Abasa 80:1

80. Abasaعبس

He frowned · Meccan · 42 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

80:1

عَبَسَ وَتَوَلّٰۤی ۟ۙعَبَسَ وَتَوَلّٰٓى

(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Prophet frowned and turned away

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:1

ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(پیغمبر نے) منہ بنایا، اور رخ پھیرلیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کے چہرۂ (اقدس) پر ناگواری آئی اور رخِ (انور) موڑ لیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیرلیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ (پیغمبر) ترش رو ہوئے اور بےرخی کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تیوری چڑھائی اور بےرخی برتی اس نے

— مولانا اسحاق مدنی

(پیغمبر) چیں بجبین ہوئے اور منہ پھیرلیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تیوری چڑھائی اور منہ پھیرلیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ (نبی ﷺ ترش رو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

— محترمہ رفعت اعجاز

He (the Prophet) frowned and turned his face,

— Muhammad Taqi Usmani

He (the Prophet) frowned and turned his face,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He frowned and turned away.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The Prophet frowned and turned away

— Saheeh International

He frowned and then turned away

— Muhammad Sarwar

He frowned and turned (his) back,

— Muhammad Habib Shakir

He frowned and turned away.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 80:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–16

تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر شان نزول ان آیات کے نزول کا قصہ یہ ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ بعض روسائے مشرکین کو سمجھا رہے تھے، بعض روایات میں ان میں سے بعض کے نام بھی آئے ہیں۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، ابی بن خلف، امیہ بن خلف، شیبہ کہ اتنے میں حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحافی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھا، یہ قطع کلام آپ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہیں کیا، اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بجیں ہوئے، جب اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو آثار وحی کے نمودار ہوئے اور یہ آیتیں عبس وتولی الخ نازل ہوئیں، اس کے بعد جب وہ آپ کے پاس آتے آپ بڑی خاطر کرتے تھے ھذہ الروایات کلھا فی الدر المنثور غرض واقعہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ کی نوعیت: ’عَبَسَ‘ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ فاعل نبی ﷺ ہیں۔ ’اَعْمٰی‘ سے یہاں اشارہ، تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن ام مکتومؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک وفادار اور نابینا صحابی تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن نبی ﷺ قریش کے لیڈروں میں سے کسی سے یا ان کی کسی جماعت سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا اور وہ اپنے اعتراضات و شکوک پیش کر رہے ہوں گے کہ اسی اثناء میں عبداللہ بن ام مکتومؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بے موقع آ جانا حضورؐ کو ناگوار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اشراف قریش بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ابن ام مکثوم جو نابینا تھے، تشریف لے آئے اور آ کر نبی کریم ﷺ سے دین کی باتیں پوچھنے لگے۔ نبی ﷺ نے اس پر کچھ ناگواری محسوس کی اور کچھ بےتوجہی سی برتی۔ چناچہ تنبیہ کے طور پر ان آیات کا نزول ہوا (ترندی، تفسیر سورة عبس)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–11

1: یہ آیات ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سرور دو عالم ﷺ قریش کے کچھ بڑے بڑے سرداروں کو اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اور ان سے گفتگو میں مشغول تھے کہ اتنے میں آپ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ وہاں آگئے، اور چونکہ وہ نابینا تھے، اس لیے یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ کن کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، چنانچہ انہوں نے آتے ہی آنحضرت ﷺ سے کچھ سکھانے کی درخواست شروع کردی۔ آنحضرت ﷺ کو ان کا یہ طریقہ پسند نہ آیا کہ دوسروں کی بات کاٹ کر انہوں نے بیچ میں مداخلت شروع کردی۔ اس لیے آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

