Explained with ayahs 34–46
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات
طامتہ الکبریٰ سے مراد قیامت کا دن ہے اس لئے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہوگا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) یعنی قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کرلے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) یعنی اس دن آدمی نصیحت حاصل کرلے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر…
Read the full tafseer →سورة النّٰزِعٰت 24
یہ مضمون اس سے پہلے کئی جگہ قرآن میں بیان ہوچکا ہے اور ہم اس کی تشریح کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 53۔ بنی اسرائیل، حاشیہ 56۔ جلد سوم، طہٰ ، حاشیہ 80۔ المومنون، حاشیہ 101۔ الروم، حواشی 81۔ 82۔ جلد چہارم۔ یسین، حاشیہ 48۔ اس کے علاوہ یہ مضمون سورة احقاف آیت 35 میں بھی گزر چکا ہے جسکی تشریح ہم نے وہاں نہیں کی کیونکہ پہلے کئی جگہ تشریح ہوچکی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئی وہ دو ہیں
فَاَمَّا مَنْ طَغٰى،ۙوَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا
اول طغیان یعنی اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کے احکام کی پابندی کے بجائے سر کشی کرنا، دوسرے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اسکے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کردے۔ جو شخص دنیا میں ان دو بلاؤں میں مبتلا ہے اس کے لئے فرمایا فان الجحیم ھی الماوی، یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اسکے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتلائی ہیں۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ…
Read the full tafseer →یعنی آج اگر ان کو یہ دکھائی نہیں جاتی یا اس کی تاریخ نہیں مقرر کی جاتی تو اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ وہ اتنی دور ہے کہ اس کے لیے انھیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس دن اس کو دیکھیں گے اس دن کا احساس یہ ہو گا کہ گویا دنیا میں وہ ایک دن کے پچھلے یا اس کے پہلے پہر سے زیادہ نہیں رہے۔
Read the full tafseer →46۔ 1 یعنی دنیا میں پورا ایک دن بھی نہ رہے، دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔
Read the full tafseer →10: یعنی آخرت میں پہنچنے کے بعد دنیا میں گذری ہوئی زندگی یا قبر کے عالم میں برزخ میں قیام کی مدت بہت مختصر معلوم ہوگی۔
Read the full tafseer →کانھم .................... ضحھا (46:79) ” جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (دنیا میں یا حالت موت میں) یہ بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں “۔
اس کے بارے میں تمہارے تاثرات یوں ہوں گے کہ اس کی عظمت کو دیکھ کر تم پوری دنیا کو اور اپنی پوری عمروں کو اور اپنے سازوسامان کو یوں سمجھو گے کہ شاید صبح وشام کا ایک مختصر وقت تھا جو ہم نے دنیا میں بسر کیا۔
یہ دنیا جس کے لئے لوگ باہم لڑتے اور جھگڑتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ انہوں نے ہمہ گیر کشمکش برپا کی ہے۔ اس دنیا کے لوگ مرتے ہیں اور آخرت کی لازوال اور بےپناہ انعامات کو اس کی خاطر ترک کرتے ہیں اور اس مختصر مدت کے…
Read the full tafseer →7 یعنی اب تو شور مچا رہے ہیں کہ قیامت کے آنے میں دیر کیوں ہے جلد کیوں نہیں آجاتی۔ مگر اس وقت معلوم ہوگا کہ بہت جلد آئی۔ بیچ میں دیر کچھ نہیں لگی۔
Read the full tafseer →آیت 46{ کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوْ ضُحٰٹہَا۔ } ”جس دن وہ اسے دیکھیں گے انہیں یوں لگے گا گویا وہ نہیں رہے دنیا میں مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح۔“
قیامت کے دن انسان جب اپنی دنیوی زندگی کو یاد کرے گا تو اسے اپنی پوری زندگی ایسے نظر آئے گی جیسے وہ ایک دن کی بھی صرف چند گھڑیاں دنیا میں رہا تھا۔
