An-Naazi'aat 79:8

An-Naazi'aat · from ayah 8

79:8

قُلُوْبٌ یَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ ۟ۙقُلُوۡبٌ يَّوۡمَئِذٍ وَّاجِفَةٌ

اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Hearts, that Day, will tremble,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat

All translations of 79:8

کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(بہت سے) دل اس دن دھڑکتے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس دن (لوگوں کے) دل خوف و اضطراب سے دھڑکتے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کئی دل اس دن دھڑکنے والے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

، کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کچھ دل اس روز (مارے خوف کے) کانپ رہے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

کتنے ہی دل اس دن (خوف کے مارے) دھڑک رہے ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس دن لوگوں کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day some hearts shall tremble (with fright),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

On that day, hearts (of people) will be throbbing,

— Muhammad Taqi Usmani

On that day, hearts (of people) will be throbbing,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Hearts that Day will tremble.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hearts, that Day, will tremble,

— Saheeh International

hearts will undergo terrible trembling,

— Muhammad Sarwar

Hearts on that day shall palpitate,

— Muhammad Habib Shakir

Hearts on that Day will be throbbing;

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 79:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النّٰزِعٰت 3 " کچھ دل " کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ قرآن مجید کی رو سے صرف کفار و فجار اور منافقین ہی پر قیامت کے روز ہول طاری ہوگا۔ مومنین صالحین اس ہول سے محفوظ ہوں گے۔ سورة انبیاء میں ان کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ " وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا "۔ (آیت 103)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–24

پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس دن کا اثر لوگوں کے دلوں پر: اوپر کی آیات میں اس دن کی ہلچل کے وہ اثرات بیان ہوئے ہیں جو اس کائنات میں نمودار ہوں گے۔ ان آیات میں اس کے ان اثرات کی طرف اشارہ ہے جو ارواح و قلوب پر طاری ہوں گے۔ فرمایا کہ اس دن کتنے دل ہوں گے جو دھڑک رہے ہوں گے اور ان کی نگاہیں سراسیمگی کے سبب سے جھکی ہوئی ہوں گی۔ یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اس دن سے نچنت رہے اور جب انھیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے۔ رہے وہ لوگ جو اس دنیا میں، اس عذاب کو دیکھے بغیر، اس سے ڈرتے رہے وہ، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، اس دن کی گھبراہٹ سے بالکل محفوظ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

3: اس سے مراد پہلا صور ہے۔ جب وہ پھونکا جائے گا تو ہر جان دار کو موت آجائے گی، اور پوری کائنات زیر و زبر ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–9

پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔ یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

10 یعنی اضطراب اور گھبراہٹ سے دل دھڑکتے ہوں گے اور ذلت و ندامت کے مارے آنکھیں جھک رہی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

آیت 7{ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ۔ } ”اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا آئے گا۔“ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے ‘ جس کے بعد سب ُ مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–9

7 آیت نمبر 6 اور نمبر 7 کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ نفخہ صور اول کے وقت زمین کانپنے لگے گی۔ پھر اسے لگاتار زلزلہ کے مزید جھٹکے پڑنے لگیں گے۔ دوسرا یہ کہ رادفہ سے زلزلہ کے بجائے نفخہ صور مراد لیا جائے۔ یعنی پہلے نفخہ صور کے نتیجہ میں زمین کانپنے لگے گی پھر اس کے بعد جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو تمام مرے ہوئے لوگ زندہ ہو کر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–12

4۔ (آیت) ” یقولون۔ قالوا “۔ یہ کہنے والے وہی رسول اللہ ﷺ کے معاصر منکرین حشر تھے۔ اور یہ فقرے انکار استیعاد کے لہجہ میں طنزوتعریض کی راہ سے کہتے تھے۔ ترجمانی اس میں آج کے بھی ” روشن خیال “۔ مادیین کی آگئی۔ (آیت) ” ء اذا ..... نخرہ “۔ مادہ پرست اور روحانیت سے ناآشنا قوموں نے انسان کے فناء وبقاء کو تمامتر اس کے جسم ظاہری کے فناوبقاء کا مرادف سمجھا ہے۔ (آیت) ” قلوب ..... خاشعۃ “۔ آیت میں (آیت) ” قلوب وابصار “۔ دونوں کی کیفیت بیان کرکے اہل کفر کے اضطراب باطنی وظاہری دونوں کی پوری تصویر سامنے کردی۔ (آیت) ” ابصارھا “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ ابصار اصحابھا۔ معناہ ابصار اصحابھا (کشاف) اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–13

فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔ خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ نفس اور روح سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قلوب یومئذ واجفۃ . الواجف تیز رفتار ‘ بطور استعارہ اضطراب شدید مراد ہے۔ بہت دل اس روز (دھڑکتے ہوں گے) سخت مضطرب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–10

(6۔ 10) ان تمام چیزوں کی قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دونوں مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ چناچہ فرما رہے ہیں کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہر ایک چیز کو ہلا دے گی یعنی نفخہ اولی ہوگا اور پھر اس کے بعد نفخہ ثانیہ ہوگا۔ قیامت کے دن دل خوف زدہ ہوں گے اور ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی مگر یہ مکہ کے کافر کہتے ہیں کیا ہم دنیاوی حالت کی طرف پھر واپس ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