یہ ہدایات جو اس متعین واقعہ کے حوالے سے دی گئی ہیں بہت ہی اہم ہدایات ہیں ، بادی النظر میں انسان ان کو پڑھ کر جو کچھ سمجھتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جسے اس کرہ ارض پر ایک زندہ اور عملی حقیقت بنایا گیا ہے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ انسانی زندگی کو اس معجزے نے یکسر بدل دیا۔ اور یہ اسلام کا پہلا اور نمایاں معجزہ تھا۔ یہ ہدایات اگرچہ بظاہر ایک معمولی انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے آئی ہیں لیکن اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ قرآن کریم کا ایک ربانی انداز ہے کہ وہ ایک لامحدود اور نہایت ہی گہری اور تمام حقیقت ایک محدود اور ظاہری واقعہ کے ضمن میں بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 آنحضرت ﷺ بعض سرداران قریش کو مذہب اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے، اتنے میں ایک نابینا مسلمان (جن کو ابن ام مکتوم کہتے ہیں) حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اس میں سے کچھ سکھائیے جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھلایا ہے۔ حضرت ﷺ کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گزرا۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا ہوگا کہ میں ایک بڑے مہم کام میں مشغول ہوں۔ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہے اس کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں، اس کو دکھائی نہیں دیتا کہ میرے پاس ایسے با اثر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 1{ عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ } ”تیوری چڑھائی اور منہ پھیرلیا۔“ یعنی حضرت عبداللہ کی بار بار خلل اندازی پر حضور ﷺ کے چہرئہ انور پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے اور آپ ﷺ نے چہرئہ مبارک دوسری طرف کرلیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 ایک دفعہ رسول اللہ کی خدمت میں چند قریشی سردار بیٹھے تھے اور آپ انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ روایات میں ان کے نام عتبہ، شیبہ، ابو جہل، امیہ بن خلف اور ابی بن خلف ملتے ہیں۔ یہ لوگ بعد میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بدترین دشمن ثابت ہوئے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ جب قریشی سردار اسلام دشمنی کی حد تک نہیں پہنچے تھے۔ اسی دوران سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم آپ کے پاس تشریف لائے۔ یہ عبداللہ بن ام مکتوم نابینا تھے۔ سیدہ خدیجہ ؓ کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے آتے ہی رسول اللہ سے کسی آیت کا مطلب پوچھا۔ اور جو لوگ اس وقت رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ ایک صحابی عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نامی نابینا تھے۔ رسول ﷺ کی بعثت اور تبلیغ کا ابھی ابتدائی زمانہ تھا کہ ایسے وقت آپ ﷺ کے پاس آئے، اور کوئی مسئلہ دریافت کرنے لگے، جب آپ ﷺ کے پاس قریش کے بڑے بڑے سردار بیٹھے ہوئے تھے، جاہلی تہذیبوں میں اونچ نیچ کا فرق (SociAl StAtus) ہمیشہ بہت ہی مبالغہ آمیز رہا ہے، برہمن کے برابر شودر بھلا کہیں بیٹھ سکتا ہے ؟ لارڈز کے ساتھ (Commoner) کھانے کی ایک میز پر کہیں جمع ہوسکتا ہے۔ ؟ قریش کے جاہلی تمدن میں بھی ایک غریب آدمی کی جسارت بڑی بدتہذیبی میں داخل تھی، اور رسول اللہ ﷺ کو تبلیغ و اشاعت دین کی دھن میں ان لوگوں کی تالیف قلب خاص طور پر مد نظر تھی، ایسے موقع پر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، ترش رو ہوئے محمد ﷺ یعنی منہ بنایا، اور اعراض کیا، اس وجہ سے کہ نابینا ان کے پاس آیا، عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ ، سو اس نے آپ ﷺ کے اس کام میں خلل ڈالا جس میں آپ ﷺ مشغول تھے ان لوگوں کے ساتھ اشراف قریش میں سے جن کے اسلام کی آپ ﷺ امید رکھتے تھے، اس لئے کہ آپ ﷺ ان کے اسلام کے بڑے حریص تھے، اور نابینا کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آپ ﷺ کسی (اہم کام) میں مشغول ہیں، تو اس نے آپ ﷺ کو پکارنا شروع کردیا کہ مجھے اس میں سے کچھ سکھا دو جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھایا ہے پھر آپ ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے، اس بارے میں آپ ﷺ پر عتاب فرمایا گیا اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) رسول اکرم قریش کے سرداروں یعنی حضرت عباس بن عبدالمطلب، امیہ بن خلف اور صفوان بن امیہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان کو نصیحت فرما رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے، اتنے میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم تشریف لے آئے اور بولے یا رسول اللہ جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو تعلیم دی ہے اس میں سے مجھے بھی بتلایئے۔ ان لوگوں کے ساتھ مشغولیت کی بنا پر آپ کو ان کا یہ قطع کلام ناگوار گزرا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں یہ ابتدائی آیات نازل فرمائیں کہ محمد آپ کو کیا معلوم شاید ابن ام مکتوم قرآن سے نیکی حاصل کرتے اور نصیحت حاصل قبول کرتے اور ان کو قرآن کے ذریعے سے نصیحت کرنا فائدہ پہنچاتا ہے، یا یہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) عبس وتولی : اس میں رسول اللہ ﷺ کو غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا، اگرچہ بعد میں ”وما یدریک“ سے مخاطب فرما لیا۔ اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نابینے صحابی سے بےتوجہی کی تو اللہ تعالیٰ نے بطور عتاب آپ کے خطاب سے بےتوجہی فرمائی۔ موضح القرآن میں ہے :”یہ کلام گویا اوروں کے پاس گلہ ہے رسول کا۔ آگے رسول کو خطاب فرمایا۔“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کی وجہ سے آپ کو مخاطب کر کے اظہار ناراضی نہیں فرمایا۔ (2) بعض حضرات نے ”تیوری چڑھانے والا“ اس مشرک کو قرار دیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا، مگر اس کے بعد آنے والی آیات میں صاف رسول اللہ ﷺ کو مخطاب کر کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