Read the full tafseer →29 گزشتہ واقعات کے متعلق انسان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ بیسیوں سال پہلے گزرے ہوئے واقعہ کے متعلق وہ کہتا ہے کہ یہ کل کی بات ہے۔ یہ اس عالم دنیا کا حال ہے جس میں لیل و نہار کی گردش اسے نظر آتی ہے اور ماہ و سال کا وہ حساب لگا سکتا ہے لیکن عالم برزخ میں تو یہ دن رات بھی نہیں ہوں گے جیسے اصحاب کہف پر تین سو سال گزرنے کے بعد وہ یہ فیصلہ نہ کرسکے تھے کہ وہ اس غار میں پورا دن سوئے رہے ہیں یا دن کا کچھ حصہ۔ بالکل یہی صورت حال قیامت کے دن لوگوں کو پیش آئے گی اور کافر قیامت کا دن دیکھ کر یہی سمجھیں گے کہ ان کی دنیا کی زندگی تو پورا ایک دن بھی نہ تھی۔ کاش یہ تھوڑی سی مدت ہم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں…
Read the full tafseer →20۔ یعنی دنیوی عمر کی ساری مدت طویل انہیں سمٹ سمٹا کر بہت ہی مختصر معلوم ہوگی، اور جس عذاب کی جلدی آج طنزوتعریض کی راہ سے مچا رہے ہیں۔ جب وہ آہی جائے گا، تو اسے واقعۃ بھی یہ بہت ہی جلد آپڑنے والاسمجھیں گے۔ انتہائے ہر اس ویاس کے وقت دنیا میں طویل گزشتہ مدت چشم زدن میں گزری ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
واما من خاف مقام ربہ الخ، اس آیت میں اہل جنت کی دو علامتوں کو بیان فرمایا، اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں ہر عمل کے کرنے کے وقت یہ خوف اور اندیشہ لگا رہا کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، دوسرے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے قابو میں رکھا، جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کر لئے اس کے لئے قرآن کریم یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →کانھم یوم یرونھا لم یکبثوا الا عشیۃ اوضحھا . یعنی جس روز وہ قیامت کو دیکھیں گے تو ایسا
محسوس کریں گے کہ گویا دنیا میں اور قبروں میں ایک دن کے صرف نصف اخیر یا مع نصف اوّل کے (یعنی پورے دن) رہے تھے۔ ضُحٰی کی اضافت عشیّۃ کی ضمیر کی جانب اسلئے کی گئی کہ دونوں ایک ہی دن کے جزء ہیں (نصف اوّل یعنی ضحٰی اور نصف اخیر یعنی عشیۃ) ۔
مراد یہ ہے کہ دنیا میں اور قبروں میں رہنے کی مدت چونکہ محدود ہے اور وہ مدت ختم ہوچکی ہوگی اور عذاب کی مدت غیر محدود ہوگی اور عذاب کی شدت بھی ہوگی اس لیے وہ مدت عذاب کے مقابلہ میں دنیا اور قبر کے قیام کو ہیچ سمجھیں گے اور خیال کریں گے کہ ہم وہاں بہت تھوڑے وقت رہے۔ اسی مضمون کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(45۔ 46) آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہو، جس روز قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا گو دنیا میں اور قبروں میں صرف ایک دن کے آخری حصہ میں یا اس کے اول حصہ میں رہے ہیں۔
Read the full tafseer →کانھم یوم یرونھا…: یعنی وہ قیامت جسے یہ بہت دور سمجھ رہے ہیں جب آئے گی تو انہیں ایسے معلوم ہوگا جیسے وہ دنیا میں صرف دن کا پچھلا حصہ یا پہلا حصہ ہی رہے ہیں، پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ مثال سمجھنے کے لئے اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈال کر دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا الاعشیۃ او ضحھا۔ گویا کفار جس وقت وہ قیامت کو دیکھیں گے وہ کہیں گے وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر ایک رات بھر یا دن بھر وہ دن جو اس رات کے ساتھ ملا ہے، مراد قلیل مدت کا اظہار ہے جس طرح یہ فرمایا، لم یلبثوا الاساعۃ من نھار، الاحقاف 35) وہ نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے گویا جب وہ اسے دیکھیں گے تو وہ کہیں گے وہ اس میں نہیں ٹھہرے مگر ایک دن، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ قبروں میں نہیں ٹھہرے مگر ایک رات یا اس کا دن، گویا جب وہ اس کی ہولناکی کو دیکھیں گے تو وہ قبروں میں ٹھہرنے کی مدت کو قلیل جانیں گے فراء نے کہا، کہنے والا کہے گا کیا اس…
Read the full tafseer →جنتی اور جہنمی کون ؟
25۔ ابن ابی شیبہ نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک وہ شخص جنت میں داخل ہوگا جو اس کی امید رکھتا ہے اور بیشک وہ شخص دوزخ سے محفوظ رہے گا جو اس سے ڈرتا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا جو خود رحم کرتا ہے۔ مرسل ہے۔
26۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت الی ربک منتہہا یعنی قیامت کے علم کی انتہا تیرے رب کے پاس ہے آیت الا عشیۃ او ضحہا یا ایک عشیہ ( یعنی اتنا وقت جو ظہر اور غروب آفتاب کے درمیان ہے)
27۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہم یوم یرونہا گویا وہ جس دن اسے دیکھ لیں گے۔ یعنی قوم کے لوگوں میں…
Read the full tafseer →[كَانهُمْ : (ایسا لگے گا) جیسے کہ وہ لوگ ][ يَوْمَ يَرَوْنَهَا : جس دن وہ دیکھیں گے اس کو،][ لَمْ يَلْبَثُوْٓا : ٹھہرے ہی نہیں ][ اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا : سوائے ایک شام کے یا اس کی صبح کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
﴿اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَاؕ0045﴾ (آپ تو صرف ایسے شخص کے ڈرانے والے ہیں جو قیامت سے ڈرتا ہو) یعنی آپ کی بات مان کر ایمان لے آئے اور قیامت کے مواخذہ اور محاسبہ سے خوف زدہ ہو، جسے ماننا نہیں ہے آپ کا ڈرانا اس کے حق میں مفید نہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا (رح) 0046﴾ (جس دن وہ اس کو دیکھیں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا صرف ایک دن کے آخری حصہ میں رہے ہوں یا اس کے اول حصہ میں) آج تو بار بار پوچھ رہے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور بطور استہزا اور تمسخر یوں کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا جب قیامت آئے گی اس وقت دنیا والی زندگی (جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
اعلان خداوندی بقدرت کاملہ وعاجزی و پستی کائنات پیش عظمت الہی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء ........ الی ........... الا عشیۃ اوضحہا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں خداوندعالم نے اپنی شان حاکمیت عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہوئے قیامت اور قیامت کے احوال بیان فرمائے تھے، اور یہ کہ کائنات کا یہ سارا نظام دم کے دم میں درہم برہم ہوجائے گا، زمین و آسمان اور پہاڑ چاند سورج اور ستارے غرض سب ہی ختم کردیئے جائیں گے اور دلوں کا اضطراب وبے چینی کا عالم ناقابل تصور ہوگا تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کاملہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اور یہ کہ کائنات کی کوئی طاقت اور قوت خداوند عالم کی…
Read the full tafseer →18:۔ ” کانہم “ یہ ” یظنون “ مقدر کا مفعول ہے اور ” یوم “ ظرف اسی فعل مقدر کے ساتھ متعلق ہے اصل عبارت اس طرح ” یوم یرونہا یظنون کانہم لم یلبثوا الخ “ اب تو قیامت کو نہیں مانت اور بطور استہزاء اس کے معین وقت سے سوال کرتے ہیں تو جب قیامت کو دیکھ لیں گے تو دنیا میں رہنے کا وقت ان کو بہت ہی مختصر نظر آئے گا اور وہ یہ سمجھیں گے کہ گویا دنیا میں وہ صرف عشیہ (ظہر تا مغرب) کی مقدار ٹھیرے ہیں یا اس سے بھی کم یعنی صرف ضحی (طلوع آفتاب سے دو نیزہ کی مقدار تک) کا زمانہ ٹھیرے ہیں۔ یعنی قیامت کے اہوال و شدائد کی وجہ سے انہیں دنیا کی زندگی کا وقت بہت کم معلوم ہوگا راحت کے بعد مصیبت میں راحت کا وقت بہت تھوڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے…
Read the full tafseer →كَاَنَّہُمْ يَوْمَ يَرَوْنَہَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّۃً اَوْ ضُحٰىہَا 46 ۧ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی ) رای
الرؤیتہ
کے معنی کسی مرئی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ترکیب ¦ ایان ظرف زمانی مبنی علی الفتح مبتداء مرسہا خبرہ ای منتھی قیامھا قال ابو عبیدۃ مرسی السفینۃ مستقرباء الجملۃ بیان السوال۔ فیم اصلہ فیما ای فی ای شیء خبرو المبتداء انت من ذکراھا بیان لای شیء والمعنی لست فی شیء من ذکر وقت القیامۃ انما یعلمھا اللہ تعالیٰ خاصۃ والاستفھام انکاری وردلسوال المشرکین عنھا الی ربک متعلق بثابت خبر منتھاھا مبتداء ای منتھی علمھا لا یعلم تعین وقتھا الاہو والجملۃ تاکید الجملۃ الاولی فی ردسوالھم وکذا انما انت منذر مضاف الی من وھذا قراۃ الجمہور وقریٔ بالتنوین قال الفراء کلاھما صواب کقولہ بالغ امرہ وموھن کید الکافرین وقال صاحب الکشاف الاصل ھو النتوین والا ضافۃ تخفیف وکلا…
