79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 79:1

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان نکالتے ہیں گھس کر

(1) النازعات کی قسم اور اس کا معنی و مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے ان فرشتوں کی جو جان نکالتے ہیں ڈوب کر " یعنی کافروں کی رگ رگ میں گھس کر اور ان کے پور پور تک پہنچ کر۔ اس سے مراد ہیں وہ فرشتے جو کافروں کی جان نکالتے ہیں نہایت سختی کے ساتھ۔ (روح، صفوہ، ابن کثیر، قرطبی، وغیرہ) والعیاذ باللہ۔ چناچہ روایات میں کافر کی جانکنی کی سختی اس مثال سے بیان کی گئی ہے کہ ایک خاردار جھاڑی کو بھیگی ہوئی روئی کے اندر ڈال کر زور سے کھینچ کر نکالا جائے، اور بعض نے کہا کہ نازعات سے مراد وہ زوردار ہوائیں جو جھکڑ بن کر چلتی ہیں۔ اور وہ درختوں، مکانوں، چھتوں اور مختلف دوسری چیزوں کو اپنے زور سے اکھاڑ پھینکتی ہیں کہ اسی طرح کی ہواؤں کے لئے " الذریات "، المرسلات " اور " العصفت " وغیرہ کے الفاظ بھی قرآن حکیم میں استعمال فرمائے گئے ہیں۔ اور بعض نے اور بھی احتمال بیان کیے ہیں، مگر جمہور اہل علم کے یہاں پہلا قول و احتمال ہی معروف و مشہور ہے۔ لیکن قرآن حکیم سے بعض دوسرے مقامات کے الفاظ کریمہ سے راجح دوسرا قول معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ان مقامات میں یہ الفاظ " ہوا " ہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ مثلا قوم عاد پر آنے والے ہوا کے عذاب کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا تنزِعُ النَّاسَ کَأَنَّہُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ (القمر 20 پ 27) یعنی وہ ہولناک ہوا ان لوگوں کو اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی جیسا کہ وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔ والعلم عند اللہ، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 79:2

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور ان کی جو بند کھول دیتے ہیں آسانی سے

(2) " النشطت " کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے ان کی جو بند کھولتے ہیں آسانی سے "۔ یعنی اہل ایمان کی جان نکالتے وقت جس سے ان کی جان نہایت آسانی سے نکل جاتی ہے۔ جیسے کہ کسی بند چیز کی گرہ کھول دی جائے اور وہ بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ اس کے بندھن سے نکل جائے (روح، خازن وغیرہ) سو فرشتے اہل ایمان کی جان بھی اسی آسانی سے نکالتے ہیں، جبکہ دوسرے بعض حضرات اہل علم کے نزدیک اس کا مصداق بھی ہوائیں ہی ہیں۔ یعنی وہ سبک خرام اور نرم رو ہوائیں جو آہستہ سے چلتی ہیں۔ جن کے لئے دوسرے مقام پر " فالجریت یسرا " کے الفاظ آئے ہیں۔ سو ہواؤں کی تندی و تیزی اور ان کی نرم روی اور سبک خرامی دونوں قدرت کی رحمت و عنایت اور نقمت و عذاب کے دو مختلف نمونے ہیں۔ انہی پر انسان کی زندگی کا مدارو انحصار ہے۔ اور یہی کچھ بڑھ کر اور بگڑ کر اس کی ہلاکت و تباہی کا سامان بن جاتی ہیں۔ جیسا کہ مختلف قوموں کے حالات و واقعات سے واضح ہے، جو ان کو ماضی کے مختلف ادوار میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے پیش آئے۔ اور آج تک جگہ جگہ اور طرح طرح سے پیش آتے رہتے ہیں، سو اس میں یہ عظیم الشان اور انقلاب آفرین درس ہے کہ ہواؤں کی یہ نفع بخشی یا ضرر رسانی ان کے اپنے اختیار کی چیز نہیں بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو وہی ہے سب کا خالق ومالک اور اس پوری کائنات کا حاکم و مدبر۔
Ayah 79:3

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور ان کی جو چلتے ہیں تیرتے ہوئے

(3) " سبحت " کی قسم اور اس کا معنی و مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے ان کی جو چلتے ہیں تیرتے ہوئے " یعنی اس قدر تیز چلتے ہیں کہ گویا کہ تیرتے جارہے ہیں جس طرح پانی میں کوئی بغیر کسی رکاوٹ کے تیرتا جاتا ہے، یا جیسے کشتی چلتی ہے، ایسے ہی یہ فرشتے بھی اپنے فرائض کی تعمیل و تکمیل کے لیے تیز چلتے ہیں۔ (محاسن، مدارک اور معارف وغیرہ) جبکہ دوسرا قول بعض حضرات اہل علم کا یہ ہے کہ اس سے اس کی بعد والی صفات دونوں سے بادل مراد ہیں۔ جیسا کہ قرینے سے ظاہر ہورہا ہے کہ اول تو ہواؤں اور بادلوں کا باہمی تعلق کچھ لازم و ملزوم کا سا ہے۔ اور مزید یہ کہ یہاں پر اس کے بعد والی دو صفتوں کا عطف حرف " واؤ " کی بجائے " فا " سے کیا گیا ہے جو عربیت کے قاعدے کے مطابق اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں صفتیں " سبحت " ہی کی ہیں، اور ان میں باہم دگر ترتیب بھی ہے۔ سو اس سے مراد بادلوں سے لدی ہوئی وہ ہوائیں ہیں جو اللہ کے حکم کے مطابق اس سرزمین کی طرف چلتی ہیں۔ جس پر ان کو برسانا مطلوب ہوتا ہے اور اسی کے حکم کے مطابق ملا کر کسی علاقے پر وہ رحمت بن کر برستی ہیں اور کسی پر عذاب کا کوڑا بن کر۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کسی کو جل تھل کردیتی ہیں اور کسی کو بالکل خشک چھوڑ دیتی ہیں، گویا جس بات کو سورة ذاریات میں " فالمقسمت امرا " کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا اسی کو یہاں پر " فالمدبرات امرا " کے کلمات سے ادا فرمایا گیا ہے۔ پس جیسا کہ سورة المرسلات پارہ 29 کی تفسیر میں گزر چکا ہے، یہ ہوائیں نہ خود کار ہیں اور نہ خود مختار، بلکہ ان کے نفع یا ضرر رسانی کا معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور ہوائیں اپنی تندی و تیزی اور اپنی نرمی و سبک خرامی سے اللہ پاک کی رحمت و نقمت کی دونوں شانوں کا نمونہ اور مظہر ہوتی ہیں، اسی کو سورة مرسلات میں " فالملقیت زکرا۔ عذرا او نذرا " کے الفاظ سے ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے قدرت کی مختلف شانوں کے نمونے سامنے آتے ہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ، پس بندے کا کام ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی نگاہ اسی وحدہ لا شریک پر رکھے، فایاہ نعبد، وعلیہ نتوکل، وبہ نستعین، جل وعلا۔
Ayah 79:4

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر جو (اپنے خالق ومالک کے حکم کی تعمیل میں) آگے بڑھتے ہیں دوڑ کر