قلوب یومئذ واجفۃ…: کئی دس اس دن دھڑک رہے ہوں گے ، یعنی سخت خوف زدہ ہوں گے۔”کئی دل“ اس لئے فرمایا کہ صالح مومن اس دن کی گھبراٹہ سے محفوظ رہیں گے۔ جیسا کہ فرمایا :(لایحزنھم الفزع الاکبر) (النبیائ : 103)”(اس دن) سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہیں رکے گی۔“ دلوں اور آنکھوں کا حال بیان کرنے سے اس دن کفار کی ظاہری اور باطنی پریشانی کی مکمل تصویر سامنے آگئی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قلوب یومئذ واجفہ۔ اس روز دل خوف زدہ ہوں گے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے، سدی نے کہا، وہ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اس کی مثل، اذالقلوب لدی الحناجر۔ غافر 18) جب دل نر کرہ تک پہنچ جائیں گے، مورج نے کہا، جب دل مضطرب خوف زدہ اور پرسکون نہ ہوں گے مبرد نے کہا، جب دل مضطرب ہوں گے معنی سب کا قریب قریب ہے اس سے مراد کفار کے دل ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے، وجف القلب یجف وجیفا جب وہ پھڑپھڑا رہا ہو جسطرح یہ لفظ بولا جاتا ہے، وجب یجب وجیبا۔ اسی سے، وجیف الفرس والناقۃ فی العدو، ہے ایجاف کا معنی جانور کو تیز چال پر برانگیختہ کرنا ہے، قلوب کو مبتدا کی حیثیت سے رفع دیا گیا اور واجفہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

26۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قلوب یومئذ واجفۃ کئی دل اس دن دھڑک رہے ہوں گے یعنی در رہے ہوں گے اور مضطرب ہوں گے۔ 27۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت قلوب یومئذ واجفۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اس دن کئی دل خوف زدہ ہوں گے۔ 28۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قلوب یومئذ واجفۃ یعنی خوف زدہ آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ۔ کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے۔ یعنی کیا ہم زمین میں نئی پیدائش کے ساتھ جائیں گے۔ آیت ءاذا کنا عظاما نخرۃ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ جبکہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہوں گے۔ 29۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

﴿تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ007﴾ یعنی (ہلا دینے والی چیز) کے پیچھے اس کے بعد آنے والی چیز آجائے گی اس سے نفخہ ثانیہ یعنی دوسری دفعہ صور پھونکنا مراد ہے۔ ﴿ قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ008﴾ (اس دن دل دھڑک رہے ہوں گے) ﴿ اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ009﴾ (ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–26

ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–11

5:۔ ” قُلُوب “ اس دن شدت ہول سے دلوں میں سخت اضطراب ہوگا اور آنکھیں مارے خوف کے جھکی ہوں گی۔ ” یقولونء انا لمردودون فی الحافرۃ “ یہ شکوی ہے۔ ” الحافرۃ “ پہلی حالت۔ الحافرۃ الحالۃ الاولی (مدارک) ۔ منکرین قیامت کہتے ہیں کیا ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اسی پہلی حالت میں آجائیں گے۔ کیا جب ہم پرانی اور بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر بھی ایسا ہوگا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَۃٌ۝ 8 ۙ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَۃٌ۔ اَبْصَارُھَا خَاشِعَۃٌ۔ (النازعات : 8، 9) (کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے۔ نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی۔ ) قلوب پر قیامت کا اثر آج جس قیامت کے ذکر سے قریش اور دیگر اہل مکہ خوفزدہ اور فکرمند ہونے کی بجائے محظوظ ہوتے اور اسے مذاق بنا لیتے ہیں۔ کوئی اس کے بارے میں کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ کہتا ہے۔ لیکن جب یہ قیامت کے بپا ہوجانے کے بعد میدانِ حشر میں کھڑے ہوں گے تو ان پر ایک ہول طاری ہوگا، چہروں پر وحشت چھائی ہوئی ہوگی، دل کانپ رہے ہوں گے اور آنکھیں جھکی ہوئی سراسیمہ اور سہمی ہوئی ہوں گی، کوئی لفظ منہ سے نہ نکل سکے گا اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کافروں کے احوال : 8 : قُلُوْبٌ یَّوْمَپذٍ وَّاجِفَۃٌ (بہت سے دل اس روز دھڑک رہے ہونگے) قلوب سے بعث کے منکرین کے دل مراد ہیں۔ واجفۃ یہ الو جیف سے ماخوذ ہے۔ جو الوجیب یعنی مضطرب ہونے اور دھڑکنے کے معنی میں ہے۔ نحو : قلوب، مبتدأ واجفۃ اس کی صفت ہے۔ ابصار ھا خاشعہ اس کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ یوم ترجف کا نصب اس فعل مضمر کی وجہ سے ہے جس پر قلوب یومئذ واجفۃ دلالت کر رہا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے یوم ترجف وجفت القلوب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” تتبعھا الرادفۃ “ اور وہ نفخہ ثانیہ ہے جو پہلے کے پیچھے آئے گا اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ دو چیخیں ہیں۔ پس پہلی ہر چیز کو موت دے گی اور دوسری ہر چیز کو اللہ کی اجازت کے ساتھ زندہ کردے گی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” ترجف الراجفۃ “ زمین وپہاڑ متزلزل ہوجائیں گے۔ ” تتبعھا الرادفۃ “ جب آسمان پھٹ جائے گا اور زمین وپہاڑ اٹھائے جائیں گے پھر کوٹ دیئے جائیں گے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں ” الراجفۃ “ قیامت اور ” الرادفۃ “ بعث اور ” الرجفۃ “ کی اصل آواز اور حرکت ہے ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ جب رات کا چوتھائی حصہ ختم ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فرماتے اے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–14

