Ayahs 79:1–2ان آیات میں وقوع قیامت اور وقوع کے بعد والے احوال کا تذکرہ فرمایا ہے پہلے فرشتوں کی قسم کھائی اور قسم کھا کر فرمایا کہ ہلا دینے والی چیز ضرور واقع ہوگی (اس سے پہلی بار صور پھونکنا مراد ہے) ۔ جن فرشتوں کی قسم کھائی ہے ان میں پہلے ﴿ وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ001﴾ فرمایا یعنی قسم ہے ان فرشتوں کی جو سختی سے ساتھ روح کھینچنے والے ہیں اس میں لفظ غرقًا مصدر ہے جو اغراقًا کے معنی میں ہے یعنی جسم کے ہر ہر حصہ سے فرشتے روح کو نکال لیتے ہیں اور اس میں مرنے والے کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، پھر فرمایا ﴿ وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ002﴾ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو بند کھول دیتے ہیں یعنی سہولت کے ساتھ روح نکالتے ہیں جیسے بند کھول دیا اور چیز آسانی سے نکل گئی۔
قال صاحب معالم التنزیل حلا رفیقا فتقبضھا کما ینشط العقال من ید البعیر ای یحل بالرفق۔
حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ پوری طرح سختی سے کافروں کی جان نکالی جاتی ہے اور سہولت اور آسانی کے ساتھ اہل ایمان کی روح قبض ہوتی ہے (کسی وجہ سے موت کے وقت مومن کو زیادہ تکلیف ہو مثلاً یہ کہ اس کے درجات بلند کرنے کا ذریعہ بنانا ہو تو یہ دوسری بات ہے : وانما قلنا ذلک لان عائشة ؓ قالت ما رایت احدا الوجع علیہ اشد من رسول اللہ ﷺ وقالت فلا اکرہ شدة الموت بعد النبی ﷺ ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 134 عن البخاری)
حدیث شریف میں مومن اور کافر کی موت کا تذکرہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب حضرت ملک الموت (علیہ السلام) مومن کی روح کو قبض کرتے ہیں تو وہ ایسی آسانی سے نکل آتی ہے جیسے (پانی کا) بہتا ہوا قطرہ مشکیزہ سے باہر آجاتا ہے اور کافر کی موت کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب کافر بندہ دنیا سے جانے اور آخرت کا رخ کرنے کو ہوتا ہے تو سیاہ چہروں والے فرشتے آسمان سے اتر کر اس کے پاس آتے ہیں جن کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں اور اس کے پاس اتنی دور تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے پھر حضرت ملک الموت تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں پھر کہتے ہیں اے خبیث جان اللہ کی ناراضگی کی طرف نكل، ملک الموت کا یہ فرمان سن کر روح اس کے جسم میں بھاگی پھرتی ہے لہٰذا ملک الموت اس کی روح کو جسم سے اس طرح نکالتے ہیں جیسے بوٹیاں بھوننے کی سیخ بھیگے ہوئے اون سے صاف کی جاتی ہے (یعنی کافر کی روح کو جسم سے زبردستی اس طرح نکالتے ہیں جیسے بھیگا ہوا اون کانٹے دار سیخ پر لپٹا ہوا ہو اور اس کو زور سے کھینچا جائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 142)
Ayahs 79:3–4﴿وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ003 ﴾ یہ ” سبح یسبح “ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جو تیرنے کے معنی میں آتا ہے۔ مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ فرشتے مومنین کی روحوں کو آسمان کی طرف بڑی سرعت و سہولت کے ساتھ لے جاتے ہیں گویا تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔ ﴿فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ004﴾ پھر یہ فرشتے تیزی کے ساتھ دوڑنے والے ہیں، وہ جب روحوں کو لے کر اوپر پہنچتے ہیں تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ شانہ کا حکم جو ہوتا ہے اس کے مطابق عمل کرنے میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔
Ayahs 79:5–6﴿فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًاۘ005﴾ پھر وہ فرشتے حکم خداوندی کے مطابق تدبیر کرتے ہی یعنی جس روح کے متعلق جو حکم ہوتا ہے اس حکم کے مطابق عمل کرنے کی تدبیروں میں لگتے ہیں۔ ﴿يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ006﴾ یہ جواب قسم ہے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور آئے گی، اس کا وقوع کس دن ہوگا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہلا دے گی اس دن قیامت کا وقوع ہوگا۔ ہلا دینے والی چیز سے نفخہ اولیٰ یعنی پہلی بار کا صور پھونکنا مراد ہے۔
Ayahs 79:7–9﴿تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ007﴾ یعنی (ہلا دینے والی چیز) کے پیچھے اس کے بعد آنے والی چیز آجائے گی اس سے نفخہ ثانیہ یعنی دوسری دفعہ صور پھونکنا مراد ہے۔ ﴿ قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ008﴾ (اس دن دل دھڑک رہے ہوں گے) ﴿ اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ009﴾ (ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی) ۔
Ayahs 79:10–12یہ قیامت کے دن کی حالت کا بیان ہوا۔ اس کے بعد منکرین قیامت کا قول نقل کیا۔ ﴿ يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِؕ0010 ﴾ (وہ کہتے ہیں کیا ہم اپنی پہلی حالت پر واپس ہوں گے ؟ ) یہ استفہام انکاری ہے منکرین کہتے ہیں کہ ایسا ہونے والا نہیں کہ ہم پہلی حالت میں آجائیں یعنی موت سے پہلے جو ہماری حالت تھی مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندگی مل جائے گی اور پہلی حالت پر آجائیں ایسا ہونے والا نہیں۔ انہوں نے اپنے واپس ہونے کا استبعاد ظاہر کرنے کے لیے مزید کہا ﴿ ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ0011﴾ (کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت دوبارہ زندگی میں آئیں گے) ﴿قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ0012﴾ (ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری سمجھ میں تو نہیں آ رہا کہ ہڈیاں بوسیدہ ہو کر دوبارہ زندگی ملے گی بالفرض اگر دوبارہ زندہ ہوگئے جیسا کہ نبوت کے دعویٰ کرنے والے نے بتایا ہے تو ہماری خیر نہیں اس وقت تو ہمارا برا حال ہوجائے گا کیونکہ جس چیز کو جھٹلا رہے ہیں اس کا واقع ہوجانا لامحالہ ہمارے جھٹلانے کی سزا کا سبب بنے گا اور یہ سزا بھی بڑی ہوگی۔ ان لوگوں کا یہ قول بھی بطور تکذیب اور مسخرہ پن ہی کے ہے کیونکہ کسی درجہ میں بھی ان کے نزدیک وقوع قیامت کا احتمال نہیں تھا اسی لیے انہوں نے ایسی بات کہی حالانکہ جس کو کسی درجہ میں بھی اتنے بڑے نقصان کا احتمال ہو وہ تو فکر مند ہوتا ہے، دیکھو دنیا میں ذرا ذرا سے احتمال پر خبر دینے والوں کی تصدیق کرتے ہیں کہ ممکن ہے سچ ہی کہہ رہا ہو، اگر کوئی جھوٹا آدمی یوں کہہ دے کہ وہاں نہیں جانا ادھر ایک اژدھا پڑا ہے تو وہاں جانے کی ہمت نہیں کریں گے۔ یہ منکرین کی حماقت اور شقاوت ہے کہ وقوع قیامت کی بار بار خبر ملنے اور اس پر دلائل قائم ہونے کے باوجود اور یہ جانتے ہوئے کہ اگر قائم ہوگئی تو ہمارا برا حال ہوگا، پھر بھی اس کی تصدیق نہیں کرتے اور اپنی فلاح کے لیے فکر مند نہیں ہوتے۔
قولہ تعالیٰ الحافرہ قال صاحب الروح الحافرة الارض التی حفرھا السابق بقوائمہ فھو من قولھم رجع فلان فی حافر تہ ای طریقة التی جاء فیھا فحفرھا ای اثر فیھا بمشیہ والقیاس المحفورۃ فھی اما بمعنی ذات حفر او الاسناد مجازی۔ وقولہ نـخرة من نـخر العظم اذ بلی وصار اجوف تمربہ الریح فیسمع لہ نخیر اوصوت۔ وقولہ تعالیٰ ﴿ كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ﴾ ای ذات خسر او خاسرا صحابھا۔