(4) " سبقت " کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کی جو آگے بڑھتے ہیں دوڑ کر۔ اپنے خالق ومالک کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے، کہ ان کی طبیعت وجبلت ہی ایسی ہے اور ان کی شان ہی یہ ہے کہ لَا یَعْصُون اللَّہَ مَا أَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُونَ مَا یُؤْمَرُونَ (التحریم 6 پ 28) یعنی وہ اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتیے، اور ان کو جو بھی حکم ان کے رب کی طرف سے ملتا ہے، اس کو فی الفور اور جوں کا توں بجا لاتے ہیں، اور اگر دوسرے قول و احتمال کے مطابق یعنی جبکہ اس کو بادلوں کی صفت قرار دیا جائے جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیہ میں گزرا، تو اس صورت میں یہ بادلوں کی اس بھاگ دوڑ کی تصویر ہوگی جو فضا میں اس وقت نمایاں ہوتی ہے جبکہ ان کی مختلف ٹکڑیاں مختلف دستوں کی طرح ایک دوسرے پر سبقت کرتے دکھائے دیتی ہیں، اور ایسے لگتا ہے کہ جیسا کہ یہ سب اپنے خالق ومالک کے حکم غیبی کی تعمیل میں محو و مصروف ہیں۔ ان میں سے ہر ٹکڑی اور ہر دستہ اس بات کا آرزو مند نظر آتا ہے کہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں پہلا نمبر اسی کا رہے، اور یہی خالق ہے اس خالق ومالک کا، کہ حاکم حقیقی بہرحال وہی وحدہ لا شریک ہے۔ فسبحانہ اللہ الذی لا الہ الا ھو، جل وعلا و تبارک و تعالی۔
Ayahs 79:5–6

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر انکی جو تدبیر کرتے ہیں (اپنے رب کے) حکم سے (قیامت نے ضرور بالضرور قائم ہونا ہے)

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس روز ہلا مارے گا وہ (انتہائی ہولناک) جھٹکا

(5) مدبرات امر سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر جو تدبیر کرتے ہیں اپنے رب کے حکم سے " یعنی آسمان سے زمین تک اپنے رب کے حکم و ارشاد کے مطابق، اور جو اور جیسا حکم ان کو اپنے رب کی طرف سے ملتا ہے یہ اس کی تعمیل و تکمیل کرتے ہیں۔ ان پانچ صفات کے موصوف ذکر نہیں فرمائے گئے۔ اس لیے جیسا کہ اوپر کے حواشے میں بھی اشارہ کیا گیا، حضرات مفسرین کرام کے اقوال اس میں مختلف ہیں، پہلا قول و احتمال جو ہم نے اوپر ذکر کیا وہ جمہور صحابہ وتابعین اور عام مفسرین کرام کا قول ہے، اور جس کو حضرت ابن عباس، اور ابن مسعود ؓ نے بھی اختیار فرمایا ہے۔ جبکہ کچھ حضرات اہل علم کے قول کے مطابق ان سے مراد ہوائیں ہیں، جیسا کہ ابھی کے حواشی میں گزر گئی اس کی تفصیل اور ترجیح تو وہ اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے، انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اگر اس کی فرصت ہوئی تو فیق مل گئی، اور حیات مستعار نے وفا کی تو۔ واللہ ھو الموفق والمعین فعلیہ نتوکل و بہ نستعین۔ مختصر طور پر یہ کہ یہ سب صفات ہواؤں ہی کی مختلف کیفیات وصفات کی ہیں۔ سو اس صورت میں اس وصف کا مفہوم وہی ہوگا جو سورة ذاریات میں " فالجریت یسرا، فالمقسمت امرا " کے الفاظ سے، اور سورة مرسلات میں " فالفرقات فرقا، فالملقیت ذکرا " کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر دونوں حاشیوں میں گزرا۔ والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ جل وعلا۔ (6) مقسم علیہ کی تعیین کا ذکر وبیان : سو بین القوسین کی اس عبارت سے ان پانچ قسموں کے جواب قسم کا ذکر کیا گیا ہے، سو یہ جواب قسم ہے ان پانچوں قسموں کا جو کہ محذوف و مقدور ہے، اور ما بعد کا کلام یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ ۔ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ۔ قُلُوبٌ یَوْمَئِذٍ وَاجِفَۃٌ۔ أَبْصَارُہَا خَاشِعَۃٌ۔ یَقُولُونَ أَئِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِیْ الْحَافِرَۃِ ۔ أَئِذَا کُنَّا عِظَاماً نَّخِرَۃً (آیت، مذکورہ) اس کا قرینہ اور اس پر دال ہے، اور یہ قسمیں اس مقسم بہ پر دلالت اس طرح کرتی ہیں کہ فرشتوں کی ان کارگزاریوں پر مشتمل یہ پر حکمت نظام، اور ہواؤں کے یہ مختلف کرشمے اور ان کے تصرفات اور ان کے نتائج وثمرات وغیرہ سب کچھ یونہی بےمقصد و بیکار نہیں ہوسکتا، اور یہ کہ انسان کو جو کہ درحقیقت اس ساری کائنات کا مخدوم ومطاع ہے، اس کی تخلیق اور اس کا وجود عبث اور بےکار نہیں ہوسکتا، اور یہی فرشتے جو آج اللہ پاک کے حکم و ارشاد کے مطابق اس کائنات کا نظام چلانے میں اس طرح لگے ہوئے ہیں، وقت آنے پر یہی سب فرشتے حکم خداوندی کے مطابق اس سب کو تہس نہس کر کے ایک ایسے نئے جہاں میں بالکل نئے دور میں اور نئے قوانین کے تحت حکم خداوندی کی تعمیل و کارگزاری میں لگ جائیں گے۔ جس کی سعادتیں ابدی اور جس کی نعمتیں و عنایتیں دائمی اور سرمدی ہوں گی، سو قیامت کا قائم ہونا عقل و نقل کے عین تقاضوں عین مطابق اور قطعی طور پر حق ہے، اور اس نے اپنے وقت پر بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ اللھم زدنا ایمانا و یقینا و استعدادا لھا "۔ سو یہ مقسم علیہ جس کو یہاں پر مقدر مانا ہے اس کی تصریح سورة مرسلات میں اس طرح فرمائی گئی ہے " انما تو عدون لواقع " یعنی بیشک جس چیز کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جارہا ہے اس نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے، پس فرشتوں کی بےمثال اطاعت خداوندی اور اس کے احکام کی بجاآوری کی بےمثال صفت اور ہواؤں کے عجائب تصرفات سب اس حقیقت کے شاہد اور اس کے گواہ ہیں کہ جس روز قیامت کا لوگوں سے وعدہ کیا جارہا ہے اس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے۔ کوئی اس کو روک یا ٹال نہیں سکے گا۔ اللہ اس کے لیے تیاری کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 79:7

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اس کے پیچھے آلگے گا ایک اور (ایسا ہی زوردار) جھٹکا

(7) " الراجفۃ " اور " الرادفۃ " سے مقصود و مرا ؟ ان دونوں سے مراد ہیں نفخہ اولی اور ثانیہ۔ کہ نفخہ اولی سے کچھ نیست و نابود ہوجائے گا اور نفخہ ثانیہ سے تمام مردے پھر جی اٹھیں گے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ جیسے اکابرین سے مروی و منقول ہے ( ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، اور جامع البیان وغیرہ) اور جیسا کہ سورة زمر کی آیت نمبر 68 پ 14 میں فرمایا گیا وَنُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَن فِیْ الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاء اللَّہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ أُخْرَی فَإِذَا ہُم قِیَامٌ یَنظُرُونَ ۔ اور بعض اہل علم نے کہا کہ اس سے مراد وہ دو عذاب ہیں جن میں ایک تکذیب رسل کی بنا پر اسی دنیا میں آتا ہے اور ایک جو آخرت میں ہوگا۔ بہرکیف اس سے منکرین و مکذبین کو قیامت کے اس یوم عظیم سے خبردار کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے انجام کی فکر کرلیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، و علی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 79:8