عبس وتولی۔۔ تا۔۔۔ الذکری۔ اس میں چھ مسائل ہیں : ان آیات کا شان نزول۔ مسئلہ نمبر 1۔ عبس وتولی، ان جاءہ الاعمی۔ اس نے چہرے پر تیوری چڑھائی یہ جملہ بولا جاتا ہے : عبس وبسر اس پر گفتگو پہلے ہوچکی ہے اس نے چہرے کو دوسری طرف کرلیا ان جاء یہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ مفعول لہ ہے معنی یہ ہوگا اس لیے کہ اس کے پاس اندھا آیا یعنی اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، علماء تفسیر نے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش کے سردار نبی کریم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب کہ رسول اللہ ان کے مسلمان ہونے کی خواہش رکھتے تھے، حضرت عبداللہ بن ام مکتوم حاضر ہوئے رسول اللہ نے ان کی قطع کلامی کو ناپسند کیا اور ان سے رخ انور پھیرلیا تو یہ آیات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن الضریس نے ابو وائل ؓ سے روایت کیا کہ بنواسد کا ایک وفد نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم بنوالزینۃ۔ ہمیشہ گھوڑوں پر سوار رہنے والے لوگ ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم بنو رشدہ ہو یہ سن کر حضرمی بن عامر نے کہا اللہ کی قسم ! ہم بنی المحوسلہ کی طرح نہیں ہوں گے۔ اور ان سے مراد بنو عبداللہ بن عطفان ہیں۔ ان کو بنو عبدالعزی بن غطفان کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرمی سے فرمایا کیا تو قرآن میں سے کوئی چیز پڑھتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا اس کو پڑھ تو اس نے پڑھا آیت عبس وتولی۔ پیغمبر نے تیوی چڑھائی اور منہ موڑ لیا۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ نے اس کو پڑھانا چاہا وہاں تک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عَبَسَ وَ تَوَلّىٰٓ: انھوں ﷺ نے تیوری چڑھائی اور منہ موڑا ] نوٹ۔ 1: عَبْسَ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہوجاتا ہے کہ فاعل نبی ﷺ ہیں۔ اَعْمٰی سے اشارہ یہاں عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک نابینا صحابی تھے۔ ایک دن نبی ﷺ قریش کے لیڈروں سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ 1 نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا۔ اسی اثنا میں عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کرسکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بےموقع آجانا حضور 1 کو ناگوار گزرا۔ اسی واقعہ کو جو اتفاق سے پیش آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ تعلیم دینے کا ذریعہ بنا لیا کہ آپ 1 اپنی توجہ کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–6