Ayahs 79:13–14﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ0013 فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِؕ0014 ﴾ (وہ بس ایک ہی سخت آواز ہوگی جس سے سب لوگ فوراً ہی میدان میں آموجود ہوں گے) اس میں منکرین کی تکذیب کی تردید ہے اس وقت طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جھٹلانے پر تلے ہوئے ہیں، حالانکہ اس کا واقعہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بھاری بات نہیں ہے جب اس کا حکم ہوگا تو ایک چیخ وجود میں آئے گی (یعنی دوسری مرتبہ کا صور پھونکا جانا) اس وقت بغیر کسی دیر و انتظار کے ایک میدان میں موجود ہوں جائیں گے جو حساب کتاب کی جگہ ہوگی۔
قال صاحب الروح الساھرة قیل وجہ الارض والفلاة وفی الکشاف الارض البیضاء ای التی لانبات فیھا المستویة سمیت بذلک لان السراب یجری فیھا من قولھم عین ساھرة جاریة الماء۔
Ayahs 79:15–23حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے مصر میں رہتے تھے وہاں جو ان کی مظلومیت کا حال تھا اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں ان پر فرعون اور آل فرعون کی طرف سے مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ہی حالات میں وہاں پیدا ہوئے پھر فرعون کے محل میں پلے بڑھے جوان ہوئے ایک اسرائیلی یعنی ان کی قوم کے آدمی اور قبطی (فرعون کی قوم کے ایک فرد) کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزر رہے تھے اسرائیلی نے ان سے مدد طلب کی، انہوں نے قبطی کو ایک گھونسہ مار دیا گھونسہ کا لگنا تھا کہ وہ تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وہیں اس کا ڈھیر ہوگیا، فرعونیوں کو پتہ چلا کہ فلاں شخص نے ہمارے آدمی کو مارا ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں لگ گئے اور ان کے قتل کے بارے میں مشورہ کرنے لگے، ایک شخص نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رائے دی کہ تمہارے بارے میں ایسے ایسے مشورے ہو رہے ہیں تم یہاں سے پھوٹ لو اور کسی دوسری جگہ چلے جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے نکلے اور مدین پہنچ گئے وہاں ایک بوڑھے شخص تھے ان کی ایک لڑکی سے نکاح ہوگیا اپنے خسر صاحب کی بکریاں چراتے اور زندگی گزارتے تھے، معیاد کے مطابق دس سال گزار کر اپنی بیوی کو ساتھ لے کر مصر کی طرف واپس ہو رہے تھے کہ راستہ بھی بھول گئے اور سردی بھی لگ گئی، دور سے انہوں نے دیکھا کہ آگ نظر آرہی ہے اپنی بیوی سے کہا کہ تم ذرا یہیں ٹھہرو میں تاپنے کے لیے آگ لے کر آتا ہوں آگ نہ ملی تو کوئی راستہ بتانے والا ہی مل جائے گا، جس جگہ آگ نظر آرہی تھی اس جگہ کا نام طویٰ تھا جسے الوادی المقدس یعنی پاک میدان فرمایا ہے وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرما دیا اور حکم دیا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش بنا ہوا ہے اور انہیں دو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرما دیئے ایک یہ کہ وہ اپنی لاٹھی زمین پر ڈالتے تھے تو اژدھا بن جاتی تھی دوسرے یہ کہ اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالتے تھے تو بہت زیادہ روشن ہو کر نکلتا تھا۔ یہاں سورة النازعات میں اس کا اجمالی تذکرہ ہے فرمایا هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰىۘ0015﴾ کیا تمہارے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے۔ ﴿ اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ۚ0016﴾ (جبکہ موسیٰ کو ان کے رب نے پاک میدان وادی طویٰ میں پکارا) ﴿ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى ٞۖ0017﴾ (تم فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے) ﴿ فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰى ۙ0018﴾ (سو اس سے فرمایئے کیا تجھے اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاکیزہ بن جائے) ۔ ﴿وَ اَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ0019﴾ (اور کیا تجھے اس بات کی رغبت ہے کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف ہدایت دوں) یعنی تیرے خالق اور مالک کی ذات وصفات اور اس کی الوہیت اور ربوبیت اور اس کی قدرت کاملہ اور اس کے قہر اور غلبہ سے تجھے واقف کراؤں۔ ﴿فَتَخْشٰى﴾تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے اور اس سرکشی کو چھوڑ دے جو تو نے اختیار کر رکھی ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا فرمان سن کر وادی مقدس سے روانہ ہو کر مصر پہنچے وہاں سے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ساتھ لیا (اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبوت سے سرفراز فرما دیا تھا) یہ دونوں فرعون کے پاس پہنچے اور اسے حق کی دعوت دی پاکیزہ بننے کے لیے کہا (کیونکہ وہ کفر اور ظلم کی ناپاکی میں لت پت تھا) اور اس سے فرمایا کہ تو ہماری بات مان لے ہدایت پر آ جا ورنہ تجھ پر عذاب آجائے گا۔ كما فی سورة ٴ طہٰ ﴿اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى0048﴾
فرعون تو اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا جب اس نے یہ سنا کہ میرا بھی کوئی رب ہے (اور بظاہر بھرے دربار میں یہ باتیں ہوئیں) تو وہ بڑا چونکا اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے متعدد سوال جواب کیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پوری جرات اور دلیری کے ساتھ ہر بات کا جواب دیتے رہے جب فرعون دلیل سے عاجز ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ 0029﴾ (اگر تو نے میرے علاوہ کسی کو معبود بنایا تو تجھے ضرور قیدیوں میں شامل کر دوں گا) ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میں تیرے پاس واضح دلیل لے کر آیا ہوں تب بھی تو ایسا ہی کرے گا ؟ فرعون نے کہا اگر تو سچا ہے تو لے آ وہ کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو وہ اژدھا بن گئی اور اپنا داہنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ خوب زیادہ روشن ہوگیا اسی کو فرمایا ﴿ فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى ٞۖ0020﴾ (پھر انہوں نے اسے بڑی نشانی دکھائی) ﴿ فَكَذَّبَ وَعَصٰىٞۖ0021﴾ (سو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی پر جما رہا) دلیل سے بھی عاجز ہوگیا اور دو بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اور رب جل شانہ کی نافرمانی پر بدستور قائم رہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر بتادیا پھر جادو گر بلائے ان سے مقابلہ کرایا، جادو گر ہار گئے اور ایمان لے آئے۔ فرعون اب بھی نہ مانا اور اپنی سرکشی پر اڑا رہا، چونکہ وہ مطلق العنان بااختیار تھا اور اس کے غرور کا یہ حال تھا کہ وہ کہتا تھا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں اس لیے اسے اپنے اقتدار کی فکر پڑگئی اور طرح طرح کی تدبیریں کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات دب جائے اور عوام و خواص ان کی دعوت کو قبول نہ کریں اسی کو فرمایا ﴿ ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى ٞۖ0022﴾ (اس نے پشت پھیری اور کوشش کرنے لگا) ﴿ فَحَشَرَ فَنَادٰى ٞۖ0023﴾ (سو اس نے لوگوں کو جمع کیا پھر بلند آواز سے پکارا) یعنی اپنے لوگوں کو خطاب کیا۔