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

کچھ دل اس روز (مارے خوف کے) کانپ رہے ہوں گے

(8) منکرین کے قیامت کے روز کے حال بد کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ دل اس روز کانپ رہے ہوں گے " یعنی وہاں کے ہول دیکھ کر۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ ان کفار و منکرین کے دل ہوں گے جو کہ دنیا میں ایمان و یقین کے نور سے محروم رہے ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ زندگی بھر کے کفر و انکار کے نتیجے میں ان کو اس موقع پر جس انجام سے سابقہ ہوگا وہ نہایت ہی ہولناک ہوگا۔ جبکہ اہل ایمان و یقین اپنے ایمان و یقین کی برکت سے اور اس کے نتیجے میں اس دن بالکل امن و سکون میں ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْأَکْبَرُ وَتَتَلَقَّاہُمُ الْمَلَائِکَۃُ ہَذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ (الانبیائ 103 پ 17) سو ایمان و یقین کی دولت امن وامان اور سلامتی کی ضامن و کفیل ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، چہروں سے یہاں پر مراد ان چہروں والے ہیں، یعنی " جز " بول کر " کل " مراد لیا گیا ہے، کیونکہ چہرہ انسان کا سب سے اشرف عضو ہے۔
Ayahs 79:9–10

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی (مارے دہشت و حیرت کے)

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

(مگر یہ لوگ ہیں کہ تعجب اور استہزا کے طور پر) کہتے ہیں کہ کیا واقعی ہمیں پلٹا کر واپس لایا جائے گا اپنی پہلی حالت میں ؟

(9) ان کی نگاہوں کے حال کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی " یعنی ان دلوں کے اہل و اصحاب کی آنکھیں " ای ابصار اصحابھا " (روح، ابن کثیر، کشاف، مدارک، جامع اور صفوہ وغیرہ) اور ان بدبختوں کا یہ حال اس لیے ہوگا کہ قیامت کی وہ حقیقت کبری جس کو یہ لوگ ناممکن سمجھے تھے، اور زندگی بھر اس کا انکار کرتے رہے تھے وہ اس روز اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہوگی، پس جو لوگ قیامت کے اس یوم حساب کے منکر اور اس کے تقاضوں کے نچنت و غال رہے ہوں گے ان کا حال اس روز بہت برا ہوگا۔ ان کے دل خوف کے مارے کانپ رہے ہوں گے اور ان کے اس خوف کے آثار ان کے چہروں مہروں پر جھلک رہے ہوں گے اور ان کی نگاہیں مارے ذلت کے جھکی ہوئی ہوں گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو " ابصارھا " کی ضمیر مجرور کا مرجع " قلوب " ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ آدمی کے اندر دل ہی وہ چیز ہے جس سے اس کی شخصیت عبارت ہوتی ہے، اور جس کی کیفیات کی ترجمانی اس کے بدن کا رواں دواں کرتا ہے، اور خاص کر اس کی آنکھ جو اس بارے میں ایک خاص امتیازی شان رکھتی ہے، پس اوپر کی آیات میں اس یوم عظیم کے ان اثرات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اس موقع پر اس کائنات میں رونما ہوں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور انسانی چہرہ اور خاص کر اس کی آنکھیں ایسی چیز ہیں جس کے آئینے میں نہاں خانہ دل کی مخفی سے مخفی کیفیت جھلکتی اور چھلکتی ہے۔ پس دل کے ساتھ آنکھوں کے اسی خاص ربط وتعلق کی بنا پر یہاں پر آنکھوں کی اضافت دل کی طرف فرمائی گئی ہے۔ اللہ پاک ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، سبحانہ و تعالی۔
Ayah 79:11

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب کہ ہم ہوچکے ہوں گے کھوکھری بوسیدہ ہڈیاں ؟

(10) منکرین کے استہزاء و انکار کا نمونہ و مظہر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا ہمیں واقعی پلٹا کر پہلی حالت میں لایا جائے گا ؟ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا، اس لیے وہ تعجب اور مذاق و استہزاء کے طور پر اس طرح کہتے تھے اور یہی نتیجہ اور انجام ہوتا ہے انکار آخرت کا، کہ اس سے انسان لاپروا، غیر ذمہ دار اور غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ جبکہ مومن صادق اس سے ڈرتا رہتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ یَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِہَا وَالَّذِیْنَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْہَا وَیَعْلَمُونَ أَنَّہَا الْحَقُّ أَلَا إِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُونَ فِیْ السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلَالٍ بَعِیْدٍ (الشوری 18 پ 25) سو اس ارشاد میں ان کفار و منکرین کے اس یوم عظیم کے بارے میں استہزاء و تکذیب کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ قیامت کے بارے میں استہزاء و تکذیب کے طور کہتے ہیں کہ کیا واقعی ہمیں پلٹا کر پھر پہلی حالت میں لایا جائے گا۔ سو ایسے لوگ بعث بعد الموت کا ذکر سننے کے بعد ماننے اور اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی بجائے الٹا اس طرح بیباکی کے ساتھ اس کا مذاق اڑاتے ہیں، اڑاتے ہیں، " حافرۃ " دراصل نقش قدم کو کہا جاتا ہے۔ لیکن جب یہ لفظ محاورے میں استعمال ہوتا ہے اور اس طرح کہا جاتا ہے کہ فلان رجع علی حافرۃ او فی حافرتہ۔ تو اس وقت اس کے معنی ہوتے ہیں کہ یہ شخص جس حال میں تھا اس سے نکل کر پھر اسی میں واپس آگیا۔ سو منکرین قیامت کا ذکر سننے کے بعد بطور استہزاء و مذاق کہتے ہیں کہ کیا ہمیں مر مٹ جانے کے بعد پھر پہلی حالت میں لوٹایا جائے گا ؟ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا جبکہ کھوکھلی ہڈیاں بن چکے ہوں گے تو اس وقت ہمیں دوبارہ زندگہ کر کے اٹھایا جائے گا ؟ یعنی یہ ناممکن ہے کہ ایسے میں ہم دوبارہ زندہ ہوجائیں اور اٹھ کھڑے ہوں۔ استفہام کا اعادہ ان کی زیادتی حیرت کو ظاہر کرتا ہے۔ کہ اول تو کرنے کے بعد از سرنو زندہ کیے جانے کا تصور ہی عجیب اور ناقابل یقین ہے، لیکن اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ جب ہڈیاں بھی کھوکھلی بن جائیں گی اور بوسیدہ ہو کر خاک میں مل جائیں گی تو اس وقت دوبارہ زندہ کیے جانے کی یہ بات اور بھی عجیب ہے۔ اس لیے وہ اس کا استہزاء کرتے اور اس تعجب و انکار کا اظہار کرتے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، جل وعلا۔
Ayahs 79:12–16

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہنے لگے تب تو یہ واپسی بڑی ہی گھاٹے کی ہوگی

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

سو (واضح رہے کہ) وہ تو بس ایک ڈانٹ ہوگی زور کی

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب یکایک آموجود ہوں گے (حشر کے) اس (عظیم الشان) میدان میں

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس موسیٰ کا قصہ بھی پہنچا ؟

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب کہ ان کو پکارا ان کے رب نے اس مقدس وادی یعنی طویٰ (کے ایک پرکیف سماں) میں

