئ “ ارصدہ سے مشتق ہے جب تو اس کا نتظار کرے اور مرصاد وہ جگہ جس میں گھات لگانے والا دشمن کا انتظار کرے اور اللہ تعالیٰ کا قول ” ان جھنم کانت مرصادا “ یعنی کفار کا گھات لگائے ہوئے ہے۔ مقسم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جہنم کے پل پر سات رکاوٹیں ہیں۔ ان میں سے پہلی کے پاس بندہ ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس اگر اس کو مکمل لایا تو دوسری تک پہنچ جائے گا۔ پھر اس سے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس اگر اس کو مکمل لایا تو تیسری تک پہنچ جائے گا پھر زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس اگر اس کو مکمل لایا تو چوتھی تک پہنچ جائے گا پھر روزے کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس اگر اس کو مکمل لایا تو پانچویں تک پہنچ جائے گا۔ پھر حج کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس اگر اس کو پورا لایا تو چھٹی تک پہنچ جائے گا۔ پھر عمرہ کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس اگر اس کو مکمل لایا تو ساتویں تک تجاوز کرجائے گا۔ پھر مظالم کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس اگر ان سے نکل گیا ورنہ کہا جائے گا تم دیکھو پس اگر اس کے کوئی نقل ہو تو ان کے ذریعے اس کے اعمال کو مکمل کرو، پھر جب فارغ ہوجائے گا تو جنت کی طرف چلے گا۔
Ayah 78:2322 ۔” للطاغین “ کفاروں کے لئے۔ ” مآبا “ سرجع جس کی طرف وہ لوٹیں گے۔
Ayah 78:2423 ۔” لابثین “ حمزہ اور یعقوب نے ” لبثین “ بغیر الف کے پڑھا ہے اور اکثر حضرات نے ” لا بثین “ الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں۔
احقاباً کتنی مدت پر بولا جاتا ہے
’ دفیھا احقابا “ حقب کی جمع اور ایک حقب اسی سال، ہر سال بارہ مہینے کا ہر مہینہ تیس دن، ہر دن ہزار سال۔ یہ علی ابن ابی طالب ؓ سے رروایت کیا گیا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں احقاب ترتالیس 43 حقب ہیں، ہر حقب ستر 70 خریف کا ہر خریف سات سو سال کا، ہر سال تین سو ساٹھ دن کا، ہر دن ہزار سال۔ حسن (رح) فرماتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے لئے کوئی مدت مقرر نہیں کی بلکہ فرمایا ” لا بثین فیھا احقابا “ پس اللہ کی قسم نہیں وہ وہ مگر جب ایک حقب چلاجائے گا دوسرا داخل ہوگا، پھر دوسرا ہمیشہ تک۔ پس احقاب کی کوئی تعداد نہیں ہے مگر ہمیشہ رہنا۔ حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرمایا اگر اہل جہنم جانتے کہ وہ جہنم میں دنیا کی کنکریوں کی تعداد رہیں گے تو وہ خوش ہوجاتے اور اگر اہل جنت جانتے کہ وہ جنت میں دنیا کی کنکریاں کی تعداد رہیں گے تو وہ غمگین ہوجاتے اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں ایک حقب سترہ ہزار سال کا ہے، فرمایا اور یہ آیت منسوخ ہے اس کو ” فلن نزید کم الا عذابا “ نے منسوخ کردیا ہے یعنی تعداد اٹھ گئی اور ہمیشگی حاصل ہوگئی۔
Ayah 78:2524 ۔” لا یذوقون فیھا بردا ولا شرابا “ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ بردنیند ہے اور اسی سے وہ ہے جو کسائی اور ابوعبیدہ رحمہم اللہ نے کہا ہے۔ عرب کہتے ہیں منع البردا البرد یعنی ٹھنڈ نیند کو لے گئی اور حسن اور عطاء رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” لا یذوقون فیھا بردا “ یعنی راحت و آرام۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ’ دلا یذوقون فیھا بردا “ جو ان کو گرمی سے نفع دے ” ولا شرابا “ جو ان کو پیاس سے نفع دے۔
Ayah 78:2625 ۔” الا حمیما وغساقا “ فرماتے ہیں غساق زمھریر ہے جو ان کو اپنی ٹھنڈک سے سخت تکلیف دے گا اور کہا گیا ہے اہل جہنم کی پیپ ہے اور ہم نے اس کو سورة صٓ میں ذکر کیا ہے۔
Ayah 78:2726 ۔” جزاء وفاقا “ یعنی ہم نے ان کو ایسا بدلہ دیا جو ان کے اعمال کے موافق ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں عذاب گناہ کے موافق ہو۔ پس شرک سے بڑا کوئی گناہ نہیں ہے اور جہنم سے بڑا کوئی عذاب نہیں ہے۔
Ayah 78:2827 ۔” انھم کانوا لایرجون حسابا “ اس سے نہیں ڈرتے کہ ان کا حساب کیا جائے گا اور معنی یہ ہے کہ وہ بعث پر ایمان نہ لاتے تھے اور نہ اس پر کہ وہ حساب کیے جائیں گے۔
Ayah 78:2928 ۔” وکذبوا بآیاتنا “ یعنی اس کو جو انبیاء (علیہم السلام) لائے۔ ” کذابا “ یعنی تکذیب۔ فراء (رح) فرماتے ہیں یہ یمانی فصیح لغت ہے وہ تقعیل کے مصدر میں فعال کہتے ہیں مجھے ان میں سے ایک بدو نے کہا مروہ پر مجھ سے فتویٰ پوچھتے ہوئے ” الحلق احب الیک ام القصار “ کیا آپ کے نزدیک حلق زیادہ پسندیدہ ہے یا قصر کرنا ؟
Ayah 78:3029 ۔” وکل شیء احصیناہ کتابا “ یعنی اور ہر چیز اعمال میں سے ہم نے اس کو لوح محفوظ میں بیان کردیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” وکل شیء احصیناہ فی امام مبین “۔