6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ) اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(8) منکرین کے قیامت کے روز کے حال بد کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ دل اس روز کانپ رہے ہوں گے " یعنی وہاں کے ہول دیکھ کر۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ ان کفار و منکرین کے دل ہوں گے جو کہ دنیا میں ایمان و یقین کے نور سے محروم رہے ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ زندگی بھر کے کفر و انکار کے نتیجے میں ان کو اس موقع پر جس انجام سے سابقہ ہوگا وہ نہایت ہی ہولناک ہوگا۔ جبکہ اہل ایمان و یقین اپنے ایمان و یقین کی برکت سے اور اس کے نتیجے میں اس دن بالکل امن و سکون میں ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْأَکْبَرُ وَتَتَلَقَّاہُمُ الْمَلَائِکَۃُ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–14

قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ؁ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–12

ف 4 یعنی اس صورت میں تو ہمارا خسارہ ہی خسارہ ہے۔ یہ بات ازراہ مذاق کہتے۔ (جامع البیان)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(79:8) قلوب یومئذ واجفۃ۔ قلوب مبتداء یومئذ اسم ظرف زمان ہے اور تتبعھا الرادفۃ سے متعلق ہے۔ واجفۃ، قلوب کی صفت ہے اور مبتداء کی خبر۔ (کتنے ہی) دل اس روز ترساں و لرزاں ہوں گے۔ واجفۃ۔ وجف (باب ضرب) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ وجف : وجیف (باب ضرب) کے معنی تیز رفتاری کے ہیں۔ اور او جفت البعیر کے معنی ہیں میں نے اونٹ کو تیز دوڑایا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے :۔ فما او جفتم علیہ من خیل ولا رکاب (59:6) کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔ مثل مشہور ہے اوجف فاعجف : گھوڑے کو تیز دوڑا کر دبلا کردیا۔ وجف الشیء کسی چیز کا مضطرب ہونا۔ قلب واجف : مضطرب دل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–46

لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–9

حشر کا ذکر۔ (ف 3) اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقینی ہوتی ہے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ ہوگا کہ زمین اور پہاڑ جنبش میں آئیں گے پہلاصور جب پھونکاجائے گا اس وقت روحیں بدن سے جدا ہوجائیں گی اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، پھر اس کے بعد دوسرا صور پھونکاجائے گا اس وقت پھر ارواحیں قالب میں آئیں گی اور نئے سرے سے عالم ایک ارعالم میں ظاہر ہوگا، بہت دل اس دن خوف زدہ ہوں گے اور نظریں مارے دہشت کے جھک رہی ہوں گی غرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[3] یہ اثر ہوگا دوسری دفعہ صور کے پھونکے جانے کا (نفخہء ثانیہ) جس سے تمام انسان جی اٹھیں گے (ملاحظہ ہو سورة زمر آیت 68 صفحہ 1110) ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–25

ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–9

ف 2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتنے ہی دل خوف سے اس روز کا نپ رہے ہوں گے ۔ 8 (واجفۃ) اسم فاعل واحد مئونث وجف مصدر (ضرب) ترساں و لرزاں (محلی) وجف ، وجیف و جوف مصادر ہیں۔ اونٹ یا گھوڑے کا قدم قدم چلنا۔ کسی کا بےقرار ہونا۔ ایجاف (افعال) قدم قدم چلانا استیحاف (استفعال) دل کا کسی کی محبت میں وارفتہ بنا دینا یا وارفتہ ہوجانا۔ اس کا اصل مادہ و جہے اور اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں بیان ہوئی اور دونوں ایک ایک بار۔ ایک بار اس جگہ (واجفۃ) اور دوسرا لفظ اس مادہ کا (اوجفتم) استعمال ہوا ہے۔ (الحشر : 6) اور یہ لفظ بھی صرف ایک ہی بار استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دن اتنا زبردست ہوگا کہ سب لوگوں کے دل کانپ رہے ہوں گے اور ہر ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–24

The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 "Some hearts", because, according to the Qur'an, only the disbelievers, the wicked people and the hypocrites will be terror-stricken on the Resurrection Day, the righteous believers will remain secure from this tenor. About them in Surah Al-Anbiya' it has been said: "The time of great fright will not trouble them at all; the angels will rush. forth to receive them, saying: `This is the very Day which you were promised'." (v. 103)

Read the full tafseer →