حضرت ابن ام مکتوم ؓ ایک صحابی تھے، جو نابینا تھے ان کا نام عبداللہ بن ام مکتوم معروف و مشہور ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام عمرو تھا اور والد کا نام قیس تھا، وہ مہاجرین اولین میں سے تھے۔ مشہور قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے سے پہلے مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آگئے تھے، ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ مشرکین کے سرداروں میں سے بعض لوگ موجود تھے رسول اللہ ﷺ ان سے باتیں کر رہے تھے اور اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم حاضر خدمت ہوگئے (چونکہ وہ نابینا تھے اس لیے انہیں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی مشغولیت کا پتہ نہ چلا) اور بار بار عرض کرتے رہے کہ مجھے بھی کچھ سکھا دیجئے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” عبس وتولی “ تنبیہ برائے نبی کریم ﷺ ۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس صنادید قریش عتبہ، شیبہ، ابو جہل، میہ اور ولید وغیرھم بیٹھے تھے آپ ان کو سمجھا رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ آپ کو امید تھی کہ اگر یہ لوگ اسلام لے آئے تو ان کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اسی اثناء میں حضرت عبداللہ یا عمرو بن ام مکتوم ؓ جو ایک نابینا صحابی تھے اور حضرت خدیجہ ؓ کے ماموں زاد بھائی تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ چونکہ نابینا تھے اس لیے آپ کی اس نہایت ہی اہم مصروفیت کا اندازہ نہ کرسکے اور حضور ﷺ سے قرآن پڑھانے کی بار بار درخواست کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(پس منظر) اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَبَسَ وَتَوَلّٰٓي۝ 1 ۙ عبس العُبُوسُ : قُطُوبُ الوجهِ من ضيق الصّدر . قال تعالی: عَبَسَ وَتَوَلَّى[ عبس/ 1] ، ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ [ المدثر/ 22] ، ومنه قيل : يوم عَبُوسٌ. قال تعالی: يَوْماً عَبُوساً قَمْطَرِيراً [ الإنسان/ 10] ، وباعتبار ذلک قيل العَبَسُ : لِمَا يَبِسَ علی هُلْبِ الذَّنَبِ من البعر والبول، وعَبِسَ الوسخُ علی وجهه ( ع ب س ) العبوس ( ض ) کے معنی سینہ کی تنگی سے چہرہ پر شکن پڑے نے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ عَبَسَ وَتَوَلَّى[ عبس/ 1] تر شر د ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ [ المدثر/ 22] پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا لیا ۔ اور اسی سے یوم عبوس ہے جس کے معنی سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ اَنْ جَآئَ ہُ الْاَعْمٰی۔ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّـہٗ یَزَّکّٰـٓی۔ اَوْیَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ ۔ (عبس : 1 تا 4) (تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔ اس بات پر کہ آیا اس کے پاس ایک اندھا۔ تمہیں کیا خبر شاید وہ اپنی اصلاح کرے۔ یا نصیحت سنے تو نصیحت اس کو نفع پہنچائے۔ ) پہلی دو آیتوں میں آنحضرت ﷺ سے خطاب نہ کرنے کی وجہ پہلی آیت میں دونوں فعلوں کا فاعل مذکور نہیں۔ البتہ تیسری آیت میں آنحضرت ﷺ سے براہ راست خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے فاعل آنحضرت ﷺ ہیں، لیکن کلام کے ابتداء میں براہ راست آنحضرت ﷺ سے خطاب نہ کرنا دو باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فہم القرآن ربط سورت : النّازعات کے آخر میں بتلایا ہے کہ قیامت کے دن مجرم محسوس کریں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیاں ٹھہرے تھے۔ آخرت کے انکار کے پیچھے دنیا کا مفاد اور عجلت پسندی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے سورة عبس میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ فرما کر عجلت پسندی سے منع کیا گیا ہے۔ تمام مفسرین نے اس سورت کے نازل ہونے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن سرور دو عالم ﷺ کی مجلس میں چند قریشی سردار حاضر ہو کر آپ سے اسلام کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے آپ کی گفتگو میں مداخلت شروع کردی۔ آپ ﷺ نے ناصرف بےتوجہگی اختیار کی بلکہ اس مداخلت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–2