Ayah 78:3130 ۔” فذوقوا “ یعنی ان کو کہا جائے گا پس تم چکھو۔ ” فلن نزیدکم الا عذابا “
Ayah 78:3231 ۔” ان للمتقین مفازا “ جہنم سے کامیابی اور نجات۔
Ayah 78:3332 ۔” حدائق واعنابا “ مراد جنت کے درخت اور اس کے پھل ہیں۔
Ayah 78:3433 ۔” وکواعب “ ابھرتے پستانوں والی لونڈیاں، ان کے پستان ابھرے ہوئے ہوں گے۔ اس کا واحد کا عب ہے۔” اترابا “ عمر میں برابر۔
Ayah 78:3534 ۔” وکاسا دھاقا “ ابن عباس ؓ ، حسن ، قتادہ اور ابن زید رحمہم اللہ فرماتے ہیں چھلکتے ہوئے۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں لگاتار، عکرمہ (رح) فرماتے ہیں خالص۔
Ayah 78:3635 ۔” لا یسمعون فیھا لغوا “ باطل کلام۔ ” ولا کذابا “ تکذیب۔ وہ ایک دوسرے کی تکذیب نہ کریں گے اور کسائی (رح) نے ” کذابا “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” کاذبۃ “ کا مصدر اور کہا گیا ہے وہ کذب (جھوٹ) ہے اور کہا گیا ہے وہ تکذیب کے معنی میں مشدد کی طرح۔
Ayah 78:3736 ۔” جزاء من ربک عطاء حسابا “ یعنی ان کو بدلہ دیا۔ بدلہ دینا اور ان کا کافی وافی حساب عطاء کیا۔ کہا جاتا ہے ” احسبت فلانا “ یعنی میں نے اس کو اتنا دیا جو اس کو کافی ہوجائے حتیٰ کہ اس نے کہا مجھے کافی ہے اور ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں ” عطاء حسابا “ یعنی بہت زیادہ اور کہا گیا ہے وہ ان کے اعمال کے بقدر بدلہ ہے۔
Ayah 78:3837 ۔” رب السموات والارض وما بینھما الرحمن “ اہل حجاز اور ابوعمر ورحمہم اللہ نے (رب) استئناف کی بناء پر مرفوع پڑھا ہے اور الرحمن اس کی خبر ہے۔ اور دیگر حضرات نے جر کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” من ربک “ کے تابع کرتے ہوئے اور ابن عامر، عاصم اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” الرحمن “ جر کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” رب السماوات والارض “ کے تابع کرتے ہوئے اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ پس حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ” رب “ جر کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” جزاء من ربک “ سے قریب ہونے کی وجہ سے اور ان دونوں نے ” رحمن “ کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اس دور ہونے کی وجہ سے استئناف پر اور اللہ تعالیٰ کا قول ” لا یملکون “ رفع کی جگہ میں اس کی خبر ہے اور معنی ” لا یملکون منہ خطابا “ ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں مخلوق اس پر قادر نہ ہوں گے کہ وہ رب سے کلام کریں مگر اس کی اجازت کے ساتھ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ شفارش کے مالک نہ ہوں مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔
Ayah 78:3938 ۔” یوم یتموم الروح “ یعنی اس دن میں۔ ” والملائکۃ صفا “ اس روح میں اختلاف ہوا ہے۔ شعبی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں وہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے الروح فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بڑی کوئی مخلوق پیدا نہیں کی۔ پس جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ تنہا ایک صف میں کھڑا ہوگا اور سارے فرشتے ایک صف میں تو اس کے جسم کی بڑائی ان کی مثل ہوگی۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ الروح فرشتہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں سے بڑا ہے اور فرشتوں سے اور وہ چوٹھے آسمان میں ہے ہر دن بارہ ہزار تسبیح کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر تسبیح سے ایک فرشتہ پیدا کرتے ہیں وہ قیامت کے اکیلا ایک صف میں آئے گا اور مجاہد، قتادہ اور ابوصالح (رح) فرماتے ہیں الروح بنو آدم کی صورت پر ایک مخلوق ہے اور یہ انسان نہیں ہیں وہ ایک صف میں کھڑے ہوں اور فرشتے ایک صف میں۔ یہ ایک لشکر ہیں اور وہ ایک لشکر ہیں اور مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں یہ ایک مخلوق ہے بنو آدم کی صورت پر اور آسمان سے کوئی فرشتہ نہیں اترتا مگر اس کے ساتھ ان میں سے ایک ہوتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ بنو آدم ہیں اور اس کو قتادہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔
اور فرمایا یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کو ابن عباس ؓ چھپاتے تھے۔ ” والملائکۃ صفا “ شعبی (رح) فرماتے ہیں وہ دونوں رب العالمین کے سامنے صف بستہ ہوں گے جس دن کھڑے ہوں گے روح میں سے صف باندھے ہوئے اور فرشتوں میں سے صف باندھے ہوئے۔ ” لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا “ دنیا میں یعنی حق اور کہا گیا ہے کہ لا الہ الا اللہ۔
Ayah 78:4039 ۔” ذلک الیوم الحق “ ہونے والا جو واقع ہو یعنی قیامت کا دن۔ ” فمن شاء اتخذ الی ربہ مآبا “ مرجع و راستہ اس کی طاعت کے ذریعے یعنی پس جو چاہے اللہ کی طرف لوٹے اس کی طاعت کرکے۔