Ayahs 79:24–25﴿فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى ٞۖ0024﴾ (اور اپنا دعویٰ دہرا دیا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں یعنی سب سے بڑا رب ہوں) لیکن اس کی ہر تدبیر ناکام ہوئی اور بالآخر ہلاک ہوا دنیا میں بھی سزا پائی، یعنی اپنے لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا اور آخرت میں بھی دوزخ میں داخل ہوگا بلکہ دوزخ میں داخل ہوتے وقت اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا۔ سورة ٴ ہود میں فرمایا ﴿ يَقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ﴾ (قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے ہوگا سو انہیں دوزخ میں پہنچا دے گا) ۔
سورة القصص میں فرمایا ﴿وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً 1ۚ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ (رح) 0042﴾ (اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور وہ لوگ قیامت کے دن بدحال ہوں گے) ۔
Ayah 79:26﴿اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى 2ؕ (رح) 0026﴾ (بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں اور عبرت کے قصے سن کر خوف کھاتے ہیں کہ کہیں ہمیں نافرمانی کی وجہ سے دنیا و آخرت میں بدحالی اور عذاب میں گرفتار نہ ہونا پڑے ایسے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت ہے (اور جو لوگ نافرمانیوں میں لگ کر اپنی سمجھ کی پونجی کو کھو بیٹھے اور کسی بات سے متاثر نہیں ہوتے ایسے لوگ نافرمانی ہی میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں) جیسے فرعون نے سرکشی کی راہ اختیار کی اور برباد و ہلاک اور مستحق عذاب نار ہوا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت اور فرعون سے مکالمہ اور فرعون کا اپنے لشکروں سمیت ڈوب جانا سورة طہ میں تفصیل سے مذکور ہے نیز سورة یونس رکوع نمبر 8 اور سورة ٴ قصص رکوع نمبر 1، 2، 3 اور سورة ٴ نمل رکوع نمبر 1 کی بھی مراجعت کرلی جائے۔
Ayah 79:27جو لوگ قیامت کے منکر تھے ان سے خطاب کر کے فرمایا کہ تم اپنی دوبارہ تخلیق کو مشکل سمجھ رہے ہو یہ بتاؤ کہ تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی تخلیق، ذرا سی سمجھ والا آدمی بھی یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ بظاہر آسمان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے (یعنی انسان سوچے تو یہ ہی سمجھ میں آئے گا حالانکہ قادر مطلق کے لیے ہر معمولی اور بڑی سے بڑی چیز پیدا کرنا مشکل نہیں) جب اللہ تعالیٰ نے آسمان جیسی چیز کو پیدا فرما دیا تو تمہارا پیدا کرنا کیا مشکل ہے ؟ اس کے بعد آسمان کی بلندی کا اور رات و دن کا تذکرہ فرمایا۔
Ayahs 79:28–30﴿رَفَعَ سَمْكَهَا ﴾ (اسی کی چھت کو بلند فرمایا) ﴿ فَسَوّٰىهَاۙ0028﴾ (سو اسے بالکل درست بنایا) ﴿ وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا ﴾ (اور اس کی رات کو تاریک بنایا) ﴿ وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪0029﴾ (اور اس کے دن کو ظاہر فرمایا) رات اور دن کے وجود اور ظہور کا ظاہری سبب چونکہ آفتاب کا طلوع و غروب ہے اور وہ بلندی پر ہے اس لیے لیلھا وضحھا کی اضافت السماء کی ضمیر کی طرف کی گئی۔ ﴿ وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ0030 ﴾ (اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا)
Ayahs 79:31–33﴿ اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪0031﴾ (زمین سے اس کا پانی نکالا اور اس کا چارہ نکالا) جو جانوروں کے کام آتا ہے۔ ﴿وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ0032﴾ (اور پہاڑوں کو جما دیا) ﴿ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ0033﴾ (تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے فائدہ کے لیے) یعنی رات اور دن کا وجود اور زمین کا پھیلاؤ اور زمین میں پانی کا ہونا اور چارہ پیدا ہونا اور بہت وزنی پہاڑوں کا زمین پر جما رہنا تاکہ حرکت نہ کریں یہ سب چیزیں انسانوں کے لیے اور ان کے مویشیوں کے لیے بڑے نفع کی چیزیں ہیں، انسان پر لازم ہے کہ اپنے رب کا شکر گزار ہو اور اس کے نبیوں اور کتابوں کی خبروں کے مطابق وقوع قیامت کا اقراری ہو اور اس دن کے لیے فکر مند ہو۔