(11) منکرین کے طنز و مذاق کا ایک نمونہ و مظہر : سو اپنے طنز و مذاق میں سنجیدگی کا انداز اختیار کر کے یہ لوگ کہتے کہ تب تو یہ واپسی بڑی گھاٹے کی ہوگی، کہ ہمارے دنیاوی مال و دولت کو تو دوروں نے اپنا لیا ہوگا، اور آخرت کے لیے ہم نے کچھ کیا نہیں ہوگا کہ ہم اسے مانتے ہی نہیں تھے۔ سو یہ سب کچھ وہ لوگ تمسخر و استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہونے کا۔ بلکہ یہ سب کچھ یونہی خیالی اور فرضی باتیں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکر لوگ اس طرح کی بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے لیکن اسی کے اندر ان کے باطن کی حالت و کیفیت کی عکاسی و غمازی بھی پائی جاتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا، وہ اس کے دلائل کی قوت اور ان کے وزن کو تو محسوس کرتے تھے لیکن وہ خواہشات نفس اور دنیاوی لذتوں کو چھوڑنے اور اس کے ترک کے لیے آمادہ بھی نہیں تھے۔ اس لیے وہ اس خطرے کو ہنسی مذاق میں ٹالنے کی کوشش کرتے، اور بےفکرے اور لاپرواہ لوگوں کا حال اور ان کی نفسیات اسی طرح کی ہوتی ہیں۔ کل بھی ان کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے، اور اس طرح وہ اپنے اس آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں کہ جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہیں رہتی، اور یہی ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع وضلال و سوء وانحراف، بکل حال من الاحوال، و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان و حین، سبحانہ و تعالی۔
Ayah 79:17

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے

( 14) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے پیغام حق کی تبلیغ کا حکم و ارشاد : سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف نبوت و رسالت سے سرفراز فرمانے کے بعد جس پیغام حق کی ہدایت فرمائی گئی وہ یہ تھا کہ " جاؤ فرعون کی طرف یقینا وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے " اور حدود بندگی سے نکل کر خدائی کا دعویدار بن گیا ہے جو کہ سب سے بڑی سرکشی ہے، جس کے نتیجے میں بالآخر اس کو ایک نہایت ہی ہولناک عذاب میں پکڑا گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کسی کا یہ دعوی کرنا کہ وہ لوگوں کا رب اعلی ہے، سب سے بڑی بغاوت و سرکشی ہے، سو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی خاص سند کے ساتھ اس بغاوت کی سرکوبی کے لیے فرعون کے بھیجا کہ آپ اس کے پاس پہنچ کر پہلے اس کو نرمی کے ساتھ راہ راست اختیار کرنے کی دعوت دیں۔ اگر وہ سمجھ جائے اور مان لے تو بہتر، نہیں تو اس کے ہولناک انجام سے آگاہ کردیں، تاکہ وہ اپنی سرکشی و طغیانی سے باز آکر حدود عبدیت و بندگی میں لوٹ آئے، اور اس طرح وہ عدوان و طغیان اور تمردو سرکشی کے ہولناک انجام سے بچ سکے۔ قبل اس کے کہ اس کا موقع اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ والعیاذ باللہ۔
Ayahs 79:18–19

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور اس سے کہو کہ کیا تو اس کے لیے تیار ہے کہ تو پاکیزگی اختیار کرے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہنمائی کروں کہ تو (اس سے) ڈرنے لگے

(15) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے دل پر ایک دستک : سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے دل پر دستک دیتے ہوئے اس سے کہا کہ کیا تو اس کے لیے تیار ہے کہ تو پاکی اختیار کرلے ؟ کہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لئے اس کی طلب و تڑپ اولین شرط ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ خوف و خشیت خداوندی ہر خوبی و کمال کی اساس و بنیاد ہے، اور اس سے بےخوفی و لاپرواہی ہر شر و فساد اور خرابی کی جڑ بنیاد ( کشاف وغیرہ) والعیاذ باللہ۔ سو خوف و خشیت خداوندی کی بنا پر انسان راہ حق ہدایت کو اپناتا اور اس پر قائم رہتا ہے، ورنہ وہ ایک حیوان بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ، جل وعلا۔ بہرکیف موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے اس کے دل پر دستک دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تیرے اندر اس بات کی کچھ رغبت ہے کہ تو پاکیزہ زندگی گزارے تاکہ میں تجھے اس کا طریقہ بتاؤں، سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات میں انتہائی ناصحانہ شفقت بھی ہے اور اس کے ساتھ وہ عظمت و جلالت بھی جو اللہ کے رسول کے کلام میں ہونی چاہے۔ سو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک کی تیری روش سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی لیکن اگھر تو اب بھی سلامت روی کی زندگی گزارنا چاہے اور تیرے اندر اس کے لیے کوئی رغبت موجود ہو تو تیرے لیے اب بھی اس کی گنجائش ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی کرم والا ہے۔ وہ اب بھی تجھے اپنی رحمت و عنایت سے نواز سکتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ، جل جلالہ، وعم نوالہ۔
Ayahs 79:20–21

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر (فرعون کے پاس پہنچنے کے بعد) موسیٰ نے دکھائی اس کو (اپنی نبوت کی) وہ بڑی نشانی

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

(مگر) اس نے پھر بھی جھٹلایا اور نافرمانی ہی کی

16 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون کو بڑی نشانی دکھانے کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو دکھائی وہ سب سے بڑی نشانی۔ جو اللہ پاک نے ایک عظیم الشان معجزے کے طور پر آنجناب کو بطور خاص عطا فرمائی تھی یعنی عصا اور ید بیضا کا وہ عظیم الشان معجزہ جو کہ آنجناب کی صداقت و حقانیت کی ایک واضح دلیل اور اس کا کھلا ثبوت تھا پھر چونکہ یہ دونوں نشانیاں ایک ہی مقصد کے لیے تھیں اس لیے ان دونوں کو ایک ہی نشانی (آیتہ الکبری) قرار دیا گیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے عصا کا معجزہ ہی مراد ہو جو کہ اصل اور بڑی نشانی تھی باقی سب نشانیاں اس کے تابع تھیں (محاسن اور مدارک وغیرہ) سو عصائے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی نشانی وہ سب سے بڑی نشانی تھی جو ید بیضا کے علاوہ باقی تمام ہی نشانیوں پر حاوی و مشتمل تھی اور وہ سب اسی کے ذریعے ظاہر ہوئی تھیں سو حضرت موسیٰ کی ناصحانہ دعوت کے جواب میں فرعون نے حسب توقع حضرت موسیٰ نے فرعونیت بھرے جواب میں کہا کہ اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لا = پیش کرو انی اس نشانی کو اگر تم سچے ہو اپنے اس دعوے میں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ قال ان کنت جئت بایتہ فات بھا ان کنت من الصادقین۔ (الاعراف آیت 106 پارہ 9) سو اس طرح حق اس کے سامنے پوری طرح واضح کردیا گیا۔
Ayahs 79:22–23

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر وہ پلٹ کر (ان کے خلاف) کوشش میں لگ گیا