عبداللہ بن امّ مکتوم کا واقعہ : 1، 2 : عَبَسَ وَتَوَ لّٰی۔ اَنْ جَآ ئَ ھُ الْاَعْمٰی (پیغمبر چیں بجبیں ہوگئے اور متوجہ نہ ہوئے۔ اس بات سے کہ ان کے پاس ایک اندھا آیا) ۔ عَبَسَ نبی اکرم اترش رو ہوگئے۔ وَتَوَ لّٰی اور اعراض فرمایا اَنْ جَآ ئَ ھُ یہ اصل میں لان جاء ہٗ ہے اس لئے کہ ان کے پاس آیا۔ نحو : محلاً منصوب ہے کیونکہ مفعول لہ ہے اس کا عامل عبس یا تولی ہے بصریین و کو فیین کے اختلاف کے مطابق۔ الْاَعْمٰی عبداللہ بن ام مکتوم اور ام مکتوم ان کی دادی ہیں۔ ان کے والد کا نام شریح بن مالک ہے۔ یہ نبی اکرم ا کی خدمت میں اس وقت آئے جب آپ اشراف قریش کو اسلام کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ آتے ہی عرض کیا یارسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی اکرم کی خدمت میں آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر تھا آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے چناچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پالے اور اس کا تزکیہ ہوجائے تو اللہ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا چناچہ فرمایا (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ) یعنی آپ ترش رو ہوگئے اور اپنے جسم کو موڑ لیا۔ اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(1) شان نزول اور درسہائے عبرت و بصیرت : ان آیات کریمہ کی شان نزول اور اس سے ملنے والے درسہائے عبرت و بصیرت کے بارے میں مختصر عرض ہے کہ تفسیر و حدیث اور سیرت و تاریخ کی روایات اس پر متفق ہیں کہ یہ آیات کریمہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ چناچہ صحیح روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے پاس صنادید قریش میں سے کچھ بڑے بڑے سردار آئے ہوئے تھے اور آپ ان کو دین کی دعوت دے رہے تھے کہ اتنے میں حضرت ابن ام مکتوم ؓ مشہور نابینا صحابی آگئے، اور انہوں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا " قرئنی یا رسول و علمنی مما علمک اللہ "۔ یعنی " اللہ کے رسول مجھے پڑھائیں اور جو کچھ اللہ نے آپ کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 9 تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس قریش کے کچھ سردار بیٹھے تھے آپ ﷺ چاہتے تھے کہ یہ مسلمان ہوجائیں تو اسلام کو قوت نصیب ہو۔ اس لئے آپ ﷺ انہیں سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں حضرت عبداللہ ؓ ابن ام مکتوم جو نابینا تھے آپہنچے اور دین کو سمجھنے کے لئے کچھ سوالات کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ پر ان کا قطع کلامی کرنا ناگوار گزرا، اس لئے آپ ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:1) عبس وتولی : شان نزول :۔ حضرت ابن ام مکتوم (عبد اللہ بن ریح بن مالک بن ربیعہ فہری) حضرت خدیجہ ؓ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ان کیی والدہ ام مکتوم حضرت خدیجہ کے والد خویلد بہن بھائی تھے۔ ایک دن رسول کریم ﷺ اکابر مکہ عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبد المطلب۔ ابی بن خلف۔ امیہ بن خلف سے خاموشی کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور ان کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے کہ اسی دوران میں ابن ام مکتوم وہاں آئے (جو کہ نابینا تھے) اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! علمنی مما علمک اللہ (اے رسول اللہ ﷺ جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اس میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے) ان کو معلوم نہیں تھا کہ حضور ﷺ دوسری طرف متوجہ ہیں ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

(ف 1) شان نزول : سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–9

سورة عبس اور مقام نبوت 1: یہاں اس بات کو بطور اصل اور حقیقت کے ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مقام نبوت اس سے کہیں بلند وارفع ہے کہ اس کی جانب گناہ یا معصیت کو منسوب کیا جائے ۔ کیونکہ نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک سیرت ہے جو عام انسانوں سے ممتاز اور برتر ہے اور ایک ایسا کیرکٹر ہے جو عصمت اور عفت کے زیور سے آراستہ ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی ساری زندگی بےداغ اور سراسر پاک ہوتی ہے ۔ ان سے اگر بتقاضائے بشریت لغزش کا صدور ہوتا ہے تو محض دوران اجتہاد کے ایسے پہلو اختیار کرلیتے ہیں ۔ جو اولیٰ تو ہوتا ہے ۔ مگر اولیٰ تر نہیں ہوتا اور ان کے مرتبہ ومقام کی بلندی اور رفعت کی وجہ سے اتنی سی بات بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ شدید الکفر لوگوں کی ہدایت میں جو حضور ﷺ کو اہتمام اور کاوش فرمانے سے کوفت ہوتی تھی حتی کہ ایک بار اسی بناء پر ایک نابینا صحابی کا ایسے موقع پر آکر بولنا موجب کلفت ہوا تھا اس لئے شروع سورت میں ایک محبوبانہ انداز کے ساتھ جس کو لوگ عتاب کہتے ہیں اس قدر اہتمام سے نہی اور طالبنا صادق کے حال پر توجہ فرمانے کا امر فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Circumstance of Revelation Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum ؓ ، the companion of the Holy Prophet ﷺ was a blind man. It once happened that the Holy Prophet ﷺ was engaged in a talk with the leaders of Quraish about some matters of belief. Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum ؓ arrived there. Imam Baghawi adds that being blind and unable to see the surroundings, he did not realise that the Holy Prophet ﷺ was occupied with the others. He, therefore, burst into the circle and called the Holy Prophet repeatedly. [ Mazhari ]. According to Ibn Kathir, he requested the Holy Prophet ﷺ to…

Read the full tafseer →