آسمان اور زمین کی پیدائش میں جو ترتیب ہے اس کا ذکر سورة ٴ بقرہ میں اور سورة ٴ حم السجدہ کی تفسیر میں دیکھ لیا جائے۔
Ayahs 79:34–39ان آیات میں قیامت کا منظر بتایا ہے۔ ﴿ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى ﴾ جس کا ترجمہ بڑی مصیبت سے کیا گیا ہے یہ طم یَطُمُّ سے ماخوذ ہے جو بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے قیامت کے لیے اس لفظ کا اطلاق اس لیے کیا گیا کہ اس دن کی مصیبت ہر مصیبت پر غالب ہوگی۔ اس سے بڑی مصیبت اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہوگی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
والطامة اعظم الدواھی لانہ من طم بمعنی علا کما وردفی المثل جری الوادی فطم علی القری وجاء السیل فطم الر کی وعلوھا علی الدواھی غلب تھا علیھا فیرجع لما ذكر، قیل فوصفھا بالکبریٰ للتاکید ولو فسر کونھا طامة بکونھا غالبة للخلائق لا یقدرون علی دفعھا لکان الوصف مخصصا، وقیل کونھا طامة باعتبار انھا تغلب وتفوق ماعرفوا من دواھی الدنیا وکونھا کبری باعتبار انھا اعظم من جمیع الدواھی مطلقا وقیل غیر ذلك۔
حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا کہ ﴿ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى ﴾ سے نفخہ ٔ ثانیہ (دوسری بار صور پھونکنا) مراد ہے۔ ارشاد فرمایا جس دن سب سے بڑی مصیبت آئے گی انسان یاد کرے گا اپنی کوششوں کو یعنی دنیا میں جو اعمال کیے تھے ان کو یاد کرے گا کیونکہ ان اعمال پر عذاب وثواب کا مدار ہوگا اور اس وقت جحیم یعنی دوزخ کو ظاہر کردیا جائے گا جسے سب دیکھنے والے دیکھ لیں گے۔
حساب و کتاب کے بعد جو فیصلے ہوں اس میں دو ہی جماعتیں ہوں گی ایک جماعت دوزخ میں اور ایک جماعت جنت میں جائے گی، جسے سورة الشوریٰ میں بیان فرمایا ہے : ﴿ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ 007﴾ اور جو لوگ اعراف پر ہوں گے وہ بھی آخر میں جنت میں داخل ہوں گے جنت اور دوزخ کے داخلہ کی بنیاد بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا : ﴿ فَاَمَّا مَنْ طَغٰى ۙ0037 وَ اٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاۙ0038 فَاِنَّ الْجَحِيْمَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ0039﴾ (سو جس نے سرکشی کی اور دنیا والی زندگی کو ترجیح دی یعنی دنیا ہی کے کام کرتا رہا اور آخرت کی تیاری نہ کی تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا) ۔
عام طور سے کفر کا اختیار کرنا اور حق ظاہر ہوتے ہوئے حق قبول نہ کرنا اسی لیے ہوتا ہے کہ دنیا کو ترجیح دیتے ہیں مال اور دولت اور کرسی چلے جانے کے ڈر سے حق قبول نہیں کرتے، یہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہے جو لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی گناہوں میں بھی منہمک رہتے ہیں اس کا باعث بھی دنیا کو ترجیح دینا ہوتا ہے۔ مال کی طلب یا جاہ اور شہرت اور عہدہ کا لالچ یہ چیزیں گناہوں پر ڈالتی ہیں فرائض و واجبات چھڑاتی ہیں اور کاروبار میں خیانت ملاوٹ وغیرہ کرنے پر آمادہ کرتی ہیں، جو شخص آخرت کو ترجیح دے گا اور یہ یقین کرتے ہوئے زندگی گزارے گا کہ قیامت کے دن پیش ہونا ہے وہ دنیا کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ دنیا کی طلب حلال کما کر حلال مواقع پر خرچ کرنے کے لیے جائز ہے۔ البتہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہلاکت کا سبب ہے۔