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

چناچہ اس نے (لوگوں کو) جمع کر کے پکار کر کہا

(17) فرعون کی اللہ کے رسول کے خلاف چالبازیوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے جھٹلایا یعنی اس نے جھٹلایا پیغام حق و ہدایت کو، اور نافرمانی کی اللہ کے رسول کی، اور پھر وہ پلٹ کر اپنی چالبازیوں میں لگ گیا۔ یعنی اپنی بدبختی کے سبب حق کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے وہ بدبخت الٹا حق کے خلاف مصروف پیکار ہوگیا۔ اور اس کو نیچا دکھانے کے لیے چالبازیوں میں لگ گیا۔ والعیاذ باللہ۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو شکست دینے کے لیے وہ اپنی کافرانہ سرگرمیوں میں مشغول ہوگیا۔ چناچہ اس ملعون نے پہلے تو اپنے درباریوں سے اس بارے میں مشورہ کیا، انہوں نے اس کو یہ رائے دی کہ یہ دونوں یعنی حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) بڑے ماہر جادوگر ہیں، عام جادوگروں کا ان سے مقابلہ کرنا ان کے بس کا روگ نہیں، لہذا ان کے مقابلے کے لیے ملک بھر کے ماہر جادوگروں کو اکٹھا کر کے ان کی شکست کا بندوبست کیا جائے۔ چناچہ اس نے ایسے ہی کیا اور حکومتی ذرائع وسائل سے کام لے کر ملک بھر کے ماہر جادوگروں کو اکٹھا کرلیا اور ان کو بڑے بڑے لالچ دے کر حضرت موسیٰ علیہ اسلالم کے مقابلے کے لیے تیار کیا۔ بالآخر اس کا کیا کرایا سب کچھ خود اسی کے خلاف گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرخروئی اور حق کی سربلندی کا ذریعہ بنا۔ اور فرعون اور اس کے حواریوں کو ذلت آمیز رسوائی کا سامان کرنا پڑا، اور وہ اپنی اس چالبازی میں بری طرح ناکام ہوئے، اور اس مقابلے اور فرعونیوں کی شکست کی تفصیلات کو قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے کہ فرعون نے شاہی انتظامات کے ذریعے مختلف شہروں سے ماہر جادوگر منگوائے جنہوں نے اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپ اور اژدھے بنا کر دکھلایا، لیکن عصائے موسوی کے میدان میں اترتے ہی وہ سب کے سب حق کے سامنے سرتسلیم خم ہوگئے، اور انہوں نے سب کے سامنے اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ اور اس طرح فرعونیوں کی چال الٹا خود انہی کے خلاف پڑی۔ ان کو ذلت و رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا، اور حق کا بول بالا ہو کر رہا۔ والحمدللہ، جل وعلا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 79:24

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

میں ہوں تمہارا سب سے بڑا رب

(18) فرعون کا رب ہونے کا دعوی اور اس کا مطلب ؟ سو فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور اس کے اثر سے اپنی قوم کو بچانے کے لیے ان کو اکٹھا کر کے ان کے سامنے اپنے فرعونی گھمنڈ میں پکار کر کہا " میں ہوں تمہارا سب سے بڑا رب "۔ یعنی اس ملک کی سب سے بڑے طاقت (Supreme Power) میں ہوں، سب میرے سامنے جوابدہ ہیں، اور میں کسی کے آگے جواب دہ نہیں ہوں، کیونکہ مصری لوگ اس کو سورج کا دیوتا یعنی سب سے بڑا دیوتا مانتے تھے۔ ورنہ اس معنی میں تو وہ بھی اپنے آپ کو رب اور سب سے بڑا رب " ربکم الاعلی " نہیں کہہ سکتا تھا کہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک میں ہوں، کیونکہ ایسا کہنا کسی بڑے سے بڑے منکر اور دہریے کے لیے بھی ممکن نہیں، اور تاریخ میں اس کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی کہ کسی نے کبھی ایسا دعوی کیا ہو، بلکہ وہ تو خود بھی بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا، جیسا کہ سورة اعراف میں فرمایا گیا کہ فرعون کی قوم کے ایک گروہ نے اس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہا کہ کیا آپ موسیٰ اور ان کی قوم کو اس کی ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ اس ملک میں فساد مچائیں اور چھوڑ دیں آپ کو اور آپ کے معبودوں کو۔ سو " الھتک " (یعنی تیرے معبودوں کو) کے اس ارشاد ربانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملعون خود بھی بتوں کی پوجا کرتا تھا، ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت نمبر 127 ۔ اسی لیے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب فرعون اور اس کی قوم پر کوئی عذاب آتا تو وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے کہ آپ اپنے رب سے دعا و درخواست کر کے ہم سے اس عذاب کو اٹھوا دیں، اگر ایسے ہوگیا تو ہم آپ پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آپ کے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں گے، لیکن اس سے عذاب کو ایک مقررہ مدت تک کے لیے ہٹا دیا جاتا تو وہ پھر ویسے کے ویسے منکر رہتے۔ یہاں تک کہ آخر کار وہ غرقاب ہو کر اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت نمبر 132 تا آیت نمبر 136 ۔ والعیاذ باللہ العظیم جل وعلا۔ سو کفر و انکار اور تکذیب حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل نوع من انواع العذاب۔
Ayah 79:25

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

آخرکار پکڑا اس کو اللہ نے (اپنی بطش شدید سے) آخرت اور دنیا کے عبرتناک عذاب میں

(19) تکذیب رسل کا نتیجہ و انجام، ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " آخر کار اللہ نے اس کو پکڑا "۔ یعنی صدیوں کی ڈھیل اور مہلت کے بعد آخر کار جب یہ امر پوری طرح ظاہر ہوگیا کہ اب اس کے اندر خیر و بھلائی کی کوئی رمق باقی نہیں رہ گئی تو قدرت کی طرف سے اس پر عذاب کا ایک ایسا کوڑا برسا دیا گیا جس سے وہ اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام سے ہمکنار ہو کر ہمیشہ کے لئے " فی النار والسقر " ہوگیا۔ والعیاذ باللہ۔ پس " فاخذہ اللہ " میں پائے جانے والے اس حرف فاء نے صدیوں پر محیط اس طویل تاریخ کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔ سبحانہ اللہ، اور اتنے بڑے کافر کو اتنے طویل عرصے تک ڈھیل دینا اور اس کو اس قدر ٹھاٹھ کے ساتھ رہنے دینا اسی وحدہ لا شریک کا کام اور اسی کی شان ہوسکتی ہے۔ ما اعظم حلمہ و ما اجل کرمہ۔ سو جب اس بدبخت نے یہ سب کچھ دیکھ اور سن لینے کے بعد بھی اپنی سرکشی ہی پر اصرار کیا اور حق کو مان کر نہ دیا تو آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس کو عبرتناک عذاب میں پکڑا اور وہ اپنے حواریوں سمیت ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہو کر رہا۔ پس اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حضرات انبیاء و رسل اور ان کے پیش کردہ پیغام حق و ہدایت کی تکذیب اور اس کے انکار کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ سو ایسوں کو خواہ کتنی ہی ڈھیل ملے وہ بہرحال ڈھیل ہی ہوتی ہے۔ ان کا آخری نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہی ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " آخر کار اللہ نے اس کو پکڑا اور دنیا و آخرت کے عذاب میں "۔ کہ دنیا میں وہ اپنی پوری قوم سمیت غرق دریا ہوا اور آخرت میں وہ اپنی قوم سمیت ہمیشہ کے لئے دوزخ کا ایندھن بن گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا یَقْدُمُ قَوْمَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَوْرَدَہُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ (ہود 98 پ 12) اور سوہ المومن میں فرمایا گیا " قیامت سے پہلے ان کو صبح و شام دوزخ کی آگ پر پیش کیا جاتا رہے گا اور قیامت کے روز حکم ہوگا کہ داخل کردو فرعون اور اس کے حواریوں کو سخت ترین عذاب میں "۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْْہَا غُدُوّاً وَعَشِیّاً وَیَوْمَ تَقُوم السَّاعَۃُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ (المومن 46 پ 24) اور آخرت کا عذاب چونکہ دنیاوی عذاب کے مقابلے میں بہت بڑا اور کہیں زیادہ سخت ہے تو شاید اسی لیے یہاں پر آخرت کو اولی پر مقدم ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور بعض حضرات کے نزدیک یہاں پر الا خرۃ والاولی کا موصوف دراصل " الکلمہ " ہے، اور کلمہ آخرت سے مراد فرعون کا یہی دعوی ہے۔ " انا ربکم الاعلی " اور کلمہ اولی یعنی پہلی بات سے مراد اس کا یہ کفریہ قول ہے۔ وَقَالَ فِرْعَوْنُ یَا أَیُّہَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْْرِیْ (القصص 38 پ 20) اور یہ قول قتادہ، مجاہد، عکرمہ، رحمہم اللہ تعالیٰ اور ابن عباس ؓ کا ہے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان دونوں باتوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا جو کہ اللہ پاک نے اس لعین کو بطور مہلت عطا فرمایا تھا۔ اور پھر اسو کو پکڑا (صفوۃ التفاسیر، جامع البیان وغیرہ) سو کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی کے ساتھ جتنی بھی مہلت ملے وہ کوئی اطمینان کا سامان نہیں کہ وہ بہرحال ایک مہلت اور ڈھیل ہی ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہوتا ہے۔ پس منکرین و متمردین کے لئے دنیا و آخرت دونوں کا عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی خاص رحمتوں و عنایتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار اس کو اللہ نے پکڑا ایک نہایت ہی عبرتناک عذاب میں، والعیاذ باللہ العظیم۔ عام طور پر حضرات مترجمین یہاں پر ترجمہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑا۔ حالانکہ یہاں " عذاب الاخرۃ " نہیں " نکال الاخرۃ " فرمایا گیا ہے، اور " نکال " اور " عذاب " میں اصل لغت کے اعتبار سے یہی فرق ہے کہ " عذاب " تو مطلق عذاب کو کہا جاتا ہے جبکہ ’ ’ نکال " کا اطلاق اصل میں اس عذاب پر ہوتا ہے جو کہ دوسروں کے لئے تنکیل اور عبرت کا باعث بنے۔ اسی لئے ہم نے یہاں پر اپنے ترجمے میں اس فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ والحمدللہ۔ سو اس ملعون نے جب سب کچھ دیکھنے اور سننے اور حق و ہدایت کی دعوت مسلسل کے باوجود حق کو قبول نہ کیا اور وہ اپنے کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی سے باز نہ آیا تو آخر کار ایسے ہولناک اور عبرت انگیز عذاب میں مبتلا ہوا کہ دنیا میں سمندر کی موجوں کے حوالے ہوا۔ اور آخرت میں اس کو دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ سو کہاں تخت و تاج کی وہ ٹھاٹھ باٹھ اور " انا ربکم الاعلی " کے وہ کافرانہ اور سرکشانہ دعوے تھے، اور کہاں یہ ہولناک اور عبرتناک انجام جو اس ملعون کے سوا اور کسی کا ہوا ہی نہیں ؟ پس کفر وا نکار اور تمرود سرکشی کا انجام بہرحال بہت برا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ فی کل زمان و مکان۔
Ayah 79:26