Read the full tafseer →کَاَنَّـھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَھَا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلاَّعَشِیَّۃً اَوْضُحٰـھَا۔ (النازعات : 46)
(جس روز یہ لوگ اسے دیکھیں گے (تو وہ یوں محسوس کریں گے) کہ گویا وہ ایک شام یا اس کی صبح سے زیادہ وقفہ نہیں ٹھہرے۔ )
منکرینِ قیامت کی بیخبر ی
آج یہ لوگ وقوع قیامت کو خلاف عقل کہہ کر ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اور جنھیں اس کا امکان تسلیم ہے وہ بھی اسے بہت دور خیال کرکے اپنی زندگی کو بےرنگ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ چیز جو سراسر موہوم ہے یا جس کا وقوع ہم سے بہت دور ہے تو آخر اس کی خاطر ہم اپنے عیش و عشرت، ٹھاٹھ باٹھ اور من مرضی کی زندگی کو کیسے ترک کردیں۔ ان کے بارے میں فرمایا جارہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
فہم القرآن
ربط کلام : سورت کی ابتدائی آیات میں قیامت کے ثبوت دئیے گئے ہیں اس کا اختتام بھی انہیں دلائل پر کیا گیا ہے۔
نبی معظم ﷺ سے اہل مکہ مختلف موقعوں پر مختلف الفاظ اور انداز میں سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی۔ اس سوال کے انہیں کئی جواب دیئے گئے جن کے بنیادی طور پر دو مفہوم ہیں۔
1۔ کوئی اقرار کرے یا انکار کرے قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ 2۔ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والوں کو اس کا وقت جاننے کی بجائے اس کے احتساب کا فکر کرنا چاہیے۔ کفار کے سوال کا جہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اے رسول ! لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کے کا وقت پوچھتے ہیں کہ وہ کب اور کس وقت واقع ہوگی ان سے فرمائیں ! کہ قیامت کا وقت…
Read the full tafseer →قیامت میں حال :
46 : کَاَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَھَا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلاَّ عَشِیَّۃً اَوْضُحٰھَا (جس روز یہ اس کو دیکھیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا صرف ایک دن کے آخری حصہ میں یا اس کے اول حصہ میں رہے ہیں) یرونھاؔ قیامت کو دیکھیں گے۔ لم یلبثواؔ دنیا میں ٹھہرنا۔ العشیۃ والضحٰی پچھلا پہر اور پہلا پہر۔ دنیا میں رہنے کی مدت قیامت کی ہولناکی کو دیکھ کر قلیل ترین معلوم ہوگی۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا لم یلبثوا الا ساعۃ من النھار۔] یونس : 45[ اور فرمایا قالوا لبثنا یومًا او بعض یوم ] الکہف : 19[ ضحٰی کی اضافت عشیہ کی طرف باہمی ملابست کی وجہ سے درست ہے۔ کیونکہ دونوں ایک دن میں جمع ہیں یہاں مقصود…
Read the full tafseer →46 ۔” انما انت منذر من یخشاھا “ ابوجعفر نے منذر تنوین کے ساتھ پڑھا ہے یعنی آپ ڈرانے والے ہیں اس کو جو اس کے قیام سے ڈرتا ہے یعنی آپ ﷺ کا ڈرانا اس کو نفع دے گا جو اس سے ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
42۔ 46۔ نسائی ‘ مستدرک 4 ؎ حاکم مسند بزار مسند عبد بن حمید وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب تک یہ آیتیں نازل نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک ٹھٹھے کے طور پر اکثر مشرکین آنحضرت ﷺ سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے جب یہ آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے جتلایا کہ قیامت کے آنے کا وقت سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں تو مشرکنا مکہ اور ٹھٹھے کی باتیں کرتے تھے مگر عاجز آ کر قیامت کا حال پوچھنا انہوں نے کم کردیا تھا۔ ان روایتوں میں بعض صحیح ہیں اور باقی کی تقویت صحیح روایتوں سے ہوجاتی ہے۔ صحیح 5 ؎ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل کی صورت بن کر آنحضرت ﷺ سے دین کے چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا) یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کو ہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔
Read the full tafseer →(35) وقوع قیامت پر منکرین کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ان کو یوں لگے گا کہ گویا کہ یہ دنیا میں نہیں ٹھہرے تھے مگر ایک صبح یا شام "۔ یعنی آج اس کے لیے جلدی مچانے والوں کو اس روز یوں لگے گا کہ وہ دنیا میں اتنا تھوڑا وقت ٹھہرے تھے اور اپنی یہ عمریں جن کو آج ایسے لوگ بڑی لمبی سمجھتے ہیں اس روز ان کو اتنی معمولی معلوم ہوں گی، سو آج اگر ان کو وہ دکھائی نہیں جاتی یا اس کی مقرر تاریخ ان کو بتلائی نہیں جاتی تو اس سے ایسے لوگ مغالطے میں نہ رہیں کہ وہ بہت دور ہے۔ اس لیے ابھی اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ جس دن یہ اس کو دیکھیں گے تو اس دن ان کو یوں لگے گا کہ گویا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
جس نے کائنات بنائی وہ تمہیں بھی بنا سکتا ہے
تشریح : یہاں ایک تو انسان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا خود اس کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے اور اس کے رہن سہن کے لیے پوری کائنات بنائی ہے۔ جو یقینا انسان کی پیدائش سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام ہے اگر وہ اللہ کی قدرت حکمت اور بڑائی پر غور کرے تو وہ اللہ کی دی گئی اس خبر کو ہرگز معمولی یا جھوٹ نہ سمجھے کہ '' قیامت آنے والی ہے۔ قیامت کے بعد حساب کا دن ضرور آئے گا ''۔
ان آیات میں اس یقین دہانی کے علاوہ فطرت اور کائنات کے مضبوط ' معقول اور بہترین انتظامات کا ذکر بھی بڑی خوبصورتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–46
آیات 27 تا 46۔
اسرار ومعارف۔
اگر انہیں دوبارہ زندہ ہونے کا اعتبار نہیں آتا اور اسے مشکل جانتے ہیں تو موجودہ حیات پہ غورکریں کہ بندہ کو دوبارہ بنانامشکل ہے یا آسمانوں کی تخلیق جن کو ان کے بیشمار امور اور مخلوق کے ساتھ بنادیا اور ایسا بنایا کہ کہیں کوئی خامی باقی نہ رہی بلکہ وہ شب وروز کی آمدورفت اور سورج کے طلوع و غروب کے باعث پورے نظام حیات کو چلانے کا سبب بن گیا اس کے بعد زمین کو بچھادیا کہ اپنی کروی صورت کے باوجود ہر جگہ برابر بچھی ہوئی ہے اور اس میں زندگی کے اسباب نہریں دریا اور سبزہ پیدا کردیے ہیں اور اس بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو بیشمار نعمتوں کا سبب ہیں اور جن سب امور کے نتیجے میں تم…
Read the full tafseer →ف 7 یا (قبروں میں) پہر بھر شام، یا پہر بھر صبح رہے “ یعنی بہت تھوڑی دیر رہے۔
Read the full tafseer →(79:46) کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا : کان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم لم یلبثوا اس کی خبر۔
یوم یرونھا : ظرف زمان لم یلبثوا کا۔ یرونھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الساعۃ ہے۔
لم یلبثوا مضارع نفی جحد بلم لبث باب سمع مصدر۔ وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ جس دن کہ وہ (منکرین قیامت) اس کو دیکھ لیں گے (تو یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں) وہ نہیں ٹھہرے مگر ۔۔ ای یظنون انھم لم یلبثوا فی الدنیا الا (حقانی)
الا حرف استثناء عشیۃ اوضحھا : مستثنیٰ ۔ ضحھا مضاف مضاف الیہ ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع عشیۃ ہے ای عشیۃ یوم او بکرتہ دن کا پچھلا وقت یا اس کا پہلا وقت۔ عشیۃ دن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن
النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی اب تو شور مچا رہے ہیں کہ قیامت ک ےآنے میں دیر کیوں ہے جلد کیوں نہیں آجاتی، مگر اسوقت معلوم ہوگا کہ بہت جلد آئی بیچ میں دیر کچھ نہیں لگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
[14] یعنی جب خود آپ کو اس کے وقت کا علم تعین کے ساتھ نہیں دیا گیا ہے تو آپ انہیں کیا بتائیں گے۔ لہذا آپ اس بحث میں نہ پڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
جہنمی اور جنتی
