80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 80:1–3

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

(محمد مصطفے ﷺ ترش رو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

کہ انکے پاس ایک نابینا آیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا

ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی اکرم کی خدمت میں آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر تھا آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے چناچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پالے اور اس کا تزکیہ ہوجائے تو اللہ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا چناچہ فرمایا (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ) یعنی آپ ترش رو ہوگئے اور اپنے جسم کو موڑ لیا۔ اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کیط رف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا (وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ ) اور تمہیں کیا خبر کہ شاید وہ۔ یعنی نابیناشخص (يَزَّكّىٰٓ) اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو ؟
Ayahs 80:4–10

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا سوچتا تو سمجھنا اسے فائدہ دیتا

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو پروا نہیں کرتا

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ الزام نہیں

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور (خدا سے) ڈرتا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس سے تم بےرخی کرتے ہو

(اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى) یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ؟ یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیا ورسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔ رہا آپ کا اس بےنیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتوی طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ہے اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا ارتکاب کرتا ہے یہ چیز ایک مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے نیز مناسب ہی ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
Ayah 80:11

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

دیکھو یہ (قرآن) نصحیت ہے

اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں (كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ) دیکھو یہ نصیحت ہے، یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کردی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کردیا ہے۔
Ayah 80:12

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

پس جو چاہے اسے یاد رکھے

جب رشد و ہدایت واضح ہوگئی۔ (فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَهٗ ) تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وقل الحق من ربکم فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر۔ الکھف 29) ۔ اور کہہ دیجئے حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کردے۔
Ayahs 80:13–15

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

(ایسے) لکھنے والے کے ہاتھوں میں

پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا چناچہ فرمایا (فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ۔ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۢ) قابل ادب ورقوں میں جو بلند وبالا اور پاک ہیں۔ یعنی قدرومنزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چراسکیں بلکہ یہ (بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ ) لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں۔
Ayah 80:16

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو سردار اور نیکوکار ہیں

(كِرَامٍۢ بَرَرَةٍ ) یعنی وہ بہت زیادہ خیروبرکت والے ہیں ان کے دل اور اعمال نیک ہیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔
Ayahs 80:17–19

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

اسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا ؟

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا

یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کے قبول کرنے کی موجب ہے لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ ) انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے ؟ اس نے اللہ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی ؟ حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا ؟ حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے اللہ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کرکے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قوی کو مہارت بنایا۔
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا

(ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ ) یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کردیے اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کردیا اور امر ونہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا۔
Ayah 80:21

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا

(ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ ) پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس کے مردہ جسم کی تکریم کی تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا۔ جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں۔
Ayahs 80:22–23

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے گا اسے کھڑا کرے گا

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہیں کیا

(ثُمَّ اِذَا شَاۗءَ اَنْشَرَهٗ ) پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزاوسزا کے لیے اس کو اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے اس میں کوئی اس کا شریک نہیں بایں ہم انسان کو اللہ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔
Ayahs 80:24–25

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

تو انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے پانی برسایا

پھر اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا ؟ چناچہ فرمایا (فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ۔ اَنَّا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا) پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بیشک ہم ہی نے پانی برسایا۔ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی۔
Ayahs 80:26–29

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاری

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کجھوریں

(ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا) پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا (فانبتنا فیھا) اس میں ہمنے مختلف اصناف اگائیں، یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور (حبا) دانے۔ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔ (وعنبا قضبا) اور انگور اور ترکاری۔ (وزیتونا ونخلا) اور زیتون اور کھجور۔ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے۔
Ayah 80:30

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغ

(وَّحَدَاۗىِٕقَ غُلْبًا) یعنی باغات جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں۔
Ayahs 80:31–32

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور میوے اور چارا

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

(وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا) الفاکھہ۔ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے۔ مثلا انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ الاب۔ چارا۔ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں اس لیے فرمایا (مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ ) تمہارے اور تمہارے چوپاؤں کے لیے سامان زندگی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرکے تمہارے لیے مسخر کردیا۔ جو کوئی ان نعمتوں پر غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

تو جب (قیامت کا غل مچے گا)

یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی جس کے ہول سے کان بہرے ہوجائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انہیں اعمال کی سخت ضرورت ہوگی تو دل دہل جائیں گے۔
Ayahs 80:34–37

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اس دن بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہوگا جو اسے (مصروفیت کے لئے) بس کریگا

( يَفِرُّ الْمَرْءُ ) انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے۔ (مِنْ اَخِيْهِ ۔ وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ ، وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ ) اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے۔ اور اپنے بیٹوں سے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ (لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ ) اسے خود اپنی پڑی ہوگی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکرمند ہوگا اور وہ کسی دوسرے کی طرف التفات نہیں کرسکے گا۔
Ayah 80:38

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے

اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہوجائے گی خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ۔ رہے خوش بخت لوگ تو انکے چہرے اس روز ( مُّسْفِرَةٌ) روشن ہوں گے۔ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تروتازگیاں نمایاں ہوں گی کیونکہ انہیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہوگیا ہوگا۔
Ayah 80:39

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکوکار ہیں)

(ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ) وہ چیرے خنداں و شاداں ہوں گے۔