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی بھاری عبرت (کا سامان) ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہو

( 20) مقصد عبرت کی تذکیر و یاد دہانی۔ ارشاد فرمایا گیا اور اس سرگزشت کے سنانے کے اصل مقصد یعنی عبرت پذیری کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ اس میں بڑا سامان عبرت ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہو اپنے رب کی گرفت اور پکڑ سے کہ اس سے فائدہ بہرحال وہی اٹھا سکتا ہے، ورنہ یہ سامان عبرت و بصیرت سب کے لئے عام ہے، معلوم ہوا کہ خوف اور خشیت خداوندی صلاح و فلاح کی اصل و اساس ہے، اور اس سے محرومی فساد و تباہی کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ غافل اور لاپرواہ و بےفکر انسان کی آنکھ کھلتی ہی نہیں، تو پھر اس کو کوئی سامان عبرت نظر آئے تو کیسے ؟ سو غفلت اور لاپرواہی محرومیوں کی محرومی اور بیماریوں کی بیماری ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے اصل مقصد کو بیان فرمادیا گیا جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 79:27

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ سخت (اور مشکل) ہے یا آسمان کا اس کو اس (قادر مطلق) نے بنایا (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے)

(21) بعض آفاقی دلائل کا ذکر وبیان : ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے قلب و ضمیر کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے بطور استفہام وسوال ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ سخت اور مشکل ہے، اے منکرو ! یا اس عظیم الشان آسمان کاـ؟ " اور ظاہر ہے کہ زیادہ سخت اور مشکل تو آسمان کو پیدا کرنا ہے کہ وہ عالم اکبر اور تم سے کہیں بڑھ کر عظمت و شان والا ہے، تو جب اس عالم اکبر کو اس قادر مطلق نے اس قدر خوبی اور عمدگی کے ساتھ پیدا فرمایا دیا ہے اور وہ تمہارے سامنے اور تمہارے سروں پر تنا ہوا موجود ہے تو پھر تمہارا پیدا کردینا اور وہ بھی دوسری مرتبہ پیدا کرنا اس کے لیئے آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ پس زمین و آسمان کی یہ عظیم الشان کائنات جو انسان کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے اپنی زبان حال سے پکار پکار کر لوگوں کو یہ دعوت غور و فکر دے رہی ہے کہ اس کا خالق اس عظیم قدرت والا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوسکتا۔ پس وہ جب چاہے، جو چاہے، اور جیسا چاہے کرے اس کے لیے کسی مشکل کا کوئی سوال نہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ تم سب کو اے منکرو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے اور یقینا کرسکتا ہے، اور ضرور پیدا فرمائے گا، تاکہ اس طرح دنیا کی تخلیق اور اس کے مقصد وجود کی تکمیل ہوسکے، ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و وبد ہی عبث اور بیکار ہو کر رہ جائے گا جو کہ حضرت خالق حکیم جل جلالہ کی حکمت اور اس کے تقاضوں کے خلاف ہے، پس تم لوگ سوچ لو کہ اس یوم حساب و معاد کے لیے تم نے کیا تیاری کی ہے ؟ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ تم لوگ اس عظیم اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر قائم و گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 79:28

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اوپر اٹھایا اس کی چھت کو پھر اس کو برابر کیا (ہر اعتبار سے)