2: ان آیتوں میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قیامت کے بعد جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کیلئے کن باتوں کی ضرورت ہے ۔ فرمایا ۔ جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ۔ حدود مذہبی سے جاوز کیا اور اس دنیائے حقیر کی زندگی کو زیادہ اہمیت دی اور یہ سمجھا کہ جو کچھ بھی ہے ، یہی چند روزہ حیات ہے ۔ انہوں نے اپنی جگہ جہنم میں بنائی ۔ جو لوگ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرے کہ مبادا کہیں اعمال کی گرفت نہ ہو اور نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ۔ وہی جنت اور اس کی نعمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں گے
حل لغات :۔ سمکھا ۔ بلندی وبرزت الجحیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ منکرین تو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کو…
Read the full tafseer →(46) لوگ جس دن قیامت گے تو ان کو ایسا معلوم ہوگا کو یا وہ دنیا میں دن کا آخری حصہ یا اس کا ابتدائی حصہ ٹھہرے ہوں گے۔ یعنی اب تو قیامت کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جلدی جلدی کا شورمچا رہے ہیں لیکن جب وہ آجائیگی تو اس کو مستعجل اور جلدی ہی سمجھو گے کیونکہ دنیا کا رہنا دنیا کا رہنا ایسا معلوم ہوگا کہ شاید ایک دن کی شام یا اس صبح رہے ہوں گے کہ عذاب آگیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شتاب مانگتے ہیں قیامت اس وقت معلوم ہوگا کہ بہت شتاب آئی بیچ میں کچھدیر نہیں لگی ۔
عشیہ، زوال سے لے کر شام تک اور ضحی صبح سے زوال تک ضحا ہوا کی ہا یا تو صلے کے لئے ہے یا اضافت یوم العشیہ کی طرف ہے یعنی العشیۃ اوضحی…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی دنیا کی طویل مدت قصیر معلوم ہوگی اور سمجھیں گے کہ عذاب استعجال کے ساتھ آگیا، جس کی یہ استدعا کرتے ہیں، حاصل یہ کہ استعجال (جلدی) کیوں کرتے ہو، وقوع کے وقت اس کو مستعجل ہی سمجھو گے اور جس دیر کو اب دیر سمجھ رہے ہو یہ دیر معلوم نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →وہ جس روز اس کو دیکھیں گے گویا وہ ایک صبح یا شام اس میں رہے تھے
۔ 46 اس وقت آپ ان کو ڈراتے ہیں لیکن وہ آپ سے ڈرنا نہیں چاہتے اور طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں لیکن جب ان کے ماننے نہ ماننے سے اس کا کوئی تعلق نہیں وہ تو جب اس کے آنے کا وقت ہوگا بہرحال آئیگی اور جس روز وہ اس کو دیکھیں گے تو ان کے طوطے اڑ جائیں گے اور ان کو گزرا ہوا وقت ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہ تو ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی اس دنیا میں رہے ہیں۔ اس لئے وہ قلت وقت کا شکوہ کریں گے کہ ہم تو دنیا میں نہیں گئے اور نہ ہی ہم وہاں رہے۔ بس گئے کہ ہم کو واپس بلا لیا گیا اور ہمارا قیام تو فقط اتنا ہی رہا جتنی دیر صبح یا شام کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
Thereafter, the special marks of the inmates of Paradise are described. They too have two characteristics:
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (whereas for the one who feared to stand before his Lord, and restrained his self from the [ evil ] desire, 79:40). In other words, [ 1] the first characteristic of a God-fearing person is that, in this life, he shudders at the thought of appearing before Allah to account for his deeds on the Day of Reckoning; and [ 2] forbids the baser self from its evil desires. Those who are characterised by these two qualities…
Read the full tafseer →24 This theme has occurred at several places in the Qur'an and been explained in the corresponding Notes. For it, see E.N. 53 of Yunus, E.N. 56 of Bani Isra'il, E.N. 80 of Ta Ha, E.N. 101 of Al-Mu'minun, E.N.'s 81, 82 of ArRum, E.N. 48 of Ya Sin. Besides, this theme has also occurred in Al-Ahqaf: 35 but we have not explained it there for fear of repetition.
Read the full tafseer →