(22) تخلیق آسمان میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور آسمان کی اس عظیم الشان اور بےمثال چھت میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے اس کو بنایا اور اوپر اٹھایا اس کی چھت کو "۔ اور نہایت عمدگی سے اٹھایا، اور یہ سب کچھ اس قادر مطلق نے بلا شرکت غیرے انجام دیا کہ اس سب کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف تنہا وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سو جب اس قادر مطلق نے اس عظیم الشان چھت کو بنا لیا اور اس کو اس قدر پر حکمت طریقے سے بلند کردیا اور تمہارے سروں پر اس کو ایسے بےمثال طریقے سے تن دیا، تو آخر اس کے لئے اس انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ساری دنیا اور تمام انسانوں کے سروں پر تنی ہوئی آسمان کی یہ عظیم الشان اور بےمثال چھت اپنی زبان حال سے پکار پکار کر لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دے رہی ہے۔ اور اپنی زبان بےزبانی سے ایک طرف تو یہ دنیا کو یہ درس دے رہی ہے کہ یہ کائنات بے خدا اور بےخالق نہیں، بلکہ ایک خالق عظیم ہستی ہے جس نے اس کو اس پر حکمت طریقے سے وجود بخشا ہے، اور وہی خداوند قدوس اور مالک مطلق اس کو تھامے اور باقی رکھے ہوئے ہے، اس کی ان شون میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں، نیز اس کی یہ تخلیق عبث و بیکار نہیں ہوسکتی، نیز جس نے اس عظیم الشان مخلوق کو اس طرح وجود بخشا ہے اور وہی اس کو تھامے ہوئے ہے اس کے لیے امر کسی بھی درجے میں مشکل نہیں کہ وہ اس چند فٹ کے انسان کو مر مٹنے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرے، پس وہ اس کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے اور پیدا کرے گا اور ضرور کرے گا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ تاکہ اس طرح تخلیق کائنات کے مقصد کی تکمیل ہوسکے، اور تخلیق آسمان سے متعلق مزید ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اسی نے اس کو برابر کیا " کہ اس میں نہ کسی طرح کی کوئی بےقاعدگی ہے اور نہ کوئی پھٹن و شگاف۔ بلکہ اس کو اس نے اس طرح سے درست اور متوازن بنایا کہ یہ اپنی زبان حال سے طرح طرح کے درسہائے عظیم دے رہا ہے، اور یہ سب کچھ جو صرف اسی وحدہ لا شریک کی قدرت کی کرشمہ سازی ہے، اور اس نے اس کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ایسا برابر اور اس طرح ہموار کیا کہ کسی کے امکان میں نہیں کہ وہ اس کے کسی کونے میں کسی بی خلل کی نشاندہی کرسکے۔ " سمک " کے معنی چھت کے ہیں، سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے آسمان کو بنایا، اس کی چھت کو بلند کیا، اور پھر اس کو اس طرح ہموار کیا کہ کسی کے لیے بھی اس میں کسی بھی طرح کے کسی خلل یا قصور کی نشاندہی کرنا ممکن نہیں "۔ پس جو لوگ اس قادر مطلق کی ان مختلف شانوں کو خود دیکھتے ہیں، اور ہر وقت اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، وہ کس طرح یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا ممکن نہیں ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین، و یار ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 79:29

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اس نے ڈھانک دیا اس کی رات کو (تاریکی کی چادر سے) اور نکالا اس کے (دن کے اجالے) کو

(23) سلسلہ روز و شب میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور مظاہر قدرت میں سے ایک عظیم الشان مظہر یعنی سلسلہ روز و شب میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے ڈھانک دیا اس کی رات کو اور اسی نے نکالا اس کے دن کو "۔ یہاں پر رات اور دن کو جو آسمان کی طرف منسوب کر کے فرمایا گیا یعنی " لیلھا " اور " ضحھا " تو یہ اس لیے کہ رات اور دن کے ظہور و بروز کا تعلق سورج کے طلوع و غروب ہی سے ہوتا ہے، اور وہ آسمان ہی کے اعتبار سے ہوتا ہے، اس لیے اس کو اس طرح تعبیر فرمایا گیا ہے، پس اسی قادر مطلق نے رات اور دن دونوں کو ایک نہایت ہی پر حکمت نظام کا پابند بنادیا، سو اس خدائے قادر وقیوم کے لئے انسان کو اس کے مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھا دینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اس اشاد کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پہلے اس کے اندر رات ہی رات تھی، جیسا کہ سورة حم السجدہ کی آیت نمبر 11 میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ دھوئیں کی شکل میں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اس کی رات کو ڈھانک دیا جس سے اس کے حصے کی روشنی نمودار ہوگئی، اور پھر اپنی مخلوق اور اپنے بندوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اور ان کے لیے روشنی اور اندھیرے کی دونوں ضرورتوں کی بہم رسانی کے لیے دن اور رات کے نہایت پر حکمت اور متوازن نظام کو قائم فرما دیا۔ سو ایسے قادر مطلق کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا بھی کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کی حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا تقاضا ہے کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے تاکہ اس سے اس کی زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب لے، اور ہر کسی کو اس کی کمائی کا صلہ وبدلہ دے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوں، اور اس طرح اس حکمتوں بھری کائنات کی تخلیق کا مقصد پورا ہوسکے، فالحمد للہ علی ھذا الفتح والعنایۃ فانہ لاتمم الصالحات الا بتوفیق منہ جل وعلا، وھو الھادی الی الحق والرشاد۔
Ayahs 79:30–31

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا اس نے (نہایت ہی حکمت بھرے طریقے سے)

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اس کے اندر سے اس کا پانی بھی نکالا اور چارہ بھی

(24) بچھونہ ارضی میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے بچھایا زمین کو اس قدر پر حکمت طریقے سے، اور اسی نے زمین کے اندر سے اس کا پانی بھی نکالا اور اس کا چارہ بھی " قسما قسما کے، اور طرح طرح کے حیرت بیکراں اور عنایت بےنہایت کا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس یہ سب کچھ نہ تو از خود ہوسکتا ہے اور نہ ہی یہ مختلف خداؤں کی کارگزاریوں کا نتیجہ ہوسکتا ہے، نہ ہی یہ بےمقصد اور حکمت سے خالی ہوسکتا ہے، سو اس طرح ان نشانہائے قدرت سے اس وحدہ لاشریک کے وجود باوجود، اس کی وحدانیت ویکتائی، حکمت و رحمت کی بیکرانی، اور امکان و ضرورت قیامت سب کا بیک وقت ثبوت مل جاتا ہے۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے اس کلام معجز نطام کی حکمت اور اس کی جامعیت کے، سو اس سے آسمان کی نشانیوں کے بعد اب زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس میں بھی ہر طرف عظیم الشان نشانہائے قدرت موجود ہیں، مگر اس سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوتے ہیں اور وہی ہوسکتے ہیں جو ان میں صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لیتے اور حق و حقیقت کو سمجھنا اور ان سے مستفید و بہرمند ہونا چاہتے ہیں، مگر افسوس کہ دنیا سے یہی عنصر مقصود غائب اور عنقاء ہے، ابنائے دنیا ہر چیز کو مادہ اور معدہ کی نگاہ سے دیکھتے، اور اسی اعتبار سے سوچتے ہیں، ان کی رسائی یہیں تک ہے اور بس۔ " ذلک مبلغھم من العلم " اور اس کے نتیجے میں وہ نور حق و ہدایت کی اصل دولت اور متاع حقیقی سے محروم رہتے ہیں، جو کہ خساروں کا خسارہ اور دائمی ہلاکت و تباہی کا سبب اور باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، جل وعلا۔
Ayahs 79:32–33

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور اسی نے گاڑھ دیا اس کے اندر پہاڑوں (کے ان عظیم الشان لنگروں) کو

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) فائدہ پہنچانے کے لیے تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو

(25) پہاڑوں کے عظیم الشان لنگروں میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا ’ اور اسی نے گاڑ دیا اس کے اندر پہاڑوں کے ان عظیم الشان لنگروں کو "۔ اور نہایت پر حکمت اور پر عظمت طریقے سے، تاکہ زمین کو قرار ملے اور انسان کو اس پر زندگی گزارنے کے لیے ضروری سکون وقرار میسر آسکے۔ ورنہ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے اور ہر طرف سے پانی میں گھرے ہوئے اس کرہ ارضی میں انسان کی زندگی کیسے ممکن ہوتی ؟ فسبحانہ ما اعظم شانہ وما اجل احسانہ۔ سو تم ذرا سوچو کہ ان دیوہیکل پہاڑوں کو اور ان کے ان طویل سلسلوں کو اگر وہ اس زمین میں اس طرح گاڑ دینے پر قادر ہے تو آخر تم لوگوں کو دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا ؟ پس جس خالق ومالک مطلق اور رب رحمن و رحیم نے تمہارے لیے زمین کے اس عظیم الشان اور رحمتوں اور حکمتوں بھرے بچھونے کو اس پر حکمت طریقے سے بچھا دیا، اور آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو تمہارے اوپر اس طرح تن دیا اور زمین کے اندر تمہارے لیے پہاڑوں کے یہ عظیم الشان لنگر ڈال کر اس زمین کو تمہارے لیے جائے سکون وقرار بنادیا۔ اور آسمان سے لے کر زمین تک تمہاری پرورش و گزران کے لیے اس قدر حکمتوں بھرا نظام ربوبیت قائم فرمادیا، کیا وہ تم لوگوں کو اسی طرح عبث و بیکار اور غیر مسول چھوڑ دے گا ؟ سو ایسے نہیں اور ہرگز اور یقینا نہیں، کہ یہ اس کی حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے تقاضوں کے خلاف ہے، پس تم لوگوں کو ضرور اٹھایا جائے گا اور تمہاری لازما پوچھ ہوگی اور تم نے بہرحال اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور بھر پور طریقے سے پورے ہوسکیں، اور حساب و کتاب کا وہی دن قیامت کا دن ہے، جس کو یوم جزاء اور بدلے کا دن کہا جاتا ہے، ورنہیہ سارا کارخانہ حکمت عبث و بیکار قرار پائے گا، پس قیام قیامت عقل و نقل سب کا تقاضا ہے۔
Ayah 79:34

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

پھر جب بپا ہوجائے گا (تہس نہس کردینے والا) وہ سب سے بڑا ہنگامہ

(26) قیامت کے حادثہ کبری کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کے اس حادثہ کبری کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جب بپا ہوجائے گا وہ سب سے بڑا ہنگامہ " مراد ہے قیامت کا ہنگامہ جو کہ سب سے بڑھ کر اور سب پر حاوی ہے۔ چناچہ جب سیلاب کسی چٹان کو اپنے اندر دفن کرلیتا ہے تو عرب کہتے ہیں " طم السیل الرکبۃ " (حاشیہ جامع البیان) یعنی " سیلاب نے اس چٹان کو دفن کردیا "۔ اور " طامۃ " کا لفظ جو اسی مادے سے ماخوذ ہے اس میں اس کے لیے انتہائی مبالغے کا مفہوم پایا جاتا ہے، اور جب اس کی صفت " الکبری " واقع ہوگئی جو کہ تانیث ہے " اکبر " اسم تفضیل کی، تو اس میں مبالغہ اور بھی زیادہ ہوگیا، کیونکہ قیامت کا وہ حادثہ سب سے بڑا اور سب سے عظیم حادثہ ہوگا، اور ایسا کہ وہ تمام حادثوں سے کہیں بڑھ کر تباہ کن اور ہولناک حادثہ وہ گا، اور دوسرے تمام حادثے اس کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پس جب وہ " طامۃ کبری " یعنی سب سے بڑا حادثہ، جب واقع ہوجائے گا تو زمین و آسمان کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ " فاذا " کا جواب محذوف ہے، اور اس حذف میں بھی بلاغت کا یہ پہلو مضمر ہے کہ اس " طامۃ کبری " کے بعد جو کچھ وقوع پذیر ہوگا وہ اس قدر عظیم اور اتنا ہولناک ہوگا کہ احاطہ ذکر وبیان سے باہر ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 79:35

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

تو اس دن انسان رہ رہ کر یاد کرے گا وہ سب کچھ جو کہ اس نے کیا ہوگا (اپنی زندگی میں)

(27) حادثہ قیامت کے بعد انسان کی حالت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب قیامت کا وہ حادثہ کبری (طامہ کبری) واقع ہوجائے گا تو اس روز انسان اپنی زندگی کا سب کیا کرایا رہ رہ کر یاد کرے گا "۔ اچھا بھی اور برا بھی، اچھے کے یاد کرنے پر وہ خوش ہوگا اور برے کے یاد کرنے پر وہ افسوس در افسوس کرے گا۔ والعیاذ باللہ۔ سو آج تو غفلت کے مارے اس انسان کو اپنی خرمستی کے باعث نہ کچھ یاد ہے اور نہ کسی کی کوئی پروا، اور نہ ہی یہ کسی ناصح کی نصیحت پر کان دھرنے کو تیار ہوتا ہے، بلکہ الٹا یہ نصیحت اور خیر خواہی کرنے والوں کا مذاق اڑاتا ہے۔ مگر اس روز اس کے ہوش ایسے ٹھکانے آجائیں گے کہ یہ زندگی بھر کے اپنے کیے کرائے کو یاد کرے گا۔ مگر اس کا اس کو کوئی فائدہ بہرحال نہ ہوگا۔ بہرکیف اس روز انسان اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کو پوری طرح یاد کرے گا اور رہ رہ کر یاد کرے گا۔ یہ بھی کہ اس نے کیا کیا، اور یہ بھی کہ اس کو کیا کرنا چاہیے تھا، اور حدیث میں فرمایا گیا کہ تم سے کوئی بھی انسان نہیں جس کو قیامت کے روز ندامت نہ اٹھانا پڑے، نیک کہے گا کہ اس نے نیکی اور زیادہ کیوں نہ کی اور بد کہے گا کہ اس نے برائی کو چھوڑا کیوں نہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، و علی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 79:36–38

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور بےنقاب کردیا جائے گا اس روز دوزخ کو دیکھنے والوں کے لیے

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

سو جس نے سرکشی کی ہوگی

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور اس نے (آخرت کے مقابلے میں) دنیا کی زندگی کو ترجیح دی ہوگی

(28) دوزخ کی نقاب کشائی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور بےنقاب کردیا جائے گا اس روز دوزخ کو دیکھنے والوں کے لیے " جس سے مومن کی تو خوشی اور مسرت میں اضافہ ہوگا کہ اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم اور اپنی توفیق و عنایت سے مجھے اس برے اور ہولناک انجام سے بچا لیا جبکہ کافروں کی یاس و حسرت میں اضافہ ہوگا کہ اس وقت ان کے لیے اس سے بچنے کی کوئی سبیل نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آج تو ایسے منکروں کو آخرت کا وہ جہاں اور دوزخ سب کچھ بہت بعید از امکان نظر آتا ہے، لیکن اس روز صرف نقاب ہٹانے کی دیر ہوگی، پس جونہی دوزخ کو ان لوگوں کے لیے بےنقاب کردیا جائے گا جنہوں نے اس سے دوچار ہونا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم، تو وہ اپنی ہولناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہوگی، سو جو لوگ اس کو دیکھے بغیر ماننے کے لیے تیار نہیں ہورہے تھے وہ اس روز اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ جہنم تیار ہے، صرف پردہ ہٹانے کی دیر ہے، اور یہی بات دوسرے مختلف ارشادات سے واضح ہوتی ہے، مثلا سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا گیا فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ وَلَن تَفْعَلُواْ فَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ ( البقرہ 24 پ 1) یعنی تم لوگ بچو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان ہوں گے اور پتھر، جس کو تیار کیا گیا ہے کافروں کے لیے، سو آج تو منکروں کو جہنم بہت بعید از امکان نظر آرہی ہے، اور یہ بڑے زور و شور سے کہتے ہیں۔ ہَیْْہَاتَ ہَیْْہَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ (المومنون 36 پ 18) یعنی دور بڑی دور ہے وہ چیز جس کی دھمکی تم لوگوں کو دی جارہی ہے، لیکن اس روز جب اس سے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور وہ اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ بےنقاب ہو کر ان لوگوں کے سامنے موجود ہوگی، تب ان لوگوں کو وہ سب کچھ اچھی طرح معلوم ہوجائے گا جنہوں نے اس سے دوچار ہونا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال۔